Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • انوارالحق کاکڑ،نگران وزیراعظم،صدر نے سمری پر دستخط کر دیئے

    انوارالحق کاکڑ،نگران وزیراعظم،صدر نے سمری پر دستخط کر دیئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کے انوارالحق کو نگران وزیراعظم پاکستان مقرر کر دیا گیا، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سمری پر دستخط کر دیئے ہیں،

    انوارالحق کاکڑ کو نگران وزیراعظم بنانے کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے ملکر کیا تھا، دونوں‌ نے سمری پر دستخط کر کے صدر مملکت کو بھجوائی تھی جس کے بعد اب صدر مملکت نے سمری پر دستخط کر دیئے ہیں،

    بطور نگران وزیراعظم ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دوں گا،انوارالحق کاکڑ
    انوارالحق کاکڑ نے نگران وزیراعظم مقرر ہونے پر ابتدائی پیغام میں کہا ہے کہ بطور نگران وزیراعظم ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دوں گا،نگران وزیراعظم نامزد کرنے پر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کا شکریہ،

    انوار الحق کاکڑ کے لئے پروٹول وزیر اعظم ہاوس سے روانہ ہوگیا ،انوار الحق کاکڑ کا آٹو کیڈ وزیر اعظم ہاوس سے منسٹر انکلیو روانہ ہوا،سبکدوش وزیر اعظم شہباز شریف کو کل گارڈ آف آنر دیا جائے گا ،شہباز شریف آج مریم اورنگزیب کے ہمراہ لاہور پہنچ چکے ہیں، انہوں نے راجہ ریاض کے ساتھ ملکر دستخط کئے تھے اور فوری وزیراعظم ہاؤس سے نکل آئے تھے،

    سینیٹر انوار الحق کاکڑ کا تعلق بلوچستان کے ضلع کاکڑ سے ہے انہوں نے کوئٹہ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی جس کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن چلے گئے انہوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان سےپولیٹیکل سائنس اور سوشیالوجی میں ماسٹر کیا،سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے 2008 میں (ق) لیگ کےٹکٹ پرکوئٹہ سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا جس میں انہیں کامیابی نہ مل سکی،انوار الحق کاکڑ 2018ء سے سینیٹ انتخابات میں بلوچستان سے جنرل نشست پر آزاد امیدوار کے طور پر ایوان بالا پاکستان کے لیے منتخب ہوئے تھے، انہوں نے 12 مارچ 2018ء کو سینیٹر کی حیثیت سے حلف اٹھایا،وہ باپ کے اشتراک سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے،

    سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر کہتے ہیں کہ انوار الحق کاکڑ صاحب نہ صرف سیاستدان ہیں بلکہ کچھ لوگ اُنکو دانشوروں میں بھی شامل کرتے ہیں، انوار الحق کاکڑ کا نام سامنے آنے کے بعد بہت سی چیزیں واضح ہوگئیں، جب عمران خان وزیراعظم تھے تو انوارالحق کاکڑ کے ان کیساتھ بھی اچھے تعلقات تھے، اس سرکل میں شامل تھے جن سے عمران خان بلوچستان کے معاملات پر بات چیت کیا کرتے تھے، ایسی خوبی ہے کہ پی ٹی آئی سمیت سب پارٹیوں سے اچھے تعلقات ہیں ، انوارالحق کی کوشش ہو گی کہ نگران حکومت سے کوئی ایسا تاثر نہ ملے کہ ان کی کابینہ میں کسی ایک پارٹی کا اثر و رسوخ ہو، انوار الحق کاکڑ کو جن لوگوں نے نگران وزیراعظم بنایا ہے ،اب تک ان کا نام مثبت طور پر لیا جا رہا ہے منفی لیں گے تو زیادہ سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کے قریبی بندہ کہہ دیں گے ان کے صوبے سے بہت مسائل ہیں لیکن یہ ان کا مینڈیٹ نہیں ہوگا، ان کا مینڈیٹ الیکشن کرانا ہوگا، معاشی پالیسیاں جاری تو رہیں گی لیکن یہ ان کا مینڈیٹ نہیں ہوگا وہ وزیراعظم بھی ہوں گے ، آئینی ذمہ داریاں بھی نبھائیں گے لیکن جو تعیناتیاں دو اڑھائی ماہ میں ہوچکی ہیں اب نئی تعیناتیوں پر بھی پابندی لگ چکی ، ایسی صورتحال میں اثر ورسوخ شہبازشریف اور اسحا ق ڈار کا ہی ہوگا،سینئر صحافی سلیم صافی کا کہنا ہے کہ انوار الحق نے ہمیشہ ریاست پاکستان کی ترجمانی کی ہے اور ریاست کے ساتھ کھڑے رہے ہیں

    مفتی عزیز الرحمان کا اعتراف جرم، کہا بہت شرمندہ ہوں

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل، پولیس نے مانگا مفتی کا مزید”جسمانی” ریمانڈ

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل ،مفتی عزیز الرحمان کی عدالت پیشی، عدالت کا بڑا حکم

    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے انوار الحق کاکڑ کو نگراں وزیر اعظم بننے پر مبارکباد دی اور کہا کہ موجودہ حالات میں سینیٹر انوار الحق کاکڑ بہترین انتخاب ہیں،

  • عمران خان کو جیل قوانین کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کا حکم

    عمران خان کو جیل قوانین کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اٹک جیل میں سہولیات،ملاقات اور اڈیالہ جیل منتقلی کیس کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا

    عدالت نےچیئرمین پی ٹی آئی کو جیل قوانین کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کا ایک بار پھر حکم دے دیا، عدالت نے حکم دیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جائے نماز اور قرآن پاک کا انگریزی میں ترجمہ بھی فراہم کیا جائے، وکلا، خاندان کے افراد اور دوستوں کو چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں،آئندہ سماعت پر فریقین گھر کے کھانے کی اجازت سے متعلق عدالت کی معاونت کریں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر عامر فاروق نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے مطابق اڈیالہ جیل میں رش اور سکیورٹی وجوہات پراٹک جیل میں رکھا گیا ہے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اڈیالہ جیل میں رش اور سکیورٹی سے متعلق آئندہ سماعت پر رپورٹ جمع کرائیں، وکیل کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے جانے پر ملنے کی اجازت نہ دی گئی، ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق جیل میں ملاقات کے اوقات 8 سے 2 بجے تک ہیں، 3 بجے تک ملنے دیا جاسکتا ہے،ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق مقررہ اوقات کے بعد ملاقات کی اجازت نہیں دی جاسکتی، عدالت کو بتایا گیا کہ قیدی سے روزانہ کی بنیاد پر ملاقات میں قانونی طور پر کوئی قدغن نہیں، تاہم روزانہ کی بنیاد پر ملاقات سپریٹنڈٹ جیل کی اجازت سے مشروط ہوتی ہے،بتایا گیا کہ بہتر ہوگا کہ وکلا ہفتے میں ایک یا دو بار ملاقات کیلئے اٹک جیل جائیں تاکہ بندوبست کرنے میں آسانی ہو، وکلاء کے مطابق اٹک جیل میں بی کلاس سہولیات موجود ہی نہیں ہیں، وکلاء نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں رکھنے کا مقصد بی کلاس سہولیات مہیا نہ کرنا ہے، وکلاء کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو چھوٹے کمرے میں قید کر رکھا ہے، گھر کے کھانے کی اجازت بھی نہیں، ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو کھانا جیل مینو کے مطابق جانچ پڑتال کے بعد دیا جاتا ہے

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • 30 سال سے میں اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا ہوں،وزیراعظم

    30 سال سے میں اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا ہوں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ملی تومہنگائی بہت زیادہ تھی، ہم نے چیلنجز سے نمٹنا تھا،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے مہنگائی کم کرنے کیلئے بھرپور کوششیں کیں، کچھ کم بھی ہوئی،میں نے تنقید اور تعمیر کو ہمیشہ خوش آمدید کہا، میں نے کبھی کسی صحافی سے کوئی گلہ نہیں کیا،بہت جگہ ہوتا ہے کہ سپیشل برانچ خوش کرنے کیلئے رپورٹ بھیجتی ہے میں نے صحافیوں پر یقین کیا کیونکہ وہ آزاد رپورٹ دیتے ہیں ہمیں سخت فیصلے اور ایکشن لینے پڑے کیونکہ ہم کچھ کر نہیں سکتے تھے کبھی کوئی وزیراعظم ایسے الوداع نہیں ہوا جیسے میں جا رہا ہوں سب سے مل کر جا رہا ہوں30 سال سے میں اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا ہوں،فخر ہے میرے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ تعلقات ہمیشہ اچھے رہے، کس دورمیں میرے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں رہے، لیکن یہ بتائیں کہ مجھے کب اور کس موقع پر رعایت دی گئی؟ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کالعدم ہونے سے نواز شریف کو کوئی فرق نہیں پڑے گا،نواز شریف کی نااہلی 5 سال پورے ہونے پر ختم ہوچکی ہے،معاشی صورتحال کی وجہ سے ہمارے ووٹ بینک میں کمی ہوئی،ہم نے سیاست خطرے میں ڈال کر ریاست بچائی، نواز شریف کے واپس آنے میں اب کوئی رکاوٹ نہیں رہی،آئندہ انتخابات "ووٹ کو عزت دو” کے نعرے پر لڑیں گے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 16 ماہ مشکل حالات میں حکومت چلائی، اس دوران ایک روپے کا اسیکنڈل ہمارے خلاف نہیں آیا،الیکشن ایکٹ کی ترمیم سےنوازشریف کی نااہلی ختم ہو چکی اور متفقہ فیصلہ ہے کہ اگر اکثریت ملی تو وزیراعظم نواز شریف ہوں گے ان کی واپسی میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں، سرمایہ کاری کونسل بنائی، اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے وزیراعظم اس کے سربراہ اور آرمی چیف رکن ہیں، چاروں وزرائے اعلیٰ بھی اس کے اراکین ہیں

    کاشانہ معاملہ، افشاں لطیف کا حکومت کے خلاف انتہائی اقدام

    کاشانہ کیس، ن لیگ بھی میدان میں آ گئی، عظمیٰ بخاری نے بڑا مطالبہ کر دیا

    کاشانہ کیس،اخلاقی کرپشن، عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ سامنے آ گیا

    اس قوم کے بخت سنورگئے جس نے درخت لگا ئے:افشاں لطیف

    کاشانہ کی بیٹیوں کی پرخلوص دعاﺅں نے وزیراعلیٰ پنجاب کوحادثہ سے بچالیا ،افشاں لطیف

  • انوار الحق کاکڑ نگران وزیراعظم،وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر میں اتفاق

    انوار الحق کاکڑ نگران وزیراعظم،وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر میں اتفاق

    انوار الحق کاکڑ نگران وزیراعظم،وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر میں اتفاق ہو گیا ہے

    باپ پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر انوار الحق کاکڑ پاکستان کے نگران وزیراعظم ہونگے،وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے انوارالحق کاکڑ کے نام پر اتفاق کیا ہے،یہ نام میں نے دیا تھا وزیر اعظم نے اس پر اتفاق کیا ہے، کل تک نگران وزیراعظم حلف اٹھا لیں گے،کابینہ بنانے کا اختیار نگران وزیر اعظم کا ہے،چھوٹے صوبے کا غیر متنازع شخص وزیراعظم مقرر ہوا ہے،

    قبل ازیں راجہ ریاض وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئے، وزیراعظم شہبا زشریف سے راجہ ریاض کی ملاقات ہوئی،یہ دوسری ملاقات تھی، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے قائد حزب اختلاف کی ملاقات ہوئی،وزیرِ اعظم اور قائد حزب اختلاف کے مابین نگران وزیرِ اعظم کی تقرری پر حتمی مشاورتی عمل خوش اسلوبی سے مکمل ہو گیا، انوار الحق کاکڑ کے نام پر بطور نگران وزیرِ اعظم اتفاق کر لیا گیا،وزیرِ اعظم اور قائد حزب اختلاف نے مشترکہ طور پر دستخط کرکے ایڈوائس صدر پاکستان کو بھجوا دی. وزیرِ اعظم نے قائد حزب اختلاف کا مشاورتی عمل میں تعاون اور ان 16 ماہ میں بطور بہترین حزب اختلاف کی قیادت پر شکریہ ادا کیا،

    انوار الحق کاکڑ 2018ء سے سینیٹ انتخابات میں بلوچستان سے جنرل نشست پر آزاد امیدوار کے طور پر ایوان بالا پاکستان کے لیے منتخب ہوئے تھے، انہوں نے 12 مارچ 2018ء کو سینیٹر کی حیثیت سے حلف اٹھایا،وہ باپ کے اشتراک سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے،

  • رات کے اندھیرے میں بشریٰ بی بی،بزدار یتیم خانوں میں کیا کرتے تھے؟

    رات کے اندھیرے میں بشریٰ بی بی،بزدار یتیم خانوں میں کیا کرتے تھے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر کہا ہے کہ افشاں لطیف کا نام بھی سنا ہو گا ، پچھلے دو ڈھائی سالوں سے وہ پریس کانفرنس کر رہی ہیں، مسئلہ ہے ایک یتیم خانے کا، ایک بچیوں‌ کے یتیم خانے کا ،وہاں سے لڑکیاں غائب ہوتی ہیں اور بیچی جاتی ہیں، انہوں نے الزام لگائے، عمران خان پر ، بشریٰ پر اور انکے وزیروں پر بھی الزام لگائے،

    مبشر لقمان نے افشاں سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ الزامات کا تو سب کو پتہ ہے، سابقہ وزیراعظم اور انکی اہلیہ پر کس طرح الزام لگا رہی ہیں، جس کے جواب میں کاشانہ کی سپریڈنڈٹ،افشاں لطیف کا کہنا تھا کہ یہ وہ سیکنڈل ہے جو 2019 میں اسوقت منظر عام پر آیا جب تھانہ ٹاؤن شپ کی پولیس نے صوبائی وزیرقانون راجہ بشارت کی ایما پر کاشانہ کا مین گیٹ توڑا، مجھے بغیر کسی جرم کے گرفتار کیا گیا، تھانے لے جا کر میرے شوہر پر جسمانی تشدد کیا گیا، مجھے تھپڑ مارے گئے گالیاں دی گیں اور مجبور کیا گیا کہ پنجاب کے وزرا کے حق میں بیان لکھ کر دوں،

    افشاں لطیف کا کہنا تھا کہ 4 اپریل 2019 کو کاشانہ کی انچارج تعینات ہوئی، اس سے پہلے ایک واقعہ ایسا ہوا تھا جس پر ہم خاموش نہیں رہ سکے، ایک رات چار بجے وزیراعلیٰ کا سیکورٹی افسر کاشانہ میں داخل ہوا، یہ وہ شخص ہے جو کم عمر بچیوں کو ادارے سے باہر لے کر جاتا تھا، جو بچیاں واپس گئیں تو وہ کبھی کاشانہ میں واپس نہیں آئیں، کاشانہ کے ساتھ ٹیکنیکل کالج ہے ،شادی ہال ہے اور سامنے پارک ہے، اسلئے دن میں یہ لوگ کچھ نہیں کر سکتے تھے، یہ واقعہ اس وقت ہوا جب میں سپریڈنڈنٹ نہیں تھی، وہاں بچیوں کا کاروبار کروایا جا رہا تھا،یہاں پر سات سال سے اٹھارہ سال تک کی بچیان‌ ہوتی ہیں، جو بچیاں بیچی جاتیں انکا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا، غیر قانونی ڈونیشن دی جاتی تھی، بچیاں وہاں افسران کی آمدنی کا ذریعہ بنتی رہیں، آڈٹ رپورٹ میں لکھا ہوا کہ پانچ بچیاں مس ہوئیں، جعلی شادیوں کے نام پر ان بچیوں کو پیش کیا گیا، حکومتی رپورٹ میں لکھا ہوا کہ شادی کا کوئی ریکار ڈ موجود نہیں نہ ہی لڑکوں کا کوئی ریکارڈ جن سے شادی ہوئی

    افشاں لطیف کا کہنا تھا کہ بشریٰ بیگم میرے کاشانہ میں تعینات ہونے سے پہلے آئی تھیں،بشریٰ بی بی کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے رات کے دو بجے بغیر پروٹوکول ،ان آفیشیل بغیر کسی کو بتائے کاشانہ کا دورہ کیا، بچیوں کو اٹھایا گیا اور عثمان بزدار کے ساتھ بٹھایا گیا، بشریٰ بی بی اور عثمان بزدار کے دوروں کے بعد کاشانہ سے بچیاں غائب ہو گئیں، بشریٰ بی بی کے احکامات پر بچیاں کاشانہ سے لے کر جایا جاتی تھیں اور انکو زمان پارک بھی لے جایا جاتا تھا، جب کاشانہ سیکنڈل میڈیا میں آیا تو فوری طور پر بشریٰ نے رابطہ کیا اور کہا کہ آپ کے ساتھ انصاف کیا جائے گا، تحقیقات کروا کر مجھے چپ کروایا گیا،میں چپ نہیں رہوں گی، میں مافیا کے خلاف آواز اٹھاتی رہوں گی،لاہور ہائیکورٹ میں بھی میں نے رٹ دائر کی تھی، پی ٹی آئی کی ہی حکومت تھی اسوقت، چار سال ہو گئے ابھی تک جواب جمع نہیں کروایا جا سکا، کیس چلتے رہے،اس کیس میں روایتی سست روی ہے، کیس اداروں کی دیانت کو واضح کر رہا ہے کہ کیسے بچیوں کو بیچا گیا،

    کاشانہ معاملہ، افشاں لطیف کا حکومت کے خلاف انتہائی اقدام

    کاشانہ کیس، ن لیگ بھی میدان میں آ گئی، عظمیٰ بخاری نے بڑا مطالبہ کر دیا

    کاشانہ کیس،اخلاقی کرپشن، عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ سامنے آ گیا

    اس قوم کے بخت سنورگئے جس نے درخت لگا ئے:افشاں لطیف

    کاشانہ کی بیٹیوں کی پرخلوص دعاﺅں نے وزیراعلیٰ پنجاب کوحادثہ سے بچالیا ،افشاں لطیف

    افشاں لطیف کے خدشات درست ثابت،کاشانہ اسکینڈل کے اہم راز جاننے والی اقرا کائنات کی پراسرار حالات میں موت

    کم عمر بچیوں کی شادی نہ کروانے پر کاشانہ کی سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟

    کاشانہ کیس،بات پارلیمنٹ تک پہنچ گئی، رحمان ملک نے بڑا حکم دے دیا

  • عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل،توشہ خانہ کیس کا مکمل ریکارڈ طلب

    عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل،توشہ خانہ کیس کا مکمل ریکارڈ طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف مرکزی اپیل کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ کیس کا مکمل ریکارڈ طلب کرلیا،عدالت نے فریقین کو سزا کیخلاف اپیل کو جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے پر بھی نوٹس جاری کردیئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے حکم نامہ جاری کردیا

    تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل ٹرائل کورٹ کے 5 اگست کے فیصلے کیخلاف ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف الیکشن کمیشن کی شکایت پر ٹرائل چلایا گیا، ٹرائل کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی،فریقین کو نوٹس جاری کیے جائیں، کیس کا ریکارڈ بھی منگوایا جائے، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست جلد مقرر کرنے کی ہدایت کردی

    چیئرمین پی ٹی آئی نے سزا معطل کرکے ضمانت پر رہائی کی درخواست استدعا کر رکھی ہے

    واضح رہے کہ عمران خان کو قبل توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • بلوچستان؛ دو دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان؛ دو دہشتگرد ہلاک

    آپریشن کے دوران 2 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا

    سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع کیچ میں ایک آپریشن کے دوران 2 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے جبکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع کیچ میں دہشت گردوں کیخلاف خفیہ اطلاعات پرآپریشن کیا جس کے دوران 2 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا جبکہ ایک دہشت گرد کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران مارے جانے والے دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    جبکہ آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ ہلاک دہشتگرد شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے میں ملوث تھے جبکہ سکیورٹی فورسز اپنے ملک سے دہشتگردی کی لعنت کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔

  • نگران وزیر اعظم کا نام بہت جلد طے کرلیں گے. وزیر اعظم

    نگران وزیر اعظم کا نام بہت جلد طے کرلیں گے. وزیر اعظم

    وزیر اعظم میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نگران وزیراعظم کا فیصلہ آج رات یا کل تک ہو جائے گا جبکہ صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں بتایا کہ صدرمملکت کو کس بات کی جلدی ہے جو خط لکھ دیا ہے، خط لکھنے سے قبل صدر مملکت کو آئین پڑھ لینا چاہیے تھا، میرے پورے 8 دن ابھی باقی ہیں، لہذا صدر مملکت عارف علوی کو چاہئے آئین پڑھیں۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعظم کی تقرری تک میں وزیراعظم ہوں، تین دن میں فیصلہ نہ ہوا تو پارلیمانی کمیٹی تین دن میں فیصلہ کرے گی اور اگر پارلیمانی کمیٹی بھی فیصلہ نہ کرسکی تو الیکشن کمیشن معاملہ دیکھے گا۔ جبکہ شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج رات اتحادیوں سے مشاورت کروں گا، تمام اتحادیوں کو مشاورت کیلئے آج بلایا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    علاوہ ازیں ان کا مزید کہنا تھا کہ 16 ماہ کی حکومت مشکل ترین حکومت تھی، سابق حکومت نے معیشت کے ساتھ خارجہ تعلقات کوبھی نقصان پہنچایا، امریکہ کے ساتھ گزشتہ دورمیں تقریبا تعلقات ختم ہو چکے تھے، اب تعلقات بہتری کی طرف آئے ہیں اور انسان وہ کام کرے جس کے نتائج وہ برداشت کرسکے، دو دن میں سائفر کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایس آئی ایف سی ملکی ترقی کا مکمل ویژن ہے، سول اور عسکری قیادت نے ملک کو پھر ترقی کی راہ پرگامزن کیا ہے۔

    دوسری جانب وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ مقننہ کے ساتھ سپریم کورٹ کے سارے ججزنہیں، وہ ججز قابل احترام ہیں جو آئین کے خلاف کوئی بات کرتے ہیں نہ سنتے ہیں، چند ججز نے جان بوجھ کرپارلیمنٹ کےساتھ محاذ آرائی کی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کوئی شک نہیں کہ ہمارے 16 ماہ کے اقتدار میں مہنگائی بڑھی، چیئرمین پی ٹی آئی کےدورمیں مہنگائی ساڑھے 3 فیصد سے 12 فیصد تک گئی، ہمارے پاس کوئی جادو منتر نہیں تھا، تیل کی قیمتیں گرتی تھیں تو ہم قیمتیں کم کرتے تھے، ہمارے 16 ماہ میں کئی مرتبہ قیمتیں بڑھیں اورکم ہوئیں، چیئرمین پی ٹی آئی کے دور میں گندم کی پیداوار کم ہوئی تھی، اس کے بعد ہمیں مجبوراً گندم درآمد کرنا پڑی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یوکرین جنگ کی وجہ سے اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی تھیں، آئی ایم ایف کے ساتھ بڑے چیلنج کو ہینڈل کیا، ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا اگر ڈیفالٹ ہوتا تو تباہی ہو جاتی، رمضان میں 40 یا 50 ارب روپے کا پنجاب میں مفت آٹافراہم کیا گیا، بجلی کی قیمتوں کی ری بیسنگ آئی ایم ایف کی وجہ سے کرنا پڑیں، اضافے کے باجود 63 فیصد بجلی صارفین پر کوئی بوجھ نہیں پڑا۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے ملک میں تباہی کی، 9 مئی ریاست، فوج اور سپہ سالار کے خلاف بغاوت تھی، بغاوت ہوجائے اور معیشت اچھی چلے یہ کیسے ممکن ہے، 9 مئی ملکی تاریخ کا تاریک ترین دن تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہوا، تعیناتی کی سمری آئی تو اس میں 6 نام موجود تھے جن میں سے جنرل عاصم منیرکا نام پہلے نمبر پر تھا۔ جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اچھے وقت اورچیلنجز دیکھے، ہم نے سیاست کو قربان کر کے ریاست کو بچانےکا فیصلہ کیا تھا، ریاست بچی ہے تو سیاست بھی بچ جائے گی، اچھا وقت آئے گا۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ قانون بنانا مقننہ کا کام ہے، سپریم کورٹ قانون نہیں بناسکتی، سپریم کورٹ صرف قانون کی تشریح کرسکتی ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ اس وقت آیا جب پارلیمنٹ مدت پوری کرچکی، سمجھ آتا ہے فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ اس پر نئی قانون سازی نہ ہو، مقننہ کو قانون سازی کا پورا اختیار ہے، کبھی نہیں ہوا ایک بینچ مقننہ کا قانون سازی پر عملدرآمد کا حق روک دے، قانون بننے کے بعد چیلنج کرنا الگ بات ہے، قانون پر عملدرآمد روکنے کا واقعہ کبھی نہیں دیکھا، نہ ہوگا، قانون پرعملدر آمد روکنا ناپسندیدہ عمل ہے۔ علاوہ ازیں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قائد مسلم لیگ ( ن ) نوازشریف اگلے ماہ وطن واپس آئیں گے، قوم ان کا بھرپور استقبال کرے گی، وہ وطن واپس آ کر قانون کا سامنا کریں گے، وہ اپنی نااہلی کی 5 سال کی مدت پوری کر چکے ہیں۔

    جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ مردم شماری نتائج مکمل ہونے کے بعد ہم نے سی سی آئی کی میٹنگ بلائی، سی سی آئی فیصلےمیں لکھا ہے آئندہ الیکشن نئی مردم شماری پرہوںگے، چاہتاہوں کہ الیکشن جلد از جلد ہوں، میں نے اور نگراں حکومت نے الیکشن نہیں کرانے، انتخابات الیکشن کمیشن نے کرانے ہیں، آئین کے مطابق حکومت چھوڑ رہا ہوں، کوشش کی جائے تو مارچ 2024 سے پہلے الیکشن ہوسکتے ہیں۔ جبکہ ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے حوالے سے تاریخی جھوٹ بولا، پینترا بدلا کہا کہ امریکا نے سازش نہیں کی، پھر جھوٹ بولا کہ سائفر گم ہوگیا ہے، سائفر گم ہو گیا تھا تو اسٹوری کہاں سے چھپ گئی؟، اسدمجید نے بطور سفیر میٹنگ میں کہا تھا حکومت گرانے کی سازش نہیں، سائفر کیسے لیک ہوا اس کاعلم نہیں، ایف آئی اے تحقیقات کر رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے خلاف کیسز سب نیب نیازی گٹھ جوڑ تھا، ہم دن رات پیشیاں بھگتے رہے، چیئرمین پی ٹی آئی کا معاملہ عدالت میں ہے، انہیں عدالتیں سزادیتی ہیں تو میرا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔

  • عدلیہ،فوج،حکومت پر کب دباؤ ڈالنا؟ بشریٰ بی بی کی ہاتھ سے لکھی ڈائری پکڑی گئی

    عدلیہ،فوج،حکومت پر کب دباؤ ڈالنا؟ بشریٰ بی بی کی ہاتھ سے لکھی ڈائری پکڑی گئی

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ڈائرئ منظر عام پر آ گئی، ڈائری سے اہم انکشافات ہوئے ہیں

    عدلیہ، فوج اور حکومت پر کون اور کب دباو ڈالے گا؟ بشریٰ بی بی کی ڈائری نے تہلکہ مچا دیا ،عمران خان اپنی اہلیہ بشری بی بی کے مکمل طور پر زیر تسلط۔ تمام فیصلے اور اقدامات بشری بی بی کے حکم کیمطابق کرتے رہے۔عدلیہ فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو کب پریشر میں لانا ہے ڈائری میں درج ہے، نیوٹرلز اور ماموں سے نبٹنے کے طریقے بھی درج ہیں

    نجی ٹی وی سماء نیوز کے مطابق پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی کیا اور کیسے ہو گی؟ بشریٰ بی بی فیصلے کرتے رہیں، بشریٰ بی بی کی ڈائری کے ناقابل تردید ثبوت سامنے آئے ہیں، بشریٰ بی بی نے ڈائری اپنے ہاتھ سے لکھی ہے، بشریٰ بی بی کے تخریبی ذہن نے قومی اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا،

    سینئر تجزیہ کار جاوید چوھدری کا کہنا ہے کہ ڈائرئ میں نے خود دیکھی ہے، ڈائرئ سبز رنگ کی ہے، کسی دوسرے ملک نے یہ ڈائری گفٹ کی تھی جو بشریٰ کے زیر استعمال تھی، یہ ڈائرئ عمران خان کے گھر سے ملی تھی جب پانچ اگست کو پولیس عمران خان کو گرفتار کرنے گئی تھی، اسوقت بشریٰ نے ڈائری پھاڑ دی تھی تاہم کچھ صفحات بچ گئے تھے، آدھے صفحات پھٹے ہوئے ہیں، ایک انہوں نے ماموں کا ذکر بار بار کیا، شاید یہ جنرل باجوہ کو کہہ رہے ہیں، ایک صفحہ میں نیوٹرل کا ذکر ہے کہ کس طرح ان سے نمٹنا ہے جلسوں کو ہینڈل کرنے کے لئے کہا گیا کہ گانے صرف حب الوطنی کے ہونے چاہئے

    ڈائرئ کے مطابق بشریٰ بی بی نے دعائیہ الفاظ کے ذریعے عمران خان کی ذہن سازی کی او اس مقصد کیلئے دعا بھی کی،ڈائری سے سامنے آیا کہ بشریٰ بی بی چیئرمین پی ٹی آئی کو ہدایت دیتی رہیں کہ کن الفاظ میں اور کیا دعا کرنی ہے فضا بنا کرعدلیہ پراتنا دباؤ ڈالا جائے کہ منفی فیصلہ نہ آئے۔

    بشریٰ بی بی کے گھر زمان پارک سے ملنے والی ڈائرئ میں لکھی گئی تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ بشریٰ بی بی چیئرمین پی ٹی آئی کو سیاسی ڈکٹیشن دیتی رہیں،ڈائری کے مطابق بشریٰ بی بی پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی سے متعلق فیصلے کرتی رہیں اورعمران خان تمام فیصلے و اقدامات انہی کے حکم پرکرتے رہے سابق وزیراعظم مکمل طور پر بشریٰ بی بی کے زیرتسلط تھے وہ انہیں کنٹرول کرتی رہیں

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • نگران وزیراعظم،سپریم کورٹ کا فیصلہ، وزیراعظم نے اتحادیوں کو بلا لیا

    نگران وزیراعظم،سپریم کورٹ کا فیصلہ، وزیراعظم نے اتحادیوں کو بلا لیا

    نگران وزیراعظم کی مشاورت اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کی صورتحال پر مشاورت کے لئے وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس طلب کر لیا،

    وزیراعظم شہباز شریف آج اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے، نگران وزیراعظم کے لئے کل وزیراعظم نے راجہ ریاض سے ملاقات کی تھی، آج بھی ملاقات ہونی ہے تا ہم اب وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتی اتحادیوں اور پی ڈی ایم رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا ہے، وزیراعظم آج رات رہنماؤں کو عشائیہ بھی دیں گے

    وزیراعظم کی جانب سے سابق صدر آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، بلاول زرداری، ساجد میر، خالد مقبول صدیقی، اویس نورانی،آفتاب شیر پاؤ، عبدالمالک بلوچ، ایمل ولی کو دعوت نامہ بھجوا دیا ہے،وزیراعظم آج اتحادی جماعتوں کے اراکین سے بھی ملاقاتیں کریں گے، وزیراعظم سپیکر قومی اسمبلی سمیت قانونی ماہرین سے بھی ملیں گے ، ملاقات میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کی صورتحال پر غور کیا جائے گا،

    اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے عشائیہ میں وزیراعظم نگران وزیراعظم کے لئے حتمی نام پر مشاورت کرین گے بعد ازاں راجہ ریاض کو اعتماد میں لیں گے

    واضح رہے کہ سپریم ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کیخلاف کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا،87 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے،جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ 33 صفحات پر مشتمل ہے،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ آئین سے متصادم ہے،سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کالعدم قرار دیا جاتا ہے،سپریم کورٹ ریویو ایکٹ پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار سے تجاوز ہے، سپریم کورٹ ریویو ایکٹ کی کوئی قانونی حثیت نہیں،پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق قانون سازی نہیں کر سکتی،طے شدہ اصول ہے کہ سادہ قانون آئین میں تبدیلی یا اضافہ نہیں کر سکتا،سپریم کورٹ رولز میں تبدیلی عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے