Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عمران خان نا اہلی کیس قابل سماعت ہے یا نہیں ، فیصلہ محفوظ

    عمران خان نا اہلی کیس قابل سماعت ہے یا نہیں ، فیصلہ محفوظ

    مبینہ بیٹی ٹیریان کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پرعمران خان نااہلی کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی،عمران خان نا اہلی کیس قابل سماعت ہے یا نہیں ، فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

    درخواست گزار کے وکیل حامد علی شاہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے بیان حلفی میں اپنی بیٹی کا نام ظاہر نہیں کیا،عمران خان بطور پارٹی سربراہ بھی نہیں رہ سکتے،عمران خان کی نااہلی کیلئے تمام حقائق درخواست میں درج ہیں، عمران خان نے پٹیشن میں ذکر کئے حقائق کا جواب نہیں دیا جس سے وہ تسلیم شدہ ہیں ،چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ابھی تک کے ریکارڈ کے مطابق عمران خان نے انکار کیا نہ کچھ مانا، ابھی تک عدالت درخواست قابل سماعت ہونے کے حوالے سے سن رہی ہے

    عدالت نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کا اس حوالے سے کیا موقف ہے ؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ماضی میں عدم ثبوت کی بنا پر اس قسم کی درخواستیں خارج ہو چکیں ہیں ،عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل پر اظہار برہمی کیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ درخواست ہم نے صرف قابل سماعت ہونے کی حد تک سنی ہے ، اگر قابل سماعت ہوا تو کیس آگے چلے گا نا ہوا تو کیس ختم ہو جائے ، الیکشن کمیشن کو اس رویے پر بھاری جرمانہ کیوں نہ کیا جائے،الیکشن کمیشن نے کہا کہ صرف بتانا چاہتے تھے عدم ثبوت پر ہم یہ کیس خارج کر چکے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم فیصلہ کریں گے پہلے کیس قابل سماعت ہے یا نہیں،

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے شہری محمد ساجد نے عمران خان کی نااہلی کی درخواست دائر کر رکھی ہے ,درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان نے کاغذاات نامزدگی جمع کراتے وقت غلط معلومات فراہم کیں ،عمران خان نے بچوں کی تفصیل میں ایک بچے کی معلومات چھپائیں، عمران خان نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنی بیٹی کا ذکر نہیں کیا درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کاغذات نامزدگی میں جھوٹ بولنے پر عمران خان کو نااہل قرار دے، عدالت آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کو نااہل قرار دے۔

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کا حکم

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کا حکم

    وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا فیصلہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کا حکم دے دیا، کمزور اور بے بنیاد وجوہات پر کیوریٹیو ریویو ریفرنس دائر ہوا تھا، حکومت نے اس کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے،وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ پہلے ہی اس فیصلے کی منظوری دے چکی ہے

    وزیراعظم نے وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کی ہدایت کر دی ، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ریفرنس کے نام پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں اور بدنام کیا گیا، یہ ریفرنس نہیں تھا، آئین اور قانون کی راہ پر چلنے والے ایک منصف مزاج جج کے خلاف ایک منتقم مزاج شخص عمران نیازی کی انتقامی کارروائی تھی،یہ عدلیہ کی آزادی پر شب خون اور اسے تقسیم کرنے کی مذموم سازش تھی،پاکستان مسلم لیگ(ن) اور اتحادی جماعتوں نے اپوزیشن کے دور میں بھی اس جھوٹے ریفرنس کی مذمت کی تھی، عمران نیازی نے صدر کے آئینی منصب کا اس مجرمانہ فعل کے لئے ناجائز استعمال کیا، صدر عارف علوی عدلیہ پر حملے کے جرم میں آلہ کار اور ایک جھوٹ کے حصہ دار بنے، پاکستان بار کونسل سمیت وکلا تنظیموں نے بھی اس کی مخالفت کی تھی، ان کی رائے کی قدر کرتے ہیں،

    شیخوپورہ سے ہمیں اسلام آباد لا کر چھوڑ دیا گیا، خاتون کی دکھ بھری کہانی

    بڑے اسکولز میں کس طرح کے بگڑے بچے پڑھتے ہیں؟

    فاٹا کے جرگوں میں لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ 15 لاکھ میں ڈیل ڈن

    مردانہ کمزوری کی حقیقت کیا؟ہم ایسے سوالات کیوں نہیں اٹھاتے؟

  • سپریم کورٹ: انتخابات سے متعلق کیس سماعت کیلئے مقرر، نیا بینچ کریگا سماعت

    سپریم کورٹ: انتخابات سے متعلق کیس سماعت کیلئے مقرر، نیا بینچ کریگا سماعت

    پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات کیس سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر کردیا گیا

    سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کل دن کو ساڑھے گیارہ بجے ہو گی، جسٹس امین الدین کی جانب سے معذرت کے بعد اب نیا بینچ کیس کی سماعت کرے گا سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کون سا بنچ سماعت کرے گا، اس کا فیصلہ کل ہو گا،عدالتی عملے نے آج کی سماعت کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا ،کل نیا 4 رکنی بنچ سماعت کریگا۔

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں کے پی کے اور پنجاب میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا – چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی الیکشن کی تاریخ کے تعین کے حوالے سے لیے جانے والے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والا 5 رکنی لارجر بینچ ٹوٹ گیا ہے،بینچ میں شامل شامل جج جسٹس امین الدین نے کیس سننے سے معذرت کرلی ہے-

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا ازخود نوٹس کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا حکم

    گزشتہ روزکے فیصلے کے تناظر میں جسٹس امین الدین نے کیس سننے سے معذرت کی، جسٹس امین الدین کے بات کرنے کے بعد بینچ کورٹ روم سے چلا گیا، انتخابات ملتوی کیس میں اب نیا بینچ بنایا جائے گا۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جسٹس امین کچھ کہنا چاہتے ہیں، جسٹس امین الدین نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کے تناظر میں کیس سننے سے معذرت کرتا ہوں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے رولز بنائے جانے تک آرٹیکل 184 تھری (ازخود نوٹس) کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا حکم دیا سپریم کورٹ میں حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر دینے کے از خود نوٹس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ نے فیصلہ جاری کیا خصوصی بینچ میں جسٹس امین الدین اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں اور فیصلہ دو ایک کے تناسب سے جاری کیا گیا۔

    توشہ خانہ کیس: عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ رولز بنائے جانے تک آرٹیکل 184 تھری کے تمام کیسز کو ملتوی کردیا جائے چیف جسٹس پاکستان کو خصوصی بینچ بنانے کا اختیار نہیں ہے اسپیشل بینچ میں مختلف بینچز سے ایک ایک جج کو شامل کیا گیا، عدالتی وقت ختم ہونے کے وقت کیس سماعت کیلئے مقررکیا گیا-

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے عوام اراکین پارلیمنٹ کے انتخاب کے وقت ان کا احتساب کرتے ہیں، اراکین پارلیمنٹ الیکشن میں عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں، قوانین کے تحت بیوروکریسی حکومت کو جوابدہ ہوتی ہے، عدلیہ اس طرح کسی کو بھی جوابدہ نہیں ہے۔

    ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    فیصلے میں قرار دیا گیا تھا کہ چیف جسٹس کے پاس اختیار نہیں بینچ کی تشکیل کے بعد کسی جج کو بینچ سے الگ کریں، ایک جج سپریم جوڈیشل کونسل کوجوابدہ ہوسکتا ہے لیکن جوڈیشری نہیں چیف جسٹس اپنی دانش کو آئین کی حکمت کی جگہ نہیں دےسکتے، آئین نے چیف جسٹس کو یکطرفہ اورمرضی کااختیارنہیں دیا، سپریم کورٹ کےتمام ججز کو اجتماعی طورپرتعین کاکام چیف جسٹس انجام نہیں دے سکتے۔

  • بغاوت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے خلاف کیس کا فیصلہ

    بغاوت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے خلاف کیس کا فیصلہ

    لاہور ہائیکورٹ نے بغاوت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے خلاف کیس کا فیصلہ سنا دیا

    عدالت نے بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کے قانون کو کالعدم قرار دے دیا ،عدالت نے بغاوت کے قانون سکیشن 124 اے کو کالعدم قرار دیدیا ،جسٹس شاہد کریم نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے دفعہ 124 اے کو آئین سے متصادم قرار دیا ،جسٹس شاہد کریم نے درخواستوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا

    درخواست ابوذر سلمان نیازی سمیت دیگر کی جانب سے داٸر کی گٸیں، دائر درخواست میں کہا گیا کہ بغاوت کا قانون 1860 میں بنایا گیا جو انگریز دور کی نشانی ہے.بغاوت کا قانون غلاموں کے لئے استعمال کیا جاتا تھا. کسی کے کہنے پر بھی مقدمہ درج کرلیا جاتا ہے،آئین پاکستان ہر شہری کو آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے،اب بھی بغاوت کے قانون میں حکمرانوں کے خلاف تقاریر کرنے پر دفعہ 124 اے لگا دی جاتی ہے، بغاوت کے قانون کو اب بھی سکیشن 124 اے کے ذریعے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے.حکومت وقت کے خلاف تقاریر پر غداری کا سیکشن 124 اے لگانا آزادی رائے کے سیکشن دس اے کے خلاف ہے، عدالت پی پی سی 1860 کی دفعہ 124-A کو خلاف آئین قرار دے کر کالعدم قرار دے ،

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

  • لکی مروت: دہشتگردوں کی فائرنگ، ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید،وزیراعظم کا اظہار افسوس

    لکی مروت: دہشتگردوں کی فائرنگ، ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید،وزیراعظم کا اظہار افسوس

    وزیراعظم شہباز شریف نے لکی مروت میں دہشتگردی کے واقعے پر اظہار افسوس کیا ہے اور کہا کہ ڈی ایس پی سمیت 4 پولیس اہلکاروں کی شہادت پر دل دکھی اور رنجیدہ ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے پولیس افسران،جوانوں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں،اللہ تعالی شہداء کو جوار رحمت میں جگہ دے اور زخمیوں کو جلد صحت یابی عطا کرے،

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ خان نے لکی مروت میں دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور دہشت گرد حملے میں ڈی ایس پی اقبال مہمند سمیت چار پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کا پہلے بھی مقابلہ کیا؛ اب بھی پوری قوت اور طاقت سے اسکا قلع قمع کرینگے۔ دعا ہے اللہ تعالی شہید ڈی ایس پی اور پولیس اہلکاروں کے درجات بلند کرے؛ انکے ورثاء کو صبر جمیل عطا کرے۔وزیرِداخلہ نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے بھی دعا کی

    خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے ڈی ایس پی سمیت 4 پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔ پولیس کے مطابق لکی مروت میں تھانہ صدر اورڈی ایس پی کی گاڑی پردہشت گردوں کی جانب سے جدید اور بھاری ہتھیاروں حملہ کیا گیا۔ حملے میں 6 اہلکار زخمی بھی ہوئے جب کہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے دہشتگرد رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    چارسدہ میں پولیس کی بروقت کاروائی، شہر کو تباہی سے بچا لیا

    زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا حملے میں شہید ہونے والے ڈی ایس پی اقبال مہمند سمیت دیگر شہید اہلکاروں وقار، علی مرجان اور کرامت اللہ کی لاشیں اسپتال منتقل کر دی گئیں دہشت گردوں کےحملےکے بعد پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا-

    مریضوں کو بےہوش کرکے لوٹنے والی جعلی نرس گرفتار

    پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ صدر پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 5 پولیس اہلکار فاروق شاہ، امانت اللہ، اصغر علی، گل تیاز اور عارف حملے میں زخمی ہوئے حملے کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی لکی اقبال مہمند معہ پولیس نفری کے تھانہ صدر کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں پیروالا موڑ کے قریب ڈی ایس پی کی بکتربند گاڑی کو دہشتگردوں نے بارودی مواد سے اڑایا، بارودی مواد چھوٹے پل کے نیچے نصب کیا گیا تھا، پل تباہ ہونے سے تھانہ صدر کا شہر سے زمینی راستہ بھی منقطع ہو گیا۔

    ٹوئٹرنے بھارت میں پاکستانی حکومت کا آفیشل اکاؤنٹ بلاک کردیا

  • سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا ازخود نوٹس کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا ازخود نوٹس کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے رولز بنائے جانے تک ازخود نوٹس کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ازخود نوٹس اور آئینی اہمیت کے مقدمات پر سماعت مؤخر کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا سپریم کورٹ میں حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر دینے کے از خود نوٹس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ نے فیصلہ جاری کیا خصوصی بینچ میں جسٹس امین الدین اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں اور فیصلہ دو ایک کے تناسب سے جاری کیا گیا 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے تحریر کیا-

    جو کہتا تھا قانون سب کے لیے برابر ہے وہ آج قانون کا سب سے …

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رولز بنائے جانے تک آرٹیکل 184 تھری کے تمام کیسز کو ملتوی کردیا جائے چیف جسٹس پاکستان کو خصوصی بینچ بنانے کا اختیار نہیں ہے اسپیشل بینچ میں مختلف بینچز سے ایک ایک جج کو شامل کیا گیا، عدالتی وقت ختم ہونے کے وقت کیس سماعت کیلئے مقررکیا گیا-

    تحریری فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ پیمرا کی جانب سے ججز پر تنقید پر پابندی آئین اور اسلام کیخلاف ہےدوران سماعت عدالت کی توجہ پیمرا کی جانب سے ججز پر تنقید نشر کرنے کی پابندی پر دلائی گئی، پیمرا نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دے کر پابندی عائد کی، عدالتی فیصلہ پیمرا کو ایسا حکم نامہ جاری کرنے کی اجازت نہیں دیتا،ضلعی عدلیہ کے ججز سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ ججز سے زیادہ کام کرتے ہیں پیمرا نے کبھی ضلعی عدلیہ کے ججز پر تنقید کے خلاف پابندی عائد نہیں کی، دوسروں کو قابل احتساب بنانے والے ججز کا احتساب نہ ہونا آئین اور شریعت کیخلاف ہے، عوام کا اعتماد اداروں کو خود جیتنا ہوتا ہے۔

    نیا عدالتی اصلاحاتی بل، نواز،ترین اور گیلانی کو اپیل کا حق مل گیا

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام اراکین پارلیمنٹ کے انتخاب کے وقت ان کا احتساب کرتے ہیں، اراکین پارلیمنٹ الیکشن میں عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں، قوانین کے تحت بیوروکریسی حکومت کو جوابدہ ہوتی ہے، عدلیہ اس طرح کسی کو بھی جوابدہ نہیں ہے۔

    فیصلے میں قرار دیا گیا کہ چیف جسٹس کے پاس اختیار نہیں بینچ کی تشکیل کے بعد کسی جج کو بینچ سے الگ کریں، ایک جج سپریم جوڈیشل کونسل کوجوابدہ ہوسکتا ہے لیکن جوڈیشری نہیں چیف جسٹس اپنی دانش کو آئین کی حکمت کی جگہ نہیں دےسکتے، آئین نے چیف جسٹس کو یکطرفہ اورمرضی کااختیارنہیں دیا، سپریم کورٹ کےتمام ججز کو اجتماعی طورپرتعین کاکام چیف جسٹس انجام نہیں دے سکتے۔

    بینچ میں جسٹس شاہد وحید نے فیصلے سے اختلاف کیا اور نوٹ میں لکھا کہ جن معاملات پرفیصلہ دیا گیا وہ ہمارے سامنے ہی نہیں تھے۔

    پریکٹس اینڈ پروسیجربل پرسپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے،صدر عارف علوی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات کا ازخود نوٹس کیس بھی زیر سماعت ہے جس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے۔

  • سعودی عرب نے شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی

    سعودی عرب نے شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی

    سعودی عرب نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او)  میں شمولیت اختیار کرلی،چینی صدر کے دورہ سعودی عرب میں سعودی عرب کی ایس سی او میں شمولیت پر تبادلہ خیال ہواتھا۔

    باغی ٹی وی: سعودی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق سعودی کابینہ نے شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت کی منظوری دےدی ہے سعودی عرب نے ڈائیلاگ پارٹنر کی حیثیت سے تنظیم میں شمولیت کی ہے جو مکمل رکنیت کی طرف پہلا قدم ہے۔

    سعودی عرب نے ایس سی او میں ڈائیلاگ پارٹنر کا درجہ ملنے سے متعلق یادداشت کی منظوری دی ہے، جس سے ریاست شنگھائی تعاون تنظیم میں مذاکراتی شراکت دار بن جائے گی امریکی تحفظات کے باوجود سعودی عرب چین کے ساتھ طویل مدت شراکت داری کا خواہاں ہے۔

    واضح رہے کہ ایس سی او ایک سیاسی اور سیکیورٹی تنظیم ہے جس میں یورپ اور ایشیا کے ممالک شامل ہیں یہ تنظیم 2001 میں روس، چین اور سابق سوویت ریاستوں نے قائم کی تھی ایران بھی پچھلے سال ایس سی او میں شمولیت اختیار کرچکا ہے ایس سی او میں چین، روس، پاکستان، بھارت اور وسط ایشیائی ممالک شامل ہیں۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے پچھلے دسمبر میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا، اس دوران عرب ریاست کے ایس سی او میں شامل ہونے پر بات چیت کی گئی تھی سعودی عرب کو ایس سی او میں مذاکراتی شراکت دار کی حیثیت حاصل ہونا مکمل رکنیت کی طرف پہلا قدم ہے قبل ازیں سعودی کمپنی آرامکو نے گزشتہ روز چین میں اربوں ڈالر سرمایہ کاری منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

  • مبینہ بیٹی چھپانے کے الزام میں نااہلی کیس،ڈی این اے نہیں لیا جا سکتا،وکیل

    مبینہ بیٹی چھپانے کے الزام میں نااہلی کیس،ڈی این اے نہیں لیا جا سکتا،وکیل

    مبینہ بیٹی ٹیریان کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پرعمران خان نااہلی کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی، عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل میں کہا کہ جو فنانشلی طور پر زیرکفالت ہیں ان سے متعلق بیان حلفی میں ذکرکرنے کا کہا گیا،جسٹس محسن اخترکیانی نے سوال کیا کہ کیا عوام کو پتہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے نمائندے کے فیملی ممبرز کون کون ہیں ؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ بیان حلفی آج بھی نامزدگی فارم کا حصہ ہوتا ہے،عمران خان کے وکیل نے زیرکفالت ہونے سے متعلق پانامہ پیپرزکیس کا حوالہ دیا اور ساتھ ہی ٹیریان سے متعلق کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے 2 فیصلوں کا حوالہ بھی دیا،وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ کیلیفورنیا عدالت کا فیصلہ یکطرفہ تھا درخوست گزار شہری کون ہیں؟ میں نے کبھی نہیں دیکھا، درخواست گزارکی جمع کرائی گئی فیصلوں کی نقول تصدیق شدہ نہ ہونے کا سوال بھی ہے،پانامہ کیس میں سوال آیا تھا کہ مریم نواززیر کفالت ہیں یا نہیں؟ زیرکفالت پر اس کیس میں مفصل بحث ہوئی،کم عمربچوں کو زیرکفالت کی کیٹیگری میں ظاہرکرنا لازم تھا، ٹیریان کی عمرکاغذات نامزدگی کے وقت 26 سال اور اب 31 سال ہے ،

    عمران خان کے وکیل نے ڈی این اے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا ،وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ ریاست کسی سے زبردستی ڈی این اے نہیں لے سکتی،ڈی این اے دینے کے حوالے سے متاثرہ فریق کی مرضی ضروری ہوتی ہے، اس کیس میں بھی ڈی این اے اسی وقت ہوسکتا ہے جب وہ خود چاہے پاکستان میں ایسا کوئی قانون نہیں کہ آپ کسی کا زبردستی ڈی این اے لینے کا کہیں عمران خان اس وقت پبلک آفس ہولڈر نہیں اس لیے پٹیشن قابل سماعت نہیں ،عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی قانون کسی کو باہر سے بلا کر نہیں کہہ سکتا کہ ڈی این اے سیمپل دو، اس ایک نکتے پریہ کیس “ڈیڈ اینڈ” پر پہنچ جاتا ہے ڈی این اے سیمپل ریپ کیس کے متاثرہ سے بھی زبردستی نہیں لیا جا سکتا، ڈی این اے سیمپل دینا ایک رضاکارانہ کام ہوتا ہے ،ڈی این اے کو شواہد کا حصہ بنانے کا فیصلہ سپریم کورٹ نے میری استدعا پر دیا تھا اس قانون کے مطابق بھی کسی سے جبراً سیمپل لینے پرپابندی ہے

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے شہری محمد ساجد نے عمران خان کی نااہلی کی درخواست دائر کر رکھی ہے ,درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان نے کاغذاات نامزدگی جمع کراتے وقت غلط معلومات فراہم کیں ،عمران خان نے بچوں کی تفصیل میں ایک بچے کی معلومات چھپائیں، عمران خان نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنی بیٹی کا ذکر نہیں کیا درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کاغذات نامزدگی میں جھوٹ بولنے پر عمران خان کو نااہل قرار دے، عدالت آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کو نااہل قرار دے۔

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

  • یورپی یونین،پاکستان ہائی رسک ممالک کی فہرست سے خارج

    یورپی یونین،پاکستان ہائی رسک ممالک کی فہرست سے خارج

    یورپی یونین نے پاکستان کو ہائی رسک ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا ہے

    وفاقی وزیر نوید قمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی اور کہا کہ پاکستانی کاروباری اداروں اور افراد پر یورپ کے قانونی اور معاشی آپریٹر کی اضافی شرائط لاگو نہیں ہوں گی ،پیپلز پارٹی کی رہنما، وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ اس تجارتی اور سفارتی کامیابی کا سہرا وزیر برائے خارجہ امور بلاول بھٹو زرداری کو جاتا ہے ،موجودہ افراتفری میں اچھی خبر یہ ہے کہ یورپی یونین نے پاکستان کو ہائی رسک ممالک کی فہرست سے نکال دیا ہے اس اہم پیش رفت کے بعد برآمد کنندگان اور تاجروں کو رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا بڑے گا

    اس اہم پیشرفت کے بعد برآمد کنندگان اور تاجروں کو رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا بڑے گا،2018 سے پاکستان یورپی یونین کی ہائی رسک ممالک کی فہرست میں شامل تھا، ہائی رسک ممالک کی فہرست میں ہونے کی وجہ سے پاکستان کی معیشت، برآمد کنندگان اور تاجروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا تھا،عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد موجودہ حکومت کی یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ یورپی یونین نے پاکستان کو ہائی رسک ممالک کی فہرست سے نکال دیا ، عمران خان کی حکومت کے جانے کے بعد یہ مسئلہ بھی حل ہوگیا اس کے آنے پر پاکستان کو خطرناک ملک سمجھنے لگ پڑے تھے،

    واضح رہے کہ 15 نومبر 2022 کو برطانیہ نے بھی باضابطہ طور پر پاکستان کو انتہائی خطرات کے حامل ممالک کی فہرست سے نکال دیا تھا، ایف اے ٹی ایف نے بھی پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا ہے، موجودہ حکومت کو سفارتی محاذ پر بڑی کامیابیاں مل رہی ہیں

    قائمقام صدرپیپلز پارٹی وسطی پنجاب رانا فاروق سعید کا کہنا ہے کہ ہائی رسک ممالک فہرست سے پاکستان کا اخراج نوجوان وزیر خارجہ کے وژن کا ثمر ہے۔فیٹف اور حالیہ پابندی سے نکلنے کے بعد پاکستانی معیشت اور پھلے پھولے گی۔پاکستانی برآمدات میں اضافہ اور بیرون ملک امیج مذید بہتر ہو گا۔ یورپی یونین اقدام پاکستانی تاجر برادری کیلیے تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور نوید قمر کی شبانہ روز محنت رنگ لائی ہے ،خارجی اور تجارتی محاذ پر پیپلز پارٹی وزراء نے اپنی تقرری کو درست ثابت کر دکھایا ہے پیپلز پارٹی اور اسکی قیادت نے ہمیشہ پاکستان کا نام سر بلند کیا ہے۔

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ عمران نیازی کی بدترین سفارتکاری کے باعث یورپی یونین نے اکتوبر 2018 میں پاکستان کو ہائی رسک ممالک کی لسٹ میں شامل کرلیا تھا ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی مسلسل کوششوں کے باعث پاکستان پہلے ایف اے ٹی ایف اور اب یورپی یونین کی ہائی رسک ممالک کی لسٹ سے نکال دیا

    جے یو پی کے رہنما شاہ اویس نورانی کا کہنا تھا کہ اچھی خبر کو پاکستانی میڈیا پر دکھانے پر شاید پابندی ہے لیکن اطلاع دیتا چلوں کہ یورپی یونین نے پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔الحمدللہ یہ گوگی گینگ کی بڑی بارودی سرنگ کا خاتمہ ہے۔

  • قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف سے سپریم کورٹ بل 2023 ترامیم کے ساتھ منظور

    قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف سے سپریم کورٹ بل 2023 ترامیم کے ساتھ منظور

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس ہوا
    اجلاس چیئرمین کمیٹی چوہدری محمود بشیر ورک کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر سید نوید قمر،وزیر مملکت قانون شہادت اعوان و دیگر شامل تھے ،اجلاس میں سپریم کورٹ( کاروائی اور قواعد و ضوابط) بل 2023 زیر بحث آیا، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 4 ، 10 اور آرٹیکل 25 شفاف ٹرائل اور انصاف کے بنیادی اصولوں کو پورا کرتا ہے۔ نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ از خود نوٹس کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بعد آنے والے 3 چیف جسٹس نے از خود نوٹس کا بہت کم استعمال کیا۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے از خود نوٹس کا استعمال کیا۔وزارت قانون و انصاف کافی دیر سے اس حوالے سے کام کر رہی ہے۔ گزشتہ روز معزز ججز کا فیصلہ سب کے سامنے ہے۔جب بھی عدلیہ کی آزادی کی بات ہوتی ہے تو بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز کرتی ہیں۔ بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز اس بل کی حمایت کر رہے ہیں۔ کمیٹی نے سپریم کورٹ (کاروائی اور قواعد و ضوابط) بل 2023 ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا

    قبل ازیں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ گزشتہ قومی اسمبلی اجلاس میں پیش ہونے والے بل کو اس کمیٹی میں بھجوایا گیا،سپریم کورٹ میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے یہ بل پیش کیا گیا،184(3) کے دائرہ اختیار کو زیر بحث لایا جائے، بنیادی حقوق کے حوالے سے وزارت قانون کام کر رہی تھی، گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی صورت میں بھی آوازیں آئیں،ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مناسب وقت ہے کہ پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کرے

    دوسری جانب ممتاز ماہر قانون اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے عدلیہ کی اصلاحات کے بل کا اطلاق ماضی سے نہیں ہوگا، 90 دن کے آس پاس انتجابات کروانے ہونگے،تین دو سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر پانچوں جج کے دستخط ہیں کہ یہ اکثریتی فیصلہ ہے حکومت کے عدلیہ بارے بل کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس کے کوئی اثرات نہیں ہونگے، چیف جسٹس پاکستان آئین کے آرٹیکل 184 تین کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کر رہے ہیں

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

     سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کرسکتا ہے یا نہیں