Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • خاتون جج دھمکی کیس ، عمران خان کے ایک بار پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    خاتون جج دھمکی کیس ، عمران خان کے ایک بار پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت ہوئی

    خاتون جج زیبا چودھری کو دھمکی دینے کے کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے کی سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے وکلاء نے عدالت میں قابل ضمانت وارنٹ بحال رکھنے کی استدعا کر دی ،وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو سکیورٹی خدشات ہیں جان کو خطرہ ہے ان سے سکیورٹی واپس لینے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی نوٹس جاری کیے ہیں، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے ابھی تک کوئی پیش نہیں ہوا ان کی طرف دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کہتے ہیں .عمران خان کے وکیل نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں ابھی اسلام آباد ہائی کورٹ جا رہا ہوں، جج ملک امان نے کہا کہ آپ بیشک چلے جائیں آپ کے دلائل تو آ گئے ، عدالت نے کیس کی سماعت میں 11 بجے تک وقفہ کر دیا۔

    عمران خان کے خلاف خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت وقفے کے بعد شروع ہوئی،پراسیکوٹر راجہ رضوان عباسی سول جج ملک امان کی عدالت میں پیش ہوئے،پراسیکیوٹر نے کہا کہ حاضرنہ ہونے سے متعلق ٹھوس وجوہات بھی نہیں بتائی گئیں،
    عمران خان کی استثنیٰ کی درخواست خارج کی جائے،عمران خان کے نا قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں، سول جج ملک امان نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں سنا دیا گیا، خاتون جج دھمکی کیس میں عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے، عدالت نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی، عدالت نے عمران خان کو 18 اپریل کو پیش کرنے کا حکم دے دیا،

    دوسری جانب عمران خان کو آج اسلام آباد کچہری میں دو مختلف عدالتوں نے طلب کر رکھا ہے خاتون جج دھمکی کیس میں سول جج رانا مجاہد رحیم نے عمران خان کو طلب کر رکھا ہے جبکہ لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس میں عمران خان کو سول جج مبشر حسن چشتی نے طلب کر رکھا ہے

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری میں تبدیل کردیا

  • حکومت سے پوچھتے ہیں کہ چھ ماہ کا عرصہ کم ہو سکتا ہے یا نہیں،چیف جسٹس

    حکومت سے پوچھتے ہیں کہ چھ ماہ کا عرصہ کم ہو سکتا ہے یا نہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پنجاب اورکے پی میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر سپریم کورٹ پہنچ گئے،الیکشن کمیشن کی قانونی ٹیم بھی سپریم کورٹ پہنچ گئی ،وفاقی کابینہ کے ارکان کی کمرہ عدالت آمد ہوئی،وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ بھی عدالت میں موجود تھے،کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل لارجر بینچ نے کی،

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں، فیصلہ چار کا تھا تین کا نہیں،چار ججز نے اس معاملے کو نمٹا دیا تھا، آرڈر اف کورٹ جاری نہیں ہوا تو الیکشن کمیشن کیسے عملدرآمد کرسکتا ہے، آرڈر اف کورٹ چار ججز کا بنتا ہے، اپنے فیصلے پر قائم ہوں، میرے بارے میں غلط تاثر دیا گیا، میرے کل سے منسوب بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، سپریم کورٹ رولز سے متعلق میں نے کہا کہ وہ اندرونی معاملہ ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس جمال کو کہا کہ الیکشن کمیشن آرڈر کے بغیر کیسے عمل کررہا ہے،چار ججز میں سے 2 میرے بھی سینئر ہیں چلیں آپ کی وضاحت آ گئی ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ میں نےابھی بات کرنی ہےفل کورٹ کیوں وہی 7 ججز بنچ میں بیٹھنے چاہیں،چار ججز نے پی ٹی آٸی کی درخواستیں خارج کی ،ہمارے حساب سے فیصلہ چار ججز کا ہے، ،چیف جسٹس نے آج تک آرڈر آف دی کورٹ جاری نہیں کیا، جب آرڈر آف کورٹ نہیں تھا تو صدر مملکت نے الیکشن کی تاریخ کیسے دی،جب آرڈر آف کورٹ نہیں توالیکشن کمیشن نے شیڈول کیسے دیا؟

    وکیل فاروق ایچ نائیک روسٹرم پر اگئے اور کہا کہ پارٹی بننے کی درخواست دائر کردی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا موقف پیش کرنا چاہتے ہیں، آپ کی درخواست پی ڈی ایم کی طرف سے ہے؟پہلے الیکشن کمیشن کے وکیل کو سنیں گے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے، الیکشن کمیشن کی جانب سے عرفان قادر عدالت میں پیش،کہا میری آج پہلی پیشی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سے پہلے سواتی صاحب کمیشن کے وکیل تھے،ہم اس کیس کو اگے لے جانا چاہتے ہیں،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے ماحول کو خراب نہ کیا جائے، سماعت کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھائیں تو دیکھیں گے،وکیل پیپلز پارٹی نے کہا کہ آپ فریق بنیں گے تو ہم اعتراض اٹھائیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تحمل کا مظاہرہ کریں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں تحمل کا ہی مظاہرہ کر رہا ہوں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تاریخ مقرر کرنے کے بعد شیڈول جاری کیا اور انتخابات کی تیاریاں شروع کردیآرٹیکل 218 کی زمہ داری کسی بھی قانون سے بڑھ کر ہے ،انتخابات کےلیے سازگار ماحول کا بھی آئین میں ذکر ہے، آرٹیکل 224 کےتحت الیکشن 90 روز میں ہونا ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اچھی تیاری کی ہے،

    سجیل سواتی نے کہا کہ عدالتی آرڈر میں لکھا ہے کہ فیصلہ 3/2 سے ہے، 3/2 والے فیصلے پر پانچ ججز کے دستخط ہیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کمیشن نے فیصلہ کے پیراگراف 14 اور ابتداء کی سطروں کو پڑھ کرعمل کیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا آپ نے مختصر حکم نامہ دیکھا تھا ، سجیل سواتی نے کہا کہ ممکن ہے کہ ہمارے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا مختصرحکمنامے میں لکھا ہے کہ فیصلہ 4/3 کا ہے،سجیل سواتی نے کہا کہ اسی بات کو دیکھ کر عدالتی حکم پر عمل کیا ،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یکم مارچ کے اختلافی نوٹ میں کہیں نہیں لکھا کہ فیصلہ 4/3 کا ہے،اختلاف رائے جج کا حق ہے،یہ اقلیت کسی قانون کے تحت خود کو اکثریت میں ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتی، کھلی عدالت میں پانچ ججز نے مقدمہ سنا اور فیصلے پردستخط کیے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا، مختصرحکم نامے میں لکھا ہے کہ اختلافی نوٹ لکھے گئے ہیں، اختلافی نوٹ میں واضح لکھا ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی اور اطہرمن اللہ کے فیصلے سے متفق ہیں،کیا جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے ہوا میں تحلیل ہو گئے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو معاملہ ہمارے چیمبرز کا ہے اسے وہاں ہی رہنے دیں، اٹارنی جنرل اس نقطہ پر اپنے دلائل دیں گے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کا کیا موقف ہے،سجیل سواتی نے کہا کہ 4/3 کے فیصلے پر الیکشن کمیشن سے ہدایات نہیں لیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کی، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ججز کا احترام ہے مگر اقلیتی فیصلہ اکثریتی فیصلے پرغالب نہیں آ سکتا، قانون واضح ہے کہ اقلیتی فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی،جسٹس منصور اور جسٹس جمال خان کا فیصلہ اقلیتی ہے

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ آٹھ فروری کے لیٹرز پر انحصار کر رہے ہیں ، عدالت نے یکم مارچ کو اپنا فیصلہ دیا، کیا آپ کو فروری میں خیال تھا کہ اکتوبر میں الیکشن کروانا ہے، دوسری طرف آپ کہتے ہیں کہ عدالتی فیصلے سے انحراف کا سوچ نہیں سکتے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس کے علاوہ بہت سارے سوالات ہیں، جسٹس منیب اختر کے سوالات نوٹ کر لیں، آپ دلائل دیں پھر سوالوں کے جواب دیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو انتخابات کے لیے فوج کے جوان دینے سے انکار کیا گیا ،آئین کا آرٹیکل 17 پرامن انتخابات کی بات کرتا ہے، آئین کے مطابق انتخابات صاف شفاف پرامن سازگار ماحول میں ہوں ،ایجنسیوں نے الیکشن کمیشن کو خفیہ رپورٹس دیں ،عدالت کہے گی تو خفیہ رپورٹس بھی دکھا دیں گے،رپورٹس میں بھکر میانوالی میں مختلف کالعدم تنظیموں کی موجودگی ظاہر کی گئی،الیکشن کے لیے چار لاکھ بارہ ہزار کی نفری مانگی گئی تھی،دو لاکھ ستانوے ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے، پس منظر کے طور پر ان رپورٹس کا حوالہ دیا،الیکشن کمیشن نے فیصلہ 22 مارچ کو کیا،اس سے پہلے یہ گراؤنڈز دستیاب تھے، اس کے بعد انتخابات کے حوالے سے میٹنگز ہوئیں،وزارت داخلہ نے بھی 8 فروری کے خط میں امن و امان کی خراب صورتحال کا زکر کیا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں 20 ارب کا ذکر ہے لیکن کل عدالت کو 25 ارب کا بتایا گیا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پانچ ارب روپے پہلے ہی الیکشن کمیشن کو جاری ہو چکے ہیں، وزارت خزانہ نے بتایا کہ موجودہ مالی سال میں الیکشن کے لیے فنڈز جاری نہیں کر سکتے،پنجاب کیلئے 2لاکھ 97 ہزار سیکورٹی اہلکاروں کی کمی کا بتایا گیا،جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا الیکشن کیلئے قومی اسمبلی نے فنڈز کی منظور دی ہوئی ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ وزارت خزانہ اس بات کا تفصیل سے جواب دے سکتی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ الیکشن تو ہر صورت 2023 میں ہونا تھے، کیا بجٹ میں 2023 الیکشن کیلئے رقم مختص نہیں کی گئی تھی؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ انتخابات کیلئے بجٹ آئندہ مالی سال میں رکھنا ہے، قبل ازوقت اسمبلی تحلیل ہوئی اس کا علم نہیں تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اگر انتخابات پورے ملک میں ایک ساتھ ہوں تو کتنا خرچ ہوگا، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ملک بھر میں ایک ہی دفعہ انتخابات ہوں تو 47ارب روپے خرچ ہوں گے،انتخابات الگ الگ ہوں تو 20 ارب روپے اضافی خرچ ہوگا، وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ سپیشل سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ سیاسی شخصیات کو سیکورٹی خطرات ہیں، وزارت داخلہ کے مطابق سیکورٹی خطرات صرف الیکشن کے روز نہیں الیکشن مہم کے دوران بھی ہوں گے،الیکشن کمیشن کو بتایا گیا تھا کہ فوج کی تعیناتی کے بغیر الیکشن کو سکیورٹی فراہم کرنا ناممکن ہو گا، سپیشل سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ ان حالات میں پرامن انتخابات کا انعقاد نہیں ہو سکتا، سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی نے بتایا کہ کے پی کے میں کالعدم تنظیموں نے متوازی حکومتیں بنا رکھی ہیں، خفیہ رپورٹس میں بتایا گیا کہ دو مختلف دہشتگرد تنظیمیں متحرک ہیں، خفیہ رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں شیڈو حکومتیں قائم ہیں ،2023 میں سکیورٹی کے 443 تھریٹس کے پی کے میں موصول ہوئے، کے پی کے میں رواں سال دہشگردی کے 80 واقعات ہوئے، 170 شہادتیں ہوئیں، خفیہ رپورٹس کے مطابق ان خطرات سے نکلنے میں چھ سے سات ماہ لگیں گے، رپورٹس کے مطابق عوام میں عدم سکیورٹی کا تاثر بھی زیادہ ہے،خیبرپختونخوا کے 80 فیصد علاقوں سکیورٹی خطرات زیادہ ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیسی بات کر رہے ہیں ، دو اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ خفیہ اداروں کی رپورٹس میں جو حقائق بیان کیے گئے وہ نظرانداز نہیں کر سکتے، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کوئی طریقہ کار ہے الیکشن کمیشن ان رپورٹس کی تصدیق کروا سکے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کا ایشو تو ہے !بیس سال سے ملک میں دہشتگردی کا مسئلہ ہے، اس کے باوجود ملک میں انتخابات ہوتے رہے ہیں۔ 90کی دہائی میں تین دفعہ الیکشن ہوئے، 90 کی دہائی میں ملک میں فرقہ واریت اور دہشگردی عروج پر تھی،58/2 بی کے ہوتے ہوئے ہر تین سال بعد اسمبلی توڑ دی جاتی تھی، پنجاب میں دہشتگردی کے پانچ واقعات ہوئے ، آخری واقعہ سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملہ تھا،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ صدر مملکت کو یہ حقاٸق بتائے بغیر آپ نے الیکشن کی تاریخیں تجویز کر دیں، صدر مملکت نے تاریخ کی تبدیلی پرالیکشن کمیشن کو خط نہیں لکھا ،صدر مملکت نے تاریخ کی تبدیلی پر وزیراعظم کو خط لکھ دیا ، جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ اگر ادارے آپکو معاونت فراہم کریں تو کیا آپ الیکشن کروائینگے؟ بظاہر الیکشن کمیشن کا سارا مقدمہ خطوط پر ہے، الیکشن کمیشن کا مسٸلہ فنڈزکی دستیابی کا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا مقصد سیاسی نظام کو چلنے رہنے دینا ہے۔ سیاسی جماعت بھی سیاسی نظام کو آگے بڑھانے کی مخالفت نہیں کرتی، ایک مسئلہ سیاسی درجہ حرارت کا ہے، علی ظفر اور اٹارنی جنرل کو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے پر ہدایت لیکر آگاہ کرنے کا کہا تھا، سیاسی درجہ حرارت کم ہونے تک انتحابات پر امن نہیں سکتے، کسی فریق نے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی یقین دہانی نہیں کرائی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدالت کو مکمل یقین دہانی کروانے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے استفسار کیا کہ یقین دہانی کس کی طرف سے ہے؟ وکیل عی ظفر نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے تحریری یقین دہانی کروائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پارٹی کی باری آئے گی تو ان سے بھی اس حوالے سے بات کریں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جہاں مسئلہ زیادہ ہے اس ضلع میں انتحابات موخر بھی ہوسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے کچے کے آپریشن کیوجہ سے پورے پنجاب میں الیکشن ملتوی کردیا ۔کے پی کے میں الیکشن کیُ تاریخ دیکر واپس لی گئی۔ اٹھ اکتوبر کی تاریخ پہلے سے مقرر کی گئی ،آٹھ اکتوبر کو کونسا جادو ہو جائے گا جو سب ٹھیک ہو جائے گا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آٹھ اکتوبر کی تاریخ عبوری جائزے کے بعد دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عبوری جائزے کا مطلب ہے کہ انتحابات مزید تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں۔عدالت کو پکی بات چاہیے۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ صاف شفاف انتخابات یقینی بنانے کے لئے الیکشن کمیشن کوئی بھی حکم جاری کرسکتا ہے،ورکرز پارٹی فیصلہ کے مطابق صاف شفاف انتخابات کے لئے وسیع اختیارات ہیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں اداروں سے معاونت نہیں مل رہی،الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری سے کیسے بھاگ سکتا ہے؟ صاف شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی زمہ داری ہے انتخابی شیڈول پر عملدرآمد شروع ہوگیا تھا، اگر کوئی مشکل تھی تو عدالت آ جاتے، الیکشن کمیشن وضاحت کرے کہ انتخابات 6 ماہ آگے کیوں کردیئے؟ کیا ایسے الیکشن کمیشن اپنیذمہ داری پورے کریگا؟ کیا انتخابات میں 6 ماہ کی تاخیر آئینی مدت کی خلاف ورزی نہیں؟

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات کرانے کا اختیار کس دن سے شروع ہوتا ہے؟ انتخابی تاریخ مقرر ہونے سے اختیار شروع ہوتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تاریخ مقرر ہوجائے تو اسے بڑھانے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صرف پولنگ کا دن نہیں پورا الیکشن پروگرام موخر کیا ہے،الیکشن کمیشن شیڈول تبدیل کرسکتا ہے تاریخ نہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن ٹھوس وجوہات پر الیکشن پروگرام واپس لے سکتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ گورنر اور صدر کی دی گئی تاریخ الیکشن کمیشن کیسے تبدیل کر سکتا ہے!آئین میں واضح ہے کہ پولنگ کی تاریخ کون دے گا !کیا الیشکن ایکٹ کا سیکشن 58 آئین سے بالا تر ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ سے رجوع کر کے قائل کرنا چاہئے تھا الیکشن کمیشن کو موقع ہے آج بھی عدالت کو قائل کرسکتا ہے، کیا 8 اکتوبر کوئی جادوئی تاریخ ہے جو اس دن سب ٹھیک ہوجائے گا ،8 اکتوبر کی جگہ 8 ستمبر یا 8 اگست کیوں نہیں ہوسکتی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ 6 ماہ کا وقت مکمل ہونے کے بعد 8 اکتوبر کو پہلا اتوار بنتا ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا پولنگ کی تاریخ الیکشن پروگرام کا حصہ ہوتی ہے؟ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ صدر کی تجویز کردہ تاریخ کمیشن کی تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتی، صدرکو فروری میں ہونے والے اجلاسوں سے کیوں آگاہ نہیں کیا گیا؟ جب معلوم تھا کہ 30 اپریل کو الیکشن نہیں ہوسکتے تو تاریخ تجویز ہی کیوں کی گئی؟ عدالت نے صدر کو آگاہ کرنے سے نہیں روکا، الیکشن شیڈول پر عمل کرنے کا کیا فائدہ ہوا جب آج پھر عدالت میں کھڑے ہیں؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر صدر تاریخ کا اعلان کردیں تو کیا الیکشن کمیشن اختیار استعمال کرکے انتخابات سے انکار کرسکتا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پرانا شیڈول ختم کرکے نیا شیڈول جاری نہیں کیا،الیکشن شیڈول کی بجائے الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر کو جھنڈا لگا دیا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سیکشن 58 الیکشن کمیشن کو تاریخ بڑھانے کی اجازت نہیں دیتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت 8 اکتوبر کی تاریخ پر مہر لگائے، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صرف اپنے حکم کا دفاع کرنا ہے،عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں یہ درخواست گذار نے ثابت کرنا ہے،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں تو کیا الیکشن کمیشن انتخابات سے معذوری ظاہر کر سکتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کیلئے حکومت پر انحصار کرتا ہے، حکومت نے بتانا ہے کہ وہ مدد کرنے کی پوزیشن میں ہے یا نہیں، کیا الیکشن کمیشن حکومت کی بریفنگ پر مطمئن ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اگر پیسے اور سکیورٹی مل جائے تو 30 اپریل کو انتخابات ہو سکتے ہیں؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن راستہ نہیں ڈھونڈ سکتا تو ہم ڈھونڈیں گے، 1988 میں بھی عدالت کے حکم پر الیکشن تاخیر سے ہوئے تھے، 2008 میں حالات ایسے تھے کہ کسی نے انتخابات ملتوی کرنے پہ اعتراض نہیں کیا، اللہ کرے 2008 والا واقعہ دوبارہ نہ ہو، بنیادی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین کی تشریح ہو گئی ہے، آرٹیکل 218-3 ارٹیکل 224 سے بالاتر کیسے ہوسکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرٹیکل 218-3 شفاف منصفانہ انتحابات کی بات کرتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شفاف انتحابات نہیں ہوں گے تو کیا ہو گا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن شفاف نہ ہوں تو جہموریت نہیں چلے گی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ساز گار ماحول کا کیا مطلب ہے کہ کوئی کسی پر انگلی نہ اٹھائے، چھوٹی موٹی لڑائی جھگڑے تو ہر ملک میں ہوتے ہیں، اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلحہ کا استعمال نہ ہو،اگر معمولی جھگڑا بھی نہیں چاہتے تو ایسا نظام بنائیں لوگ گھر سے ہی ووٹ کاسٹ کریں،سمندر پار پاکستانی ووٹ کا حق مانگتے ہیں سپریم کورٹ کا حکم بھی موجود ہے،الیکشن کمیشن نے ابھی تک سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ کے لیے کچھ نہیں کیا،حکومت سے پوچھتے ہیں کہ چھ ماہ کا عرصہ کم ہو سکتا ہے یا نہیں،

    ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے دلائل شروع ہو گئے ، عدالت میں کہا کہ گورنر کے پی نے ابھی تک انتخابات کی تاریخ نہیں دی، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ نگران حکومت نے گورنر کو تاریخ دینے کا کیوں نہیں کہا؟ ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی معاونت کے لئے تیار ہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا گورنر کے پی نے تاریخ کا اعلان کیا ہے؟ کامران مرتضیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو تاریخ سے آگاہ کردیا ہے، گورنر نے 28 مئی کی تاریخ دی تھی،ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کہا کہ گورنر کے پی نے 8 اکتوبر کی تاریخ دی ہے،گورنر کا خط کل موصول ہوا ہے ہدایات کےلئے وقت دیں ، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے فوری اور جلد از جلد تاریخ دینے کا کہا تھا،گورنر کے پی نے 8 اکتوبر کی تاریخ کس بنیاد پر دی ہے؟اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 90 روز 30 اپریل کو پورے ہورہے ہیں،90 دن سے کم سے کم آگے کی تاریخ 28 مئی کیسے دی گئی؟ وکیل کامران مرتضی نے کہا کہ کل گورنر کے پی سے ہدایات لیکر آگاہ کرونگا،

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کمرہ عدالت میں سو گئے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنی سیٹ سے اٹھ کر رانا ثنا اللہ کو نیند سے جگایا ،وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور بھی کمرہ عدالت میں سو گئے

    سماعت کے آغاز سے قبل سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام کی جانب سے انتخابات ملتوی کیس میں فریق بننے کی درخواست وصول کرلی،قبل ازیں رجسٹرار آفس نے ن لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یوآئی ف کی پارٹی بننے کی متفرق درخواست لینے سے انکار کر دیا تھا، رجسٹرار آفس نے تینوں سیاسی جماعتوں کو پارٹی بننے کی درخواست دوران سماعت عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی تھی مگر بعد میں رجسٹرار آفس نے درخواست وصول کر لی،

    گزشتہ روز سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایمرجنسی لگا کر ہی الیکشن ملتوی کیے جا سکتے ہیں سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کرسکتا ہے یا نہیں، اگر الیکشن کمیشن کا اختیار ہوا تو بات ختم ہوجائے گی

    دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ گزشتہ قومی اسمبلی اجلاس میں پیش ہونے والے بل کو کمیٹی میں بھجوایا گیا سپریم کورٹ میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے یہ بل پیش کیا گیا 184(3) کے دائر اختیار کو زیر بحث لایا جائے بنیادی حقوق کے حوالے سے وزارت قانون کام کر رہی تھی گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی صورت میں بھی آوازیں آئیں ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مناسب وقت ہے کہ پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کرے

    تحریکِ انصاف کے وکیل علی ظفر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہاں جہاں نظام کو بہتر بنانے کی بات ھے ہمیں کوئی اعتراض نہیں، اٹارنی جنرل کا بڑا عہدہ ہوتا ہے، مجھے نا کبھی شوق ہوا نا آفر ہوئی،جتنے اٹارنی جنرل آئے ہیں سب اچھے پائے دار وکیل تھے ،مجھے اٹارنی جنرل بننے کا کوئی شوق نہیں

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حاضر ہوئے کہ عدالت عظمی سے انصاف چاہتے ہیںملک میں رواداری رول آف لاء میں عدالت عظمی اپنا کردار ادا کرے ،بد قسمتی سے ایسے فیصلے ہوتے رہے ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں ان بیلنس ہوا،ان فیصلوں پر لوگوں کو شکوک و شبہات ہے، کہا جارہا ہے یہ تین دو کا فیصلہ کیا، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ چار ایک کا فیصلہ ہے، یہ معاملات ختم ہونے چاہئیے، سپریم کورٹ کا فیصلہ اندرونی معاملہ نہیں ہوسکتا ،یہ ابہام فل کورٹ ہی ختم کرسکتا ہے،کل پارلیمنٹ میں سوموٹو نوٹس کے متعلق ایکٹ قومی اسمبلی میں پیش ہوا ہے ، امید ہے وہ آج پاس ہوجائے گا،بابا رحمتے بعد میں بابا زحمتے ثابت ہوا ، کورٹ سے انصاف چاہتے ہیں،ملک میں رول آف لاء میں عدالت عظمی کا کرادر چاہتے ہیں،اس سے پہلے جو ناانصافیاں ہوئی لوگوں کو اس پر اعتراض ہے،ججز بھی کہہ رہے ہیں فیصلہ 4 تین سے تھا،آج بھی استدعا ہے سوموٹو کو فل کورٹ کی طرف لے جایا جائے،سپریم کورٹ آف پاکستان قوم کی رہنمائی کرے گی،سپریم کورٹ کے پاس مارل اتھارٹی ہے،جب سپریم کورٹ کے ججز آمنے سامنے ہوں اس وقت پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے،

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

  • ’ہماری بہار سیل شروع‘، سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر آفر

    ’ہماری بہار سیل شروع‘، سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر آفر

    ’ہماری بہار سیل شروع‘، سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر آفر نمودار’انصاف کی اسپرنگ سیل کم قیمت پر۔ مزید تفصیلات کے لیے جسٹس نقوی سے رابطہ کریں’
    تفصیل کے مطابق پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ (سپریم کورٹ آف پاکستان) کی ویب سائٹ مبینہ طور پر ہیک کرلی گئی، تاہم اسے پاپ اپ نوٹی فکیشن میں ایک عارضی مسئلہ بتایا جارہا ہے۔سپریم کورٹ کی ویب سائٹ کھولیں تو عموماً ایک پیغام نظر آتا ہے، جس میں کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے متعلقہ افراد کو عدالت آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    لیکن اس بار یہ پیغام ایک ”سیل آفر“ سے بدل چکا تھا۔
    سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر نظر آنے والے اس پیغام میں لکھا گیا ، ”ہماری اسپرنگ (بہار) سیل شروع ہوچکی ہے“۔

    یہ مبینہ ہیکنگ یا نوٹی فکیشن کا مسئلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب حکومت عدالتی اصلاحات کا بل قومی اسمبلی میں پیش کر رہی ہے۔
    عدالت عظمیٰ کی ویب سائٹ پر موجود اس پیغام پر سوشل میڈیا صارفین نے کئی طنزیہ ٹوئٹس کئے ہیں۔
    ایک صارف نے پوچھا، ”عدلیہ کی اسپرنگ سیل؟“


    ایک اور صارف نے پوچھا کہ کیا یہ واقعی ہیک ہوگئی ہے؟
    جس پر معروف وکیل سالار خان نے جواب دیا کہ ”مجھے ایسا نہیں لگتا۔ ان کے پاس ایک پاپ اپ ہوتا ہے جو پہلی بار ویب سائٹ کھولنے پر ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ کچھ مسئلہ لگتا ہے“۔


    منصور آفریدی نامی ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا، ”انصاف کی اسپرنگ سیل کم قیمت پر۔ مزید تفصیلات کے لیے جسٹس نقوی سے رابطہ کریں“۔


    ویب سائٹ پر کھلنے والا یہ پیغام مستقل نہیں ہے، اگر آپ اس میں موجود سبز آئیکون پر کلک کریں تو یہ آپ کو ویب سائٹ کے مرکزی صفحے تک لے جاتا ہے۔

  • عمران خان کی تباہی کا نتیجہ کہ آٹے کیلیے لائنیں لگی ہوئی ہیں،وزیراعظم

    عمران خان کی تباہی کا نتیجہ کہ آٹے کیلیے لائنیں لگی ہوئی ہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان عدالتوں میں پیش نہیں ہورہے جب ہم اپوزیشن میں تھے تو کیسے اپوزیشن کے لوگوں اور ان کے خاندان کی ہنٹنگ کی گئی۔ کیسے بددیانتی سے جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کہ گزشتہ سال ہم اپوزیشن میں تھے، مختلف الخیال جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ ہم ریاست کو بچائیں، اتحادی جماعتوں نے ریاست کو بچانے کے لیے سیاست کو داؤ پر لگا دیا ،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سفید پوش تنگدست ہوتا ہے لیکن ہاتھ نہیں پھیلاتا، آج وہ لائن میں لگا ہے تو اس سے بڑھ کر شرم کی کیا بات ہو سکتی ہے یہ ہے وہ تباہی جو عمران خان لے کر آیا اور اسکے نتائج سب دیکھ رہے، یہ کہا گیا کہ یہ حکومت امریکہ کے ساتھ سازش کے نتیجے میں قائم ہوئی، کئی ماہ یہ جھوٹ انتہائی بے شرمی کے ساتھ بولا گیا، ایک موقع آ گیا کہ ملک میں تقسیم بڑھتی جا رہی اور ایک طبقہ یہ سمجھنے لگ گیا کہ واقعی امریکہ کی سازش ہوئی اور یہ ایک امپورٹڈ حکومت ہے، پھر عمران خان نے قلابازی کھائی اور کہا کہ امریکہ کی نہیں اپنوں کی سازش تھی،

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ بڑے بڑے ڈرامے باز آئے لیکن اس جیسا تاریخ میں نہیں آیا، پاکستان کی بنیادیں ہلا دی گئیں، 11 ماہ سے ہم خارجہ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، دوست ممالک کو اس نے ناراض کیا، ہم ان 11 ماہ میں ابھی تک ممالک کو منوا رہے ہیں ، چین کے ساتھ بھی اس نے یہی کچھ کیا،اب عمران خان نے لاکھوں ڈالر پر امریکہ میں فرم ہائیر کر لیں ، ان سے کیا کام لیا جا سکتا ہے ؟ کسی کوکیا حق پہنچتا ہے کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کریں، یہی کہتے تھے کہ یہ چور ڈاکو انکو کوئی حق نہیں کہ ڈپلومیٹس کو جا کر ملیں، اب انکے بیان دیکھ لیں، خبروں میں شائع تصویریں دیکھ لیں، لاڈلے کو کس نے حوصلہ دیا؟ لاڈلہ عدالت میں پیش نہیں ہوتا، آئی ایم ایف سے معاہدہ عمران خان نے کیا تھا اور اسکی خلاف ورزی بھی کی ،ایک لاڈلہ کسی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوتا، آج اس آئین کا مذاق اڑایا جارہا ہے، وہ عدلیہ کا مذاق اڑاتا ہے،ایک قوم کی بیٹی کو چاند رات کو گرفتار کیا گیا، کسی نے نوٹس نہیں لیا،ایک خاتون جج کے بارے میں جو القابات کہے، کسی نے اس کا نوٹس نہیں لیا، آج ایک لاڈلہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر تکبر کے ساتھ بات کرتا ہے، قانون اور آئین کو اس نے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا ہے،

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو واپس لانے کے کیا مقاصد تھے تحقیق ہونی چاہیئے وہ کون لوگ تھے جنہوں نے دہشت گردوں کو سوات میں بسایا ،دہشت گرد اچھا یا برا نہیں ،دہشت گرد ہی ہوتا ہے ،خیراتی کاموں کا پیسہ عمران خان کی جیب میں چلاگیا ،چیف جسٹس آڈیولیک کا فرانزک کرائیں ،سیاست دانوں کے خلاف آنکھیں بند کر کے کیس بنائے جاتے ہیں ،نیب کے قانون میں ترمیم کا کسی نے نوٹس نہیں لیا ،عمران خان نے توشہ خانہ کے تحائف بیچے ،آڈیو لیک اگر سچ ہے تو سامنے آنا چاہیے ،سوشل میڈیا ٹرولنگ پر بھارت سب سے اوپر ہے عمران خان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس ثابت ہوچکا ہے اس سے پہلے دیر ہوجائے ہمیں اپنا لائحہ عمل اپنانا ہوگا ،عمران خان کے گھر دہشت گرد دندناتے پھرتے ہیں ،عمران خان دہشت گردوں کو اپنی شیلڈ بنا رہا ہے ملکی صورت حال کا پارلیمنٹ فوری نوٹس لے عمراں خان کو پاکستان سے کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ، یہ 1973 کے آئین کو دفن کرنے میں مذموم ہے،کبھی دیکھا ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ایسا سلوک ہوتا ہوا ہو ،11 ماہ ہوگئے ہیں دوست ممالک کو راضی کرنے میں لگے ہیں پاکستان کے خلاف بیانات درج کروائے جارہے ہیں ،قوم کے اند ر تقسیم در تقسیم کر دی گئی ،اس لاڈلے نے سپریم کورٹ کے باہر کپڑے لٹکائے ،عمران خان کے 4 سالہ دور میں ملکی قرضے 70 فیصد تک بڑھ گئے عمران خان کے دور میں کوئی نیا منصوبہ نہیں لگایا گیا ،

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

  • سادہ سا سوال ہے الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں؟ چیف جسٹس

    سادہ سا سوال ہے الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں الیکشن سے متعلق تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی بینچ میں جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں

    نئے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان ،سینیٹر فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے، دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے اٹارنی جنرل کو سنیں گے سادہ سا سوال ہے جو الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا ہے کیا الیکشن کمیشن کے پاس ایسا اختیار تھا؟ کارروائی کو لمبا نہیں کرنا چاہتے،سادہ سا سوال ہے الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں؟اگر الیکشن کمیشن کا اختیارہوا تو بات ختم ہو جائے گی، سیاسی جماعتوں کو فریق بنانے کیلئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نکتہ اٹھایا تھا جمہوریت کیلئے قانون کی حکمرانی لازمی ہے، قانون کی حکمرانی کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی،سیاسی درجہ حرارت اتنا زیادہ ہوگا تو مسائل بڑھیں گے

    اٹارنی جنرل نے انتخابات کیس کے لیے فل کورٹ بنچ بنانے کی استدعا کردی ،اٹارنی جنرل نے تحریک انصاف کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر بھی اعتراض کردیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کیلیے قانون کی حکمرانی لازمی ہے قانون کی حکمرانی کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی،فارق ایچ نائیک نے کہا کہ ملک میں اس وقت انار کی اور فاشزم ہے، موجودہ سیاسی ومعاشی حالات میں جمہوریت اور ملک کے لیے کیا بہترہے، سیاسی جماعتیں اسٹیک ہولڈرز ہیں،انہیں لازمی سنا جائے ،جسٹس جمال مندوخیل نے فاروق ایچ نائیک سے سوال کیا کہ آپ یہ پوائنٹ پارلیمنٹ کیوں نہیں لےجاتے؟ اس پر فاروق ایچ نائیک نےکہا کہ پارلیمنٹ میں معاملہ اٹھانےکا سوچ رہے ہیں ، جسٹس جمال مندوخیل نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ کیا نوے روز میں انتخابات کرانا آئینی تقاضا نہیں ہے؟کیا الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ منسوخ کر سکتا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ کلیئر کرنے پر جسٹس جمال مندوخیل کا مشکور ہوں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتخابات کیس میں استدعا ہی ازخود نوٹس کے فیصلے پر عملدرآمد کی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنچ کے ارکان تحریک انصاف کی درخواست میں اٹھائے گئے سوال کا جائزہ لینے بیٹھے ہیں اٹارنی جنرل کا انحصار تکنیکی نقطے پر ہے سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار درخواست تک محدود نہیں ہوتا،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کی درخواست پر اعتراضات اور فل کورٹ بنچ بنانے کی استدعا عملاً مسترد کردی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو نشست پر بیٹھنے کی ہدایت کی اور تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر کو دلائل شروع کرنے کا حکم دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سماعت کے آخر میں اٹارنی جنرل کی استدعا کو دیکھیں گے،

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں دو ججز کا اختلافی فیصلہ دینے کا معاملہ اٹھا دیا ، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یکم مارچ کا عدالتی فیصلہ کتنے ارکان کا ہے یہ سپریم کورٹ کا اندرونی معاملہ ہے یہ بتائیں کہ کیا آئین نوے روز میں انتخابات کرانے کا تقاضا کرتا ہے یا نہیں؟

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر سے سوال کیا کہ کیا آپ نے اپنی سیاسی قیادت سے بات کی؟ پی ٹی آئی کو پہل کرنا ہوگی کیونکہ عدالت سے رجوع انہوں نے کیا ہے ملک میں اس وقت تشدد اور عدم برداشت ہے، معاشی حالات دیکھیں، آٹے کے لیے لائنیں لگی ہوئی ہیں آپس میں دست وگریباں ہونے کے بجائے ان لوگوں کا سوچیں ، پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ انتخابات میں تاخیر ہوئی تو یہ بحران مزید بڑھے گا چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جواب دیا کہ تحریک انصاف اگر پہل کرے تو ہی حکومت کو کہیں گے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن 6 ماہ الیکشن آگے کر سکتا ہے تو 2 سال بھی کر سکے گا، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات آگے کون لے جا سکتا ہے یہاں آئین خاموش ہے، کیا پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم نہیں کرنی چاہیئے؟ جسٹس منیب اختر نے اس بات سے اتفاق کیا۔دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی قانون الیکشن کمیشن کو انتخابات ملتوی کرنے کا اختیار نہیں دیتا- قانون نے صدر مملکت کو الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار دیا ہے- الیکشن 90 دنوں میں ہی ہونا ہیں-آئین میں واضح لکھا ہے- الیکشن ایکٹ کی سیکشن 58 انتخابات کو منسوخ کرنے کی اجازت نہیں دیتا-

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس نیشنل کاز کے لئے جو لوگ تنخواہیں لے رہے ہیں ان کو کٹ لگایا جاسکتا ہے؟ ا سے اہم انتخابات کا ٹاسک مکمل کیا جاسکتا ہے،لیکن اس سب پر جواب وزارت خزانہ ہی دے سکتی ہے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو وزارت خزانہ نے فنڈز کی فراہمی سے انکار کردیا،جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ انکار وزارت خزانہ کیسے کرسکتا ہے،؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ آئین کے ایمرجنسی prevision میں موجود ہے کہ خراب ترین صورتحال میں انتخابات ملتوی کئے جاسکتےہیں،کیا اس وقت ایسی ایمرجسنی کی صورتحال ہے کہ انتخابات نہ ہوں؟ وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا ایسی کوئی صورتحال نہیں ،،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کے لئے ججز کی تنخواہوں میں کٹوتی کی تجویز دے دی۔ دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے، بحران سے نمٹنے کے لیے قربانی دینا ہوتی ہے، 5 فیصد تنخواہ کٹنے سے الیکشن کا خرچہ نکل سکتا ہے،انتخابات کے لئے پورے بجٹ کی ضرورت نہیں 20 ارب کا کٹ ہماری تنخواہوں پر بھی لگایا جاسکتا ہے،

    فیڈرل کنسولییڈیٹڈ فنڈ سے رقم کے اجرا پر بھی بحث، فاروق ایچ نائیک نے کہا یہاں سے فنڈ پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد خرچ ہوتے ہیں. جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر اسمبلی تحلیل ہوجائے تو کیا فنڈز جاری ہی نہیں ہو سکیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کا فیصلہ ایمرجنسی نافذ کرنے کی بات کرتا ہے؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ ابسلوٹلی ناٹ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ابسلوٹلی ناٹ تو آپ نے کسی اور کو کہا تھا،چیف جسٹس کے ریمارکس پر عدالت میں قہقے گونج اٹھے. دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سب سے زیادہ آپریشن کیے، پنجاب میں اب تک صرف 61 آپریشن ہوئے، سندھ میں 367 جبکہ خیبرپختونخوا میں 1245 آپریشن ہوئے،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 58 انتخابات منسوخ کرنے کی اجازت نہیں دیتا، 2008 میں انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے تھے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آئین کے 2 آرٹیکلز کا سہارا لیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے وجوہات بتا کر کہا آئینی ذمہ داری ادا کرنے سے قاصر ہیں، الیکشن کمیشن 8 اکتوبر کی تاریخ نہ دیتا تو کیا ہوتا؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن تاریخ تبدیل کرنے کیلئے صدر سے رجوع کر سکتا تھا،تمام انتظامی ادارے الیکشن کمیشن سے تعاون کے پابند ہیں، وجوہات ٹھوس ہوں تو ہی کمیشن رجوع کر سکتا ہے ، وکیل علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 220 تمام حکومتوں، اداروں کو کمیشن سے تعاون کا پابند کرتا ہے،الیکشن کمیشن نے صرف اداروں سے موقف لے کر فیصلہ لکھ دیا، دالت کمیشن سے پوچھے آئینی اختیاراستعمال کیوں نہیں کیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انتظامی ادارے تعاون نہ کریں تو آرٹیکل 5 کا اطلاق ہوگا،ہر ادارہ آئین اور شخص قانون پر عمل کرنے کا پابند ہے، الیکشن کے مطابق آرٹیکل 254 الیکشن منسوخ کرنے کا اختیار دیتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کی تاریخ پہلے ہی 90 دن کے بعد کی تھی،کیا 90 دن بعد کی تاریخ درست تھی؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اب بھی عدالت حکم دے تو 90 دن میں الیکشن نہیں ہو سکتا، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے بھی الیکشن تاریخ 90 دن کے بعد کی دی،آرٹیکل 254 کا سہارا کام ہونے کے بعد لیا جا سکتا ہے پہلے نہیں، جسٹس اعجازاالاحسن نے کہا کہ عملی طور پر الیکشن 90 دن میں ممکن نہ ہوں تو عدالت حکم دے سکتی ہے

    دوران سماعت اٹارنی جنرلنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 30 جون تک 170 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف ہے،آئی ایم ایف کا مطالبہ تھا شرح سود میں اضافہ کیا جائے، شرح سود میں اضافے سے مقامی قرضوں میں اضافہ ہوا۔ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا 20 ارب روپے جمع کرنا حکومت کیلئے مشکل کام ہے؟ کیا عام انتخابات کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟ صوبوں کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے بچانا وفاق کی آئینی ذمہ داری ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد وفاق غریب اورصوبے امیر ہوئے ہیں،معاشی صورتحال سے کل آگاہ کروں گا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا تھا الگ الگ الیکشن کروانے کے پیسے نہیں ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکرٹری خزانہ نے الیکشن کمیشن کے بیان پر کہا تھا انہوں نے ایسا کہا ہوگا،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ ترجیحات کا ہے،لیپ ٹاپ کیلئے10ارب نکل سکتے ہیں توالیکشن کیلئے 20 ارب کیوں نہیں؟ فوادچودھری نے کہا کہ ترقی منصوبوں کیلئے بھی ارکان کو فنڈز دیئے گئے ہیں ،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان کو فنڈز دینا عدالتی حکم کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ترقیاتی فنڈز سے متعلق ہدایت لے کر آگاہ کروں گا، جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا الیکشن کیلئے فنڈز دینا صوبے کی ذمہ داری ہے یا وفاق کی؟ کیا ترقیاتی فنڈز کے اعلان کے وقت آئی ایم ایف کی شرائط نہیں تھیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ ترقیاتی فنڈز والی بات شاہد 5 ماہ پرانی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کیلئے فنڈز فراہم کرنا وفاق کی ذمہ داری ہے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت سلپمنٹری گرانٹ جاری کی جا سکتی ہے۔

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

  • عمران خان گھٹیا سیاست سے میرے بیٹے کو دور رکھے، حفیظ اللہ نیازی

    عمران خان گھٹیا سیاست سے میرے بیٹے کو دور رکھے، حفیظ اللہ نیازی

    سابق وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کو اسلام آباد عدالت کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا

    حسان نیازی کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے جوڈیشل کیا تو کوئٹہ پولیس لینے پہنچ گئی، کوئٹہ سے عدالت نے جوڈیشل کیا تو لاہور پولیس حسان نیازی کو لاہور لے آئی، لاہور کے بعد کراچی پولیس حسان نیازی کو کراچی لے گئی، حسان نیازی پر پاکستان کے کئی شہروں میں مقدمے درج ہیں، حسان نیازی کی گرفتاری پرعمران خان سمیت تحریک انصاف کے دیگر رہنما حکومت کے خلاف بیانات دے رہے ہیں اور حسان نیازی کے ساتھ یکجہتی کر رہے ہیں تا ہم عدالت میں شاہ محمود قریشی اور چند اور افراد کے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا

    حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی جو عمران خان کے رشتے دار ہیں اور عمران خان کے شدید ناقد ہیں، وہ عدالتوں میں پہنچ کر بیٹے کا احوال دریافت کرتے نظر آئے ہیں، سابق وزیراعظم عمران خان حسان نیازی کے حوالہ سے مختلف بیانات دیتے آئے ہیں، اب حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی نے عمران خان کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ نہ تو میرے بیٹے کو ننگا کیا گیا ھے اور نہ ہی کوئی ایسی ویسی حرکت کی گئی، جس کا ذکر عمران خان کل رات اپنی تقریر میں کر رہا تھا میں آج عمران خان کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں، اپنی فضول بکواس بند کرے اور اپنی اس گھٹیا سیاست سے میرے بیٹے کو دور رکھے

    حفیظ اللہ نیازی کی بیٹے کی گرفتاری کے بعد یہ پہلا پیغام نہیں بلکہ اس سے قبل بھی وہ کہہ چکے ہیں کہہ عمران خان دوسرے لوگوں کے بچوں کو استعمال کرتا اس کے اپنے بچے لندن میں ہیں،عمران خان ساری زندگی شیشے کے گھر میں رہا ہے یہ اتنا خود غرض انسان ہے اس کو اپنی ذات کے علاوہ کوئی فیلنگ نہیں ہے کہ دنیا میں کوئی اور بھی ایگزیسٹ کرتا ہے میں اپنے بیٹے کی گرفتاری پہ بہت پریشان ہوں۔ عمران خان کے اپنے بچے باہر ہیں، باقیوں کے بچوں کے بارے میں عمران خان کو سوچنا چاہئے، نوجوان ، جو آئے ہوئے ہیں انکے بارے میں عمران خان کیوں نہیں سوچتے، یہ طلبا ،نوجوان بڑے جذباتی ہوتے ہیں،

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

    دوسری جانب کراچی پولیس نے حسان نیازی کو لاہور سے اپنی حراست میں لے لیا ، کراچی پولیس کی 4 رکنی ٹیم نے حسان نیازی کو اپنی حراست میں لیا ٹیم میں ایس آئی اور3 پولیس اہلکار شامل ہیں، تفتیشی حکام کا کہنا ہےکہ حسان نیازی کو تفتیش کے بعد کل کورٹ میں پیش کیا جائے گا، حسان نیازی کے خلاف کراچی کے جمشید کوارٹر تھانے میں مقدمہ درج ہے جس میں ان پر اشتعال انگیز تقاریر کی دفعات شامل ہیں،

  • انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق کیس:حکومتی اتحاد کا سپریم کورٹ فریق بننے کا فیصلہ

    انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق کیس:حکومتی اتحاد کا سپریم کورٹ فریق بننے کا فیصلہ

    اسلام آباد: حکومتی اتحاد نے انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ میں فریق بننے کا فیصلہ کر لیا ہے

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں الیکشن ملتوی کرنے کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست کے بعد حکومتی اتحاد نے فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے آج ن لیگ، پیپلزپارٹی اور جے یو آئی فریق بننے کی درخواست دائر کریں گی-

    انتخابات ملتوی کرنے کا کیس: سپریم کورٹ نے سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا

    حکومتی اتحاد کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) اپنا موقف عدالت میں پیش کریں گی۔

    پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ آج دوبارہ کچھ دیر بعد سماعت کرےگا، بینچ میں جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر ، جسٹس امین الدین اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں۔

    جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کا مقدمہ، فرخ حبیب کی عبوری ضمانت مسترد

  • میرے لیڈر نواز شریف ہیں مریم نواز نہیں؛  سابق وزیراعظم کا مبشر لقمان کے ساتھ تہلکہ خیز انٹرویو

    میرے لیڈر نواز شریف ہیں مریم نواز نہیں؛ سابق وزیراعظم کا مبشر لقمان کے ساتھ تہلکہ خیز انٹرویو

    سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نواز کے سینئر رہنماء شاہد خاقان عباسی نے معروف اینکرپرسن مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے لیڈر نواز شریف ہیں اور مریم نواز نے ابھی کام شروع کیا ہے اور انہیں اپنی لیڈر شپ منوانی ہے جبکہ میں نے ہمیشہ اپنی جماعت کو بھی کہا تھا کہ جب بھی جماعت کے اندر تبدیلی آئے گی تو وہ مریم نواز شریف ہی ہیں کیونکہ جو پارٹی قیادت کی شہزادی ہوتی ہے اس کا جماعت میں اثر ہوتا ہے اور پھر پاکستان میں ابھی اس طرح کا نظام نہیں ہے کہ خاندان کے علاوہ جماعت سے لوگ بھی آسکیں. انہوں نے مزید کہا میں نے پہلے سے کہا تھا کہ جب بھی جنریشن تبدیلی آئے گی تو میں نہیں رہ سکوں گا کیونکہ میں گزشتہ 35 سال سے نواز کا ساتھی ہوں.


    جب مبشر لقمان نے سوال کیا کہ آپ نے مسلم لیگ نواز چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا تو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے جواب دیا کہ میں مسلم لیگ نواز نہیں چھوڑ رہا ہوں لیکن مریم نواز کی قیادت میں ہمارا ہونا منفی اثررکھے گا، کیونکہ ہمارا اس پارٹی کے اسٹرکچر کا حصہ رہنا ممکن نہیں ہے.
    https://www.youtube.com/watch?v=4mLpba4ZpA8
    سینئر اینکرپرسن نے مبشر لقمان نے سوال کیا کہ اگر آج آپ وزیر اعظم ہوتے تو آپ کا وزیر خزانہ کون ہوتا تو سابق وزیر اعظم نے جواب دیا کہ میرے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ہوتے کیونکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالات میں مفتاح اسماعیل بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں حالانکہ دونوں مفتاح اسماعیل اور اسحاق ڈار بھی میرے دوست ہیں لیکن زاتی خیال یہ ہے اس حالات اسحاق ڈار کی جگہ مفتاح کو ہونا چاہئے.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عدالت ایک شخص کے فیصلوں پر انحصار نہیں کر سکتی. سپریم کورٹ ججز
    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

    ایک اور سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج کل تو بینچ کو دیکھ کر فیصلے کی توقع اور اندازہ لگا لیا جاتا ہے ہ کیسا فیصلہ آئے گا جبکہ آج سے قبل جو ماضی میں ایک فیصلہ دیا گیا تھا (ان کا اشارہ نواز بارے فیصلے سے تھا) اس کا حساب کون دے گا؟ اور پھر اس کے بعد جو فیصلوں کی ایک لمبی قطار ہے جبکہ بیلنسنگ ایکٹ بارے سوال پر انہوں نے کہا کہ کسی خرابی کو دوسری خرابی سے دور نہیں کیا جاسکتا ہے البتہ ہاں ان فیصلوں کی درستگی کی ضرورت ہے کیونکہ ایسے فیصلے ملک پر اثر چھوڑتے ہیں.

    ان یہ بھی کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے تاکہ عدلیہ ساکھ بحال ہو، علاوہ ازیں تحریک انصاف بارے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان کی معاشی پالیسیوں نے جڑیں کھوکھلی کردی تھیں اور ملک تباہی کے دہانے پر تھا لہذا ملک کو واپس بہتری کی طرف لانے میں لمبا عرصہ درکار ہے کیونکہ تحریک انصاف نے ملکی معیشت کو تباہ کردیا تھا.

  • فل بنچ تشکیل دے کر سیاسی، مخصوص پالیسی کے فیصلوں کا قلعہ قمع کیا جائے. امان اللہ کنرائی

    فل بنچ تشکیل دے کر سیاسی، مخصوص پالیسی کے فیصلوں کا قلعہ قمع کیا جائے. امان اللہ کنرائی

    سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے سپریم کورٹ کے سینئیر جج اپنے ماضی قریب و بعید کے نظائر کے تناظر میں آج سپریم کورٹ کے دو معزز جج صاحبان جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل کے اختلافی فیصلے کی روشنی میں چیف جسٹس کے شاہی اختیارات کا آئینی تعین کے لئے اس کے بغیر فل بنچ تشکیل دیں جو چیف جسٹس کے آئینی اختیارات کی آئین کے آرٹیکل 176 کے پس منظر میں تشریح کرے

    انہوں نے مزید کہا اس سے قبل 28 فروری 2023 کو بھی جناب جسٹس قاضی فائز عیسی و جناب جسٹس یحی آفریدی صاحب چیف جسٹس کی جانب سے بنچز کی تشکیل پر رجسٹرار آفس و سٹاف کی جانب سے کردار کو غیر آئینی قرار دیا جبکہ چیف جسٹس کو بالواسطہ نااھلی و مس کنڈکٹ کے مرتکب ہونے کے قریب پہنچا دیا اب آج 27 مارچ 2023 کے سپریم کورٹ کے دو معزز جج صاحبان کے آرڈر کو نظر انداز نہ کیا جائے اس مقصد کے لئے فوری فل بنچ تشکیل دے کر سیاسی و مخصوص پالیسی کے فیصلوں کا قلعہ قمع کیا جائے اس سلسلے میں اسد علی کیس PLD 1998 SC161 کے اندر رہنما اصول وضع شدہ ہیں جس میں سینئر Puisne جج کی ھدایت پر بنچ کی تشکیل ہوئی اور چیف جسٹس عہدے سے سبکدوش ہوئے.

    واضح رہے کہ پنجاب اور کے پی الیکشن کی تاریخ کے تعین کے حوالے سے لیے جانے والے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کے حوالے سے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کا تفصیلی فیصلہ سامنے آگیا ہے۔ تفصیلی فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ ور جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ہے کہ از خود نوٹس 4 ججز نے مسترد کیا، آرڈر آف کورٹ 3-4 کا فیصلہ ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کے’ون مین پاور شو‘ کے اختیار پر نظرثانی کرنا ہوگی، سپریم کورٹ کو صرف ایک شخص کے فیصلوں پر نہیں چھوڑا جاسکتا، وقت آگیاہےکہ چیف جسٹس آفس کا ’ون مین شو‘ کا لطف اٹھانےکاسلسلہ ختم کیا جائے، از خود نوٹس کے اختیار کے بارے میں فُل کورٹ کے ذریعے پالیسی بنانا ہوگی۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے از خود نوٹس لیا تھا اور ابتدائی طور پر اس پر 9 رکنی لارجر بینچ بنایا گیا تھا۔ لارجر بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ شامل تھے۔ تاہم سماعت کے دوران جسٹس مندوخیل نے ریمارکس دیے تھے کہ میرے ازخود نوٹس سے متعلق کچھ تحفظات ہیں۔کچھ آڈیو سامنے آئی ہیں، آڈیو میں عابد زبیری کچھ ججز کے حوالے سے بات کر رہے ہیں، ان حالات میں میری رائے میں یہ کیس 184/3 کا نہیں بنتا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عدالت ایک شخص کے فیصلوں پر انحصار نہیں کر سکتی. سپریم کورٹ ججز
    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم
    بعد ازاں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے علاوہ جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی کیس سننے سے معذرت کرلی تھی جس کے بعد پانچ رکنی بینچ نے چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں کیس کی سماعت کی تھی۔ اس کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ 90 روز میں الیکشن کرائے جائیں۔ تاہم اب الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر 2023 کی نئی تاریخ کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد تحریک انصاف معاملہ دوبارہ سپریم کورٹ لے گئی ہے جہاں اس کی سماعت جاری ہے۔

  • انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری

    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری

    اسلام آباد: چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں لارجر بینچ کے روبرو پنجاب اور کے پی میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستوں کی سماعت ہوئی جس میں سپریم کورٹ نے انتخابات ملتوی کرنے پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی: پنجاب اور کے پی انتخابات کے معاملے میں چیف جسٹس پاکستان کی جانب سے بنایا گیا پانچ رکنی لارجر بنچ سماعت کررہا ہےبنچ کی سربراہی چیف جسٹس کر رہے ہیں، بنچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل بھی شامل ہیں۔

    عدالت میں الیکشن کمیشن کی قانونی ٹیم، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان، تحریک انصاف کے وکلاء علی ظفر اور بیرسٹر گوہر پیش ہوئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر استفسار کیا کہ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ الیکشن کا شیڈول کب جاری ہوا تھا؟ آپ کے مطابق الیکشن کی تاریخ آگے کرنا درست نہیں ہے؟ الیکشن کی تاریخ میں توسیع کرنا کیسے غلط ہے آگاہ کریں۔

    پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدالتی حکم پر صدر نے 30 اپریل کی تاریخ مقرر کی، گورنر کے پی نے حکم عدولی کرتے ہوئے تاریخ مقرر نہیں کی، الیکشن کمیشن نے پنجاب میں الیکشن شیڈول جاری کیا، الیکشن کمیشن نے صدر کی دی گئی تاریخ منسوخ کردی عدالتی حکم کی تین مرتبہ عدولی کی گئی، الیکشن کمیشن ازخود انتخابات کی تاریخ نہیں دے سکتا، دوسری خلاف ورزی 90 دن کے بعد الیکشن کی تاریخ دینے کی ہے نگران حکومت کا مقصد انتخابات ہوتا ہے جو 90 روز میں ہونا ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ الیکشن 90 دن سے پانچ ماہ آگے کر دیئے جائیں۔

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ ا لیکشن کمیشن نے آئین کو یا تو تبدیل یا پھر معطل کر دیا ہے، وزارتِ داخلہ و دفاع نے سیکیورٹی اہلکاروں کی فراہمی سے انکار کیا ہے، آئین انتظامیہ کے عدم تعاون پر انتخابات ملتوی کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ اکتوبر میں حالات ٹھیک ہوں گے؟

    جسٹس امین الدین نے کہاکہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انتخابات میں ایسی وجوہات سے تاخیر ہوئی ہو، انتخابات کیلئے فنڈز کس نے فراہم کرنے ہیں؟جسٹس جمال خان مندوخیل نے اس موقع پر کہا کہ سپریم کورٹ آنے سے پہلے ہائیکورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا؟ انتخابات سے متعلق کیس ہائیکورٹ میں بھی زیر التوا تھا،کیا سپریم کورٹ اس کیس کو سن بھی سکتی ہے یا نہیں؟. جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا حکم تھا اس لیے عدالت اس کیس کو سن سکتی ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا موقف تھا کہ وہ پولنگ کی تاریخ مقرر نہیں کرسکتا، اب الیکشن کمیشن نے پولنگ کی نئی تاریخ بھی دے دی ہے، کیا یہ الیکشن کمیشن کے موقف میں تضاد نہیں ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر تمام پانچ ججز کے دستخط ہیں، ایسا نہیں ہے کہ سپریم کورٹ کے دو فیصلے ہوں، فیصلوں میں اختلافی نوٹ معمول کی بات ہیں۔،جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ از خود نوٹس کا جو فیصلہ تھا اس پر تو تمام ججز کے دستخط نہیں۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میرے خیال میں جج جمال خان عدالتی فیصلے پر دستخط نہ ہونے کی بات کر رہے ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اکثریتی حکم کی سمری پر ججز کے دستخط ہیں،اہم سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن صدر مملکت کی دی گئی تاریخ کو بدل سکتا ہے،یہ پہلی بار ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن نے صدر کی دی گئی تاریخ کو بدل دیا ہے،سپریم کورٹ فیصلے بھی موجود نہیں جن میں اس طرح الیکشن کی تاریخ تبدیل کی گئی ہو،ہم نے دیکھنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس صدر کی دی گئی تاریخ کو بدلنے کا اختیار ہے یا نہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 254 کا سہارا لیا ہے، کیا ایسے معاملے میں آرٹیکل 254 کا سہارا لیا جا سکتا ہے؟

    وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ آرٹیکل 254 کا سہارا کام کرنے کے بعد لیا جاسکتا ہے، ایسا نہیں ہوسکتا کہ کام کرنے سے پہلے ہی سہارا لے لیا جائے چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 254 آئین میں دی گئی مدت کو تبدیل نہیں کرسکتا، آرٹیکل 254 آئین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیتا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے پی ٹی آئی کے وکیل سے سوال کیا کہ سپریم کورٹ سے کیا چاہتے ہیں؟وکیل کا موقف تھا کہ سپریم کورٹ آئین اور اپنے حکم پر عملدرآمد کرائے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد ہائیکورٹ کا کام ہے وکیل علی ظفر نے کہا کہ فنڈز نہ ہونے کی وجہ مان لی تو الیکشن کبھی نہیں ہوں گے، معاملہ صرف عدالتی احکامات کا نہیں، سپریم کورٹ کا اختیار اب بھی ختم نہیں ہوا۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ حکم کے راستے میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ رکاوٹ بنا، سپریم کورٹ ہی بہتر فیصلہ کر سکتی ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں۔

    جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مانتے ہیں کہ الیکشن کی تاریخ میں توسیع کی گئی لیکن کیا اس کااختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہے؟ ماضی میں ایسے واقعات ہوئے جس کی وجہ سے انتخابات میں تاخیر ہوئی،انتخابات میں تاخیر بے نظیر بھٹو کی شہادت کے وقت ہوئی، دوسری بارجب1988میں اٹوکریٹک حکومت سے ڈیموکریٹک کو قتدار منتقل ہونا تھی اس وقت ہوئی۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل الیکشن کمیشن نے پنجاب میں 30 اپریل کو شیڈول انتخابات ملتوی کرتے ہوئے 8 اکتوبر کی تاریخ دے دی تھی جبکہ گورنر خیبر پختونخوا غلام علی نے بھی الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر 8 اکتوبر کو صوبائی اسمبلی کے انتخابات کرانے کی تجویز پیش کی تھی-

    جس کے بعد تحریک انصاف نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات ملتوی کرنے کے الیکشن کمیشن اور گورنر کے پی، کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے,آئینی درخواست میں وفاق، پنجاب، کے پی کے، وزارت پارلیمانی امور، وزارت قانون اور کابینہ کو فریق بنایا گیا ہے-

    تحریک انصاف نے مشترکہ درخواستوں میں موقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے آئینی مینڈیٹ اور عدالت کے فیصلے سے انحراف کیا، الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، الیکشن کمیشن کو شیڈول کے مطابق 30 اپریل کو الیکشن کرانے کا حکم دیا جائے۔

    سپریم کورٹ نے انتخابات ملتوی کرنے پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے گورنرز کو بھی بذریعہ چیف سیکرٹری نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل صبح 11:30 بجے تک ملتوی کردی۔