Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عمران خان گھر کا سرچ وارنٹ کالعدم کرانے کیلیے عدالت پہنچ گئے

    عمران خان گھر کا سرچ وارنٹ کالعدم کرانے کیلیے عدالت پہنچ گئے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان گھر کا سرچ وارنٹ کالعدم کرانے کے لیے عدالت پہنچ گئے

    عمران خان نے انسداد دہشت گردی عدالت میں درخواست دائر کر دی، عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کمشنر لاہور اورڈی سی لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے، عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ انسداد دہشتگردی عدالت سے 18 مئی کو پولیس نے سرچ وارنٹ حاصل کیے پولیس سمیت دیگر نے سرچ وارنٹ بدنیتی کی بنیاد پر حاصل کیے

    عمران خان کی جانب سے عدالت میں دائردرخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت 18 مئی کو جاری سرچ وارنٹ کالعدم قرار دے ،عدالت نے نوٹسز جاری کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کرلیا

    واضح رہے کہ پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات عامر میر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کے گھر دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں،چالیس کے قریب شرپسند جن کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے وہ زمان پارک موجود ہیں،جس کے بعد تلاشی کے لئے حکومت نے سرچ وارنٹ لئے تھے، اسکے بعد کمشنر لاہور زمان پارک گئے تھے، پولیس بھی ساتھ تھی تا ہم عمران خان کی گھر کی تلاشی نہیں لی جا سکی تھی، جس کے بعد حکام واپس آ گئے تھے

    عمران خان زمان پارک میں موجود ہیں، تحریک انصاف کے رہنما پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر رہے ہیں

    عمران خان کو ملک سے نکالنے کی تیاری، جمائما کو سگنل مل گیا. مبشر لقمان

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

  • آڈیو لیکس کمیشن ، کاروائی روک دی گئی، مزید کاروائی نہیں کر رہے،جسٹس قاضی فائز عیسی

    آڈیو لیکس کمیشن ، کاروائی روک دی گئی، مزید کاروائی نہیں کر رہے،جسٹس قاضی فائز عیسی

    مبینہ آڈیوز کی تحقیقات کیلئے قائم انکوائری کمیشن کا معاملہ.انکوائری کمیشن کے لیے کیمرے، کمپیوٹر، پرنٹر و دیگر سامان واپس بھجوا دیا گیا.سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے انکوائری کمیشن کی کاروائی روک دی تھی. انکوائری کمیشن نے جدید آلات کے ذریعے کاروائی کو آگے بڑھانا تھا. جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے کاروائی ملتوی کردی ہے.

    مبینہ آڈیوز انکوائری کمیشن کے دوسرے اجلاس کا حکمنامہ جاری کر دیا گیا محکمنامہ میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے پانچ ججز کا 26 مئی کا جاری کردہ آرڈر پڑھ کر سنایا، اٹارنی جنرل نے کہا درخواست گزاروں نے انکوائری کمیشن کے خلاف مفاد عامہ کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کیا، اٹارنی جنرل سے پوچھا کیا انکوائری کمیشن کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سامنے فریق بنایا گیا؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ صدر سپریم کورٹ بار اور سیکرٹری سپریم کورٹ بار نے کمیشن کو بذریعہ سیکرٹری فریق بنا رکھا ہے، اس تناظر میں انکوائری کمیشن کا اجلاس ملتوی کیا جاتا ہے،

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن ،جسٹس قاضی فائز عیسی اور کمیشن کے ارکان سپریم کورٹ پہنچ گئے. اٹارنی جنرل بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ،آج آڈیو لیکس کمیشن نے گواہان کو طلب کر رکھا تھا.سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے کل کمیشن کو کاروائی سے روک دیا تھا سپریم کورٹ نے کل کمیشن کے قیام کا نوٹیفکیشن بھی معطل کر دیا تھا.

    مبینہ آڈیو لیکس کی انکوائری کیلئے جوڈیشل کمیشن کا دوسرا اجلاس شروع ہو گیا،جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن کاروائی کر رہا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز عامر فاروق اور نعیم افغان کمیشن کا حصہ ہیں ،اٹارنی جنرل کمیشن کے سامنے پیش ہوئے،اٹارنی جنرل نے گزشتہ روز کا عدالتی حکم پڑھ کر سنایا ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انکوائری کمیشن کو سماعت سے قبل نوٹس ہی نہیں تھا تو کام سے کیسے روک دیا،سپریم کورٹ رولز کے مطابق فریقین کو سن کر اس کے بعد کوئی حکم جاری کیا جاتا ہے،جسٹس قاضی فائز نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کیوں کل کمرہ عدالت میں تھے نوٹس تھا یا ویسے بیٹھے تھے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ مجھے زبانی بتایا گیا تھا کہ آپ عدالت میں پیش ہوں،سماعت کے بعد مجھے نوٹس جاری کیا گیا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ایک جج کے خلاف الزام پر سیدھا ریفرنس جائے تو وہ پوری زندگی بھگتتا رہے گا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عبدالقیوم صدیقی کو روسٹرم پر بلا لیا ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے انہیں کمیشن کی کارروائی پرکوئی اعتراض نہ ہو ان کے دوسرے فریق نے ہمیں درخواست بھیجی انکے دوسرے فریق نے کہا کہ وہ میڈیکل چیک اپ کے لیے لاہور ہیں، کہا جب لاہورآئیں توان کا بیان بھی لے لیں،عابد زبیری اور شعیب شاہین نے آج آنے کی زحمت بھی نہیں کی، کیا انہیں آ کر بتانا نہیں تھا کہ کل کیا آرڈ ہوا ،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو جج کا حلف پڑھنےکی ہدایت کی ، انہوں نے حلف پڑھا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حلف میں لکھا ہے فرائض آئین و قانون کے تحت ادا کروں گا یہ انکوائری کمیشن ایک قانون کے تحت بنا ہے کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت یہ کمیشن بنایا گیا ہم صرف اللہ کے غلام ہیں اور کسی کے نہیں شعیب شاہین روزانہ ٹی وی پربیٹھ کر وکلا پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہیں ہمیں قانون سکھانے آگئے ہیں رولز کے مطابق وکیل اپنے مقدمے سے متعلق میڈیا پر بات نہیں کر سکتا کوئی بات نہیں سکھائیں ہم تو روزانہ قانون سیکھتے ہیں ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سانحہ کوئٹہ کا ذکرکرتے ہوئے جذباتی ہوگئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس طرح کی دردناک تحقیقات کرنی پڑتی ہیں اب ہمیں ٹاک شوز میں کہا جائے گا ہم آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں حلف کے تحت اس کمیشن کی اجازت نہ ہوتی تو معذرت کر کے چلا گیا ہوتا ٹی وی پر ہمیں قانون سکھانے بیٹھ جاتے ہیں یہاں آکر بتاتے نہیں کہ اسٹے ہوگیا ہے ایک طرف پرائیویسی کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف خود اپنی آڈیوز پر ٹاک شو میں بیٹھے ہیں ہم ججز ٹاک شو میں جواب تو نہیں دے سکتے بطور وکیل ہم بھی اس لیے آرڈر لیتے تھے کہ اگلے روز جا کر متعلقہ عدالت کو آگاہ کرتے ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ یہ ٹویٹر کیا ہے؟ پتہ تو چلے کہ کون آڈیو جاری کررہا ہے، اصلی ہیں بھی یا نہیں ہوسکتا ہے جن لوگوں کی آڈیوزہیں انہوں نے خود جاری کی ہوں ہوسکتا ہے عبدالقیوم صدیقی نے اپنی آڈیو جاری کی ہو تحقیقات ہونگی تو یہ سب پتا چل سکے گا جج کو پیسے دینے کی بات ہورہی ہے مگر تحقیقات پر اسٹے آجاتا ہے ججز کے بارے میں آڈیوز آئیں تحقیقات تو ہونی چاہیں پرائیویسی کی آڑ میں کیا کسی الزام کی تحقیقات نہیں ہونی چاہیے مجھے کوئی مرضی کے فیصلے کے لیے رقم آفر کرے تو کیا یہ گفتگو بھی پرائیویسی میں آئے گی؟ کیا راستے پر کوئی حادثہ ہوجائے تو اس کی ویڈیو جاری کرنا پرائیویسی کے خلاف ہوگا؟ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر ایک سافٹ ویئر ہے، ہیکر کا مجھے علم نہیں شاید میڈیا والوں میں سے کوئی جانتا ہو

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ حیران ہوں آپ نے کل ان نکات کو رد نہیں کیا، شعیب شاہین نے میڈیا پر تقریریں کر دیں، یہاں آنے کی زحمت نہ کی پرائیویسی ہمیشہ گھر کی ہوتی ہے کسی کے گھر میں جھانکا نہیں جاسکتا باہر سڑکوں پر جو سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں کیا یہ بھی پرائیویسی کے خلاف ہیں؟ آپ نے کل عدالت کو بتایا کیوں نہیں ان کے اعتراضات والے نکات کی ہم پہلے ہی وضاحت کرچکے ابھی وہ اسٹیج ہی نہیں آئی تھی نہ ہم وہ کچھ کر رہے تھے کمیشن کو سماعت سے قبل نوٹس ہی نہیں کیا گیا تھا توکام سے کیسے روک دیا، ہم کمیشن کی مزید کارروائی نہیں کر رہے ہم آج کی کارروائی کا حکم نامہ جاری کریں گے

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ہمیں زندگی میں بعض ایسے کام کرنے پڑتے ہیں جو ہمیں پسند نہیں ہوتے، ہمیں پٹیشنرز بتا رہے ہیں کہ حکم امتناع ہے آپ سن نہیں سکتے، وکلا کوڈ آف کنڈکٹ کو کھڑکی سے اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا ہے، ہم بعض کام خوشی سے ادا نہیں کرتے لیکن حلف کے تحت ان ٹاسکس کو ادا کرنے کے پابند ہوتے ہیں، ہمیں اس اضافی کام کا کچھ نہیں ملتا، ہمیں کیا پڑی تھی سب کرنےکی

    آڈیو لیکس کمیشن کی کارروائی روک دی گئی،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم مزید کارروائی نہیں کر رہے،ہم مزید آگے نہیں بڑھ سکتے، آج کی کارروائی کا حکمنامہ جاری کریں گے،

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا ہے، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کمیشن میں بلوچستان ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شامل ہیں۔

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

  • سابق وفاقی وزرا علی زیدی،خسرو بختیار بھی تحریک انصاف چھوڑ گئے

    سابق وفاقی وزرا علی زیدی،خسرو بختیار بھی تحریک انصاف چھوڑ گئے

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک میں ہونیوالی ہنگامہ آرائی کے بعد پارٹی چھوڑنے والوں کی لائن لگ گئی، تحریک انصاف کو سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزرا بھی خیر باد کہہ رہے ہیں

    سابق وفاقی وزیر علی زیدی نے پی ٹی آئی چھوڑ دی، ایک ویڈیو بیان میں علی زیدی جن کا تعلق کراچی سے ہے کہنا تھا کہ تحریک انصاف اور سیاست چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں، علی زیدی کا کہنا تھا کہ نو مئی کو جو کچھ ہوا اسکی مزمت کرتا ہوں، کافی سوچ بچار کے بعد سیاست چھوڑنے کا فیصلہ کیا پی ٹی آئی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے رہا ہوں ہم نے پاکستان کی خدمت کی اور پاکستان کے لیے سیاست میں آیا تھا 9 مئی کے واقعات کی مذمت کی تھی اور دوبارہ کرتا ہوںافواج پاکستان ہمارا فخر ہے ان کی وجہ سے ہم سکون سے سوتے ہیں کیونکہ وہ ہماری سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں جو ہوا وہ غلط ہوا اس میں جو بھی ملوث ہو اسے کیفرکردار تک پہنچانا ضروری ہے کافی سوچ بچار کے بعد یہ فیصلہ کیا جو مشکل فیصلہ تھا آسان فیصلہ نہیں تھا،فیصلہ کیا ہےکہ سیاست چھوڑ دوں گا جب سیاست چھوڑ دوں گا تو پی ٹی آئی میں بھی جو عہدہ ہے ایم این اے سمیت سب سے استعفیٰ دیتا ہوں پاکستان کی خدمت کرنے کی کوشش کروں گا

    دوسری جانب جنوبی پنجاب سے تحریک انصاف کے اہم رہنما، سابق وفاقی وزیرخسروبختیار نے بھی تحریک انصاف چھوڑ دی، خسرو بختیار نے بھی ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انکا کہنا تھا کہ ایک سال قبل پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے کہا تھا کہ اداروں کے ساتھ محاز آرائی نقصان دہ ہوگی پی ٹی آئی کورکمیٹی کی ممبرشپ اورجنوبی پنجاب کی صدارت بھی سال پہلے چھوڑ دی تھی 9 مئی کے دل سوز واقعات نے مجھے مجبور کیا کہ پی ٹی آئی کے فلسلفے سے دور ہوجاؤں میرا 25 سال کا تجربہ،مقامی، صوبائی اور قومی منصوبوں کے فرائض ادا کرنے پر محیط ہے تحریک انصاف کے سیاسی فلسفے کے ساتھ اب نہیں چل سکتا مجھے یقین ہے اب پاکستان کا مستقبل تقسیم، محاذآرائی کی سیاست میں ہرگز نہیں

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    بابر اعوان نے بیرون ملک روانہ

     کنول شوزب بیرون ملک فرار 

    مراد راس نے عمران خان اور پی ٹی آئی سے راستہ جُدا کرلیا

  • جی ایچ کیو ہنگامہ آرائی کی مرکزی ملزم کنول شوذب بیرون ملک فرار

    جی ایچ کیو ہنگامہ آرائی کی مرکزی ملزم کنول شوذب بیرون ملک فرار

    تحریک انصاف کی خاتون رہنما کنول شوزب بیرون ملک فرار ہو گئی ہیں

    میڈیا رپورٹس کے مطابق کنول شوذب نو فلائی لسٹ بننے سے پہلے ہی بیرون ملک چلی گئی تھیں وہ پاکستان سے سکاٹ لینڈ گئی ہیں ، کنول شوزب تحریک انصاف ویمن ونگ کی صدر ہیں

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونیوالے جلاو گھیرائو میں خواتین ونگ میں سے کنول شوذب متحرک تھیں کنول شوذب کے واٹس ایپ کے سکرین شاٹ بھی وائرل ہوئے تھے جس میں وہ پارٹی خواتین کو جی ایچ کیو پہنچنے کا کہہ رہی تھیں، کنول شوزب کی بیرون ملک روانگی کیسے ہوئی اس بارے کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی کہ انہیں حملوں کا مرکزی ملزم ہونے کے باوجود کیوں نہیں روکا گیا

    مبینہ طور پر کنول شوذب را کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہی تھیں اسی لئے انہوں نے پاکستان کی فوجی تنصیبات پر حملے کے لیے خواتین کو بھیجا ، کوئی بھی محب وطن پاکستانی مسلح افواج کی تنصیبات پر حملے کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا بلکہ مسلح افواج کے شانہ بشانہ دکھائی دے گا لیکن کنول شوذب نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ خواتین کارکنان کو حکم دیا کہ جی ایچ کیو پہنچیں

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد جلاو گھیراو میں ملوث شرپسند عناصر کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہو چکے ہیں کئی پی ٹی آئی سے لاتعلقی کا اعلان کر رہے ہیں تو اب بیرون ملک فرار ہونے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے، ڈاکٹر بابر اعوان بھی بیرون ملک جا چکے ہیں

  • عمران خان کو ملک سے نکالنے کی تیاری، جمائما کو سگنل مل گیا. مبشر لقمان

    عمران خان کو ملک سے نکالنے کی تیاری، جمائما کو سگنل مل گیا. مبشر لقمان

    سینئر صحافی و اینکرپرسن مبشرلقمان نے اپنے ولاگ میں دعویٰ کیا ہے کہ "جنہوں نے عمران خان پر انویسمنٹ کی تھی وہ اب اسے باہر لے جانا چاہتے ہیں” اپنے ولاگ کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے آج وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کی پریس کانفرنس جس میں عمران خان کی رپوٹس پیش کی گئی تھیں اور دعوٰی کیا گیا کہ شراب اور کوکین کا انکشاف ہوا پر کہا کہ آج کی اس پریس کانفرنس کا کوئی طق نہیں بنتا تھا کیونکہ رپورٹس کا نتجہ 6 گھنٹے بعد آجاتا لہذا اسی وقت کیوں نہ کی گئی.”


    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ملک معاشی اور حکومتی کارکردگی کے طور پر ڈوب رہا ہے لیکن بدقسمت سے ملک میں سیاست ہو رہی ہے اور کسی کو ملک کی فکر نہیں ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابھی تک عمران خان پر کوئی پرچہ کیوں نہ ہوا کیونکہ پرچہ ہونا تو بہت ضروری ہے، جبکہ جیو فینسنگ ہوگئی اور لوگوں نے کہہ بھی دیا لیکن تاحال عمران خان کے نام کا پرچہ درج نہیں ہوا ہے جسکی وجہ یہ ہے کہ حکومت پر دباؤ آرہا ہے کہ وہ عمران خان کو باہر نکال دے اور آج جو عمران‌خان نے ٹوئیٹ کی ہے وہ اسی کی کڑی تھی اور جمائمہ کو بلیک میل کیا کیونکہ پیچھے وہ ساری کمپین کو چلا رہی ہے.


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی

    مبشر لقمان نے وزیر صحت کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت دراصل یہ تیاری کررہی ہے کہ اگر ہمیں کہیں کوئی سمجھوتہ کرنا پڑ جائے کیونکہ باہر سے بہت دباؤ ہے کہ انہیں باہر نکالا جائے کیونکہ جنہوں نے عمران خان پر ملکاور سی پیک کو تباہ کرنے کی انویسٹمنٹ کی تھی وہ اب اسے باہر لے جانا چاہتے ہیں. لقمان نے یہ بھی کہا کہ ہوسکتا کہ حکومت کو کہا جائے کہ آئی ایم ایف ڈیل فورا ہوجائے گی تو حکومت اس کے لیئے ایک گیپ رکھ رہی ہے.

    سینئر اینکر نے اپنے ولاگ میں مزید کہا کہ "عمران خان کی رپورٹ میں شراب 🍷 کے اثرات والی بات بالکل بے بنیاد ہے کیونکہ جو لوگ انہیں قریب سے جانتے ہیں ان کو پتا ہے کہ وہ ڈرنک نہیں کرتے اور میں یہ بات حلفا کہتا ہوں کہ پوری زندگی میں کہیں بھی شراب پیتے نہیں دیکھا ہے۔” علاوہ ازیں مبشر لقماننے کہا کہ اگلے کچھ دنوں میں کوئی سفیر جی ایچ کیو یا پھر وزیر اعظم سے ملنے جاتا ہے تو آپ سمجھ جائیں کہ پیچھے سے بلا کا دباؤ ہے.

  • جب تک سیاسی استحکام نہ ہوکسی ملک کی ترقی نہیں ہوسکتی. وزیر اعظم شہباز شریف

    جب تک سیاسی استحکام نہ ہوکسی ملک کی ترقی نہیں ہوسکتی. وزیر اعظم شہباز شریف

    جب تک سیاسی استحکام نہ ہوکسی ملک کی ترقی نہیں ہوسکتی. وزیر اعظم شہباز شریف

    وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نےہم پرکڑی شرائط لگائیں، تاہم تمام شرائط پوری کردی گئی ہیں، ہماری خواہش ہےکہ آئی ایم ایف پروگرام مکمل ہوجائے،چیئرمین ایف بی آرسےسخت ناراض ہوں،لیکن جب تک سیاسی استحکام نہ ہوکسی ملک کی ترقی نہیں ہوسکتی۔ کراچی میں تاجروں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ چین نےاپناکمرشل قرضہ بھی رول اوورکیا، دوست ممالک کی خواہش ہے کہ پاکستان ترقی کرے، دوست ممالک آج بھی ہمارے لیے اچھے جذبات رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے آئی ایم ایف سےمعاہدہ کرکےتوڑدیا،ہم نےحکومت سنبھالی توایسانہیں تھاکہ مہنگائی نہیں تھی،بلکہ مہنگائی عروج پر تھی،ملک میں ایک سال سےسیاسی عدم استحکام تھا اب بھی ہے،تیل کی بڑھتی قیمتوں نے مہنگائی میں مزید اضافہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پچھلےسال تاریخ کاسب سےبڑاسیلاب آیا،اس نےتباہی مچادی،وفاق نےسیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے100ارب روپےکاحصہ ڈالا،صوبائی حکومتوں نےعوام کی بحالی کیلئےاربوں روپےخرچ کیے۔

    انہوں نے کہا کہ سرمایہ کارپاکستان کیلئےاپنا سرمایہ رسک لےکر لگاتےہیں،سرمایہ کاروں کوپاکستان کاسفیرسمجھتاہوں،چیئرمین ایف بی آرسےسخت ناراض ہوں،لیکن جب تک سیاسی استحکام نہ ہوکسی ملک کی ترقی نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے سوال کیا کہ 9مئی جیساکبھی کسی نےوحشیانہ عمل کیا؟ 9مئی کووہ ہواجودشمن سوچ بھی نہیں سکتاتھا۔ دریں اثنا وزیر اعظم سےیواےای کے قونصل جنرل نے ملاقات کی ،وزیراعظم یواےای کے قونصل جنرل سےگرمجوشی سےملے، اورتعاون پرشکریہ اداکیا۔ ملاقات میں قونصل جنرل نے کہا کہ یواے ای پاکستانی تاجروں کی حوصلہ افزائی کررہاہے۔
    ……………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………..
    اس سے قبل وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ ملک میں جان بوجھ کر سیاسی افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، مل کرپاکستان کی کشتی کو کنارے لگائیں گے، چیلنجز ہیں مگر ہارنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا، تمام مسائل کو شکست فاش دیں گے۔ کراچی کے فور کے سنگ بنیاد کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کچھ گزارشات ہی جو آپ کےسامنےکروں گا ْ سب سے شاندار یہ تھا کہ اس شہر میں دو پارٹیوں کے رہنماوں نے میٹھی باتیں کیں، یہ باتیں ان کے دل سے نکل رہی تھیں، جو کہ صوبے کی ترقی کے لیے خوش آئند ہیں، اسی میں پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا راز مضمر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اتفاق اوراتحاد میں برکت ہے، چیلنجزکاسامنانہ کرتے تو صورت حال بالکل مختلف ہوتی ، ملک میں جان بوجھ کر سیاسی افراتفری پیداکرنےکی کوشش کی گئی، اس افراتفری کا 9 مئی کے واقعات پراختتام ہوا، 9 مئی کا دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن تھا، پارلیمان نےاتفاق واتحادکامظاہرہ کیا جس سے سازش دفن ہوئی۔ شہباز شریف نے کہا کہ اس سازش کے تانے بانے سمندر پار سے مل رہےتھے،عمران نیازی کے جتھوں نے تنصیبات پر حملے کئے وہ تاریخ کا سیاہ باب تھا، شہداء کے ورثا کو ملا تو تمام آنکھیں نم تھیں ،ان کےدل غمگین تھے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں جاری مسائل کو حل کرنے کے لیے یقین دلاتا ہوں تمام مسائل حل ہوں گے، مل کرپاکستان کی کشتی اورناو کوکنارےلگائیں گے، چیلنجز ہیں مگر ہارنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا، تمام مسائل کو شکست فاش دیںگے، ملک کو کھویاہوامقام دلائیں گے۔ سب سےزیادہ ٹیکسزدینےوالےشہرمیں پانی پرسیاست جائزنہیں، کام جاری وساری تھا چیئر مین واپڈا کو جانتا ہوں، اس منصوبےکومکمل کرنےکی بھرپورکوشش کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    انہوں نے کہا کہ مرادعلی شاہ نے بتایا کے فور پر سیاست کی گئی وہ انتہائی افسوس ناک ہے، کے فور نے کروڑوں کےعوام کو پینے کاپانی فراہم کرناہے، عمران خان کی فتنےپر مبنی سوچ تھی ،اگرمیں ہوں توسب کچھ ہے۔کرپشن کیس میں گرفتار ہوا تو کہہ دیا جلاؤ گھیراؤ کرو، 4سال چور ڈاکو کا نعرہ لگانے والا خود کرپشن کیس میں آیاہے، عمران خان کی فتنےپرمبنی سوچ تھی، اگرمیں ہوں توسب کچھ ہے۔

  • تحریک انصاف پر پابندی کیلئے ضروری شواہد اکھٹے کر رہے ہیں،وفاقی وزیر داخلہ

    تحریک انصاف پر پابندی کیلئے ضروری شواہد اکھٹے کر رہے ہیں،وفاقی وزیر داخلہ

    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جماعت پر پابندی لگانے کا فیصلہ پر غور کر رہے ہیں، کچھ ضروری شواہد اکھٹے کر رہے ہیں جیسے ہی مل جائیں گے فوراََ پابندی لگا دی جائے گی

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کے گھر پر چھاپے مارے جا رہے ہمارے علم میں نہیں ہے، چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنے کی اجازت ہم نہیں دیتے اور میں اس پر مذمت کرتا ہوں ،جو لوگ پارٹی چھوڑ رہے ہیں وہ باقاعدہ پارٹی پر چارج شیٹ لگا رہے ہیںپارٹی چھوڑنے والے لوگوں کے ساتھ کوئی زور زبردستی نہیں کی جا رہی ہے، فیاض الحسن چوہان سمیت پارٹی کے اپنے لوگ عمران خان کی اصلیت سامنے لے کر آرہے ہیں ،وہ لوگ سمجھتے ہیں اور سمجھ گئے ہیں 9 مئی کے واقعات میں نفرت کی سیاست کو پروان چڑھایا جا رہا ہے جماعت چھوڑنے والوں کا ضمیر جاگ گیا ہے ،دباو ہو تو پارٹی چھوڑیں مگر عمران خان کی حقیقت نہ سب کے سامنے لے کر ائیں،

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    دوسری جانب تحریک انصاف پر پابندیوں کے حوالہ سے تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر علی ظفر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر تحریک انصاف پر پابندی لگی تو عدالت جائیں گے اور ایک ہی دن میں عدالت حکومت کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دے گی،توڑ پھوڑ انفرادی عمل ہے اس بنیاد پر کسی جماعت پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، ماضی میں جماعت اسلامی پر بھی پابندی لگانے کی کوشش کی گئی تھی، سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ آپ کسی سیاسی جماعت پرپابندی نہیں لگا سکتے

  • 190 ملین پاؤنڈزسکینڈل،عمران اور بشریٰ نے ذاتی حیثیت میں فائدہ اٹھایا،برطانوی تنظیم

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل،عمران اور بشریٰ نے ذاتی حیثیت میں فائدہ اٹھایا،برطانوی تنظیم

    برطانوی تنظیم نے کہا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا ہے

    دی نیوز میں مرتضیٰ علی شاہ کی شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے اسپاٹ لائٹ آن کرپشن نے کہا ہے کہ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی اور تحریک انصاف کی حکومت کے 190؍ ملین پاؤنڈز کے کرپشن کے پیسے کے حوالے سے ہونے والی ڈیل میں بظاہر سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بیگم نے ذاتی حیثیت میں فائدہ اٹھایا ہے ،اینٹی کرپشن این جی او اسپاٹ لائن آن کرپشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سوزن ہاولی نے عمران خان کی حکومت کے ساتھ مشکوک ڈیل کرنے پرعدم شفافیت اور فیصلہ سازی میں کوتاہی پر این سی اے پر تنقید کی ، سوزن ہاولی کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈز کا معاہدہ برطانیہ کی این سی اے اور حکومت پاکستان کے درمیان کرپٹ لین دین کی وجہ سے ہوا اس ڈیل کیلئے این سی اے اور پی ٹی آئی حکومت کے احتساب وزیر شہزاد اکبر کے درمیان معاہدہ ہوا تھا، جنہیں عمران خان نے اجازت دی تھی کہ برطانوی حکام کے ساتھ ڈیل کو حتمی شکل دیں۔

    دی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے سوزن ہاولی نے کہا کہ این سی اے کی جانب سے خفیہ طور پر پاکستان میں پراپرٹی کے کاروبار کی نامور شخصیت کے ساتھ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ این سی اے او میں درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت تھی اور نہ ہی شفافیت ، جس معاہدے کو این سی اے نے انٹرنیشنل کرپشن کی روک تھام کے معاملے میں اپنی کامیابی کی گواہی قرار دیا تھا وہ دراصل کرپشن کا ہی نتیجہ تھا یہ معاہدہ اس وقت کی پاکستانی حکومت نے کیا تھا اور بظاہر اس سے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو نجی حیثیت میں فائدہ ہوا ہے ، انہوں نے کہا کہ معاہدے کے نتیجے میں پاکستان میں پراپرٹی کاروبار سے وابستہ بڑی شخصیت کو بے گناہ قرار دیا گیا اور وہ پاکستان میں جرمانوں سے بچ گئے اور اس طرح انہیں تقریباً مکمل معافی مل گئی ، یہ پاکستان کے عوام ہیں جنہیں اس سارے افسوس ناک معاملے میں نقصان ہوا جبکہ برطانیہ بدستور پاکستان اور دیگر ملکوں کی کرپٹ اشرافیہ کیلئے ایک محفوظ مقام بنا ہوا ہے

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

  • سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں،چیف جسٹس

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ،مبینہ آڈیو لیکس تحقیقاتی کمیشن کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی، وفاقی حکومت نے پانچ رکنی لارجر بنچ پر اعتراض اٹھا دیا ،حکومت کی جانب سے اعتراض اٹارنی جنرل نے کیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیف جسٹس کو اس بنچ میں شامل نہیں ہونا چاہیے، بنچ سے الگ ہونے کا فیصلہ کرنا چیف جسٹس کا استحقاق ہے، مناسب یہی ہے کہ چیف جسٹس اس مقدمے کو نہ سنیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنچ پر اعتراض کا آپ کو پورا موقع دیا جائے گا، 9 مئی کے سانحے کے بعد عدلیہ کے خلاف بیان بازی بند ہو گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے انتظامی اختیار میں مداخلت نہ کریں ہم حکومت کا مکمل احترام کرتے ہیں،عدلیہ بنیادی انسانی حقوق کی محافظ ہے،حکومت نے چیف جسٹس کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کی قانون سازی جلدی میں کی،
    حکومت کسی جج کو اپنی مرضی کے مطابق بینچ میں نہیں بٹھا سکتیاگر آپ نے ہم سے مشورہ کیا ہوتا تو ہم آپ کو بتاتے،9 مئی کے واقعہ کا فائدہ یہ ہوا کہ جوڈیشری کے خلاف جو بیان بازی ہو رہی تھی وہ ختم ہو گئی،حکومت ہم سے مشورہ کرتی تو کوئی بہتر راستہ دکھاتے ،آپ نے ضمانت اور فیملی کیسز کو بھی اس قانون سازی کا حصہ بنا دیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن میں نامزدگی کیلئے مشاورت بھی نہیں کی گئی عدلیہ میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی گئی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے عدلیہ میں تقسیم کی کوشش نہیں کی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اگر کوشش نہیں کی تو بھی ایسا ہوا ضرور، ہر بات کھل کر قانون میں نہیں دی گئی ہوتی، آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے، آرٹیکل 175 کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، عدلیہ اصلاحات بل کس کے مشورے سے لایا گیا؟ حکومت نے فیملی سمیت ہر مقدمہ ہی کمیٹی کو بھجوا دیا تھا، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدلیہ اصلاحات بل کیس میں بھی فل کورٹ کی استدعا کی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کی استدعا خود عدلیہ اصلاحات بل کیخلاف ہے، عدلیہ اصلاحات قانون خود کہتا ہے 184/3 کے مقدمات پانچ رکنی بنچ سنے گا، اگر لارجر بنچ نے اپیل سننی ہو تو ججز کئی دستیاب نہیں ہونگے،ہمارے انتظامی امور میں مداخلت کرینگے تو کیسے ریلیف ملے گا؟

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدلیہ اصلاحات بل پر اعتراض دور کر دینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اعتراض دور کریں کس نے روکا ہے؟ اعتراضات دور ہوگئے تو شاید ریلیف بھی مل جائے، آٹھ رکنی بنچ بنانے کی یہی وجہ ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اختیارات سے متعلق قانون میں حکومت نے پانچ ججز کے بینچ بنانے کا کہہ دیا، نئے قانون میں اپیل کیلئے پانچ سے بھی بڑا بینچ بنانے کا کہہ دیا،ہمارے پاس ججز کی تعداد کی کمی ہے، حکومت بتائے اس نے سپریم کورٹ کے بارے میں قانون سازی کرتے وقت کس سے مشورہ کیا، سپریم کورٹ کے انتظامی امور میں پوچھے بغیر مداخلت ہوگی تو یہ ہوگا،ہمیں احساس ہے کہ آپ حکومت پاکستان کے وکیل ہیں، تمام اداروں کو مکمل احترام ملنا چاہیے، یہ سب انا کی باتیں نہیں آئین کی باتیں ہیں،آئین اختیارات کی تقسیم کی بات کرتا ہے،

    دوران سماعت 9 مئی کے واقعات کا بھی تذکرہ ہوا،. چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل نفیس آدمی ہیں آپکا اور حکومت کا احترام کرتے ہیں،اب شدت سے سب کو احساس ہو رہا ہے کہ اداروں کا احترام ضروری ہے، 9 مئی کے واقعات کا فائدہ عدلیہ کو ہوا،عدلیہ کو فائدہ ایسے ہوا کہ ہمارے خلاف ہونے والی بیان بازی رک گئی، بدقسمتی سے عدلیہ کیخلاف بیان بازی رکنے کیلئے اتنے بڑے سانحہ کی ضرورت پڑی،ہر آئینی و قانونی ادارے کا تحفظ اور احترام ضروری ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اگر جھگڑا کرنا ہے تو تیاری کرکے آئیں،سپریم کورٹ کے انتظامی اختیارات میں مداخلت بند کی جائے،عدلیہ وفاقی حکومت کا حصہ نہیں ، ہم انا کی بات نہیں آئین کی بات کر رہے ہیں ،

    صدر سپریم کورٹ بار کے وکیل شعیب شاہین نے درخواست پر دلائل کا آغاز کر دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں آڈیو لیک کمیشن کی تشکیل میں مشاورت کا حصہ نہیں تھا۔ معاملہ آپ سے متعلقہ تھا اس لئے سینئر جج کو کمیشن کا سربراہ بنایا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس ادارے کا سربراہ ہوتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ 2017 کے قانون کے مطابق چیف جسٹس سے مشاورت ضروری نہیں ،کمیشن کی تشکیل کا 2017 کا قانون کسی نے چیلنج نہیں کیا۔ا چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو آئینی روایات کی پاسداری کرنی چاہیے کمیشن کی تشکیل کیلئے مشاورت کا 1956 کے قانون میں بھی نہیں لکھا تھا۔ وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ساری آڈیو ایک ہی ٹوئیٹر اکاونٹ سے جاری ہوتی ہے۔آڈیو لیک ہونے کے بعد وفاقی وزراء اس پر پریس کانفرنسز کرتے ہیں۔ ٹوئیٹر پر ہیکر کے نام سے گمنام اکاونٹ ہے،ہیکر کے نام سے اکاونٹ سے آڈیو ویڈیو ریلیز ہوتی ہیں۔یہ اکاونٹ ستمبر 2022 میں بنایا گیا۔ فروری 2023 سے گمنام اکاؤنٹ سے آڈیو ویڈیوز لیک ہوئی۔ ہماری درخواست کمیشن کی تشکیل کیخلاف ہیں۔ فون ٹیپنگ بذات خود غیر آئینی عمل ہے، انکوائری کمیشن کے ضابطہ کار میں کہیں نہیں لکھا کہ فون کس نے ٹیپ کیے، حکومت تاثر دے رہی ہے فون ٹیپنگ کا عمل درست ہے،حکومت تسلیم کرے کہ ہماری کسی ایجنسی نے فون ٹیپنگ کی،

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فون ٹیپنگ پر بے نظیر بھٹو حکومت کیس موجود ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں بھی اصول طے کیے ہیں، کس جج نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اس کا تعین کون کرے گا؟ وکیل شعیب شاہین نے کہاکہ آرٹیکل 209 کے تحت یہ اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کا اختیار انکوائری کمیشن کو دے دیا گیا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹیلی فون پر گفتگو کی ٹیپنگ غیر قانونی عمل ہے، آرٹیکل 14 کے تحت یہ انسانی وقار کے بھی خلاف ہے اس کیس میں عدلیہ کی آزادی کا بھی سوال ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ حکومت پہلے تسلیم کرے کہ آڈیوز اس کے اداروں نے ریکارڈ کرکے لیک کی ہیں، اگر آڈیوز کی ریکارڈنگ قانون کے مطابق ہے تو اعتراض نہیں،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ فرض کیا گیا ہے کہ ریکارڈنگ قانون کے مطابق کی گئی،سپریم کورٹ کا بینظیر بھٹو کیس میں 1998 کا فیصلہ کچھ اور کہتا ہے، فیصلے کے مطابق کالز کی ریکارڈنگ عدالت کی اجازت سے ہی ہوسکتی ہیں، ججز کی آڈیوز کو بطور شواہد تسلیم کرکے مس کنڈکٹ کا تعین کیا جا رہا ہے، کیا اب کمیشن سفارش کرے گا کہ جج مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا ہے؟فیئر ٹرائل ایکٹ بھی ریکارڈنگ کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ریکارڈنگ پیکا ایکٹ 2016 اور ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 1996 کی بھی خلاف ورزی ہے، بینظیر بھٹو کیس بھی 1996 کے قانون کی خلاف ورزی پر بنا تھا، فیئرٹرائل ایکٹ کے مطابق مشکوک افراد کی ریکارڈنگ کی جا سکتی ہے، ریکارڈنگ کیلئے متعلقہ پولیس یا حساس ادارے کا مجاز افسر درخواست دے سکتا ہے،مشکوک افراد کا متعلقہ کیس سے تعلق ہونا بھی ضروری ہے،قانون کے مطابق جاسوسی کے اجازت نامہ پر دستخط ہائی کورٹ کا جج کر سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس فائز عیسی کیس میں بھی قرار دیا گیا کہ ججز کی جاسوسی قانون کیخلاف ہے، جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم سوال عدلیہ کی آزادی کا ہے، کالز ریکارڈنگ آئین کے آرٹیکل 14 کی بھی خلاف ورزی ہے،

    وکیل شعیب شاہین نے عدالت میں کہا کہ ایک نجی چینل نے ایک ادارے کے سربراہ کی ویڈیو چلائی تو اس پر دس لاکھ کا جرمانہ ہوا، نجی چینل نے کہا ہمیں انفارمیشن ملی اور ہم نے چلایا،ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا جب تک تصدیق نہ ہو آڈیو ویڈیو نہیں چلائی جاسکتی ہے، اگر ایسی آڈیو ویڈیو کسی دشمن تک پہنچ جائے تو ملک کی کیا عزت رہے گی،اس وقت عدلیہ کو سب سے زیادہ کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،اس وقت تمام لوگوں کی توجہ کا مرکز عدلیہ ہے، عوام کا ہجوم اب خود انصاف کرنے لگا ہے، کمیشن نے پورے پاکستان کو نوٹس کیا کہ جس کہ پاس جو مواد ہے وہ جمع کروا سکتا ہے،کوئی قانونی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا کہ کمیشن کا قیام آرٹیکل 209کی بھی خلاف ورزی ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ سپریم کورٹ افتحار چوہدری اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں فیصلے دے چکی ہے آرٹیکل 209 ایگزیکٹو کو اجازت دیتا ہے کہ صدراتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج سکتی ہے،جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججز کے خلاف مواد اکٹھا کر کے مس کنڈیکٹ کیا ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ جس ملک کا عدالتی نظام مضبوط ہوتا ہے وہاں حقوق کا تحفظ ہوتا ہے، اگر ہم تماشائی بن کر بیٹھے رہے گے تو ریاستی ادارے تباہ ہو جائیں گے، کمیشن اپنے ٹی او آرز سے باہر نہیں جا سکتا ہے، یہ بھی دیکھنا ہو گا یہ آڈیوز ریکارڈ کس نے کی ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے آئین میں اختیارات کی تقسیم کی خلاف ورزی کی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے انکوائری کمیشن نے ہر کام جلدی میں کیا ہے جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز اپنی مرضی سے کیسے کیمشن کا حصہ بن سکتے ہیں،میٹھے الفاظ استعمال کر کے کور دینے کی کوشش کی جارہی ہے بظاہر اختیارات کی تقسیم کے آئینی اصول کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے، یہ انتہائی پریشان کن صورتحال ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب یہ آڈیو چلائی جا رہی تھی تو کیا حکومت یا پیمرا نے اسے روکنے کی کوئی ہدایت جاری نہیں کی؟ وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ پیمرا نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی، حکومت نے بھی پیمرا سے کوئی بازپرس نہیں کی،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پیمرا کی حد تک عدالت سے متفق ہوں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کی تقسیم کے آئینی اصول سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے، عدلیہ کی آزادی کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں، آج ہی عبوری ریلیف اور سماعت پر حکمنامہ جاری کرینگے،سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے حکومت نے کمیشن جلد بازی میں بنایا،جلد بازی میں کیے گئے کام اکثر غلط ہو جاتے ہیں،آرٹیکل 209 کا معاملہ بھی بہت اہمیت کا حامل ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ کمیشن کے آرڈر میں ذکر نہیں آڈیو کیسے ریکارڈ کی گئی کمیشن اپنے ٹی او آرز کا پابند ہے کمیشن نے پہلے اجلاس پر پورے پاکستان کو بزریعہ اشتہار نوٹس جاری کردیا، آڈیوز کو کس نے بنایا وہ کسی کو معلوم نہیں۔ معاملہ کے جائزہ کیلئےکمیشن کی کاروائی کو معطل کر دیا جائے۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس دائر کرنا ایگزیکٹیو کا اختیار ہے۔ جج سے متعلق معاملہ تو پہلے ہی جوڈیشل کونسل میں زیر التواء ہے۔ بظاہر یہ معاملہ اختیارت کی تقسیم کے آئینی اصول سے منافی ہے۔ جج کیخلاف انکوائری صرف جوڈیشل کونسل کر سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس انکوائری کمیشن نے تحقیقات کیلئے طلبی کے نوٹس جاری کرنا شروع کردیے 4 شخصیات کو 27 مئی کو طلب کرلیا گیا ہے جن میں صدر سپریم کورٹ بارعابد زبیری اور خواجہ طارق رحیم ایڈوکیٹ بھی شامل ہیں انکوائری کمیشن کا اجلاس 27 مئی کی صبح 10 سپریم کورٹ میں ہو گا۔

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا ہے، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کمیشن میں بلوچستان ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شامل ہیں۔

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

  • چین سے 2.3 ارب ڈالر کا مزید قرض ملنے کا امکان

    چین سے 2.3 ارب ڈالر کا مزید قرض ملنے کا امکان

    پاکستان کے مشکل معاشی حالات کیلئے اچھی خبر، چین سے 2.3 ارب ڈالر کا مزید قرض ملنے کا امکان ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو قرض واپسی میں بھی مزید مہلت ملنے کا امکان ہے, چین سے 1.3 ارب ڈالر کے تجارتی قرضوں کی ری فنانسنگ کیلئے ملنے کا امکان ہے ایک ارب ڈالر چینی حکومت کے فنڈز سے پاکستان دیئے جائیں گے,پاکستان کو دوست ممالک سے 400 ملین ڈالر تک کی امداد ملنے کا امکان ہے پاکستان کو جون کے آخر تک 3.7 ارب ڈالر کا قرضہ واپس کرنا ہے ،ملکی زر مبادلہ کے ذخائر 4.3 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ چکے ہیں,

    واضح رہے کہ پاک چین دوستی گہری، بے مثال ہے،چین کی قیادت نے محنت،عزم اورجذبے کے ساتھ ترقی کی منزل حاصل کی ہے چین ترقی پذیر ریاستوں کیلئے بدعنوانی سے چھٹکارا پانے اور اپنے عوام کو غربت سے نکال کر خوشحالی کی طرف لیجانے کیلئے رول ماڈل ہے۔ چینی قوم نے اپنی عظیم لیڈر شپ میں غربت،بے روزگاری اور کرپشن کیخلاف کامیاب جدوجہد کی ہے۔چین پاکستان کاسب سے زیادہ با اعتماد دوست ملک ہے۔ پاک چین دوستی پوری دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔چین آزمائش کی ہر گھڑی میں پاکستان کا ساتھ کھڑا رہاہے۔ پاکستان اور چین عالمی امور، امن پسندی اور باہمی احترام کے حوالے سے یکساں موقف رکھتے ہیں۔ پاک چین ناقابل تسخیر دوستی اور سٹریٹجک شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

    دوسری جانب آئی ایم ایف کے مطالبے پر منی بجٹ کے ٹیکسز 2023,24 میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق فروی میں منی بجٹ کے ذریعے لائے گئے میں 177 ارب روپے کے ٹیکسز برقرار رہیں گے, حکومت کو منی بجٹ کے ٹیکسز برقرار رکھنے سے 5 سو ارب روپے کی اضافی آمدنی ہوگی, سیلز ٹیکس کی شرح کو 18 فیصد پر برقرار رکھا جائے گا ،لگژری اشیاء پر 25 فیصد سیلز ٹیکس برقرار رہے گا,سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 سے 20 فیصد اضافے کی تجویز ہے,بجٹ 2023.24 میں نان فائلرز کی کڑی نگرانی کا فیصلہ کیا گیا ہے, نان فائلرز سے لین دین کرنے والوں کی بھی سخت ماںیٹرنگ کی جائے گی ،ٹیکس چوروں کے خلا ف آرٹیفیشل انٹیلی جنس استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے, ٹیکس نظام کو ڈیجٹلائز کر کے ٹیکس آمدن بڑھائی جائے گی,ایف بی آر کو ٹیکس فائلرز کی تعداد بڑھانے کا بھی ہدف دیا گیا ہے,

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

     10 مئی کو عمران خان پر فرد جرم عائد کی جائے گی،

     عمران خان کو سی ٹی ڈی نے طلب کر لیا۔