Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • خدیجہ شاہ کی درخواست ضمانت سماعت کیلئے مقرر

    خدیجہ شاہ کی درخواست ضمانت سماعت کیلئے مقرر

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد جلاؤ گھیراؤ، ہنگامہ آرائی میں ملوث تحریک انصاف کی کارکن خدیجہ شاہ کی رہائی کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے، عدالت نے درخواست کو سماعت کے لئے مقرر کر کر دیا ہے

    خدیجہ شاہ کی درخواست ضمانت کی سماعت لاہور ہائیکورٹ میں ہو گی،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ 12 جون کو خدیجہ شاہ کی درخواست پر سماعت کرے گا ،عدالت نے وکلا اور سپرٹنڈنٹ جیل سمیت کیس سے منسلک تمام افراد کو سماعت کے روز طلب کر لیا ہے

    لاہور انسداد دہشت گردی عدالت،جناح ہاوس حملہ اور جلاؤ گھیرا کا معاملہ ،تحریک انصاف کی خواتین رہنماؤں خدیجہ شاہ ٫ صنم جاوید ٫ طیبہ راجہ٫ عالیہ حمزہ ملک ،صبوحی انعام سمیت دیگر نے ضمانت کی درخواست دائر کی ہیں ،خدیجہ شاہ سمیت 8 خواتین نے ضمانت کی درخواستیں دائر کر دیں ،خدیجہ شاہ سمیت 13 خواتین جوڈیشل ریمانڈ ہر جیل میں ہیں ،انسداد دہشت گردی عدالت میں ضمانت کی درخواستیں دائر کی گئی ہیں ،عدالت نے ضمانت کی درخواستوں پر ہراسیکیوشن کو 12 جون کیلئے نوٹس جاری کر دیئے عدالت نے آئندہ سماعت پر پولیس سے مقدمہ کا ریکارڈ طلب کر لیا ،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے سماعت کی.خدیجہ شاہ سمیت دیگر خواتین جوڈیشل ریمانڈ ہر جیل میں ہیں، عدالت میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ ہمیں مقدمہ میں غلط ملوث کیا ضمانت پر رہائی دی جائے خواتین نے وکلاء کی وساطت سے ضمانت کی درخواستیں دائر کیں خواتین جناح ہاؤس حملہ کے مقدمہ نمبر 96/23 تھانہ سرور روڑ میں نامزد ہیں خواتین ملزمان میں خدیجہ شاہ ، مریم مزاری ، عالیہ حمزہ ملک ، صبوحی انعام ، طیبہ راجہ ، صنم جاوید ، ہما سعید ، ممتاز بی بی ، لت عزیز، ارم اکمل ،عائشہ مسعود ،ماہا مسعود ، خدیجہ ندیم سمیت 13 خواتین شامل ہیں

    پولیس نے خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمے میں کورکمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے سے متعلق الزامات عائد کئے ہیں،خدیجہ شاہ جیل میں ہیں، امریکی حکام نے بھی خدیجہ شاہ سے ملاقات کی ہے، خدیجہ شاہ نے ایک ویڈیو بیان جاری کر کے معافی بھی مانگی تھی، خدیجہ شاہ کو عدالت پیش کیا گیا تا ہم وہ خاموش رہیں اور سوالوں کے جواب نہیں دیئے ، خدیجہ شاہ نے خود تھانے میں پیش ہو کر گرفتاری دی تھی ،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں تحریک انصاف کی خاتون رہنما خدیجہ شاہ کو پولیس نے پیش کیا تو اس موقع پر خدیجہ شاہ کے منہ پر کپڑا ڈالا گیا تھا، خدیجہ شاہ نے ہاتھ میں تسبح پکڑ رکھی تھی،خدیجہ شاہ گاڑی میں ایک گھنٹے تک رکھا گیا، جس کے بعد خدیجہ شاہ کی طبیعت گاڑی میں خراب ہو گٸی تھی خدیجہ شاہ نے پولیس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے باہر نکالا جاٸے گاڑی میں دم گھٹ رہا ہے ، ولیس نے جواب دیا کہ ابھی تفتیشی نہیں پہنچا جب آٸے گا تو ہی باہر نکالیں گے ،خدیجہ شاہ کے خاندان کے افراد کی پولیس سے بحث ہوئی،خدیجہ شاہ کے رشتہ داروں نے پولیس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دمے کی مریضہ ہے اسے باہر نکالیں ، پولیس نے گاڑی درخت کی چھاوں میں کھڑی کردی تھی

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • سرکاری ملازمین کی پنشن ،تنخواہ،اجرت میں اضافہ،پی ڈی ایم کا دوسرا بجٹ اسمبلی میں پیش

    سرکاری ملازمین کی پنشن ،تنخواہ،اجرت میں اضافہ،پی ڈی ایم کا دوسرا بجٹ اسمبلی میں پیش

    قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ میں خدائے بزرگ و برتر کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ مجھے اس معزز ایوان کے سامنے Coalition Government کا دوسرا بجٹ برائے مالی سال 24-2023 پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے۔ جناب اسپیکر !اس سے پہلے کہ میں مالی سال 24-2023 بجٹ کے اعداد و شمار اس معزز ایوان کے سامنے پیش کروں، میں آپ کی اجازت سے میاں محمد نواز شریف کی بطور وزیر اعظم حکومت 2013-17 اور تحریک انصاف کی نا اہل حکومت 22-2018 کا ایک تقابلی جائزہ آپ کے سامنےپیش کروں گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ کو یاد ہوگا کہ مالی سال 17-2016 تک وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معیشت کی شرح نمو 6.1 فیصد پر پہنچ چکی تھی۔ افراط زر کی شرح 4 فیصد تھی۔ کھانے پینے کی اشیاء کی مہنگائی میں سالانہ اوسطاً اضافہ صرف 2 فیصد تھا۔ پالیسی ریٹ 5.5 فیصد اور فیصد اور سٹاک ایکسچینج ساؤتھ ایشیاء میں نمبر 1 اور پوری دنیا میں پانچویں نمبر پر تھی۔ پاکستان خوشحالی اور معاشی ترقی کی جانب گامزن تھا اور دنیا پاکستان کی ترقی و خوشحالی کی معترف تھی۔ گلوبل ادارہ (Price Waterhouse Coopers (PWC کی projection کے مطابق سال 2030 تک پاکستان 2010-G کا رکن بننے یعنی دنیا کی 20 سب سے بڑی معیشتوں میں شامل ہونے جا رہا تھا۔ پاکستانی روپیہ مستحکم اور زرمبادلہ کے ذخائر 24 ارب ڈالر کا بلند ترین تاریخی ریکارڈ قائم کر چکے تھے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے نئے منصوبے مکمل کیے گئے۔اس سے ملک میں 12 سے 16 گھنٹے کی روزانہ لوڈ شیڈنگ سے نجات حاصل ہوئی اور ملک کی معاشی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ کو دور کیا گیا۔ اس کے علاوہ انفراسٹرکچر کے شعبے ، ہائی ویز کی تعمیر ، Mass Transit Systems ، روزگار کی فراہمی کے مواقع اور آسان قرضوں کی فراہمی جیسے عوام دوست منصوبوں کی تکمیل کی گئی تھی۔ یہ ایک خوشحالی، استحکام اور ترقی کا دور تھا۔ یاد رہے کہ مالی سال 18-2017 میں وفاقی ترقیاتی بجٹ کا ہدف پہلی دفعہ 1001 ارب روپے رکھا گیا تھا جو آج تک دوبارہ نہیں رکھا جاسکا۔ ضرب عضب اور ردالفساد آپریشنز اور افواج پاکستان کی قربانیوں کے مرہون منت ملک بھر میں دہشت گردی کے ناسور پر قابو پا کر اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا۔ پاکستان میں امن وامان اور سیاسی استحکام تھا۔

    بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ جناب اسپیکر! ان حالات میں آنا فانا منتخب جمہوری حکومت کے خلاف سازشوں کے جال بچھا دیئے گئے۔ جس کے نتیجے میں اگست 2018 میں ایک Selected حکومت وجود میں آئی۔ اس Selected حکومت کی معاشی ناکامیوں پر اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ جو ملک 2017 میں دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت بن چکا تھا وہ 2022 میں گر کر 47 ویں نمبر پر آ گیا۔ جناب اسپیکر ! آج پاکستان معاشی تاریخ کے مشکل ترین مرحلے سے گزر رہا ہے۔ میں انتہائی وثوق سے کہنا چاہوں گا کہ آج کی خراب معاشی صورت حال کی اصل ذمہ دار پاکستان تحریک انصاف کی سابقہ حکومت ہے۔ موجودہ حالات پچھلی حکومت کی معاشی بد انتظامی، بدعنوانی، عناد پسندی اور اقربا پروری کا شاخسانہ ہیں۔ لہذا یہ مناسب ہوگا کہ میں مالی سال 22-2021 تک کی معاشی صورتحال کا ایک جائزہ اس معزز ایوان کے سامنے رکھوں۔ جناب اسپیکر ! 4 پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی غلط معاشی حکمت عملی کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ 17.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا اور زر مبادلہ کے ذخائر تیزی سے گر رہے تھے۔ IMF پروگرام کی تکمیل پاکستان کے لیے انتہائی اہم تھی۔ لیکن PTI حکومت نے اس نازک صورتحال میں حالات کو جان بوجھ کر خراب کیا۔ پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں سبسڈی کے ذریعے کمی کردی۔ ایسے اقدامات اٹھائے جو کہ IMF کی شرائط کی صریحاً خلاف ورزی تھی۔ یہاں تک کہ اس ضمن میں آپ کو یاد ہو گا کہ سابقہ حکومت کے وزیر خزانہ نے فون کر کے دو صوبائی وزرائے خزانہ پر شدید دباؤ ڈالا کہ وہ اپنا قومی فریضہ انجام نہ دیتے ہوئے IMF کے پروگرام کو سبوتاژکریں۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ اقدامات نئی حکومت کے لیے بارودی سرنگیں بچھانے کے مترادف تھے۔ ان اقدامات نے نہ صرف مالی خسارے میں اضافہ کیا بلکہ حکومت پاکستان اور IMF کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس پر ستم ظریفی یہ کہ PTI نے تمام حالات کی ذمہ داری نئی حکومت پر ڈالنے کی کوشش کی۔ یہ کوشش محض چور مچائے شور کے مترادف تھی۔ ان کو یقین تھا کہ معاشی حالات اتنے خراب ہو جائیں گے کہ کوئی پاکستان کو ڈیفالٹ سے نہیں بچا سکے گا۔ لہذا وہ حقائق کو مسخ کر کے ان کی ذمہ داری آنے والی حکومت پر ڈالنا چاہتے تھے۔ یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ طرز عمل تھا۔ کسی محب وطن، سیاسی جماعت کو اس طرح کا طرز عمل زیب نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور وزیراعظم شہباز شریف اور اتحادی جماعتوں کے بھر پور تعاون سے ایسے معاشی فیصلے کیے جارہے ہیں جن کی وجہ سے ان ملک دشمن لوگوں کے عزائم پورے نہیں ہو پار ہے۔ خدائے بزرگ و برتر نے نہ صرف پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا بلکہ ان سازشی عناصر کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کی معاشی حکمت عملی کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ان کے دور میں مالی خسارے کا خطرناک حد تک بڑھنا تھا۔ مالی سال 22-2021 کا خسارہ GDP کے 7.9 فیصد کے برابر جبکہ Primary Deficit جی ڈی پی کے 3.1 فیصد تک پہنچ چکا تھا۔ موجودہ اتحادی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی IMF پروگرام کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ حکومت کو اُس وقت بھی علم تھا کہ پاکستان کو معاشی بحالی کے لیے انتہائی تکلیف دہ اقدامات کرنے پڑیں گے جس کی وجہ سے عوام کو مہنگائی اور غربت میں اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ روپے کی قدر میں کمی اور Interest Rate میں تیزی سے اضافے کے نتیجے میں معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ حکومت نے “سیاست نہیں ریاست بچاؤ پالیسی پر عمل کیا۔ اپنی سیاسی ساکھ کی قربانی دے کر معیشت کی بحالی کو ترجیح دی۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ جناب اسپیکر !-6 جون 2018 میں پاکستان کا Public Debt تقریباً 25 ٹریلین روپے تھا۔ PTI کی معاشی بدانتظامی اور بلند ترین بجٹ خساروں کی وجہ سے یہ قرض مالی سال 22-2021 تک 49 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا تھا۔ اس طرح پچھلے چار سالہ دور میں اتنا قرض لیا گیا جو 1947 سے 2018 تک یعنی 71 سال میں لیے گئے قرض کا 96 فیصد تھا۔ اس طرح Public Debt and Liabilities اس عرصہ میں 100 فیصد سے بڑھ کر 30 ٹریلین سے 60 ٹریلین روپے پر پہنچ گیا۔ جون 2018 میں External Debt and Liabilities 95 ارب ڈالر تھیں۔ جون 2022 تک یہ 130 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھیں۔ قرضوں کے مجموعی حجم میں اس قدر اضافے کی وجہ سے حکومت پاکستان کے Interest Expenditure میں بے پناہ اضافہ ہوا اور نتیجتاً پاکستان کی معیشت Debt Servicing کی وجہ سے بہت زیادہ Vulnerable ہوگئی۔ جناب اسپیکر ! پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو 2013 میں 503 ارب روپے کا گردشی قرضہ ورثے میں ملا جو کہ مالی سال 2018 تک بڑھ کر 1148 ارب روپے پر پہنچ گیا۔ یعنی 5 سالوں میں گردشی قرضوں میں 645 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ یعنی 129 ارب سالانہ بڑھا۔ جبکہ پی ٹی آئی حکومت کے غیر سنجیدہ رویوں اور بدنظمی کی وجہ سے توانائی کا شعبہ شدید بحران کا شکار ہوا۔ پی ٹی آئی کے 4 سالہ دور حکومت میں گردشی قرضوں میں 1319 ارب روپے کا اضافہ کے ساتھ یہ 1148 ارب سے بڑھ کر 2467 ارب روپے پر پہنچ گیا۔ یعنی سالانہ 329 ارب روپے بڑھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ جناب اسپیکر !-8 بجٹ خسارہ پاکستان کے معاشی مسائل میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ PTI حکومت ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری لانے میں یکسر ناکام رہی جبکہ اخراجات میں بے پناہ اضافہ کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ PTI کے چار سالہ دور میں GDP کے تناسب سے اوسط بجٹ خسارہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پانچ سالہ دور سے تقریباً دو گنا تھا۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ کرتے ہوئے موجودہ حکومت نے خسارے کو کم کرنے کے لیے کفایت شعاری سے کام لیا۔ Austerity Measures لیے گئے، Untargeted Subsidies کو بہت حد تک ختم کیا گیا اور Grants کی مد میں پچھلے سال کے مقابلے میں اخراجات میں کمی کی گئی۔ ان اقدامات کے نتیجے میں بجٹ خسارہ پچھلے مالی سال میں GDP کے 7.9 فیصد سے کم ہوکر رواں مالی سال میں GDP کا 7.0 فیصد ہو گیا ہے۔ اس طرح بجٹ خسارے میں ایک سال میں GDP کے تقریباً 1 فیصد کے برابر کمی لائی گئی۔ یاد رہے کہ خسارے میں یہ کمی Interest Expenditure میں ہوش ربا اضافے کے باوجود کی گئی جبکہ Primary Deficit کو صرف ایک سال کی مدت میں GDP کے 3.1 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد پر لایا گیا۔ یعنی 2.6 فیصد کے برابر کمی ہوئی۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ جناب اسپیکر ! یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آج کی معاشی صورتحال اور عام آدمی کے لیے مشکلات PTI حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں، بدعنوانیوں اور ناکامیوں کا نتیجہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ پاکستان کی عوام اس بات سے پوری طرح آگاہ ہو چکے ہیں کہ موجودہ معاشی مشکلات اور مہنگائی کی مکمل ذمہ دار گزشتہ حکومت ہے۔ ماضی کی Selected حکومت نے اپنے سیاسی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے ملک کی معیشت کو شدید نقصان سے دوچار کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی دور اندیش قیادت میں حکومت نے مشکل ترین حالات میں حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی۔ حکومت نے اپنے سیاسی نقصانات کی پرواہ کیے بغیر ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا۔ میری گزارش ہے کہ پاکستان کی عوام یہ پہچان لے کہ کس نے ملک کو بچانے کی کوشش کی اور کون پاکستان کی تباہی کا باعث بنتا رہا۔جناب اسپیکر ! اس ضمن میں 9 مئی کو رونما ہونے والے المناک، شرمناک، ملک دشمن واقعات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ سیاسی جماعت کا لبادہ اوڑھے مسلح دہشت گرد جتھوں نے پاکستان کی سالمیت ، ساکھ اور قومی وقار کو مجروح کرنے کی گھناؤنی اور منظم سازش کی ۔ پاک افواج کے شہداء کی قربانیوں کو یکسر نظر انداز کیا اور اُن کی یادگاروں کی بے حرمتی کا جرم کیا ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ دفاعی تنصیبات کو بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ ایسے ملک دشمن عناصر اپنی ناپاک حرکتوں کی وجہ سے خود ہی بے نقاب ہو چکے ہیں۔ یہ گروہ کسی صورت بھی نرمی اور رحم دلی کے حقدار نہیں۔ ایسے تمام عناصر کو پاکستان کے قوانین کے مطابق سخت سے سخت سزائیں دی جانی چاہیں تاکہ آئندہ کسی کو بھی ایسے ناپاک عزائم کے ساتھ ملک دشمن سرگرمیوں میں حصہ لینے کی جرات نہ ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ جناب اسپیکر ! ملکی معیشت کو پچھلے ایک سال کے دوران کئی اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ پچھلے سال پاکستان کی عوام خاص طور پر صوبہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے عوام کو سیلاب کی ناگہانی آفت کا سامنا کرنا پڑا۔ سیلاب کی وجہ سے ملکی املاک اور معاشی نقصانات کا تخمینہ 30 ارب ڈالر سے زیادہ کا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی اور آبادکاری کے لیے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے بھر پور طریقے سے حصہ لیا۔مزید برآں اقوام متحدہ کے ادارے FAO کے تخمینے کے مطابق سال 2021 کے مقابلے میں سال 2022 کے دوران مبین الاقوامی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں 14.3 فیصد کا اضافہ ہوا۔ پاکستان تیل، گندم، دالیں خوردنی تیل اور کھاد درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے جس کی ہمیں زرمبادلہ میں ادا ئیگی کرنا پڑتی ہے اور یہ مہنگائی میں اضافے کا باعث بنا۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی صورتحال جس میں یوکرین کی جنگ، عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور مغربی ممالک میں شرح سود میں اضافہ نے ملک کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ۔ پاکستان کی معیشت کا دوسرا بڑا مسئلہ (Current Account Deficit (CAD ہے۔ PTI حکومت کی وجہ سے مالی سال 22-2021 میں CAD 17.5 ارب ڈالر ہو گیا تھا۔ موجودہ حکومت کے بروقت اقدامات سے CAD میں تقریباً 77 فیصد کمی آئی۔ انشاء اللہ مالی سال 2022-23 کے اختتام پر یہ خسارہ کم ہو کے تقریباً 4 ارب ڈالر رہ جائے گا۔ اسی طرح تجارتی خسارہ جو کہ سال 22-2021 میں 48 ارب ڈالر تھا، مالی سال 23-2022 میں تقریباً 26 ارب ڈالر متوقع ہے۔ اس طرح ایک سال میں تجارتی خسارے میں تقریباً 22 ارب ڈالر کی کمی لائی گئی ہے۔ CAD اور تجارتی خسارے میں کمی لاتے ہوئے حکومت نے حتی الامکان کوشش کی ہے کہ صرف Luxury Goods اور دیگر غیر ضروری درآمدات کو روکا جائے تاکہ ملک کی معاشی پیداواری صلاحیت میں کم سے کم منفی اثرات مرتب ہوں۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ جناب اسپیکر موجودہ مخلوط حکومت کے مشکل فیصلوں کی وجہ سے الحمد للہ ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں گراوٹ کو کم کیا گیا ہے۔ حکومت نے IMF پروگرام کے نویں جائزے کی تمام شرائط کو پورا کرلیا ہے۔ IMF پروگرام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اسی لیے حکومت با قاعدگی سے IMF کے ساتھ مذاکرات کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہماری حتی المقدور کوشش ہے کہ جلد سے جلد SLA پر دستخط ہو جائیں اور پروگرام کا نواں جائزہ رواں ماہ میں مکمل ہو جائے۔جناب اسپیکر !14۔ حکومت کو عوام کی مشکلات کا اندازہ ہے اور اس کی ہر ممکن کوشش ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے زیادہ سے زیادہ اقدامات کیے جائیں۔ تا کہ عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچایا جاسکے۔ مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے چند ماہ پہلے BISP کے تحت دیئے جانے والے کیش ٹرانسفر کی شرح میں 25 فیصد اضافہ کیا اور بجٹ کو 360 ارب سے بڑھا کر 400 ارب روپے کر دیا۔ اس کا اطلاق یکم جنوری 2023 سے ہو چکا ہے۔پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں مفت آٹے کی تقسیم کی گئی۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت کی طرف سے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے ذریعے عوام کو سستی اشیاء کی فراہمی کے لیے 26 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔پچھلے ایک ماہ میں حکومت نے دو مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی۔ نتیجتاً پیٹرول کی قیمت میں 20 روپے، ڈیزل کی قیمت میں 35 روپے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 17 روپے کمی کی گئی۔ امید ہے اس کے نتیجے میں مہنگائی میں کمی آئے گی۔

    انہوں نے کہا کہ جولائی 2022 سے اب تک حکومت ماضی کے تقریباً 12 ارب ڈالر کے بین الاقوامی قرضہ جات کی ادائیگی کر چکی ہے اور تمام تر بیرونی ادائیگیاں بروقت ہو رہی ہیں۔ اس کے باوجود ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 9 ارب 34 کروڑ ڈالر ہیں۔ حکومت نے دوست ممالک اور ڈویلپمنٹ پارٹنرز (Development partners) کے ساتھ بھی بہتر تعلقات قائم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں جو کہ پچھلے چند سالوں میں تنزلی کا شکار ہو گئے تھے۔ اس سے معاشی بحالی میں مدد ملے گی۔ حکومت نے غیر ملکی زرمبادلہ کی غیر قانونی ترسیل کو ختم کرنے کیلئے بھی انتظامی اقدامات اٹھائے ہیں جس کے مثبت نتائج ظاہر ہو رہے ہیں۔ جناب اسپیکر ! موجودہ حکومت نے زرعی شعبے پر سیلاب کے تباہ کن اثرات اور مجموعی مشکلات کو دور کرنے کے لیے 2 ہزار ارب روپے سے زائد کا کسان پیکیج دیا۔ مجھے خوشی ہے کہ اس پیکیج کے معیشت پر مثبت اثرات آئے ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے باوجود زرعی شعبہ میں 1.5 فیصد کی گروتھ ہوئی ہے۔ گندم کی Bumper Crop کی وجہ سے 28 ملین ٹن سے زائد پیداوار ہوئی ہے اور کسان کی آمدن میں اضافہ ہوا ہے۔ ہماری دیہی معیشت میں 1500 سے 2000 ارب روپے اضافی منتقل ہوئے۔ اس سے ملک کی مجموعی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا۔ بجٹ 24-2023 کے ذریعے حکومت زرعی شعبے کے لیے مراعات کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کی تفصیل آگے چل کر پیش کی جائے گی۔ امید ہے کہ یہ اقدامات ملک میں فوڈ سیکورٹی کے حوالے سے اہم کردار ادا کریں گے۔ ا جناب اسپیکر ! رواں مالی سال کے دوران سیلاب سے متاثرہ علاقے ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا نہ کرسکے ۔حکومت نے ان علاقوں میں بحالی کا کام مکمل کر لیا ہے۔ تعمیر نو کے لیے حکومت نے 578 ارب روپے کے منصوبوں پر کام کا آغاز کر دیا ہے اور انشاء اللہ اگلے مالی سال سے یہ علاقے معیشت میں دوباہر اپنا فعال کر دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال میں اندرونی اور بیرونی مشکلات کی وجہ سے LSM سیکٹر میں منفی گروتھ کا رحجان رہا، اس کی بڑی وجہ زر مبادلہ کی کمی تھی، جس کی وجہ سے خام مال کی دستیابی میں مشکلات پیدا ہوئیں، ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے خام مال کو ترجیحی بنیاد پر ایل کھولنے کی اجازت دیدی گئی ہے۔ حکومت اگلے مالی سال میں اس ان رحجان کو ریورس کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، وزیراعظم شہبازشریف کی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ صنعتی شعبے پر اگلے سال کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا، اسی طرح یہ عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں گراوٹ، ترقی یافتہ ممالک میں’ انوینٹری بلڈ اپ’ میں کمی اور ملک میں خام مال کی بہتر دستیابی کی وجہ سے بھی ایل ایس ایم میں بہتری آئے گی۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ مندرجہ بالا اقدامات کے نتیجے میں ملکی معیشت میں ایک Vulnerableصورتحال سے نکل کر استحکام کی طرف آ رہی ہے، بجٹ مالی سال 2023-2024ء کے ذریعے ملک استحکام سے ترقی کی جانب گامزن ہوگا۔ انشاء اللہ انہوں نے کہا کہ جناب سپیکر اب میں آپ کو بجٹ مالی سال 2023-2024ء کو عمومی سمت کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں، معیشت میں بہتری کی سمت کے باوجود ابھی بھی معیشت کو چیلنجز کا سامنا ہے، ان حالات کے مد نظر ہم نے اگلے مالی سال کے لیے ترقی کا ہدف صرف 3.5 فیصد رکھا ہے، جو کہ ایک Modest targetہے، جلد ہی ملک جنرل الیکشنز کی طرف جانے والا ہے، اس کے باوجود اگلے مالی سال کے بجٹ کو ایک الیکشن بجٹ کی بجائے ایک ذمہ دارانہ بجٹ کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے بھر پور مشاورت کے بعد اُن Elements of real economy کومنتخب کیا ہے۔ جن کی بدولت ملک کم سے کم مدت میں ترقی کی راہ پر دوبارہ گامزن ہوسکتا ہے۔بجٹ تجاویز میں ہمارے ترجیحی Drivers of Growth مندرجہ ذیل ہیں، زراعت کا شعبہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگلے مالی سال میں اس شعبے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کرنے کی تجاویز ہیں:زرعی قرضوں کی حد کو رواں مالی سال میں 1800 ارب سے بڑھا کر 2250 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ بجلی / ڈیزل کے بل کسان کے سب سے بڑے اخراجات میں شامل ہیں اگلے مالی سال میں 50,000 زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ معیاری بیج ہی اچھی فصل کی بنیاد ہے ملک میں معیاری بیجوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ان کی درآمد پر تمام ٹیکسز اور ڈیوٹیز ختم کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح Sapplings کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی ختم کی جارہی ہے۔ موسمی تبدیلی کی وجہ سے وجہ سے Harvesting کی مدت کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسان نے تیسری فصل بھی اُٹھانی ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ پکی ہوئی فصل کو جلد سے جلد سنبھالا جائے۔ اس کے لیے Combine Harvesters کی ضرورت ہے۔

    بجٹ تقریر کے دوران اسحاق ڈار نے کہا کہ Combine Harvester کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے یہ تجویز ہے کہ ان پر تمام ڈیوٹی و ٹیکسز سے استثنیٰ دیا جائے۔ چاول کی پیداوار بڑھانے کے لیے Rice Planters, Seeder اور Dryers کو بھی ڈیوٹی و ٹیکسز سے استثنیٰ کی تجویز ہے۔ Agro Industry دیہی معیشت میں انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ بجٹ میں Agro Industry کو Concessional قرض کی فراہمی کے لیے 5 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ زرعی اجناس کی اصل Value Addition اُن کی Processing میں ہے اس سے اجناس بالخصوص پھل اور سبزیوں کے ضائع ہونے کا احتمال بھی کم کیا جاسکتا ہے۔ اسکے علاوہ Food Processing Units روزگار کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ دیہی علاقوں میں لگائی جانے والے Agro-based Industrial Units جن کا سالانہ Turnover 80 کروڑ روپے تک ہوگا ان کو تمام ٹیکسز سے 5 سال کے لیے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا۔ PM’s Youth, Business and Agriculture Loan Scheme کے تحت چھوٹے اور درمیانی درجے کے آسان قرضوں کو جاری رکھا جائے گا اور اس مقصد کے لیے اگلے مالی سال میںمارک اپ سبسڈی کے لیے 10 ارب روپےفراہم کیے جائیں گے۔

    انضمام شدہ اضلاح کیلئے بجٹ میں خصوصی ترقیاتی منصوبے شامل کرنے کا فیصلہ

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    بجٹ 2023-24 میں وزیر اعظم پیکج کے تحت 80 ارب کے منصوبے

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

    پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے حوالے سے بجٹ تجاویز 

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ سرکاری ملازمین کی پنشن میں اضافہ کیا جارہا ہے، سرکاری ملازمین کی کم سے کم پنشن 10 ہزار سے بڑھا کر 12 ہزار کی جارہی ہے، وفاقی حدود میں کم سے کم اجرت 32 ہزار روپے کی جارہی ہے، صوبے اس حوالے سے اپنا فیصلہ کریں گے۔ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیوٹیوٹ (ای او بی آئی) کے ذریعے پنشن حاصل کرنے والے پنشنرز کی کم سے کم پنشن کو 8500 روپے سے بڑھا کر 10ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مقروض افراد کی بیواؤں کے 10لاکھ روپے کے قرضے حکومت ادا کرے گی، قومی بچت کے شہداء اکاؤنٹ میں ڈپازٹ کی حد 50لاکھ روپے سے بڑھا کر 75 لاکھ روپے کی جارہی ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے بجٹ کو 360 ارب روپے سے بڑھا کر 400ارب کردیا ہے۔

  • خاتون جج دھمکی کیس،عمران خان اور اسکی ضمانت دینے والا طلب

    خاتون جج دھمکی کیس،عمران خان اور اسکی ضمانت دینے والا طلب

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد، خاتون جج دھمکی کیس ،چیئرمین پی ٹی آئی کی استثنیٰ کی درخواستِ پر محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا

    جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے 4 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ،عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو 6 جولائی کو زاتی حیثیت میں طلب کرلیا،عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے مچلکے جمع کروانے والے شخص کو شوکاز نوٹس جاری کرکے طلب کرلیا ،عدالت نے ایس ایس پی سیکیورٹی سے کچہری کی سیکیورٹی رپورٹ طلب کرلی، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ عدالتی عملے کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کے قابلِ ضمانت وارنٹ کی تعمیل ہوگئی، عدالتی عملے کے مطابق چوہدری زبیر نامی شخص نے چیئرمین پی ٹی آئی کے 20 ہزار روپے ضمانتی مچلکے جمع کروائے، چیئرمین پی ٹی آئی کی 23مارچ، 29مارچ، 28اپریل اور 25مئی کو درخواست استثنا مسترد ہوئی، چیئرمین پی ٹی آئی کو آج حاضری سے استثنا دینے کی گراؤنڈ موجود نہیں

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ تھانہ مارگلہ کی درخواست ضمانت کے لئے چیف کمشنر نے عدالت جوڈیشل کمپلیکس منتقل کی،وکیل ملزم کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی تسلی بخش سیکورٹی کے تحت ٹرائل کورٹ آنے کو تیارہیں،چیئرمین پی ٹی آئی جوڈیشل کمپلیکس بھی پیش ہوئے، ایس ایس پی سیکیورٹی سے چیئرمین پی ٹی آئی کی ٹرائل کورٹ پیشی کے لیے سیکیورٹی رپورٹ طلب کرنا ضروری ہے ، فیصلہ ایس ایس پی سیکیورٹی کو کچہری میں سیکیورٹی کی رپورٹ جمع کروانے پر نوٹس جاری کیا جاتا ہے ،نہ چیئرمین پی ٹی آئی اور نہ ان کے مچلکے جمع کروانے والا شخص چوہدری زبیر عدالت پیش ہوا ،چیئرمین پی ٹی آئی کے مچلکے جمع کروانے والے شخص چوہدری زبیر کو شوکاز نوٹس جاری کیا جاتا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی اور مچلکے جمع کروانے والا شخص 6 جولائی کو عدالت زاتی حیثیت میں پیش ہوں،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے پارٹی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے خاتون جج اور انتظامی افسروں کو دھمکی دی تھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا اور توہین عدالت کا کیس چلا تھا تاہم گزشتہ سماعت پر عدالت نے توہین عدالت ختم کر دی تھی،عمران خان کے اس کیس میں وارنٹ بھی جاری ہوئے تھے، تا ہم بعد میں منسوخ کر دیئے گئے تھے، عمران خان اس کیس میں ضمانت پر ہیں

  • پانامہ میں شامل 436 بندوں میں کاروباری لوگ بھی، کیا انہیں بھگانا چاہتے ہیں؟ سپریم کورٹ

    پانامہ میں شامل 436 بندوں میں کاروباری لوگ بھی، کیا انہیں بھگانا چاہتے ہیں؟ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ، پانامہ کیس ،جماعت اسلامی کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکیل جماعت اسلامی بتائیں اب اس معاملہ کا کیا کرنا ہے، سات سال سے معاملہ سپریم کورٹ میں پڑا رہا کیا صرف ایک خاندان کیخلاف کیس چلوانا تھا ، سات سال سے آپ کو اس کیس می کوئی دلچسپی نہیں تھی، پہلے وکیل جماعت اسلامی بتائے اپنا درخواست کو ڈی لنک کیوں کروایا ،پانچ رکنی بینچ سے اتنا بڑا ریلیف کیوں نہیں لیا؟ وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں پانامہ میں نام آئے 436 لوگوں کی بھی تحقیقات ہو۔جسٹس سردار طارق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ قانون کو کیوں بائی پاس کرنا چاہتے ہیں۔کیا باقی تمام اداروں کو بند کردیں۔ کیا سارے فیصلہ سپریم کورٹ سے کروانے ہیں۔

    پانامہ کیس میں سپریم کورٹ مقدمہ کو نواز شریف کیس سے علیحدہ کروانے پر برہم ہو گئی،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آف شور کمپنی بنانا کوئی جرم نہیں، آف شور کمپنیاں کیسے بنائی گئیں وہ ادارے دیکھیں گے،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ہم کوئی از خود نوٹس نہیں لیں گے، بہت سی باتیں کرنے کو دل کرتا ہے نہیں کریں گے ،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو سات سال بعد یاد آیا کہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے؟ اس وقت ایک ہی فیملی کے خلاف کیس چل رہا تھا، وہ بھی پانامہ کا معاملہ ہے یہ بھی پانامہ کا معاملہ ہے، اس وقت آپ کے اس عدالت کے سامنے کیوں نہ کہا یہ سب لوگوں کا معاملہ ہے ساتھ سنا جائے؟ اس معاملے پر عدالت کا کندھا استعمال نہ کریں ، اس وقت یہ معاملہ آپ کی استدعا پر ڈی لیسٹ کیا گیا؟ میں کہنا نہیں چاہتا مگر یہ مجھے کچھ اور ہی لگتا ہے، اس وقت بنچ نے آپ کو اتنا بڑا ریلیف دے دیا تھا،آپ نے اس بنچ کے سامنے کیوں نہیں کہا اس کو ساتھ سنیں، آپ نے سات سال میں کسی ادارے کو درخواست کہ تحقیقات کی جائیں؟ آپ نے اپنی ذمہ داری کہاں پوری کی؟ نیب یا کسی اور ادارے کو تحقیقات کا حکم دے دیں،آپ نے سات سال میں کسی ادارے کے سامنے شکایت نہیں کی،سارے کام اب یہاں سپریم کورٹ ہی کرے؟ 436 بندوں کو نوٹس دیئے بغیر ان کے خلاف کاروائی کا حکم کیسے دیں؟ان 436 بندوں میں کاروباری لوگ بھی ہونگے، کیا انہیں بھگانا چاہتے ہیں؟ آف شور کمپنی بنانا کوئی جرم نہیں ہے، دیکھنا یہ ہوتا ہے وہ کمپنی بنائی کیسے گئی، 436 بندوں کے خلاف ایسے آرڈر جاری کر دینا انصاف کے خلاف ہوگا،

    پانامہ پیپرز میں 436 پاکستانیوں کے خلاف تحقیقات کی سراج الحق کی درخواست پر سماعت ،عدالت نے پانامہ پیپرز میں نامزد 436 افراد کے خلاف جے آئی ٹی بنانے پر جواب طلب کر لیا ،

    سپریم کورٹ کے 5 ججز کی جانب سے 3 نومبر 2016 کو پانامہ کیس قابل سماعت قرار دیا گیا تھا،عدالت نے کہا کہ بتایا جائے کہ پانامہ پیپرز میں نامزد افراد کیخلاف نیب، ایف آئی اے،اینٹی کرپشن سمیت اداروں سے رجوع کیوں نہیں کیا؟ ایف بی آر، اسٹیٹ بنک، نیب سمیت تحقیقاتی اداروں کی موجودگی میں سپریم کورٹ تحقیقات کیسے کرا سکتی ہے؟ سپریم کورٹ نے تحقیقاتی اداروں کی موجودگی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا تو یہ کام کیسے کریں گے؟ عدالت پانامہ میں نامزد 436 افراد کو سنے بغیر فیصلہ کیسے کرے؟ کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی گئی،

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

  • حکومت میں آنے والے افراد کے تمام کیس بند ہو جاتے ہیں،سراج الحق

    حکومت میں آنے والے افراد کے تمام کیس بند ہو جاتے ہیں،سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان ملک میں کرپشن کے خلاف جدو جہد ہر رہی ہے ۔

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ کرپشن کے ناسور کے خلاف جدو جہد ہر ایک پر لازم ہے۔ پانامہ لیکس کی خبر میں 436 پاکستانیوں کا نام تھا۔جماعت اسلامی کے اس پر سب سے پہلے کاروائی کی درخواست کی تھی ۔ افسوس کے صرف ایک فرد کے خلاف فیصلہ ہوا۔ 435 افراد کے خلاف کچھ بھی نہ ہوا۔ پانامہ لیکس کے دو ججز چیف جسٹس بنے لیکن کچھ نہ کیا۔ ملک میں احتساب کے ادارے کیا کر رہے ہیں ؟ایف آئی اے ،نیب اور دیگر اداروں نے کیا کام کیا ؟ہمارے ان اداروں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ حکومت میں آنے والے افراد کے تمام کیس بند ہو جاتے ہیں اپوزیشن کے خلاف تمام ادارے تیز ہوجاتے ہیں ۔چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ اپنا فرض پورا کرے ۔

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی فاقہ چل رہا ہے کچھ لوگوں کے مال و دولت میں اصافہ ہو رہا ہے ۔یہ عوام کے پیسہ پر ڈاکہ ڈالا گیا یے۔سپریم کورٹ آنا پارٹی کا نہیں عوام کا مسئلہ ہے آج وزیروں اور مشیروں کے پاس کتنا پیسہ ہے۔ہمارا مذہب اور آئین اس سب کی اجازت نہیں دیتا۔ بین الاقوامی سروے کے مطابق پاکستان میں 7ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔کرپٹ لوگوں کی بنا پر سارے ادارے تباہ ہوگئے ۔جماعت اسلامی نے چوک چوراہے سے پارلیمنٹ تک آواز بلند کی ۔ آج عوام کے حقوق لینے سپریم کورٹ میں حاضر ہیں۔ امید کرتا ہوں کہ ہمیں انصاف ملے گا۔ اس دفعہ بھی ایک جے آئی ٹی بنائی جائے۔ اداروں کی مدد لی جس کے لیے وہ بنے ہیں ۔

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

  • وزیراعظم کی کرومیٹک کے سی ای او سے ملاقات

    وزیراعظم کی کرومیٹک کے سی ای او سے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف کی تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان سے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف کی تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان سے ملاقات جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس ملاقات میں کہا کہ حکومت ملک سے تمباکو نوشی کے خاتمے اور صحت مند معاشرے کے قیام کے لئے ہرممکن اقدامات اٹھا رہی ہے. تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان نے وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعظم ہائوس میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران تمباکو نوشی کے خاتمے کے لئے سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر پالیسیاں زیر بحث لائی گئیں۔

    علاوہ ازیں اس موقع پر کرومیٹک کے سی ای او شارق خان نے کیمپین فار ٹوبیکو فری کڈز کے مائیکل بلوم برگ کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف کو تعریفی خط دیا، واضح رہے کہ فروری 2023 میں حکومت کی طرف سے تمباکو نوشی کے خاتمے کی کوششوں کے تسلسل میں سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں اضافہ کیا، دنیا بھر کی صحت عامہ اور تمباکو نوشی کے خاتمے کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے اس حکومتی فیصلے کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کا تسلسل پاکستان سے اس ناسور کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جبکہ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے تمباکو نوشی کے خاتمے کے حوالے سے مائیکل بلوم برگ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ پاکستان میں تمباکو نوشی کے خاتمے، نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے دور کرنے اور معاشرے میں آگاہی فراہم کرنے پر کرومیٹک کے کردار کو بھی سراہا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے تمباکو نوشی کے خاتمہ کے لئے شارق خان کو اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت تمباکو نوشی کے خاتمے اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لئے اپنی کوششوں کو مزید تیز کرے گی۔

  • جہانگیر ترین کا استحکام پاکستان پارٹی کا باضابطہ اعلان

    جہانگیر ترین کا استحکام پاکستان پارٹی کا باضابطہ اعلان

    جہانگیر ترین نے استحکام پاکستان پارٹی کا اعلان کردیا

    لاہور کے مقامی ہوٹل میں جہانگیر ترین نے استحکام پاکستان پارٹی کا اعلان کیا، جہانگیر ترین کے ہمراہ علیم خان، عامر کیانی،فردوس عاشق،تنویر الیاس و دیگر موجود تھے، جہانگیر ترین کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اب نہ کبھی 9 مئی ہونے دیں گے نہ کسی سیاسی مخالف کے گھروں پر حملے ہونے دیں گے ، سیاسی تقسیم ختم کریں گے، قوم میں امید پیدا کریں گے

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت عام عوام کی جماعت ہوگی ہم قائد اعظم کی تعلیمات اور علامہ اقبال کے خوابوں کو پورا کرنے کیلیے جدوجہد بھی کریں گے ہمارا جمہوری نظام صرف اسی صورت مضبوط ہوسکتا ہے جب حکومت اوراپوزیشن آئینی کردار ادا کرے آنے والے دنوں میں ہمارے قافلے میں اور بھی ایسے لوگ شامل ہوں گے جن کا اپنے حلقے میں بہت زیادہ سیاسی اثر و رسوخ ہے ،ہم ہمیشہ سے سیاسی مخالفین پر حملوں کے مخالف تھے مگر پی ٹی آئی نے تو فوجی تنصیبات پر حملہ کیا اور شہدا کی یادگاروں کو نقصان پہنچایا اگر اس ہجوم کو قابو نہ کیا گیا تو یہ گھروں میں گھس کر سب کو ہراساں کرے گا آنے والے دنوں میں آپ کے سامنے ایسے حقائق آجائیں گے جس سے آپ سب کو علم ہوگا کہ تحریک انصاف کے لیے ہم نے کتنا کام کیا ہم نے ہمیشہ کوشش کی تھی کہ پی ٹی آئی واضح اکثریت سے انتخابات میں فتح حاصل کرے اور ملک میں اتحاد کے لیے کام کرے مگر ایسا نہ ہوسکا اور لوگ بد دل ہوگئے ،9 مئی کے ذمہ داروں کو سزا نہ ملی تو کل پھر سیاستدانوں کے گھروں تک پہنچیں گے، پاکستان میں اصلاحات لانا بنیادی حصول تھا،معاملات ویسے نہ چل سکے جیسے ہم چاہتے تھے،

    اس موقع پر علیم خان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین نے سب کو اکٹھا کرنے میں بڑے پن کا مظاہرہ کیا،ہم نے پاکستان کو انتشار سے بچانا ہے، جہانگیر ترین کی سربراہی میں جدوجہد میں حصہ ڈالیں گے،علی زیدی کو خوش آمدید کہتا ہوں، ہم نے 12 سال ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے گزارے، ہمیں خوشحال پاکستان کا خواب دکھایا گیا تھاجہانگیر ترین کی کوششوں سے ہم سب ایک پلیٹ فارم پر ہیں موجودہ صور تحال پر تمام پاکستانی پریشان ہیں، 9 مئی واقعات کے بعد لوگ فکر مند تھے،

    جہانگیر ترین اپنی پارٹی استحکام پاکستان کے پیٹرن انچیف ہوں گے ،تحریک انصاف چھوڑنے والے رہنما جہانگیر ترین کی نئی پارٹی میں شامل ہیں، سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کرنیوالے بھی استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں

    پریس کانفرنس سے قبل پارٹی کے کورگروپ کا اجلاس ہوا جس کی صدارت پارٹی کے پیٹرن ان چیف جہانگیرترین اور علیم خان نے کی ،

    واضح رہے کہ علیم خان اور جہانگیر ترین تحریک انصاف میں تھے اور عمران خان کے انتہائی قریبی تھے، مگر اقتدار ملنے کے بعد عمران خان تکبر میں آ گئے اور انہوں نے اپنے قریبی دوستوں کو دور کر دیا، جہانگیر ترین الگ ہوئے تو علیم خان نے بھی پی ٹی آئی چھوڑی، اب حالت یہ ہو چکی ہے کہ تحریک انصاف میں صرف عمران خان ہی رہ جائیں گے باقی سب ساتھ چھوڑ جائیں گے

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

     چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا

    استحکام پاکستان پارٹی کی پریس کانفرنس، فواد چودھری "منہ” چھپاتے رہے، تصاویر وائرل
    نئی پارٹی کی پریس کانفرنس کے موقع پر حال ہی میں تحریک انصاف اور سیاست چھوڑنے والے فواد چودھری بھی شریک تھے، فوادچودھری کو آگے جگہ نہ ملی یا دی نہ گئی فواد چوھدری پیچھے بیٹھے رہے، فواد چودھری کی ایک تصویر سامنے آئی ہے جس میں وہ پیچھے بیٹھے ہیں اور چہرے پر ہاتھ رکھ کر کیمرے سے چہرہ چھپانے کی کوشش کررہے ہیں، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک‌ صارف نے فواد کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ *شرمندگی یا کچھ اور؟*
    سابق رہنما تحریکِ انصاف فواد چودھری اسٹیج پر اپنی کرسی پر بیٹھنے کے بجائے سب سے پیچھے والی کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔جہانگیر ترین نے اپنی پارٹی "استحکام پاکستان” کی بنیاد رکھ دی ہے۔

    ایک اور صارف نے فواد کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ جہانگیر ترین پارٹی استحکام پاکستان کی پہلی تقریب میں مرکزی نمائندے ہی غیر مستحکم دکھائی دے رہے ہیں

    پریس کانفرنس کے اختتام پر جہانگیر ترین صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیئے بغیر روانہ ہو گئے، صحافی کہتے رہے کہ سوال و جواب کے بغیر پریس کانفرنس نہیں ہوتی تا ہم جہانگیر ترین چلے گئے ، اس موقع پر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ آج پارٹی کی لانچنگ کی پریس کانفرنس تھی، اگلی پریس کانفرنس میں سوال لیں گے، آج آپ سیاسی چسکوں میں پڑ جاتے، آج پارٹی کا منشور چلائیں،

  • ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف

    ارشد شریف قتل کیس میں بڑی پیشرفت، ارشد شریف کی والدہ نے عمران خان کو شامل تفتیش کرنے کی درخواست دائر کر دی

    ارشد شریف کی والدہ نے سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست دائر کی ہے جس میں ارشد شریف کی والدہ نے عمران خان ،فیصل واڈا ،سلمان اقبال ،مراد سعید ،عمران ریاض کو شامل تفتیش کرنے کیلئے استدعا کی، ارشد شریف کی والدہ کی درخواست میں کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے متعلق ان تمام افراد سے شواہد حاصل کئے جائیں ،والدہ ارشد شریف نے متفرق درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی

    والدہ ارشد شریف کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر متفرق درخواست میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ کی حساسیت اور اہمیت کے پیش نظر سپریم کورٹ کے اقدام کو سراہتی ہوں،ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات پاکستان میں ہونے والی سازش سے شروع کی جائیں، کئی افراد نے ارشد شریف کے قتل کی سازش بارے جاننے کا دعوی کیا ہے،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی رپورٹ اور نہ جے آئی ٹی رپورٹ فراہم کی گئی،سپریم کورٹ جے آئی ٹی سربراہ کو پانچ افراد کو تحقیقات میں شامل کرنے کا حکم دے، سپریم کورٹ جے ائی ٹی کی رپورٹس فراہم کرنے کا حکم دے،

    ارشد شریف قتل کیس میں اسپیشل جے آئی ٹی رپورٹ مسترد

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے، ارشد شریف قتل کیس پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا،،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • پاکستان میں تمام شہریوں کو بنیادی حقوق دستیاب ہیں،ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان میں تمام شہریوں کو بنیادی حقوق دستیاب ہیں،ترجمان دفتر خارجہ

    دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز بلوچ نے ہفتہ وار بریفنگ دی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان آئین اور قانون کے مطابق چلنے والا ملک ہے پاکستان میں تمام شہریوں کو بنیادی حقوق دستیاب ہیں پاکستان تمام مقامی قوانین اور بین الاقوامی کمٹمنٹس پوری کررہا ہے ،پاکستان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بے بنیاد ہیں

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز بلوچ کا کہنا تھا کہ نو مئی کو ہنگامہ آرائی کیس میں مبینہ ملوث خدیجہ شاہ کی دوہری شہریت کی وجہ سے امریکی سفارتخانے نے قونصلر رسائی کی درخواست کی جو وزارت داخلہ کو بھجوا دی گئی ہے. نو مئی کے واقعات میں ملوث کرداروں کے ساتھ آئین اورقانون کے مطابق سلوک کیا جا رہا ہے،

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے عراق میں سرکاری حکام، بزنس کمیونٹی سے ملاقات اور زیارات کا بھی دورہ کیا پاکستان نے عراق میں امن کی بحالی کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی وزیر خارجہ نے نجف سے آیت اللہ بشیر حسین نجفی سے بھی ملاقات کی انہوں نے عراق میں بحالی و تعمیرنو میں پاکستانی حمایت کا اعلان کیا

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے عراق میں پاکستانی سفارت خانے کی نئی عمارت کا افتتاح کیا وزیر مملکت حنا ربانی کھرناروے, سویڈن, ڈنمارک اوربلجئیم کے دورے پر ہیں چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی روسی فیڈیشن کے دورے پر ہیں چیئرمین سینٹ نے اعلی روسی حکام اور دوما کے چئیرمین سے بھی ملاقاتیں کیں، انہوں نے وہاں ایک تقریب سے بھی خطاب کیا

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

     10 مئی کو عمران خان پر فرد جرم عائد کی جائے گی،

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی،

    حکومت نے قانون پر نظرثانی کیلئے وقت مانگ لیا ،عدالتی عملے نے کمرہ عدالت میں آ کر آگاہ کر دیا ، عدالتی عملے نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے مطابق بجٹ اجلاس کی وجہ سے قانون پر نظرثانی میں وقت لگے گا، آج جسٹس شاہد وحید طبیعت ناسازی کی وجہ سے دستیاب نہیں تھے بینچ نامکمل ہونے کی وجہ سے کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی،کمرہ عدالت میں سات کرسیاں لگا دی گئی تھیں، تا ہم جج کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے سماعت نہیں ہو سکی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دینے سے متعلق درخواست دائر کی گئی ہے ،سابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ سے آرٹیکل 3/183 اختیارات کے ریگولیٹ کا قانون کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ،دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور عوام کے بنیادی حقوق کو سنگین خطرہ ہے، سیاسی لیڈر شپ کے اسمبلی کے اندر، باہر بیانات 3 رکنی بینچ کیلئے دھمکیوں کے مترادف ہیں۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا جائے، پارلیمنٹ کے قانون کو غیر آئینی قرار دیکر کالعدم کر دیا جائے۔

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

     چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا

    واضح رہے کہ حکومت کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر سمجھوتے سے انکار ،عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا، سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحاتی بل پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا تھا ،عدالت عظمی نے ایکٹ کو بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا، عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ صدر مملکت ایکٹ پر دستخط کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا،