Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بشری بی بی کی طبیعت خراب

    بشری بی بی کی طبیعت خراب

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی طبیعت خراب ہو گئی ہے

    بشریٰ بی بی کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں علاج کے لئے نجی ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سیف اعوان نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے، کہ بشریٰ بی بی کی طبیعت خراب ہو گئی ہے

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی زمان پارک میں ہی عمران خان کے ہمراہ رہائش پذیر ہیں، عمران خان جب اسلام آباد پیشی کے لئے گئے تو پولیس نے زمان پارک میں آپریشن کیا اسوقت عمران خان نے کہا تھا کہ بشریٰ بی بی گھر پر اکیلی ہیں اور کوئی گھر میں نہیں تھا

    عمران خان کی بشریٰ بی بی سے تیسری شادی ہے اس سے قبل انہوں نے پہلی شادی جمائما سے کی جو طلاق پر ختم ہوئی جمائما سے ان کے دو بیٹے ہیں بعد ازاں دوسری شادی ریحام خان سے کی وہ بھہ طلاق پر ختم ہو گئی تھی، بشریٰ بی بی بھی شادی شدہ تھیں تا ہم عمران خان سے شادی سے قبل انہوں نے طلاق لی اور عدت کے دوران ہی نکاح ہو گیا تھا جس کا اعتراف نکاح خواں نے بھی کیا بعد ازاں دوسری بار بھی نکاح پڑھایا گیا تھا پی ٹی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے رکن اور نکاح خوان مفتی سعید خان نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کا نکاح دو مرتبہ پڑھایا گیا-انہوں نے بتایا کہ پہلا نکاح عدت کے دوران ہونے کی وجہ سے فاسد تھا، علم ہونے پر دوسری بار نکاح پڑھانا پڑا ،پہلے نکاح کےموقع پر بشریٰ بی بی کی عدت کی مدت مکمل نہیں تھی، نکاح کے موقع پر مجھے اس متعلق لاعلم رکھا گیابعد میں علم ہونے پرمیں نے نکاح کو فاسد قرار دے کر شریعت کے مطابق دوسرا نکاح پڑھایا۔

    بشریٰ بی بی اور تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری کی ایک آڈیو بھی سامنے آئی تھی،عمران خان کہتے ہیں کہ بشریٰ بی بی گھریلو خاتون اور باپردہ ہیں تاہم زلفی بخاری کے ساتھ آنیوالی آڈیو نے عمران خان کے دعووں کو ہوا میں اڑا کر رکھ دیا تھا،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    بشری بی بی کی آڈیونےدنیا بدل دی۔قہرٹوٹ پڑا ،عمران خان مایوس،دل ٹوٹ گیا

  • عمران خان کی صحافیوں سے ملاقات؛ تمام مسائل کا حل نئے الیکشن کو قرار دے دیا

    عمران خان کی صحافیوں سے ملاقات؛ تمام مسائل کا حل نئے الیکشن کو قرار دے دیا

    پاکستان تحریک انصاف کے چئیر مین عمران خان کی سینئر صحافیوں سے ملاقات

    پاکستان تحریک انصاف کے چئیر مین عمران خان کی سینئر صحافیوں سے ملاقات میں کہا ہے کہ پاکستانی فوج میری فوج ہے اور پاکستان ہم سب کا ہے جبکہ عدلیہ کی آزادی اور آئین پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا جبکہ عمران خان کی سینئر صحافیوں سے گفتگو میں مزید کہا کہ آزادانہ الیکشن ہی تمام مسائل کا حل ہے جبکہ جمہوریت کیلئے تحریک انصاف ہر آخری حد تک جائے گی۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ وکلاء کی تحریک میں پوری قوم ان کے ساتھ ہو گی اور مضبوط پاکستان کیلئے مضبوط فوج انتہائی ضروری ہے ۔ جبکہ ہمارے قومی ادارے اور ان کی مضبوطی ہماری اولین ترجیح ہے اور ہمارے ہزاروں ساتھیوں کو گھروں سے اٹھایا گیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اس سے پہلے دیر ہوجائے ہمیں اپنا لائحہ عمل اپنانا ہوگا ،عمران خان کے گھر دہشت گرد دندناتے پھرتے ہیں ،عمران خان دہشت گردوں کو اپنی شیلڈ بنا رہا ہے ملکی صورت حال کا پارلیمنٹ فوری نوٹس لے ,وزیراعظم
    معاملہ ترجیحات کا ہے،لیپ ٹاپ کیلئے10ارب نکل سکتے ہیں توالیکشن کیلئے 20 ارب کیوں نہیں؟جسٹس اعجازالاحسن
    بنے گا پکوڑا، بنے گی چائے، اسکول ہسپتال بھاڑ میں جائے،وزیراعلیٰ نے پڑھی نظم
    پاکستان یارن مرچنٹس نے بجلی، گیس نرخوں میں بے پناہ اضافہ مسترد کردیا
    ثانیہ سعید کو نئے فنکاروں‌ کا کام کیسا لگتا ہے؟‌ اداکارہ نے کھل کر بیان کر دیا چاہے کسی کو برا لگے
    عمران خان نے یہ بھی کہا کہ غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے ہزاروں کارکن کہاں ہیں کسی کو علم نہیں جبکہ زندگی اللہ تعالی نے اس ملک کیلئے عطا کی ہے اور مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن آئین اور قانون سے ہٹ کر کوئی بات نہیں ہو گی۔ علاوہ ازیں رانا عظیم سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے نے کہا کہ صحافی بھی آئین اور قانون کی بالا دستی کیلئے اور آزاد عدلیہ کیلئے ہر جدوجہد کا حصہ ہوں گے۔

  • انتخابات سےمتعلق کیس پر فل کورٹ بنانے پر سب متفق ہیں. نواز شریف

    انتخابات سےمتعلق کیس پر فل کورٹ بنانے پر سب متفق ہیں. نواز شریف

    انتخابات سےمتعلق کیس پر فل کورٹ بنانے پر سب متفق ہیں. نواز شریف

    سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (نواز) کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ اس بینچ میں تو دو جج وہ ہیں جنہوں نے میرے خلاف فیصلہ دیا، جب بینچ ہی قبول نہیں تو فیصلہ کیسے قبول ہوگا۔ واضح رہے کہ لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھاکہ اٹارنی جنرل پاکستان اور سول سوسائٹی سب کہہ رہے ہیں تو پھر کس بات کا اصرار ہے، یہ قومی معاملہ ہے کسی ٹرک ، ریڑھی والے یا پلاٹ خالی کرانے کا ایشو نہیں، 2017 میں بھی اس قسم کا بینچ بنا تھا جس کی وجہ سے ملک کا مستقبل تاریک نظرآتا ہے، 2017 کے بعد دیکھیں آپ کے ساتھ کیا ہوا،پہلے آپ پیٹ بھر کر کھانا کھاتے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں بجلی کا بل کم تھا، ہم نے لوڈشیڈنگ کا بھی خاتمہ کیا، ملک میں موٹرویز بن رہی تھیں، ملک میں دہشتگردی ختم ہورہی تھی، ہمارے دور میں زرمبادلہ کے ذخائر بلند ترین سطح پر تھے، آج ایک بلین ڈالر کے لیے ہمیں درخواست دینا پڑتی ہے۔ جبکہ ان کا مزید کہنا تھاکہ قوم کو ان ہی بینچ کے فیصلوں نے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کردیا، ثاقب نثار اور دیگر ریٹائرڈ جج قوم کو بتائیں گے کہ مجھے کیوں نااہل کیا گیا، پاکستان چند سالوں میں دنیا کے ترقی یافتہ دس بیس ملکوں میں شامل ہونے جارہا تھا، سونا فی تولہ دولاکھ روپے سے بڑھ چکا غریب آدمی بیٹی کی شادی کیسے کرے گا، غریب آج دوائی کے بل نہیں ادا کرسکتے، جائیداد بیچنی پڑتی ہے، آپ کو کوئی خیال نہیں، آپ نے کبھی اس بات پر سوموٹو لیا جو شوکت صدیقی نے باتیں کی، کیا اس بات پر سوموٹو نہیں بنتا کہ نوازشریف کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اس سے پہلے دیر ہوجائے ہمیں اپنا لائحہ عمل اپنانا ہوگا ،عمران خان کے گھر دہشت گرد دندناتے پھرتے ہیں ،عمران خان دہشت گردوں کو اپنی شیلڈ بنا رہا ہے ملکی صورت حال کا پارلیمنٹ فوری نوٹس لے ,وزیراعظم
    معاملہ ترجیحات کا ہے،لیپ ٹاپ کیلئے10ارب نکل سکتے ہیں توالیکشن کیلئے 20 ارب کیوں نہیں؟جسٹس اعجازالاحسن
    بنے گا پکوڑا، بنے گی چائے، اسکول ہسپتال بھاڑ میں جائے،وزیراعلیٰ نے پڑھی نظم
    پاکستان یارن مرچنٹس نے بجلی، گیس نرخوں میں بے پناہ اضافہ مسترد کردیا
    ثانیہ سعید کو نئے فنکاروں‌ کا کام کیسا لگتا ہے؟‌ اداکارہ نے کھل کر بیان کر دیا چاہے کسی کو برا لگے
    سابق وزیراعظم کا کہنا تھاکہ یہ قوم پر مرضی کے فیصلے ٹھونسنا چاہتے ہیں، امید ہے کہ اللہ ایسے فیصلوں سے ملک کو بچائے گا، سیدھی بات ہے جب بینچ ہی قبول نہیں تو فیصلہ کیسے قبول ہوگا؟ فل کورٹ بنائیں اس کا فیصلہ سب کو قبول ہوگا، تین کے بینچ میں کیا مصلحت ہے؟ فل کورٹ پرپورا اعتماد ہے، اس بینچ میں تو دو جج وہ ہیں جنہوں نے میرے خلاف فیصلہ دیا، کیا سارے فیصلے عمران خان کی خاطر کرنے ہیں؟ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سنا ہے کہ آنکھوں میں آنسو آئے اگر اللہ کے ڈر سے آئے ہیں تو اچھی بات ہے۔

  • عدالت عظمیٰ نے چیف جسٹس کے ارکان اسمبلی بارے ریمارکس پر وضاحت جاری کردی

    عدالت عظمیٰ نے چیف جسٹس کے ارکان اسمبلی بارے ریمارکس پر وضاحت جاری کردی

    عدالت عظمیٰ نے چیف جسٹس کے ارکان اسمبلی بارے ریمارکس پر وضاحت جاری کردی

    ترجمان سپریم کورٹ نے چیف جسٹس سے منسوب ریمارکس پر وضاحت جاری کردی ہے. جبکہ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹنگ کرتے ہوئے ان ریمارکس کو ان کی روح کے مطابق رپورٹ کیا جائے اور آئین ہمارے لیے، اس قوم کے لیے اور معاشرے لیے انتہائی اہم ہے جبکہ چیف جسٹس، کے ترجمان نے کہا کہ آئین وفاق پاکستان کو متحد رکھتا ہے. اور یہ جمہوریت کو زندہ رکھتا ہے.

    ترجمان چیف جسٹس کے مطابق آج جب پارلیمنٹ جائیں تو وہ لوگ تقریر کرتے ملتے ہیں جنہوں نے قید و بند کی صعوبتیں کاٹیں. اور جنہیں غدار ظاہر کیا گیا وہ پارلیمنٹ میں خطاب کرتے پائے جاتے ہیں علاوہ ازیں وہ قابلِ احترام ہیں کیوں کہ وہ عوامی نمائندے ہیں.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اس سے پہلے دیر ہوجائے ہمیں اپنا لائحہ عمل اپنانا ہوگا ،عمران خان کے گھر دہشت گرد دندناتے پھرتے ہیں ،عمران خان دہشت گردوں کو اپنی شیلڈ بنا رہا ہے ملکی صورت حال کا پارلیمنٹ فوری نوٹس لے ,وزیراعظم
    معاملہ ترجیحات کا ہے،لیپ ٹاپ کیلئے10ارب نکل سکتے ہیں توالیکشن کیلئے 20 ارب کیوں نہیں؟جسٹس اعجازالاحسن
    بنے گا پکوڑا، بنے گی چائے، اسکول ہسپتال بھاڑ میں جائے،وزیراعلیٰ نے پڑھی نظم
    پاکستان یارن مرچنٹس نے بجلی، گیس نرخوں میں بے پناہ اضافہ مسترد کردیا
    ثانیہ سعید کو نئے فنکاروں‌ کا کام کیسا لگتا ہے؟‌ اداکارہ نے کھل کر بیان کر دیا چاہے کسی کو برا لگے
    خیال رہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا تھاکہ آپ پارلیمنٹ جائیں تو آپ کو خطاب کرتے ایسے لوگ ملتےہیں جو کل تک قید تھے، غدار قرار دیے گئے تھے، اب وہ لوگ وہاں بات کررہے ہیں اور ان کو عزت دی جارہی ہے کیونکہ وہ عوام کے نمائندے ہیں۔

  • کراچی: راشن تقسیم کے دوران بھگدڑ سے 11 افراد جاں بحق ہوگئے

    کراچی: راشن تقسیم کے دوران بھگدڑ سے 11 افراد جاں بحق ہوگئے

    کراچی (ویب نیوز) راشن تقسیم کے دوران بھگدڑ سے 11 افراد جاں بحق ہوگئے،زکوۃ تقسیم کرنے والی فیکٹری سیل، فیکٹری مالکان کیخلاف مقدمہ درج
    کراچی میں سائٹ ایریا کے علاقے میں راشن کی تقسیم کے دوران بھگدڑ سے گیارہ افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ مرنے والوں میں تین بچے اور آٹھ خواتین بھی شامل ہیں۔
    ریسکیو حکام کے مطابق سائٹ ایریا نورس چورنگی پر راشن کی تقسیم کے دوران بَھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں 3 بچوں سمیت گیارہ افراد جاں بحق ہوگئے، مرنے والوں میں 8 خواتین بھی شامل ہیں۔
    بتایا جارہا ہے کہ راشن تقسیم کے دوران گیارہ افراد جاں بحق ہوئے جبکہ بہت سے افراد بےہوش بھی ہوگئے جنھیں عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال میں زیر علاج کچھ افراد کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔
    ریسکیو حکام کے مطابق راشن تقسیم کے دوران بَھگدڑ کے دوران نالے کی دیوار بھی گری، کئی افراد نالے کے پانی میں گرے جبکہ کچھ بھاگنے کے دوران گر کر زخمی ہوئے۔ فیکٹری کے جس گیٹ پر آٹا تقسیم کیا جارہا تھا وہاں جگہ بہت تنگ تھی، بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں۔
    پولیس کا کہنا ہے کہ راشن کی تقسیم کے حوالے سے انتظامیہ اور پولیس کو اطلاع نہیں دی گئی۔ ابتدائی طور پر پولیس نے 8 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔ پولیس کے مطابق راشن تقسیم کرنے والی انتظامیہ کے 7 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
    راشن تقسیم کے دوران بھگدڑ مچنے سے قبل نالے میں لائن پھٹنے سے متاثرہ مقام پر پانی پھیل گیا تھا۔ بجلی کے تار بھی نالے کے پانی میں گرے ، ابتدائی طور پر کرنٹ لگنے سے کسی ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
    سائٹ ایریا میں فیکٹری کے باہر راشن لینے کے لئے آنے والی خاتون نے آج نیوز کو بتایا کہ لوگوں کو راشن لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، خاتون نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خدمت کا کام ایسے تماشا کر کے نہیں کیا جاتا۔
    پولیس نے افسوسناک واقعہ کے بعد زکوۃ تقسیم کرنے والی فیکٹری کو سیل کرکے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، فیکٹری میں 2 ہزار روپے فی شخص تقسیم کیے جارہے تھے۔ ذرائع کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں کیمیکل ملے پانی میں گرنے سے ہوئیں۔
    گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے راشن کی تقسیم میں بھگدڈ کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ کامران ٹیسوری نے افسوسناک واقعہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے زخمیوں کو علاج معالجہ کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

  • سرکاری اسکولوں کی 16 عمارتوں پر عثمان بزدار خاندان کا افراد کا قبضہ

    سرکاری اسکولوں کی 16 عمارتوں پر عثمان بزدار خاندان کا افراد کا قبضہ

    سرکاری اسکولوں کی 16 عمارتوں پر عثمان بزدار خاندان کا افراد کا قبضہ

    عثمان بزدار کے علاقے کھڈ بزدار میں 16 گھوسٹ اسکولوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جن پر بزدار خاندان کے لوگ قابض ہیں اور اسکولوں کے فنڈز بھی باقاعدگی کے ساتھ جاری ہورہے ہیں۔ جبکہ ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے علاقے کھرڑ بزدار میں 16 سرکاری اسکولوں کی عمارتوں پر بزدار خاندان کے افراد کا قبضہ ہے، سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کو بطور ڈیرے او رہائش گاہیں استعمال کیا جا رہا ہے، تمام اسکولوں کے فنڈز باقاعدگی کے ساتھ جاری ہورہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق عثمان بزدار کے علاقے کھرڑ بزدار کے تمام سرکاری اسکولوں کے اساتذہ عثمان بزدار کے رشتہ دار ہیں، اساتذہ کو بزدار خاندان کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ تاہم اینٹی کرپشن پنجاب نے اس معاملے پر محکمہ اسکول ایجوکیشن سے ریکارڈ مانگ لیا اور عثمان بزدار، عمر خان بزدار، طور خان بزدار، شبیر احمد چوہان کو 3 اپریل 10 بجے طلب کرلیا۔ عثمان بزدار اور ان کے بھائیوں کے ساتھ ساتھ چیف ایگزیکٹو آفیسر محکمہ ایجوکیشن کو بھی طلب کیا گیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اس سے پہلے دیر ہوجائے ہمیں اپنا لائحہ عمل اپنانا ہوگا ،عمران خان کے گھر دہشت گرد دندناتے پھرتے ہیں ،عمران خان دہشت گردوں کو اپنی شیلڈ بنا رہا ہے ملکی صورت حال کا پارلیمنٹ فوری نوٹس لے ,وزیراعظم
    معاملہ ترجیحات کا ہے،لیپ ٹاپ کیلئے10ارب نکل سکتے ہیں توالیکشن کیلئے 20 ارب کیوں نہیں؟جسٹس اعجازالاحسن
    بنے گا پکوڑا، بنے گی چائے، اسکول ہسپتال بھاڑ میں جائے،وزیراعلیٰ نے پڑھی نظم
    پاکستان یارن مرچنٹس نے بجلی، گیس نرخوں میں بے پناہ اضافہ مسترد کردیا
    ثانیہ سعید کو نئے فنکاروں‌ کا کام کیسا لگتا ہے؟‌ اداکارہ نے کھل کر بیان کر دیا چاہے کسی کو برا لگے
    ان 16 سرکاری اسکولوں میں گورنمنٹ پرائمری اسکول بستی غلام رسول، گورنمنٹ پرائمری اسکول بستی غلام مصطفی، ملک شیر محمد، تاج محمد، لال محمد، عبدالرحیم، احمد جٹ، حاجی رینو طور خان بزدار، دین محمد درخان، حیات محمد، رفیق مارین، ماجیانی کھرر بزدار اور گورنمنٹ پرائمری اسکول بستی اللہ بخش، ایک گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول اور ایک ہائی اسکول شامل ہیں۔

  • سپریم کورٹ،انتخابات کیس، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری خزانہ  آٸندہ سماعت پر طلب

    سپریم کورٹ،انتخابات کیس، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری خزانہ آٸندہ سماعت پر طلب

    پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کا آغاز کر دیا ،پاکستان بار کونسل کے چیئرمین ایگزیکٹو کونسل عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو بعد میں سنیں گے ، حسن رضا پاشا نے کہا کہ بار کا کسی کی حمایت سے کوئی تعلق نہیں ہے ،اس پر فل کورٹ نہیں بن رہا تو فل کورٹ میٹنگ بنا دیں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس پر ہم سوچ رہے ہیں ججز کے آپس میں تعلق اچھے ہیں۔ کل اور آج دو ججوں نے سماعت سے معذرت کی باہمی اعتراف اور شائستہ گفتگو پہلے بھی ہوئی اور بعد میں بھی۔کچھ نقاط پر ہماری گفتگو ضروری ہے سیاسی معاملات سامنے آئے جس پر میڈیا اور پریس کانفرسنز سے تیل ڈالا گیا۔ عدالت نے سارے معاملے پر تحمل کا مظاہرہ کیا۔ کچھ لوگ چند ججز پر تنقید کررہے ہیں کچھ دوسرے ججز پر تنقید کررہے ہیں۔ ہم اس معاملہ کو بھی دیکھیں گے۔ اس معاملہ پر مجھے چیمبر میں ملیں،آج پہلی بار آپ عدالت آئے ہیں، باتوں سے نہیں عمل سے خود کو ثابت کریں،چیمبر میں آئیں آپ کا بہت احترام ہے،سپریم کورٹ بار کے صدر مجھ سے رابطے میں رہے ہیں،معاملہ صرف بیرونی امیج کا ہوتا تو ہماری زندگی پرسکون ہوتی، میڈیا والے بھی بعض اوقات غلط بات کردیتے ہیں،عدالت ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے، سماعت کے بعد کچھ ملاقاتیں کروں گا، تو قع ہے کہ پیر کا سورج اچھی نوید لے کر طلوع ہوگا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب جو نکتہ اٹھانا چاہیں اٹھا سکتے ہیں، عدالت نے کچھ مقدمات میں حالات کی پیروی کے لیے فریقین کو ہدایت کی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سے گزارش ہے کہ پہلے درجہ حرارت کم کریں،ملک میں ہر طرف درجہ حرارت کم کرنا چاہیئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ درجہ حرارت کم کرنے کے لیے آپ نے کیا کیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وقت کے ساتھ ہی درجہ حرارت کم ہو سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ہمیشہ آئین کو ہی فوقیت دی ہے،ججز کو دفاترسے نکال کر گھروں میں قید کیا گیا،معجزہ ہوا کہ ججز واپس دفاتر میں آ گئے،نوے کی دہائی میں کئی بہترین ججز واپس نہیں آ سکے آئین، جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے، کل تک جیلوں میں رہنے والے آج اسمبلی میں تقاریر کر رہے ہیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عوام کے نمائندے ہیں، اسمبلی کی مدت ہوتی یے، ہاؤس کے سربراہ کو تحلیل کا ختیار ہے، نوے دن کا وقت اپریل میں ختم ہو رہا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے نوے دن کی مدت کے پندرہ دن بعد تاریخ دی،صدر کو الیکشن کمیشن نے حالات نہیں بتائے تھے،صدر کو حالات سے اگاہ کیا ہوتا تو شاید 30 اپریل تاریخ نہ آتی عدالت کے سامنے مسئلہ اٹھ اکتوبر کی تاریخ کا ہے ،عدالت مشکلات پیدا کرنے نہیں بیٹھی عدالت کو ٹھوس وجہ بتائیں یا ڈائیلاگ ،ایک فریق پارٹی چیئرمین کی گارنٹی دے رہا ہے، شاید حکومت کو بھی ماضی بھلانا پڑے گا،اسمبلیوں کی مدت ویسے بھی اگست تک مکمل ہورہی ہے،اگر حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ہوں تو کچھ دن وقفہ کرلیں گیے،اگر مذاکرات نہیں ہونے تو آئینی کردار ادا کریں گے،عدالتی فیصلہ دیکھ کر کہیں گے کہ بااختیار فیصلہ ہے۔ ہر فریق کے ہر نقطے کا فیصلے میں ذکر کریں گے، بیس ارب کی اخراجات پر پہلے عدالت کو بتائیں۔ اخراجات کم کرنے کی تجویز دی تھی،دوسرا مسئلہ سیکیورٹی کا ہے ،نصف پولنگ سٹیشن انتہائی حساس یا حساس ہیں، صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ملک میں دہشتگردی ہے، دہشتگردی تو 90 کی دہائی سے ہے عدالت کو بتایا گیا کہ افواج بارڈر پر مصروف ہیں، اس معاملے کو بھی دیکھنا ہو گا،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ آج عدالت کا جاری سرکلر دیکھا یے، جسٹس جمال مندوخیل کا نوٹ بھی پڑھا ہے، جسٹس جمال مندوخیل بینچ سے الگ ہو چکے ہیں ،دوسرا نقطہ یکم مارچ کے فیصلے کے تناسب کا ہے،تیسرا نکتہ یکم مارچ کے فیصلے کی بنیاد پر ہی ہے، موجودہ درخواست کی بنیاد یکم مارچ کا عدالتی حکم یے، نو رکنی بینچ کے دو اراکین نے رضا کارانہ بینچ سے علیدگی اختیار کی، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو کس نے کہا کہ دو ججز بینچ سے الگ ہوئے تھے، عدالت کا ستائس فروری کا حکم پڑھیں اس میں کہاں لکھا ہے،؟ اٹارنی جنرل نے ستائیس فروری کا عدالتی حکم پڑھ کر سنایا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ چیف جسٹس کو بینچ کی ازسر نو تشکیل کے لیے بھیجا گیا تھا،چاہتا تو تمام ججز کو بھی تبدیل کر سکتا تھا،اگر آپ وہی کرنا چاہتے ہیں جس سے مسئلہ بنا تو یہ ہماری پرائیوسی میں مداخلت ہوگی۔آرڈر میں دوبارہ بینچ کی تشکیل کا کہا گیا، بینچ کی تشکیل دینا چیف جسٹس کا اختیار ہے، دوبارہ 9 رکنی بینچ بنایا جاسکتا تھا، کتنے رکنی بینچ بنا یا ٹوٹا اس میں مت جائیں، ایسا کر کے آپ ہماری حدود میں مداخلت کر رہے ہیں۔ بینچ کی تشکیل ہمارا اندرونی معاملہ ہے، سپریم کورٹ کے اندرونی معاملات کو پبلک پر اچھالا جانا بدقسمتی ہے، بینچ کی تشکیل سپریم کورٹ کا اندرونی اختیار ہے ایک دوسرے کی عزت کریں تاکہ معاملات حل ہوں .دوبارہ بینچ کے معاملات میں مت جائیں،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ نے کہا کہ ججز نے سماعت سے معذرت نہیں کی تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اس حوالے سے کچھ نہیں کہا،سماعت روکنے والا حکم ہم ججز آپس میں زیر بحث لائیں گے، آپ درجہ حرارت کم کرنے والی بات کر رہے تھے، ہم تو تنقید کا جواب بھی نہیں دے سکتے ججز کی اندرونی گفتگو عوام میں نہیں کرنی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے دن فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی تھی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس نکتے پر آپ دلائل ضرور دیں ،فل کورٹ والا معاملہ میرے ذہن میں تھا ،عدالتننگ بینچ بناتے وقت بہت کچھ ذہن میں رکھنا ہوتا ہے،ایک بات یہ زہن میں ہوتی ہے کہ معمول کے مقدمات متاثر نہ ہوں،موجودہ دور میں روز نمٹائے گیے مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے، بعض اوقات تمام ججز دستیاب نہیں ہوتے،گزشتہ ہفتے کویٹہ کراچی اور لاہور میں بھی بینچ تھے اس ہفتے بھی لاہور میں بینچ تھا .فل کورٹ بنانے سے قبل کئی معاملات کو زیر غور رکھنا ہوتا ہے، دیکھنا ہوتا ہے بینچ بنانے سے دیگر کام نہ رکے، فل کورٹ بنانے سے دیگر کیسز متاثر ہوتے ہیں کئی مواقع پر ججز کی عدم موجودگی کے باعث فل کورٹ کا کام متاثر ہوتا ہے،نو رکنی بینچ تشکیل دیتے وقت تمام ججز کے بارے میں سوچا،جسٹس اطہر من اللہ کو آئین سے ہم آہنگ پایا، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن بھی آئین کے ماہر ہیں،آپ پوچھ سکتے ہیں جسٹس مظاہر نقوی کیوں شامل کیے گئے، جسٹس مظاہر نقوی کو شامل کرنا خاموش پیغام دینا تھا،دو سال جسٹس فائز عیسیٰ کیس چلا اور عدالت کو سزا ملی ،جسٹس فائز عیسیٰ کے لیے بھی مقدمہ سزا ہی تھا، ہمارے ایک ساتھی کا دو سال ٹرائل کیا گیا،دو سال کے ٹرائل کے بعد بھی کچھ نہیں نکلا۔ سپریم کورٹ میں آج بھی اتفاق ہے، طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو اندازہ نہیں سپریم کورٹ کتنا متاثر ہورہی ہے، آج ججز کی آڈیوز لیک کی جارہی ہیں۔ سیاسی معاملات اور سنی سنائی باتوں پر نشانہ ججز کو بنایا جا رہا ہے، سپریم کورٹ متحد تھی کچھ معاملات میں اب بھی ہے، اہم عہدوں پر تعینات لوگ کس طرح عدلیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں، مجھے کہا جا رہا ہے کہ ایک اور جج کو سزا دوں، جا کر پہلے ان شواہد کا جائزہ لیں۔سپریم کورٹ میں بیس سال کی نسبت بہترین ججز ہیں ،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کے فیصلے پڑھیں، جسٹس شاہد وحید نے بہترین اختلافی نوٹ لکھا،آڈیو لیک کی بنیاد پر کیسے نشانہ بنایا جائے ،قانون پر بات کریں تو میں بطور جج سنوں گا، میرے ججز کے بارے میں بات کریں گے تو میرا سامنا کرنا پڑے گا،میرا بھی دل ہے میرے بھی جذبات ہیں، جو کچھ کیا پوری ایمانداری سے اللہ کو حاضر ناظر جان کر کیا ،جو کچھ آج تک کیا آئین اور قانون کے مطابق کیا ،ٹیکس کا معاملہ ہے تو متعلقہ افسر کو کہیں ٹریس کریں ٹیکس معاملے پر کیسے جج کا ٹرائل کریں، جسٹس اقبال حمید الرحمان کو استعفی سے روکا تھا، جسٹس اقبال حمید الرحمان نے کہا مرحوم باپ کو کیا منہ دکھاوں گا،چیف جسٹس کی کمرہ عدالت میں جذبات سے آواز بھر آئی

    دوران ریمارکس چیف جسٹس عمر عطا بندیال جذباتی ہوگئے، عرفان قادر نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سماعت کے دوران جذباتی نہیں ہونا ہے،جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم تو تنقید کا جواب بھی نہیں دے سکتے ججز کی اندرونی گفتگو عوام میں نہیں کرنی چاہیے، درجہ حرارت کم کرنے والی آپشن پر ہی رہیں،ہمارے سامنے فاروق نائیک، اکرم شیخ اور دیگر سینئر وکلا موجود ہیں،ہم پہلے حکومت کا موقف سننا چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل کی جانب سے عدالت کو معاشی صورتحال پر آگاہی دی گئی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارا بجٹ میں خسارہ ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ فرض کریں کہ اگر خسارہ اکتوبر تک رہا تو پھر کیا ہوگا،

    عرفان قادر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا موقف پورا نہیں سنا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے اٹارنی جنرل کو بات مکمل کرنے دیں، عرفان قادر نے کہا کہ میں صرف 3 منٹ بات کرتا ہوں،روز مجھے گھنٹوں بیٹھنا پڑتا ہے،آپ جذباتی ہوسکتے ہیں تو ہم بھی ہوسکتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو سنیں گے آپ نے 3 منٹ کا کہا ہے،عرفان قادر نے کہا کہ 3 منٹ نہیں بلکہ مختصرا بات مکمل کرنے کی کوشش کرونگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیس کی بات کریںادھر ادھر کی باتوں سے میں جذباتی ہوگیا تھا،اٹارنی جنرل صاحب سکیورٹی اور فنڈز پر بات کریں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے سیاسی جماعتوں کو سن لیں، بعد میں دلائل دوں گا،معاشی حالات پر عدالت کو آگاہ کروں گا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آٹھ اکتوبر تک انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں اس پر جواب دیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فاروق ایچ نائیک ، اکرم شیخ اور کامران مرتضیٰ کو بھی سنیں گے، پہلے ریاست پاکستان کو سننا چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملہ بیس ارب کا نہیں پوری معیشت کا یے،ملک کو پندرہ سو ارب خسارے کا سامنا ہے، تیس جون تک شرح سود بائیس فیصد تک جا سکتی ہے،شرح سود بڑھنے سے قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا ماضی کے قرضوں پر بھی نئی شرح سود لاگو ہوتی ہے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ حکومت کے پاس اس وقت کتنا پیسہ موجود ہے،فیڈرل کونسلیڈیٹڈ فنڈز میں کتنی رقم موجود ہے، اگر بیس ارب خرچ ہوتے ہیں تو خسارہ کتنے فیصد بڑھے گا،پندرہ سو ارب خسارے میں بیس ارب سے کتنا اضافہ ہو گا، الیکشن اخراجات شاید خسارے کے ایک فیصد سے بھی کم ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپلیمنٹری بجٹ میں 170 ارب کی توقع ہے، اگر پورا جمع ہو گیا،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ فیڈرل کونسلیڈیٹڈ فنڈز کس کے کنٹرول میں ہوتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ فنڈز وزارت خزانہ کے کنٹرول میں ہوتا ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2019 کے رولز پڑھ کر بتائیں فنڈ کس کے کنٹرول میں ہوتا ہے، پبلک فنانشل مینجمنٹ ایکٹ کے تحت رولز کا جائزہ لیں، رولز کے مطابق تو کونسلیڈیٹڈ فنڈز سٹیٹ بینک میں ہوتا ہے، سٹیٹ بینک کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں ان کے پاس کتنا پیسہ ہے، الیکشن کمیشن حکومت کی جانب دیکھ رہا ہے ،کمیشن کہتا ہے کہ فنڈز مل جائیں تو تیس اپریل کو الیکشن کروا سکتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فنڈز میں رقم ہونا اور خرچ کے لیے دستیاب ہونا الگ چیزیں ہیں ، سٹیٹ بینک کو رقم اور سونا ریزرو رکھنا ہوتا ہے،

    اٹارنی جنرل نے دوبارہ فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کیا جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم تین دن سے آپ کو سن رہے ہیں،عدالت کا ایک ایک دن اہم ہے،آپ چاہتے ہیں بینچ میں مزید ججز شامل کریں تاکہ دلائل دوبارہ سے شروع کرنے پڑیں ، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بار بار فل کورٹ کے مطالبات کرنے کا کیا مقصد ہے؟ دنیا کے کسی عدالتی سسٹم میں ایسے مطالبات نہیں کیے جاتے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر دینا کہ فل کورٹ پر اعتماد ہوگا یہ رویہ درست نہیں،عدالت کا ایک ایک لمحہ اہم ہے،ہمیں بتایا جائے کب الیکشن کرانے ہیں،ہم سیاسی جماعتوں سے بھی الیکشن سے متعلق یقین دہانیاں لیں گے، لگتا ہے اٹارنی جنرل کے پاس مزید کہنے کو کچھ نہیں،الیکشن کرانا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، ہمیں حکومت کی مشکلات کا اندازہ ہے، 90 روز کے اندر الیکشن نہیں کرائے جاسکے صرف یہ دیکھنا ہے مزید کتنے دن درکار ہوں گے الیکشن کیلئے،ہم اس عدالت میں تمام فریقین کو بلائیں گے، تمام فریقین سے معاونت کیلئے یقین دہانیاں لیں گے،سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت ہر سیکریٹری خزانہ کو نوٹس جاری کردیے سیکرٹری دفاع اور سیکریٹری خزانہ سوموار کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کر لیا گیا،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی فل کورٹ بنانے کی درخواست فی الحال مسترد کردی،

    سپریم کورٹ سماعت پیر صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی، سپریم کورٹ نے سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری خزانہ کو آٸندہ سماعت پر طلب کر لیا

    قبل ازیں سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار ٹوٹنے پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے نئی صورتحال کے پیش نظر اٹارنی جنرل کو ایک بار پھر فل کورٹ کی استدعا کرنے کی ہدایت کر دی ، وزیر قانون نے انتخابات التوا کیس میں سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹنے پر قانونی ٹیم سے تفصیلی مشاورت کی، انہوں نے الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر سے قانونی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا جبکہ پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائیک اور ن لیگ کے وکیل اکرم شیخ بھی اس دوران گفتگو میں شریک رہے

     انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے دوبارہ بینچ تشکیل

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     ون مین شو چلایا جارہا ہے، عوام تسلیم نہیں کریگی 

  • شمالی وزیرستان ،دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،پاک فوج کا جوان شہید

    شمالی وزیرستان ،دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،پاک فوج کا جوان شہید

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے مابین جھڑپ ہوئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق میر علی کے علاقے میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا بہادری اور جرات مندی سے مقابلہ کیا ،فائرنگ کے تبادلے میں سپاہی ارشاد اللہ شہید ہو گئے، 29 سالہ شہید سپاہی ارشاد اللہ کا تعلق ضلع کرک سے تھا، سپاہی ارشاد اللہ نے دہشت گردوں کے خلاف بے جگری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے سیکورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے، سیکورٹی فورسز پاکستان سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لئے پرعزم ہیں،بہادر سپاہیوں کی عظیم قربانیاں دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم کو تقویت بخشتی ہیں،

    جنرل قمر جاوید باجوہ کی 6 سالہ کارکردگی،پاکستان کا سنہرا باب

    افواج پاکستان نے بذریعہ عسکری سفارتکاری عالمی سیاست میں توازن قائم کیا،آرمی چیف

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالہ سے اہم انکشافات کئے ہیں

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان کا دورہ بھی اہمیت کا حامل

    واضح رہے کہ شمالی وزیرستان میں امن کے لئے پاک فوج کے جوان قربانیاں دے رہے ہیں، دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران پاک فوج کے جوانوں کی شہادتیں ہو رہی ہیں تو دوسری جانب دہشت گرد بھی جہنم واصل ہو رہے ہیں، شمالی وزیرستان کے مکین دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں

  • پہلے استعفی پھرمکر جانا،پاکستان کی عوام کے ساتھ مذاق ہو رہا ہے؟ عدالت برہم

    پہلے استعفی پھرمکر جانا،پاکستان کی عوام کے ساتھ مذاق ہو رہا ہے؟ عدالت برہم

    اسلام آباد ہائی کورٹ ،ممبر قومی اسمبلی شکور شاد کے استعفے کی منظوری کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے سیکرٹریٹ قومی اسمبلی سے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے شکور شاد کے استعفی منظور کرنے کا آرڈر 28 اپریل کو طلب کر لیا،کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کی. دوران سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق وکیل درخواست گزار پر برہم ہو گئے، اور کہا کہ آپ نے استعفی دیا اس ہر دستخط کیے تھے ، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جی ہمارے دستخط تھے لیکن وہ استعفی پارٹی پریشر میں دیا گیا تھا ،جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا دستخط بس ایسے ہی کیے گئے کیا کوئی جوق ہے یہ ، کیا ہو رہا ہے آج آپ یہ کر رہے ہیں کل آپ ملک کے لیے کیا کریں گے، آپ آرٹیکل 62 پر کیسے پورا اتریں گے،آپ اپنے لوگوں اور ووٹرز کے امانت دار ہیں آپ کیا کر رہے ہیں،9 مارچ کا آدڈر تھا کہ آپ نے اپنے استعفے سے انکار کیا تھا، وہ لیٹر ہے آپ کے پاس.وکیل درخواست گزار نے کہا کہ 29 جولائی کو استعفیٰ منظور ہوا، اس کورٹ نے ستمبر میں فیصلہ معطل کیا.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے دستخط اصلی نہیں تھے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ دستخط تو اصلی تھے، مگر پارٹی پالیسی پر استعفیٰ دیا تھا. اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ استعفے پر پارٹی پالیسی کے خلاف جانے سے کچھ فرق نہیں پڑتا، وہ تو منی بجٹ بل اور عدم اعتماد پر فرق پڑتا ہے. آپ نے پارٹی پریشر پر استعفیٰ دے دیا آپ ملک کے لیے کیسے سٹینڈ لے سکتے ہیں. پہلے استعفی پھر مکر جانا،پاکستان کی عوام کے ساتھ مذاق ہو رہا ہے؟ آپ کی ٹرسٹ والی کیا پوزیشن ہے، کیا آپ سسٹم کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں،آپ سسٹم کو فن سمجھ رہے ہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہم مانتے ہیں اصل سٹیک ہولڈر عوام ہے،

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر مذاق بھی تو عوام کے ساتھ ہو رہا یے،اسی طرح کی دیگر رٹ پر بھی ابھی آنا ہے ہم نے کہ اس ملک میں کیا ہورہا ہے ،وکیل شکور شاد نے کہا کہ ہم نے اسپیکر قومی اسمبلی کو کہا کہ پارٹی پریشر پر استعفیٰ دیا، مگر اسپیکر نے کہا کہ وہ جواب سے مطمئن نہیں. اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اسپیکر نے ایسا کوئی لیٹر جاری کیا ہے؟ 3 مارچ 2023 کے لیٹر کو ریکارڈ پر لے کر آئیں. پارٹی لیڈر شپ نے آپ کو پریشرائیز کیا اس کے خلاف دعویٰ دائر کریں.رٹ میں میں شہادتیں نہیں لے سکتا.ہر چیز کو ہم نے مزاق بنا کر رکھ دیا یے آپ نے پورے ملک کے لیے قانون سازی کرنی ہوتی ہے،اس پر کیا سب کو شاباش ملنی چاہیے،آپ قبول کریں کہ آپ نے غلط کیا ہے.

  • سپریم کورٹ، انتخابات کیس،بینچ پھر ٹوٹ گیا، جسٹس جمال مندوخیل الگ ہو گئے

    سپریم کورٹ، انتخابات کیس،بینچ پھر ٹوٹ گیا، جسٹس جمال مندوخیل الگ ہو گئے

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے دوبارہ بینچ تشکیل دے دیا ہے.

    کیس پر سماعت جمعہ کے بعد دو بجے ہو گی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ دوپہر دو بجے دوبارہ سماعت کا آغاز کر ے گا، بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں

    قبل ازیں پنجاب اور کے پی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق پی ٹی آئی درخواست پر پانچویں سماعت آج ہونی تھی، چار رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا مگر آج پھر بینچ ٹوٹ گیا، جسٹس جمال خان مندوخیل بھی بینچ سے الگ ہو گئے ،الیکشن التوا کیس ، سپریم کورٹ کا 4 رکنی بینچ ٹوٹ گیا . جسٹس جمال خان مندوخیل نے کیس سننے سے معذرت کر لی ،سپریم کورٹ نے کل کی سماعت کا فیصلہ جاری کردیا جس میں جسٹس جمال نے اختلافی نوٹ لکھا اور کہا کہ چیف جسٹس نے مجھ سے مشاورت نہیں کی تھی چیف جسٹس نے عدالت میں آرڈر نہیں لکھوایا تھا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چار رکنی بینچ سماعت کیلئے کمرہ عدالت میں آیا تو جسٹس جمال مندو خیل نے کیس سننے سے معذرت کی اور کہا کہ مجھے گزشتہ روز کے حکم نامے کا انتظار تھا عدالتی حکم نامہ مجھے کل موصول ہوا، میں نے الگ سے اختلافی نوٹ بھی لکھا ہے جسٹس مندو خیل نے اٹارنی جنرل کو اختلافی نوٹ پڑھنے کیلئے کہا جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ میں بینچ کا ممبر تھا تحلیل کرتے ہوئے مشاورت نہیں کی گئی میں کل بھی کچھ کہنا چاہ رہا تھا فیصلہ لکھواتے وقت مجھے مشورے کے قابل ہی نہیں سمجھا گیا میں سمجھتا ہوں کہ بینچ میں مس فٹ ہوں

    قبل ازیں پنجاب اور کے پی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے لئے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے چار رکنی بنچ تشکیل دیا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال ،جسٹس اعجاز الاحسن ،جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے سپریم کورٹ نے باقاعدہ کیس کی کاز لسٹ جاری کردی تھی پنجاب اور کے پی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق پی ٹی آئی درخواست پر پانچویں سماعت آج ہونی ہے تا ہم آج پھر بینچ ٹوٹ گیا،

    مقدمے میں پی ٹی آئی وکیل علی ظفر اور الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کے دلائل مکمل ہو چکے ہیں۔اٹارنی جنرل ، نگران حکومتوں اور گورنرز کے وکلاء دلائل دیں گے۔اٹارنی جنرل، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی نے فل کورٹ کی استدعا کر رکھی ہے۔

    پنجاب اور کے پی عام انتخابات کا معاملہ ،وزیراعظم شہبازشریف نے تیسرے روز بھی اٹارنی جنرل منصور عثمان کو طلب کرلیا.وزیراعظم کی جانب سے اٹارنی جنرل کو مسلسل تین روز سے مشاورت کیلئے طلب کیا جا رہا ہے.اٹارنی جنرل سپریم کورٹ سے وزیراعظم ہاؤس کیلئے روانہ ہوگئے اٹارنی جنرل وزیراعظم سے زیر سماعت مقدمے پر ہدایات لیں گے.چیف جسٹس نے گزشتہ روز اٹارنی جنرل کو وزیر اعظم سے معاملہ پر ہدایات لینے کا کہا تھا

    واضح رہے کہ ایک رو قبل سپریم کورٹ میں کے پی کے اور پنجاب میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی الیکشن کی تاریخ کے تعین کے حوالے سے لیے جانے والے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والا 5 رکنی لارجر بینچ ٹوٹ گیا ہے،بینچ میں شامل شامل جج جسٹس امین الدین نے کیس سننے سے معذرت کرلی ہے-

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار