Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • 7 بلین ڈالر کے قرض؛  پاکستان ڈیفالٹ ہونے کے خطرے سے دوچار

    7 بلین ڈالر کے قرض؛ پاکستان ڈیفالٹ ہونے کے خطرے سے دوچار

    7 بلین ڈالر کے قرضے کی وجہ سے پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار ہیں

    بلوم برگ کے مطابق بانڈ ہولڈرز پاکستان کی طرف سے ممکنہ ڈیفالٹ ہونے کے خطرے سے خوف زدہ ہیں کیونکہ بحران زدہ ملک کو کئی ارب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی کا سامنا ہے، جسے وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یا دو طرفہ قرض دہندگان کے رول اوور کے بغیر پورا کرنے کے لیے جدوجہد کرے رہا ہے.

    بلوم برگ نے مزید لکھا کہ ملک کے ڈالر بانڈز جمعرات کو نومبر کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آگئے ہیں جبکہ فِچ ریٹنگز کے مطابق سرمایہ کاروں نے آنے والے مہینوں میں 7 بلین ڈالر کی واپسی کی اپنی صلاحیت کا وزن کیا، بشمول مارچ میں واجب الادا 2 بلین ڈالر، چینی قرضے بھی شامل ہیں.

    عالمی ادارے نے مزید کہا کہ موڈی کی انوسٹرز سروسز کی جانب سے اس ہفتے پاکستان کو مزید گھٹا کر ردی میں ڈال دیا گیا ہے کیونکہ ملک کو بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے جیسے کہ پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر گر رہے ہیں اور افراط زر ریکارڈ بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ پاکستان میں حکام ڈیفالٹ کو روکنے کے لیے آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ قرضے پر اعتماد کر رہے جو کہ ابھی تک مبہم ہے۔

    سنگاپور میں ولیم بلیئر انویسٹمنٹ کے فنڈ مینیجر جونی چین جنہوں نے حال ہی میں پاکستانی قرضوں میں کمی کے بارے کہا: "ہم پہلے سے ہی خطرات کا انتظام کر رہے ہیں کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔

    جبکہ بلوم برگ نے کہا کہ پاکستان کے اگلے سال اپریل میں واجب الادا 8.25 فیصد بانڈ مسلسل تیسرے دن ڈالر پر 0.8 سینٹ کم ہوکر 51.1 سینٹ پر بتائے گئے۔ موڈیز نے بدھ کے روز ایک نوٹ میں کہا کہ جون کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے ملک کی بیرونی مالیاتی ضروریات کا تخمینہ تقریباً 11 بلین ڈالر ہے جس میں 7 بلین ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی بھی شامل ہے۔

    دریں اثناء وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کو فروری میں چائنہ ڈویلپمنٹ بینک سے 700 ملین ڈالر کا قرضہ ملا ہے۔ جبکہ وزیر اعظم لی کیچیانگ نے آئی ایم ایف کے سربراہ کو بتایا کہ چین "تعمیری طریقے سے” بہت زیادہ مقروض ممالک کی مدد کے لیے کثیر الجہتی کوششوں میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے.

  • پی ٹی آئی کا فوری انتخابی مہم شروع کرنیکا فیصلہ، پرویزالہیٰ

    پی ٹی آئی کا فوری انتخابی مہم شروع کرنیکا فیصلہ، پرویزالہیٰ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پنجاب، تحریک انصاف کے رہنما چودھری پرویز الہیٰ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے انتخابی مہم فوری شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے،

    پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ عمران خان ہفتے کی شام سے انتخابی مہم کا آغاز کر دیں گے، ن لیگ پریشان ہے کہ اس کا سیاسی مستقبل تاریک ہو چکا ہے، عمران خان سیاست کے ہیرو ہیں ، عوام کے دلوں میں بستے ہیں، حکمران عدلیہ کوتقسیم کرنےکی سازش کر رہے ہیں،عدالتی بینچ کے فیصلوں سے مرضی کا مطلب اخذ کیا جا رہا ہے، عدلیہ کے خلاف کوئی سازش برداشت نہیں کریں گے،حکومت آئین اورعدلیہ سے کھیلنےکی کوشش نہ کرے ،آئین اور عدلیہ سےکھیلنے کی کوشش کی گئی تو وکلا بھرپور مزاحمت کریں گے پی ڈی ایم کو الیکشن کے نام سے سیاسی موت نظر آ رہی ہے،

    ،ڈی سی کیماڑی کے دفترکے باہر پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران کارکنان میں تصادم

     پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کا کراچی بلدیاتی الیکشن کے بعد رابطہ

    متنازع ٹوئٹ کیس؛ اعظم خان سواتی کے بیٹے نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف عدم اعتماد کا خط واپس لے لیا۔
    ڈومیسٹک کرکٹرز کی سن لی گئی، پیر سے بقایاجات کی ادائیگی کا کام شروع

    تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو جانبدار بنادیا، مذاق بنا دیا گیا ہم بار بار خبردار کر تے رہے کہ ان سے معیشت نہیں چلنی،گزشتہ روز واضح فیصلے پر زیر قانون اور اٹارنی جنرل نے کیا کہا سب کو علم ہے اسحاق ڈار چار ماہ آئی ایم ایف کو آنکھیں دکھاتے رہے، آج دوست ممالک، عالمی اداروں کو پی ڈی ایم پر اعتماد نہیں رہا، شوکت ترین اورعمران خان پرجعلی پرچے بنوا دیئے گئے،ملک کو نئے مینڈیٹ کی ضرورت ہے، عوام مایوس ہوچکے ہیں ، مایوسی غصے میں تبدیل ہورہی ہے، ہمارا ملک 11 ماہ پہلے کہاں کھڑا تھا، اب کہاں ہے، کوئی امید نہ رکھے کہ یہ لوگ باہر نکل سکیں گے، دنیا کو پتہ ہے کہ پی ڈی ایم حکومت منتخب نہیں،عمران خان نے لیگل ٹیم تشکیل دے دی ہے، جعلی کیسز سے کچھ نہیں ہوتا معاملات آگے چلے گئے ،سنا ہے حکمرانوں نے ذمہ داروں کو کہا کہ الیکشن ہوئے تو آئی ایم ایف سے بات نہیں کرینگے

  • اسلام آباد میں 120 دن میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا حکم

    اسلام آباد میں 120 دن میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد میں 120 دن میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دے دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق انٹراکورٹ اپیلیں نمٹا دیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کی گئی تھیں جن میں وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کروانے سے متعلق مطالبات کئے گئے تھے، الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم کے باوجود ایک روز میں الیکشن ممکن نہں تھے، آج عدالت نے درخواستیں نمٹانے ہوئے متعلقہ اداروں کو بلدیاتی الیکشن کے انتظامات کرنے کا حکم دیتے ہوئے 120 روز میں انتخابات منعقد کروانے کا حکم دے دیا،

    کراچی کو ایسے فرد کی ضرورت ہے جو اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لیکر چلے۔

    ، جماعت اسلامی کو چاہیے پیپلزپارٹی کی اکثریت کو مانے

    ،ڈی سی کیماڑی کے دفترکے باہر پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران کارکنان میں تصادم

     پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کا کراچی بلدیاتی الیکشن کے بعد رابطہ

    متنازع ٹوئٹ کیس؛ اعظم خان سواتی کے بیٹے نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف عدم اعتماد کا خط واپس لے لیا۔
    ڈومیسٹک کرکٹرز کی سن لی گئی، پیر سے بقایاجات کی ادائیگی کا کام شروع

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے انٹراکورٹ اپیل دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ بے شمار وجوہات پر الیکشن  ممکن ہی نہیں تھے، بیلٹ پیپرز چھپوائی کے بعد پرنٹنگ کارپوریشن میں موجود تھے جنہیں 14 ریٹرننگ افسران کے دفاتر میں پہنچانا تھا، 14 ہزارسے زائد اسٹاف نے الیکشن ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دینا تھے۔

  • لیفٹیننٹ جنرل ر امجد شعیب کو عدالت نے کیا کیس سے ڈسچارج

    لیفٹیننٹ جنرل ر امجد شعیب کو عدالت نے کیا کیس سے ڈسچارج

    اسلام آباد کی عدالت نے لیفٹیننٹ جنرل ر امجد شعیب کو کیس سے ڈسچارج کر دیا

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج طاہرعباس سِپرا نے سماعت کرتے ہوئے امجد شعیب کو کیس سے ڈسچارج کیا،قبل ازیں اسلام آباد کی عدالت نے لیفٹیننٹ جنرل ر امجد شعیب کے جسمانی ریمانڈ پر نظرِثانی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کیا تھا دورانِ سماعت امجد شعیب کے وکیل میاں اشفاق نے دلائل دیئے تھے، پراسیکیوٹر کی جانب سے امجد شعیب کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی مخالفت کی گئی ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سِپرا نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو اب سنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کو اسلام آباد پولیس نے ان کی رہائش گاہ سے گرفتارکیا تھا،ان کے خلاف مقدمہ مجسٹریٹ اویس خان کی مدعیت میں درج ہے

    لانگ مارچ میں فائرنگ، سیکورٹی کی ذمہ دار پنجاب پولیس، دیں جواب پرویز الہیٰ

    ویڈیو:عمران خان پر حملہ کرنیوالا ملزم گرفتار،عمران خان کیسے آئے باہر؟

     عمران خان کو پتہ تھا کہ انہیں ہٹانے کی منصوبہ بندی جاری ہے،

  • جو لیڈر خود باہر نہیں نکل سکتا وہ قوم کی حفاظت کیا کرے گا،سراج الحق

    جو لیڈر خود باہر نہیں نکل سکتا وہ قوم کی حفاظت کیا کرے گا،سراج الحق

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی)گوجرانوالہ کے نجی میرج ہال میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ جو لیڈر خود باہر نہیں نکل سکتا وہ قوم کی حفاظت کیا کرے گا،
    ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں قانون کی حکمرانی ہو ، نظام اس وقت تبدیل ہو گا جب لوگوں کے رویے اور اخلاق بھی تبدیل ہو نگے۔
    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہربچے کو تعلیم دے ، ہم ملک میں ایک نظام تعلیم دینا چاہتے ہیں۔
    سراج الحق نے کہا کہ ہم عدالتی نظام کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں ہمارا عدالتی نظام یکسر مختلف ہوگا، ہماری حکومت آئی تو چیف جسٹس کے ہاتھ میں قرآن کریم تھمائیں گے، تمام مساجد کو تعلیمی اداروں میں تبدیل اور بنجر زمینوں کو سرسبزوشاداب کریں گے، عوام کا پیسہ جو سکیورٹی اور پروٹوکول پر خرچ ہو رہا ہے ہم اس کلچر کا خاتمہ کریں گے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس ملک کی معیشت کو بہتر بناسکتے ہیں لیکن کوئی اور بہتر نہیں کر سکتا ، جرنیلوں اور دیگر پارٹیوں کو کتنے مواقع ملے لیکن سب نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ( آئی ایم ایف ) کے دروازے پر دستک دی، اسد عمر ، شوکت ترین ، حفیظ شیخ ، اسحاق ڈار سب نے آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹایا ، ہم اصل قرض واپس کریں گے اور سود سے معافی مانگیں گے۔

  • عمران خان کی نااہلی کی درخواست،اسحاق ڈار کے حلف سے متعلق فیصلہ پیش کرنیکا حکم

    عمران خان کی نااہلی کی درخواست،اسحاق ڈار کے حلف سے متعلق فیصلہ پیش کرنیکا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،عمران خان کی نااہلی کی درخواست پر لارجر بینچ نے سماعت کی

    جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب محمد طاہر لارجر بینچ میں شامل تھے،وکیل نے کہا کہ عمران خان نے متفرق درخواست دائر کی ہے جس پر اعتراض عائد کیا گیا، نادرا نے بائیومیٹرک تصدیق سے انکار کر دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کسی د کان پر چلے جائیں وہاں بائیومیٹرک ہو جائے گا،عمران خان کے وکیل نے گزشتہ سماعت پر اعتراض اٹھایا تھا،عمران خان کے وکیل کا موقف ہے کہ قومی اسمبلی کے رکن نہیں ہیں، وکیل سلمان اکرم نے کہا کہ عمران خان کے رکن قومی اسمبلی نہ ہونے پر درخواست قابل سماعت نہیں، وکیل حامد علی نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ عمران خان کو نااہل قرار دیا جائے عمران خان حلف نہ اٹھا کر بھی ممبر قومی اسمبلی ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا حلف اٹھانے کیلئے کوئی مدت متعین ہے؟ وکیل حامد علی نے کہا کہ قانون حلف لینے کیلئے کوئی مدت مقرر نہیں کرتا،چودھری نثار حلف نہ اٹھا کر بھی ممبر صوبائی اسمبلی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسحاق ڈار کے حلف سے متعلق معاملہ بھی الیکشن کمیشن کے سامنے آیا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کو اسحاق ڈار کے حلف سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا،اور کہا کہ اسحاق ڈار کے حلف سے متعلق فیصلہ عدالت کے سامنے پیش کریں،وکیل حامد علی شاہ نے کہا کہ چودھری نثار حلف نہ اٹھا کر بھی ممبر صوبائی اسمبلی رہے،

    حامد علی شاہ نے دوران سماعت اپنے ہی لکھے پرانے فیصلے کا حوالہ دیا،جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو آپ کا ہی فیصلہ ہے، چیف جسٹس کی نشاندہی پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے،عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلے میں امیدوار کیلئے بیان حلفی جمع کرانے کی شرط رکھی تھی، وکیل نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل کے پاس غلط معلومات ملنے پر الیکشن کالعدم قرار دینے کا اختیار ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس میں ایسا نہیں ہوا، اس الیکشن کو تو کسی نے چیلنج ہی نہیں کیا،فیصلے کیمطابق اہلیت دیکھنے کا اختیار ہائیکورٹس اور عدالتوں کا ہے، اس فیصلے کو بھی دیکھ لیں گے، حبیب اکرم کیس میں سپریم کورٹ نے بیان حلفی کاغذات کا حصہ بنایا،فیصلے کے مطابق زیر کفالت بچوں کی تفصیلات بتانا لازم تھیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے مطابق یہ تفصیلات لازم نہیں ہیں،وکیل نے کہا کہ اثاثوں کی فہرست میں بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات بتانی ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ اگر تفصیلات غلط جمع کرائی گئی ہوں تو الیکشن ایکٹ کیا کہتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اگر تفصیلات غلط ہوں تو یہ کرپٹ پریکٹس میں آئے گا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ غلط تفصیلات پر الیکشن کمیشن نے 120 دن کے اندر ایکشن لینا ہوتا ہے، اگر الیکشن کمیشن نے ایکشن نہیں لیا تو پھر بس نہیں لیا،

    وکیل نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے مطابق پارٹی سربراہ کو پبلک آفس ہولڈر تصور کیا جائے گا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل سلمان اکرم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ تحمل کریں، انکی بات بھی سن لیں کوئی جلدی نہیں ہے، کیا یہ معاملہ الیکشن ٹربیونل میں تو نہیں گیا؟ وکیل نے کہا کہ معاملہ ٹربیونل میں گیا لیکن وہاں میرٹ پر فیصلہ نہیں ہوا، عدالت نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن عمران خان کے خلاف 2 ریفرنسز مسترد کر چکا ہے؟ وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کے خلاف ریفرنس تکنیکی بنیادوں پر خارج کیے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اگر بیان حلفی غلط ثابت ہوتا ہے تو اسکے کیا نتائج ہونگے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ غلط بیان حلفی پر 62 ون ایف لگتا ہے،عدالت نے کہا کہ ہمارے سامنے فیصل واوڈا کیس موجود ہے، اسکو دیکھ لیجئے گا،

  • انتخابات ازخود نوٹس کا تحریری فیصلہ جاری

    انتخابات ازخود نوٹس کا تحریری فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات ازخود نوٹس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا

    13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں 2 ججز کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کہ نگران حکومت الیکشن کمیشن کو تمام سہولتیں فراہم کرنے کی پابند ہیں یہ وفاق کی ڈیوٹی بھی ہے کہ وفاق کی ایگزیکٹو اتھارٹی الیکشن کمیشن کی مدد کریگی 9 اپریل کو انتخابات ممکن نہیں تو مشاورت کے بعد پنجاب میں تاریخ بدلی جاسکتی ہے مخصوص مدت میں الیکشن نہ ہوسکیں تو آرٹیکل 254 لاگو ہوتا ہے انتخابات جمہوریت اورآئین کا بنیادی حصہ ہیں ہائیکورٹس3 روز میں کیسز کا فیصلہ کریں ،کے پی میں انتخابات کیلئے صدر مملکت کی طرف سے دی گئی تاریخ کالعدم قراردے دی گئی، اکثریتی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ کے پی میں انتخابات کی تاریخ کااختیار گورنر کو حاصل ہے،گورنر کے پی الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد تاریخ دیں

    سپریم کورٹ نے پنجاب الیکشن کیلئے صدر مملکت کی طرف سے دی گئی تاریخ آئینی قراردے دی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گورنر اسمبلی تحلیل کرنے پر دستخط نہ کرے وہاں تاریخ دینے کااختیار صدر کو ہے صدر مملکت نے پنجاب کیلئے 9 اپریل کی تاریخ دی جو عملی طور پر نافذ العمل نہیں ،صدر مملکت الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد پنجاب کیلئے دوبارہ تاریخ دیں ،سپریم کورٹ نے 90 روز میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کرانے کا حکم دیدیا، عدالت نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 222 میں کہاگیاہے کہ انتخابات وفاق کا موضوع ہے ،اسمبلی تحلیل ہونے کے 90 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں ، انتخابات کی تاریخ کا اعلان گورنر کی آئینی ذمہ داری ہے،الیکشن کمیشن فوری طور پر صدر مملکت کو انتخابی تاریخ کی سفارش کرے

    جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کے اختلافی نوٹ تحریری فیصلے کا حصہ ہیں،اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ازخودنوٹس لینے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ازخودنوٹس جلدبازی میں لیا گیا،سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس کا اختیار استعمال نہیں کرنا چاہئے تھا، معاملہ ہائیکورٹس میں تھا تو سپریم کورٹ نوٹس نہیں لے سکتی تھی،لاہور ہائیکورٹ پہلے ہی مقدمے کا فیصلہ کر چکی ہے ہائیکورٹ میں معاملہ ازخودنوٹس کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا،ہائیکورٹس زیرالتوا مقدمات کا جلد فیصلہ کریں

    فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ گورنر اسمبلی تحلیل کرے تو 90 دن میں انتخابات لازمی ہیں،گورنر اسمبلی تحلیل کرے تو تاریخ بھی دے گا،خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ دینا گورنر کی ذمہ داری ہے ،پنجاب میں انتخابات کی تاریخ دینا صدر کی ذمہ داری ہے گورنر فیصلہ نہ کرے تو صدر تاریخ دے سکتا ہے گورنر کے حکم پر اسمبلی تحلیل ہوئی ہے تو گورنر نے تاریخ دینی ہے گورنر کو اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے ،سپریم کورٹ نے صدر مملکت کا پنجاب میں انتخابات کی تاریخ دینا درست قرار دیدیا،عدالت نے کہا کہ صدر الیکشن کمیشن کی مشاورت کے ساتھ تاریخ کا اعلان کریں،ہر ممکن حد تک 90 دن میں انتخابات یقینی بنائے جائیں،الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 اور 58 کو مدنظر رکھ کر تاریخ دی جائے،گورنر خیبرپختونخوا فوری طور پر انتخابات کی تاریخ دیں، تمام وفاقی و صوبائی ادارے الیکشن کمیشن کی معاونت کریں،اداروں کو سکیورٹی سمیت ہر طرح کی امداد یقینی بنانے کا حکم دے دیا گیا،

    سپریم کورٹ نے تحریری فیصلے میں مزید کہا کہ نگران حکومت الیکشن کمیشن کو تمام سہولتیں فراہم کرنے کی پابند ہیں، یہ وفاق کی ڈیوٹی بھی ہے کہ وفاق کی ایگزیکٹو اتھارٹی الیکشن کمیشن کی مدد کریگی،9 اپریل کو انتخابات ممکن نہیں تو مشاورت کے بعد پنجاب میں تاریخ بدلی جاسکتی ہے مخصوص مدت میں الیکشن نہ سکیں تو آرٹیکل 254 لاگو ہوتا ہے، انتخابات جمہوریت اور آئین کا بنیادی حصہ ہیں،ہائیکورٹس3 روز میں کیسز کا فیصلہ کریں

  • پنجاب خیبرپختونخوا انتخاب، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    پنجاب خیبرپختونخوا انتخاب، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے از خود نوٹس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبلیوں کے انتخابات 90 روز میں ہوں گے۔

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے فیصلہ سنانے کا آغاز قرآن کریم کی آیت سے کیا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ جنرل انتخابات کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے، آئین میں انتخابات کے لیے 60 اور 90 دن کا وقت دیا گیا ہے، اسمبلی کی تحلیل سے 90 روز میں انتخابات ہونا لازم ہیں، پنجاب اسمبلی گورنر کے دستخط نہ ہونے پر 48 گھنٹے میں خود تحلیل ہوئی، خیبر پختون خوا اسمبلی گورنر کی منظوری پر تحلیل ہوئی، گورنر کو آئین کے تحت 3 صورتوں میں اختیارات دیے گئے۔عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ گورنر آرٹیکل 112 کے تحت، یا وزیرِ اعلیٰ کی ایڈوائس پر اسمبلی تحلیل کرتے ہیں، آئین کا آرٹیکل 222 کہتا ہے کہ انتخابات وفاق کا سبجیکٹ ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ گورنر اور صدر کو انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا اختیار دیتا ہے، اگر اسمبلی گورنر نے تحلیل کی تو تاریخ کا اعلان بھی گورنر کریں گے، اگر گورنر اسمبلی تحلیل نہیں کرتے تو صدرِ مملکت سیکشن 57 کے تحت اسمبلی تحلیل کریں گے، صدرِ مملکت کو انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا اختیار حاصل ہے، انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کی آئینی ذمے داری گورنر کی ہے، گورنر خیبر پختون خوا نے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کر کے آئینی ذمے داری سے انحراف کیا، الیکشن کمیشن فوری طور پر صدرِ مملکت کو انتخابات کی تاریخ تجویز کرے۔سپریم کورٹ نے اپنےفیصلے میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد صدرِ مملکت پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں، گورنر خیبر پختون خوا صوبائی اسمبلی میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ہر صوبے میں انتخابات آئینی مدت کے اندر ہونے چاہئیں، تمام وفاقی اور صوبائی ادارے انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کریں، وفاق الیکشن کمیشن کو انتخابات کے لیے تمام سہولتیں فراہم کرے، عدالت انتخابات سے متعلق یہ درخواستیں قابلِ سماعت قرار دے کر نمٹاتی ہے۔

    فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کا اختلافی نوٹ بھی پڑھوں گا۔جس کے بعد چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے اختلافی نوٹ پڑھتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کے تحت یہ کیس قابلِ سماعت نہیں، عدالت کو اپنا 184/3 کا اختیار ایسے معاملات میں استعمال نہیں کرنا چاہیے، انتخابات پر لاہور ہائی کورٹ فیصلہ دے چکی ہے،

    سپریم کورٹ ہائی کورٹ میں زیرِ التواء معاملے پر از خود نوٹس نہیں لے سکتی، پشاور اور لاہور ہائی کورٹ نے 3 دن میں انتخابات کی درخواستیں نمٹائیں، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللّٰہ کے نوٹس سے اتفاق کرتے ہیں، انتخابات پر از خود نوٹس کی درخواستیں مسترد کرتے ہیں، اس معاملے پر از خود نوٹس بھی نہیں بنتا تھا۔سپریم کورٹ نے فیصلہ 2 کے مقابلے میں 3 ججز کی اکثریت سے دیا، 3 ججز نے فیصلے سے اتفاق جبکہ 2 ججز نے اختلاف کیا۔

    بینچ کے دو ممبران جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض کیا ہے۔فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر سپریم کورٹ کے کمرۂ عدالت نمبر 1 میں وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے رہنما بڑی تعداد میں موجود ہیں، کمرۂ عدالت نمبر 1 میں ساؤنڈ سسٹم بھی چیک کیا گیا۔

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے گزشتہ روز فیصلہ محفوظ کیا تھا۔چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے 2 سماعتیں کیں۔جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر بینچ میں شامل ہیں۔

  • توشہ خانہ کیس : عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    توشہ خانہ کیس : عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    اسلام آباد: توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیےگئے۔

    باغی ٹی وی : توشہ خانہ مقدمہ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کیس کی سماعت ہوئی۔سیشن کورٹ اسلام آباد نے وشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کے ناقابل وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفر اقبال نے محفوظ فیصلہ سنادیا،ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

    ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کے بعد پی ٹی آئی کارکن سیشن کورٹ کے باہر جمع ہونے لگے ہیں –

    قبل ازیں عمران خان کے وکیل علی بخاری اور الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن عدالت پیش ہوئے۔ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے کی۔ سماعت کے آغاز پر عمران خان کے وکیل نے پیشی کے لیے پانچ دن کی مہلت دینے کی استدعا کی تھی۔

    دوران سماعت، وکیل علی بخاری اور الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ وکیل علی بخاری نےکہا کہ آپ الیکشن کمیشن کے وکیل ہیں اور وکیل ہی رہیں، ترجمان نہ بنیں،عمران خان کچھ دیر پہلے لاہور سے نکل پڑے ہیں عمران خان نےجوڈیشل کمپلیکس کی دو عدالتوں میں پیش ہونا ہے اس لیے عمران خان آج اس عدالت میں پیش نہیں ہو سکیں گے۔

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ عدالت کا مسئلہ نہیں عمران خان کہاں سے آرہے ہیں، یہ عدالت میں پیش ہی نہیں ہونا چاہتے لیکن ہم اس کیس پر ہر دن سماعت کے لیے تیار ہیں، عمران خان دوسری عدالتوں میں پیش ہو رہے تو اس عدالت میں کیوں نہیں؟

    وکیل عمران خان نے کہا کہ میں آج عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے کے قابل نہیں ہوں، اگر عمران خان عدالتی وقت میں جوڈیشل کمپلیکس سے نکل آئے تو ہم پیش ہو جائیں گے۔

    جج ظفر اقبال نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کونسا طریقہ ہے کہ عمران خان ادھر پیش نہیں ہوسکتے اور جوڈیشل کمپلیکس پیش ہوجائیں گے، ادھر کے لے وقت نہیں بچے گا یہ کونسا طریقہ ہے۔ یہاں فرد جرم عائد ہونا ہے اس لیے ادھر آجائیں اور جب فرد جرم عائد ہوجائے تو پھر چلے جائیں۔

    عدالت نے عمران خان کی حاضری ضروری قرار دی تھی۔

    واضح رہے کہ آج 4 مختلف کیسز میں چیئرمین پی ٹی آئی کی انسداد دہشت گردی عدالت اور بینکنگ کورٹ سمیت سیشن عدالت کے 2 کیسز میں پیشی تھی جب کہ انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی پیش ہونا ہے۔

    عمران خان انسداد دہشت گردی عدالت اور بینکنگ کورٹ میں پیش ہوئے جہاں ان کی ضمانتیں منظور کرلی گئیں۔

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کیسز مقرر کرنے کے طریقہ کار کا نوٹس لے لیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کیسز مقرر کرنے کے طریقہ کار کا نوٹس لے لیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کیسز مقرر کرنے کے طریقہ کار کا نوٹس لے لیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو طلب کر لیا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ میرے بینچ کے سامنے 2021 کے کیسز کیوں لگائے ہیں؟کئی سا ل پرانے مقدمات کو چھوڑ کر نئے کیوں مقرر کیے جاتے ہیں میرے 2 رکنی بینچ کو کیوں تبدیل کیا گیا ؟گزشتہ روز کی لسٹ میں جسٹس حسن اظہر رضوی تھے،آج جسٹس یحییٰ آفریدی کے ساتھ بینچ بنایا گیا،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکم دیا کہ رجسٹرار تمام ریکارڈ لیکر15منٹ کے اندر پیش ہوں،مقدمات پہلے آئیں پہلے پائیں کے اصول کے مطابق مقرر کیوں نہیں ہوتے ؟ میں سائلین کو کیا جواب دونگا؟

    رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی اور ایڈیشنل رجسٹرار عدالت میں پیش ہو گئے سپریم کورٹ نے زیر التوا تمام پرانے مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا،عدالت نے حکم دیا کہ مقدمات مقرر کرنے کا طریقہ کار بھی واضح کیا جائے، جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس یحیٰی آفریدی نے رجسٹرار کو ساڑھے 11 بجے دوبارہ طلب کر لیا

    دوبارہ سماعت ہوئی تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کئی سال سے سپریم کورٹ میں پڑے مقدمات مقرر کیوں نہیں ہوتے،میرٹ کے بغیر مرضی کے مقدمات مقرر کر دیئے جاتے ہیں ،ہمارے سوالات کا جواب ایڈیشنل رجسٹرار دے رہے ہیں کیا چارج انکے پاس ہے، رجسٹرار بیچارے کو تو کچھ پتا ہی نہیں ہے،1999سے اپیلیں پڑی ہیں مگر 2021 کے مقدمات پہلے لگ رہے ہیں،عدالت نے مقدمات کی سماعت کے طریقہ کار پر دو فیصلے دیئے ہیں مجھ سمیت کوئی بھی جج کسی کیس کو پہلے مقرر کرنے کا کہے تو انکار کر دینا چاہیے،

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر آپ عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ایڈیشنل رجسٹرار کے مطابق تین تین مختلف کیٹیگری کی اپیلیں مقرر ہوتی ہیں،یہ تو کوئی طریقہ نہیں کہ مرضی کی اپیلیں مقرر کی جائیں،

    شیخوپورہ سے ہمیں اسلام آباد لا کر چھوڑ دیا گیا، خاتون کی دکھ بھری کہانی

    بڑے اسکولز میں کس طرح کے بگڑے بچے پڑھتے ہیں؟

    فاٹا کے جرگوں میں لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ 15 لاکھ میں ڈیل ڈن

    مردانہ کمزوری کی حقیقت کیا؟ہم ایسے سوالات کیوں نہیں اٹھاتے؟

    جیلیں تیار کھلاڑی فرار