Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • صدر مملکت عارف علوی کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر اعتراضات عائد

    صدر مملکت عارف علوی کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر اعتراضات عائد

    رجسٹرار آفس سپریم کورٹ نے صدر مملکت عارف علوی کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر اعتراضات عائد کردئیے

    عائد اعتراض میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت صدر مملکت کو فریق نہیں بنایا جا سکتا، درخواست میں عوامی مفاد اور بنیادی حقوق کے سوال کے بارے میں نہیں بتایا گیا،آرٹیکل 184(3) کے استعمال کے حوالے سے اٹھائے گئے نکات تسلی بخش نہیں، درخواست گزار نے کسی دوسرے متعلقہ فورم سے نہ رابطہ کیا اور نہ ہی رابطہ نہ کرنے کی وجہ بتائی، درخواست تحریر کرنے والے وکیل کا نام نہیں بتایا گیا،

    واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے، درخواست گزار کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عارف علوی عمران خان کی ایماء پر قانون سازی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے باوجود صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی منظوری نہ دی ،درخواست ایک شہری چوہدری محمد امتیاز کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ صدر مملکت کے یہ اقدامات کسی مخصوص پارٹی کی طرف جھکاؤ ظاہر کرتے ہیں ، ایسے طرز عمل کی بناء پر ڈاکٹر عارف علوی صدر کے عہدے کے اہل نہیں،آئین کے آرٹیکل 41 کے ڈاکٹر عارف علوی کو صدر کے عہدے سے ہٹایا جائے۔

    بشری بی بی کی آڈیونےدنیا بدل دی۔قہرٹوٹ پڑا ،عمران خان مایوس،دل ٹوٹ گیا

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ صدر مملکت نے پارلیمان کی جانب سے بھجے گئے سپریم کورٹ پروسیجر بل کی منظوری نہ دی صدر مملکت نے نیب ترامیم بل اور اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ پر بھی دستخط کرنے سے انکار کیا ،صدر مملکت کا اپنی آئینی ذمہ داریوں سے انکار کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ صدر کیلئے عہدے کیلئے اہل نہیں صدر ایک سیاسی جماعت سے منسلک اور جانبدار ہیں، صدر مملکت نے حکومت کی قانون سازی کو سیاسی جماعت کے چئیرمین کے کہنے پر منظور نہیں کیا،

  • خدیجہ شاہ سے امریکی حکام کو ملنے کی اجازت مل گئی

    خدیجہ شاہ سے امریکی حکام کو ملنے کی اجازت مل گئی

    نو مئی، جلاؤ گھیراؤ، ہنگامہ آرائی میں ملوث تحریک انصاف کی خواتین کو عدالت پیش کر دیا گیا

    خدیجہ شاہ سمیت گرفتار خواتین کوسخت سیکورٹی عدالت پیش کیا گیا، انسداد دہشت گردی کی عدالت میں خواتین کو پیش کیا گیا، عدالت نے انکا پانچ دن کا ریمانڈ دیا تھا جو مکمل ہونے کے بعد دوبارہ عدالت لایا گیا، پولیس نے تفتیش اور فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کیلئے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا،

    انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے جناح ہاؤس حملے میں ملوث تحریک انصاف کی 13 خواتین کو 14 روز کے لیے جیل بھجوا دیا، تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ تمام 13 خواتین کی شناخت پریڈ میں شناخت ہو چکی ہے مال مسروقہ، پیٹرول بم اور دیگر سامان برآمد کرانا ہے عدالت ملزمان کا مزید جسمانی ریمانڈ منظور کرے،فاضل جج نے استفسار کیا کہ کیا آپ سے ڈنڈے برآمد ہوئے ہیں ،خواتین نے جواب دیا کہ ہم سے ڈنڈے برآمد نہیں ہوئے ،ہمارے پاس ڈنڈے نہیں تھے ، عدالت نے پولیس کی استدعا مسترد کر دی، اور 13خواتین ملزمان کو 14 روز کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ،انسداد دہشت گردی عدالت کی ایڈمن جج عبہر گل خان نے سماعت کی

    دوسری جانب پاکستانی نژاد امریکی شہری خدیجہ شاہ سے امریکی حکام کو ملنے کی اجازت دے دی گئی ہے، قومی اخبار جنگ میں شائع رپورٹ کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب نے خدیجہ شاہ سے ملنے کی اجازت دی، خدیجہ شاہ امریکی نژاد ہیں، امریکی قونصلٹ لاہور کے حکام کو خدیجہ شاہ تک قونصلر رسائی دی گئی ہے، امریکی حکام آج خدیجہ شاہ سے جیل میں ملاقات کریں گے، اس موقع پر سپیشل برانچ کے حکام بھی موجود ہوں گے،وفاقی وزارت داخلہ نے امریکی حکومت کی طرف سے خدیجہ سلمان شاہ تک قونصلر رسائی کی درخواست موصول ہونے کے بعد این او سی جاری کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ پنجاب کو احکامات جاری کئے وزارت داخلہ کوامریکی قونصلیٹ کے حکام کے امریکی شہری خدیجہ شاہ سے ملنے میں کوئی اعتراض نہیں

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس کی کارروائی روکنے کے حکم میں توسیع

    عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس کی کارروائی روکنے کے حکم میں توسیع

    اسلام آباد: عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کارروائی کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائرکررکھی ہے-

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں عمران خان کے وکیل خواجہ حارث عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے امجد پرویز پیش ہوئے۔سابق وزیر اعظم نے توشہ خانہ کیس کے قابل سماعت ہونے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کررکھا ہے گزشتہ سماعت پر عدالت نے توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روک دیا تھا

    خواجہ حارث نے آئندہ ہفتے تک کیس ملتوی کرنے کی استدعا کی، الیکشن کمیشن کے وکیل نے ٹرائل کورٹ کو کاروائی سے روکنے کا حکم واپس لینے کی استدعا کردی، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالت نے ٹرائل کورٹ کی کاروائی کو روک رکھا ہے ،اگر یہ وقت مانگ رہے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ،عدالت ٹرائل کورٹ کو کاروائی سے روکنے کا حکم واپس لے لے ، عدالت اسٹے ختم کرکے ٹرائل کورٹ کو حتمی فیصلہ جاری کرنے سے روک سکتی ہے ،عدالت سے اسٹے ختم کرنے کی استدعا ہے ،میں نے ٹرائل کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق بھی درخواست دائر کر رکھی ہے ،چھ ہفتے تک کا وقت دیا گیا تھا ابھی تک ٹرائل کورٹ کی کاروائی رکی ہوئی ہے ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس کی ٹرائل کورٹ کاروائی روکنے کے حکم میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے 14 جون تک توسیع کردی

    دوسری جانب انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آبادمسابق وزیراعظم کے وکیل نعیم پنجوتھا اور علی اعجاز بٹر عدالت پیش ہوئے وکیل نے کہا کہ سابق وزیراعظم کے وکیل سلمان صفدر ایک گھنٹے تک آرہے ہیں،سابق وزیراعظم لاہور سے اسلام آباد آ رہے، سابق وزیراعظم کے ایک اور کیس میں سلمان صفدر اس وقت کچہری میں مصروف ہیں،سابق وزیراعظم کے خلاف آج 18 کیسز ہیں، اے ٹی سی جج نے ہدایت کی کہ آپ لوگ اپنی مینجمنٹ کے حساب سے عدالت پیش ہو جائیں، کیا چیرمین پی ٹی آئی شامل تفتیش ہوئے؟ وکیل نے کہا کہ تحریری جواب جمع کروا دیاہے جو وصول بھی کرلیا گیا ہے، اےٹی سی نے زاتی حیثیت میں شاملِ تفتیش کے حوالے سے قانونی نکات پر معاونت طلب کرلی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جوادعباس نے سماعت میں وقفہ کردیا

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

  • قوم کے تعاون سے تمام تر ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں گے. آرمی چیف

    قوم کے تعاون سے تمام تر ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں گے. آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی زِیر صدارت جی ایچ کیو میں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس ہوئی اور اس کانفرنس میں کور کمانڈرز، پرنسپل اسٹاف آفیسرز اور پاک فوج کے تمام فارمیشن کمانڈرز نے شرکت کی جبکہ فورم نے شہداء کی عظیم قربانیوں، جن میں مسلح اَفواج، قانون نافذ کرنے والے اِداروں کے افسران وجوانوں اور سِول سُوسائٹی کے شہداء شامل ہیں، کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے جاری اعلامیہ کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ”رِیاست پاکستان اور مسلح اَفواج، شہداء پاکستان اور اِن کے اہلخانہ کو احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہیں اور ان کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ سراہتی رہے گی ” جبکہ ”پاکستان کی عوام اور مسلح افواج کا آپس میں گہرا تعلق ہے جو قومی سلامتی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے

    انہوں نے مزید کہا کہ 25 مئی کی تقریبات میں عوام کی بھرپور شرکت افواج پاکستان اور عوام میں گہر ے تعلق کی واضح عکاسی کرتی ہیں“۔ ”قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکورٹی فورسز پر پرُ تشدد حملے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کے بے بنیاد الزامات کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور مسلح افواج کو بدنام کرکے مذموم سیاسی مفادات کا حصول ہے” علاوہ ازیں آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ”ملک دشمن عناصر اور ان کے حامی، جعلی اور بے بنیاد خبروں اور پروپیگنڈہ کے ذریعے معاشرتی تفرقہ اور انتشار پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور قوم کے بھرپور تعاون سے تمام تر ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جائے گا، انشاء اللہ”

    آئی ایس پی آر کے مطابق فارمیشن کمانڈ کانفرنس کے شرکاء نے یوم سیاہ سانحہ 9 مئی کے واقعات کی سخت ترین مذمت کی اور کانفرنس کے شرکاء نے عزم کرتے ہوئے کہا کہ مذموم مقاصد کے حصول کے لیے ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پروان چڑھانے اور ملک میں افراتفری پھیلانے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی ضرورت پرزور دیا گیا.

    ترجمان آئی ایس پی آر نے لکھا شرکاء کا مزید کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کے منصوبہ سازوں اور ماسٹر مائنڈز کے خلاف قانون کی گرفت مضبوط کی جائے۔ علاوہ ازیں شہدا کی یادگاروں، جناح ہاؤس کی بے حرمتی کرنے والوں اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ،جو کے آئینِ پاکستان کے تحت ہیں، کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لا کر کیفرِ کردارتک پہنچایاجائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    آرمی چیف نے مزید کہا کہ بگاڑ پیدا کرنے کی اورٖٖٖفرضی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے پیچھے پناہ لینے کی تمام تر کوششیں بے سودہیں اور کثرت سے جمع کیے گئے ناقابلِ تردید شواہد کونہ جھٹلایا اور نہ ہی بگاڑا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ شرکاء نے کہا مخالف قوتوں کے ناپاک عزائم کو مکمل طور پر ناکام بنانے کی راہ میں کسی بھی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرنے اور ابہام پیدا کرنے کی کوششوں کو آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ اور افواجِ پاکستان، ملک کی سلامتی اور استحکام کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

    COAS

  • مراد راس جہانگیر ترین گروپ میں شامل

    مراد راس جہانگیر ترین گروپ میں شامل

    جہانگیر ترین سے سابق صوبائی وزیر مرادراس کی ملاقات ہوئی

    مراد راس نے جہانگیر ترین گروپ میں شمولیت کا اعلان کردیا ،ملاقات جہانگیر ترین کی لاہور رہائش گاہ پر ہوئی، اس موقع پر علیم خان اور عون چودھری بھی موجود تھے،

    جہانگیر ترین پاکستان کی سیاست میں اس وقت متحرک ہیں اور ایک نئی پارٹی کے حوالہ سے مشاورت کر رہے ہیں، جہانگیر ترین سے تحریک انصاف چھوڑنے والے رہنماؤں کی ملاقاتیں جاری ہیں،آج شام ترین گروپ نے لاہور میں اہم اجلاس طلب کر رکھا ہے جس میں نئی پارٹی کے حوالہ سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا، جہانگیر ترین سے سابق رکن پنجاب اسمبلی مخدوم سید افتخار حسن گیلانی کی بھی ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں مختلف سیاسی امور اور مستقبل کے لائحہ عمل پرتبادلہ خیال کیا گیا،ملاقات میں مخدوم سید افتخار حسن گیلانی نے جہانگیر ترین گروپ کے ساتھ چلنے کی یقین دہانی کرائی

    بہاولپور سے مختلف اہم شخصیات نے جہانگیر ترین گروپ میں شمولیت کا اعلان کیا،جہانگیر ترین سے بہاولپور سے سجاد بخاری، تحسین گردیزی اور جہانزیب وارن کی ملاقات ہوئی، تینوں رہنماؤں نے تحریک انصاف چھوڑ کر جہانگیر ترین گروپ میں شمولیت کا اعلان کیا ،جہانگیر ترین نے ترین گروپ جوائن کرنے والے رہنماؤں کو خوش آمدید کہا

    فواد چودھری بھی ترین گروپ میں شمولیت کی کوشش کر رہے ہیں تا ہم ابھی تک وہ کامیاب نہیں ہو سکے، فردوس عاشق اعوان کو ترین گروپ میں اہم عہدہ دیا جا سکتا ہے،علیم خان ممکنہ طور پر پنجاب کے صدر بنائے جا سکتے ہیں،

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

     چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا

    جہانگیر ترین کی عمران خان سے علیحدگی کے بعد سے ن لیگی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہو چکی ہیں تا ہم اب نومئی کے واقعہ کے بعد جہانگیر ترین ایک بار پھر متحرک ہوئے ہیں، ماہرین کے مطابق جہانگیر ترین کا آئندہ آنیوالی حکومت میں اہم ترین کردار ہو گا،

    واضح رہے کہ علیم خان اور جہانگیر ترین تحریک انصاف میں تھے اور عمران خان کے انتہائی قریبی تھے، مگر اقتدار ملنے کے بعد عمران خان تکبر میں آ گئے اور انہوں نے اپنے قریبی دوستوں کو دور کر دیا، جہانگیر ترین الگ ہوئے تو علیم خان نے بھی پی ٹی آئی چھوڑی، اب حالت یہ ہو چکی ہے کہ تحریک انصاف میں صرف عمران خان ہی رہ جائیں گے باقی سب ساتھ چھوڑ جائیں گے

  • عبدالرزاق ایڈووکیٹ کے قتل کا مقدمہ عمران خان کے خلاف درج

    عبدالرزاق ایڈووکیٹ کے قتل کا مقدمہ عمران خان کے خلاف درج

    کوئٹہ میں وکیل عبدالرزاق ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے قتل کا مقدمہ عمران خان کے خلاف درج کر لیا گیا

    مقدمہ انکے بیٹے کی مدعیت میں درج کرایا گیا .عبدالرزاق بانی تحریک انصاف کے خلاف آرٹیکل 6 لگانے کے مقدمے کے پٹیشنر تھے، مقدمہ میں قتل، اقدام قتل، دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں،مقدمہ شہید جمیل کاکڑتھانے میں درج کیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ کوئٹہ میں ایئر پورٹ روڈ پرعالمو چوک کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سپریم کورٹ کے وکیل رزاق شر جاںبحق ہوگئے تھے جس کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے اپنے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ کرنے والے وکیل کو قتل کروایا، اس کیس کی کل سماعت ہونا ہے، اور امکان ہے کہ عمران خان کیخلاف آرٹیکل 5 اور آرٹیکل 6 کا فیصلہ آجائے. لیکن سماعت سے ایک دن پہلے وکیل کو قتل کروا دیا گیا ،حکومتِ پاکستان عبدالرزاق کے قتل کے مقدمے میں عمران خان کو نامزد کرے، مقدمے میں نامزدگی کے بعد گرفتاری مطلوب ہوئی تو وہ بھی ہوگی،

    تحریک انصاف نے عبدالرزاق شر کے قتل کا مقدمہ وزیراعظم اور وزیرِ داخلہ کیخلاف درج کرنے کا مطالبہ کردیا ،سپریم کورٹ سے سرکاری پریس کانفرنس میں عمران خان کیخلاف ایک اور جھوٹے مقدمے کے اندراج کی کوشش کا فوری نوٹس لینے کی بھی استدعا کر دی، تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عطاءاللہ تارڑ کے الزامات مکمل طور پر لغو، بے بنیاد اور بیہودہ قرار دیکر مسترد کئے جاتے ہیں، عبدالرزاق شر کا قتل تحریک انصاف کو کچلنے کیلئے پہلے سے جاری شرمناک، غیرآئینی اور غیرقانونی مہم کا تسلسل قرار دیا گیا،

    سویڈن نے سیکس کو کھیل کا درجہ دیتے ہوئے مقابلے کروانے کا اعلان کر دیا

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

  • آئین کی خلاف ورزی کے نتائج کیا ہوں گے؟ چیف جسٹس

    آئین کی خلاف ورزی کے نتائج کیا ہوں گے؟ چیف جسٹس

    ریویو آف ججمنٹس ایکٹ کیس اور پنجاب انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواستوں کا معاملہ ،سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی بینچ میں شامل تھے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب انتخابات نظر ثانی کیس اور ریویو ایکٹ ساتھ سنتے ہیں، عدالت نے پی ٹی آئی وکیل علی ظفر کو روسٹرم پر بلا لیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے استفسارکیا کہ سپریم کورٹ نظر ثانی نئے قانون پر آپ کا کیا موقف ہے ؟علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے نظر ثانی پر نیا قانون آئین سے متصادم اور پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کا تسلسل ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس کچھ درخواستیں آئی ہیں، ریویو ایکٹ کے معاملے کو کسی اسٹیج پر دیکھنا ہی ہے،اٹارنی جنرل کو نوٹس کر دیتے ہیں، ریویو ایکٹ پر نوٹس کے بعد انتخابات کیس ایکٹ کے تحت بنچ سنے گا،

    بیرسٹر علی ظفرنے عدالت میں کہا کہ عدالت پنجاب انتخابات نظر ثانی کیس کا فیصلہ ریویو ایکٹ کیس کے فیصلے تک روک سکتی ہے، پنجاب انتخابات نظر ثانی کیس میں دلائل تقریبا مکمل ہو چکے ہیں اسلیے کیس مکمل کر لینا چاہئے، عدالت نے کہا کہ اگر ریویو ایکٹ ہم پر لاگو ہوتا ہے تو الیکشن کمیشن کے وکیل کو لارجر بنچ میں دوبارہ سے دلائل کا آغاز کرنا ہو گا .عدالت کیسے پنجاب انتخابات کیس سنے اگر سپریم کورٹ ریویو ایکٹ نافذ ہو چکا ہے؟ آپ بتائیں کہ کیسے ہم پر سپریم کورٹ ریویو ایکٹ پنجاب انتخابات نظر ثانی کیس میں لاگو نہیں ہوتا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب چاہتے ہیں نظرثانی کیس کا فیصلہ ہو، وکیل علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ کیس کی سماعت ملتوی نہ کرے، نئے قانون کی شق 5 کا اطلاق پنجاب الیکشن کیس پر نہیں ہوتا ہے، مجھے امید ہے عدالت دونوں قوانین کو کالعدم قرار دے گی

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں پنجاب الیکشن کیس پرانے قانون کے تحت سنا جائے،وکیل علی ظفر نے کہاکہ جی میں یہی کہنا چاہتا ہوں کیس پرانے قانون کے تحت سنا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب چاہتے ہیں کہ پنجاب انتخابات نظرثانی کیس کا فیصلہ ہو الیکشن کمیشن کے وکیل نے یہ دلیل دی کہ ان کے پاس وسیع تراختیارات ہیں اپیل کی بھی کچھ حدود ہوتی ہیں پنجاب انتخابات نظرثانی کیس نیا نہیں اس پر پہلے بحث ہوچکی الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل نظرثانی کا دائرہ کار بڑھانے پر تھے انتخابات نظرثانی کیس لارجر بینچ میں جاتا ہے تو الیکشن کمیشن کے وکیل دلائل وہیں سے شروع کرسکتے ہیں انتخابات کا معاملہ قومی مسئلہ ہے 14 مئی کے فیصلے پرعملدرآمد ممکن نہیں مگر یہ فیصلہ تاریخ بن چکا عدالتی فیصلہ تاریخ میں رہے گا کہ 90 روز میں انتخابات لازمی ہیں دیکھنا تو یہ تھا کہ کیا انتخابات کے لیے 90 روز بڑھائے جا سکتے ہیں کیا 9 مئی کے واقعات کے بعد حالات وہ ہیں جو آئین میں انتخابات میں التوا کے لیے درج ہیں؟ ہر چیز تشدد اور زورزبردستی سے نہیں ہوسکتی، کیا نو مئی کے واقعات کے بعد 8 اکتوبر کو الیکشن ہوں گے؟ الیکشن کمیشن کے وکیل اس سوال کا جواب نہیں دے سکے، کیا آئینی احکامات کو پس پشت ڈالا جا سکتا ہے؟ آئین کی خلاف ورزی کے نتائج کیا ہوں گے؟ آئین پاکستان کی ایک خوبصورت دستاویز ہے،

    علی ظفر نے کہا کہ 14 مئی کی رات 12 بج کر ایک منٹ پر آئین مر چکا ہے آئین کی وفات کی دو وجوہات ہیں،ایک وجہ ہے کہ 90 روز میں انتخابات کے قانون کو فالو نہیں کیا گیا،دوسری وجہ ہے کہ انتخابات کروانے کے سپریم کورٹ کے واضح حکم پر عمل نہیں کیا گیا دو صوبے جمہوریت اور عوامی نمائندوں سے محروم ہیں، کروڑوں لوگوں کا کوئی منتخب نمائندہ نہیں، مجھے لگتا ہے آئین پاکستان کا قتل ہوچکا ہے، حکومت دو تین اور تین چار کا کھیل کھیلتی رہی، ہر گزرتا دن آئین کے قتل کی یاد دلاتا ہے،اس وقت ملک کے دو صوبے جمہوریت،اسمبلی اور عوامی نمائندگی کے بغیر ہیں،اس وقت آئین پر کوئی عمل نہیں ہے ،وزیراعظم ، چیف جسٹس پاکستان سمیت سب نے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھا رکھا ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل جو بھی دلائل دیں اس سے حقیقت تبدیل نہیں ہوگی، جب ریویو ایکٹ پاس ہوا تو میں نے سینیٹ میں کہا کہ کیسے آئین سے متصادم قانون بنا رہے ہیں؟ سینیٹ سے 5 منٹ میں یہ ریویو ایکٹ پاس ہوا، بحث بھی نہیں ہوئی، عدلیہ کی آزادی سے متعلق قوانین صرف آئینی ترمیم سے بنائے جاسکتے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یعنی آپ کے خیال میں حکومت نے آرٹیکل 184 تین میں اپیل کا حق دیا جو خلاف آئین ہے،علی ظفر نے کہا کہ جو نکات مرکزی کیس میں نہیں اٹھائے گئے وہ نظر ثانی میں نہیں لائے جا سکتے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون میں آرٹیکل 184 تین سے متعلق اچھی ترامیم ہیں، صرف ایک غلطی انہوں نے یہ کی کہ آرٹیکل 184 تین پر نظر ثانی کو اپیل قرار دے دیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک بات اچھی ہوئی کہ حکومت اور اداروں نے کہا عدالت میں ہی دلائل دیں گے جو قانونی ہیں، ورنہ یہ تو عدالت کے دروازے کے باہر احتجاج کر رہے تھے، اس احتجاج کا کیا مقصد تھا؟
    انصاف کی فراہمی تو مولا کریم کا کام ہے، آپ یہ کہ رہے ہیں کہ اپیل کو نئے قانون میں نیا نام دیا گیا؟ علی ظفر نے کہا کہ نظر ثانی اور اپیل دونوں قانون میں الگ الگ چیزیں، آئن کے برخلاف جا کر ایک قانون میں رویو کو اپیل بنا دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کو محدود کر دیا گیا ہے 184(3) پر، 14مئی کو انتخابات کا فیصلہ کو اب واپس لانا ممکن نہیں انتخابات تو نہیں ہوئے لیکن ہم نے اصول طے کردیے کن حالات میں انتخابات ملتوی ہوسکتے ہیں اور کن میں نہیں

    سپریم کورٹ نے انتخابات کیس کی سماعت 13 جون تک ملتوی کردی ،عدالت نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا ،سپریم کورٹ نے انتخابات کیس اور نئے قانون کیخلاف درخواستیں ایک ساتھ سننے کا فیصلہ کیا،عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا ،عدالت نے صدر مملکت کو بذریعہ پرنسپل سیکر ٹری نوٹس جاری کر دیا،وزارت پارلیمانی امور اور سیکرٹری سینٹ کو نوٹس جاری کر دیا گیا، عدالت نے کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عدالتی نظرثانی ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا

  • توشہ خانہ،عمران خان اور بشریٰ کیخلاف ایک اور مقدمہ درج

    توشہ خانہ،عمران خان اور بشریٰ کیخلاف ایک اور مقدمہ درج

    توشہ خانہ کی قیمتی گھڑی بیچنے کا معاملہ ،چئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور انکی اہلیہ بشری بی بی پر ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا

    مقدمہ دفعہ 420/467/468/471 کے تحت تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے ،مقدمے میں شہزاد اکبر ،ذلفی بخاری اور فرح گوگی کو نامزد کیا گیا ہے ، "آرٹ آف ٹائمز” کے ملازم نے عمران خان کی جانب سے دکان کا جعلی لیٹر ہیڈ استعمال کرنے کے خلاف تھانہ سیکریٹیریٹ اسلام آباد میں درخواست جمع کروائی، درخواست گزار نسیم الحق کے مطابق عمران خان اور دیگر نے ان کی دکان کا لیٹر ہیڈ اور جعلی دستخط استعمال کیے،عمران خان نے توشہ خانے کے تحائف بیچنے کیلئے ہمارے دکان کا جعلی لیٹر ہیڈ اور دستخط استعمال کیئے،عمران خان، بشری بی بی، زلفی بخاری اور فرح گوگی پر 420، 467، 468 اور 471 پی پی سی 1860 کے تحت ایف آئی آر درج کی جائے،عمران خان اور دیگر نے گھڑی ، کف لنکس اور دیگر تحائف کی جعلی رسیدیں بنا کر ساکھ کو نقصان پہنچایا،درخواست گزار نیسم الحق کے مطابق نہ اس نے کبھی ایسی کوئی چیزیں خریدیں اور نہ کبھی بیچیں

    تحریک انصاف کی جانب سے جس دکاندار کی رسیدیں دکھائی گئی تھیں ، دکاندار میڈیا پر پہلے بھی بیان دے چکے ہیں میں نے کوئی گھڑی نہیں خریدی اور نہ مجھے اس کا علم ہے میرے خلاف پرو پیگنڈا چل رہا ہے کہ میں نےعمران خان کی گھڑی خریدی لیکن میں نے کوئی گھڑی خریدی ، نہ مجھے اسکا کوئی علم ہے نہ وہ میرا بل ہے، نہ دستخط اور نہ ہینڈ رائٹنگ ہے،اب اسی حوالہ سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیاہے،

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس عدالت میں چل رہا ہے، عمران خان پر فرد جرم عائد ہوئی تھی تا ہم بعد میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس میں اسٹے دے دیا، عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں نیب میں بھی تحقیقات جاری ہیں، نیب نے عمران خان کو طلب بھی کیا تھا،

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی دوست فرح گوگی نے گھڑی دبئی میں معروف کاروباری شخصیت عمر فاروق کو فروخت کی تھی، فرح گوگی خود دبئی گئی تھی اور گھڑی بیچی تھی، مذکورہ گھڑی کا سیٹ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عمران خان کو تحفہ دیا تھا جو عمران خان نے توشہ خانہ سے خرید لیا، عمران خان نے جو گھڑی بیچی اس گھڑی کا سیٹ گراف نے تیار کیا یہ کمپنی گھڑیوں میں ہیرے جواہرات جڑنے کے لیے بھی مشہور ہے، عمران خان کی جانب سے فروخت کی جانے والی گھڑی ایک سپیشل ایڈیشن ہے جس کے ڈائل پر خانہ کعبہ کا ماڈل بھی بنا ہوا ہے اور اس میں ہیرے بھی جڑے ہوئے ہیں اس سیٹ پر بہت باریک بینی اور مہارت کے ساتھ 16 قیراط کے 266 ہیروں کی کندہ کاری کی گئی جبکہ گھڑی میں 18 قیراط سونا استعمال کیا گیا ہے

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

  • عمران خان قاتل؟ مبشر لقمان کا مریم نواز کو پیغام

    عمران خان قاتل؟ مبشر لقمان کا مریم نواز کو پیغام

    سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کا اپنے ولاگ میں کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطاء اللہ تارڑ اور معروف قانون دان امان اللہ کنرانی نے حالیہ دنوں کوئٹہ میں قتل ہونے والے وکیل کا الزام عمران خان پر لگا دیا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ یہ وکیل چونکہ عمران خان کا مخالف تھا اس لیئے انہیں قتل کردیا گیا ہے۔


    ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے کیس میں پاکستان کی تاریخ میں ابھی تک صرف دو لوگ کنویکٹ ہوئے ہیں جس میں پہلا نام سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو جبکہ دوسرا نام مبشر لقمان کا ہے، اور یہ سیکشن ون او نائین ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص نے کسی سے کسی کو قتل کروایا، لہذا کہنے والے پر 109 کی دفعہ لگے گی۔ جبکہ خیال رہے معروف صحافی مبشر لقمان کیخلاف 109 کے تحت جواد خواجہ نے ایک جھوٹا کیس کیا تھا جو کئی سال چلا لیکن اب اس کیس میں مبشر لقمان کچھ ماہ پہلے باعزت بری ہوئے ہیں کیونکہ یہ ایک بے بنیاد کیس تھا۔


    مبشر لقمان نے اپنے اور ذوالفقار علی بھٹو کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جس طرح اس وکیل کے قتل کا الزام لگایا گیا وہ محض پریس کانفرنس یا دعوٰی کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن اس کو ثابت کرنا مشکل ہوگا اس لیئے یہ ہوائی باتیں ہیں لہذا مبشر لقمان نے مریم نواز شریف اور عطاء تارڑ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو اس قسم کی فالتو باتیں نہیں کرنی چاہئے اور لوگوں کو اشتعال دلانے سے گریز کرنا چاہئے۔

    بجٹ کے حوالے سے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حکومت بجٹ کو عوام دوست بجٹ قرار دے رہی لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ یہ عوام دوست بجٹ نہیں ہے جب حکومت کے پاس اتنا پیسہ نہیں کہ سبسڈی دے سکے۔ ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کو کچھ فیصلے ایسے کرنے چاہئے جو یہ جمہوری حکومت نہیں کرسکتی کیونکہ اٹھارویں ترمیم کے تحت اختیار صوبوں کو دیا گیا جیسے وزارت تعلیم اور صحت وغیرہ لیکن پھر کیوں ایسا ہے کہ اس وقت بھی وفاقی وزرا کی تعداد تقریبا 90 سے اوپر ہے جن میں معاونین خصوصی بھی شامل ہیں اور پھر صوبوں اور وفاق میں ایک ہی چیز کیلئے الگ الگ وزارتیں ہیں.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    مبشر لقمان کے مطابق جب تک غیر معروف فیصلے نہیں کیئے جائیں گے تب تک ممکن ہی نہیں ہے کوئی بہتری آسکے، اور پھر آئی ایم ایف جس قدر بجٹ سے پہلے شرائط لگا رہا ہے اس کا بوجھ پاکستان نہیں اٹھا سکتا اس لیئے اب پاکستان اپنا سارا وزن چین کی گود میں ڈال رہا ہے. علاوہ ازیں ڈالر کو قابو کرنے کے حوالے سے سینئر اینکر نے تجویز پیش کی کہ پاکستان تیل درآمدگی کرتا ہے اگر سعودیہ کے ساتھ یہ درآمد گی میں جو ادائیگی کا معاہد ہے امریکی ڈالر کے بجائے چینی یوون میں کیا جائے تو ڈالر فورا نیچے آجائے گا۔

    مزید براں مبشر لقمان نے ایک اور بھی زبردست تجویز دی کہ حکومت کو چاہئے کہ سبسڈی بالکل نہ دے لیکن پاکستان میں جن کے بھی تین مرلہ سے کم گھر ہیں انہیں بجلی بالکل فری کردے جبکہ جن کے پاس ایک کنال سے زیادہ رقبہ ہے گھر کا اسے ڈبل کردیں پھر جاکر کہا جاسکتا ہے کہ یہ عوام دوست بجٹ ہے۔

  • آڈیو لیکس کمیشن کے نوٹیفکیشن کیخلاف سپریم کورٹ کا حکم امتناع برقرار

    آڈیو لیکس کمیشن کے نوٹیفکیشن کیخلاف سپریم کورٹ کا حکم امتناع برقرار

    سپریم کورٹ ،آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر ،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بنچ میں شامل تھے،درخواست گزار حنیف راہی روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ میری توہین عدالت کی درخواست پر ابھی تک نمبر نہیں لگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین کا معاملہ عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے،آپ کی درخواست پر اعتراضات ہیں تو دور کریں،آپ یہ بھی سمجھیں کہ کس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی چاہتے ہیں،جج کو توہین عدالت کی درخواست میں فریق نہیں بنایا جا سکتا،

    درخواست گزار ریاض حنیف راہی نے کہا کہ توہین عدالت کی درخواست پر اعتراضات کیخلاف چمبر اپیل دائر کی ہے۔تمام متفرق درخواستوں کو نمبرز لگے ہیں میری اپیل پر نمبر نہیں لگا اپیل کو اوپن کورٹ میں لگا کر سماعت کر لیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو معلوم ہے درخواست پر اعتراض کیا لگا تھا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے توہین عدالت کی درخواست کے درخواست گزار کی سرزنش کی اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معلوم ہے آپ نے توہین عدالت کی درخواست کس کیخلاف دائر کی ہے آپ نے ججز پر توہین عدالت کا الزام لگایا ہے عمومی طور پر ججز کو توہین عدالت کی درخواستوں میں فریق نہیں بنایا جاتا مناسب ہے پہلے توہین عدالت کی درخواست پر لگے اعتراضات کو دور کریں توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور متعلقہ شخص کے مابین ہوتا ہے ،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق آج ججز کیخلاف دائر اعتراضات پر دلائل ہونے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اعتراضات پر دلائل شروع کریں

    اٹارنی جنرل نے گزشتہ سماعت کا حکم نامہ پڑھ کر سنا دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ
    آپ کس نقطے پر بات کرنا چاہیں گے؟ آپ ایک چیز مس کر ریے ہیں،چیف جسٹس پاکستان ایک آئینی عہدہ ہے، مفروضہ کی بنیاد پر چیف جسٹس کا چارج کوئی اور نہیں استعمال کر سکتا، اس کیس میں چیف جسٹس دستیاب تھے جنہیں کمیشن کے قیام سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا، چیف جسٹس کے علم میں نہیں تھا اور کمیشن بنا دیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ان نکات پر آپ دلائل دیں، اٹارنی جنرل نے بنچ پر اعتراض کی درخواست پر دلائل کا آغاز کر دیا اور کہا کہ عدالت نے حکم نامہ میں جن فیصلوں پر انحصار کیا وہ ججز کی جانبداری سے متعلق ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنسز ان فیصلوں کے دیے گئے ہیں جہاں متبادل نہ ہو تو فیصلہ مجاز فورم ہی کرتا ہے، ایسی صورتحال میں جانبداری کا الزام واحد دستیاب فورم پر نہیں لگ سکتا، چیف جسٹس کا عہدہ آئینی ہے جس کے انتظامی اختیارات بھی ہوتے ہیں، چیف جسٹس دستیاب نہ ہوں تو آئین کے تحت قائم مقام چیف جسٹس کا تقرر ہوتا ہے،چیف جسٹس کے ہوتے ہوئے اختیارات کسی اور کو تقویض نہیں کیے جا سکتے، موجودہ کیس میں کیا الزامات ہیں معلوم نہیں، چیف جسٹس نے ہی فیصلہ کرنا ہے کہ کمیشن کیلئے ججز دستیاب ہیں یا نہیں، مفادات کا ٹکرائو ہو بھی تو چیف جسٹس آفس ہی فیصلہ کرے گا کیونکہ یہ آئینی عہدہ ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک اعتراض بنچ کی تشکیل دوسرا کمیشن کے ٹی او آرز کی بنیاد پر ہے، چیف جسٹس کی جانب سے کمیشن کیلئے نامزدگی دوسرا اعتراض ہے، ججز ضابطہ اخلاق کے تحت موجودہ بنچ کے کچھ ممبران کیس نہیں سن سکتے، مفادات کا ٹکرائو ہو تو ججز کو بنچ سے الگ ہو جانا چاہئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے آپ اختیارات کی آئینی تقسیم اور قانونی نکات پر بات کریں،عدلیہ کی آزادی کے نکتے اور ماضی کے عدالتی فیصلوں سے متفق ہیں یا نہیں پہلے یہ بتائیں،آپ عدالتی فیصلوں کے حوالے پڑھنے سے پہلے قانون کو سمجھیں،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں پہلے بنچ کی تشکیل پر دلائل دونگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اس نقطے پر جا رہے ہیں کہ ہم میں سے تین ججز متنازعہ ہیں؟ اگر اس پر جاتے ہیں تو آپ کو بتانا ہوگا کہ آپ نے کس بنیاد پر فرض کر لیا کہ ہم میں سے تین کا کنفلکٹ ہے،میں چاہوں گا آپ دوسروں سے زیادہ اہم ایشو پر فوکس کریں،دوسرا اور اہم ایشو عدلیہ کی آزادی کا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیف جسٹس عمر عطابندیال، جسٹس اعجاز الاحسن جسٹس منیب اختر کا آڈیو لیکس سے تعلق ہے آپ تینوں ججز کیس نہ سنیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی موجودگی میں پوچھے بغیر ججز پر مشتمل کمیشن تشکیل دے دیا گیا، یہ عدلیہ کی آزادی کا معاملہ ہے اس پر دلائل دیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا قانونی طور پر درست ہے جسے آڈیوز کی حقیقت کا نہیں پتہ وہ بنچ پر اعتراض اٹھائے؟ میں آپ کی درخواست کے قابل سماعت ہونے کا پوچھ رہا ہوں وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس کیوں کی، کیا ایسی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے؟ ایسے بیان کے بعد تو اس وزیر کو ہٹا دیا جاتا یا وہ مستعفی ہوجاتا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیا ایک وزیر کا بیان پوری حکومت کا بیان لیا جا سکتا ہے؟میرے علم میں نہیں اگر پریس کانفرنس کسی نے کی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اتنے اہم ایشو پر کابینہ کی اجتماعی زمہ داری سامنے آنی چاہیے تھی، وزیر اگر چائے پینے کا کہے تو الگ بات، یہاں بیان اہم ایشو پر دیا گیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت یہ دیکھے کہ وزیر داخلہ کا بیان نو مئی سے پہلے کا ہے یا بعد کا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ واہ کیا خوبصورت طریقہ ہے اورعدلیہ کے ساتھ کیا انصاف کیا ہے، پہلے ان آڈیوز پر ججز کی تضحیک کی پھر کہا اب ان آڈیوز کے سچے ہونے کی تحقیق کروا لیتے ہیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو بڑا آسان ہوجائے گا کسی بھی جج کو کیس سے ہٹانا ہے تو اس کا نام لے کر آڈیو بنا دو،کیس سے الگ ہونے کے پیچھے قانونی جواز ہوتے ہیں، یہ آپشن اسلیے نہیں ہوتا کوئی بھی آکر کہہ دے جج صاحب فلاں فلاں کیس نہ سنیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت اسی لیے اس معاملے کو انجام تک پہنچانا چاہتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آڈیوز کس نے پلانٹ کی ہیں، کیا حکومت نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ یہ کون کر رہا ہے؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ حکومت کمیشن کے زریعے اس معاملے کو بھی دیکھے گی،کالز کیسے ریکارڈ کی گئیں کمیشن کے زریعے تمام عوامل کا جائزہ لیا جائے گا،ابھی تو یہ معاملہ انتہائی ابتدا کی سطح پر ہے، وفاقی حکومت کے مطابق یہ آڈیوز مبینہ آڈیوز ہیں، وفاقی حکومت کا یہی بیان دیکھا جانا چاہیے،کابینہ کے علاوہ کسی وزیر کا ذاتی بیان حکومت کا بیان نہیں،جسٹس منیب اخترنے استفسار کیا کہ اگر وزیر خزانہ کچھ بیان دے تو کیا وہ بھی حکومت کا نہ سمجھا جائے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی معاملہ اگر سپریم کورٹ کے تمام ججز سے متعلق نکل آئے پھر یہ نظریہ ضرورت پر عمل ہوسکتا ہے،اگر تمام ججز پر سوال ہو پھر بھی کہا جا سکتا ہے کہ اب کسی نے تو سننا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا حکومت نے اپنے وسائل استعمال کر کے پتہ کیا کہ آڈیوز ریکارڈ کہاں سے اور کیسے ہو رہی ہیں؟ کون یہ سب کر رہا ہے؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ نے آڈیوز کو مبینہ قرار دیتے ہوئے کمیشن تشکیل دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز کو بدنام کرکے معاملہ حقائق جاننے کیلئے بھیج دیا گیا،واہ کیا خوبصورتی سے یہ کام کیا گیا، ججز کی تضحیک کی آخر کیا وجہ تھی؟ کابینہ نے خود کو ایسے بیانات سے الگ کیوں نہیں کیا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہم میڈیا اور پیمرا سے ریکارڈ منگوا کر آپ کو شرمندہ کریں؟ حقائق جانے بغیر ججز کی تضحیک کی گئی، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سائل نے جج تبدیل کرانا ہو تو ایک آڈیو بنا کر لیک کروا دے گا، اکثر سائلین خود پیش ہوتے ہیں کیس نہ بنتا ہو تو جج پر الزام لگا دیتے ہیں،کیا ایسے موقع پر جج نظام انصاف کو دیکھے یا اٹھ کر چلا جائے اور کیس نہ سنے؟ کل کوئی جج کا نام لے کر ویڈیو بھی ٹوئٹر پر ڈال سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آڈیوز کو پلانٹ کیا گیا حکومت کے پاس وسائل ہیں کہ تعین کر سکے کس نے پلانٹ کیا، کمیشن بھی حکومت سے ہی معاونت لے گا، کیا حکومت نے آڈیوز کے حوالے سے کام کیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے آڈیوز کیلئے کمیشن تشکیل دیا ہے کمیشن جس بھی ادارے کو کہے گا وہ معاونت کرینگے،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو کیس سننے والے سات میں سے چار ججز کی فون ٹیپنگ کی گئی تھی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کیس میں صدر کے اختیارات کا سوال تھا،بینظیر کیس میں بینچ پر اعتراض نہیں ہوا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا اس کیس میں ججز نے ٹھیک فیصلہ نہیں کیا جن کی کالز ٹیپ ہوئی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت کا کیس تعصب کا نہیں مفادات کے ٹکراو کا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ اعتراض صرف جوڈیشل کاروائی پر بنتا ہے یا انتظامی امور کی انجام دہی پر بھی ہے؟ ایک ٹویٹر ہینڈل بار بار ایسا مواد جاری کر رہا ہے، یہ سوال ہے ایسی آڈیوز لیک کون کرتا ہے، جس ٹویٹر اکاؤنٹ نے یہ آڈیوز جاری کی اسکے خلاف کیا قانونی کاروائی کی گئی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہماری اس سارے معاملے پر کوئی بدنیتی نہیں ہے، بنچ تبدیل ہونے سے کمیشن کے خلاف عدالت آئے درخواست گزاروں کا حق متاثر نہیں ہوگا،استدعا ہے کہ بنچ تبدیلی کی درخواست کو زیر غور لائیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا اعتراض دو اور ججز پر بھی ہے، ہماری درخواست کا متن آپ کے سامنے ہے اس کا جائزہ لے لیں، کمیشن آڈیو سے متعلق تمام عوامل کا جائزہ لے گا۔وفاقی حکومت کا موقف ہے یہ آڈیوز مبینہ ہیں۔کسی نے پریس کانفرنس کی ہے تو اسکا انفرادی فعل ہے انفرادی فعل پر کابینہ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عام طور پر وزراء کے بیانات کو حکومت کی پالیسی سمجھا جاتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تحریری اعتراض جج پر اٹھایا جائے تو صورتحال مختلف ہوجاتی ہے ،وفاقی حکومت کا کسی جج کیخلاف تعصب کا نہیں ،وفاقی حکومت کا کیس ججز کے مفادات کے ٹکراو کا ہے ،ججز پر اعتراض کسی منفی مقصد کے تحت نہیں اٹھایا گیا

    اٹارنی جنرل نے دوران سماعت ارسلان افتخار کیس کا حوالہ دیا،اور کہا کہ ارسلان افتخار کیس میں بنچ سربراہ جسٹس افتخار چوہدری تھے،ایک فریق کی استدعا پر جسٹس افتخار چوہدری نے خود کو بنچ سے الگ کر لیا تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا اعتراض دیگر دو ججز پر بھی ہے، کیا آپ دیگر دو ججز پر اعتراض واپس لینگے یا باری باری ہر جج پر دلائل دینگے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواست اور اعتراضات کا متن عدالت کے سامنے ہے،بنچ کی تشکیل پر اٹارنی جنرل نے دلائل مکمل کر لئے

    وکیل صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ تمام آڈیوز 16 فروری کے بعد کی ہیں، عدالت نے انتخابات کا مقدمہ سننا شروع کیا تو آڈیوز آنا شروع ہوگئیں، ایک ہیکر کے اکائونٹ سے تمام آڈیوز لیک کی جاتی ہیںحکومت انتخابات کیس میں فریق ہے وہی کمیشن بھی بنا رہی ہے، پہلا سوال یہی بنتا ہے کہ آڈیوز ریکارڈ اور لیک کون کر رہا ہے، کمیشن کے ٹی او آرز میں آڈیوز ریکارڈ کرنے والے کا ذکر ہوتا پھر تو بات تھی، یہاں عدالت کے سامنے ایک آئینی نوعیت کا معاملہ ہے، یہاں سوال ایگزیکٹو کی عدلیہ میں مداخلت کا ہے، اس بنچ نے کسی کے حق میں یا خلاف فیصلہ نہیں دینا ایک تشریح کرنی ہے،جس بنیاد پر بنچ تبدیلی کی درخواست ہے وہ دیکھی، کیا ہم آڈیوز کو پہلے ہی تسلیم کر لیں؟یہ تو بلیک میلنگ کا بہت آسان طریقہ ہوجائے گا، کسی بھی فیک آدمی کے زریعہ جعلی آڈیوز بنوا دی جایا کریں گی،اس عدالت نے صرف الیکشن کرانے کا کہا تھا،اس پر آڈیوز آنے لگی اور ٹاک شوز میں کیا نہیں کہا گیا پیمرا اس دوران کہاں ہے دیکھ لیں پیمرا سے ریکارڈ منگوا کر دیکھ لیں،عدلیہ کو تقسیم کرنے کی سازش کی گئی،عدلیہ کی آزادی بہت اہم ہے، لوگ عدالت کی طرف دیکھ رہے ہیں،لوگوں کے سیاسی نظریات پر ان کے بیاسی سال کے والد کو اٹھا لیا جاتا ہے،کیا عدلیہ میں ایگزیکٹو ایسے مداخلت کرے گی،

    آڈیو لیکس کمیشن کے نوٹیفکیشن کیخلاف سپریم کورٹ کا حکم امتناع برقرار رکھا گیا ہے، عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی،

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا