Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیراعظم شہباز شریف کی برطانوی وزیراعظم رشی سونک  سے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف کی برطانوی وزیراعظم رشی سونک سے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف نے لندن میں برطانیہ کے شاہ چارلس سوم اور وزیر اعظم رشی سونک سے ملاقات کی ہے اور یہ ملاقات دولت مشترکہ کے رہنماؤں کے اجلاس کے موقع پر ہوئی ہے۔ وزیراعظم نے برطانوی بادشاہ کی تاج پوشی کی تقریب کے شاندار انتظامات پر مبارک باد دی جبکہ انہوں نے پاکستان میں تباہ کن سیلاب میں برطانیہ کی مدد کو سراہا اور شکریہ ادا کیا۔


    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور برطانیہ کو مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ جبکہ اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے تعلقات بڑھانے کے لیے مشترکہ کمیشن کے قیام کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ کمیشن کی سربراہی دونوں ممالک کے سربراہان کریں۔

    خیال رہے کہ برطانوی بادشاہ چارلس (سوم) کی تاجپوشی کی شاہی تقریب کل ویسٹ منسٹر ایبے میں ہوگی جبکہ برطانوی میڈیا کے مطابق تقریب تاجپوشی میں شرکت کیلئے بادشاہ چارلس کا قافلہ صبح برطانوی وقت کے مطابق 10 بج کر 20 منٹ پر بکھنگم پیلس سے ویسٹ منسٹرایبے کیلئے روانہ ہوگا۔ بادشاہ چارلس اور ملکہ کمیلا پارکر ڈائمنڈ جوبلی سٹیٹ کوچ میں سوار ہوں گے، جسے چھ ونڈسر گرے گھوڑے کھینچیں گے، اسٹیٹ کوچ کے گرد بادشاہ کے محافظ موجود ہوں گے۔

    بادشاہ چارلس کا قافلہ بکھنگم پیلس سے 2 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے صبح 11 بجے ویسٹ منسٹر ایبے پہنچے گا۔ صبح گیارہ بجے ویسٹ منسٹر ایبے میں تقریب تاجپوشی کا آغاز ہوگا، بادشاہ چارلس کو دن 12 بجے تاج پہنایا جائے گا۔ برطانوی بادشاہ چالس کی تاجپوشی کے بعد چرچ آف انگلینڈ کے پادریوں اور کینٹربری کے آرچ بشپ جسٹن ویلبی کی قیادت میں چرچ سروس ہوگی جو ایک بجے تک جاری رہے گی۔

  • بھارت نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام نہیں کرتا۔ بلاول بھٹو زرداری

    بھارت نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام نہیں کرتا۔ بلاول بھٹو زرداری

    بھارت نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام نہیں کرتا۔ بلاول بھٹو زرداری

    پاکستانی وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام نہیں کرتا ہے واضح رہے کہ بھارتی شہر گوا میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کانفرنس میں شرکت کے بعد وطن واپسی پر وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس کی اور پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔ جسمیں وزیر خارجہ نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں شرکت کا مقصد پاکستان کا مقدمہ دنیا اور ممبر ممالک کے سامنے رکھنا تھا اس حوالے سے دورہ کامیاب رہا۔ جہاں تک کشمیر کی بات ہے تو کشمیر کے معاملے پر ہمارے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کا معاملہ ہم نے اٹھایا۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے بھارت کب تک کشمیر میں حق رائے دہی سے بھاگتا رہے گا، انڈیا نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام نہیں کرتا، اگر یہ فیصلہ کرلیں کہ ان کی شکل پسند نہیں تو بات چیت اپنی جگہ ہم کسی پلیٹ فارم پر نہیں جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ دوطرف تعلقات یا باہمی اختلافات پر کھل کر تو بات نہیں ہوسکتی تاہم ڈپلومیٹک طور پر دائرے میں رہتے ہوئے ہم نے اپنا مؤقف پہنچایا۔

    بلاول نے کہا کہ جہاں تک دہشت گردی کی بات ہے تو بھارت میں بے جے پی کی کوشش رہی ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیا جائے۔ اگر مسلمان ہندوستان کے ہوں یا پاکستان کے وہ سب کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں ہم نے کوشش کی کہ مسلمانوں سے متعلق گمراہ کن خیالات کو تبدیل کیا جائے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ جیو پولیٹیکس کے کھیل کا حصہ بنیں گے تو شہری مرتے رہیں گے، دونوں ممالک کو فیصلہ کرنا ہے کہ کیا دہشتگردوں کو عوام کی قسمت کا فیصلہ کرنے دیں گے یا دونوں ملک کی حکومتیں خود فیصلہ کریں گی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان ہو یا بھارت جہاں کوئی شہری دہشتگردی کا شکار ہو مجھے دکھ ہوتا ہے، پاکستان تو خود دہشتگردی سے متاثر ہوا ہے۔ بھارت سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ اگر ان کی نفرت عروج پر پہنچ گئی تو میں کیا کرسکتا ہوں۔

    اس سے قبل وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ پاکستان کا کشمیرسے متعلق ٹھوس اور واضح مؤقف ہے، بھارت کو کشمیر سے متعلق 4 اگست 2019 کی صورتحال پر واپس آنا ہوگا، بھارت کو بات چیت کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ گوا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھاکہ اجلاس کے موقع پرمختلف وزرائےخارجہ سے ملاقات ہوئی، ایک کے سوا تمام وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں۔ جبکہ ان کا مزید کہنا تھاکہ 5 اگست 2019 کوبھارت نے غیرقانونی اقدامات کیے، 2019 کے اقدامات سے بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی، بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدام نے دونوں ممالک کے حالات کو تبدیل کردیا۔

    وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ کشمیرکے بارے میں پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں، پاکستان کا کشمیرسے متعلق ٹھوس اور واضح مؤقف ہے، بھارت کے یک طرفہ اقدامات سے تعلقات متاثرہوئے، بھارت کو کشمیر سے متعلق 4 اگست 2019 کی صورتحال پر واپس آنا ہوگا، بھارت کوبات چیت کےلیے سازگارماحول پیدا کرنا ہوگا، پاکستان اوربھارت کے عوام امن چاہتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ سے آن کیمرا ہاتھ ملانے میں مجھے کوئی مسئلہ نہیں، یہ بھارتی وزیر سے ہی پوچھا جائے، بھارتی وزیر خارجہ اور میرا ایک ہی طریقے سے ایک دوسرے کو سلام کرنا میرے لیے خوشی کی بات ہے، بھارتی وزیر خارجہ سب سے ایک ہی طریقے سے ملے۔ کھیلوں سے متعلق سوال پر وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ بھارت میں بلائنڈ کرکٹ میچ ہورہا تھا، اس میں پاکستانی ٹیم کوجانا تھا مگر ویزہ نہیں مل سکا، بھارت کیوں پاکستان کی بلائنڈ کرکٹ ٹیم سے ڈرتا ہے؟ کھیل کو سیاست اور خارجہ پالیسی سے الگ رکھنا چاہیے۔

  • وزارت عظمیٰ سے ہٹانے میں ثاقب نثار، محمد بشیر، اور فیض حمید ملوث ہیں۔ میاں نواز شریف کا الزام

    وزارت عظمیٰ سے ہٹانے میں ثاقب نثار، محمد بشیر، اور فیض حمید ملوث ہیں۔ میاں نواز شریف کا الزام

    وزارت عظمیٰ سے ہٹانے میں ثاقب نثار، محمد بشیر، اور فیض حمید ملوث ہیں۔ میاں نواز شریف کا الزام

    پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سماء ٹی وی کے پروگرام ندیم ملک لائیو کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا کہ یہ ویڈیو ملاحظہ فرمائیں، یہ ہے پاکستان کی تباہی کی اصل سازش جبکہ کیپشن میں مزید لکھا کہ منتخب وزیر اعظم کے خلاف سازش رچانے، وزارت عظمیٰ سے ہٹانے، سزا دینے میں ثاقب نثار اور انکا بینچ، نیب کورٹ کے جج محمد بشیر، جنرل باجوہ اور فیض حمید ملوث ہیں۔


    ٹویٹر کے کیپشن پر نواز شریف نے لکھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کا Suo Moto نوٹس لیتے ہیں تو کیا پاکستان کے ساتھ ہونے والے اس بھیانک ظلم پر بھی کوئی از خود نوٹس لیا جائے گا؟ کیا یہ مجرم کبھی عدالت میں بلائے جائیں گے ؟ علاوہ ازیں انہوں نے لکھا کہ کیا جنرل فیض حمید اور ثاقب نثار سے پوچھا جائے گا کہ جسٹس شوکت صدیقی کو بینچ سے کیوں ہٹایا گیا ؟ جنرل فیض حمید نے جسٹس شوکت صدیقی کے گھر دو مرتبہ جاکر کیوں کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو سزا دینا قومی مفاد میں ہے اور اگر انہیں ضمانت ملی تو ہماری دو سال کی محنت ضائع ہوجائے گی ؟ یہ دو سال کی محنت کیا تھی اور نواز شریف کو سزا دلوانے میں کونسا قومی مفاد تھا ؟

    سماء کے مطابق سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ کیا جنرل فیض حمید سے پوچھا جائے گا کہ جسٹس صدیقی کو کیوں کہا کہ نیب کورٹ میں سزا تو ہونی ہی ہونی ہے اب صرف سزا کی مدت طے ہونا باقی ہے؟ انکو کیسے معلوم تھا کہ سزا تو ہونی ہی ہونی ہے؟ کیا جج محمد بشیر سے پوچھا جائے گا کہ جنرل فیض حمید کو کیسے علم تھا کہ سزا تو ہونی ہی ہونی ہے ؟
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    نواز شریف نے لکھا کہ کیا انور کاسی سے سوال کیا جائے گا کہ انہوں نے جسٹس صدیقی کو کیوں بینچ سے ہٹایا اور کہا کہ خاموش رہیں یہ اوپر سے حکم ہے؟ اوپر سے حکم کس کا تھا ؟ کیا اعجاز الاحسن سے بھی پوچھا جائے گا کہ انھوں نے بطور مانیٹرنگ جج اس انصاف کے قتل میں کیا مانیٹرنگ کی تھی جو آج تک چلتی ہی جا رہی ہے؟ کیا جنرل باجوہ سے پوچھا جائے گا کہ انکی سرپرستی اور ناک کے نیچے جنرل فیض یہ سب کچھ کیسے کرتا رہا ؟

  • پاکستان میں توقع سے بڑھ کر پیار ملا، بھارتی برج ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    پاکستان میں توقع سے بڑھ کر پیار ملا، بھارتی برج ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    پاکستان برج فیڈریشن کے صدر مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے کہ بھارت سمیت دیگر ممالک کی ٹیمں برج کھیلنے کے لئے پاکستان آئی ہیں،

    مقامی ہوٹل میں پاکستان برج فیڈریشن کے زیر انتظام برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ میں شرکت کے لئے آئی بھارتی ٹیم کے کپتان کے ہمراہ مبشر لقمان نے پریس کانفرنس کی ہے، بھارتی برج فیڈریشن کی ٹیم کے کپتان رنجن بھٹہ چاریا کا کہنا تھا کہ پاکستان آ کر خوشی ہوئی، ہمیں جو محبت اور پیار پاکستان سے ملا ہم اسے فراموش نہیں کر سکتے، مبشر لقمان اور پاکستان برج فیڈریشن کے مشکور ہیں جن کی کوشش کی وجہ سے آج ہم لاہور آئے اور ہم یہاں کھیلنے کے لئے آئے ہیں،برج ایک دماغ کی گیم ہے، ہم کھیلنے کے لئے پرجوش ہیں، بھارت سے خواتین اور سینئر کی ٹیم بھی آئی ہے، پاکستان آ کر بہت اچھا لگا، ایسے لگ رہا ہے کہ ہم انڈیا میں ہی ہیں، بھارتی برج فیڈریشن کی ٹیم کے کپتان رنجن بھٹہ چاریا کا کہنا تھا کہ پاکستان برج فیڈریشن کی طرف سے ہمارا بہت گرمجوشی سے خیر مقدم کیا گیا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی کھلاڑیوں کو پاکستان مدعو کرنے پر مبشر لقمان اور پاکستان برج فیڈریشن کا شکریہ ادا کیا۔

    پاکستان برج فیڈریشن کے صدر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ کی میزبانی کر رہا ہے، یہ ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے کہ بھارت سمیت کئی ممالک کی ٹیمیں پاکستان آئی ہیں اور چیمپئن شپ میں حصہ لے رہی ہیں، پاک بھارت تعلقات جیسے بھی ہوں گیم کو گیم کے طور پر ہی رہنا چاہئے اور کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع فراہم کرنا چاہئے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بھارتی ٹیم واہگہ کے راستے لاہور پہنچی، 30 رکنی ٹیم کو میں نے خود ریسیو کیا، حکومت نے فول پروف سیکورٹی فراہم کی، ہماری کوشش ہے کہ پاکستان آنیوالی ٹیمیں پاکستانی کلچر کو دیکھیں، لاہور گھومیں اور پاکستانیوں کو قریب سے دیکھیں،

    واضح رہے کہ پاکستان برج فیڈریشن کے تحت برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ 2023 کا آغاز ہو گیا،برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ کی افتتاحی تقریب لاہور کے مقامی ہوٹل میں ہوئی ،افتتاحی تقریب میں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ کے صدربحجت ماجالی،وفاقی وزیر وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ احسان الرحمان مزاری،پاکستان برج فیڈریشن کے صدر مبشر لقمان،پاکستان برج فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل احسان قادرو دیگر موجود تھے، تقریب کے دوران کمیلا عالمگیر کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا

    برج گیم میں جوا اور پیسے نہیں لگتے:برج پلیئرغیاث ملک ، جہانگیر اور سعید اختر

    سپریم نیشنل برج چیمپئن شپ:باغی ٹی وی ٹیم کی شاندار کاکردگی

    مبشر لقمان پاکستان برج فیڈریشن کے صدر منتخب

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ، بھارتی ٹیم لاہور پہنچ گئی

    پاکستان 2007 اور 1985 میں بھی برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ کی میزبانی کر چکا ہے،لاہور،کراچی، اسلام آباد میں برج کے ٹرائلز کے بعد بنائی گئی ٹیم برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کرے گی، برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ میں کامیابی حاصل کرنے والی دو ٹیمیں رواں برس کے آخر میں ورلڈ برج چیمپئن شپ کے مقابلے میں شریک ہوں گی،

  • شنگھائی تعاون تنظیم کا علاقائی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ہے ،بلاول

    شنگھائی تعاون تنظیم کا علاقائی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ہے ،بلاول

    پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایس سی او اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی میرے لیے اعزازکی بات ہے پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کو اہم علاقائی پلیٹ فارم سمجھتا ہے

    بھارتی شہر گوا میں ہونیوالی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس سے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کو خصوصی اہمیت دیتا ہے تمام رکن ممالک کے مفادات ایک دوسرے کیساتھ جڑے ہوئے ہیں رکن ممالک دیرینہ تاریخی، ثقافتی، تہذیبی اور جغرافیائی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں شنگھائی تعاون تنظیم کا علاقائی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ہے رکن ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کر کے خطے کی ترقی کی رفتار بڑھا سکتے ہیں ہم ستمبر 2023 میں علاقائی خوشحالی کیلئے ٹرانسپورٹ کنیکٹیوٹی کانفرنس کی میزبانی کے منتظر ہیں

    بلاول بھٹو نے گذشتہ سال ملک میں شدید سیلاب سے ہونیوالی تباہی سے کانفرنس کے شرکا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا بڑا چیلنج درپیش ہے بھارت کا ایک تہائی حصہ پانی کے نیچے ہوتا تو کیا صورتحال ہوتی چین میں کیا ہوتا جب ہر 7 میں سے ایک شخص راتوں رات موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہوتا یہ سب میرے لوگوں کیلئے پچھلے سال ایک حقیقت تھی ، ہم بڑی قیمت پر اپنی زندگیوں کی تعمیر نو کر رہے ہیں غربت اب بھی اس خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے،مشترکہ کوششوں اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھ کر ہی اس پر قابو پا سکتے ہیں چین ہمیں امید فراہم کرتا ہے اور ہمیں دکھاتا ہے کہ یہ کیسے کیا جاسکتا ہے، چین ہمیں 40 سال سےکم عرصے میں 800 ملین لوگوں کو غربت سے نکالنا سکھاتا ہے،ہمیں اپنی ترجیحات کو سیدھا کرنے کی ضرورت ہے،ایس سی او غربت کے خاتمے کے لیے قریبی تعاون کا ایک مضبوط کیس ہے پاکستان کی تجویز کردہ غربت کےخاتمے پرخصوصی ورکنگ گروپ کاقیام اہم قدم ہوگا سفارتی ڈپلومیٹک پوائنٹ اسکورنگ کے لیے دہشتگردی کوبطور ہتھیاراستعمال نہیں کرنا چاہیے پرامن ، مستحکم افغانستان علاقائی انضمام، معاشی تعاون کے لیے بھی اہم ہے، مشترکہ اقتصادی وژن آگے بڑھانےکیلئے اجتماعی رابطے میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔

    اجلاس سے قبل وزیر خارجہ بلاول کی برادر ملک تاجکستان کے وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی جس میں باہمی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا، کانفرنس کی سائیڈ لائن میں وزیر خارجہ کی روسی ہم منصب سرگئی لاروف اور شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل ژانگ منگ سے بھی ملاقات ہوئی ،وزیر خارجہ نے گزشتہ روز وزرائے خارجہ کونسل کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ میں بھی شرکت کی تھی جس کے دوران بھارتی وزیر خارجہ جے شنگر نے بلاول بھٹو کا استقبال خیر مقدمی جملوں سے کیا

    بلاول کا دورہ، بھارتی حکومت کے رویہ میں حیران کن تبدیلی

    بلاول کے بھارت جانے میں کوئی حرج نہیں

     شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کیلئے گوا آمد 

  • پاکستان میں برج کا بڑا میلہ سج گیا، برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ کا آغاز

    پاکستان میں برج کا بڑا میلہ سج گیا، برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ کا آغاز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں برج کا بڑا میلہ سج گیا، پاکستان برج فیڈریشن کے تحت برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ کا آغاز ہو گیا،

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ کی افتتاحی تقریب مقامی ہوٹل میں ہوئی جس سے پاکستان برج فیڈریشن کے صدر مبشر لقمان نے خطاب کیا اور کہا کہ پاکستان میں چیمپئن شپ کے لئے تمام ٹیموں کے شکر گزار ہیں، حکومت پاکستان کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے ٹیموں کی سیکورٹی کے لئے فول پروف انتظاما ت کئے ، پاکستان میں انٹرنشینل چیمپئن شپ کا ہونا،حقیقت میں پاکستان کی ہی کامیابی ہے، برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ کے صدربحجت ماجالی نے بھی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا، اور انہوں نے تمام ٹیموں اور انکے اراکین کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ کے صدربحجت ماجالی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پاکستان برج فیڈریشن کے صدر مبشر لقمان برج کے فروغ کے لئے متحرک ہیں، پاکستان برج فیڈریشن احسن کام کر رہی ہے اور برج کے کھلاڑیوں کو سہولیات دے رہی ہے، ہم مبشر لقمان، اور پاکستان برج فیڈریشن کے شکر گزار ہیں جنکی کوششوں سے پاکستان میں بین الاقوامی کھلاڑی آئے،

    افتتاحی تقریب میں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ کے مقابلوں میں بھارت سمیت دیگر ممالک سے آنے والے کھلاڑیوں نے بھی شرکت کی،بھارت کی 30 رکنی ٹیم کل لاہور پہنچی تھی،

    پاکستان 2007 اور 1985 میں بھی برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ کی میزبانی کر چکا ہے،لاہور،کراچی، اسلام آباد میں برج کے ٹرائلز کے بعد بنائی گئی ٹیم برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کرے گی، برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ میں کامیابی حاصل کرنے والی دو ٹیمیں رواں برس کے آخر میں ورلڈ برج چیمپئن شپ کے مقابلے میں شریک ہوں گی،

    برج کارڈز کی صورت میں کھیلی جانیوالی گیم ہے۔ جو پوری دنیا میں پیشہ ورانہ طور پر کھیلی جاتی ہے۔ پاکستان برج فیڈریشن پرامید ہے کہ وہ پاکستان میں برج کے کھیل کی ترقی کے لئے اور برج کے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کے لئے مدد فراہم کرے گا، پاکستان رواں برس کے ماہ ستمبر میں ایشین گیمز میں بھی شرکت کرے گا

    برج گیم میں جوا اور پیسے نہیں لگتے:برج پلیئرغیاث ملک ، جہانگیر اور سعید اختر

    سپریم نیشنل برج چیمپئن شپ:باغی ٹی وی ٹیم کی شاندار کاکردگی

    مبشر لقمان پاکستان برج فیڈریشن کے صدر منتخب

  • قوم کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں تو ہم بھی قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں،چیف جسٹس

    قوم کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں تو ہم بھی قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں،چیف جسٹس

    ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات کروانے کا کیس ،سیاسی جماعتوں کے رہنما سپریم کورٹ پہنچ گئے

    ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت شروع ہوگئی، چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل ہیں ،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان سمیت فریقین کے وکلاء اور سیاسی رہنما کمرہ عدالت میں موجود ہیں،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سپریم کورٹ میں آج سعد رفیق اور شاہ محمود قریشی دونوں نظر آ رہے ہیں،آج اپنے حوالے سے بھی کچھ بتانا ہے فاروق نائیک نے اتحادی حکومت کا جواب عدالت میں پڑھ کر سنایا۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ قرضوں میں78 فیصد، سرکولر ڈیٹ میں 125 فیصد اضافہ ہو چکا ہے،سیلاب کے باعث31 ارب ڈالر کا نقصان ہوا،اسمبلی تحلیل سے پہلے بجٹ، آئی ایم ایف معاہدہ، ٹریڈ پالیسی کی منظوری لازمی ہے، لیول پلیئنگ فیلڈ اور ایک دن انتخابات پر اتفاق ہوا،اسمبلی تحلیل کی تاریخ پر اتفاق نہیں ہو سکا،ملکی مفاد میں مذاکرات کا عمل بحال کرنے کو حکومت تیار ہے،ہر حال میں اسی سال ایک دن الیکشن ہونے چاہئیں،سندھ اور بلوچستان اسمبلی قبل از وقت تحلیل پر آمادہ نہیں،ہر فریق کو مذاکرات میں لچک دکھانی پڑتی ہے،مذاکرات میں کامیابی چند روز میں نہیں ہو سکتی،مذاکرات کیلئے مزید وقت درکار ہے

    فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی یقین رکھتی ہے سیاسی ایشوز جو ہیں وہ سیاسی طور پر حل ہوسکتےہیں۔مذاکرات میں تاریخ اور مہینہ ابھی طے ہونا ہیں،پیپلز پارٹی یقین رکھتی ہے کہ مداخلت کے بغیر معاملات حل کئے جاسکتے ہیں اس لئے مزہد وقت درکار ہے ۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ فنانس منسٹرکی دستخط سے جمع ہوئی ہے سیاسی ایشوز کو سیاسی قیادت حل کرے لیکن موجودہ درخواست ایک حل پر پہنچنے کی ہے۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات اس وقت بہت crucial ہیں۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ بجٹ صرف قومی اسمبلی پاس ہی کرسکتی ہے ۔اگر آج پنجاب یا کے پی کی حکومت ختم نہ ہوتی تو یہ مسئلہ کھڑا نہ ہوتا۔ آپ کو پھر تکلیف نہ دی جاتی۔اس وجہ سے عدالت کا دوسرا کام ڈسٹرب ہوتا ہے سندھ اور بلوچستان اسمبلی قبل از وقت تحلیل پر آمادہ نہیں،ہر فریق کو مذاکرات میں لچک دکھانی پڑتی ہے
    مذاکرات میں کامیابی چند روز میں نہیں ہوسکتی، مذاکرات کیلئے مذید وقت درکار ہے حکومت نے مذاکرات سے متعلق عدالت سے مہلت کی استدعا کردی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا بجٹ آئی ایم ایف کے پیکج کے تحت بنتا ہے؟ اخبارات کے مطابق دوست ممالک بھی قرضہ آئی ایم ایف پیکج کے بعد دیں گے،کیا پی ٹی آئی نے بجٹ کی اہمیت کو قبول کیا یا رد کیا؟ آئین میں انتخابات کیلئے 90 دن کی حد سے کوئی انکار نہیں کرسکتا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ 90 روز میں انتخابات کرانے میں کوئی دو رائے نہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ قومی اور عوامی اہمیت کے ساتھ آئین پر عملداری کا معاملہ ہے،90 روز میں انتخابات کرانے پر عدالت فیصلہ دے چکی ہے، کل رات ٹی وی پر دونوں فریقین کا مؤقف سنا، مذاکرات ناکام ہوئے تو عدالت 14 مئی کے فیصلے کو لیکر بیٹھی نہیں رہے گی، عدالت نے اپنے فیصلے پر آئین کے مطابق عمل کرنا ہے، آئین کے مطابق اپنے فیصلے پر عمل کرانے کیلئے آئین استعمال کرسکتے ہیں، عدالت صرف اپنا فرض ادا کرنا چاہتی ہے،کہا گیا ماضی میں عدالت نے آئین کا احترام نہیں کیا اور راستہ نکالا،عدالت نے احترام میں کسی بات کا جواب نہیں دیا، غصے میں فیصلے درست نہیں ہوتے اس لئے ہم غصہ نہیں کرتے،آئینی کارروائی کو حکومت نے سنجیدہ نہیں لیا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہمیں تو عدالت نے سنا ہی نہیں تھا، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دوسرے راؤنڈ میں آپ نے بائیکاٹ کیا تھا، کبھی فیصلہ حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی، آپ چار تین کی بحث میں لگے رہے،جسٹس اطہر من اللہ نے اسمبلیاں بحال کرنے کا نقطہ اٹھایا تھا، حکومت کی دلچسپی ہی نہیں تھیآج کی گفتگو ہی دیکھ لیں، کوئی فیصلے یا قانون کی بات ہی نہیں کررہا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فنڈز اور سیکیورٹی ملنے کا کہا تھا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آئینی نکات پر دلائل نہیں ہوسکے تھے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ نظرثانی اپیل تک حکومت نے دائر نہیں کی، حکومت قانون کی بات نہیں سیاست کرنا چاہتی، پہلے بھی کہا تھا سیاست عدالتی کارروائی میں گھس چکی ہے، ہم سیاست کا جواب نہیں دیں گے، اللہ کے سامنے آئین کے دفاع کا حلف لیا ہے، معاشی، سیاسی، معاشرتی، سیکیورٹی بحرانوں کے ساتھ ساتھ آئینی بحران بھی ہے،کل بھی اٹھ لوگ شہید ہوئے،
    حکومت اور اپوزیشن کو سنجیدہ ہونا ہوگا،معاملہ سیاسی جماعتوں پر چھوڑ دیں تو کیا قانون پر عملدرآمد نہ کرائیں، کیا عدالت عوامی مفاد سے آنکھیں چرا لے ؟ سپریم صرف اللہ کی ذات ہے،حکومت عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرنے کی پابند ہے، عدالت تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے،قانون پر عملدرآمد کیلئے قربانیوں سے دریغ نہیں کریں گے، سپریم کورٹ، قوم کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں تو ہم بھی قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تحریک انصاف نے ایک دن الیکشن کرانے پر اتفاق کیا ہے، شرط رکھی کہ اسمبلیاں 14 مئی تک تحلیل کی جائیں، دوسرے شرط تھی کہ جولائی کے دوسرے ہفتے میں الیکشن کرائے جائیں، تیسری شرط تھی کہ انتخابات میں تاخیر کو آئینی ترمیم کے ذریعے قانونی شکل دی جائے،14 مئی چند دن بعد ہے لیکن فنڈز جاری نہیں ہوئے،نظریہ ضرورت کی وجہ سے الیکشن مزید تاخیر کا شکار نہیں کرسکتے،

    خواجہ سعد رفیق عدالت پہنچے تو چیف جسٹس نے کہا کہ خوش آمدید خواجہ سعد رفیق صاحب، خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ وکیل نہیں ہوں اس لیے عدالت میں بات کرنے کا سلیقہ نہیں ہے، جو کہوں گا سچ کہوں گا، سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا، اداروں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان عدم اعتماد بہت گہرا ہے،2017 سے عدالت نے ہمارے ساتھ ناانصافی کی، میں بھی ایک شکار آپ کے سامنے کھڑا ہوں، کوئی بھی اداروں میں تصادم نہیں چاہتا،عوام کو صاف پانی نہیں دے سکتے، اداروں میں تصادم کے متحمل کیسے ہوسکتے ہیں، مذاکرات کے دوران بہت کچھ سننا پڑا، مذاکرات کے ذریعے ہی سیاسی بحران نکالا جا سکتا ہے،آئین 90 دن کے ساتھ شفافیت کا بھی تقاضہ کرتا ہے،پنجاب پر الزام لگتا ہے کہ یہی حکومت کا فیصلہ کرتا ہےالیکشن نتائج تسلیم نہ کرنے پر پہلے بھی ملک ٹوٹ چکا ہے آئین کے تقاضوں کو ملا کر ایک ہی دن الیکشن ہوں،صرف ایک صوبے میں الیکشن ہوا تو تباہی لائے گا،سیلاب اور محترمہ بینظیر کی شہادت پر انتخابات میں تاخیر ہوئی،اگر حکومت نے کوئی قانونی نقطہ نہیں اٹھایا تو عدالت ازخود ان پر غور کرے،کئی ماہ سے 63 اے والا نظرثانی کیس زیر التواء ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ 63 اے والی نظرثانی درخواست سماعت کیلئے مقرر ہورہی ہے،اٹارنی جنرل کو اس حوالے سے آگاہ کردیا گیا ہے، خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ چاہتے ہیں شفاف الیکشن ہوں اور سب ان نتائج کو تسلیم کریں، مذاکرات میں طے ہوا ہے کہ یہ لوگ نتائج تسلیم کریں گے،سندھ اور بلوچستان میں اسمبلیاں بہت حساس ہیں، دونوں اسمبلیوں کو پنجاب کیلئے وقت سے پہلے تحلیل کرنا مشکل کام ہے، پی ٹی آئی نے کھلے دل سے مذاکرات کیے اس پر ان کا شکر گزار ہوں، مذاکرات کا مقصد وقت کا ضیاع نہیں ہے، مذاکرات جاری رکھنے چاہیئے، یہ میری تجویز ہے، عدالت کو سیاسی معاملات میں الجھانے سے پیچیدگیاں ہوتی ہیں، اپنی مدت سے حکومت ایک گھنٹہ بھی زیادہ نہیں رہنا چاہتی، ملک کی قیمت پر الیکشن نہیں چاہتے، مستقل کوئی بھی عہدے پر نہیں رہنا چاہیے اپ ہوں یا ہم، عدالت ہدایت نہ دے ہم خود مل بیٹھیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کوئی ہدایت دیں گے نا ہی مذاکرات میں مداخلت کریں گے، اگر چند دنوں میں معاملہ حل نہ ہوا تو پھر دیکھ لیں گے، کیا نظرثانی اپیل دائر کرنے کی مدت ختم ہوچکی ہے؟نظرثانی اپیل دائر کرنے کا وقت گزر چکا ہے،وکیل شاہ خاور نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نظرثانی اپیل دائر کر رکھی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل قابل سماعت ہے؟الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ صرف فنڈز اور سیکیورٹی چاہیے، شاہ خاور نے کہا کہ شہباز شریف اور عمران خان مذاکرات میں شامل ہوں تو حل نکل سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور عمران خان مصروف لوگ ہیں ان کے نمائندے موجود ہیں،پارٹی لیڈران کیلئے سیاسی قائدین سے بات کریں، خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مذاکراتی ٹیموں کو ہی بات کرنے دی جائے، عدالت کو مذاکرات میں نا لایا جائے، پہلے ہی کافی خرابی ہو کی ہے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت نے کوئی نئی بات نہیں کی، پرانا مؤقف دہرایا ہے، اپنی پوری کوشش کی کہ مذاکرات نتیجہ خیز ہوسکیں،حکومتی بینچز سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی اور تکبر والی باتیں آرہی ہیں، ہماری متفرق درخواست پر تمام کمیٹی ارکان کے دستخط ہیں، حکومتی جواب میں صرف اسحاق ڈار کے دستخط ہیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ حکومتی درخواست صبح آئی ابھی نمبر بھی نہیں لگا، لیکن اسے سن لیا، پی ٹی آئی اور حکومت کی آپس کی گفتگو میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہے کسی تاریخ پر اتفاق ہوا یا نہیں، کیا دو یا تین دن میں کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے؟ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت کہتی تھی بارہ جماعتیں ہیں مشاورت کیلئے وقت دیں، عمران خان سمیت سب نے تنقید کی کہ تین دن کا وقت کیوں دیا، تیسری نشست دن گیارہ بجے ہونی تھی لیکن رات نو بجے ہوئی، نظرثانی یہ نا دائر کریں، مرضی کی مہلت بھی لیں، فیصلہ نہ ہو تو آئین کیوں داؤ پر لگائیں؟ آئی ایم ایف کے ساتھ کوئی پیشرفت نہیں ہورہی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آئی ایم ایف والا معاملہ نہ ہمیں معلوم ہے نہ سننا چاہتے ہیں،

    تحریک انصاف نے 14مٸی کو انتخابات کے حکم پرعملدرآمد کی استدعا کردی، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ عدالت اپنے حکم پر عملدرآمد کرواتے ہوئے فیصلہ نمٹا دے،حکومت نے 14مٸی انتخابات کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست داٸر نہیں کی ،فاروق ناٸیک نے جو نکات اٹھائے ہیں وہ غیر متعلقہ ہے،آٸین سے باہر نہیں جایا جا سکتا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ فاروق ناٸیک نے عدالت کو صرف مشکلات سے آگاہ کیا،

    تحریک انصاف نے حکومت کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کردیا، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت لچک مظاہرہ نہیں کررہی ہم مذاکرات اور یہ پکڑ دھکڑ کر رہے ہیں تنقید کے باوجود ہم مذاکرات کی میز پر بیٹھے ، فاروق نائیک نے کہا کہ مسئلہ حل ہوجائے گا، چیف جسٹس نے کہاکہ آپ صرف وعدہ کرتے ہیں ملک بھر میں ایک ہی روز انتخابات سےمتعلق کیس کی سماعت مکمل ،عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا، عدالت نے کہا کہ مناسب حکم جاری کیا جائے گا

    پاکستان تحریک انصاف سے فواد چوہدری اور علی محمد خان سپریم کورٹ پہنچ گئے ،پاکستان مسلم لیگ ن سے خواجہ سعد رفیق سپریم کورٹ پہنچ گئے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما فاروق ایچ نائیک بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے سیکرٹری الیکشن کمیشن سمیت الیکشن کمیشن کے حکام بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے

    وفاقی حکومت نے بھی الیکشن پر مذاکرات سے متعلق جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا، جواب اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا، جواب میں کہا گیا کہ حکومت اور اپوزیشن ایک تاریخ پر الیکشن کرانے پر متفق ہیں ملک کی بہترین مفاد میں مذاکرات کا عمل بحال کرنے کو تیار ہیں قومی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کی تاریخ پر اتفاق نہ ہوسکا ،

    پی ٹی آئی وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے حاضر ہوئے ہیں، پی ڈی ایم سرکار کے ساتھ تین نشستوں کا خلاصہ عدالت کے سامنے پیش کر دیا، تحریک انصاف نیک نیتی سے معاملات سلجھانا چاہتی ہے،جانتے ہیں آئین کی خلاف ورزی ہوئی ،انتخابات کے لئے حتمی امیدواروں کی لسٹ بنائی جا چکی،اس کے باوجود سیاسی حل کے لئے ہم ساتھ بیٹھے ہم نے بہت لچک دکھائی ہے،مذاکرات میں اتفاق رائے نہیں ہو سکا،اب سپریم کورٹ کا فیصلہ دیکھنا ہو گا پی ٹی آئی نے آئین کے دفاع کا فیصلہ کیا ہے، سپریم کورٹ کی آئینی حیثیت سے غافل نہیں رہنا،کل بروز ہفتہ پورے پاکستان میں چیف جسٹس کے ساتھ 5:30 بجے اظہار یکجہتی کے اجتماعات ہوں گے، عمران خان خود لاہور میں ریلی کی قیادت کریں گے، اسلام آباد میں بھی ریلی کا اہتمام کیا جائے گا،

    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • توشہ خانہ کیس، 10 مئی کو عمران خان پر فرد جرم عائد کی جائے گی،عدالت

    توشہ خانہ کیس، 10 مئی کو عمران خان پر فرد جرم عائد کی جائے گی،عدالت

    اسلام آباد کی مقامی عدالت میں سابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی،

    توشہ خانہ کیس, فیصلہ سنا دیا گیا عدالت نے عمران خان کی درخواستیں مسترد کردیں ,عدالت نے عمران خان کو ذاتی حثیت میں 10 مئی کو طلب کرلیا , عدالت نے کہا کہ 10 مئی کو عمران خان پر فرد جرم عائد کی جائے گی،

    عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے الیکشن ایکٹ کا سیکشن 190 اور193 پڑھ کر سنایا،خواجہ حارث نے کہاکہ کیس کا قابل سماعت ہونا اور ٹرائل ہونا دو مختلف چیزیں ہیں،توشہ خانہ کیس کا تاحال ٹرائل شروع ہوا نہ انکوائری ہوئی،سیشن عدالت کو سماعت سے قبل الیکشن ایکٹ کے سیکشن 190 اے سے گزرنا ہو گا

    عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے کیس کے دائرہ اختیار پر دلائل مکمل کرلئے جج نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ کے دلائل دونوں درخواستوں پر مکمل ہو چکے ہیں،خواجہ حارث نے کہا ابھی میں نے توشہ خانہ کیس کے دائرہ اختیار پر دلائل دیئے ہیں،اگر آپ کو لگتا ہے دونوں درخواستوں پر دلائل دے دیئے ہیں تو فیصلہ فرما دیں ،جج نے خواجہ حارث کے ساتھ مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کو نہیں سکتے کہ فیصلہ کریں یا نہ کریں ،جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاک ہ وکیل گوہر علی نے گزشتہ سماعت پر درخواستوں پر دلائل دینے کا ایفیڈیوٹ دیا تھا ،جج نے کہا کہ آپ کی ناقابل ضمانت وارنٹ سیشن عدالت نے جاری کئے جو اپیل پر بھی مسترد ہوئی ،جج نے استفسار کیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں اعتراض نہیں اٹھایا آپ نے، سیشن عدالت وارنٹ جاری نہیں کر سکتی ،خواجہ حارث نے استدعا کی کہ اگلے جمعہ تک سماعت ملتوی کردیں کیس کو کیس رہنے دیں، وکیل امجد پرویز نے کہا میراتو اعتراض ہےعمران خان کی دونوں درخواستیں بھی قابل سماعت ہیں بھی یا نہیں ،سیشن عدالت اپنا فیصلہ واپس نہیں کر سکتی،عمران خاان کو ٹرائل کا سامنا کرنا پڑے گا
    جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواستوں کی حد تک سماعت ملتوی نہیں ہوگی، دلائل آج ہی ہوں گے ،آپ اپنے دلائل کو آج ہی مکمل کریں، ٹرائل پہلے ہی تاخیر کا شکار ہے

    دوسری جانب توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہلی کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی، جس میں عدالت نے میانوالی کی نشست پر ضمنی الیکشن روکنے کے حکم میں 11 مئی تک توسیع کردی ،عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے، سماعت کے آغاز پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ویسے یہ ایک سیکنڈ کا کیس ہے، لیکن پتا نہیں کیوں اس میں دیر ہو رہی ہے ۔ وکیل نے کہا اصل ایشو یہ ہے کہ درخواست واپس لینے کی متفرق درخواست ہے، لاہور ہائی کورٹ میں کیس فل بنچ کے سامنے زیر سماعت ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں آپ کا کیس کب لگا ہوا ہے، جس پر وکیل نے کہا کہ ہمارا کیس لاہور میں 19 مئی کو شاید مقرر ہے مسلسل کیسز لگے ہوئے ہیں، میں نے چھٹی پر بھی جانا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے آج التوا کی درخواست آئی ہے توشہ خانہ کیس میں نا اہلی کے فیصلے کو عمران خان نے لاہور ہائیکورٹ میں بھی چیلنج کر رکھا ہے۔ عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایسی ہی دائر درخواست واپس لینے کے لیے رجوع کر رکھا ہے بعد ازاں عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل خالد اسحاق کی جانب سے التوا کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت جمعرات 11 مئی تک ملتوی کردی

    عدالت نے عمران خان کو 13 مارچ کو سیشن کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

  • بلاول کا دورہ، بھارتی حکومت کے رویہ میں حیران کن تبدیلی

    بلاول کا دورہ، بھارتی حکومت کے رویہ میں حیران کن تبدیلی

    بلاول کا دورہ، بھارتی حکومت کے رویہ میں حیران کن تبدیلی

    گوا ( خالدمحمودخالد)پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں بھارت کے دورے پر گئے وفد کے ساتھ بھارتی حکومت کے رویہ میں حیران کن حد تک تبدیلی دیکھی گئی۔ پاکستانی وفد کے ساتھ بھارتی رویہ ماضی کی نسبت بہت زیادہ مثبت دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ رات بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی طرف سے عشائیہ کا اہتمام کیا گیا تو اس میں پاکستانی وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ خاص مہمانوں والا رویہ دیکھنے میں آیا۔ عشائیہ میں بلاول بھٹو زرداری سب سے آخر میں پہنچے۔ لیکن ان کی آمد کے ساتھ ہی بھارت سمیت شنگھائی تعاون ممالک کے تمام وزرائے خارجہ نے کھڑے ہو کر بلاول کا استقبال کیا۔ بھارتی وزیرخارجہ نے آگے بڑھ کر پاکستانی وزیرخارجہ کو خوش آمدید کہا اور تقریبا ایک منٹ تک دونوں وزرائے خارجہ ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کرتے رہے۔ اس دوران دونوں کے چہرے پر مسکراہٹیں بھی دیکھی گئیں۔ دونوں کی ملاقات میں تلخی یا کشیدگی بالکل نہیں تھی۔ بلاول بھٹو کے عشائیہ میں دیر سے پہنچنے کی وجہ ان کا روسی وزیرخارجہ کے ساتھ باہمی ملاقات کا طے شدہ وقت سے زیادہ طویل ہونا تھا۔ تاہم روسی وزیرخارجہ بلاول بھٹو سے چند منٹ پہلے عشائیہ میں پہنچ گئے تھے انہوں نے بھی بلاول کا کھڑے ہوکر عشائیہ میں استقبال کیا۔ یادرہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے جولائی 2022 میں تاشقند میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے دوران ایک دوسرے سے نہ صرف ہاتھ ملانا گوارا نہ کیا تھا بلکہ دونوں وزرائے خارجہ نے دو روزہ کانفرنس میں ایک دوسرے کے نزدیک آنے سے بھی گریز کیا تھا جسے دنیا بھر کے میڈیا نے بےحد اچھالا تھا لیکن گزشتہ رات گوا میں برف پگھل گئی اور دونوں وزرائے خارجہ نے ہاتھ ملالئے۔ 

  • شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس؛ بلاول بھٹو زرداری اور  جے شنکر کے درمیان مصافحہ

    شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس؛ بلاول بھٹو زرداری اور جے شنکر کے درمیان مصافحہ

    بھارتی وزیرخارجہ کی جانب سے وزرائے خارجہ کونسل کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا، اس موقع پر پاک بھارت وزرائے خارجہ کے درمیان مصافحہ ہوا۔ صحافی اعزاز سید نے ذرائع کے مطابق بتایا کہ وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری عشائیے میں سب سے آخر میں پہنچے، بلاول بھٹو کے پہنچنے پر جے شنکر نے اپنی نشست پر کھڑے ہو کر ہاتھ ملایا، دونوں وزرائے خارجہ نے مصافحے کے دوران خیر مقدمی کلمات کا تبادلہ کیا، بلاول بھٹو زرداری سے پہلے روسی وزیر خارجہ عشائیہ کی تقریب میں پہنچے، بلاول بھٹو اور روسی وزیر خارجہ باہمی ملاقات کے باعث عشائیہ میں تاخیر سے پہنچے۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری شنگھائی تعاون تنظیم کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کے لیے بھارت کے ساحلی شہر گوا میں ہیں، جہاں کچھ دیر پہلے اُن کی اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات ہوئی۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان پاک روس تعلقات، علاقائی و عالمی اُمور، فوڈ سکیورٹی اور توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے بند کمرہ اجلاس میں رکن ملکوں میں سکیورٹی، دہشت گردی اور اشتراک جیسے معاملات پر بات چیت ہوگی۔

    بلاول بھٹو زرداری 2011 کے بعد سے بھارت کا دورہ کرنے والے پہلے پاکستانی وزیر خارجہ ہیں۔ بلاول کی بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ دو طرفہ ملاقات متوقع نہیں ہے۔ بھارت کی ممتاز صحافی سوہا سنی حیدر نے بلاول بھٹو زرداری کے دورہ بھارت کو مثبت قرار دیا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ اجلاس کا میزبان ملک تمام رکن ممالک کو دعوت دینے کا پابند ہے، یہی سرکاری پروٹوکول ہے۔ بھارتی میڈیا کا بھی ملاجلا ردِ عمل ہے تاہم عمومی رائے یہی ہے کہ بلاول بھٹو کی ایس سی او میں شرکت پاک بھارت تعلقات کی بحالی کی جانب بہتر قدم ہے۔

    جیو کے مطابق غیر ملکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم ایسے خطے کا احاطہ کرتی ہے جو پاکستان کیلئے تجارت، رابطوں اور توانائی کے شعبوں میں بہت اہم ہے، پھر یہ کہ اس تنظیم کی قیادت چین کرتا ہے جو پاکستان کا اہم اتحادی ہے، روس بھی اس فورم میں سرکردہ ہے جس کا پاکستان کے ساتھ اشتراک گہرا ہو رہا ہے، اس لیے کانفرنس میں شرکت نہ کرنا پاکستان کے علاقائی مفاد میں نہیں ہے۔

    اس سے قبل ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا تھا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے گووا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر روسی وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔ ترجمان کے مطابق دونوں وزرا خارجہ نے باہمی دلچسپی کے دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں وزرا نے فوڈ سکیورٹی، توانائی اور عوام سے عوام کے رابطوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کا یقین دلایا۔


    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم نے روس کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کے نئے راستے کھولے ہیں۔ دوسری جانب بھارتی میڈیا نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کو پاک بھارت تعلقات کی بحالی کی جانب مثبت قدم قرار دیا ہے۔

    خیال رہےکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کا اجلاس آج سے بھارت کے شہر گوا میں ہو رہا ہے جس میں پاکستان کی جانب سے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری شریک ہیں۔ بھارتی میڈیا میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے دورے کو نمایاں جگہ دی جارہی ہے اور بھارتی میڈیا نے بلاول بھٹو کی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کو پاک بھارت تعلقات کی بحالی کی جانب مثبت قدم قرار دیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    ادھر بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نےکہا ہےکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کا میزبان ملک تمام رکن ممالک کو دعوت دینےکا پابند ہے۔ ایک بیان میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ یہ سرکاری پروٹوکول ہے۔