Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • حکمرانوں کے پاس کچھ اختیار نہیں ان کے پاس کیا بیٹھوں؟ عمران خان

    حکمرانوں کے پاس کچھ اختیار نہیں ان کے پاس کیا بیٹھوں؟ عمران خان

    سابق وزیراعظم عمران خان کی عدالت منتقلی کی درخواست منظورکر لی گئی

    کمشنر آفس اسلام آباد نے سابق وزیراعظم کی درخواست منظور کرلی ، جاری نوٹفکیشن کے مطابق جوڈیشل کمپلیکس کو ضمانتوں کی درخواست لیے ضلعی کچہری کا درجہ دیا جاتا ہے، جوڈیشل کمپلیکس کو آج ضلعی کچہری کا درجہ دیا جاتا ہے، سابق وزیراعظم کے 7 مقدمات کی درخواستِ ضمانت پر سماعت جوڈیشل کمپلیکس میں ہوگی

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،سیشن کورٹ ایک روز کے لیے جوڈیشل کمپلیکس منتقلی کی درخواست پر سماعت ہوئی ،چیف جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کر کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ از خود عدالت منتقل نہیں کر سکتی، یہ کرنا چیف کمشنر نے ہی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر گوہر عدالت میں پیش ہوئے، وکیل نے کہا کہ ایف ایٹ سے متعلقہ کورٹ جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرنی ہے،چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ کیا آپ نے اس متعلق چیف کمشنر کو درخواست دی ہے؟ بیرسٹر گوہرنے کہا کہ وقت کم تھا ہم چیف کمشنر کو درخواست نہیں دے سکے، ہم نے درخواست دی تو یہ نا ہو وہ عدالت کی منتقلی نا کریں ،چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ عدالت کہہ دیتی ہے وہ کر دیں گے ، عمران خان کے وکلا آج چیف کمشنر کو درخواست دیں گے ، چیف کمشنر اس حوالے سے درخواست پر فیصلہ کریں گے ، ابھی یہ درخواست نمٹا رہے ہیں ،آپ کی درخواست پر آپ کے خلاف فیصلہ آئے تو دوبارہ درخواست دائر کر سکتے ہیں ،

    سابق وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں سے عدالت پیشی کے موقع پر غیر رسمی گفتگو کی ہے، عمران خان سے سوال کیا گیا کہ ن لیگ نے واضح کیا کہ مزکرات وزیراعظم شہباز شریف سے ہونگے آپ کیوں اسٹیبلشمنٹ کو بیچ میں لاتے ہیں. عمران خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اصل طاقت اور فیصلہ ساز تو اسٹیبلشمنٹ ہے نا ،سوال کیا گیا کہ آصف علی زرداری نے تو کہا تھا کہ اکانومی کے چارٹر پر ملکر بیٹھنا ہو گا.عمران خان نے کہا کہ ان حکمرانوں کے پاس کچھ اختیار نہیں ان کے پاس کیا بیٹھوں، سوال کیا گیا کہ سیاستدانوں نے خود مل کر ہی تو جمہوری دستاویزات پر دستخط کئے آپ کیوں نہیں بات کرنا پسند کرتے. جس پر عمران خان نے کہاکہ فیصلہ ساز تو وہ ہیں نا ان کے ساتھ بیٹھنے کا فائدہ نہیں.

    کیس کی سماعت ختم ہونے کے باوجود سابق وزیراعظم عمران خان چیف جسٹس کے کمرہ عدالت میں موجود رہے، سابق وزیراعظم نے کمرہ عدالت میں خاتون وکیل سے گفتگو کی، خاتون وکیل نے کہا کہ خان صاحب مسکرائیں، آپکی مسکراہٹ ہی ہمارے لئے امید ہے، سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کیا آپکو لگ رہا ہے کہ میں کسی پریشر میں ہوں، قرضوں پر سود فیڈرل بجٹ سے زیادہ ہے بجٹ کی فگرز میچ نہیں کر رہی ،سوال کیا گیا کہ کیا آپ پر کوئی پریشر ہے، عمران خان نے جواب دیا کہ انہوں نے جو بجٹ دیا ہے اس کو آگے کون چلائے گا قرضوں پر سود وفاقی بجٹ سے زیادہ ہے ان کے پاس کوئی حل نہیں ہے ملک کی آمدنی بڑھانے کے علاؤہ کوئی حل نہیں مل کا دیوالیہ نکل گیا انڈسٹری تباہ ہوگئی ہے ایکسپورٹس 13 فیصد نیچے گر گئی ہےڈالر کم ہوگئے ہیں جو طاقتیں بیٹھی ہیں ان سے پوچھتا ہوں ٹھیک ہے آپ نے مجھے باہر کردیا لیکن کیا یہ حل ہے؟؟ملک کو کون اس دلدل سے نکالے گا ؟؟ آگے ان کا پلان کیا ہے؟؟؟ میری بہن کے اوپر 6 ارب روپے کی زمین کا الزام ہے، میں چیلنج کرتا ہوں کہ صحافی وہاں جا کر خود دیکھیں اور اس کی قیمت کا تخمینہ لگائیں میں ان کو کہتا ہوں کہ ہم انہیں 5 ارب کی بیچ دیتے ہیں،

    دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی نے آج ایک دن عدالت جوڈیشل منتقلی کی درخواست دے دی ،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر گوہر نے درخواست دائر کی ،چیف کمشنر اسلام آباد کو درخواست دی گئی جس میں کہا گیا کہ سیشن کورٹ کو آج ایک دن کے لیے جوڈیشل کمپلیکس منتقل کیا جائے ، 9 مقدمات میں ضمانت کی درخواست دائر کرنی ہے ایف ایٹ کچہری میں سیکورٹی تھریٹ ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست چیف کمشنر کو دینے کی ہدایت کی ہے ،آج ایک دن کے لئے سیشن کورٹ کو جوڈیشنل کمپلیکس منتقل کیا جائے

    عمران خان نااہل ہو کر باہر جائیں گے؟

    موجودہ حکومت نے مشکلات کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا

    یہ بجٹ سود خوروں کا ہے، عوام کیلئے کوئی ریلیف نہیں. سینیٹر مشتاق احمد

    وفاقی بجٹ میں 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد. چیئرمین ایف بی آر

    سرکاری ملازمین کی پنشن ،تنخواہ،اجرت میں اضافہ،پی ڈی ایم کا دوسرا بجٹ اسمبلی میں پیش

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

    تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کا تہلکہ خیز انٹرویو

  • پاکستانیوں کے پاس اندھا پیسہ، پرتگال میں مبشر لقمان نے کیا دیکھا؟

    پاکستانیوں کے پاس اندھا پیسہ، پرتگال میں مبشر لقمان نے کیا دیکھا؟

    پاکستانیوں کے پاس اندھا پیسہ، پرتگال میں مبشر لقمان نے کیا دیکھا؟

    سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب ولاگ میں کہا کہ میں اس وقت پرتگال کے ایک چھوٹے سے شہر کے بیچ پر کھڑا ہوں، جو انتہائی حسین ترین جگہ ہے جبکہ جہاں کی ہوا آلودگی سے پاک اور صاف ستھری ہے اور یہ صحت کیلئے بہت ہی مفید ہے علاوہ ازیں انہوں نے کہا اس خوب صورت علاقے کیلئے تقریبا سوا تین لاکھ پاکستانیوں نے اس ملک کے گولڈ ن ویزا کیلئے اپلائی کیا ہے. ان کا مزید کہنا تھا کہ گولڈن ویزا ان کی ایک اسکیم ہےجو بہت تھوڑے عرصے کیلئے ہے اور پھر بند ہوجائے گی لیکن اب اس اسکیم کے تحت آپ کو ساڑھے تین لاکھ یورو میں ادھر کی رہائش مل جاتی ہے.

    سینئر اینکر پرسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپلائی کرنے والے فرد کو رہائشی کارڈ مل جاتا ہے جس کے بعد معمولی سا پرتگالی زبان کا ایک امتحان ہے جس سے گزر کر دنیا کے پہلے پانچ پاسپورٹ میں سے ایک مل جاتا ہے، مبشر لقمان نے دعویٰ‌کیا کہ ایک حساب کے مطابق تقریبا تین بلین یورو پاکستانیوں نے بھیجے ہیں جبکہ اپنے ملک ہمارے پاس بجٹ میں کوئی پیسہ نہیں اور حکومت کے پاس صرف تین بلین ڈالرز موجود ہیں، لیکن یہاں پرتگال میں ہمارے پاکستانی اس سے زیادہ پیسے لاچکے ہیں جن میں سیاستدان، میڈیا ٹائیکون، کاروباری شخصیت اور اعلیٰ سرکاری سابق ملازمین بھی ہیں جن کے نام بہت جلد مبشر لقمان یوٹیوب چینل پر لائے جائیں گے.


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بجٹ کا پیسہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کی نذر ہوجاتا ہے. کیماڑی جلسہ عام سے خطاب
    پاکستان، ایران اورترکیہ کے مابین ریل روڈ نیٹ ورک کا منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ وزیر اعظم
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی

    مبشر لقمان کے مطابق یہ ملک یورپ کے ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں کے لوگوں میں تیزیاں نہیں جبکہ وہ آپ کی کسی بھی بات کو مان لیں گے حتکہ آپ انہیں کہہ دیں کہ میں بہاول پور کا راجا ہوں تو وہ من و عن مان لیں‌گے کیونکہ انہیں کوئی سروکار نہیں اور پھر وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی کیوں ہم سے جھوٹ بولے گا، اس موقع پر مبشر لقمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان سے بڑی خبریں آرہی ہیں جس شخص کو بڑا ناز تھا اس کے پاس جادو کی دیوی ہے اور وہ کچھ بھی کرسکتی ہے اب حالت یہ ہے کہ عمران خان منتیں کررہا ہے کہ کسی طرح آرمی چیف مجھ سے مل لے.

    مبشر لقمان نے عمران‌ خان کو یاد دلایا کہ جب آپ موصوف حکومت میں تھے تو بڑی تنقید کرتے تھے کہ حزب اختلاف کا کیا کام یہ لوگ آرمی چیف سے ملاقات کریں، یا پھر کسی سفیر وٍغیرہ سے لیکن اب ان منافقین کی ہر بات اور قول و فیل میں تضاد نظر آرہا ہے سینئر اینکر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے درمیان لڑائی بھی ہوئی ہے جس میں آخری جھگڑے میں انہوں نے ایک طعنہ دیا کہ تم ڈیل کرکے جمائمہ کے پاس جاؤ.

    فرح گوگی کے حوالے سے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ان کیلئے بھی کافی مشکلات ہیں اور انہیں دبئی کی حکومت نے بھی بلا کر کافی پوچھ گھچ کی ہے کہ کدھر سے یہ سارا مال آیا ہے کیونکہ اب دبئی کا نام بھی فیٹف میں آیا ہوا کیونکہ ان کے پاس جب کوئی غیر دستاویزی رقم جاتی ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا تو پھر اس پر پوچھ گھچ یا تفتیش شروع ہوجاتی ہے.

  • پی ٹی آئی کے چار سالہ دورمیں ترقی کو ختم کیا گیا. وزیر اعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ عام انتخابات میں تصفیہ پر پہنچنے کی کوشش کی اور پی ٹی آئی کے ساتھ رائے ہو گیا تھا لیکن عمران خان نے ویٹو کر دیا، الیکشن کے انعقاد کا سوال توقعات نہیں بلکہ آئینی تقاضا ہے، انتخابات کا بروقت انعقاد ہونا چاہئے یہ جمہوریت کی مضبوطی کیلئے ضروری ہے تاہم یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے اور ہم اس کی پابندی کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے ترک میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا، اس انٹرویو کے دوران پاک ترک اور بھارت کے ساتھ تعلقات ، ملکی اقتصادی بحران سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    انٹرویو کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان کو ایک بار پھر زبردست کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، انہوں نے کسی شک و شبہ کے بغیر ثابت کیا ہے کہ وہ ایک زبردست مقابلہ کرنے والی شخصیت ہیں، وہ ایک عظیم سیاستدان اور رہنما ہیں، ترکیہ کی عوام نے ان پر غیرمتزلزل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔عوام، میری حکومت اور مجھ سمیت ہم سب بہت خوش اور اس شاندار کامیابی پر اللہ تعالیٰ کے شکرگزار ہیں، میں اپنے بھائی رجب طیب اردوان کے ساتھ بہت قربت سے مل کر کام کرنے کا متمنی ہوں تاکہ ہم اپنے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط اور تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی روابط میں اضافہ کریں۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی اتفاق کرچکے ہیں کہ آنے والے تین سالوں میں ہم اپنی باہمی تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کی کوشش کریں گے، یہ کوئی مشکل ہدف نہیں ہے، ہمیں امید ہے کہ ہم مل کر یہ ہدف حاصل کرلیں گے۔ ترکیہ اور پاکستان دو برادر ملک ہیں، یہ یک جان دوقالب کی مانند ہیں جن کے تعلقات کی تاریخ صدیوں پرانی ہے، ترکیہ کی جنگ آزادی سے اس سے بہت پہلے سے ان تعلقات کی تاریخ ہے، ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، ترکیہ امن، سیلاب، زلزلہ سمیت ہر مشکل وقت میں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے، صدر طیب اردوان، ان کی حکومت اور ترکیہ کی عوام نے ہمیشہ آگے بڑھ کر پاکستان کی مدد کی ہے۔ اس طرح پاکستانی عوام اور ہر حکومت ترکیہ کے ساتھ تعلقات کے حوالہ سے ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ سفر ہے جسے ہم نے اختیار کیا ہے اور مجھے امید ہے کہ ہم محنت اور مقصد سے وابستگی کے ساتھ مل کر اپنی خواہشات کہ پایئہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپنا باہمی تجارتی حجم بڑھائیں گے، ہم شمسی توانائی کے شعبہ میں ترک سرمایہ کاروں کے تعاون کے خواہشمند ہیں کیونکہ ترکیہ شمسی توانائی کا زبردست تجربہ رکھتا ہے، ہم ترک سرمایہ کاروں کو پن بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کیلئے بھی دعوت دیں گے۔ ترکیہ نے نہ صرف اپنے ملک بلکہ دنیا بھر میں پن بجلی کے منصوبے مکمل کئے ہیں، دیامر بھاشا جیسے منصوبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے بہت مواقع ہیں، ترک سرمایہ کاروں سے اس پر بات ہوئی اور انہوں نے اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ترک سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کی ہرممکن کوشش کریں گے تاکہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔ پاکستان اورترکیہ میں اساتذہ، طلبا اور تاریخ دانوں کے وفود کے تبادلے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے دعوت دی باہمی تعلقات کے اس زبردست سفر سے آگاہی کیلئے سیمیناروں کا انعقاد کریں، اس حوالہ سے ہماری خواہشات اور مقاصد کی تکمیل صدر طیب اردوان کے موجودہ دور میں ہوگی، طیب اردوان ایک دوراندیش اور صاحب بصیرت رہنما ہیں جن کا بڑا احترام ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا تعلق برادرانہ ہے اور ہر اچھے برے وقت میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ صدر اردوان کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کیلئے پاکستانی آموں کا تحفہ لایا، پاکستان کے سندھڑی آم بہت مشہور ہیں۔ پاکستان، ایران اورترکیہ کے مابین ریل روڈ نیٹ ورک کا منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس نیٹ ورک میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ اس سے سفری لاگت میں کمی آئے گی۔ ہماری پیداوار اور مصنوعات کو ان منڈیوں میں مقابلے کا موقع ملے گا اور وہ اس سے مستفید ہوسکیں گے۔ میرا مقصد ہوگا کہ اس ریل نیٹ ورک کو جدید ترین اور بہترین کارکردگی کا حامل بنایا جائے۔ پاکستان کی افرادی قوت زیادہ مہارت اور سستی ہونے کی وجہ سے دونوں ملکوں کیلئے فائدہ مند ہے۔ اگر ترکیہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرے اور پاکستانی سرمایہ کار ترکیہ میں سرمایہ کاری کریں، ترکیہ کی ٹیکنالوجی اور پاکستان کی افرادی قوت میسر ہو تو یہ ایک زبردست مجموعہ ہوگا جس سے ہم زیادہ قیمتی اشیاء مقابلتا انتہائی بہتر قیمت پر تیار کرسکیں گے۔ اس سے ہمارے باہمی تعاون اور باہمی منصوبوں میں مواقع کا ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ آگے بڑھنے کا راستہ یہی ہے، پاکستان اگرچہ مشکل چیلنجوں سے گزر رہا ہے، بین الاقوامی منڈیوں میں اشیائے خورددونوش کی قیمتیں آسمانوں کو پہنچ گئیں، درآمدی اشیا مہنگی ہوگئی ہیں، ہمیں گزشتہ برس بدترین سیلابوں کا سامنا رہا جو ہماری تاریخ کے سب سے زیادہ تباہ کن تھے، 3 کروڑ 30 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے، ہماری فصلیں تباہ ہوئیں، ہمارا انفراسٹرکچر تباہ اور 30 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، اس کے باوجود ہماری قوم ہمہ گیر صلاحیتوں کی حامل، مضبوط اور بہادر ہے، اس لئے ہم ان چیلنجوں کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ہماری ہر طرح سے یہ کوشش ہے کہ چیلنجوں سے نمٹیں۔ سخت محنت اور باہمی تعاون سے ہم قابل فخر انداز میں لگن کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ پاکستان اور ترکیہ قریبی دفاعی تعلقات کے حامل ہیں، دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبہ میں دونوں ممالک کے درمیان اب تک بہت سے دفاعی معاہدے ہوئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مضبوط تذویراتی شراکتداری قائم ہے، پاکستان ترکیہ کی بحری جہاز بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبہ کا حصہ بن چکا ہے، اس پر ترکیہ میں کام ہو رہا اور کچھ حصہ کراچی شپ یارڈ پاکستان میں پایہ تکمیل کو پہنچ رہا ہے، یہ باہمی اشتراک کی ایک زبردست مثال ہے۔ اسی طرح دیگر شعبوں میں بھی دونوں ملکوں کے مفاد میں ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پاکستان کیلئے بہت اہمیت کی حامل ہے، ترکیہ نے کشمیر کاز پر ہمیشہ پاکستان کی غیرمشروط حمایت کی ہے جس کیلئے ہم ان کے مشکور ہیں۔ کشمیری بہت مشکل وقت سے گزر رہے ہیں، بھارتی مظالم سے پوری دنیا آگاہ ہے اور کشمیری عوام کی قربانیوں سے بھی پوری دنیا آگاہ ہے اس کے باوجود بھارت ضد پر اڑا ہوا ہے، بھارت کا کشمیریوں کا زیرتسلط رکھنے کا طرزعمل بہت بڑا منفی پہلو ہے، دنیا کو سمجھنا چاہئے کہ جس طرح شمالی آئرلینڈ کا مسئلہ حل کیا گیا تھا، جس طرح سوڈان، بلقان کے مسائل حل کئے گئے اسی طرح وقت آگیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ کشمیریوں کی خواہشات مزید تاخیر بغیر پوری ہوں، بصورت دیگر ہمارے خطے میں امن قائم نہیں ہوسکے گا۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کو اپنے لوگوں کو تعلیم، خوراک ، روزگار مہیا کرنے اور جہالت اور غربت کا خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے محدود وسائل کو ان شعبوں میں استعمال میں لانے کی ضرورت ہے، ہمیں مزید اسلحہ اور جنگی جہاز خریدنے سے فائدہ نہیں ہوگا، تنازعات کے حل کا واحد راستہ پرامن مذاکرات ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف نے پاکستان میں اتحادی حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ تباہ کن سیلابوں سے نمٹنے کیلئے بھرپور کاوشیں کی ہیں، عالمی برادری کو متحد کیا اور جینوا میں کامیاب ڈونر کانفرنس کا انعقاد کیا، جہاں دوست ممالک اورعالمی برادری نے امداد کے وعدے کئے، اتحادی حکومت نے پاکستان کو ڈیفالٹ کے سنگین خطرے سے بچایا۔گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کی پاسداری نہیں کی اس کے نتیجہ میں پاکستان کو سنگین معاشی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، ہم نے فیٹف کی گرے لسٹ سے پاکستان کو نکالا جس کا کریڈٹ مشترکہ طور پر حکومت اور فوجی قیادت کو جاتا ہے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ان مشکلات کے باوجود ہم اپنی معیشت کی بہتری پر توجہ دے سکے ہیں، ہمارے ٹھوس اقدامات کی وجہ سے اس سال گندم کی ریکارڈ فصل ہوئی، اس سے گندم کی درآمد میں صرف ہونے والے اربوں ڈالر کی بچت ہوگی، ہمیں امید ہے کہ اس جیسے بہت سے اچھے اقدامات کی وجہ سے ہماری کپاس کی فصل بھی بہت اچھی ہوگی۔ پاکستان ٹیکسٹائل کی صنعت کا مرکز ہے، گزشتہ سالوں میں ہمیں کپاس درآمد کرنا پڑتی تھی مجھے امید ہے کہ اس سال ہم اپنی طلب کا ایک بڑا حصہ اپنی مقامی پیداوار سے پورا کر سکیں گے، ہمیں ان اقدامات پر فخر ہے لیکن ابھی ہم نے طویل سفر طے کرنا ہے، ہم نے ابھی آئی ایم ایف کے ساتھ نویں جائزہ کی تکمیل کرنا ہے، ہماری طرف سے تمام شرائط اور مطالبات پورے کردیئے گئے ہیں، امید ہے کہ جلد یا بدیر آئی ایم ایف بورڈ نویں جائزہ کی منظوری دیدے گا۔ اس طرح معیشت کو مستحکم بنانے کیلئے ہمارا کثیرجہتی اور دو طرفہ اداروں کے ساتھ مذاکرات کا راستہ ہموار ہوجائے گا۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ قومی اسمبلی کی مدت 13 اگست کو مکمل ہو رہی ہے لیکن بغیر کسی ٹھوس وجوہات کے پی ٹی آئی قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کیلئے دبائو ڈال رہی تھی اگر انہیں قومی اسمبلی کی تحلیل میں اتنی دلچسپی تھی تو انہوں نے اپنی مدت کے دوران ایسا کیوں نہیں کیا۔ ان کے پاس موقع موجود تھا، پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دی تاکہ ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کیلئے پرامن تصفیہ پر پہنچ سکیں کیونکہ پی ٹی آئی نے دو صوبائی اسمبلیاں تحلیل کردی تھیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن ہوئے ہیں، اب انہوں نے دو اسمبلیاں تحلیل کیں، پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور ماضی میں کچھ عناصر کی جانب سے یہ بے بنیاد الزام تراشی ہوتی رہی کہ پنجاب نے اقتدار پر اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ پنجاب کا دیگر تینوں صوبوں کے ساتھ برابری کا تعلق ہے، ہم ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں، یہ ہماری اقدار ہیں ،اگر ہم نے ایک خاندان کی طرح آگے بڑھنا ہے تو ہم سب نے مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہے اور نفع نقصان میں حصہ دار بننا ہے، اگر پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات کرانے ہیں تو آنے والے وقتوں میں ایک نظیر قائم ہوجاتی کہ سب سے پہلے بڑے صوبے میں اور دیگر صوبوں میں بعد میں انتخابات ہوتے تو ایک سنجیدہ عنصر وقت پر فیصلہ کرنے والے ووٹر کا ہے، اگر وہ دیکھتے ہیں کہ پنجاب میں ایک خاص پارٹی کامیاب ہوئی ہے تو اس کے دوسرے صوبوں میں قدرتی اثرات ہوں گے جو ناانصافی اور جمہوری اقدار کے برعکس ہے، ہم نے عام انتخابات کے حوالے سے کسی تصفیہ پر پہنچنے کی بھرپور کوشش کی، ہماری اور تحریک انصاف کی کمیٹی میں اتفاق رائے بھی ہوگیا تھا لیکن پی ٹی آئی چیئرمین نے اسے ویٹو کردیا۔ عام انتخابات کے انعقاد کا سوال توقعات کا نہیں بلکہ آئینی تقاضا ہے، انتخابات کا بروقت انعقاد ہونا چاہئے یہ جمہوریت کی مضبوطی کیلئے ضروری ہے تاہم یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے اور ہم اس کی پابندی کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ 9 مئی کو تحریک انصاف کے چیئرمین کو کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کے اقدامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔

    انہوں نے اپنے چار سالہ اقتدار میں نوازشریف سے لے کر پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں تک کو بے بنیاد الزامات کے تحت ساری اپوزیشن کو جیلوں میں ڈالا، لیکن تشدد کا کوئی واقعہ نہیں ہوا، کوئی احتجاج نہیں ہوا، ہم نے مہذب انداز میں پارلیمنٹ میں اس پر آواز اٹھائی لیکن عمران خان کی گرفتاری پر ان کی ہدایت پر شرپسند جتھوں نے ملک کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جن میں فوجی تنصیبات بھی شامل تھیں۔ 6 جنوری 2021 کو اس کو کیپیٹل ہل میں جو ہوا، ان حملہ آوروں کو قانون کے مطابق عدالتوں کی طرف سے سزائیں دی جارہی ہیں۔ کیا پاکستان میں ایسے عناصر کے خلاف کوئی الگ سلسلہ ہونا چاہئے اگر ایک سنگین جرم ہوا ہے تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔


    جبکہ دوسری وزیر اعظم شہباز شریف نے قازقستان کے جنگلات میں لگی آگ سے ہونے والی 14 ہلاکتوں پر اظہار افسوس کیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے قازقستان کے جنگلات میں لگی آگ سے ہونے والی 14 ہلاکتوں پر اظہار افسوس کیا ہے۔اپنی ٹوئٹ میں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قازقستان کے جنگلات میں آگ لگنے سے 14 افراد کی ہلاکت پر دکھ ہوا ہے۔ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اورعوام کی طرف سے قازقستان کے صدر اور ہلاک شدگان کے اہلخانہ کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔


    اپنی ٹوئٹ میں وزیراعظم نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے بھی دعاکی۔ خیال رہے کہ قازقستان کے شمال مشرقی علاقے میں جنگلات میں خطرناک آتشزدگی کے باعث 14 افراد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہو گئے ہیں۔ قازقستان کے محکمہ دفاع کے مطابق علاقے میں پھنسے لوگوں کو ریسکیو کرنے اور آتشزدگی پر کنٹرول کرنے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔

  • غلط مشورے دینے والے پارٹی چھوڑ رہے،رہنما تحریک انصاف شفقت محمود کا تہلکہ خیز انٹرویو

    غلط مشورے دینے والے پارٹی چھوڑ رہے،رہنما تحریک انصاف شفقت محمود کا تہلکہ خیز انٹرویو

    سانحہ نو مئی کے بعد تحریک انصاف نہ چھوڑنے، گرفتار نہ ہونے والے تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کا کہنا ہے کہ موجودہ تمام مسائل کا حل قومی ڈائیلاگ میں ہے، پارٹی چھوڑنے والوں کی جگہ نئے لوگوں کو ٹکٹ دیں گے، انتخابی مہم سوشل میڈیا پر زیادہ موثر ہوتی ہے جہانگیر ترین بیٹے کو نہیں جتوا سکے تھے غلط مشورے دینے والے پارٹی چھوڑ رہے ہیں الیکشن جب بھی ہوں گے لڑیں گے مسائل کے حل کے لیے عدلیہ ، مقتدر اداروں سمیت سب کو ملکر بیٹھنا پڑے گا، نو مئی کے واقعہ کے بعد ووٹ بینک پراثر پڑے گا مگر اتنا نہیں ، امریکہ میں لابنگ فرم ہائیر کرنے کے حوالہ سے کچھ نہیں جانتا البتہ بینظیر دور میں میں خود لابنگ کے کئے امریکا گیا تھا ،پسند نہ بھی ہوں تو سپریم کورٹ کے فیصلے ماننے ہوں گے ، قومی ڈائیلاگ کے بغیر کوئی آپشن نہیں ،
    تمام مسائل کا حل قومی ڈائیلاگ
    تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کا تہلکہ خیز انٹرویو

    تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر شفقت محمود نے باغی ٹی وی کے معروف پروگرام یاسمین کی بیٹھک میں باغی ٹی وی کی سینئر اینکر یاسمین آفتاب علی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین یہ کہتا ہے کہ اسمبلی کی مدت ختم ہو تو ساٹھ ہا نوے دن میں الیکشن ہونا چاہئے اس بات سے نہیں ہلنا چاہیے اگر آئین سے ہٹیں گے تو پھر کوئی قانون قاعدہ نہیں ہو گا بدقسمتی سے پنجاب اسمبلی تحلیل ہوئی اور اب تحریک انصاف کے بہت سے لوگ کہہ رہے ہوں گے کہ اسمبلی تحلیل نہیں ہونے چاہئے تھی وہاں الیکشن نہیں ہوئے ۔ آئین و قانون کے مطابق اکتوبر یا نومبر میں الیکشن ہونے چاہیے پھر پارٹی تیاری کرے گی ابھی تو حالات سب کے سامنے ہیں کافی مسائل ہیں ایک تیاری ہماری ہو گئی تھی پنجاب اسمبلی کے حوالہ سے اگرچہ اس میں کافی لوگ جھوڑ گئے اب دوسروں کو ٹکٹ دیں گے جو پارٹی کے ساتھ رہیں گے انکو ٹکٹ مل جائے گا باقی دیکھ لیں گے انتخابی مہم سوشل میڈیا کی وجہ سے زیادہ نہیں کرنا پڑے گی

    پارٹی چھوڑنے کی وجہ سے تحریک انصاف کے ووٹ بینک کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں شفقت محمود کا کہنا تھا کہ یہ کہنا غلط ہو کہ فرق نہیں پڑتا فرق پڑتا ہے لوگوں کا اپنا ووٹ بینک ہے اس سے فرق پڑتا ہے جو الیکشن لڑتے ہیں انکو الیکشن آرگنائز کرنے کا پتہ ہے سیاسی پارٹی کا عوام میں ووٹ بینک وہ مین چیز ہوتی ہے آخری سروے تک ووٹ بینک قائم ہے جو جائیں گے انکی جگہ اور آ جائیں گے کوئی جاتا ہے تو نئے لوگ آئین گے آخری مصدقہ سروے میں تحریک انصاف کی مقبولیت قائم ہے نو مئی کے واقعات کے بعد ووٹ بینک میں کچھ فرق پڑے گا زیادہ نہیں ،ہو سکتا ہے کچھ لوگوں کے جانے کی وجہ سے بہتری ہو جائے غلط مشورے دینے والے بھی جا رہے ہیں

    ایک سوال کے جواب میں شفقت محمود کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کو دیکھ لیں سارا زور لگا کر بیٹے کو نہیں جتوا سکے عمران اسماعیل نے ایک الیکشن پی ٹی آئی ٹکٹ کی وجہ سے جیتا فواد چودھری عامر کیانی بھی، ترین سے جو ملے ان میں سے کسی کا ووٹ بینک نہیں۔ میڈیا سوشل میڈیا کی وجہ سے پارٹی کا ووٹ بڑھا ہے ۔ میں دو بار ایم این اے بنا پہلی بار الیکشن کا تجربہ نہیں تھا لیکن دوسری بار ٹرینڈ تھے۔

    تمام مسائل کا حل قومی ڈائیلاگ
    تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کا تہلکہ خیز انٹرویو

    امریکا کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے لابنگ فرم کے حوالہ سے یاسمین آفتاب علی کے ایک سوال کے جواب میں شفقت محمود کہتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے فرم ہائیر کرنے کا میرے علم میں نہیں کسی نے الگ انفرادی کیا ہو تو ہو سکتا ہے ۔ ایک وقت میں کہتے تھے اقتدار میں آنے کے لیے تین اے کا ہونا ضروری ہے۔اللہ ، امریکا اور آرمی ،جب یہی سوال دوبارہ کہا گیا تو شفقت محمود نے لابنگ فرم ہائیر کرنے کے حوالہ سے بے خبری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں پی ٹی آئی کو سپورٹ کرنے والوں نے کچھ کیا ہو تو علم نہیں جب پی پی میں تھا تو بینظیر نے مجھے لابنگ کے لیے امریکہ بھیجا تھا میں سینیٹر تھا اور گیا تھا یہ چیزیں ہمارے ملک تاریخ میں ہوتی ہیں شاید ہی کوئی جماعت ہو جس نے انٹرنیشنل لابنگ نہ کی ہو آئی ایم ایف ورلڈ بینک پر امریکہ کا بڑا اثر ہے

    ایک اور سوال کے جواب میں تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کا باغی ٹی وی سے گفتگو میں کہنا تھا کہ سیاست کے اندر ملکی بقا کے لیے بڑا ضروری ہے کہ قومی ڈائیلاگ ہو میں اس پر یقین رکھتا ہوں شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل نے بھی اسکا ذکر کیا تھا میں نے 2009 میں بھی قومی ڈائیلاگ کا کہا تھا ہمارے ملک کے مسائل اس طرح کے ہیں عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا میں کئی عہدوں پر رہا وزیر رہا ۔ سٹیٹ کی زمینوں پر لوگوں نے قبضے کیے ہوئے ہیں اس ملک کو ٹھیک کرنا ہے تو انصاف ضروری ہے اسوقت ڈیڈ لاک ہے سپریم کورٹ حکم دے اور حکومت نہ مانے تو یہ بھی ڈیڈ لاک ہے ۔ اگر ہم نے مستقبل کی طرف دیکھنا ہے تو معاشی مسائل حل کرنے ہوں گے مڈل کلاس لوگ سوچتے ہیں کہ فروٹ خریدنا ہے یا نہیں مٹن لینا ہے یا نہیں ۔ ہماری بدقسمتی ۔وہ قومیں بڑی بدقسمت ہوتی ہیں جسکو صحیح فیصلے نہ کرنے دیئے جائیں سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مانیں گے تو پھر نظام نہیں چلے گا۔ آج کچھ لوگوں کو فیصلے پسند نہیں آ رہے کل ہمیں نہیں آ رہے تھے کسی کو حق نہیں کہ فیصلے پر اعتراض کرے اگر قانون کے مطابق نہیں تو کمنٹ کر سکتے ہیں لیکن لاگو کرنا ہو گا سپریم کورٹ اندرونی معاملات کو خود دیکھتی ہے اگر پارلیمنٹ مداخلت کرنا شروع کر دے یا مینج کرنا شروع کر دے تو پھر کیا ہونا ہے۔۔

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    ایک اور سوال کے جواب میں شفقت محمود کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو کئی مواقع ملے ۔ اٹھارہویں ترمیم کی لیکن 62 63 کو نہیں چھیڑا مجھے کئی چیزیں ہیں جو پسند نہیں لیکن ہم نے کچھ نہیں چھیڑا ۔مسائل پاکستان کے اتنے ہو گئے ہیں سیاسی جماعتوں کو ہی نہیں مقتدر اداروں کو بھی بیٹھنا پڑے گا جب تک معاملات طے نہ ہوں اٹھنا نہیں چاہئے ہماری آبادی 25 کروڑ ہو چکی سوا دو کروڑ بچہ سکول سے باہر ہیں اسکا کیا حال ہو گا ۔ پانی کا مسئلہ ذراعت کے لیے پانی نہیں ہو گا موسمیاتی تبدیلی، بہت مسائل ہیں ایک گھنٹہ میں ایجوکیشن کے مسائل پر بات کر سکتا ہوں لیکن سوال یہ ہے کہ حل کرے گا کون۔ جب کرونا تھا تو ہم بین الصوبائی وزرا کانفرنس کو فعال کیا اور تمام صوبوں نے سکولوں امتحانات کے حوالہ سے مشترکہ فیصلے کیے ایک مثال ہے کہ ہم ملکر بھی فیصلے کر سکتے ہیں غربت کا مقابلہ کرنا ہے اگر غریب سیاستدانوں پر چڑھ دوڑے تو کیا ہو گا ضروری ہے کہ تمام مسائل کے حل کے لیے نیشنل ڈائیلاگ ہونا چاہئے

    تمام مسائل کا حل قومی ڈائیلاگ
    تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کا تہلکہ خیز انٹرویو

    پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹیل میڈیا نیٹ ورک باغی ٹی وی پر یاسمین کی بیٹھک پروگرام ہر ہفتہ اور اتوار کو صبح دس بجے نشر ہوتا ہے، سینئر اینکر وتجزیہ نگار یاسمین آفتاب علی پروگرام میں سماجی و معاشرتی مسائل، بین الاقوامی منظر نامے ، ملکی سیاسی اتار چڑھاو پر بات کرتی ہیں

    پاکستانیوں کے پاس اندھا پیسہ، پرتگال میں مبشر لقمان نے کیا دیکھا؟

  • بنوں،لکی مروت:طوفانی بارش، آندھی،چھتیں اور دیواریں گرنے سے 23 جاں بحق،150 زخمی

    بنوں،لکی مروت:طوفانی بارش، آندھی،چھتیں اور دیواریں گرنے سے 23 جاں بحق،150 زخمی

    لکی مروت،بنوں،باغی ٹی وی (نمائندگان )طوفانی بارش،چھتیں اور دیواریں گرنے سے 23 جاں بحق،150 زخمی
    تفصیل کے مطابق بنوں ڈی ایچ کیوہسپتال ،خلیفہ گلنواز ہسپتال میں 18افراد جاں بحق ہوئے ہیں،جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں،جبکہ خلیفہ گلنواز اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں 96 افراد زخمی حالت میں لائے گئے ہیں ۔جن میں سے 11 معمولی زخمیوں کوفرسٹ ایڈ دیکر فارغ کر دیا گیا ۔جبکہ 84 افراد کا علاج کیا جا رہا ہے ۔دور دراز دیہاتوں سے زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔
    بنوں کے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے ۔انتظامات کی نگرانی ڈپٹی کمشنر منظور احمد آفریدی خود کر رہا ہے،جبکہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بھی ہسپتال میں موجود ہیں ،
    لکی مروت میں طوفانی بارش اور آندھی کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 5 ہوگئی ہے،ہسپتال ذرائع کاکہناہے کہ مرنے والوں میں 4 بچے اور ایک خاتون شامل جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 55سے ذائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں ،اموات چھتیں اور دیواریں گرنے سے ہوئیں ہیں ،طوفان کی وجہ سے بجلی کا نظام درہم برہم ،درخت اور کھمبے گرنے سے کئی سڑکیں بند ،ریسکیو 1122 کا عملہ تاحال زخموں کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے میں مصروف ہے
    ڈپٹی کمشنر لکی مروت عبدالہادی بھی طوفانی بارش کے بعد تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچ گئے ہیں ، ڈپٹی کمشنر جا سرائے نورنگ ہسپتال میں خراب ایکسرے مشین پر برہمی کا اظہار،لواحقین کاکہنا ہے کہ طوفان کی وجہ سے زخمی ہونے والوں کو ایکسرے میں شدید مشکلات کا سامنا۔

  • سندھ کا 2 کھرب اور 244 ارب روپے کا بجٹ اسمبلی میں پیش

    سندھ کا 2 کھرب اور 244 ارب روپے کا بجٹ اسمبلی میں پیش

    وزیراعلٰی سندھ مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں بجٹ تقریرکرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی میں59واں بجٹ پیش کررہا ہوں، سیلاب کے باوجود سندھ کا اچھا بجٹ پیش کر رہے ہیں

    وزیراعلٰی سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں 1 سے 16 گریڈ ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد اضافے اور 17 سے 22 گریڈ کے ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافہ کی تجویز کردی ،امن و امان کیلئے گزشتہ سال 124.87 ارب روپے بجٹ میں مزید15 فیصد اضافہ کیا ہے،آئندہ مالی سال میں امن و امان کیلئے 143.568 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،امن و امان کی اسٹریٹیجکلی بہتری کیلئے 15.5 ملین روپے پرائزن پالیسی اینڈ مینجمنٹ بورڈ کیلئے رکھے ہیں،محکمہ جیل خانہ جات کے عملے میں اضافے کیلئے ہم نے 463.414 ملین روپے مختص کئے ہیں، سندھ پولیس کی بہتری کیلئے 2.796 ارب روپے ملٹری گریڈ ہتھیاروں کی خریداری کیلئے رکھے ہیں، سندھ پولیس کی گاڑیوں کی خریداری کی مد میں 3.569 ارب روپے رکھے گئے ہیں،محکمہ پولیس کیلئے 846.608 ملین روپے اسپشل برانچ کیلئے مختص کئے گئے ہیں،

    وزیراعلٰی سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی معیشت بھی سست روی کا شکار تھی حکومت کی کوشش ہے موسمیاتی تبدیلی سے پیدا شدہ صورتحال پرقابو پایا جائے، گزشتہ 5سال بہت سے کرائسزکا سامنا کیا، کورونا، سیلاب سمیت دیگر چیلنجز کا سامنا رہا 4.4 ملین ایکڑزمین سیلاب کے باعث ڈوب گئی تھی، سیلاب کے باعث5.5 ملین گھروں کو نقصان پہنچا صحت کیلئے 20 ارب روپے رکھے گئے ہیں، سندھ کا 2 کھرب اور 244 ارب روپے کا بجٹ ہے

    عمران خان نااہل ہو کر باہر جائیں گے؟

    موجودہ حکومت نے مشکلات کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا

    یہ بجٹ سود خوروں کا ہے، عوام کیلئے کوئی ریلیف نہیں. سینیٹر مشتاق احمد

    وفاقی بجٹ میں 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد. چیئرمین ایف بی آر

    سرکاری ملازمین کی پنشن ،تنخواہ،اجرت میں اضافہ،پی ڈی ایم کا دوسرا بجٹ اسمبلی میں پیش

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

    قبل ازیں سندھ کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا اجلاس میں سندھ کا نئے مالی سال کا فنانس بل پیش کیا گیا جس کی سندھ کابینہ نے باضابطہ طور پر منظوری دے دی کابینہ نے گریڈ ایک سے سولہ تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد تک، 17 گریڈ سے 22 گریڈ تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد تک اور پنشن کی مد میں 17 فیصد اضافے کی منظوری دے دی کابینہ اجلاس کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گیارہوں بار سندھ کا بجٹ پیش کیا، وزارت مالیات کا قلم دان انہوں ںے اپنے پاس ہی رکھا ہے۔ اجلاس میں پی ٹی آٗئی سندھ کے ارکان اسمبلی غیرحاضر رہے جب کہ ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی موجود ہیں

  • یوکرین روس تنازعہ میں نہیں پڑنا چاہتے،آئی ایم ایف سے رابطے میں ہیں،بلاول

    یوکرین روس تنازعہ میں نہیں پڑنا چاہتے،آئی ایم ایف سے رابطے میں ہیں،بلاول

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول زرداری نے کہا ہے کہ عراق اورپاکستان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں،دونوں ممالک کے درمیان تاریخی ،مذہبی اورثقافتی تعلقات ہیں،نجف اشرف نے جلد پاکستانی قونصل خانہ کھولیں گے،

    عالمی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عراق کے ساتھ معاشی،تجارتی شعبوں میں تعلقات کا فروغ چاہتے ہیں،پاکستان سمیت پوری دنیا موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہورہی ہے،پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہونے والا ملک ہے،موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کوبہت نقصان پہنچاہے،ہم افغان حکام سے رابطے میں ہیںافغان حکام سے دہشت گرد گروپوں کیخلاف سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا،آئی ایم ایف سے بھی رابطے میں ہیں،امید ہے جلد نیا پروگرام ہوگا،چین اورپاکستان کے تعلقاب دہائیوں پرمحیط ہیں،چین اورپاکستان کے درمیان اہم شراکت داری ہے،سی پیک منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کیلئے گیم چینجر ثابت ہوگا،روس سے دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ کے خواہاں ہیں،ہماری حکومت کا مقصد ہے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کریں ہم یوکرین روس تنازعہ میں نہیں پڑنا چاہتے اور اپنی نیوٹرلیٹی برقرار رکھنا چاہتے ہیں

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان کی تاریخ ہے اس نے ڈکٹیٹرز کو ہمیشہ سپورٹ کیا ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ عمران خان فوج کی سپورٹ کیساتھ ہی 2018 میں دھاندلی کرکے حکومت میں لائے گئے تھے۔عمران خان کا فوج کیساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اسے اب پہلے جیسا سپورٹ کیوں نہیں کرتے، چیئرمین پی ٹی آئی کے گزشتہ سال فوج سےتعلقات خراب ہوئے، جب اس وقت کے آرمی چیف نے سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا، چیئرمین تحریک انصاف کے حامیوں نے فوجی تنصیبات پر حملہ کیا،

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    بلاول بھٹو زرداری کی روضہ امام حسین آمد

  • آئندہ مالی سال میں مہنگائی کی شرح 21 فیصد رہے گی،  اسحاق ڈار

    آئندہ مالی سال میں مہنگائی کی شرح 21 فیصد رہے گی، اسحاق ڈار

    وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوسٹ بجٹ کا مقصد کوئی ابہام ہو تو اس کو دور کیا جائے،

    وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بجٹ پیش کرنے کے بعد ایف بی آر میں 2 کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں،چیئرمین آج منظوری لے لیں گے ،کمیٹیاں بن جائیں گی،ایک کمیٹی غلطیاں اور دوسری بزنس معاملات کو دیکھے گی، دونوں کمیٹیاں آج شام تک فائنل کردیں گے،جن سفارشات پر عمل ہوسکے گا ہم اس پر عملدرآمد کرینگے، بجٹ کو حتمی شکل دینے سے پہلے کاروباری طبقے کے تحفظات دور کریں گے ایف بی آر کے ریونیو کا ہدف 9200 ارب روپے ہے ،حکومت کے کل اخراجات 14 ہزار 400 ارب روپے ہیں پنشن کیلئے 761 ارب روپے رکھے گئے ہیں ،نجی شعبہ ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ،وفاقی خسارہ 5 ہزار 773 ارب روپے ہوا ہے ،پبلک پرائیویٹ سیکٹرکی مدد سے ترقی کا پہیہ چلے گا،ضم اضلاع کے لیے کل61 بلین روپے رکھے گئے ہیں، اگلے سال کا خام ریونیو 12 ہزار 163ارب روپے ہوگا وفاق کے مجموعی اخراجات 14 ہزار 463 ارب روپے ہیں،معیشت کامجموعی حجم 105 ٹریلین روپے ہے، 1150 ارب کے ترقیاتی بجٹ کی نئی بلند تاریخ رقم کی جارہی ہے،

    وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اوورسیز کو گھر خریدنے پر ٹیکس سے استشنی اور گولڈن کارڈ کی سہولت دی،آئی ٹی اور سائنس کیلئے 33 ارب روپے رکھے گئے ہیں، صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 1559 ارب روپے مختص کیا گیا ہے،غذائی قلت پر قابو پانے کیلئے فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے، آئندہ مالی سال مہنگائی کی شرح 21 فیصد رہے گی، نئے آئی ایم ایف پروگرام کا فیصلہ اگلی حکومت کرے گی سستی کھاد کیلئے 6 بلین کی سسبڈی رکھی ہے زرعی بیج پر ٹیکس ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے، زرعی مشینوں کی امپورٹ پر بھی ڈیوٹی ختم کردی،

    عمران خان نااہل ہو کر باہر جائیں گے؟

    موجودہ حکومت نے مشکلات کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا

    یہ بجٹ سود خوروں کا ہے، عوام کیلئے کوئی ریلیف نہیں. سینیٹر مشتاق احمد

    وفاقی بجٹ میں 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد. چیئرمین ایف بی آر

    سرکاری ملازمین کی پنشن ،تنخواہ،اجرت میں اضافہ،پی ڈی ایم کا دوسرا بجٹ اسمبلی میں پیش

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

  • شاہ محمود قریشی سانحہ 9 مئی کے حوالے سے بات کرنے سے گریزاں

    شاہ محمود قریشی سانحہ 9 مئی کے حوالے سے بات کرنے سے گریزاں

    انسداد دہشت گردی عدالت لاہور، عدالت نے تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت منظور کر لی

    انسداد دہشت گردی عدالت نے شاہ محمود قریشی کی تین مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کر لی ،عدالت نے 27 جون تک عبوری ضمانت منظور کی ہے۔ شاہ محمود قریشی اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے تھے، لاہور میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑکے 3 مقدمات میں تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے عبوری ضمانت کی درخواستیں دائر کی تھیں، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نےشاہ محمود قریشی کی تین مقدمات میں عبوری ضمانتوں پر سماعت کی درخواست گزار رانا مدثر ایڈووکیٹ نے عبوری ضمانت کی درخواستیں دائر کیں درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ بے گناہ ہوں بد نیتی کی بنیاد پر مقدمات میں ملوث کیا گیا شامل تفتیش ہونا چاہتا ہوں گرفتاری کا ڈر ہے ضمانت منظور کی جائے،شاہ محمود قریشی نے مقدمہ نمبر 410/23 تھانہ ریس کورس، مقدمہ نمبر 1271 تھانہ گلبرگ اورمقدمہ نمبر 96/23 سرور روڈ میں ضمانتوں کی درخواستیں دائر کیں

    عدالت پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے،بجٹ میں قوم کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے،غریب اور متوسط طبقے کوبجٹ میں کوئی رعایت نہیں دی گئی، تحریک انصاف کا مستقبل سنہرا اور روشن ہے

    شاہ محمود قریشی سانحہ 9 مئی کے حوالے سے بات کرنے سے گریزاں نظر آئے، صحافی نے سوال کیا کہ سانحہ 9مئی سے متعلق آپ کا کیا موقف ہے ؟ جس پر شاہ محمود قریشی نے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں اپنی مرضی سے گفتگو کروں گا میں بجٹ پر بات کروں گا

    دوسری جانب شاہ محمود قریشی کی تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے رہائی کے بعد دوسری ملاقات کی بھی اطلاعات ہیں، شاہ محمود قریشی کی دوسری ملاقات ہوئی جس میں سیاسی صورتحال، تحریک انصاف کے مستقبل پر بات چیت کی گئی، ملاقات کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں، اس سے قبل رہائی کے بعد اگلے دن شاہ محمود قریشی لاہور آئے تھے اور عمران خان سے آدھا گھنٹہ ملاقات کی تھی

    عمران خان نااہل ہو کر باہر جائیں گے؟

    باغی ٹی وی کی جانب سے بہترین کارکردگی پر ٹیم کو اعزازی شیلڈ دی گئیں،

    مولانا طارق جمیل کے اکاؤنٹ میں اربوں کہاں سے آئے؟ مولانا طارق جمیل کا خصوصی انٹرویو

    عدالت میں جمع کرائی گئی بیان حلفی کی خلاف ورزی عدالت کی توہین کے مترادف ہو گی،

     

  • اسد عمر کا جرم میں کردار کیا ہے؟ عدالت کا پراسیکیوٹر سے سوال

    اسد عمر کا جرم میں کردار کیا ہے؟ عدالت کا پراسیکیوٹر سے سوال

    تحریک انصاف کے عہدے چھوڑنے والے رہنما اسد عمر نے اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں کے سوالوں کے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت یہ بجٹ نہ ہی پیش کرتی تو بہتر تھا، اسد عمر نے بجٹ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس بجٹ کیلئے کہہ رہی تھی کہ اسمبلی تحلیل نہیں کر سکتے، ایک سوال کے جواب میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ پارٹیوں کے فیصلے عوام کرتے ہیں، ووٹ عمران خان کا ہے،پارٹی کا ہے باقی ساتھ کوئی ہو یا نہ ہو

    دوسری جانب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں اسدعمر کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف وزری کے کیس کی سماعت ہوئی ایڈیشنل سیشن جج سکندرخان نے کیس کی سماعت کی اسدعمر اپنے وکیل سردار مصروف خان کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے،وکیلِ صفائی نے اسدعمر کی ضمانت پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نہ اسدعمر نے تقریر کی نہ اسدعمرکی ویڈیو موجود ہے اسدعمر کے خلاف ایف نائن پارک میں پی ٹی آئی ریلی میں موجودگی کے ثبوت نہیں تھے اسدعمر کے خلاف جھوٹ پر مبنی مقدمہ بنایا گیا ،پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ اسدعمر کے خلاف ناقابلِ ضمانت دفعات مقدمے میں درج ہیں وکیلِ صفائی نے عدالت میں کہا کہ تفتیشی افسر نے کوئی ویڈیو ثبوت اسدعمر کے خلاف پیش نہیں کیا ،دوران سماعت جج سکندرخان نے استفسارکیا کہ وقوعہ پر اسد عمر کی موجودگی کو کیسے ثابت کریں گے؟

    پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ ماضی میں کوئی واقعہ ہوسکتا ہے جس سے اسدعمر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیاہو گا،جج سکندرخان نے پراسیکوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ دلائل نہیں دے رہے تقریرکررہے ہیں،ایک عورت 7 ماہ جیل میں رہی فورینسک کرنے پر بے گناہ ثابت ہوئی اسدعمر کی بات نہیں کررہا عام شہری کی بات کر رہا ہوں مقدمے میں نامزد کرنے کے لیے تو کوئی بھی نام ڈال دیا جاتا ہے کارکنان تو اسد عمر یا چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ سیلفی لینے آسکتے ہیں اسد عمر کا جرم میں کردار کیا ہے؟ پراسیکوٹر نے عدالت میں اعتراف کیا کہ اسدعمر کا تقریر میں کوئی کردار نہیں ہے،اسدعمر نے کہا کہ سیاستدان کسی جگہ پر موجود ہو اورتقریر نہ کرے ایسا ہو نہیں سکتا ،جج نے پراسیکوٹر سے سوال کیا کہ کیا اسدعمر کی وجہ سے کوئی پراپرٹی کو نقصان پہنچا؟ گملے ٹوٹے؟ پراسیکیوٹر نے عدالت میں اعتراف کیا کہ اسدعمر نے پراپرٹی کو نقصان نہیں پہنچایا، عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد اسدعمرکی درخواستِ ضمانت کنفرمیشن پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    اے دشمن دیں تو نے کس قوم کو ہے للکارا

    عمران خان نااہل ہو کر باہر جائیں گے؟

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    واضح رہے کہ اسد عمر تحریک انصاف کے تمام عہدے چھوڑ چکے ہیں، جیل سے رہائی کے بعد اسد عمر نے تمام عہدے چھوڑنے کا اعلان کیا تھا،نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھاکہ 10مئی کو میری گرفتاری ہوئی تب سے قید تنہائی میں تھا ، 9 مئی کو جو واقعات ہوئے اس کی مذمت تمام لوگ کرچکے، میں تفصیل میں جانا چاہتا ہوں کیوں یہ واقعات ملک کیلئے خطرناک ہیں، ایسی تنصیبات جن کا فوج سے تعلق تھا ان پر حملے کیے گئے۔اسد عمر کا کہنا تھاکہ 9 مئی کے بعد میرے لیے ممکن نہیں ہے کہ قیادت کی ذمہ داریاں نبھا سکوں، سیکرٹری جنرل اور کور کمیٹی کی رکنیت سے مستفی ہو رہا ہوں۔