Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت

    عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت

    اسلام آباد: سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات جاری ہونے کے بعد اس حوالے سے تحریک انصاف کی جانب سے کئے گئے دعوے غلط ثابت ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کے خلاف تقریباً 100 مقدمات کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہےتاہم وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے (پنجاب) اور اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم کے خلاف ملک بھر میں مجموعی طور پر درج مقدمات کی تعداد 37 ہے۔

    عدالت نے ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں

    ایف آئی اے اور پولیس کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف 28 مقدمات اسلام آباد، 6 پنجاب اور ایک مقدمہ بلوچستان میں درج ہے جب کہ فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت 2 مقدمات ایف آئی اے میں درج ہیں۔

    علاوہ ازیں پی ٹی آئی کی دیگر لیڈرشپ اور کارکنان کے خلاف درج کئے گئے مقدمات کی بھی تفصیلات جاری کردی گئی ہیں، جن کے مطابق تحریک انصاف کی دیگرلیڈرشپ اورکارکنان کےخلاف 127 مقدمات درج ہیں جسمیں اسلام آباد میں پی ٹی آئی لیڈرشپ اور کارکنان کے خلاف 43 مقدمات درج ہیں جبکہ پنجاب میں 84 مقدمات درج ہیں۔

    عمران خان نے 7 مقدمات میں عبوری ضمانت کیلئےاسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرا …

  • امیر جماعت اسلامی عدالت عظمیٰ کو خط لکھ دیا

    امیر جماعت اسلامی عدالت عظمیٰ کو خط لکھ دیا

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھے جانے والے خط میں درخواست کی ہے بلدیاتی انتخابات سے قبل ہی پیپلز پارٹی نے کہا کہ کراچی کا آئندہ میئر جیالا ہوگا، ناقص انتخابی فہرستیں اوربدنیتی کی بنیاد پر حلقہ بندیاں کی گئیں۔

    سراج الحق نے تحریر کردہ خط میں الزام عائد کیا ہے کہ سیاسی وابستگی کی بنیاد پر انتخابی عملے کی تعیناتی کی گئی، بلدیاتی انتخابات میں زیادہ تر انتخابی عملہ حکومتی جماعت کا حامی تھا، کئی یوسیز کے آراو ز نے ہارے ہوئے پیپلز پارٹی امیدواروں کی جیت کا اعلان کیا، دھاندلی کیسز انہی آراوز کو بھیجے گئے جن پر دھاندلی کے الزامات تھے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انتخابی تیاریاں،پی ٹی آئی کا پارٹی الیکشن سیل قائم کرنے کا اعلان
    بی بی سی نے 82 سال مسلسل نشریات کے بعد فارسی ریڈیو بند کردیا
    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت
    کوئٹہ کی مقامی عدالت نے حسان نیازی کو پنجاب پولیس کےحوالےکردیا
    بریانی اے ٹی ایم مشین، جہاں گرما گرم بریانی آرڈر کرسکتے ہیں
    اقتدارکیلئےعمران خان پاکستانیوں کوغلامی کی زنجیریں پہنانا چاہتا ہے،خواجہ سعد رفیق
    مینار پاکستان جلسہ: عمران خان کی تقریر کے دوران کئی رہنما اورکارکن پنڈال چھوڑ کر چلے گئے
    امیر جماعت اسلامی پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کراچی کی 6 یونین کمیٹیوں میں بدترین دھاندلی ہوئی، ان کمیٹیوں میں فارم 11 کے نتائج کے برعکس آر او نے نتیجے جاری کیے، 66 ایسے پولنگ اسٹیشنز کی نشاندہی کی تھی جہاں رزلٹ تبدیل کیے گئے، الیکشن کمیشن نے خود سے منتخب کردہ محض 17 پولنگ اسٹیشنز پر ری کاؤنٹنگ کا حکم دیا۔ چیف جسٹس کے نام تحریر کردہ خط میں سراج الحق نے لکھا ہے کہ سپریم کورٹ اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس معاملے کا فوری نوٹس لے، سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کی جانب سے آئین و قانون کی خلاف ورزی پر فیصلہ دے۔

  • عمران خان کو لاؤنچ ہی عدم استحکام کیلئے کیا گیا ہے. مریم نواز شریف

    عمران خان کو لاؤنچ ہی عدم استحکام کیلئے کیا گیا ہے. مریم نواز شریف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان کو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کیلئے لانچ کیا گیا اور ملک میں انارکی پھیلانے کیلئے پنجاب اسمبلی توڑی گئی تھی۔ جبکہ انہوں نے لائرز ونگ سے خطاب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کون ہے جو عمران خان کو تحفظ فراہم کر رہا ہے؟ اور ہم الیکشن سے فرار نہیں چاہتے بلکہ ہم لڑیں گے اور جیتیں گے بھی لہذا الیکشن کیلئے تیار ہیں لیکن لیول پلیئنگ فیلڈ چاہتے ہیں۔

    مسلم لیگ نواز کی مرکزی نائب صدر مریم نواز شریف نے وکلا سے مدد مانگتے ہوئے کہا مجھے اور پاکستان کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے، اگر کوئی سہولت کاری کرتا ہے تو آپ فوری طور پراس کو جواب دیں۔ انہوں نے استفسار کیا آئین توڑنا پاکستان میں چھوٹا جرم ہے؟ آئین توڑنے والے کو آپ نے گھر جانے دیا ؟ آئین توڑنے والے پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیے، قاصم سوری کی رولنگ غیرآئینی تھی۔ انہوں نے کہا ملک کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار صرف عمران خان ہے، جنرل ریٹائرڈ باجوہ نے بتایا کہ بیگمات کے کہنے پر یہ فیصلے ہوتے ہیں، اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اس نے اپنا فارن فنڈنگ کیس نہیں کھلنے دیا، آئین توڑنے والے کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر ہونی چاہیے، اسمبلی کو جس شخص نے بچوں کا کھیل سمجھا اس کے فیصلوں پر ملک کیسے چلے گا ؟ کیا اسمبلیاں توڑنا بچوں کو کھیل ہے جب چاہے توڑ دیں ؟ عدلیہ کی عزت اس کے فیصلے ہوتے ہیں۔

    مریم نواز نے کہا 25 ممبران تحریک انصاف کی جھولی میں ڈالنے کیلئے آپ نے آئین کو ری رائٹ کیا، کہا جا رہا ہے الیکشن میں تاخیر آئین کی خلاف ورزی ہے، آپ کے منہ سے ایسی بات اچھی نہیں لگتی، کیا یہ لوگ محسن نقوی کی نگرانی میں ہونے والے انتخابات قبول کریں گے؟ اگر ن لیگ پنجاب میں کامیاب ہوجاتی ہے تو پھر یہ لوگ کیا کریں گے؟ انہوں نے استفسار کیا کبھی کسی نے سنا کہ آدھے ملک میں نگران حکومت ہو اور آدھے میں نہ ہو؟ ن لیگ کے قائد میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا پی ٹی آئی کی سیاست سہولت کاروں کے ارد گرد گھومتی ہے، اس شخص نے قانون کو پاؤں کے نیچے روندا، پاکستان میں کسی کو ایسی سہولتیں نہیں دی گئیں جو اس کو ملیں، ابھی نواز شریف کے مقابلے میں تو اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا، یہ شخص جتھے لیکر لاہو ہائیکورٹ اور جوڈیشل کمپلیکس گیا، قانون اور آئین کا اتنا بڑا مذاق میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا، عمران خان کو 12،12 مقدموں میں ضمانت ملتی ہے۔

    چیف آرگنائزر نے لائرز ونگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا جانتے تھے کہ کیس جھوٹے ہیں لیکن پھر بھی شریف شہری کی طرح عدالت گئے، یہ پہلا شخص ہے جس نے توشہ خانہ سے تحفہ چوری کیا ہے، پاکستان کی تاریخ میں کسی حکمران نے تحفہ چوری نہیں کیا، دبئی میں تحفہ بیچا گیا، منی لانڈرنگ کے ذریعے پیسے پاکستان لائے گئے، نواز شریف جھوٹے مقدمات میں بھی عدالت میں پیش ہوتے رہے، ہم نے کورٹ کے آگے سرنڈر کیا، جھوٹی سزائیں بھگتیں۔

    انہوں نے کہا لیکن جب پولیس زمان پارک عدالت کے حکم پر عملدرآمد کرنے جاتی ہے تو اس پر پیٹرول بم پھینکے گئے، پولیس والوں پر تشدد کیا گیا، زمان پارک سے ریاست پر حملہ ہوا، باقیوں سے سوتیلا سلوک یہاں لاڈلے والا سلوک کیوں ہو رہا ہے؟ مریم نواز نے لائرز ونگ سے خطاب میں کہا میں سمجھتی ہوں الیکشن کے علاوہ کوئی حل نہیں، ہر پانچ سال بعد الیکشن ہونے چاہئیں، میری والدہ کی سیٹ پر الیکشن کے دوران آپ نے بہت مدد کی، سب کچھ یاد ہے، شکرگزار ہوں دل کی گہرائیوں سے، نوا ز شریف کے ساتھ ناانصافیاں کی گئیں، نواز شریف کے بیانیے کو آگے بڑھانے میں آپ کا کردار بہت نمایاں ہے، رانا ثنا اللہ کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں، آپ نے نعرہ دیا کہ یہ جو کالا کوٹ ہے، میاں تیرا ووٹ ہے۔

    انہوں نے اعتراف کیا لیڈر شپ کے لیول پر آپ کو وہ رسائی نہیں دی گئی جو آپ کا حق تھا، آپ ملک کے آئین اور قانون کو جانتے ہیں، آپ بہترکردار ادا کر سکتے ہیں، آپ میرے اور ملک کے مدد گار ہوسکتے ہیں، آپ کے ساتھ نہ چلنا اپنا نقصان ہے، الیکشن میں تاخیر کے باعث آپ سے ملنے کا موقع ملا ہے، ہمیں ملکی حالات اور حقائق کو زیر بحث لایا جانا چاہیے، میں کہتی رہی ہوں کہ ترازو کے پلڑے برابر ہونے چاہئیں۔ مریم نواز نے کہا ہم لوگ الیکشن سے نہیں ڈرتے، ہم الیکٹ ہو کر آتے ہیں، سلیکٹ ہو کے نہیں آتے، پی ٹی آئی کی ساری سیاست تقرریوں کے ارد گرد گھومتی ہے، جنرل ریٹائرڈ باجوہ نے بتایا کہ لانے والے وہ ہیں لیکن یہ خطرناک آدمی ہے، اب ان کی جو باقیات ہیں یہ ان پر تکیہ کرکے بیٹھے ہیں۔

  • پنجاب الیکشن ملتوی، تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی

    پنجاب الیکشن ملتوی، تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی

    پنجاب کے الیکشن ملتوی ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے

    تحریک انصاف نے پنجاب کے الیکشن ملتوی ہونے کے خلاف آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی ہے، پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں دی جانیوالی درخواست میں عدالت سے استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کے 22 مارچ کے فیصلے کوغیر آئینی قرار دے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف، چیف الیکشن کمشنر اور محسن نقوی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔ درخواست میں نگران وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف سیکریٹری پنجاب کو بھی فریق بنایا گیا ہے،

    سپریم کورٹ میں دائر درخؤاست میں تحریک انصاف نے مزید موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم، چیف الیکشن کمشنر اورنگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہوئے اورذاتی مقاصد کیلئے فنڈ جاری کر رہے ہیں

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ نگران دور حکومت میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی فنڈ جاری کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم اور وفاقی وزرا کے الیکشن نہ ہونے کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ وزیراعظم اور دیگر فریقین عدالتی الیکشن سے متعلق حکم کی تعمیل نہ کر کے عدالت کی توہین کر رہے ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا میں انتخابات کرانے کے لیے تاریخ دینے کی ہدایت کی جائے

    پنجاب میں انتخابات ملتوی کرنا قابل قبول نہیں ہے. سراج الحق

    پنجاب کے انتخابات اکتوبر تک ملتوی کر کے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔

    ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد اور اپنے آپ کو قومی مقصد سے آراستہ کرنا ہو گا،وزیراعظم شہباز شریف

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کے 30 اپریل کو ہونے والے انتخابات ملتوی کردیئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے نوٹی فکیشن کے مطابق پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے 8 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے امن و امان کی صورتحال سازگار نہیں ہےکمیشن کی تمام تر کوششوں کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز پنجاب میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے کمیشن کی مدد نہیں کر سکے۔

  • عمران خان انسداد دہشت گردی عدالت پہنچ گئے،تین مقدموں میں ضمانت منظور

    عمران خان انسداد دہشت گردی عدالت پہنچ گئے،تین مقدموں میں ضمانت منظور

    سابق وزیراعظم عمران خان انسداد دہشت گردی عدالت پہنچ گئے

    عمران خان سخت سیکورٹی میں عدالت پہنچے،عمران خان اپنی بلٹ پروف گاڑی میں احاطہ عدالت میں داخل ہوٸے عمران خان کی تینوں مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کر لی گئی، انسداد دہشتگردی عدالت نے گرفتاری سے روک دیا،عدالت نے چار اپریل تک عمران‌ خان کی ضمانت منظور کر لی،

    عمران خان کے خلاف تھانہ ریس کورس میں تین مقدمات درج ہیں جن میں پی ٹی آئی کارکن ظل شاہ کی موت، جلاؤ گھیراؤ اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمات ہیں جس میں انسداد دہشتگردی اور اعانت جرم کی دفعات ہیں،

    عدالت پیشی کے موقع پر مختصر بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ آج اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے مینار پاکستان پر تاریخی جلسہ ہوگا، یہ ڈراتے رہیں ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں،خوف کی زنجیریں توڑ دی ہیں ہمارے 1600 ورکرز کو پکڑ لیا گیا ہے مگر آج کا جلسہ ہر صورت کامیاب ہوگا،لوگ آٹے کی لائنوں میں مر رہے ہیں، ہم بتائیں گے قوم کو دلدل سے کیسے نکالنا ہے،

    https://twitter.com/TheImranRaj/status/1639541629001293824

    قبل ازیں عمران خان نے لاہور میں درج تین مقدمات میں ضمانت کے لیے انسداد دہشتگری عدالت سے رجوع کر لیا ،عمران خان کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر نے عبوری ضمانتیں دائر کر دیں ،عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ شامل تفتیش ہونا چاہتا ہوں ،پولیس کی جانب سے گرفتاری کا خدشہ ہے ۔ عدالت تینوں مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کر کے پولیس کو گرفتاری سے روکے عمران خان کے خلاف تھانہ ریس کورس میں دہشتگردی دفعات کے تحت تین مقدمات درج ہیں

    عمران خان کی انسداد دہشت گردی عدالت میں سیکیورٹی کے لیے درخواست داٸر کر دی گئی، وکیل عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان آج انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوں گےعمران خان کو شدید سیکیورٹی خدشات لاحق ہیں ،پہلے بھی عمران خان پر حملہ ہو چکا ہے عمران خان کو گاڑی سمیت عدالت میں اندر آنے دیا جائے،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی عمران خٌان لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے تھے، عمران خان کی درخواست ضمانت لاہور ہائیکورٹ نے منظور کر لی تھی، پانچ مقدمات میں حفاظتی ضمانتوں میں 27 مارچ تک توسیع کر دی گئی تھی، لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کا بھی حکم دیا تھا،

    بیان حلفی دیں کہ آپ نے دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں ضمانت دائر کی تھی, عمران خان کو بیان حلفی جمع کروانے کی ہدایت
    20 رمضان سے قبل پنشن اور تنخواہ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، قائمہ کمیٹی
    سوال یہ ہے کہ اکتوبر میں کیسے ہوں گے الیکشن؟ عمران خان
    راہول گاندھی کو بھارتی پارلیمنٹ نے نااہل قرار دے دیا

  • کوئی انٹرویو نہیں دیا، جنرل (ر) باجوہ کی مبشر لقمان سے بات چیت میں تردید

    کوئی انٹرویو نہیں دیا، جنرل (ر) باجوہ کی مبشر لقمان سے بات چیت میں تردید

    سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے انٹرویو کی باز گشت چل رہی ہے ۔ انٹرویو کا دوسرا حصہ شائع ہونے کے بعد جنرل ر قمر جاوید باجوہ نے اس انٹرویو کی تردید کی ہے۔ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے اس حوالہ سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل ر قمر جاوید باجوہ سے میری بات ہوئی انہوں نے حالیہ انٹرویوز کی تردید کی اور کہا کہ میں نے کوئی انٹرویو نہیں دیا ۔جو انٹرویوز میرے نام سے چل رہے ہین انکے خلاف قانونی چارہ جوئی کروں گا۔ مبشر لقمان کہتے ہیں کہ جنرل ر باجوہ کی بات درست ہے انہوں نے کسی کو کوئی انٹرویو نہیں دیا ۔مبشرلقمان کہتے ہیں کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مجھے بتایا کہ 29 نومبر 2024 تک انہیں کسی قسم کا انٹرویو یا بیان دینے کی اجازت نہیں ہے

    قبل ازیں معروف اینکر پرسن کامران شاہد نے اپنے ٹوئیٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ "سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مجھے بتایا کہ "میں نے کسی کو کوئی انٹرویو نہیں دیا ہے کیونکہ مجھے 29 نومبر 2024 تک قانون کے مطابق کسی قسم کا بیان یا انٹرویو دینے کی اجازت نہیں ہے.


    کامران شاہد نے مزید کہا کہ ابھی میری سابق آرمی چیف سے بات ہوئی ہے جس میں انہوں نے کسی قسم کے انٹرویو کی تردید کی ہے جبکہ جنرل باجوہ نے یہ بھی کہا کہ ان سے منسوب انٹرویو کا دعویٰ کیا جارہا ہے لہذا وہ اب اس پر قانونی کاوائی کریں گے.

    خیال رہے کہ اس سے قبل شاہد میتلا نامی صحافی کا نیا دور نامی ویب سائٹ پر جنرل باجوہ سے منسوب ایک انٹرویو شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ باجوہ سے ملاقات انٹرویو میں بدل گئی تاہم یہ انٹرویو اب تبدیل ہوکر کالم کی شکل اختیار کرگیا ہے.
    مزہد یہ بھی پڑھیں؛
    بیان حلفی دیں کہ آپ نے دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں ضمانت دائر کی تھی, عمران خان کو بیان حلفی جمع کروانے کی ہدایت
    20 رمضان سے قبل پنشن اور تنخواہ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، قائمہ کمیٹی
    سوال یہ ہے کہ اکتوبر میں کیسے ہوں گے الیکشن؟ عمران خان
    راہول گاندھی کو بھارتی پارلیمنٹ نے نااہل قرار دے دیا
    صدرکے ساتھ کوئی بامعنی مشاورت نہیں کی گئی، صدر کا وزیر اعظم کو خط میں شکوہ
    عمران خان کا افغان بچیوں کی تعلیم پر پابندی بارے طالبان کی مذمت کرنے سے انکار
    قومی اسمبلی؛ قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ایل سیز کھولنے کی سفارش کر دی

    علاوہ ازیں اس مبینہ انٹرویو کا دوسرا حصہ پاکستان 24 نیوز نامی ویب پر شائع ہوا ہے جبکہ اس دوسرے حصہ میں شاہد میتلا نے دعویٰ کیا ہے کہ جنرل باجوہ نے انہیں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ "عمران خان نے مجھے کہا آپ کیا کریں گے؟ تو میں نے ان کو کہا کیا آپ پلے بوائے نہیں رہے؟ آپ کی ویڈیوز بھی موجود ہیں، اگر زبان بند نہ کی تو گلہ نہ کیجئے گا ۔ اس طرح یہ ملاقات بھی تلخی پر ختم ہوگئی۔”

  • صدر علوی اپنی اوقات اور آئینی دائرے میں رہیں. راناثناء اللہ

    صدر علوی اپنی اوقات اور آئینی دائرے میں رہیں. راناثناء اللہ

    صدرمملکت عارف علوی کی جانب سے الیکشن کے التوااوربنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق وزیراعظم شہباز شریف کو لکھے گئے خط پرن لیگ اور پیپلزپارٹی نے شدیدردعمل کا اظہار کیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے صدرعلوی اپنی اوقات اور آئینی دائرے میں رہیں ، اورعمران خان سے دہشت گردی کرنے کا جواب لیں ۔

    رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آئین اور قانون شکن آئینی عہدے پر مسلط ہے،کلمے پڑھتے ہوئے سیاسی مخالفین پر پندرہ کلو ہیروئن ڈال دی تھی۔ اُس وقت انسانی حقوق کہاں تھے۔ کیا اپوزیشن لیڈر کو سزائے موت کی چکی میں انسانی حقوق کے مطابق ڈالا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کی ہڈیاں پسلیاں توڑیں، اس وقت انسانی حقوق کہاں تھے، کیا پولیس کے سر کھولنے، پٹرول بم ،گولیاں، غلیلیں انسانی حقوق کے مطابق چلائی گئیں ؟ رانا ثناء اللہ نے صدر عارف علوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو خط لکھیں کہ ایک سو نوے ملین پاؤنڈ پاکستان کو واپس کریں ، صدر عمران خان کو خط لکھیں توشہ خانہ اور فارن فنڈنگ کا عدالت میں جواب دیں۔

    پیپلزپارٹی کے سینیٹر یوسف رضا گیلانی کی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہاقومی اور صوبائی اسمبلی کے الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہئیں ، ایک دن الیکشن نہ ہوئے تو وفاق کو نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا جب بھی الیکشن ہوں گے بھاگیں گے نہیں ، میدان میں ہونگے ،الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، ملک میں عدالتیں موجود ہیں، عدالت کو فیصلہ کرنے دیں۔ صدرمملکت کے خط پر پیپلز پارٹی کی رہنما اوروفاقی وزیرشازیہ عطا مری نے ردعمل میں کہاڈاکٹرعارف علوی نےصدر مملکت کےمنصب کا کبھی لحاظ نہیں رکھا،پی ٹی آئی حکومت کی ہر زیادتی پربطورصدرڈاکٹرعلوی خاموش رہے۔

    انہوں نے کہانیب90روز تک شہریوں کو قیدی بنا کررکھتا رہا،ڈاکٹرعلوی نے جھوٹے الزامات کی بنیاد پر سیاسی مخالفین کو جیل بھیجنے کبھی نوٹس نہیں لیا تھا،نیب کی حراست میں شہریوں کی ہلاکتوں پرجناب صدرمملکت چپ رہے۔ وفاقی وزیر نے کہابنی گالا محل ریگیولرزئیز اورغریبوں کے کچے مکانات مسمار ہوتے رہے، اورہزاروں سرکاری ملازمین کی برطرفی اوراسٹیل ملز کو تالا لگنےپر بھی ڈاکٹر علوی خاموش رہے،اپنے لیڈر عمران نیازی کو خوش کرنے کیلئے عارف علوی نے آئین سے انحراف کیا۔
    مزہد یہ بھی پڑھیں؛
    بیان حلفی دیں کہ آپ نے دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں ضمانت دائر کی تھی, عمران خان کو بیان حلفی جمع کروانے کی ہدایت
    20 رمضان سے قبل پنشن اور تنخواہ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، قائمہ کمیٹی
    سوال یہ ہے کہ اکتوبر میں کیسے ہوں گے الیکشن؟ عمران خان
    راہول گاندھی کو بھارتی پارلیمنٹ نے نااہل قرار دے دیا
    صدرکے ساتھ کوئی بامعنی مشاورت نہیں کی گئی، صدر کا وزیر اعظم کو خط میں شکوہ
    عمران خان کا افغان بچیوں کی تعلیم پر پابندی بارے طالبان کی مذمت کرنے سے انکار
    قومی اسمبلی؛ قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ایل سیز کھولنے کی سفارش کر دی

    انہوں نے کہاڈاکٹرعلوی نےعدم اعتماد کی تحریک کی موجودگی کےباوجودقومی اسمبلی توڑنےکی کوشش کی، اورعمران نیازی کی خواہش پرسپریم کورٹ کےجج کےخلاف انتقامی کارروائی کی۔ جبکہ شازیہ مری کا کہناتھاممنوعہ فارن فنڈنگ اسکینڈل میں بھی ڈاکٹر علوی کا نام ہے،عارف علوی آٹا،چینی، ایل این جی، اور زرعی کھاد کا مصنوعی بحران کا نوٹس لیتے۔

  • عمران خان کی حفاظتی ضمانتوں میں توسیع دے دی گئی

    عمران خان کی حفاظتی ضمانتوں میں توسیع دے دی گئی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی پانچ مقدمات میں حفاظتی ضمانتوں میں 27 مارچ تک توسیع کر دی گئی ہے جبکہ لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس انوار حسین پر مشتمل دو رکنی بینچ نے عمران خان کی حفاظتی ضمانتوں کی درخواستوں کی رجسٹرار آفس کے اعتراض کے ساتھ سماعت کی۔

    لاہور ہائیکورٹ نے اسلام آباد کے5 مقدمات میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی گئی جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے اسلام آباد میں درج پانچ مقدمات میں عمران خان کی حفاظتی ضمانت میں 27 مارچ تک توسیع کر دی ہے۔

    لاہورہائیکورٹ نے عمران خان کی جانب سے وکیل کے ذریعے بیان حلفی جمع ہونے کے بعد ضمانت میں توسیع دی ہے۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ اگر اسلام آباد میں ضمانتیں نہ ہوئیں تو آپ کو غلط بیانِ حلفی کے نتائج کا سامنا بھی کرنا ہوگا، غلط بیان حلفی پر توہین عدالت بھی ہو سکتی ہے۔ خیال رہے کہ عمران خان نے اسلام آباد کے 5 مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواستیں دائر کی ہیں، عمران خان کے خلاف تھانہ کھنہ اور رمنا کے دو، دو اور بارہ کہو کا ایک مقدمہ ہے۔

    درخواستوں کی سماعت کے لیے 2 رکنی اسپیشل بینچ تشکیل دیا گیا تھا، بینچ جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس انوار حسین پر مشتمل تھا۔ سماعت شروع ہوئی تو وکیل عمران خان نےکہا کہ آفس نے دوبارہ حفاظتی ضمانت دائر کرنےکا اعتراض کیا تھا، عدالت نے آج تک کی حفاظتی ضمانت منظور کی تھی، اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف سیاسی مقدمات بنائےگئے ہیں، دوبارہ حفاظتی ضمانت میں بہت کم مارجن ہوتا ہے، حفاظتی ضمانت اس لیے مانگ رہے ہیں تاکہ اسلام آباد جا سکیں۔

    جسٹس طارق سلیم نےکہا کہ ہمیں قانون دکھائیں کہ دوبارہ حفاظتی ضمانت دی جاسکتی ہو، ابھی تک ماضی میں ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہے، نہ ہی روایت ہےکہ حفاظتی ضمانت دوبارہ دی گئی ہو۔ وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں خود سمجھ نہیں آرہی کہ کیسے ضمانتیں لیں۔ جسٹس طارق سلیم نے کہا کہ بہتر ہے کہ یہ درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کریں۔
    مزہد یہ بھی پڑھیں؛
    بیان حلفی دیں کہ آپ نے دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں ضمانت دائر کی تھی, عمران خان کو بیان حلفی جمع کروانے کی ہدایت
    20 رمضان سے قبل پنشن اور تنخواہ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، قائمہ کمیٹی
    سوال یہ ہے کہ اکتوبر میں کیسے ہوں گے الیکشن؟ عمران خان
    راہول گاندھی کو بھارتی پارلیمنٹ نے نااہل قرار دے دیا
    اس دوران عمران خان خود روسٹرم پر آگئے، ان کا کہنا تھا کہ میں جب اسلام آباد گیا تو تمام راستے بند تھے، آج بھی ہم خفیہ آئے ہیں، اسلام آباد جاتے ہوئے آنسو گیس چلی، لوگوں پر لاٹھی چارج ہوا، ہمیں اسلام آباد سے واپس ہونا پڑا، ایسا تو پہلے کبھی نہیں ہوا، میں تو وہاں سے جان بچا کر نکلا تھا۔

    وکیل عمران خان نےکہا کہ ہم آج صرف ایک ورکنگ ڈے مانگ رہے ہیں تاکہ اسلام آباد جاسکیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ہم درخواست پر آفس کے اعتراض کو جوڈیشل سائیڈ پر دیکھیں گے، عدالت نے عمران خان کی درخواستوں کو نمبر لگانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت میں وقفہ کردیا۔ وقفے کے بعد وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ عام طرح کی ضمانت نہیں ہے، ہم نے حفاظتی ضمانت میں توسیع مانگی ہے، ہماری مضبوط بنیاد ہے۔

    بعد ازاں فریقین کے دلائل سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے اسلام آباد کے 5 مقدمات میں عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے 27 مارچ تک توسیع کر دی۔

  • پی ٹی آئی ساکھ بہتر بنانے کے لابنگ فرمز سے معاہدے کر رہی ہے،وزیر دفاع

    پی ٹی آئی ساکھ بہتر بنانے کے لابنگ فرمز سے معاہدے کر رہی ہے،وزیر دفاع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد آئینی طریقے سے لائی گئی،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان نے غیر آئینی طور پر قومی اسمبلی توڑی، عمران خان نے حکومت کے خاتمے کے بعد ہر مقام پر غیر آئینی اقدام اٹھایا، تحریک انصاف کا منفی رویہ سب کے سامنے ہے،عمران خان بضد ہیں کہ عدالتوں کے سامنے پیش نہیں ہوں گے،عمران خان جتھوں کو لے کر عدالت پہنچتے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا غیر قانونی اقدام کسی سیاست دان نے نہیں اٹھایا،عمران خان کے دور حکومت میں مجھے گرفتار کیا گیا 3 سال تک میرے اہلخانہ عدالتوں کا سامنا کرتے رہے،عمران خان نے صدر مملکت کے ذریعے سابق آرمی چیف کو توسیع کی آفر کی ،عمران خان نے پہلے قمر جاوید باجوہ کو توسیع دی، اب الزامات لگا رہے ہیں،

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے مفاد کیلئے ہم بات کرنے کیلئے تیار ہیں عمران خان روزانہ ایک نیا آئینی بحران پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،عمران خان کے دور میں ن لیگ کو نشانہ بنایا گیا گرفتاریاں کی گئیں نواز شریف نے لندن سے آکر بیٹی کیساتھ گرفتاری دی ،عمران خان کے پیروکار ان کو کلٹ کی طرح مانتے ہیں ایک سال سے سائفر اور جنرل باجوہ کی توسیع جیسے عمران خان متعدد جھوٹ بول چکے ہیں آج عمران خان کچھ کہتے ہیں اور کل وہ اس کے برعکس یوٹرن لے لیتے ہیں

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ زلمے خلیل زاد افغانستان کشمیر اور فلسطین میں ہونے والی ظلم اور بر بریت پر کیوں نہیں بولتے پاکستان 40 سال سے 50 لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھا رہا ہے ۔وزرات خزانہ کے مطابق الیکشن کرانے کے لیے فنڈز کی کمی کا سامنا ہے ،سات آٹھ مہینوں سے پی ٹی آئی امریکہ پر سازش کا الزام لگاتی آرہی ہے پی ٹی آئی اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لابنگ فرمز سے معاہدے کر رہی ہے شیریں مزاری اور انکی جماعت 8ماہ سے امریکا کو مورد الزام ٹھہرا ہی تھی ،

  • خاتون جج دھمکی کیس،عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری وارنٹ گرفتاری میں تبدیل

    خاتون جج دھمکی کیس،عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری وارنٹ گرفتاری میں تبدیل

    اسلام آباد کی عدالت میں خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس میں عمران خان کے وارنٹ معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی ،

    خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس میں عدالت نے عمران خان کے نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری میں تبدیل کردیا، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،

    عمران خان کے وکیل گوہر علی اور پراسیکیوٹر رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے، وکیل گوہر علی نے استدعا کی کہ 30 مار چ کو عمران خان آ رہے ہیں، عدالت بھی 30 مارچ کو سماعت کر لے ،عمران خان توشہ خانہ کیس می 30 مارچ کو کچہری آ رہے ہیں، میں سول کورٹ میں وارنٹ کی تاریخ 29 سے 30 مارچ کرنے کی درخواست کرتا ہوں۔ عدالت کے فاضل جج فیضان حیدر گیلانی نے وکیل گوہر علی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عجیب بات کر رہے ہیں،آپ 30 مارچ کی استدعا کر رہے ہیں جبکہ وارنٹ گرفتاری کا حکم 29 مارچ کا ہے، پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ یہ تو مطلب ہوا کہ عدالت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی جرات بھی نہ کرے ، ارنٹ معطلی کی درخواست پر میرٹ پر دلائل دینے چاہئے،ملزم عدالت کا بلیو آئیڈ بوائے ہوتا ہے لیکن اتنا بھی پسندیدہ بچہ نہیں ہوتا

    عمران خان کے وکیل گوہر علی نے مران خان کے وارنٹ معطلی میں 30 مارچ تک توسیع کرنے کی استدعا کر دی ، جس پر جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 29 مارچ کو عدالت کوئی بھی فیصلہ جاری کر سکتی ہے وکیل گوہر نے کہا کہ توشہ خانہ کیس والے وارنٹ 30 مارچ تک معطل ہیں، جج نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس میں کبھی پیش ہوئے ہیں؟ پراسیکیورٹر نے جواب دیا کہ عمران خان اس کیس میں کبھی پیش نہیں ہوئے ابھی کیس کے نقول بھی دینے ہیں، وکیل گوہر کا خاتون جج کیس میں وکالت نامہ ہی نہیں ۔عدالت نے عمران خان کی لیگل ٹیم کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جو اب سنا دیا گیا ہے،

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے