Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اسمبلی قانون پاس کرچکی،عدالت کو پارلیمنٹ کے ایکٹ کا احترام کرنا ہوگا،مولانا فضل الرحمان

    اسمبلی قانون پاس کرچکی،عدالت کو پارلیمنٹ کے ایکٹ کا احترام کرنا ہوگا،مولانا فضل الرحمان

    سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عدالت کہہ رہی ہے کہ عمران خان سے بات کریں ، جس کو نااہل ہونا چاہیے تھا سپریم کورٹ اسے سیاست کا محور بنا رہی ہے

    مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی قانون پاس کر چکی ہے ،عدالت کو پارلیمنٹ کے ایکٹ کا احترام کرنا ہوگا ہم انصاف کو مان سکتے مگر چیف جسٹس کے ہتھوڑے کو تسلیم نہیں کر سکتے ،عدالت اپنی پوزیشن واضح کرے کہ وہ عدالت ہے یا پنچائیت ہے ۔ اگر عمران خان کسی ایک تاریخ پر رضا مند ہے تو وہ تاریخ کورٹ کو قبول ہے یہ کیسی کورٹ ہے ۔ عدالت ہمیں جو دھونس دکھا رہی ہے وہ نہیں دکھا سکتی ۔ اسے پارلیمینٹ کا احترام کرنا ہوگا ۔ پہلے ہمیں بندوق کے زور پر کہا جاتا تھا – اب ہتھوڑے کے زور پر کہا جا رہا ہے کہ بات کرو ہم ججز کا ہتھوڑا قبول نہیں کریں گے ،ایک شخص کی محبت میں آپ پاکستان کی انتہائی معزز کرسی پر بیٹھ کر ہماری سیاست کی توہین کررہے ہیں ۔ ہم عمران خان کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ ہم اس سے بات کریں ،اتحادیوں سے کہا بنچ پر پارلیمنٹ عدم اعتماد کرچکی ہے ،وزیر قانون اور اٹارنی جنرل ان کو بتا چکے ہیں کہ آپ پر اعتماد نہیں ، کیا اس بنچ کے سامنے پیش ہو کر یقین دہانیاں کراؤں ، آج عدالت کے سامنے پیش ہونے والے پارٹیوں نے پارلیمان کی توہین میں برابر کا حصہ ڈالا ہے سپریم کورٹ اپنے رویے میں لچک پیدا کرے عدالت نے خود جبر کا فیصلہ کیا اب ہم سے راستہ مانگ رہی ہے ہم کیوں راستہ دیں اپنا فیصلہ خود واپس لیں ،عمران خان کے ساتھ بات چیت نہیں ہو سکتی ،عمران خان نے جرائم کیے وہ نااہل ہیں ،انصاف کو تسلیم کریں گے

    قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کو ٹیلیفون کیا، مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم کو اپنے مؤقف سے آگاہ کردیا ، اور کہا کہ جلد بازی کے بجائے عدالت سے عید کے بعد کا وقت لیا جائے ، پی ٹی آئی کی سب باتیں ماننی ہیں تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے ،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،

    عمران خان کا مزاج کسی بھی طور پر سیاسی نہیں

  • عید 22 اپریل کو،رویت ہلال کمیٹی نے ایک دن قبل  ویڈیو کیوں ریکارڈ کروائی؟

    عید 22 اپریل کو،رویت ہلال کمیٹی نے ایک دن قبل ویڈیو کیوں ریکارڈ کروائی؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان مفتی ناصر الاسلام کی جانب سے ایک دن قبل ہی عید اعلان کی ویڈیو ریکارڈ کروانے پر پھٹ پڑے ہیں،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اگر میں آپکو یہ کہوں کہ عید ہفتے کے دن ہے تو آپکو کیسے یقین آئے گا؟ مجھے نہیں پتہ کہ یہ ویڈیو کس وقت دیکھیں گے، اج جمعرات اور بیس تاریخ ، دن کا ایک بجا ہے، پہلے سے بتا رہا ہوں کہ کافی لوگ آپ جو مرضی کر لیں کہہ لیں وہ عید ہفتے کو کریں گے، اسکے پیچھے کتنے مکروہ لوگ موجود ہیں، وہ لوگ جنہوں نے اسلام کا مزاق بنا رکھا ہے، دین کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کا مزاق بناتے ہیں، حالانکہ وہ دین کے معاملے میں پڑھے لکھے نہیں ہیں کیونکہ اگر کسی کو احساس ہوتا کہ اسلام کی تعلیمات کیا ہیں تو وہ دین کا مزاق نہ اڑاتا، میں بات کر رہا ہوں مفتی ناصر الاسلام کی جس نے دو دن قبل پیغام ریکارڈ کروا دیا کہ عید ہفتے کو ہو گی،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اسکی وجہ کیا ہے، میں کئی سال سے کہہ رہا ہوں،لیکن لوگ بات سنتے نہیں جہاں مزہب آ گیا، مولوی آ گیا وہاں سب چپ ہو گئے، ہم نے جاہل لوگوں کے ہاتھ میں دین دیا ہوا ہے، اتنی کہانیاں ہیں اس میں کہ سوچ بھی نہیں سکتے، 20 تاریخ کی صبح کو میں نے ایک ویڈیو دیکھی، جس نے میرے تن بدن میں آگ لگا دی، تین چار بار دیکھی کہ یہ ویڈیو میں تاریخ اب کی ہے، پرانی تو نہیں ،لیکن مفتی ناصر الاسلام کشمیر کے ہیں اور رویت ہلال کمیٹی کی طرف سے اعلان کر رہے ہیں کہ علماء کرام کی بیٹھک کے بعد پتہ چلا کہ کوئی رویت چاند کی نہیں آئی اسلئے عید اب جمعہ کو نہیں ہفتہ کو ہو گی،سوچیں یہ کیا ویڈیو ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپکو حیرانی ہوئی،مجھے نہیں ہوئی کیونکہ مجھے پتہ ہے یہ کام ہوتے ہیں، ایک جگہ پر الگ چاند نظر آتا ہے، کراچی اور پشاور میں چار منٹ کا فرق ہے، نارتھ سے ساؤتھ میں آ جائیں ، دو گھنٹے ، چار گھنٹے کا فرق نہین، ایک دن کا فرق نہیں،پاکستان چھوٹا ملک ہے اور چار منٹ کا اس میں فرق ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پشاور میں الگ اور کراچی میں الگ، کشمیر میں الگ چاند نظر آ رہا ہے، ملک میں تین تین چار چار عیدیں کیسے ہو سکتی ہیں،یہ کوئی بار تھوڑا ہی ہوا، پہلے بھی کئی بار ہو چکا، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے، میری کتاب میں، میرے علم کے مطابق جو شخص دین میں اضافہ کرتا ہے وہ بدعتی ہے اور اسکے لئے کوئی جگہ نہیںَ ، بدعتی بھی وہ جو جان بوجھ کر کرے پھر.جو تعلیم دے رہا ہے، تبلیغ کر رہا ہے، انکی کیا گنجائش ہے ، ہم کتنے لوگوں‌ پر توہین مز ہب کا الزام لگا دیتے ہیں، مجزوب بچی پر الزام لگا دیا گیا، اور کئی واقعات ہو چکے ہیں، کیا یہ لوگ ہمیں بتائیں گے کہ کون کافر ہے، یہ جو سو کالڈ مولوی کر رہا ہے یہ توہین مز ہب نہیں تو اور کیا ہے، جب مفتی رویت کا کہہ رہا ہے اسکے اوپر بات کر رہا ہے، یعنی جتنی انکے پاس شہادتیں آئیں گی، انکو جھٹلانا ہے، کتنی بار ہوا کہ تین سو شہادتیں آئیں اور رویت ہلال کمیٹی نے نہیں مانیں، مسجد قاسم خان پھر الگ سے عید کا اعلان کر دیتی، کہیں روزہ تو کہیں عید، رمضان کے شروع اور عید کے لئے چاند کا مسئلہ، لیکن گیارہ ماہ میں چاند کا کوئی مسئلہ نہیں کیوں؟

    پاکستانی قوم خبردار،مفتی نے چاند دیکھے بنا دن دہاڑے قبل از وقت عید کا اعلان کر دیا

  • بلاول بھٹوآئندہ ماہ  بھارت جائیں گے

    بلاول بھٹوآئندہ ماہ بھارت جائیں گے

    اسلام آباد: وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری آئندہ ماہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت جائیں گے،وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری 2016 کے بعد بھارت کا دورہ کرنے والے پہلے پاکستانی وزیرخارجہ ہوں گے۔

    ایک ہی دن انتخابات پر مشاورت کیلئےحکمراں جماعتوں کاعید کے بعد سربراہی اجلاس بلانے کا …

    باغی ٹی وی: ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ 4 اور 5 مئی کو بلاول بھٹو زرداری گوا میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے دورہ بھارت کے لیے ہماری تیاری جاری ہے، دورہ بھارت پر میڈیا کی شرکت کے لیے بھی رہنمائی کریں گے-

    پاکستانی قوم خبردار،مفتی نے چاند دیکھے بنا دن دہاڑے قبل از وقت عید کا اعلان …

    ترجمان نے بتایا کہ ممبر ڈیزاسٹر اتھارٹی آج شنگھائی تعاون تنظیم کےاجلاس میں ورچوئل شرکت کررہے ہیں، وفاقی وزیرماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے دہلی میں ہونے والے اجلاس میں ورچوئل شرکت کی، ان کے ساتھ ڈی جی نیشنل ڈیزاسٹر اتھارٹی نے بھی ورچوئل شرکت کی۔

    ایک ساتھ انتخابات کرانے کی درخواست،سیاسی رہنما پہنچے سپریم کورٹ

    دوسری جانب بھارت میں رواں ماہ کے آخر میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت نہ جانےکا فیصلہ کیا ہے خواجہ آصف شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں ورچوئل شرکت کریں گے، خواجہ آصف کو وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔

    اسرائیلی وزیراعظم کی سعودی عرب اور ایران کے درمیان معاہدے پر تنقید

  • اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سےمزید وقت مانگ لیا

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سےمزید وقت مانگ لیا

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سےمزید وقت مانگ لیا ، اٹارنی جنرل نے درخواست کی کہ سیاسی قائدین کے درمیان مشاورت جاری ہے ،کچھ وقت مزید دیا جائے،

    سپریم کورٹ میں کیس کی دوبارہ سماعت چار بجے ہونی تھی،تا ہم ابھی تک دوبارہ سماعت شروع نہیں ہو سکی،

    قبل ازیں انتخابات ایک ہی روز کرانے سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی ،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مولا کریم لمبی حکمت دے تا کہ صحیح فیصلے کر سکیں،ہمیں نیک لوگوں میں شامل کر اور ہمارے جانے کے بعد اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے،سراج الحق کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، آپ نے نیک کام شروع کیا اللہ اس میں برکت ڈالے عدالت اس نیک کام میں اپنا حصہ ڈالے گی،صف اول کی قیادت کا عدالت آنا اعزاز ہے،قوم میں اضطراب ہے،سیاسی قیادت مسئلہ حل کرے تو سکون ہو جائے گا،عدالت حکم دے تو پیچیدگیاں بنتی ہیں، سیاسی قائدین افہام و تفہیم سے مسلہ حل کریں تو برکت ہو گی

    اٹارنی جنرل عدالت کے سامنے پیش ہوئے،شاہ خاور نے عدالت میں کہا کہ بیشتر سیاسی جماعتوں کی قیادت عدالت میں موجود ہے مناسب ہو گا عدالت تمام قائدین کو سن لے، جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے الیکشن ایک ہی دن ہوں، چیف جسٹس عمر رطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قائدین کا تشریف لانے پر مشکور ہوں،

    پی ٹی آئی کی جانب سے شاہ محمود قریشی عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ عدالت کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں، شاہ محمود قریشی نے عدالت میں کہا کہ عدالت کے ہر لفظ کا احترام کرتے ہیں ، ملک نے آئین کے مطابق ہی آگے بڑھنا ہے،ہمیشہ راستہ نکالنے اور آئین کے مطابق چلنے کی کوشش کی،قوم نے آپ کا فیصلہ قبول کیا ہے، دیکھتے ہیں کی حکومت کا کیا نقطہ نظر ہے، ہماری جماعت آئین کے تحفظ پر آپ کے ساتھ ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت دفاع کی بھی یہی استدعا ہے کہ الیکشن ایک دن میں ہوں، درخواست گزار بھی یہی کہہ رہا ہے کہ ایک ساتھ الیکشن ہوں، اٹارنی جنرل نے یہ نکتہ اٹھایا لیکن سیاست کی نظر ہوگیا،فاروق نائیک بھی چاہتے تھے لیکن بائیکاٹ ہوگیا،اخبار کے مطابق پیپلز پارٹی کے قائد بھی مذاکرات کو سراہتے ہیں،ن لیگ نے بھی مذاکرات کی تجویز کو سراہا ہے، آج 29 ویں رمضان ہے، ہمارے سامنے ایک بریفنگ دی گئی ، درخواست گزار بھی ایک ہی دن میں الیکشن چاہتے ہیں ،وزارت دفاع نے بھی بہت اچھی بریفنگ دی ،فاروق ایچ نائیک نے بھی کہا تھا کہ ایک ساتھ انتحابات ہوں،آصف زرداری کے مشکور ہیں انھوں نے ہماری تجویز سے اتفاق کیا،

    پیپلز پارٹی کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے،اور کہا کہ خواجہ سعد رفیق، قمر زمان کائرہ، طارق بشیر چیمہ بھی آئے ہیں،ایم کیو ایم سے صابر قائم خانی، ایاز صادق اور بی این ہی بھی موجود ہیں،حکومتی سیاسی اتحاد کا مشترکہ مؤقف ہے کہ 90 دن میں انتخابات کا وقت گزر چکا ہے، عدالت دو مرتبہ 90دن سے تاریخ آگے بڑھا چکی ہے ،سیاسی جماعتیں پہلے ہی ایک ساتھ انتخابات کام شروع کر چکی ہے ،بلاول بھٹو نے اسی سلسلے میں مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی، عید کے فوری بعد سیاسی ڈاٸیلاگ حکومتی اتحاد کے اندر مکمل کرینگے،پی ٹی آٸی سے پھر مذاکرات کرینگے تاکہ ہیجانی کیفیت کا خاتمہ ہو ،ہماری کوشش ہوگی کہ ان ڈاٸیلاگ سے سیاسی اتفاق رائے پیداہو ،الیکشن جتنی جلدی مکمن ہو ایک ہی دن ہونے چاہیے ، ہم چاہتے ہیں کسی ادارے کی مداخلت کے بغیر الیکشن ہونے چاہیں،

    ن لیگی رہنما، خواجہ سعد رفیق نے عدالت میں کہا کہ ہم قیادت کے مشورے کے آپ کے سامنے آئے ہیں، ملک میں انتشار اور اضطراب نہیں ہونا چاھیے، یقین رکھتے ہیں کہ ایک ہی دن الیکشن ہونے چاھیے، ہم مقابلے پر نہیں مکالمے پر یقین رکھتے ہیں، ہم سیاسی لوگوں کو مزاکرات کے ذریعے حل نکالنا چاھیے ہم نے عید کے بعد اتحادیوں کا اجلاسں بلایا ہے، اپوزیشن کے ساتھ بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ریاستی اداروں کا وقت ضائع کرنے کی بجائے سیاست دانوں کو خود بات کرنی چاہیئے، عدالت میں بھی اپوزیشن کے ساتھ بغلگیر ہوئے ہیں، میڈیا پر ہونے والے جھگڑے اتنے سنگین نہیں ہوتے جتنے لگتے ہیں،

    ایاز صادق بی این پی منگل کی نمائندگی کے لئے روسٹرم پر آگئے ،اور کہا کہ بی این پی والے چاغی میں تھے اس لیئے مجھے پیش ہونے کا کہا گیا، پی ٹی آئی سے ذاتی حیثیت میں رابطہ رہتا ہے آئندہ بھی رہے گا،

    پیپلز پارٹی کی جانب سے قمر ذمان کائرہ پیش ہوئے اور کہا کہ خواجہ سعد رفیق کی گفتگو سے مکمل اتفاق کرتا ہوں تلخی بہت زیادہ ہے، وجوہات سے پورا ملک آگاہ ہے، بطور سیاسی جماعت حکومتی اتحادی سے پہلے بات کا آغاز کیا، جب ملک میں تلخیاں بڑھیں تو بیٹھ کر سیاسی قوتوں کو حل نکالنا پڑا، پیپلز پارٹی کی جانب سے عدالت کا مشکور ہوں، کوشش ہے کہ جلد از جلد انتخابات پر اتفاقِ رائے ہوجائے، عدالت اور قوم کو یقین دہانی کراتے ہیں ملک کیلئے بہتر فیصلے کریں گے،

    طارق بشیر چیمہ بھی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ چوہدری شجاعت حسین نے عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا، مجھے چوہدری شجاعت نے پیش ہونے کا حکم دیا تھا، پہلے دن سے مزاکرت کا عمل شروع ہو ، ملک میں ایک دن میں الیکشن ہونا چاہیئے۔ یہ بہت سے اختلافات کو ختم کردیگا ،یقین دلاتا ہوں کہ ایک دن الیکشن کرانے کی سپورٹ کرتے ہیں ، آپ فیصلہ کرینگے تو اس پر تنقید ہوسکتی ہے لیکن اگر ہم کرینگے تو پھر سب کے لئے بہتر ہوگا ، عدالت کا فیصلہ کسی کو اچھا لگے گا کسی کو برا، سیاسی قائدین کا مشترکہ فیصلہ قوم کو قبول ہوگا،

    شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آگئے۔ اور کہا کہ کسی کی خواہش کا نہیں آئین کا تابع ہوں، سپریم کورٹ نے انتخابات کے حوالے سے فیصلہ دیا، عدالتی فیصلے پر عملدرآمد میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، عدالت نے بردباری اور تحمل کا مظاہرہ اور ائین کا تحفظ کیا تلخی کی بجائے اگے بڑھنے کیلئے آئے ہیں، سیاسی قوتوں نے ملکر ملک کو دلدل سے نکالنا ہے،پارٹی کا نقطہ نظر ہیش کرچکا ہوں، ایک سیاسی پہلو ہے دوسرا قانونی،آئین 90 روز کے اندر انتخابات کرانے کے حوالے سے واضح ہے،مذاکرات سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے ، مذاکرات آئین سے بالا نہیں ہو سکتے ،عدالت نے زمینی حقائق کے مطابق 14 مئی کی تاریخ دی ،مذاکرات تو کئی ماہ اور سال چل سکتے ہیں، حکومت کا یہ تاخیری حربہ تو نہیں ہے۔ اعتماد کا فقدان ہے ،حکومت اپنی تجاویز دے جائزہ لیں گے ، عمران خان کی طرف سے کہتے ہیں کہ راستہ نکالنے کی کوشش کریں گے ، عدالت نے 27 اپریل تک فنڈز فراہمی کا حکم دیا ، عدالتی حکم پر پہلے بھی فنڈز ریلیز نہیں کیئے گئے، پارلیمنٹ کی قرارداد آئین سے بالاتر نہیں ہوسکتی، مناسب تجاویز دی گئیں تو راستہ نکالیں گے، انتشار چاہتے ہیں نہ ہی آئین کا انکار،

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،

    سعد رفیق دوبارہ روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ عدالت کو ڈیبیٹ کلب نہیں بنانا چاہتے، مل بیٹھیں گے تو سوال جواب کریں گے، عدلیہ اور ملک کے لیے جیلیں کاٹی ہیں ماریں بھی کھائی ہیں، آئینی مدت سے ایک دن بھی زیادہ رہنے کے قائل نہیں ہیں ،۔قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ عدالت میں ٹاک شو یا مکالمہ نہیں کرنا چاہتے۔ ملک میں ایک ساتھ بھی الیکشن ہوئے اور مقررہ تاریخ سے اگے بھی گئے آئین بنانے والے اسکے محافظ ہیں ، آئین سے باہر جانے والوں کے سامنے کھڑے ہیں ،قمر الزمان کائرہ نے عدالت میں کہا کہ تلخ باتیں یہاں کرنا بہتر نہیں،شاہ محمود قریشی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جواب الجواب ہم بھی دے سکتے ہیں

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے عدالت میں کہا کہ قوم عدالتی فیصلوں کو سلام پیش کرتی ہے۔عدالت کا فیصلہ پوری قوم کا فیصلہ ہوگا۔ یہ نہ ہو مذاکرات میں چھوٹی اور بڑی عید اکھٹی ہوجائے۔سیاستدان مذاکرات کا مخالف نہیں ہوتا۔ لیکن مذاکرات با معنی ہونے چاہیں ایک قابل احترام شخصیت نے آج بائیکاٹ کیا ہے ،

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سپریم کورٹ میں کہا کہ قوم کی جانب سے عدالت کا مشکور ہوں کل پاک افغان بارڈر پر تھا، پوری رات سفر کر کے عدالت پہنچا ہوں، قرآن کریم کی تلاوت سے عدالتی کاروائی کا آغاز کرنے پر مشکور ہوں، اللہ کا حکم ہے اجتماعی معاملات میں مذاکرات کرو، اللہ کا حکم ہے یکسوئی ہوجائے تو اللہ پر اعتماد کرو، مذاکرات کرنا آپشن نہیں اللہ کا حکم ہے ، آئین اتفاق رائے کی بنیاد پر وجود میں ایا ہے، آج بھی آئین ملک کو بچا سکتا ہے، آئین کی حفاظت کرنا ملک کی حفاظت کرنا یے،دنیا کا منظر نامہ تبدیل ہو چکا ہے، 1977 میں نتائج تسلیم نہیں کیے گئے اور احتجاج شروع ہوگیا، 1977 میں سعودی سفیر اور امریکی سفیر نے مذاکرات کی کوشش کی تھی،مذاکرات ناکام ہوئے تو مارشل لاء لگ گیا، 90 کی دہائی میں ن لیگ اور پی پی پی کی لڑائی سے مارشل لاء لگا، آج ہمیں اسی منظر نامے کا سامنا ہے،امریکہ ایران اور سعودی عرب اب پاکستان میں دلچسپی نہیں لے رہے،اپنا گھر خود سیاستدانوں نے ٹھیک کرنا ہے، نیلسن منڈیلا کیساتھ ڈیکلار نے تیس سال لڑائی کے بعد مذاکرات کیے گئے ، نیلسن منڈیلا نے اپنے ایک بیٹے کا نام ڈیکلار رکھا ،پاکستان جہموری جدوجہد کے نتیجے میں بنا کسی جنرل نے نہیں بنایا ،آمریت نہ ہوتی تو ملک نہ ڈوبنا ، خیبر پختونخواہ میں کسی نے پی ٹی آئی سے استعفی دینے کا مطالبہ نہیں کیا تھا ، دونوں صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل کرنے پر عوام حیران ہے ، خیبر پختون خواہ والوں نے خلاف روایت دوسری مرتبہ پی ٹی آئی کو ووٹ دیا

    سراج الحق نے سپریم کورٹ میں اپنے موقف میں کہا کہ میں نے وزیراعظم اور عمران خان سے ملاقات کی،مسائل کا حل صرف الیکشن ہیں، اور کوئی راستہ نہیں، عمران خان کو کہا نہیں چاہتا ملک میں 10 سال مارشل لاء لگے،عمران خان نے کہا میری عمر اس سے زیادہ نہیں، میں بھی یہ نہیں چاہتا، کسی کی ذاتی خواہش پر الیکشن نہیں ہوسکتے،90 دن سے الیکشن 105 دن پر آ گئے، اگر 105 دن ہوسکتے ہیں تو 205 دن بھی ہوسکتے ہیں، میڈیا نے پوچھا کیا آپ کو اسٹیبلشمنٹ نے اشارہ کیا ہے، میرا مؤقف ہے عدلیہ، افواج اور الیکشن کمیشن کو سیاست سے دور ہونا چاہیے، ہر کسی کو اپنے مؤقف سے ایک قدم ہیچھے ہٹنا ہوگا، مسائل کی وجہ یہ ہے کہ عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن غیر سیاسی نہیں ہوئے،سیاسی جماعتیں کبھی الیکشن سے نہیں بھاگتیں، ہمارا موقف کبھی ایک کو اچھا لگتا ہے کبھی دوسری جماعت کو،سیاسی لڑائی کا نقصان عوام کو ہے جو ٹرکوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ،ایک کلو آٹے کے لیے لوگ محتاج ہیں، ایک من آٹے کی قیمت 6500 ہو گئی ہےلوگوں کے چہرے سے مسکراہٹ ختم ہو چکی ہے ہمیں نگران حکومتوں نے ڈسا ہے تو منتخب حکومت کیسے شفاف انتخابات کرا سکتی ہے؟

    سراج الحق نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پنجاب کے رہنے والے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پشتو میں جواب دیا کہ پشتو سمجھتا ہوں، ہم پر لیبل نہ لگائیں، ہم پاکستانی ہیں، سراج الحق نے عدالت میں کہا کہ گندم کی کٹائی اور حج کا سیزن گزرنے دیا جائے، بڑی عید کے بعد مناسب تاریخ پر الیکشن ہونا مناسب ہوگا، عدالت یہ معاملہ سیاست دانوں پر چھوڑے اور خود کو سرخرو کرے،عدالت پنجاب میں الیکشن کا شیڈول دے چکی ہے،

    عمران خان کے وکیل سلیمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ عید کی چھٹیوں میں ذمان پارک میں آپریشن کا خطرہ ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کاروائی میں آپریشن کا معاملہ نہیں دیکھ سکتے،اپ نے متعلقہ عدالت سے رجوع کر رکھا ہے، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہائیکورٹ نے تاحال حکم جاری نہیں کیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ کا حکم آ جائے گا، ایک تجویز ہے کہ عدالت کاروائی آج ختم کردے، تمام سیاسی قائدین نے آج آئین کی پاسداری کا اعادہ کیا ہے،آئین پر نہیں چلیں گے تو کئی موڑ آجائیں گے،آئین کے آرٹیکل 254 کی تشریح کبھی نہیں کی گئی، آرٹیکل 254 کے تحت تاریخ نہ بڑھائی جائے اس لیے اس کی تشریح نہیں کی گئی،
    الیکشن کمیشن نے غلط فیصلہ کیا جس پر عدالت نے حکم جاری کیا،13 دن کی تاخیر ہوئی تب عدالت نے حکم دیا، الیکشن کمیشن شیڈول میں تبدیلی کے لیے بااختیار ہے، پولنگ کا دن تبدیل کیے بغیر الیکشن کمیشن شیڈول تبدیل کر سکتا ہے، الیکشن کمیشن رجوع کرے عدالت مؤقف سن لے گی

    سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو ڈیڑھ گھنٹے کا وقت دے دیا، عدالت نے عید کے بعد کا وقت دینے کی استدعا مسترد کر دی اور سیاسی جماعتوں کو فوری طور پر بیٹھنے کا حکم دے دیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں الیکشن کی تاریخ 14 مئی ہے، 1970 اور 71 کے نتائج سب کے سامنے ہیں، عدالت آئین اور قانون کی پابند ہے، سراج الحق، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے کوشش کی ہے،بعد میں پی ٹی آئی نے بھی ایک ساتھ انتخابات کی بات کی ہے، ان کیمرہ بریفنگ دی گئی لیکن عدالت فیصلہ دے چکی تھی، حکومت کی شاید سیاسی ترجیح کوئی اور تھی، ہم 14 مئی کا فیصلہ واپس نہیں لے رہے ، 14 مئی کی تاریخ برقرار ہے اور رہے گی ،یاد رکھنا چاہیئے کہ عدالتی فیصلہ موجود ہے، یقین ہے کہ کوئی رکن اسمبلی عدالتی فیصلے کے خلاف نہیں جانا چاہتا، آج کسی سیاسی لیڈر نے فیصلے کو غلط نہیں کہا، مذاکرات میں ہٹ دھرمی نہیں ہو سکتی ،دو طرفہ لین دین سے مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں، گزارش ہو گی کہ پارٹی سربراہان عید کے بعد نہیں آج بیٹھیں، جولائی میں بڑی عید ہو گی اس کے بعد الیکشن ہو سکتے ہیں،عید کے بعد انتخابات کی تجویز سراج الحق کی ہے

  • قوم خبردار،مفتی نے چاند دیکھے بنا دن دہاڑے قبل از وقت عید کا اعلان کر دیا

    قوم خبردار،مفتی نے چاند دیکھے بنا دن دہاڑے قبل از وقت عید کا اعلان کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رمضان کا مقدس مہینہ اختتام پذیر ہونے کو ہے، روزے 29 ہوں گے یا 30، اس حوالہ سے روئیت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا،جو چاند دیکھے گا اور عید کے ہونے یا نہ ہونے کا اعلان کرے گا، سعودی عرب میں بھی آج 29 واں روزہے اور پاکستان میں بھی 29 واں روزہ ہے

    رویئت ہلال کمیٹی کے اجلاس کی‌صدارت مولانا عبدالخبیر آزاد کریں گے، پاکستان کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان میں بھی روئیت ہلال کے اجلاس ہوں گے،شہادتوں کی بنیاد پر مرکزی کمیٹی چاند کا اعلان کرے گا، تا ہم آج ایک ایسی ویڈیو سامنے آئی جس نے سب کو حیران کر دیا،

    مقبوضہ جموں کشمیر کے مفتی ناصر الاسلام کی ویڈیو لیک ہوئی ہے جس میں‌ وہ چاند کے حوالے سے پہلے ہی اپنا ویڈیو پیغام ریکارڈ کروا چکے ہیں،مفتی ناصر الاسلام اپنے ویڈیو پیغام میں کہتے ہیں برادارن اسلام ، السلام علیکم، آج 20 اپریل جمعرات، رویت ہلال کمیٹی جموں کشمیر کو چاند نظر آنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی، علماء کرام سے مشاورت سے یہ طے ہے کہ عیدالفطر 22 اپریل کو منائی جائے گی،

    مفتی ناصر الاسلام کا ویڈیو پیغام ایک منٹ 21 سیکنڈ کا ہے، روئیت ہلال کمیٹی کا اجلاس شام مغرب کے وقت ہوتا ہے، اور مفتی ناصر الاسلام نے اجلاس سے قبل ہی ویڈیو پیغام ریکارڈ کروا دیا کہ چاند نظر نہیں آیا اور عید 22 اپریل کو ہو گی، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی، مفتی ناصر الاسلام جنہیں جموں کشمیر کا مفتی اعظم بھی کہا جاتا ہے کی جانب سے عید کے حوالہ سے ویڈیو پہلے ریکارڈ کروانے پر سوال اٹھ رہے ہیں، کیا دین اسلام ہمیں اس امر کی اجازت دیتا ہے؟ کیا مفتی ناصر الاسلام روئیت ہلال کمیٹی کے رکن ہیں، کیا اجلاس اور وقت سے قبل ایسی ویڈیو ریکارڈ کروانے پر انکی گواہی قبول کرنی چاہئے ؟

    پاکستان میں عید کو لے کر ہمیشہ ہی قوم مسائل سے دو چار رہتی ہے، خاص کر عید الفطر ہمیشہ دو ہی منائی جاتی ہیں، رمضان کے روزے کتنے ہوں گے اس پر کوئی بھی قبل از وقت کچھ نہیں کہہ سکتا،29 بنیں گے یا 30، صرف اللہ ہی بہتر جانتا ہے، ہلال کمیٹی شہادتوں کی بنیاد پر اعلان اور فیصلہ کرتی ہے تا ہم مفتی ناصر الاسلام کی جانب سے پہلے ہی عید 22 اپریل کو کرنے کا ویڈیو پیغام رویئت ہلال کمیٹی کو ہی متاثر کر رہا ہے، کیا ہلال کمیٹی ایسی شہادتیں قبول کرتی ہے اس حوالہ سے مرکزی ہلال کمیٹی کو بھی وضاحت کرنی چاہئے اور ایسے اراکین کے خلاف سخت نوٹس لینا چاہئے

    مفتی ناصر الاسلام کی جانب سے عید الفطر کے حوالہ سے چاند دیکھے بنا اعلان ریکارڈ کرنے کی ویڈیو لیک نہ ہوتی تو ہو سکتا ہے کہ چاند آج نظر آ جائے اور مفتی ناصر الاسلام اسی پیغام پر بضد ہوں کہ چاند نظر نہیں آیا،عید 22 کو ہی ہو گی، ضرورت اس امر کی ہے رویت ہلال کمیٹی میں ایسے علماء کو شامل کیا جائے جو امت کو گمراہ کرنے کی بجائے صحیح رہنمائی کریں ،

  • ایک ساتھ انتخابات کرانے کی درخواست،سیاسی رہنما پہنچے سپریم کورٹ

    ایک ساتھ انتخابات کرانے کی درخواست،سیاسی رہنما پہنچے سپریم کورٹ

    ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کرانے کی درخواست پرسپریم کورٹ میں سماعت آج ہوگی،سیاسی جماعتوں کے قائدین سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں،

    وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڈ, ایاز صادق اور طارق بشیر چیمہ بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاء تاررڈ اور پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک سپریم کورٹ پہنچ گئے ،بڑی تعداد میں وکلاء بھی موجود ہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کرے گا۔تمام سیاسی جماعتوں کو آج کی سماعت کے لیئے نوٹس جاری کیئے گئے تھے

    وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اظہار یکجہتی کے طور پر آیا ہوں،سیاسی لوگ ہیں جن کے اپنے کچھ تحفظات ہیں مذاکرات سے کبھی پیچھے ہٹے ہیں نہ ہٹنا ہے،

    وفاقی وزیر پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ کوئی سیاسی جماعت بھی مذاکرات سے مسائل کے حل کیخلاف نہیں،صبروتحمل سے ایک دوسرے کی بات سن کر آگے بڑھناہوگا،ہم نے مذاکرات کی بات کی ،عمران خان نے جارحانہ انداز اپنایا،سیاسی جماعتوں نے مل بیٹھ کر بڑے بڑے مسائل حل کیے ہیں، ہم پیپلز پارٹی والے عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، پیپلز پارٹی نے موجودہ حدت کو کم کرنے کے لئے کوشاں ہے، سیاست میں کبھی سونامی اور جنون کے الفاظ استعمال کیا جارہا ہے،

    امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے، سراج الحق نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی افراتفری اور آئینی بحران کی وجہ سے ہماری معیشت خراب ہو رہی ہے،سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے اداروں سمیت غریب آدمی پر برا اثر پڑ رہا ہے،لوگوں کے پاس کھانے کے ذرائع ختم ہوگئے ہیں ،سیاست دانوں کی آپس کی لڑائی سے عوام متاثر ہورہی ہے الیکشن کسی ایک سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں ہے،ہم سب اس کے اسٹیک ہولڈرز ہیں،ہم ایک ایسی تاریخ چاہتے ہیں جو سب کے لیے قابل قبول ہو،مخلصانہ تجویز دیتے ہیں کہ مرکز اور صوبوں میں نگران حکومتیں قائم ہوں، سیاسی جماعتیں مل کر تاریخ طے کریں

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

     

  • تبدیلی آزاد کشمیر میں، پی ٹی آئی آوٹ، انوارالحق بلامقابلہ وزیراعظم منتخب

    تبدیلی آزاد کشمیر میں، پی ٹی آئی آوٹ، انوارالحق بلامقابلہ وزیراعظم منتخب

    پیپلزپارٹی اور نون لیگ کا حمایت یافتہ امیدوار انوارالحق بلامقابلہ آزاد کشمیر کے 15ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے۔

    انکے مدمقابل کسی امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے ۔وزیراعظم کے انتخاب کے لئے شیڈول جاری کیا گیا تھا انوارالحق سپیکر اسمبلی تھے ان کے مقابلے مین کسی نے بھئ کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے۔قواعد کے تحت پولنگ پھر بھی ہوگی۔

    واضح رہے کہ آزادکشمیر ہائیکورٹ نے وزیر اعظم آزادکشمیر سردار تنویر الیاس کو توہین عدالت میں سزا سنائی تھی اور انہیں نااہل۔قرار دے دیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی نے ہنگامی اجلاس بلایا عمران خان کے ساتھ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ ہوئی تا ہم متحدہ اپوزیشن فارورڈ بلاک بنانے مین کامیاب ہو گئی، آج تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم کا کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا۔ صدر آزاد کشمیر تنویر الیاس کی جانب سے ایک سرکلر جاری کیا گیا ہے جس مین کہا گیا ہے کہ عمران خان نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے لیے کسی کا بھی نام نہیں دیا

    اسپیکر اسمبلی انوار الحق کی جانب سے پی ٹی آئی کے ایم ایل اے ماجد خان ، اظہر صادق ، انصر ابدالی اور اکبر ابراہیم نے وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر کاغذات جمع کروائے۔جو فارورڈ بلاک کا حصہ ہین ۔ باخبر ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا سپیکر اب ن لیگ سے لیا جائے گا

  • ملک میں ہر وقت ایمرجنسی اور ایمرجنسی پلس کا خطرہ ہے.  امیر جماعت اسلامی

    ملک میں ہر وقت ایمرجنسی اور ایمرجنسی پلس کا خطرہ ہے. امیر جماعت اسلامی

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی کا خطرہ ہے، اگر پاکستان ٹریک پر نہیں چڑھا تو موجودہ سسٹم اور جمہوریت کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست اور جمہوریت میں مشاورت ہوتی ہے، ہمارا خیال تھا چیف جسٹس سب کو بلائیں گے، ایک ادارے کو اتنا بڑا بوجھ اکیلے نہیں اٹھانا چاہئے، لہٰذا ہم چاہتے ہیں اتفاق رائے سے ایک تاریخ کا تعین ہو جائے۔


    سراج الحق نے مزید کہا کہ چیف جسٹس کسی سیاسی مسئلے میں سیاسی جماعتوں کو نہیں سنتے تو کس کو سنیں گے، ایک پارٹی کے کہنے پر الیکشن ہو بھی جائے تو نتیجہ کون قبول کرے گا، ایسا کبھی نہیں ہوا کہ پہلے ایک اور پھر دوسرے صوبے میں الیکشن ہوں، اسی لئے ملک میں بیک وقت الیکشن ہونے چاہئے، انتخابات کی تاریخ پر بات ہو سکتی ہے۔

    الیکشن کی تاریخ پر امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی ریڈ لائن سے نیچے اترنا ہوگا، اپنے موقف سے دو قدم آگے جانے کے بجائے پیچھے ہٹنا ہوگا، آپ کی مرضی سے الیکشن ہوا اور الیکشن کے بعد بھی مسئلہ حل نہ ہو تو کیا ہوگا، پی ٹی آئی یا پی ڈی ایم کی مرضی سے الیکشن کا نتجہ اچھا نہیں نکلے گا، لہٰذا ایک ایسی تاریخ ہو جو سب کو قبول ہو۔

    سراج الحق نے کہا کہ بہت سارے لوگ 14 مئی اور اکتوبر کے بعد الیکشن کی تجاویز رکھتے ہیں، پہلے پی ٹی آئی نے حکومت سمبھالی تو کہتی تھی ن لیگ کی گند صاف کر رہے ہیں اور جب پی ڈی ایم نے حکومت سمبھالی تو یہ کہہ رہے ہیں کہ مسائل بعد میں حل ہوں گے، ابھی ہم تحریک انصاف کے خراب اثرات کو کم کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ سب جانتے ہیں ہم بند گلی میں ہیں، مسئلہ ایک تاریخ کا ہے، کوئی لمبا پروگرام نہیں ہے، اس کے لئے کون کس سے ملنا چاہتا ہے کون نہیں، یہ مسئلہ نہیں ہے، میں چاہتا ہوں الیکشن فساد کا ذریعہ نہ بنے اور اگر جماعتوں کے نمائندگان کے درمیان مذاکرات اور الیکشن کی تاریخ کا تعین ہو تو مسائل ہوں گے۔ جبکہ پی ٹی آئی اور ن لیگ کے درمیان مذاکرات پر امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ شہباز شریف اور عمران خان کی ملاقات میرا ایجنڈا نہیں، وہ دونوں ملاقات کریں یا نہ کریں یہ ان کی مرضی ہے۔

    آئندہ انتخابات کے حوالے سے سراج الحق نے کہا کہ اس الیکشن میں ہم چاہتے ہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ غیر جانبداری کا ثبوت دے، یہ اس وقت ممکن ہے جب تمام سیاسی جماعتیں اس پر متفق ہوجائیں اور اگر آپ رات کے اندھیروں میں معاملات طے کرتے ہیں تو ذاتی مسئلہ بنتا ہے، ماضی میں اس سے نقصان بھی ہوا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ اگر سیاسی جماعتوں نے الیکشن کی ایک تاریخ پر اتفاق نہیں کیا تو کوئی کرے گا لیکن پھر الیکشن نہیں ہوں گے، ماضی میں اس رویے کی وجہ سے مارشل لاء لگا، ضیاء الحق کا مارشل لاء بھی 90 دن کے لئے آیا جسے دیکھتے دیکھتے 9 سال گزر گئے۔

    انہوں نے کہا اگر اس الیکشن کے نتیجے میں پاکستان ٹریک پر نہیں چڑھا تو موجودہ سسٹم اور جمہوریت کا خاتمہ ہوسکتا ہے، ملک میں ہر وقت ایمرجنسی اور ایمرجنسی پلس کا خطرہ ہے، مارشل لاء جب بھی آتا تو وہ عام انتخابات کے بجائے بلدیاتی نظام پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔ الیکشن فنڈز کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حکم سے متعلق پروگرام میں بات کرتے ہوئے رکن پاکستان بار کونسل امجد شاہ کا کہنا تھا کہ ملک کی بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ یہاں سب سے زیادہ مداخلت ہے، چیف جسٹس جس وقت جوڈیشل فیصلہ کر رہے ہوں تو وہ تمام کارروائی علیحدہ ملاقات کے بجائے کورٹ کے اندر ہونی چاہئے۔

  • فرح گوگی کی 70 کروڑ روپے کی کرپشن بے نقاب

    فرح گوگی کی 70 کروڑ روپے کی کرپشن بے نقاب

    فرح گوگی کی 70 کروڑ روپے کی کرپشن بے نقاب ہو گئی.

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح شہزادی (عرف فرح گوگی) کی 70 کروڑ روپے کی کرپشن بے نقاب ہو گئی۔ سینئر صحافی انیق ناجی کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ویڈیو شیئر کی گئی جس میں فرح گوگی کے ڈیلر اعتراف جرم کر رہے ہیں۔


    سینئر صحافی کی جانب سے بتایا گیا ڈیلر فرح گوگی کا اکاؤنٹنٹ ہے۔ ویڈیو میں ملزم بتا رہا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور قومی احتساب بیورو (نیب) والے مجھے تنگ کر رہے ہیں۔ اس دوران نامعلوم شخص دوبارہ پوچھتا ہے کہ آپ نے کیا کیا ہے آپ نے کہ وہ آپ کو تنگ کر رہے ہیں۔

    تو اس پر ملزم جواب دیتے ہوئے کہتا ہے کہ میڈم فرح کے اکاؤنٹ میں جو پیسے جمع کروائے تھے اس کی وجہ سے۔ اسی دوران نامعلوم شخص دوبارہ پوچھتا ہے کہ کیا پیسے کمپنی کے اکاؤنٹ میں نہیں کرواتے تھے آپ؟ اس پر ملزم دوبارہ جواب دیتے ہوئے کہتا ہے کہ نہیں ان (فرح گوگی) کے پرنسل اکاؤنٹ میں پیسے جمع کرواتے تھے۔ میڈم مجھے اور ناصر کو گھر پر بلاتی تھیں، اور ہمیں پیسے دیتی تھیں۔

    ملزم ویڈیو میں مزید بتاتا ہے کہ پیسے کبھی ایک کروڑ، کبھی دو کروڑ، کبھی تین کروڑ ملتے تھے، ہم نے صرف ڈیڑھ سال کے دوران 70 کروڑ روپے پیسے جمع کروائے ہیں۔ نامعلوم شخص دوبارہ کہتا ہے کہ اس کرپشن کا حساب فرح گوگی دیں گی تم کیوں پریشان ہو، اس پر ملزم جواب دیتے ہوئے کہتا ہے کہ فرح گوگی خود تو باہر چلی گئی ہیں اور کہتی ہیں کہ آپ نے بالکل پیش نہیں ہونا۔ نہ نیب میں پیش ہونا ہے نہ ہی ایف آئی اے میں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں
    نامعلوم شخص دوبارہ کہتا ہے کہ آپ کو نیب اور ایف آئی اے میں پیش ہو جانا چاہیے۔ اس پر ملزم کہتا ہے کہ وکیل کی جانب سے مجھے منع کیا جا رہا ہے کہ ایف آئی اے اور نیب میں پیش نہیں ہونا، ہم خود ہی معاملہ کو دیکھ کر جواب دے دیں گے۔ ملزم کہتا ہے کہ میرے لیے بہت پریشانی بنی ہوئی ہے، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، میڈم فرح گوگی خود تو باہر چلی گئی ہیں اور ہمیں یہاں پھنسا گئی ہیں۔

  • وزیر اعظم کی سولرآئیزیشن منصوبے پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت

    وزیر اعظم کی سولرآئیزیشن منصوبے پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم شہباز شریف نے ملک گیر سولرآئیزیشن منصوبے پر کام کی رفتار کو تیز کرنے کی ہدایت کردی ہے جبکہ شہباز شریف کی زیر صدارت ملک گیر سولرآئیزیشن منصوبے پر پیشرفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں شرکاء کو بتایا گیا کہ 17 سرکاری عمارتوں کا ٹینڈر جاری کر دیا گیا ہے جس کے لئے بولیاں موصول ہو چکی ہیں جب کہ مزید 50 عمارتوں کے ٹینڈرز 20 اپریل کو جاری کئے جائیں گے۔

    اجلاس کو 600 میگاواٹ کوٹ ادّو منصوبے کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اس منصوبے کا ٹینڈر بھی جاری کردیا گیا ہے جس میں بڑی تعداد میں مقامی اور بین الاقوامی کمپنوں نے سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ شرکاء کو مزید بتایا گیا کہ لیہ میں 1200 میگاواٹ اور جھنگ میں 600 میگاواٹ کے منصوبوں کے حوالے سے پیش رفت حتمی مراحل میں ہے۔

    سولرآئیزیشن منصوبے پر اجلاس میں شرکاء کو 11 کے وی فیڈر زپر سولر کی تنصیب کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس حوالے سے نیپرا سے پینچ مارک ٹیرف کی منظوری کے بعد ہی اس ہر پیش رفت ممکن ہوسکے گی۔ وزیرِاعظم نے اسٹیٹ بینک اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سولر پینلز اور اس سے منسلک آلات کی در آمد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے اور سولر پینلز کی مرحلہ وار درآمد یقینی بنائی جائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں
    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کم لاگت شمسی بجلی کی پیداوار سے ایندھن کی مد میں خرچ ہونے والے قیمتی زدمبادلہ کی بچت ہوگی، شمسی توانائی سے بجلی کے صارفین کو سستی بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔