Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سگریٹ کی صنعت میں ٹیکس چوری ،وزیراعظم کا حکم آ گیا

    سگریٹ کی صنعت میں ٹیکس چوری ،وزیراعظم کا حکم آ گیا

    سگریٹ کی صنعت میں ٹیکس چوری کی روک تھام کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں. وزیرِ اعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں سگریٹ سازی کی صنعت میں خودکار ٹریک اینڈ تریس سسٹم کی تنصیب، پوائنٹ آف سیلز اور مجموعی طور پر ٹیکس کا حجم بڑھانے کے حوالے سے جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.

    اجلاس کو سگریٹ کے کارخانوں میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں بیشتر فیکٹریوں پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لگایا جا چکا ہے جبکہ باقی ماندہ پر اس کی تنصیب کا عمل جاری ہے. آزار کشمیر میں موجود فیکٹریوں پر اس کی تنصیب کیلئے مزاکرات حتمی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں. اجلاس کو FBR کی طرف سے غیر قانونی سگریٹ کی فروخت اور سمگلنگ کی روک تھام کیلئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف بی آر 7 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کو اپنے ٹیکس نیٹ میں لے کر آیا ہے اور رواں سال اپنے اہداف کو پورا کرنے کیلئے اقدامات اٹھا رہا ہے.

    اجلاس کو شوگر ملز پر خودکار ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی تنصیب کے حوالے سے بھی پیش رفت پر بھی آگاہ کیا. وزیرِ اعظم نے تمام شوگر ملز میں اب تک خودکار ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی تنصیب نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ معیشت کے تمام برے سیکٹرز میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لگانے کیلئے بین الاقوامی شہرت یاقتہ اداروں کی خدمات لی جائیں. اس اقدام سے ملکی معیشت کی ڈاکیومنٹیشن میں بہتری آئے گی اور ملکی آمدن میں اضافہ ہوگا. وزیرِ اعظم نے آئندہ دو ہفتوں میں ان اقدامات پر مثبت پیش رفت کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کی.اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، رانا ثناء اللہ خان، مخدوم مرتضی محمود، اعظم نذیر تارڑ، مشیرِ وزیرِ اعظم احد خان چیمہ، معاونین خصوصی جہانزیب خان، طارق پاشا اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی

    ہیلتھ لیوی اور اس کا مختلف ممالک میں نفاذ :

    ہیلتھ لیوی ،حکومت توجہ کرے، تحریر:نایاب فاطمہ

    پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی!!! — بلال شوکت آزاد

    ہیلتھ لیوی کیا ہے اور اس کے کیا فواٸد ہیں:

    ہیلتھ لیوی – کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟ — طوبہ نعیم

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

  • سپریم کورٹ 6 رکنی لارجر بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ازخود نوٹس ختم کردیا

    سپریم کورٹ 6 رکنی لارجر بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ازخود نوٹس ختم کردیا

    حافظ قرآن کو ایم بی بی ایس میں اضافی 20 نمبر دینے پر ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے میڈیکل کے حافظ قرآن کے 20 اضافی نمبر سے متعلق سونو کیس نمٹا دیا۔ ،عدالت نے کہا کہ ازخود نوٹس غیر مؤثر ہونے پر نمٹایا جاتا ہے،ازخود نوٹس اور اس کے دیگر اثرات پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا جائے گاپی ایم ڈی سی کے وکیل افنان کنڈی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ 20 اضافی نمبر 2018 تک رولز کے تحت دیئے جاتے تھے،2021 میں نئے رولز بنے اور اضافی نمبرز ختم ہو گئے،20 اضافی نمبرز کا معاملہ عملی طور پر ختم ہو چکا ہے،

    جسٹس اعجازِ الاحسن کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی ،سپریم کورٹ نے کیس کو غیر موثر قرار دے دیا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں دیئے تمام آرڈر واپس لیے جاتے ہیں، تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی،نئے قواعد آنے کے بعد اضافی نمبروں کا معاملہ ویسے ہی ختم ہو گیا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا 29 مارچ کا آرڈر بھی ختم ہوگیا

    سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے پر لارجر بینچ تشکیل دیا تھا، بینچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر،جسٹس سید حسن اظہر رضوی شامل ہیں،بینچ کی تشکیل کا نوٹس سپریم کورٹ کے رجسٹرار عشرت علی کی جانب سے جاری کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک فیصلے میں از خود نوٹس کیس کے حوالہ سے کہا تھا کہ رولز بنائے جانے تک آرٹیکل 184 تھری (ازخود نوٹس) کے تمام کیسز ملتوی کیے جائیں ،خصوصی بینچ میں جسٹس امین الدین اور جسٹس شاہد وحید شامل تھے اور فیصلہ دو ایک کے تناسب سے جاری کیا گیا تھا۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184/3 کے مقدمات پر سرکولر جاری کر دیا ،جاری سرکلر میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے فیصلے میں ازخود نوٹس کا اختیار استعمال کیا گیا، اس انداز میں بنچ کا سوموٹو لینا پانچ رکنی عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے ،سوموٹو صرف چیف جسٹس آف پاکستان ہی لے سکتے ہیں،فیصلے میں دی گئی آبزرویشن کو مسترد کیا جاتا ہے،

    رجسٹرار کی جانب سے سرکلر جاری ہونے کے بعد گزشتہ روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک خط میں کہا کہ  رجسٹرار کے پاس جوڈیشل آرڈر کو کالعدم قرار دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔چیف جسٹس بھی جوڈیشل آرڈر کے خلاف کوئی انتظامی آرڈر جاری نہیں کر سکتے۔

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

     آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

    letter sc

  • انسداد دہشتگردی عدالت، عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر آیا فیصلہ

    انسداد دہشتگردی عدالت، عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر آیا فیصلہ

    عمران خان کی تینوں مقدمات میں عبوری ضمانت میں توسیع کر دی گئی.

    عدالت نے 13 اپریل تک عبوری ضمانت میں توسیع کی، جج عبہر گل نے بند کمرے میں عمران خان کی درخواست پر سماعت کی ،بند کمرے میں جے آئی ٹی سربراہ، عمران خان اور وکلاء موجود تھے،وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان شامل تفتیش ہو گئے ہیں۔

    عمران‌ خان سخت سیکورٹی میں عدالت میں پیش ہوئے،تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی انکے ہمراہ تھے،عمران خان کی عدالت پیشی کی ویڈیو سامنے آئی ہے، ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بلٹ پروف شیلڈز پہنے پولیس اہلکاروں نے عمران خان کو چاروں اطراف سے گھیر رکھا ہے جبکہ کچھ اہلکاروں نے انہیں چہرے پر بلٹ پروف بالٹی نما کیپ پہنا رکھی ہے، عمران خان کے سر کو ڈھانپا گیا ہے، عمران خان اب جب بھی باہر جاتے ہیں انکے سر کو ڈھانپا جاتا ہے،

    قبل ازیں لاہور انسداد دہشت گردی عدالت ،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت دیگر رہنماؤں کی عبوری درخواست ضمانتوں کا معاملہ ،عمران خان کے وکلاء نے انکی حاضری معافی کی درخواست دائر کر دی ،حاضری معافی کی درخواست عبہر گل خان کی عدالت میں دائر کی گئی ،عمران خان کی متعلقہ عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر رخصت پر ہیں ،وکیل عمران خان کے مطابق اعجاز احمد بٹر کی رخصت کے باعث عمران خان کی حاضری معافی کی درخواست جمع کرائی گئی،عمران خان کا باقاعدہ کیس متعلقہ عدالت میں زیر سماعت ہے،عمران خان جسکے باعث آج پیش نہ بھی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے،عدالت عمران خان کی آج کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرے،

    عمران خان نے تین مقدمات میں عبوری درخواست ضمانت دائر کر رکھی ہے عمران خان کی تین مقدمات میں حاضری معافی کی درخواست دائر کی گئی ہے ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان لاہور موجود ہیں ،عمران خان کو سکیورٹی خدشات بھی ہیں

    لاہور انسداد دہشت گردی عدالت،زمان پارک پولیس پر تشدد ،جلاو گھیراؤ اور قتل اقدام قتل کا مقدمہ ،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت دیگر رہنماؤں کی عبوری درخواست ضمانتوں کا معاملہ ہر کیس کی سماعت کا آغازہوا،عدالت میں میاں محمود الرشید،اعجاز چوہدری،مسرت جمشید چیمہ اور جمشید چیمہ نے حاضری مکل کرائی ،انسداد دہشت گردی عدالت کی ایڈمن جج عبہر گل خان نے کیس پر سماعت کی

    عدالت نے حماد اظہر کی حاضری معافی کی درخواست خارج کر دی، فاضل جج نے کہا کہ کیا عبوری ضمانت میں حاضری معافی ہوتی ہے،یہ تو ٹرائل کا کیس ہے عدالت نے عمران خان کی حاضری معافی کی درخواست خارج کر دی،عدالت نے عمران خان کو گیارہ بجے پیش ہونے کا حکم دے دیا، فاضل جج نے کہا کہ آپ مجھے یہ بتا دیں کہ عمران خان نے آنا ہے کہ نہیں،میں نے تو قانون کو دیکھنا ہے، آپ دیگر عدالتوں کی مثالیں نہ دیں،اگر عمران خان آئیں گے تو تب ہی انکو ریلیف مل سکتا ہے،عمران خان کے مچلکے بھی نہیں ہیں ،عدالت نے فواد چودھری کی بھی حاضری معافی کی درخواست خارج کر دی

    عدالت نے سیکیورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے ایس پی سیکورٹی کو طلب کر لیا، فاضل جج نے کہا کہ آپ نے ایک ہفتے میں کیا کیا،آپ عمران خان کو بلا لیں،عدالت نے عمران خان کی سیکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست منظور کر لی عدالت نے انسداددہشت گردی عدالت کے سیکیورٹی انچارج کو عمران خان کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دے دیا ،انسداددہشت گردی عدالت کی جج عبہر گل خان نے درخواست پر سماعت کی

    بیان حلفی دیں کہ آپ نے دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں ضمانت دائر کی تھی, عمران خان کو بیان حلفی جمع کروانے کی ہدایت
    20 رمضان سے قبل پنشن اور تنخواہ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، قائمہ کمیٹی
    سوال یہ ہے کہ اکتوبر میں کیسے ہوں گے الیکشن؟ عمران خان
    راہول گاندھی کو بھارتی پارلیمنٹ نے نااہل قرار دے دیا

  • الیکشن از خود نوٹس کیس، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

    الیکشن از خود نوٹس کیس، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے الیکشن کے حوالہ سے از خود نوٹس کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ صدر مملک کی دی گئی تاریخ کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے،الیکشن پروگرام 13 دن آگے کرنے کا حکم دے دیا گیا، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیر آئینی اور غیر قانونی قراردے دیا،فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے آرڈر کے باعث 13 دن ضائع ہو گئے، مارچ سے اب تک کے وقت کو کور کر کے الیکشن کمیشن انتخابی پروگرام کے 6 سے 11 مرحلے کو شروع کرے ،الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ،نگران حکومت پنجاب الیکشن کمیشن کی معاونت کریں،

    الیکشن کمیشن کا شیڈول پروگرام بحال کردیا گیا الیکشن کمیشن کو الیکشن ٹریبونلز سے دوبارہ کاروائی شروع کرنے کا حکم دے دیا گیا، سپریم کورٹ نے 30 اپریل کو ہونے والے پنجاب میں انتخابات کا شیڈول بحال کردیا ،عدالت نے الیکشن کمیشن کا آٹھ اکتوبر کا حکم کالعدم قرار دے دیا ہے۔عدالت نے کہا کہ الیکش 90 روز سے آگے نہیں جا سکتے ،سپریم کورٹ نے پنجاب میں 14 مئی کو الیکشن کروانے کا حکم دے دیا،عدالت نے وفاقی حکومت کو 10 اپریل تک 20 ارب روپے فراہم کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے الیکشن کمیشن کو 11 اپریل کو فنڈز کے حوالے سے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم بھی دیا،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ پنجاب کی نگران حکومت، چیف سیکرٹری اور آئی جی 10 اپریل تک الیکشن کی سیکیورٹی کا مکمل پلان پیش کریں، نگران حکومت یا وفاقی حکومت معاونت نہ کرے تو الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کو آگاہ کرے گا۔ یہ فیصلہ صرف پنجاب اسمبلی کی حد تک ہے۔

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ حکومت مسلح افواج اور رینجرز سے ہر صورت اہلکار لے،2 ججز کی رائے 3 ججز کے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوتی،فیصلہ سنانے کے بعد ججز عدالت سے اٹھ کر چلے گئے، عدالت نے کہا کہ ابھی شارٹ آرڈر جاری کررہے ہیں ، تفصیلی فیصلہ بعد میں آئے گا

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کے پی میں انتخابات کے لیے گورنر کی طرف سے عدالت میں نمائندگی نہیں کی گئی کے پی کی حد تک معاملہ زیر سماعت رہے گا، کے پی میں الیکشن کی تاریخ کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے، کے پی میں انتخابات کے لیے درخواست گزار عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں

    عدالت کے فیصلہ سنانے سے قبل کورٹ روم نمبر 1 کھچا کھچ بھر گیا تھا، فیصلے سے قبل عدالت میں قرآن پاک کی آیات کی تلاوت کی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے قرآنی آیات سے فیصلے کا آغاز کیا ،

    سپریم کورٹ میں الیکشن التوا کیس کا فیصلہ ،عدالت کے احاطےاندر اور باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے،
    پولیس کی نفری امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنائے گی بڑے فیصلے کے تناظر میں شہر بھر میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں،

    وزارت دفاع نے عدالتی حکم پر رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی وزارت دفاع نے تحریری رپورٹ سربمہر لفافے میں جمع کروائی ،گزشتہ روز عدالت نے پنجاب اور کے پی انتخابات پر وزارت دفاع سے رپورٹ طلب کی تھی.

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا، پنجاب اور کے پی انتخابات کیس میں سپریم کورٹ میں چھ سماعتیں ہوئیں پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کےخلاف آئینی درخواستیں دائر کی تھیں

    وزیراعظم کے معاونین خصوصی ملک احمد خان اور عطاء تارڑ سپریم کورٹ پہنچ گئے،سپریم کے سامنے پی ڈی ایم کے حامی وکلاء کی بڑی تعداد جمع تھی،وکلاء نے پی ٹی آئی کے خلاف نعرے بازی کی،وکلاء نے ‘پی ٹی آئی ججز ونگ’ کے عنوان سے پوسٹرز اٹھا رکھے ہیں،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں، انہوں نے عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت بھی کی ہے، رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہمارا موقف پوری قوم کی آواز ہے سارے حربے ناکام ہونے پر عمران خان نے اسمبلیاں توڑیں سیاسی عدم استحکام سے ملک معاشی بحران کا شکار ہوا انصاف ہوتا نظر آنا چاہئے فیصلہ ایسا ہونا چاہئے جس سے معاملات آگے کی جانب بڑھتے نظر آئیں دو صوبائی اسمبلیوں کے پہلے انتخابات ملک کو انارکی کی جانب دھکیلیں گےپورے ملک میں ایک ہی روز انتخابات ہونے چاہئیں فل بینچ کا مطالبہ ہر طرف سے آ رہا ہے جمہوریت ہی ملک کے مسائل کا حل ہے فوج کی بجائے طاقت کا منبع سیاسی ادارے ہیں سیاسی اداروں کو طاقت کا منبع بنانے کیلئے نئے سماجی معاہدے کی ضرورت ہے عمران خان کی وجہ سے ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہوا عدالتی بحران کی بنیاد فتنہ خانہ نے ڈالی،ریفرنس دائر کرنا ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے، حالات پیدا ہوں گے تو ایمرجنسی کا آپشن موجود ہے، فل کورٹ کا مطالبہ صرف سیاسی نہیں ہر طرف سے یہی مطالبہ ہے،سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک میں سیاسی بحران کے خاتمے کا سبب ہونا چاہئیے ،

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ہم جمہوریت اور آئین کو ماننے والے ہیں،ہم نے آمریت کے خلاف جیلیں کاٹی ہیں، جمہوریت ہی ملک کے مسائل کا حل ہے،سب اداروں کو آئین میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، ادارے اجتماعیت سے چلتے ہیں، کسی ایک شخص کے احکامات سے نہیں،اگر یہی بینچ فیصلہ دیتا ہے تو یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہوگا

    رانا ثناء کے ہمراہ سپریم کورٹ آنے والا وکلاء اور کارکنوں کی سیکورٹی اہلکاروں سے تلخ کلامی ہوئی ہے ،وکلاء اور دیگر افراد نے نوازشریف اور مریم نواز کے بینرز کے ہمراہ سپریم کورٹ کے اندر آنے کی کوشش کی،جن کو سیکورٹی اہلکاروں نے روک دیا

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک الیکشن نہیں ہوگا یہ جو غیر نمائندہ اسمبلی، غیر نمائندہ حکومت کے ذریعے کوئی مسئلہ حل نہیں ہونا بلکہ مسائل بڑھیں گے، الیکشن کمیشن سپریم کورٹ پر حملہ آور تھا، بھائی تمہارا کام الیکشن کروانا ہے یا انصاف ہوتے ہوئے دیکھنا؟

    سپریم کورٹ نے سماعت کے بعد کل فیصلہ محفوظ کیا تھا

    سپریم کورٹ میں وقفے سے قبل کی سماعت کے بارے میں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

  • چیف جسٹس کو چاہیے کہ الیکشن کیس پر فل کورٹ بنا دیں. وزیراعظم

    چیف جسٹس کو چاہیے کہ الیکشن کیس پر فل کورٹ بنا دیں. وزیراعظم

    چیف جسٹس کو چاہیے کہ الیکشن کیس پر فل کورٹ بنا دیں. وزیراعظم

    وزیراعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کو چاہیے کہ الیکشن کیس پر فل کورٹ بنا دیں، اہم معاملے پر تین ججز سے فیصلہ کرانا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ انہوں نے قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیرقانون نے ایوان میں جو باتیں کی ہیں وہ سو فیصد حقائق پر مبنی ہیں، اتحادی حکومت نے موجودہ بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر اور وزیراعظم میاں شہباز شریف نے کہا جب عمران نیازی حکومت میں تھا تو اس کے پاس دن میں اور کوئی کام کرنے کو نہیں تھا، اس کی یہی سوچ تھی کہ مخالفین کو جیل میں ڈالا جائے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عمران نیازی نے مجھ سمیت اپوزیشن کے متعد رہنماؤں کو جیل میں ڈالا، مجھے دو بار جیل بھجوایا، تیسری مرتبہ بھی جیل بھیجنے کی کوشش کی، بہت سے لوگوں نے اچھے مقاصد کیلئے جیلیں کاٹیں، لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے میری ضمانت منظور کی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    وہ لوگ میرے سامنے جب آتے تو نقاب پہن ہوتے تھے،اظہر مشوانی کا عدالت میں بیان
    پنجاب اور کے پی کے انتحابات سے متعلق آئینی درخواست پر فیصلہ محفوظ
    ماہ رمضان میں موسیقی کا پروگرام نشر کرنے پر طالبان نےخواتین کے زیرانتظام ریڈیواسٹیشن بند کردیا
    وزیراعظم نے کہا میری ضما نت خارج کرانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے، عمران خان ہمیں اپنے راستے کا کانٹا سمجھتا تھا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ چیف جسٹس صاحب، جس جج پر الزامات لگائے اس کو ساتھ بٹھا کر کیا جواب دینا چاہتے ہیں؟ میاں شہباز شریف نے قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے استفسار کیا چیف جسٹس سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا ہم ضمانت پر رہا ہوکر نہیں آئے؟ ہم جیلیں کاٹ کر ضمانت پر رہا ہو کر آئے ہیں، میں اس ایوان کا منتخب نمائندہ ہوں۔

  • عمران خان نے سیاست میں انتشار پھیلایا

    عمران خان نے سیاست میں انتشار پھیلایا

    عمران خان نے سیاست میں انتشار پھیلایا

    ایک زمانہ تھا کہ پاکستان کی سیاست میں رواداری تھی مگر پھر جب عمران خان سیاست میں آئے تو دن بدن انتشار پھیلاتا گیا اور پاکستانی سیاست گندی ہوگئی کیونکہ عمران خان نے اپنے ہر بیان میں ہر پارٹی کو گندی گالیاں اور چور ڈاکو کہنا شروع کردیا کیونکہ ان کی سیاست کا مقصد صرف کرسی حاصل کرنا تھا اس لیئے یہ کمینگی پر اتر آیا.

    اس آنوکھے لاڈلے نے کہا ہے کیونکہ انہوں نے رجیم چینج کا کھوکھلا دعویٰ کیا ہے جبکہ اصل رجیم چینج آپریشن تو 2018 میں ہوا تھا جس میں نواز شریف کی حکومت کو گرایا گیا تھا لیکن بات سیاسی شعور کی ہے کیونکہ جن سیاستدانوں کے راویہ جمہوری ہو وہ کبھی بھی پرتشدد راویہ نہیں اپناتے ہیں.

    کیونکہ شہباز شریف جب اپوزیشن میں تھے وہ کہتے تھے گالم گلوچ سے پرہیز کیا جائے علاوہ ازیں واضح رہے کہ عمران دور میں شہباز شریف نے عمران خان سے ہاتھ بھی ملایا لیکن بدلے میں عمران خان نے انا دکھائی اور نواز شریف کو گالیاں دینا شروع کردیا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    وہ لوگ میرے سامنے جب آتے تو نقاب پہن ہوتے تھے،اظہر مشوانی کا عدالت میں بیان
    پنجاب اور کے پی کے انتحابات سے متعلق آئینی درخواست پر فیصلہ محفوظ
    ماہ رمضان میں موسیقی کا پروگرام نشر کرنے پر طالبان نےخواتین کے زیرانتظام ریڈیواسٹیشن بند کردیا
    خیال رہے کہ یہ شخص عمران خان جو اسٹبلشمنٹ کے کندھوں پر بیٹھ کر آیا تھا اب ماننے کو تیار ہی نہیں ہے اور انہوں نے جہانگیر ترین اور علیم خان کو بطور اے ٹی ایم استعمال کیا ہے اور جب حکومت میں تھے تو سب کو اداروں کی شان پر لکچر دیتے مگر اب انہی اداروں کیخلاف زبان درازی کرتے ہیں کیوکنکہ اپنی نااہلی کی وجہ سے وہ نکالے گئے تھے.

  • رجسٹرار کے پاس جوڈیشل آرڈر کو کالعدم قرار دینے کا کوئی اختیار نہیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    رجسٹرار کے پاس جوڈیشل آرڈر کو کالعدم قرار دینے کا کوئی اختیار نہیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے انکے از خود نوٹس کیس کے فیصلے پر جاری سرکلر پر رجسٹرار کو مراسلہ لکھا ہے

    جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ رجسٹرار کے پاس جوڈیشل آرڈر کو کالعدم قرار دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔چیف جسٹس بھی جوڈیشل آرڈر کے خلاف کوئی انتظامی آرڈر جاری نہیں کر سکتے۔

    جسٹس قاضی فائز نے رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی کو مراسلہ لکھا ہے جس میں کہا گیا کہ میں آپ کا ‘سرکلر بیئرنگ نمبر رجسٹرار/2023/SCJ مورخہ 31 مارچ 2023 (سرکلر) موصول کرکے حیران رہ گیا۔ سرکلر سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے 29 مارچ 2023 کے حکم کی نفی، نافرمانی اور خلاف ورزی ہے، جو 2022 کے سو موٹو کیس نمبر 4 میں منظور کیا گیا تھا۔ رجسٹرار کے پاس اس کو کالعدم کرنے کا اختیار یا اختیار نہیں ہے۔ چیف جسٹس اس کے حوالے سے انتظامی ہدایات جاری نہیں کر سکتے۔ آپ کو بطور سینئیر افسر اپنی آئینی ذمہ داری کا ادراک ہونا چاہئے،اگر آپ کو معلوم ہو تو یہ کیس سوموٹو نمبر 4/2022 آرٹیکل 184/3 کے تحت ازخود نوٹس کے تحت سنا گیا،

    جسٹس قاضی فائز نے رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی کو مراسلہ میں کہا کہ 29 مارچ کے تین رکنی بنچ کے آرڈر کو وائلیٹ کیا گیا ھے، رجسٹرارسرکلر واپس لیں اور استعفیٰ دیں،سرکلر واپس لے کر ان تمام لوگوں کو مطلع کیا جائے جن کو بھیجا گیا تھا۔خط میں انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت بیوروکریسی کو جوڈیشری سے الگ رہنا چاہیے، دیگر شہریوں کی طرح رجسٹرار بھی آئین کے آرٹیکل 5 کی شق 2 کے پابند ہیں۔

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے سیکرٹری کابینہ سیکرٹریٹ، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو بھی خط لکھا ہے۔ انہوں نے اٹارنی جنرل کو بھی خط کی کاپی بھجوا دی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے چیف جسٹس کو بھی خط کی کاپی بھجوائی ہے۔جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی کو سپریم کورٹ کی ساکھ اور وقار مزید تباہ نہ کرنے دیا جائے، بہتر سمجھیں تو رجسٹرار کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جائے۔

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

     آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

    واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 29 مارچ کو ایک مقدمے کی سماعت کے دوران از خود نوٹس مقدمات پر سماعت روک دی تھی ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ایک فیصلے میں کہنا تھا کہ جب تک چیف جسٹس کے ازخود نوٹس اختیارات کے بارے میں قانون سازی نہیں ہوجاتی ازخود نوٹس مقدمات پر سماعت نہیں ہوگی

  • پنجاب اور کے پی کے انتحابات سے متعلق آئینی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن التوا کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراپی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ، وکلا کی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں موجود تھی،وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن کےوکیل عرفان قادر روسٹرم پر آگئے،الیکشن کمیشن کےوکیل عرفان قادر کے دلائل شروع ہو گئے، عرفان قادر نے کہا کہ کوشش ہے اپنی بات مختصر رکھوں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کتنی دیر دلائل دینگے، عرفان قادر نے کہا کہ میں کوشش کرونگا 30 منٹ میں تک اپنی بات مکمل کرلوں،اگر جج پر اعتراض ہو تو وہ بنچ سے الگ ہوجاتے ہیں،ایک طرف ایک جماعت دوسری طرف تمام جماعتیں ہیں،بنچ سے جانبداری منسوب کی جارہی ہے،پوری پی ڈی ایم ماضی میں بھی فل کورٹ کا مطالبہ کرچکی ہے فل کورٹ پر عدالت اپنی رائے دے چکی ہے،پتہ پتہ بوٹا بوٹا باغ تو سارا جانے ہے، جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے،

    وکیل الیکشن کمیشن عرفان قادر کا کہنا تھا کہ عدالت پر عدم اعتماد نہیں انصاف ہوتا نظر آنا چاہیئے میری نظر میں انصاف نہیں ہو رہا، ممکن ہے کچھ غلط فہمی ہو،الیکشن کی تاریخ دینے کا فیصلہ الیکشن کمیشن پر چھوڑنا چاہیے فیصلہ تین دو کا تھا یا 4/3 کا اس پر بات ہونی چاہیے ،9 میں سے 4 ججز نے درخواستیں خارج کیں3 ججز نے حکم جاری کیا، عدالت اس تنازعہ کو حل کرنے کیلئے اقدامات کرے، فیصلے کی تناسب کا تنازعہ ججز کا اندرونی معاملہ نہیں ہے، درخواستیں خارج کرنے والے چاروں ججز کو بھی بینچ میں شامل کیا جائے، سرکولر سے عدالتی فیصلے کا اثر ذائل نہیں کیا جاسکتا،چیف جسٹس اپنے سرکولر پر خود جج نہیں بن سکتے،عوام کا عدلیہ پر اعتماد ہونا لازمی ہے،یکم مارچ کا عدالتی حکم اقلیتی نوٹ تھا،ایک گروپ کے بنیادی حقوق پر اکثریت کے حقوق کو ترجیح دینی چاہیے،قومی مفاد آئیں اور قانون پر عملدرآمد میں یے، آئین میں 90 دن میں انتخابات ہونا الگ چیز ہے، ملک میں کئی سال سے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات اکٹھے ہوتے ہیں، ملک بھر میں انتخابات ایک ساتھ ہونا چاہئیں ،ایک ساتھ انتخابات سے مالی طور پر بھی بچت ہو گی،قومی اسمبلی کے انتخابات میں بھی نگران حکومت ضروری یے،صوبائی اسمبلی چند ماہ پہلے تحلیل ہوئی ہے دو سال پہلے نہیں.

    وکیل الیکشن کمیشن عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر نے الیکشن کی تاریخ دیدی ہے، پنجاب میں صدر کو تاریخ دینے کا حکم قانون کے مطابق نہیں، صدر آزادانہ طور پر کوئی فیصلہ کرنے کے مجاذ نہیں، صدر کو تاریخ دینے کا حکم دینا خلاف آئین ہے، صدر ہر کام میں کابینہ کی ایڈوائس کا پابند ہے، الیکشن ایکٹ میں صدر کو اختیار صرف عام انتخابات کیلئے ہے، ملک بھر میں عام انتخابات ایک ساتھ ہی ہونے ہیں 184/3 تنازعہ حل کرنے تک مقدمے پر سماعت روکی جائے۔جسٹس فائز عیسی سینئر جج ہیں انکے فیصلے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی سے پرسوں ملاقات ہوئی ہے۔ان معاملات پر تمام ججز جلد ملیں گیے، جسٹس فائز عیسی ملاقات میں کچھ ایشوز ہائی لائٹ کیے ہیں، رولز بنانے کے لیے عنقریب فل کورٹ اجلاس بلائیں گے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ والے فیصلے کے نتیجے میں ایک جج نے سماعت سے معذرت کی، عرفان قادر نے کیس سے متعلق نکات اٹھائے ہیں، آپ نے ایک اہم نقطہ اٹھایا ہے جو میں دوبارہ نہیں اٹھاوں گا،

    وکیل الیکشن کمیشن عرفان قادر نے کہا کہ میں سوشل میڈیا کی بات کر رہا تھا، عرفان قادر نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جناب چیف جسٹس سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ ہیں، چیف جسٹس کے حق میں درخواستوں پر دستخط ہو رہے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم مولا سے خیر مانگتے ہیں، آپ سوشل میڈیا کی بات کر کے اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں،عرفان قادر نے کہا کہ آپ اس وقت عوامی چیف جسٹس ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم سوشل میڈیا نہیں دیکھتے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ 6 ججز کی رائے کے بعد 3 رکنی بینچ سماعت نہیں کرسکتا، جسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی کہا کہ اسمبلی تحلیل درست تھی یا نہیں،وزیر اعلی پرویز الٰہی کی آڈیو لیک آئی جو فواد چوہدری سے متعلق تھی،پرویز الٰہی نے کہا کہ فواد چوہدری پہلے گرفتار ہوتے تو اسمبلی نہ ٹوٹتی، پنجاب اسمبلی نہ وزیر اعلی نے توڑی نہ گورنر نے، جسٹس اعجاز الاحسن کو پانچ رکنی بینچ میں شامل نہیں کیا گیا تھا، مناسب ہوتا شفافیت کے لیے جسٹس اعجاز الاحسن کو بینچ میں شامل نہ کیا جاتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو وجہ میں نے سوچ کر بینچ بنایا وہ بتانے کا پابند نہیں ہوں ، عرفان قادر نے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کا بہت مداح ہوں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مداحی پر آپ کا مشکور ہوں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل ریکارڈ سے دکھائیں جسٹس اعجاز الاحسن کب بینچ سے الگ ہوئے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایک جج صاحب نے نوٹ میں لکھا کہ جسٹس اعجاز الاحسن نے معذرت کی، چیف جسٹس کا یہ کہنا کہ بینچ سے الگ نہیں ہوئے تھے دو ججز کے نوٹ کے خلاف ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن ججز نے سماعت سے معذرت کی ان کے حکمنامے ریکارڈ کا حصہ ہیں، بینچ سے کسی جج کو نکالا نہیں جاسکتا یہ قانون کا اصول ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہر مرتبہ ججز کی معذرت کرنے کا آرڈر نہیں ہوتا،کئی مرتبہ تین ججز اٹھ کر جاتے تھے اور دو ججز واپس آتے تھے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تجویز عدالت کو کبھی نہ دیں،وکیل الیکشن کمیشن عرفان قادر نے کہا کہ آپ نے عزت سے اپنا دور گزارا ہے، ون مین شو کس کو کہا گیا ہے اس کی وضاحت ضروری ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے پوچھا تھا ون مین شو کس کو کہا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا عمومی بات کی آپ کو نہیں کہا تھا، ماحول پورے ملک کی طرح عدالت اور باہر خراب ہے، ماحول ٹھنڈا کرنے میں اٹارنی جنرل نے مدد نہیں کی، یہ ایشو پارلیمنٹ کو خود حل کرنا چاہیے تھا،الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر کے دلائل مکمل ہوگئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے دلائل سے محظوظ ہوئے ہیں،

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدالت میں دلائل دینا چاہتا ہوں، پی ڈی ایم کے اعلامیے میں بائیکاٹ کا ذکر نہیں ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بینچ پر اعتماد نہیں ہے تو دلائل کیسے دے سکتے ہیں؟ اظہر صدیق نے کہا کہ کہا گیا لاہور اور پشاور ہائیکورٹ میں مقدمات زیر التوا ہیں،کسی ہائیکورٹ میں مقدمہ زیر التوا نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ سیکرٹری دفاع دستاویزات کب تک دیں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آج کسی بھی وقت عدالت کو دستاویزات دے دیں گے،گورنر کے پی کے وکیل پیروی سے معذرت کر چکے ہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کے پی کے کا ذکر نہیں ہے،

    پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کے جواب الجواب دلائل شروع ہو گئے،علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار پر کسی نے بات نہیں، الیکشن کمیشن نے نہیں بتایا کہ اسے الیکشن ملتوی کرنے کا اختیار کہاں سے ملا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سجیل سواتی نے سیکشن 58 کا حوالہ دیا تھا ،علی ظفر نے کہا کہ الیکشن ایکٹ آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتا، الیکشن کمیشن نے اپنے حکم میں آرٹیکل 218/3 کا حوالہ دیا، آرٹیکل 218/3 الیکشن کروانے کا پابند بناتا ہے، الیکشن کمیشن آئین سے بالاتر کوئی کام نہیں کر سکتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین اور قانون واضح ہے کہ انتخابات کی تاریخ کون دے گا ،عرفان قادر نے کہا صدر حکومت کی سفارش کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا ،کیا صدر الیکشن کی تاریخ ایڈوائس کے بغیر دے سکتے ہیں،عدالت آئین اور قانون کے مطابق انصاف کے لیے بیٹھی ہے، سیاسی مقدمات میں سیاسی ایجنڈا سامنے آتا ہے، اکرم شیخ تیاری سے آئے تھے ان کے موکل نے ان کو بولنے نہیں دیا، اکرم شیخ کے موکل کو نظر انداز نہیں کر سکتے،اٹارنی جنرل نے اس نقطے پر گفتگو نہیں کی،اٹارنی جنرل سے گلہ ہے کہ وہ 3/4 پر ہی زور دیتے رہے،اس نقطے پر اپنے تحریری دلائل جمع کروائیں ،علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنے طور پر انتخابات کی تاریخ تبدیل نہیں کر سکتا،کے پی کے میں گورنر نے الیکشن کی تاریخ دینی ہے،کیا الیکشن کمیشن گورنر کی تاریخ بدل سکتا ہے؟میری نظر میں الیکشن کمیشن آئین سے بالاتر اقدامات نہیں کرسکتا، بلدیاتی انتخابات میں الیکشن کمیشن تاریخ مقرر کرتا ہے،الیکشن کمیشن نے سارا ملبہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر ڈالا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات بھی ہوسکتے ہیں جب انتخابات ملتوی ہوسکیں،وفاقی حکومت نے ایسا کوئی مواد نہیں دیا جس پر الیکشن ملتوی ہوسکیں، انتخابات کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے بھی آگاہ نہیں کیا گیا،عدالت نے توازن قائم کرنا ہوتا ہے، حکومت اور دیگر فریقین کی درست معاونت نہیں ملی، حکومت نے الیکشن کروانے کی آمادگی ہی نہیں ظاہر کی، ماضی میں عدالت اسمبلی کی تحلیل کالعدم قرار دے چکی ہے،

    سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا ،فیصلہ کل سنایا جائے گا ،فیصلہ کل ساڑھے گیارہ بجے فیصلہ سنایا جائے گا

    سپریم کورٹ میں وقفے سے قبل کی سماعت کے بارے میں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

    سیاسی بحران پیچھے رہ گیا، آئینی بحران نے ملک کو لپیٹ میں لے لیا

     فیصلے کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہوگی نہ اخلاقی

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

     آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

  • عمران خان کیخلاف نیب تحقیقات،ہم ابھی نیب کو کسی چیز سے روک نہیں رہے،عدالت

    عمران خان کیخلاف نیب تحقیقات،ہم ابھی نیب کو کسی چیز سے روک نہیں رہے،عدالت

    توشہ خانہ کیس میں نیب تحقیقات،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر نوٹس جاری کر دیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی ڈویژن بینچ نے توشہ خانہ کیس میں طلبی کے نیب نوٹسز کے خلاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر سماعت کی ،درخواست گزار کی جانب سے وکیل خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے، خواجہ حارث نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب نوٹس میں نہیں بتایا گیا کس حیثیت میں انفارمیشن مانگی جارہی ہے عدالتی فیصلے آ چکے اس لیے نوٹس کی مکمل معلومات دینا ضروری ہے نیب پر لازم ہے وہ مکمل معلومات فراہم کرے نیب کے پرانے قانون کے ہوتے یہ فیصلے آچکے تھے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ابھی جو نیب قانون میں ترامیم آئی ہیں ان میں نوٹس کا کیا طریقہ ہے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ ترمیمی قانون کہتا ہے بتانا لازم ہے آپ کسی کو کیوں بلا رہے ہیں ترمیمی قانون میں بتانا ہوگا کسی کو بطور ملزم بلایا یا کسی دوسری وجہ پر بلایا عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان کو طلبی کے نوٹس آ گئے ہیں؟ خواجہ حارث نے بتایا کہ کال اپ نوٹس آ گئے ہوئے ہیں، خواجہ حارث نے نیب کے نوٹسز عدالت میں پیش کر دیے اورکہا کہ ان نوٹسز میں نیب نے ہمیں معلومات فراہم نہیں کیں ان میں صرف لکھا گیا پبلک آفس ہولڈرز کے خلاف انکوائری ہے

    عدالت نے کمرہ عدالت میں موجود نیب پراسیکیوٹر کو روسٹرم پر بلا لیا تو نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ عمران خان کو یاد دہانی کا نوٹس بھیجا گیا تھا اس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے نوٹسز میں عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نظر نہیں آتا ہم ابھی نیب کو کسی چیز سے روک نہیں رہے نیب جو سوال پوچھنا چاہے پوچھ سکتا ہے بھلے وہ کوئی میٹریل نہ ہو ہم ان درخواستوں پر آرڈر جاری کریں گے بعد ازاں عدالت نے نیب نوٹسز کے خلاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کر دیا ہے

    یاد رہے کہ 16 اور 17 فروری کے نیب کال اپ نوٹسز ہائیکورٹ میں چیلنج کیے گئے ہیں ،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور بشریٰ بی بی تاحال نیب آفس پیش نہ ہوئے  عمران خان کی جانب سے نیب میں طلبی کے نوٹس غیرقانونی قرار دینےکی استدعا کی گئی ہے عمران خان نے کیس کا فیصلہ آنے تک نیب کو تادیبی کاروائی سے روکنے کی استدعا بھی کی ہے عمران خان نے درخواست کی ہے کہ نیب کے 16 فروری اور17 مارچ کے نوٹس غیرقانونی قرار دیے جائیں، درخواست پر فیصلہ آنے تک انکوائری کو انویسٹیگیشن میں تبدیل کرنے سے روکا جائے۔

    عدالت نے عمران خان کو 13 مارچ کو سیشن کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

  • چیف جسٹس کے بغیرکوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے بغیرکوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن التوا کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراپی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ، وکلا کی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں موجود تھی، سپریم کورٹ نے حکومتی وکلاء کو سننے سے انکار کردیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم ابھی آپ کو نہیں سن رہے،ہمیں معلوم ہے حکومتیں کارروائی کا بائیکاٹ نہیں کرتیں، اگر آپ بائیکاٹ نہیں کر رہے تو تحریری طور پر بتائیں، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں نے بائیکاٹ نہیں کیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ پھر کس نے بائیکاٹ کیا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کارروائی کا حصہ بننا چاہتے ہیں، فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں کہا کہ جی کارروائی کا حصہ ہیں، ہم نے تو بائیکاٹ کیا ہی نہیں تھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اخبار میں تو کچھ اور لکھا تھا ،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ایک طرف بینچ پر اعتراض کرتے ہیں دوسری طرف کارروائی کا حصہ بھی بنتے ہیں ، ، حکومتی اتحاد اجلاس کا اعلامیہ پڑھ کر سنائیں،جو زباں اس میں استعمال کی گئی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ کو کیا ہدایت ملی ہیں؟ حکومت عدالت کا بائیکاٹ کرسکتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ حکومت بائیکاٹ نہیں کرسکتی، حکومت آئین کے مطابق چلتی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سنجیدہ اٹارنی جنرل سے ہمیں ایسی ہی توقع تھی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ بہت تیز جا رہے ہیں، سٹیپ بائی سٹیپ آگے چلیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک معاملے پر اپنا فیصلہ سنا چکی ہے، اس فیصلے پر عملدر آمدضروری ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بائیکاٹ کرنا ہے تو عدالتی کاروائی کا حصہ نہ بنیں،بائیکاٹ نہیں کیا تو لکھ کر دیں، وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ وکالت نامہ واپس لینے تک وکیل دلائل دے سکتے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وکلالت نامہ دینے والوں نے ہی عدم اعتماد کیا ہے، اکرم شیخ وکیل نے کہا کہ وکیلوں کا عدالت آنا ہی اعتماد ظاہر کرتا ہے ،عدالت نے سیاسی جماعتوں کے وکلا کو بیٹھنے کی ہدایت کردی

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا ہے، صدر کو کے پی میں تاریخ دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے، درخواست کی بنیاد یکم مارچ کا عدالتی فیصلہ ہے، فیصلے میں عدالت نے پنجاب کے لیے صدر اور کے پی کے لیے گورنر کو تاریخ دینے کا کہا تھا ،گورنر کے پی کے نے درخواستیں دائر ہونے تک کوئی تاریخ نہیں دی تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ سوال اٹھایا تھا کہ الیکشن کمیشن 8 اکتوبر کی تاریخ کیسے دے سکتا یے؟ قانون کسی کو الیکشن ملتوی کرنے کا اختیار نہیں دیتا، عدالت ہی الیکشن کی تاریخ آگے بڑھا سکتی ہے،1988 میں بھی عدالت کے حکم پر انتخابات آگے بڑھائے گئے تھے، عدالت زمینی حقائق کا جائزہ لے کر حکم جاری کرتی ہے، جس حکم نامے کا ذکر کرر ہے ہیں اس پر عمل ہو چکا ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اصل معاملہ الیکشن کمیشن کے حکم نامے کا ہے، عدالتی حکم الیکشن کمیشن پر لازم تھا، الیکشن کمیشن کا حکم برقرار رہا تو باقی استدعائیں ختم ہو جائیں گی، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پہلے راؤنڈ میں نو رکنی بینچ نے مقدمہ سنا تھا ، اٹارنی جنرل 21 فروری کو سماعت کا حکم نامہ آیا، دو ججز کے اختلافات کی تفصیلات سامنے آ چکی ہیں دو ججز نے پہلے دن درخواستیں خارج کر دی تھیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک جج نے درخواست خارج کی تھی ، جسٹس اطہر من اللہ نے شاید نوٹ میں درخواست خارج کرنے کا نہیں لکھا، اٹارنی جنلرل نے کہا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس اطہر من اللہ سے اتفاق کیا تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا نقطہ نظر سمجھ گئے ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کے تفصیلی نوٹ کتنے رکنی بینچ کے تھے؟ کتنے رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا؟ 27 فروری کو 9 رکنی بینچ نے ازسرنو تشکیل کیلئے معاملہ چیف جسٹس کو بھیجا تھا، عرفان قادر نے اٹارنی جنرل کے کان میں سرگوشی کی جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا عرفان قادر اٹارنی جنرل کو بچانے آئے ہیں؟ عرفان قادر نے کہا کہ 15 سیکنڈز کا معاملہ ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ تین منٹ سے پندرہ سیکنڈ پر آگئے ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب بینچ دوبارہ تشکیل ہوا تو پانچ رکنی تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسارکیا کہ کیا چیف جسٹس کوئی بھی پانچ ججز شامل نہیں کرسکتے تھے؟ اٹارنی جنرل نے عدالت مین کہا کہ آپ کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں،اٹارنی جنرل نے بینچ کی تشکیل پر دلائل دیئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی ایسا کیس مجھے نہیں ملا جس میں چیف جسٹس کو بینچ تبدیل کرنے سے روکا گیا ہو،اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ پشاور کا کیس ہے جس میں چیف جسٹس کو مرضی کے بنچ سے روکا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس پہلے والے اراکین شامل کرنے کے پابند نہیں تھے،جس عدالتی فیصلے کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ اقلیتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ یکم مارچ کو بھی کوئی عدالتی حکم نہیں تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں پانچ رکنی بینچ بنا نہیں تھا،ججز میں ہم آہنگی سپریم کورٹ کیلئے بہت اہم ہے،ججز کے بہت سے معاملات آپس کے ہوتے ہیں،عدالتی کارروائی پبلک ہوتی ہے لیکن ججز کی مشاورت نہیں،تفصیلی اختلافی نوٹ بینچ کے ازسرنو تشکیل کا نقطہ شامل نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نوٹ کے مطابق بینچ کی ازسرنو تشکیل انتظامی اقدام تھا،نوٹ کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی نے سماعت سے معذرت کی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹ کے مطابق چار ججز نے خود کو بینچ سےالگ کیا، بہتر طریقہ یہ تھا کہ لکھتے کہ چار ججز کو بینچ سے نکالا گیا،نو رکنی بینچ کے فیصلے میں کہیں نہیں لکھا کون رضاکارانہ الگ ہورہا ہے، کسی نے بینچ سے الگ ہونا ہو تو جوڈیشل آرڈر لکھا جاتا ہے،کوئی شق نہیں کہ جج کو بینچ سے نکالا نہیں جاسکتا، عدالت بینچ کی ازسرنو تشکیل کا حکم دے تو اسے نکالنا نہیں کہتے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ازسرنو تشکیل میں تمام پانچ نئے ججز آجاتے تو کیا ہوتا؟ کیا نیا بینچ پرانے دو ججز کے فیصلوں کو ساتھ ملا سکتا ہے؟ نیا بینچ تشکیل دینا جوڈیشل حکم تھا انتظامی نہیں،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ دو ججز نے جو رائے دی تھی اسے الگ نہیں کیا جاسکتا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے خود کہا وہ اپنی شمولیت چیف جسٹس پر چھوڑتے ہیں،بینچ کا کوئی رکن بھی نہ ہو تو سماعت نہیں ہوسکتی، پانچ رکنی بینچ نے دو دن کیس سنا، کسی نے کہا دو ارکان موجود نہیں؟ کیا کسی نے یہ کہا کہ بینچ سات رکنی ہے؟ پہلی سماعت پر کوئی جج درخواست خارج کردے پھر بینچ میں نہ بیٹھے تو کیا فیصلہ نیا بینچ کرے گا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دو ججز کی رائے کے بعد نیا بینچ بنا اور ازسرِنو سماعت ہوئی، بینچ ارکان نے دونوں ججز کے رکن ہونے کا نقطہ نہیں اٹھایا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ چار آراء کے مطابق درخواستیں خارج ہوئی ہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا نقطہ سمجھ گئے اگلے نقطے پر آئیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ زیر حاشیہ میں بھی لکھا کہ دو ججز کی آراء ریکارڈ کا حصہ ہے فیصلے کا نہیں، ریکارڈ میں تو متفرق درخواستیں اور حکمنامے بھی شامل ہوئے ہیں، ابھی تک آپ ہمیں اس نقطے پر قائل نہیں کرسکے،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ اکثریت میں رائے کس کی ہے،حل یہ ہے کہ جنہوں نے پہلے مقدمہ سنا وہ اب بنچ سے الگ ہوجائیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا نقطہ نوٹ کرلیا ہے، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ججز نے کہا کہ آرڈر آف دی کورٹ جاری نہیں ہوا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکمنامے میں ایسا کچھ نہیں لکھا، نوٹ آپ پڑھ رہے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 31 مارچ کو ایک سرکولر جاری کیا،سرکولر میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ختم کر دیا گیا،جسٹس قاضی فائز عیسی کا فیصلہ کیسے سرکولر سے ختم ہوسکتا ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرکولر میں از خود نوٹس کے انتظامی احکامات کو موخر کیا گیا،سرکولر میں کسی عدالتی فیصلے کو مسترد نہیں کیا،سرکلر میں لکھا ہے کہ پانچ رکنی بنچ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی تھی،مقدمات سماعت کیلئے مقرر نہ کرنے کے انتظامی حکم پر سرکلر آیا ہے ،جسٹس فائز عیسی کے فیصلے میں کوئی واضح حکم نہیں دیا گیا، چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ 184/3 کے تحت درخواستوں کے حوالے سے رولز موجود ہیں،ازخود نوٹس پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ موجود ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ میں لکھا ہے کہ مناسب ہوگا کہ 184/3 کے مقدمات کی سماعت روکی جائے29 مارچ کے فیصلہ میں ہدایت نہیں بلکہ خواہش ظاہر کی گئی ہے عوام کے مفادات میں مقدمات پر فیصلے ہونا ہیں ناں کہ سماعت موخر کرنے سے،فیصلہ میں تیسری کیٹگری بنیادی حقوق کی ہے،بنیادی حقوق تو 184/3 کےہر مقدمےمیں ہوتے ہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ آئینی درخواست نہیں ہے جس کے رولز بنےہوئے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ مقدمہ میں بنیادی حقوق کا زکر ہے، موجودہ کیس تیسری کیٹگری میں آ سکتا ہے،رولز بننے تک سماعت موخر کی جائے،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئینی درخواست کے رولز بنے ہوئے ہیں تو کاروائی کیسے موخر کریں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالتی فیصلہ کو پھر بھی سرکولر کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے رواں سال میں پہلا سوموٹو نوٹس لیا تھا،دو اسمبلیوں کے سپیکرز کی درخواستیں آئی تھیں،سپیکر ایوان کا محافظ ہوتا ہے،ازخود نوٹس کے لئے بنچ کا نوٹ بھی پڑا ہوا تھا از خودنوٹس لینے میں ہمیشہ بہت احتیاط کی ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس بات سے متفق نہیں کہ یہ مقدمہ دیگر 184/3 کے مقدمات سے مختلف ہے،جن کے رولز بنے ہیں ان مقدمات پر کیسے کارروائی روک دیں؟ 184/3 کے دائرہ اختیار پر بہت سخت طریقہ کار بنایا ہوا ہے،دوران سماعت اٹارنی جنرل نے کہا کہ آج میں فل کورٹ کی تشکیل کے لئے درخواست لایا ہوں، کچھ دن پہلے میڈیا میں غلط رپورٹ ہوا کہ میری فل کورٹ کی درخواست مسترد ہوئی،جسٹس منیب اختر نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک طرف فل کورٹ کی بات کرتے ہیں،دوسری طرف کیس موخر کرنے کا کہہ رہے، آپ اپنا ایک ذہن بنا لیں کہ عدالت سے چاہتے کیا ہیں،پہلے طے تو کر لیں سماعت ہوسکتی ہے یا نہیں،اپ کا مؤقف مان لیں تو فل کورٹ بھی سماعت نہیں کرسکتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کی استدعاء فی الوقت مسترد کی تھی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ فیصلے پر دستخط کرنے والے جج نے خود کو بینچ سے الگ کرلیا، کیسے ہوسکتا ہے فیصلہ لکھنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ مقدمہ سنیں؟ جسٹس امین الدین خان نے فیصلے پر صرف دستخط کیے تھے سماعت سے معذرت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فیصلہ ہوگا،سماعت سے انکار تو فرض نہیں کیا جاتا، یہ جوڈیشل آرڈر ہوتا ہے،تمام پندرہ ججز مختلف آراء اپنانے پر مقدمہ نہیں سن سکتے، آپ نے معاملہ فہم ہوتے ہوئے دوبارہ فل کورٹ کی استدعاء نہیں کی ،آپ کی زیادہ سے زیادہ استدعاء فل لارجر بینچ کی ہوسکتی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ لارجر بینچ کی استدعا آگے جاکر کروں گا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی جج کو بینچ سے نکالا گیا نہ کوئی رضاکارانہ الگ ہوا، 9 ارکان نے چیف جسٹس کو معاملہ بھجوایا، 27 فروری کے نو ججز کے حکم نامے سے دکھائیں بینچ سے کون الگ ہوا؟ عدالتی ریکارڈ کے مطابق کسی جج نے سماعت سے معذرت نہیں کی، جسٹس فائز عیسیٰ کا حکم خوبصورت لکھا گیا یے، فل کورٹ میٹنگ فائدہ مند ہو سکتی ہے لیکن فل بینچ نہیں، گزشتہ تین دن میں سینیر ججز سے ملاقاتیں کی ہیں ،لارجر بینچ کے نکتے پر دلائل دینا چاہیں تو ضرور دیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ جو ججز نو رکنی بینچ کا حصہ نہیں تھے ان پر مشتمل بینچ بنایا جائے ،3/2 اور 3/4 کا فیصلہ باقی دو ججز کو کرنے دیا جائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک فیصلہ تین رکنی اکثریت نے دیا ایک دو رکنی اقلیت نے، بنیادی اصول مقدمہ کی سماعت ہے، سنے بغیر فیصلہ محدود نوعیت کا ہی ہوسکتا ہے، سماعت کے بعد کیے گئے فیصلے کا ہی وجود ہوتا ہے، کورٹ فیس ادا نہ کرنے پر بھی تو مقدمہ خارج ہوجاتا یے، نظرثانی اکثریتی فیصلے کی ہوتی ہے، جن ججز کے نوٹ کا حوالہ دے رہے ہیں کیا وہ پانچ رکنی بینچ میں تھے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ عدالتی حکم کے بغیر کوئی فیصلہ قابل عمل نہیں ہوتا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دو الگ الگ بینچز نے الگ الگ کارروائی کی تھی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آپ احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے بہترین دلائل دے رہے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ صورتحال سب کیلئے ہی مشکل ہے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری خزانہ کہاں ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکریٹری خزانہ رپورٹ کے ہمراہ عدالت میں موجود ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ اصل مسئلہ سیکیورٹی ایشو ہے، دونوں افسران کو سن کر بھیج دیتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ حساس معاملہ ہے، سیکیورٹی معاملات ہر ان کیمرا سماعت کی جائے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ فائلز دے دیں ہم جائزہ لے لیتے ہیں،فورسز کا معاملہ صرف آرمی کا نہیں بلکہ نیوی اور ائیر فورس کا بھی ہے، بری فوج مصروف ہے تو نیوی اور ائیر فورس سے مدد لی جاسکتی ہے، الیکشن کمیشن کہتا ہے 50 فیصد پولنگ سٹیشنز محفوظ ہیں، فوج میں ہر یونٹ یا شعبہ جنگ کیلئے نہیں ہوتا، عدالت نے وہ کام کرنا ہے جو کھلی عدالت میں ہو، کوئی حساس چیز سامنے آئی تو چیمبر میں سن لیں گے، کوئی اکر کہے تو صحیح کہ کتنے سیکیورٹی اہلکاروں کی ضرورت ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام چیزیں ریکارڈ پر موجود ہیں، الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کچھ وجوہات بتائی ہیں،

    سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ر حمود الزمان روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ حساس معلومات نہیں لیں گے، مجموعی صورتحال بتا دیں، فی الحال پنجاب کا بتائیں کیونکہ کے پی کے میں ابھی تاریخ ہی نہیں آئی، کیا پنجاب میں سیکورٹی حالات سنگین ہیں، سیکرٹری دفاع نے عدالت میں کہا کہ پنجاب میں سیکورٹی حالات سنگین ہیں، کھلی عدالت میں تفصیلات نہیں بتا سکتا، نہیں چاہتے معلومات دشمن تک پہنچیں، عدالت نے علی ظفر کو روسٹرم پر بلا لیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کا کہ ان چیمبر سماعت پر آپکا کیا موقف ہے؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ اہلکار دے دیں تو انتحابات کروا سکتے ہیں، سیکورٹی اہلکار صرف ایک دن کے لیے دستیاب ہو سکتے ہیں سیکورٹی کا ایشو رہے گا آئینی ضرورت نوے دن کی ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ سیکیورٹی اہلکار کون دے گا؟ وال یہ ہے کہ اٹھ اکتوبر کو کیسے سب ٹھیک ہو جائے گا؟ کیا الیکشن کمیشن کو لڑنے والے اہلکار درکار ہیں؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ ریٹائرڈ لوگوں کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے پنتالیس فیصد پولنگ سٹیشنز کو حساس قرار دیا ہے،جھنگ ضلع پہلے حساس ہوتا تھا اب نہیں، جنوبی پنجاب اور کچے کا علاقہ بھی حساس تصور ہوتا ہے،سیکرٹری دفاع نے کہا کہ ریزور فورس موجود ہے جسے مخصوص حالات میں بلایا جاتا ہے، ریزور فورس کو بلانے کا طریقہ کار موجود ہے،ریزرو فورس کی طلبی کیلئے وقت درکار ہوتا ہے،ریزرو فورس کی تربیت بھی کی جاتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوج کی بڑی تعداد بارڈرز پر بھی تعینات ہے، الیکشن ڈیوٹی کیلئے کمبیٹ اہلکاروں کی ضرورت نہیں ہوتی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سیکرٹری دفاع سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کل نہیں ہونے پورا شیڈول آئیگا، وکیل علی ظفر نے کہا کہ پیرا ملٹری فورسز، بحری اور ہوائی فورسز سے بھی معلومات لیں،

    عدالت نے سیکریٹری دفاع سے دو گھنٹے میں تحریری رپورٹ طلب کرلی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جو زبانی بریفنگ دینا چاہتے ہیں وہ لکھ کر دے دیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سیکرٹری دفاع کو ہدایت کی کہ اپنی پوری کوشش کریں، سیکریٹری دفاع نے کل تک مہلت مانگ لی،عدالت نے سیکریٹری دفاع کو کل تک کی مہلت دیدی،سیکریٹری خزانہ کی رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا یہ رپورٹ بھی حساس ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکریٹری خزانہ کی رپورٹ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں ہے،سیکریٹری خزانہ طبیعت ناساز ہونے کے باعث پیش نہیں ہوسکے،ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ عامر محمود عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے،کرنٹ اکاؤنٹ اور مالی خسارہ کم کیا جارہا ہوگا، آمدن بڑھا کر اور اخراجات کم کر کے خسارہ کم کیا جاسکتا ہے،کون سا ترقیاتی منصوبہ 20 ارب روپے سے کم ہے ،درخواست گزار کے مطابق ارکان کو 170 ارب روپے کا فنڈ دیا جارہا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ اکتوبر 2022 کی بات ہے،ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کے تحت فنڈز پلاننگ کمیشن جاری کرتا ہے،ترقیاتی فنڈز پر کوئی کٹ نہیں لگایا گیا،

    اسد عمر نے کہا کہ خسارے کا ٹارگٹ جی ڈی پی 4.97فیصد ہے۔بیس ارب روپیے کا خسارے کے ٹارگٹ سے کوئی تعلق نہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریونیو بڑھانے میں زیادہ وقت لگے گا۔ کس شعبے سے اخراجات کم کیے جاسکتے ہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ ترقیاتی اخراجات سات سو ارب روپے ہیں۔ابھی تک چار سو پچاس ارب روپیے خرچ ہونا باقی ہیں حکومت نے اٹھ ماہ میں صرف دو سو ارب روپے خرچ کیے ہیں۔ ترقیاتی اسکیموں کے لیے حکومت نے مزید اٹھ ارب روپیے ترقیاتی اخراجات میں شامل کیے ہیں۔ کیسے ممکن ہے سات سو ارب روپے کے بجٹ سے اکیس ارب روپے نہ نکالے جا سکتے ہوں۔آئینی تقاضا اہم ہے یا سڑکیں بنانا؟ اس سے بڑا کوئی مذاق نہیں ہو سکتا۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ الیکشن پہلے ہو جائیں تو پورا چار سو پچاس ارب بچ سکتا ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ حکومت نے کہا کسی سے بات نہیں کریں گیے۔عدالت فیصلہ کرے چار سو پچاس ارب روپے خرچ نہ ہونے کیوجہ اخراجات میں کمی ہے۔ ترقیاتی اخراجات کم نہیں کرنے توغیر ترقیاتی اخراجات کم کر دیں ،ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ آپریشنل اخراجات اورتنخواہیں ہی غیر ترقیاتی اخراجات ہوتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا تنخواہوں میں کمی نہیں کی جا سکتی؟ ججز سے تنخواہیں کم کرنا کیوں شروع نہیں کرتے،الیکشن کمیشن کو بھی اخراجات کم کرنے کا کہیں گے، قانونی رکاوٹ ہے تو عدالت ختم کردے گی، حکومت نے اخراجات کم کرنے کیلٸے اقدامات کٸے ہیں ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آٸینی تقاضہ پورا کرنے کیلٸے آرٹیکل 254 ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ مثال بن گٸی تو ہمیشہ مالی مشکلات پر الیکشن نہیں ہوا کرینگے ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آٸندہ مالی سال کے بجٹ میں پیسے رکھیں گے،

    قبل ازیں فواد چوہدری چیف جسٹس کے رو برو پیش ہوئے اور کہا کہ ریڈ زون میں وکلاء کو آنے سے روکا جارہا ہے ،ریڈ زون کے داخلی راستے سیل کر دئے گئے ہیں،لگتا ہے ہم غزہ میں ہیں، وکلاء کو بھی آنے سے روکا جا رہا ہے، ریڈی زون کے داخلی راستوں پر جھگڑے ہو رہے ہیں، چیف جسٹس نے فواد چوہدری کی ریڈ زون کے داخلی راستے کھلوانے کی استدعا مسترد کر دی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ اپنے سکیورٹی اقدامات کر رہی ہے، کیس کی سماعت کر رہے ہیں، ہزاروں وکلاء کا آنا ضروری نہیں،وکلاء کو آپ نے کال دی ہے تو ان سے بات کریں، فواد چودھری نے کہا کہ ہم نے کسی کو کال نہیں دی،وکلاء کا کنونشن ہے اس کیلئے بھی روکا جا رہا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا اس سب سے کیا لینا دینا؟ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوموٹو پر پہلے ہی مسائل بنے ہوئے ہیں، آپ پھر سے سوموٹو لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی احاطے میں معمول کی شناخت کے بعد وکلاء آ سکتے ہیں، خاتون وکیل نے شکایت کی کہ کمرہ عدالت نمبر ایک میں بھی آنے نہیں دیا جا رہا،جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گنجائش کے مطابق ہی کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ہوگی،ہر وکیل کو کمرہ عدالت میں آنے کی اجازت نہیں ہوگی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے سابق صدر شعیب شاہین نے بھی راستوں کی بندش کی چیف جسٹس سے شکایت کردی، شعیب شاہین نے کہا کہ سپریم کورٹ کورٹ میں مقدمات کیلئے بھی وکلا کو نہیں آنے دیا جا رہا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس چلنے دیں ،انتظامیہ کیلئے پریشانی نہ بنائیں ،انتظامیہ سب انتظامات عدالت اور پرامن فضا قائم رکھنے کیلئے کر رہی ہے،اپنے ادارے کیلئے احکامات دیں گے باقیوں کیلئے نہیں،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ 25 مئی کا واقعہ ہم سب کے سامنے ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 25 مئی کا ذکر مت کریں، 25 کی درخواست آپ لائے تھے ایک حد تک اپ بھی اسکے ذمہ دار ہیں ،

    اس موقع پر سپریم کورٹ کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، سماعت کے موقع پر تحریک انصاف لائرز ونگ نے شاہراہ دستور پر سپریم کورٹ سے یکجہتی کے لئے ریلی کا بھی اعلان کر رکھا ہے، وکلاء کی بڑی تعداد سپریم کورٹ کے باہر پہنچ چکی ہے،وفاقی سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی خصوصی بنچ سماعت کرے گا ، تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹرعلی ظفر اور الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل مکمل ہوچکے ہیں

    از خود نوٹس کیس، اٹارنی جنرل نے متفرق درخواست دائر کر دی
    دوسری جانب اٹارنی جنرل نے متفرق درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی جس میں مذکورہ بینچ سے مقدمہ نہ سننے کا کہا ہے یعنی بینچ پر اعتراض کیا ہے ،اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ الیکشن سے متعلق چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ کیس نہ سنے یہ کیس ان ججز کو سماعت کے لیے بھجوایا جائے جو اس کیس کا حصہ نہیں رہ چکے ہوں

    وفاقی حکومت نے انتخابات کیس میں اپنا جواب جمع کرا دیا ،وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کی استدعا کر دی، وفاقی حکومت کے جواب میں کہا گیا ہے کہ یکم مارچ کا سپریم کورٹ کا فیصلہ اکثریت سے دیا گیا تین رکنی بینچ متبادل کے طور پر تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت نہ کرے ،جسٹس قاضی فائز عیسی کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی درخواست موخر کی جائے۔سپریم کورٹ کے جو ججز الیکشن کیس کو سن چکے ہیں ۔انھیں نکال کر باقی ججز پر مشمتل بینچ بناجائے۔جسٹس اعجاز الاحسن پہلے راؤنڈ میں الیکشن کا کیس سننے سے انکار کرچکے ہیں۔پہلے راؤنڈ میں دیا گیا الیکشن کا فیصلہ چار تین اکژیت سے دیا گیا۔ چیف جسٹس اور جسٹس منیب اختر فیصلہ دینے والے بینچ کا حصہ تھے۔چیف جسٹس اور جسٹس منیب اختر بھی اس کیس کو نہ سنیں۔

    اسلام آباد میں دہشت گردی کے خطرات ،وکلاء کے لباس میں شرپسند عناصر کے داخلے کا خدشہ ہے۔ ترجمان اسلام آباد پولیس
    ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں آج وہی افراد داخل ہوسکیں گے، جن کے مقدمات ہیں جن افراد کے پاس سپریم کورٹ انتظامیہ کا اجازت نامہ ہوگا وہ داخل ہوسکیں گے قانون کا احترام سب پر لازم ہے، اس کا نفاذ برابری کی سطح پر کیا جائے گا ، ریڈ زون میں تعینات پولیس اور دیگر اداروں کے ساتھ تعاون کریں، ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں داخلے کے لئے چیکنگ کی جارہی ہے،وکلا اور صحافی سپریم کورٹ داخلے سے پہلے شناخت کروائیں۔سپریم کورٹ میں داخلے کے لیے سپریم کورٹ انتظامیہ کی اجازت لازمی ہے۔وکلاء کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔وکلاء حضرات سے گذارش ہے کہ راستے مسدود نہ کریں۔ اور سپریم کورٹ کے سامنے پارکنگ مت کریں اس سے گاڑیوں کی آمد و رفت متاثر ہوتی ہے۔اسلام آباد میں دہشت گردی کے خطرات موجود ہیں،وکلاء کے لباس میں شرپسند عناصر کے داخلے کا خدشہ ہے۔ وکلاء سے گذارش ہے کہ اپنے اردگرد وکلاء کے لباس میں غیر معروف افراد پر نظر رکھیں پولیس اہلکار دوران چیکنگ شائستگی کا مظاہرہ کریں۔وکلاء کے عدالت عظمیٰ آنے پر کوئی پابندی نہیں،عدالت عظمیٰ کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھیں عدالتی احاطے میں داخلہ رجسٹرار سپریم کورٹ کی اجازت کے ساتھ مشروط ہے ۔سپریم کورٹ میں داخل ہونے والے صبروتحمل کا مظاہرہ کریں اور پولیس کے ساتھ تعاون کریں،شہری کسی بھی مشکوک سرگرمی کے متعلق اطلاع پکار 15 پر دیں۔

    31 مارچ کو پنجاب اورخیبرپختونخوا میں الیکشن التوا کیس کی سماعت کرنے والا سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا تھا ، جسٹس جمال خان مندوخیل بینچ سےعلیحدہ ہوگئے اور کل کے حکم نامے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ سماعت کا حکم نامہ عدالت میں نہ تو لکھوایا گیا نہ مجھ سے مشاورت کی گئی بعد ازاں سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی تھی سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی فل کورٹ بنانے کی درخواست فی الحال مسترد کر دی تھی، جس کے بعد اتحادی جماعتوں نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پرعدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ تین رکنی بینچ پراعتماد نہیں ہے،چیف جسٹس سمیت تین رکنی بینچ کے دیگرجج صاحبان مقدمے سے دستبردار ہو جائیں

    سیاسی بحران پیچھے رہ گیا، آئینی بحران نے ملک کو لپیٹ میں لے لیا

     فیصلے کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہوگی نہ اخلاقی

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

     آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر