Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سیاسی جماعتیں سینئرعہدیدارکونمائندہ مقررکرکےعدالت بھیجیں. سپریم کورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری

    سیاسی جماعتیں سینئرعہدیدارکونمائندہ مقررکرکےعدالت بھیجیں. سپریم کورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری

    سیاسی جماعتیں سینئرعہدیدارکونمائندہ مقررکرکےعدالت بھیجیں. سپریم کورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزارت دفاع اور الیکشن کمیشن کی انتخابات ایک ساتھ کرانے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے حکومت کو 27 اپریل تک فنڈز کی فراہمی یقینی بنانے کا حکم دیدیا۔ چیف جسٹس عمرعطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نےوزارت دفاع کی ملک بھر میں ایک ہی روز انتخابات کرانے سے متعلق درخواست پر سماعت کی، بینچ کے دیگر ججز میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل تھے۔

    عدالت عظمیٰ نے وزارت دفاع کی ملک بھرمیں ایک ہی روزانتخابات کرانے کی درخواست پرسماعت کے تحریری حکم نامے میں کہا ہے کہ بادی النظرمیں درخواست گزارکےاٹھائے گئے نکات غورطلب ہیں،الیکشن اسی صورت بہترہونگےجب سیاسی جماعتوں کی مشاورت شامل ہو،سیاسی جماعتیں سینئرعہدیدارکونمائندہ مقررکرکےعدالت بھیجیں۔

    تحریری حکم نامے کے مطابق وزارت دفاع کی استد عاعدالت قبول نہیں کرسکتی، بادی النظرمیں درخواست گزارکےاٹھائےگئےنکات غورطلب ہیں،درخواست گزارکےمطابق سیاسی جماعتوں میں باہمی احترام ضروری ہے،موجودہ کیس میں الیکشن کمیشن،وزارت دفاع کےتحفظات معقول نظرنہیں آتے۔

    حکم نامے کے مطابق سیاسی جماعتوں کےدرمیان مذاکرات ایک اچھی تجویزہے،سیاسی جماعتوں کاالیکشن کی تاریخ پرمتفق ہوناقابل ستائش عمل ہوگا،ملک بھرمیں ایک ساتھ انتخابات کرانےکاتجربہ الگ الگ کرانےسےبہتررہاہے۔

    تحریری حکمنامے کے مطابق 14مئی کوانتخابات کےعدالتی حکم پرعمل میں مزاحمت کاسامناہے،ایک ہی روزالیکشن اسی صورت بہترہونگےجب سیاسی جماعتوں کی مشاورت شامل ہو، سیاسی جماعتیں سینئرعہدیدارکونمائندہ مقررکرکےعدالت بھیجیں۔

    تحریری حکم کے مطابق سیاسی مذاکرات مقررہ وقت میں الیکشن سےروگردانی کیلئےاستعمال نہیں ہونےچاہئیں،عدالت نےوقت کی قلت کومدنظررکھناہے۔ قبل ازیں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وزارت دفاع کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے انتخابات ملتوی کرنے کی استدعا پر کئی سوالات اٹھادیئے۔

    انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پہلے کہا وسائل دیں تو الیکشن کروالیں گے، اب کہتے ہیں ملک میں انارکی پھیل جائے گی، الیکشن کمیشن پورا مقدمہ دوبارہ کھولنا چاہتا ہے۔ وزارت دفاع کی رپورٹ میں عجیب سی استدعا ہے، کیا وزارت دفاع ایک ساتھ الیکشن کرانے کی استدعا کرسکتی ہے؟ چیف جسٹس نے کہا وزارت دفاع کی درخواست ناقابل سماعت ہے، ٹی وی پر سنا وزراء کہتے ہیں اکتوبر میں بھی الیکشن مشکل ہے، سیاسی جماعتیں ایک مؤقف پر آجائیں تو عدالت گنجائش نکال سکتی ہے۔

    خیال رہے کہ درخواست پر سماعت کیلئے پہلے ساڑھے 11 بجے کا وقت مقرر کیا گیا تھا تاہم اسے بعد میں تبدیل کرکے 2 بجے کردیا گیا تھا، عدالت عظمیٰ نے سماعت کل (جمعرات کی) ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی۔ وزارت دفاع کی متفرق درخواست کو رجسٹریشن نمبر 2773 الاٹ کیا گیا۔ رولز کے مطابق سماعت سے قبل رجسٹریشن نمبر الاٹ کرنا لازمی ہوتا ہے۔

    وزرات دفاع کی درخواست پر اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس عمرعطاء بندیال نے کہا کہ مولا ہمیں صحیح فیصلوں کی ہمت دے اور نیک لوگوں میں شامل کرے، جب ہم چلے جائیں تو ہمیں اچھے الفاظ میں یاد کیا جائے، معاملہ بہت لمبا ہوتا جارہا ہے، حکومت نے اپنا ایگزیکٹو کام پارلیمان کو دیا ہے یا نہیں؟۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کہ وزارت خزانہ کی رپورٹ پڑھیں، عدالت کو کہا گیا تھا سپلیمنٹری گرانٹ دینے کے بعد منظوری لی جائے گی، اس کے برعکس معاملہ ہی پارلیمنٹ کو بھجوا دیا گیا، کیا الیکشن کیلئے ہی ایسا ہوتا ہے یا عام حالات میں بھی ایسا ہوتا ہے؟،

    اٹارنی جنرل منصور عثمان نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے حکومت کو ہدایت جاری کی تھی۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ قائمہ کمیٹی میں بھی حکومت کی اکثریت ہے، حکومت کو گرانٹ جاری کرنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟، وزیراعظم کے پاس اسمبلی میں اکثریت ہونی چاہئے، مالی معاملات میں تو حکومت کی اکثریت لازمی ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ قومی اسمبلی کی قرارداد کے تحت معاملہ پہلے منظوری کیلئے بھیجا۔ جسٹس منیب نے پوچھا کہ آئین حکومت کو اختیار دیتا ہے تو اسمبلی قرارداد کیسے پاس کرسکتی ہے؟۔ منصور عثمان کا کہنا تھا کہ گرانٹ کی بعد میں منظوری لینا رسکی تھا۔ جسٹس منیب نے کہا کہ کیا حکومت کی بجٹ منظوری کے وقت اکثریت نہیں ہونی تھی؟، جو بات آپ کر رہے ہیں وہ مشکوک لگ رہی ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا کبھی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری میں حکومت کو شکست ہوئی؟۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سال 2013ء میں کٹوتی کی تحریکیں منظور ہوچکی ہیں، موجودہ کیس میں گرانٹ اجراء سے پہلے منظوری لینے کا وقت تھا۔ جسٹس منیب نے ریمارکس دیئے کہ وزارت خزانہ کی ٹیم نے بار بار بتایا کہ سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری بعد میں لی جاتی ہے، وزارت خزانہ نے آئین کے آرٹیکل 84 کا حوالہ دیا تھا۔ منصور عثمان نے بتایا کہ قومی اسمبلی اس معاملے میں قرارداد منظور کرچکی تھی۔

    جسٹس منیب نے مزید پوچھا کہ حکومت کی گرانٹ اسمبلی سے کیسے مسترد ہو سکتی ہے؟، کیا آپ کو سپلیمنٹری بجٹ مسترد ہونے کے نتائج کا علم ہے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ گرانٹ منظوری کا اصل اختیار پارلیمنٹ کو ہے، اسمبلی پہلے قرارداد کے ذریعے اپنی رائے دے چکی تھی۔ جسٹس منیب کا کہنا تھا کہ حکومت سنجیدہ ہوتی تو کیا سپلیمنٹری گرانٹ منظور نہیں کراسکتی تھی؟۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ گرانٹ جاری ہونے کے بعد منظوری نہ ملے تو اخراجات غیر آئینی ہوتے۔

    جسٹس منیب اختر نے مزید کہا کہ وزیراعظم کے پاس اسمبلی میں اکثریت ہونا لازمی ہے، اٹارنی جنرل صاحب سمجھنے کی کوشش کریں معاملہ بہت سنجیدہ ہے۔ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آپ ہمارا نکتہ نظر سمجھ چکے ہوں گے، انتظامی امور قائمہ کمیٹی کو بھجوانے کی کوئی مثال نہیں ملتی، انتخابی اخراجات ضروری نوعیت کے ہیں غیر اہم نہیں، حکومت کا گرانٹ مسترد ہونے کا خدشہ اسمبلی کے وجود کیخلاف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ توقع ہے حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے گی، حکومت فیصلہ کرے یا اسمبلی کو واپس بھجوائے مگر جواب دے، اس معاملے کے نتائج غیرمعمولی ہو سکتے ہیں، فی الحال ہم غیر معمولی نتائج پر نہیں جانا چاہتے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کو عدالتی احکامات پہنچا دیں۔

    جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن کہتا ہے اکتوبر تک انتخابات نہیں ہوسکتے، الیکشن کمیشن نے ایک ساتھ الیکشن کرانے کا بھی کہا ہے، الیکشن کمیشن کی اس بات پر کئی سوالات جنم لیتے ہیں، الیکشن کمیشن کی آبزرویشن کی بنیاد سیکیورٹی کی عدم فراہمی ہے، دہشت گردی ملک میں 1992ء سے جاری ہے، 1987ء، 1991ء، 2002ء، 2008ء، 2013ء اور 2018ء میں الیکشن ہوئے، سیکیورٹی کے مسائل ان انتخابات میں بھی تھے۔

    گزشتہ روزوزارت دفاع نے سربمہردرخواست سپریم کورٹ میں جمع کرائی، جس میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کرائےجائیں۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ پہلے تمام سیکیورٹی فورسز نے ایک ساتھ فرائض انجام دیئے تھے، اب دو صوبوں میں الیکشن الگ الگ ہوں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا گارنٹی ہے کہ 8 اکتوبر کو حالات ٹھیک ہو جائیں گے؟، وزارت دفاع نے بھی اندازہ ہی لگایا ہے، حکومت اندازوں پر نہیں چل سکتی۔

    اٹارنی جنرل کا اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ آپریشنز میں متعین کردہ ٹارگٹ حاصل کرنے کی پوری کوشش ہے، کسی کو توقع نہیں تھی کہ اسمبلیاں پہلے تحلیل ہو جائیں گی۔ جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال ایک حکومت کا خاتمہ ہوا تھا، عدالت نوٹس نہ لیتی تو قومی اسمبلی تحلیل ہوچکی تھی، صوبائی اسمبلیوں کے ہوتے قومی اسمبلی الیکشن بھی ہونے ہی تھے، آئین میں اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کا وقت مقرر ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ برطانیہ میں جنگ کے دوران بروقت انتخابات ہوئے تھے، بم دھماکوں کے دوران بھی برطانیہ میں انتخابات ہوتے تھے، عدالت کو کہاں اختیار ہے کہ الیکشن اگلے سال کرانے کا کہے؟۔ اٹارنی جنرل سیکیورٹی فورسز کا کام بیرونی خطرات سے نمٹنا ہے، 2001ء سے ہمارے سیکیورٹی ادارے سرحدوں پر مصروف ہیں۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فنڈز اور سیکیورٹی ملنے پر انتخابات کرانے کا کہا تھا۔

    جسٹس اعجاز الحسن کا مزید کہنا تھا کہ فنڈز سے متعلق عدالتی حکم ایک سے دوسرے ادارے کو بھیجا جا رہا ہے۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جو پیغام آپ دینا چاہ رہے ہیں وہ میں سمجھ گیا ہو، فوج نے انتخابات کے مقررہ وقت کے مطابق آپریشنز شروع کئے تھے۔ جسٹس منیب نے پوچھا کہ کیا آرٹیکل 245 کے تحت فوج سول حکومت کی مدد کو آتی ہے؟۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 245 کے تحت بنیادی حقوق معطل ہوتے ہیں۔ جسٹس منیب نے پوچھا کہ کیا 2018ء کے انتخابات میں بنیادی حقوق معطل تھے؟، وفاقی حکومت آرٹیکل 245 کا اختیار کیوں استعمال نہیں کررہی؟، کیا آئین بالادست نہیں ہے؟، افواج نے ملک کیلئے جانوں کی قربانیاں دی ہیں، افواج پاکستان کا تو سب کو شکر گزار ہونا چاہئے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ 27 مارچ کو عدالتی کارروائی شروع ہوئی 4 اپریل کو فیصلہ آیا، پہلے چار تین کا معاملہ تھا پھر فل کورٹ کا، بائیکاٹ ہوا لیکن کسی نے سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں اٹھایا۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ میری درخواست پر ڈی جی ملٹری آپریشنز نے بریفنگ دی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی اور سیکریٹری دفاع بھی موجود تھے، ملاقات میں افسران کو بتایا تھا دوران سماعت یہ معاملہ نہیں اٹھایا گیا، سب کو بتایا تھا کہ فیصلہ ہوچکا ہے اب پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔

    چیف جسٹس نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن اور وزارت دفاع کی درخواستیں فیصلے واپس لینے کی بنیاد نہیں، الیکشن کمیشن نے پہلے کہا وسائل دیں تو الیکشن کروالیں گے، اب کہتے ہیں ملک میں انارکی پھیل جائے گی، الیکشن کمیشن پورا مقدمہ دوبارہ کھولنا چاہتا ہے، وزارت دفاع کی رپورٹ میں عجیب سی استدعا ہے، کیا وزارت دفاع ایک ساتھ الیکشن کرانے کی استدعا کرسکتی ہے؟، وزارت دفاع کی درخواست ناقابل سماعت ہے، ٹی وی پر سنا وزراء کہتے ہیں اکتوبر میں بھی الیکشن مشکل ہے۔

    تاہم باخبر ذرائع کے مطابق سربمہردرخواست سپریم کورٹ سے وزارت دفاع کی جانب سے انتخابات کا حکم واپس لینے کی استدعا کی گئی۔ وزارت دفاع نے استدعا کی ہے کہ دہشتگردوں اورشرپسندوں کےانتخابی مہم پر حملوں کا خدشہ ہے،قومی،بلوچستان اورسندھ اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے پر انتخابات کرائےجائیں۔

    یاد رہےکہ پنجاب میں انتخابات کیلئے فنڈز کی فراہمی کے معاملے پر الیکشن کمیشن، وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک نے اپنی اپنی رپورٹس سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے فنڈز جاری نہ کرنے کی وجوہات بتائی ہیں جبکہ وزارت خزانہ کی رپورٹ میں کابینہ کے فیصلے اور پارلیمان کو معاملہ بھجوانے کی تفصیلات شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے آگاہ کیا ہے کہ انتخابات کیلئے پیسے نہیں مل سکے،رپورٹ میں سیکیورٹی پلان نہ فراہم کئے جانے کا پہلو بھی شامل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی کے انتخابات ایک ساتھ کرانے کیلئے دوسری درخواست دائر کردی گئی۔ایک ساتھ الیکشن کرانے کی درخواست محمد عارف نامی شہری نے دائر کی۔دونوں درخواستوں پر ایک ساتھ ہی سماعت ہونے کا امکان ہے۔

  • مولانا فضل الرحمان نے  پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے بلاول کو گرین سگنل دے دیا

    مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے بلاول کو گرین سگنل دے دیا

    مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے بلاول کو گرین سگنل دے دیا

    مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے بلاول کو گرین سگنل دے دیا ہے بتایا جارہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے پیپلز پارٹی کی طرف سے پیش کردہ مذاکرات کی تجویز کی حمایت کے لئے بلاول بھٹو زرداری کو گرین سگنل دے دیا ہے تاہم اس میں اس کی کچھ شرائط ہوں گی.

    خیال رہے کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کے لیے قائل کرنے کے لیے ان کے گاؤں پہنچے تھے ، بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ قمر زمان کائرہ اور فیصل کریم کنڈی بھی موجود تھے۔

    ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری مولانا فضل الرحمان کے آبائی گاؤں عبدالخیل پہنچے ہیں، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری مولانا فضل الرحمان کو پی ٹی آئی سے مذاکرات پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاکہ تحریک انصاف کے ساتھ مزاکرات کیئے جاسکیں.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں
    واضح رہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق کی کوششوں سے حکومت اور تحریک انصاف نے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر آمادگی ظاہر کردی تھی۔ جبکہ ذرائع کے مطابق سراج الحق کی وزیراعظم شہباز شریف اور سابق زیراعظم عمران خان سے ملاقات میں دونوں رہنماوں نے الیکشن ڈیٹ کے حوالہ سے مل بیٹھنے پہ آمادگی کا اظہار کیا تھا

    تاہم پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےواضح طور پر کہا تھا کہ عمران خان سے مذاکرات نہیں ہوں گے، عمران خان سے بات کرناکسی صورت ملک کے مفاد میں نہیں ہے، انہوں نے کہا سیاست اتنی گری نہی کہ عمران خان سے بات کریں۔

  • عدالتی مصروفیات کے سبب آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریب میں شرکت نہ کرسکا. چیف جسٹس

    عدالتی مصروفیات کے سبب آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریب میں شرکت نہ کرسکا. چیف جسٹس

    عدالتی مصروفیات کے سبب آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریب میں شرکت نہ کرسکا. چیف جسٹس
    آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریب میں عدم شرکت پر چیف جسٹس نے جو خط اسپیکرقومی اسمبلی کو لکھا وہ سامنے آگیا ہے جس میں چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کی تقریب میں اپنی عدالتی مصروفیات کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکا۔

    آئین پارلیمنٹ کو ریاست میں قوانین وضع کرنے کا اختیار اور اہم ذمہ داری تفویض کرتا ہے ،قوانین ہمارے سیاسی ،سماجی اور معاشی اہداف کو پورا کرنے کے حوالے سے ہماری قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں کہ پارلیمان ایسےقوانین تشکیل دے، جوآئین پاکستان کے معیارپورااتریں،ایسے قوانین آئین کے مطابق قوم کی ترقی،خوشحالی اور امن میں رہنمائی بھی کریں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں جو آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی کی تقریب ہوئی تھی اس میں چیف جسٹس نے شرکت نہیں کی تھی جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شرکت کی تھی جس پر سوشل میڈیا پر تنقید بھی سامنے آئی تھی تاہم پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی آئین کی گولڈن جوبلی کی تقریب میں شرکت کو سراہا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں
    پاکستان بار کونسل کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جوائنٹ آئینی کنونشن میں شرکت کو سراہتے ہیں، سپریم کورٹ کے تمام ججز آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر تنقید بے بنیاد ہے۔ جبکہ پاکستان بار کونسل کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے عزم اور آئینی حمایت پر کوئی شک نہیں، جسٹس انور ظہیر جمالی بھی بطور چیف جسٹس سینیٹ سیشن میں شرکت کر چکے ہیں۔

  • موسم گرما میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کم سے کم رکھی جائے،وزیراعظم کی ہدایت

    موسم گرما میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کم سے کم رکھی جائے،وزیراعظم کی ہدایت

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں یوریا کھاد کی پیداوار و کھپت اور موسم گرما میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی.

    اجلاس میں سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی، وفاقی وزراء طارق بشیر چیمہ، مخدوم سید مرتضی محمود، خرم دستگیر خان، وزیرِ مملکت ڈاکٹر مصدق ملک، مشیرِ وزیرِ اعظم احد خان چیمہ، معاونینِ خصوصی جہانزیب خان، طارق باجوہ اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی ،اجلاس کو ملک میں یوریا کھاد کی پیداوار اور کھپت کے اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ یوریا صنعت کو گیس کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی.

    اجلاس کو موسم گرما میں بجلی کی پیداوار اور متوقع طلب کے حوالے سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا. اسکے علاوہ اجلاس کو نیلم جہلم منصوبے کی بحالی کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کی بحالی کا کام مکمل کرکے رواں سال جولائی میں اس سے کم لاگت بجلی کی پیداوار دوبارہ شروع کر دی جائے گی. وزیرِ اعظم نے نیلم جہلم منصوبے کی بحالی پر کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کر دی.

    وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ ملک میں یوریا کی بروقت پیداوار اور اسکی کسانوں تک ترسیل یقینی بنائی جائے ،حکومت کسانوں کی فی ایکڑ لاگت کم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے.گزشتہ ایک برس میں حکومت نے کسانوں کی خوشحالی اور شعبہ زراعت کی ترقی کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے. یوریا اسمگلنگ سے کسی کو کسانوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے نہیں دونگا.یوریا کھاد کی طلب و رسد کی کڑی نگرانی کی جائے. یوریا کی پیداوار اور اسکی کھپت کو مد نظر رکھتے ہوئے صنعتوں کو گیس کی فراہمی اور بفر اسٹاکس کا ایک جامع لائحہ عمل پیش کیا جائے. وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پارو ڈویژن کو ہدایت کی کہ موسم گرما میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کم سے کم رکھی جائے نیلم جہلم منصوبے کی بحالی پر کام کی رفتار کو تیز کیا جائے

    بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبہ کی دی مودی سرکار نے منظوری

    دیامر بھاشا ڈیم منصوبے سے دشمن کو تکلیف ہو رہی ہے،فیصل واوڈا

    ڈیم مخالف ٹرینڈ ، بھارتی عزائم کا ٹرینڈ ہے ، بھارتی پراپیگنڈہ چند شرپسند عناصرپھیلا رہے ہیں‌، جویریہ صدیقی

    ڈیموں کے مخالفین پاکستان کے دشمن ہیں: سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک

  • دسمبر 1971 میں پاکستان اچانک نہیں ٹوٹا بیج بوئے گئے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    دسمبر 1971 میں پاکستان اچانک نہیں ٹوٹا بیج بوئے گئے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    آئین پاکستان، قومی وحدت کی علامت، جسسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آئین پاکستان کی 50ویں سالگرہ منارہے ہیں،آزادی حاصل کرنے کے بعد سب سے زیادہ ضرورت آئین کی تھی،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ یہ میرے لیے کتاب نہیں ،اس میں لوگوں کے حقوق ہیں،آئین پاکستان کے لوگوں کے لیے ہے،1947میں دنیا میں پہلی اسلامی ریاست وجود میں آئیہم اس آئین کی تشریح کرسکتے ہیں،قائداعظم ہرکونے کونے میں گئے اوربھرپور جدوجہد کے بعدپاکستان قائم ہوتاہے،آئین کو اس طرح پیش نہیں کیا گیا جس کا وہ مستحق تھا دسمبر 1971 میں پاکستان ٹوٹ گیا، اچانک نہیں ٹوٹا بیج بوئے گئے، جسٹس منیر نے پاکستان توڑنے کا بیج بویا تھا.فیڈرل کورٹ میں جسٹس منیر نے پاکستان ٹوٹنے کا بیج بویا اور جو بیج بویا گیا اس نے ملک کے 2 ٹکڑے کردیئے ،تمام قوتوں کے باوجود ناانصافیاں زیادہ دیر تک نہیں ٹھہرتی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا میں نوجوانوں سے مخاطب ہوں، 1977 میں الیکشن ہوتے ہیں اور پھر کہا جاتا ہے کہ یہ صاف شفاف نہیں تھے، اسکے بعد ایک الائنس بنا تھا،ایک طرف الزامات لگائے جا رہے تھے کہ الیکشن منصفانہ نہیں تھے، اسکے باوجود دونوں مخالفین ٹیبل پر بیٹھے، تاریخ اس بات کی گواہ ہے، کہ ان کا معاہدہ ہو چکا تھا دستخط کی دیر تھی کہ ایک اور شخص نے پھر وار کیا جمہوریت پر، آئین پر، یہ چار جولائی 1977 کا دن تھا، ایک شخص پوری قوم پر مسلط ہو گیا،اور 11 سال حکومت کی اگست 1988 تک اور پھر وہ ایک جہاز کے حادثے میں وفات پا گیا، اس سے پہلے عدالتوں میں کیسز آئے، چیلنج ہوئے ، بھٹو کو سزائے موت دی گئی، ریفرنڈم میں جب بھی کسی ڈکٹیٹر نے کروایا تو اسکا ریزلٹ 98 فیصد ہوتا ہے، پولنگ بوتھ خالی ہوتے ہیں لیکن پھر بھی نتائج 98 فیصد، لیکن جب الیکشن ہوتے ہیں جلسے، لمبی لائنیں، انتخابی مہم لیکن نتائج 60 فیصد سے اوپر نہیں جاتے، غور کریں یہ نتیجہ کیسے نکل آتا ہے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ غلط اقدامات کو سراہتی چلی گئی جس پر مجھے شرمندگی ہوتی ہے، 99 میں ایک اورسرکاری ملازم نے ٹیک اوور کر لیا، پھر کیا ہوا وہ سب کے سامنے ہے، زیادہ پرانی باتیں نہیں، انہوں نے دو بار وار کیا، ایک 99 میں اور دوسرا 2007 میں، جب ایمرجنسی نافذ کی ، جس کو تکلیف ہوتی ہے وہ عدالت پر دستک دیتا ہے لیکن ایک کیس رونما ہوا، عجیب سا کیس تھا، اگر کوئی فیصلہ غلط ہے تو وہ غلط ہی رہے گا چاہے سب جج فیصلہ کرلیں، بھاری دل اور تکلیف کے ساتھ مجھے یہ بات ماننی پڑ رہی ہے اور کسی انکار کی گنجائش بھی نہیں کہ میرے ادارے کا ماضی پہلے دن سے آج تک داغدار ہے میری پاس اپنے ادارے کی ایک بھی درخشاں روایت نہیں جسے فخر سے بیان کر سکوں ہم نے ہر آمر کا ساتھ دیا اور جمہوریت کے خلاف استعمال ہوئے۔ ازخود نوٹس کا اختیار صرف سپریم کورٹ کو ہے، 184 تین کے تحت سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ بن جاتی ہے۔ جب سے سپریم کورٹ کا جج بنا کبھی اپنی پسند اور ناپسند کا اظہار نہیں کیا۔ ازخود نوٹس کے استعمال سے متعلق قدم پھونک پھونک کر رکھنا چاہئے، شق 184 تین صرف مظلوموں کیلئے ہے، کسی کو فائدہ دینے کیلئے نہیں۔ اس شق کے تحت چیف جسٹس سمیت تمام ججز کو مشترکہ فیصلہ کرنا چاہئے۔ نمبر گیم سے سچ جھوٹ اور جھوٹ سچ میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔ ہر عدالت سے مختلف آراء سامنے آتی ہیں، سب کی رائے کا احترام کرنا چاہئے

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

  • حکومت کو پیغام دیں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے ورنہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے، چیف جسٹس

    حکومت کو پیغام دیں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے ورنہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کرانے کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل ہیں ،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر آ گئے ،وزرات دفاع کی درخواست پر اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے، قرآنی آیات کی تلاوت پر سماعت کا آغاز ہوا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مولا ہمیں ہمت دے کہ صیح فیصلے کریں،اور ہمیں نیک لوگوں میں شامل کرے ،جب ہم چلے جائیں تو ہمیں اچھے الفاظ میں یاد کیا جائے۔ معاملہ بہت لمبا ہوتا جارہا ہے ۔حکومت نے اپنا ایگزیکٹیو کام پارلیمان کو دیا ہے یا نہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وزارت خزانہ کی رپورٹ پڑھیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو کہا گیا تھا سپلیمنٹری گرانٹ کے بعد منظوری لی جائے گی، اس کے برعکس معاملہ ہی پارلیمنٹ کو بھجوا دیا گیا، کیا الیکشن کیلئے ہی ایسا ہوتا ہے یا عام حالات میں بھی ایسا ہوتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ قائمہ کمیٹی نے حکومت کو ہدایت جاری کی تھی، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قائمہ کمیٹی میں حکومت کی اکثریت ہے، حکومت کو گرانٹ جاری کرنے سے کرنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟ وزیراعظم کے ہاس اسمبلی میں اکثریت ہونی چاہیے، مالی معاملات میں تو حکومت کی اکثریت لازمی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ قومی اسمبلی کی قرار داد کی روشنی میں معاملہ پہلے منظوری کیلئے بھیجا،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ آئین حکومت کو اختیار دیتا ہے تو اسمبلی قرارداد کیسے پاس کرسکتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ گرانٹ کی بعد میں منظوری لینا رسکی تھا،گرانٹ منظوری کا اصل اختیار پارلیمنٹ کو ہے،اسمبلی پہلے قرارداد کے ذریعے اپنی رائے دے چکی تھی ،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا حکومت کی بجٹ کے وقت اکثریت نہیں ہونی تھی؟ جو بات آپ کر رہے ہیں وہ مشکوک لگ رہی ہے، حکومت سنجیدہ ہوتی تو کیا سپلیمنٹری گرانٹ منظور نہیں کروا سکتی تھی ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توقع ہے حکومت اپنے فیصلے رہ نظر ثانی کرے گی،حکومت فیصلہ کرے یا اسمبلی کو واپس بھجوائے جواب دے، اس معاملہ کے نتائج غیر معمولی ہو سکتے ہیں،فی الحال غیر معمولی نتائج پر نہیں جانا چاہتے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو عدالتی احکامات پہنچا دیں،عدالت اراکین پارلیمنٹ کا احترام کرتی ہے، ہمارا مثبت پیغام پہنچا دیں،اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو پھر اس کے نتائج اچھے نہیں ہونگے،انتخابی اخراجات ضرورت نوعیت کے ہیں غیر اہم نہیں،حکومت کا گرانٹ مسترد ہونے کا خدشہ اسمبلی کے وجود کے خلاف ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کہتا ہے اکتوبر تک الیکشن نہیں ہوسکتے،الیکشن کمیشن نے ایک ساتھ الیکشن کرانے کا۔بھی کہا ہے،الیکشن کمیشن کی اس بات پر کئی سوالات جنم لیتے ہیں، الیکشن کمیشن کی آبزرویشن کی بنیاد سیکیورٹی کی عدم فراہمی ہے، الیکشن کمیشن کو کیوں لگتا ہے کہ ماضی کی نسبت اب صورتحال خراب ہے، جب بے نظیر بھٹو کی شہادت اس وقت بھی الیکشن کروائے گئے تھے،دہشتگردی ملک میں 1992 سے جاری ہے، 1987، 1991، 2002، 2008، 2013 اور 2018 میں الیکشن ہوئے، سیکیورٹی کے مسائل ان انتخابات میں بھی تھے، وزارت دفاع کا جواب تسلی بخش نہیں ہے ،کیا گارنٹی ہے کہ 8 اکتوبر کو حالات ٹھیک ہو جائیں گے؟ وزارت دفاع نے بھی اندازہ ہی لگایا ہے، حکومت اندازوں پر نہیں چل سکتی۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ آپریشنز میں متعین کردہ ٹارگٹ حاصل کرنے کی پوری کوشش ہے، کسی کو توقع نہیں تھی کہ اسمبلیاں پہلے تحلیل ہو جائیں گی،، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال ایک حکومت کا خاتمہ ہوا تھا، عدالت نوٹس نہ لیتی تو قومی اسمبلی تحلیل ہوچکی تھی،صوبائی اسمبلیوں کے ہوتے ہوئے قومی اسمبلیوں کے انتخابات بھی ہو ہونے ہی تھے آئین میں اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کا وقت مقرر ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں جنگ کے دوران بروقت انتخابات ہوئے تھے بم دھماکوں کے دوران بھی برطانیہ میں انتخابات ہوتے تھے، عدالت کو کہاں اختیار ہے کہ الیکشن اگلے سال کروانے کا کہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کا کام بیرونی خطرات سے نمٹنا ہے ، سال 2001 سے سیکیورٹی ادارے بارڈرز پر مصروف ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فنڈز اور سیکیورٹی ملنے پر انتخابات کرانے کا کہا تھا، فنڈز کے حوالے سے عدالتی حکم ایک سے دوسرے ادارے کو بھیجا جا رہا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جو پیغام اپ دینا چاہ رہے ہیں وہ سمجھ گیا ہوں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا گارنٹی ہے کہ 8 اکتوبر کو الیکشن ہوجائیں گے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوج نے انتخابات کے مقررہ وقت کے مطابق آپریشنز شروع کیے تھے،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آرٹیکل 245 کے تحت فوج سول حکومت کی مدد کو اتی ہے؟ کیا 2018 کے انتخابات میں بنیادی حقوق معطل تھے؟ وفاقی حکومت آرٹیکل 245 کا اختیار کیوں استعمال نہیں کر رہی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 245 کے تحت بنیادی حقوق معطل ہوتے ہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آئین بالادست نہیں ہے افواج نے ملک کے لیئے جانوں کی قربانیاں دی ہیں،افواج پاکستان کا تو سب کو شکر گزار ہونا چاہیئے .

    ،دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے 4/3 کا معاملہ تھا پھر فل کورٹ کا ،بائیکاٹ ہوا لیکن کسی نے سکیورٹی کا مسئلہ نہیں اٹھایا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری درخواست پر ڈی جی ملٹری آپریشنز نے بریفنگ دی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی اور سیکرٹری دفاع بھی موجود تھے، سماعت 27 مارچ کو شروع ہوئی ، روزانہ کی بنیاد پر 4 اپریل تک سماعتیں ہوئیں، میں نے خفیہ ایجنسیز کے سربراہان سے کہا کہ آپ اب بریفنگ دینے آئے ہیں، سماعت کے دوران کیوں نہیں آئے؟ جو تین اہم لوگ مجھ سے ملنے آئے وہ اوپن ملاقات کرتے تو اچھا ہوتا،الیکشن کمیشن والے ہمیں پہلے کہہ کر گئے کہ پیسے دے دیں، ہم انتخابات کرا لیں گے، اب ان کا جواب دیکھیں،وہ کیا کہہ کر گئے ہیں،الیکشن کمیشن پورا مقدمہ دوبارہ کھولنا چاہتا ہے،اب کہتے ہیں ملک میں انارکی پھیل جائے گی، الیکشن کمیشن اب کیسے کہہ سکتا ہے الیکشن کروانا ممکن نہیں؟ ملاقات میں افسران کو بتایا تھا دوران سماعت یہ معاملہ نہیں اٹھایا گیا،سب کو بتایا کہ فیصلہ ہو چکا ہے اب پیچھے نہیں ہٹ سکتے ،وزارت دفاع کی رپورٹ میں عجیب سے استدعا ہے، کیا وزارت دفاع ایک ساتھ الیکشن کروانے کی استدعا کرسکتی ہے؟ وزارت دفاع کی ملک میں ایک ساتھ انتخابات کی استدعا ناقابل سماعت ہے، ٹی وی چینلز پر ایک ذمے دار وزیر نے کہا اکتوبر کی تاریخ عارضی ہے، یہ میں نے خود سنا،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ گزشتہ 36 گھنٹوں سے سیاستدانوں سے ملاقاتیں کر رہا ہوں، اس صورتحال کو ختم کرنے کے لئے وقت دیا جائے،کل بلاول اور آج میں وزیراعظم سے ملا ہوں، کوشش ہے ملک میں سیاسی ڈائیلاگ شروع ہو، ایک کے علاوہ تمام حکومتی جماعتیں پی ٹی آئی سے مذاکرات پر آمادہ ہیں، بلاول آج مولانا فضل الرحمان سے مل کر مذاکرات پر قائل کریں گے،معاملات سلجھ گئے تو شاید اتنی سیکیورٹی کی ضرورت نہ پڑے،تمام سیاسی جماعتیں مذاکرات پر آمادہ ہورہی ہیں، امیر جماعت اسلامی بھی شہباز شریف اور عمران خان سے ملے،دونوں فریقین نے مذاکرات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں،عدالت کچھ مہلت دے تو معاملہ سلجھ سکتا ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کی بات میں وزن ہے، منجمد سیاسی نظام چلنا شروع ہو رہا ہے ،14 مئی قریب آ چکا ہے،سیاسی جماعتیں ایک موقف پر آ جائیں تو عدالت گنجائش نکال سکتی ہے، لیکن سوال 14 مئی کے انتخابات کا ہے،سیاسی جماعتیں کچھ کرنا چاہتی ہیں تو ہم ان کیساتھ ہیں، یہ بھی دیکھنا ہے 5 دن عیدکی چھٹیاں ہیں، 14 مئی کو انتخابات کا فیصلہ دے چکے ہیں اس معاملے کو زیادہ طویل نہیں کیا جا سکتا، 5 دن عید کی چھٹیاں آ گئی ہیں ، میرے ساتھی ججز کہتے ہیں 5 دن کا وقت بہت ہے، شاہ خاور ایڈوکیٹ نے کہا کہ عدالتی فیصلہ کبھی ایک وجہ سے نافذ نہیں ہو سکا کبھی دوسری وجہ سے عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد ضروری ہے، لوگ کنفیوزاور ٹینشن میں ہیں، عوام کو ہیجانی کیفیت سے نکالنے کے لیے درخواست دائر کی ہے،ملک بھر میں انتخابات ایک ساتھ ہونے چاہییں، انتخابات الگ الگ ہوئے تو کئی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی، صوبوں میں منتخب حکومتیں الیکشن پر اثرانداز ہوں گی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب بحث ہورہی تھی تو اٹارنی جنرل نے یہ نکتہ کیوں نہیں اٹھایا؟ اٹارنی جنرل کو نہ جانے کس نے 4/3 پر ذور دینے کا کہا، اٹارنی جنرل سے پوچھیں گے کس نے ان کو یہ مؤقف اپنانے سے روکا، وکیل شاہ خاور نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ابھی بھی متفق ہوجائیں تو آئیڈیل حالات ہوں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی بات ہے تو 8 اکتوبر پر ضد نہیں کی جا سکتی، یکطرفہ کچھ نہیں ہوسکتا، سیاسی جماعتوں کو دل بڑا کرنا ہوگا،

    سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو کل کیلئے نوٹسز جاری کردیے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوے دن کا وقت 14 اپریل کو گزر چکا ہے۔ آئین کے مطابق نوے دن میں انتحابات کرانے لازم ہیں۔آپ کے مطابق یہ سیاسی انصاف کا معاملہ ہے۔ جس میں فیصلے عوام کرے گی۔ آپکی تجویز ہے کہ سیاسی جماعتیں مذاکرات کریں۔عدالت نے یقین دہانی کرانے کا کہا تو حکومت نے جواب نہیں دیا۔ حکومت نے آج پہلی بار مثبت بات کی۔ عدالت ایک دن انتحابات کرانے کی درخواستوں پر سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کردیتی ہے، سیاسی جماعتوں کو کل کے لیے نوٹس جاری کررہے ہیں۔
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سیاسی جماعتوں کو مہلت دے ، عدالت نے فیصل چوہدری کو روسٹرم پر بلا لیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی مذاکرات پر آمادہ ہے، فیصل چوہدری نے عدالت میں کہا کہ سراج الحق زمان پارک آئے اگلے دن ہمارا سندھ کا صدر گرفتار ہو گیا،قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے آپ سے بہت امید ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ پر جماعتیں مطمئن ہوئیں تو لیول پلیئنگ فیلڈ ملے گا،قوم کی تکلیف اور اضطراب کا عالم دیکھیں ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارٹی قیادت سے ہدایات لیکر عدالت کو آگاہ کریں،ممکن ہے عدالت تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو طلب کرے،ایڈووکیٹ فیصل چوہدری نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی نے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، وزیر داخلہ ہر گھنٹے بعد عدالت کو دھمکیاں دیتا ہے، وزیر داخلہ کہتا ہے جو مرضی کر لے 14 مئی کو الیکشن نہیں ہوں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اتفاق رائے ہوا تو 14 مئی کا فیصلہ نافذ کرائیں گے،کیا آپ سڑکوں پر تصادم چاہتے ہیں؟ سیاسی عمل اگے نہ بڑھا تو الیکشن میں تصادم ہوسکتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین کو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے، کیا سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو ابھی طلب کرنا درست ہو گا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام سیاسی قائدین اسلام آباد میں نہیں ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچھ سربراہان نے غیر سنجیدہ گفتگو کی تھی ، آپ نے آج سنجیدہ موقف اپنایا،سیاسی جماعتوں کے نامزد رہنماؤں کو طلب کریں گے،مذاکرات کا عمل جلد مکمل نہ ہوا تو عدالتی حکم پر عمل کروائیں گے،سیاسی جماعتیں اپنے نمائندے مقرر کر کے کارروائی کا حصہ بنے،

    سپریم کورٹ میں انتخابات کے حوالہ سے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی،تمام سیاسی جماعتوں کو نوٹسز جاری کر دیئے گئے، عدالت نے حکم دیا کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے سینٸر لیڈر شپ پیش ہو،

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے وزارت دفاع کی ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کرانے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی،،وزارت دفاع نے ملک میں ایک ساتھ انتخابات کرانے کی درخواست کی تھی .وزارت دفاع نےعدالت سے 4 اپریل کے پنجاب الیکشن کیس کے فیصلے کو واپس لینے کی استدعا کر رکھی ہے۔ قومی اسمبلی، سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے پر ملک میں ایک ساتھ الیکشن کرانے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    دوسری جانب پنجاب اور خیبرپختونخوا کی نگران حکومتوں کے معاملے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے پٹیشن پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے سابق وزراء اعلیٰ پرویز الٰہی، محمود خان اور فوادچودھری دائر کریں گے ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مشاورت کے بعد پٹیشن دائر کرنے کی منظوری دی،نگران حکومت کی مدت مکمل ہونے پر ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کی استدعا کی جائے گی

    قبل ازیں گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے فنڈز کے حوالے سے پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی، سپریم کورٹ نے آج فنڈز کے حوالے سے رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا تھا ، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو آگاہ کر دیا کہ فنڈز نہیں ملے، اسٹیٹ بینک کی طرف سے رقم ٹرانسفر نہیں کی گئی،سپریم کورٹ نے اسٹیٹ بینک کو براہ راست الیکشن کمیشن کو پنجاب کے الیکشن کے لئے فنڈز دینے کا کہا تھا تا ہم حکومت آڑے آ گئی، کابینہ اجلاس ہوا، پھر قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا ، اسمبلی اجلاس میں فنڈز نہ دینے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری کیے جانے والے حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ اسٹیٹ بینک پنجاب میں انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن کو براہ راست رقم جاری کرے، وزارت خزانہ نے بتایا ہے کہ 17 اپریل تک 21 ارب روپے الیکشن کمیشن کو دیےجائیں گے۔

    عدالت نے اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کو 18 اپریل تک فنڈز جاری کرنے سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزید کہا تھا کہ الیکشن کمیشن بھی 18 اپریل کو 21 ارب روپے فنڈز وصولی کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے۔

    دوسری جانب خیبرپختونخوا انتخابات کیس میں الیکشن کمیشن نے جواب جمع کرانے کیلئے وقت مانگ لیا پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کی جانب سے خیبرپختونخوا میں انتخابات کیلئے کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس ابراہیم خان اور جسٹس عبدالشکور نے سماعت کی،سپیکر خیبرپختونخوااسمبلی مشتاق غنی ہائیکورٹ میں پیش ہوئے،بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ 18 اپریل کو نگران حکومت کی مدت ختم ہو گئی ہے،مدت ختم ہونے کے باوجود تاحال الیکشن کی تاریخ نہیں دی گئی ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ الیکشن تاریخ گورنر اور الیکشن کمیشن نے دینی ہے،الیکشن کمیشن نے جواب جمع کرانے کیلئے وقت مانگ لیا جسٹس ابراہیم خان نے کہاکہ آئندہ سماعت پر اس کیس کو سنیں گے،4 مئی کو کیس سن کر فیصلہ کریں گے ،عدالت نے سماعت 4 مئی تک ملتوی کردی

  • شوکت ترین بطور وزیر خزانہ کیسے کرپشن کی داستانیں رقم کرتے رہے؟ سب سامنے آ گیا

    شوکت ترین بطور وزیر خزانہ کیسے کرپشن کی داستانیں رقم کرتے رہے؟ سب سامنے آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنماؤں کی کرپشن کی داستانیں منظر عام پر آ رہی ہیں، ساڑھے تین برس تک اقتدار میں رہنے والی تحریک انصاف کے رہنماؤں، سابق وزرا کو کرپشن کی وجہ سے کبھی نیب ، تو کبھی اینٹی کرپشن طلب کر رہی ہے اور رہنما پیش ہونے کی بجائے ضمانتیں لئے جا رہے ہیں

    اب تازہ ترین انکشاف سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کے بارے میں سامنے آیا ہے، شوکت ترین عمران خان کے دور میں مشیر خزانہ رہ چکے ہیں، شوکت ترین تحریک انصاف میں نہیں تھے بلکہ وہ امپورٹڈ وزیر تھے جن کو عمران خان نے معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے امپورٹ کیا مگر شوکت ترین نے آتے ہی پاکستانی معیشت کو سنبھالا دینے کی بجائے اپنی ہی معیشت کو سنبھالا دیا،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سید کامران نقوی شوکت ترین کی کرپشن کی داستان بیان کرتے ہیں ، ٹویٹ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ تین ارب ڈالر کی ہو شربا داستان ،رضا باقر نے بطور گورنر سٹیٹ بینک اور شوکت ترین نے بطور فنانس منسٹر HASCOL گروپ کو ایک ارب ڈالر کا صفر شرح سود پر قرضہ دیا اور پھر قرض ملنے کے فوری بعد HASCOL نےقرقی دکھا دی اور خود کو دیوالیہ ظاہر کر دیا۔ اسکے بعد شوکت ترین نے HASCOL کیلئے رضا باقر کی کمپنی کو ایڈوائزر رکھ لیا۔شوکت ترین جو کہ خود HASCOL میں شراکت دار، اسی لئے SBP سے لئے گئے 3 ارب ڈالر کی لسٹ منظر عام پر نہیں آرہی ہے کیونکہ شوکت ترین کے گروپ نے اس میں سے ایک ارب ڈالر لیا تھا۔اس طرح خزانے میں کھلے عام لوٹ مار کی گئی جس کا خمیازہ آج عام پاکستانی بھگت رہا ہے۔

    https://twitter.com/syedkamran_/status/1648343104322416641?s=48&t=wd8WySSOvpzdjiNNn0y62w

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حالیہ دنوں میں ایک انٹرویو میں ایک بار پھر عندیہ دیا تھا کہ اگر انکو حکومت ملی تو شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنائیں گے، پاکستانی معیشت کو کھوکھلا کرنے والے اور اپنی ہی جیبیں بھرنے والوں کو عمران خان کی جانب سے دوبارہ ہی خزانے کا وزیر بنانے کا عندیہ لمحہ فکریہ ہے، کرپشن کے خلاف جنگ لڑنے والی تحریک انصاف اب خود حد درجہ کرپشن کر چکی ہے یہاں تک کہ عمران خان سے ملاقاتوں کے لئے بھی کروڑوں کی ڈیمانڈ کی جا رہی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ کرپٹ عناصر کے خلاف فوری کاروائی ہونی چاہئے اور ان سے لوٹی گئی پاکستانی قوم کی دولت واپس لی جانی چاہئے،نیب اور اینٹی کرپشن کو شوکت ترین اور سابق گورنر سٹیٹ بینک کو بھی طلب کر کے تحقیقات کرنی چاہئے

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے والدین بھی عدالت پہنچ گئے

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے ریمانڈ میں توسیع

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ریاست کو مدعی بننا چاہئے،صارفین

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، وزیراعظم نے بڑا اعلان کر دیا

     

  • حامد میر پر قاتلانہ حملے کو 9 سال مکمل مگر انصاف نہ مل سکا

    حامد میر پر قاتلانہ حملے کو 9 سال مکمل مگر انصاف نہ مل سکا

    سینئر صحافی اور کالم نگار حامد میر پر 19 اپریل 2014 کو کراچی میں کیئے گئے حملہ کو 9 سال مکمل ہوگئے ہیں مگر تاحال انہیں انصاف نہیں ملا ہے، ان پر یہ حملہ کراچی میں اس وقت ہوا تھا جب وہ ائیرپورٹ سے گاڑی میں بیٹھ کر جیو دفتر جارہے تھے تاہم راستے میں نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی کا تعاقب کیا اور پھر موقع ملتے ہی گولیاں چلا دیں.


    تاہم خیال رہے کہ وہ اس حملہ میں شدید زخمی ہوگئے تھے. حامد میر پر حملے کو نو سال مکمل ہونے پر صحافی ملک رمضان اسراء نے لکھا کہ "حامد میر جیسے معروف صحافی پر قاتلانہ حملے کو نو سال مکمل ہوگئے لیکن ابھی تک انہیں انصاف نہیں ملا ہے تو آپ اب اندازہ لگالیں کہ عام آدمی کا کیا حال ہوگا؟” انہوں نے مزید لکھا کہ "جب مجھے 2014 میں حامد میر پر قاتلانہ حملے کا علم ہوا تو میرے پاؤں سے زمین نکل گئی اور آنکھوں میں آنسو تھے بھاگ کر گھر آیا تو امی نے پوچھا خیریت کیوں رو رہے ہو انہیں بتایا تو وہ فورا جائے نماز پر بیٹھ گئی اور پھر ہم مسلسل دعائیں کرتے رہے۔”


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں
    حامد میر اس بارے میں لکھتے ہیں کہ "کراچی میں قاتلانہ حملے کے بعد مجھ پر دباؤ ڈالا گیا کہ پاکستان سے چلے جاؤ جب انکار کیا تو کچھ عرصے کے بعد قتل اور اغوا کے مقدمے میں پھنسایا گیا، پھر توہین رسالت کا الزام لگایا گیا آخر میں بغیر کسی عدالتی حکم کے پابندی لگا دی گئی کسی عدالت سے انصاف نہ ملا”

  • عمران خان سے ملاقات کیلئے 1 کروڑ روپے دینا ہوں گے. اعجاز چودھری کی مبینہ آڈیو لیک

    عمران خان سے ملاقات کیلئے 1 کروڑ روپے دینا ہوں گے. اعجاز چودھری کی مبینہ آڈیو لیک

    پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اعجاز چودھری اور پی پی 114 سے ٹکٹ کے امیدوار کی مبینہ ٹیلیفونک گفتگو لیک ہوگئی ہے جس میں اعجاز چودھری عمران خان سے ملاقات کرانے کے 1 کروڑ مانگ رہے ہیں۔


    جبکہ آڈیو میں چودھری حفیظ اعجاز چودھری کو فون کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے پی پی 114 کی ٹکٹ کے لیے عرض کی تھی ۔اس پر اعجاز چودھری کہتے ہیں کہ آپ آجائیں۔ چودھری حفیظ پوچھتے ہیں کہ ڈونیشن کتنا ہوگا؟ اس پر اعجاز چودھری کہتے ہیں ڈونیشن کی کوئی حد نہیں لیکن 1 کروڑ سے کم نہیں ہونا چاہیے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں
    چودھری حفیظ نے کہا کہ چلیں میں عید کے بعد آجاتا ہوں۔ اعجاز چودھری نے اسے کہا کہ عید کے بعد نہیں بلکہ آج ہی آجائیں ۔ تاہم اس آڈیو لیک کے بعد تحریک انصاف پر کافی تنقید کی جارہی ہے اور صارفین کہہ رہے ہیں کہ اب عمران خان کا انصاف کہا گیا ہے.

    ایک صارف نے لکھا کہ عمران خان اب مکمل طور پر بے نقاب ہوگیا ہے اور عوام اور ان کے پیروکاروں کو انہیں جان لینا چاہئے کہ یہ پارٹی دو نمبر ہے کیونکہ یہ لوگ بھی دوسروں کی طرح جھوٹے دعوے کرتے ہیں.

  • صدر مملکت عارف علوی کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    صدر مملکت عارف علوی کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست گزار کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عارف علوی عمران خان کی ایماء پر قانون سازی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے باوجود صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی منظوری نہ دی ،درخواست ایک شہری چوہدری محمد امتیاز کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ صدر مملکت کے یہ اقدامات کسی مخصوص پارٹی کی طرف جھکاؤ ظاہر کرتے ہیں ، ایسے طرز عمل کی بناء پر ڈاکٹر عارف علوی صدر کے عہدے کے اہل نہیں،آئین کے آرٹیکل 41 کے ڈاکٹر عارف علوی کو صدر کے عہدے سے ہٹایا جائے۔

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    بشری بی بی کی آڈیونےدنیا بدل دی۔قہرٹوٹ پڑا ،عمران خان مایوس،دل ٹوٹ گیا

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ صدر مملکت نے پارلیمان کی جانب سے بھجے گئے سپریم کورٹ پروسیجر بل کی منظوری نہ دی صدر مملکت نے نیب ترامیم بل اور اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ پر بھی دستخط کرنے سے انکار کیا ،صدر مملکت کا اپنی آئینی ذمہ داریوں سے انکار کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ صدر کیلئے عہدے کیلئے اہل نہیں صدر ایک سیاسی جماعت سے منسلک اور جانبدار ہیں، صدر مملکت نے حکومت کی قانون سازی کو سیاسی جماعت کے چئیرمین کے کہنے پر منظور نہیں کیا،