Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • الیکشن کمیشن کا کردار ہر صورت میں اہم ہے،چیف جسٹس

    الیکشن کمیشن کا کردار ہر صورت میں اہم ہے،چیف جسٹس

    پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات ازخود نوٹس کی سماعت جاری ہے،آج عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت شروع ہو گئی۔ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے لیے 5 رکنی نیا بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر بھی نئے بینچ کا حصہ ہیں۔

    چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ اگر انتخابات کے لیے حالات سازگار نہیں تو اس کی وجوہات بتائی جائیں۔جسٹس محمد علی مظہر نےکہا کہ الیکشن کی تاریخ آئےتو ہی فیصلہ ہوگا کہ اس وقت انتخابات ہوسکتےہیں یا نہیں، پورا مہینہ ضائع کردیا کہ گورنر نے مشاورت کا کہا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ امن وامان کا معاملہ گورنرکا نہیں الیکشن کمیشن کا ہے، کیا امن وامان کا معاملہ انتخابات کی آئینی راہ میں آسکتا ہے؟-جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا یہ درست نہیں کہ گورنر کا اقدام صدر کا اقدام ہوتا ہے؟ وکیل عابد زبیری نے کہا کہ اگر گورنر اسمبلیاں ختم نہیں کرتا تو پھر کیا صورتحال ہوگی، اس پر دلائل دوں گا،آرٹیکل 224 اے کے مطابق اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد صدر یا گورنر قائم مقام حکومت بنائیں گے-

    صدراسلام آباد ہائیکورٹ بار نےکہا کہ آرٹیکل105/3میں تاریخ دینے کی بات کی گئی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا حکومت تا ریخ دینے پر ایڈوائس نہیں کرسکتی؟ ،وکیل عابد زبیری نےکہا کہ ایسی کوئی قد غن نہیں لیکن حکومت نےایسی ایڈوائس نہیں کی، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ پھر آج اس پر ایڈوائس کروالیں-

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ 90 دن کا وقت اسمبلی تحلیل ہونے کیساتھ شروع ہو جاتا ہے،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟-صدراسلام آباد ہائیکورٹ بار نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ اور نگران حکومت کا قیام ایک ساتھ ہوتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ کیا گورنر نگران حکومت کی ایڈوائس مسترد کر سکتا ہے؟وکیل عابد زبیری نےکہا کہ الیکشن کی تاریخ دینےکا اختیار گورنر کا ہے وزیر اعلیٰ کا نہیں،گورنر وزیر اعلیٰ کی ایڈوائس پر عملدرآمد کرنے کا پابند ہے-جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نگران وزیر اعلیٰ اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس کرے تو کیا گورنر اس کا بھی پابند ہے؟،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ نگران حکومت صرف محدود اختیارات کے تحت کام کر سکتی ہے-چیف جسٹس نے عابد زبیری سے مکالمہ کیا کہ آپ 105 آرٹیکل میں ترمیم کے بعد کی صورتحال بتا رہے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے مکالمے میں کہا کہ یہ معاملہ شاید صدر کا ہے وکیل عابد زبیری نے کہا کہ ایسی صورتحال میں جب گورنر کردار ادا نہ کریں تو صدر کو اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے-

    صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بارعابد زبیری نے کہا کہ اسمبلیاں تحلیل ہوتی ہیں خاص طور پر جب عام انتخابات کی بات ہو تو پھر 90دن میں تاریخ دینا ضروری ہے، سیف اللہ کیس میں 12 ججز نے انتخاب کے عمل کو لازمی قرار دیا-جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 48 کہتا ہے کہ صدر کا ہر عمل اور اقدام حکومت کی سفارش پر ہوگا،انہوں نے استفسار کیا کہ کیا موجودہ یا سابقہ حکومت انتخاب کے اعلان کا کہے گی؟-چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کی تاریخ دینا ایڈوائس پر ہوگا،صدر اسلام آباد ہائیکورٹ نے دلائل میں کہا کہ آئین میں اسمبلی کی تحلیل کے 4 طریقے بتائے گئے ہیں-جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ نگران حکومت تو 7 روز بعد بنتی ہے،آئین کی مختلف شقوں کی ہم آہنگی ضروری ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے ریما رکس دیئے کہ پنجاب کے کیس میں وزارت قانون نے نوٹیفکیشن جاری کیا گورنر نے نہیں،عابد زبیری نے کہا کہ آئین آرٹیکل 112 کے مطابق عدم اعتماد ایڈوائس پر یا پھر 48 گھنٹے میں حکومت ختم ہوسکتی ہے-

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین کے مطابق آج بھی حکومت گورنر سے انتخاب کا کہہ سکتی ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ اگر حکومت کی تاریخ کے حوالے سے ایڈوائس آجائے تو گورنر کیسے انکار کرسکتا ہے؟ جس پر وکیل عابد زبیری نے بتایا کہ پنجاب میں 22 جنوری کو نگران حکومت آئی تھی،میں عدالت کو بتانا چاہتا ہوں صدر انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرسکتا ہے-چیف جسٹس عمر عطابندیال نے استفسار کیا کہ اگرصدر تاریخ دے سکتے ہیں تو پھر تاریخ دینے میں تاخیر کیوں ہوئی؟ ،عابد زبیری نے جواب میں کہا کہ صدر کے وکیل موجود ہیں وہ جواب دے سکتے ہیں-چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر صدر الیکشن کی تاریخ مشاورت سے دے سکتے ہیں توکیا گورنر بھی ایسا کرسکتے ہیں؟ ،مشاورت شاید الیکشن کمیشن کے ساتھ ہوگی-جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اگر گورنر الیکشن کرانے پر مشاورت کرتے ہیں توپھروہ وسائل سے متعلق بھی پوچھ سکتے ہیں ؟ وکیل عابد زبیری نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن یا پھرگورنر انتخابات کی تاریخ ہر صورت میں دے سکتا ہے-جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ آئین واضح ہے کہ اسمبلی تحلیل ہونے پر گورنر تاریخ دے گا، گورنر کا تاریخ دینے کا اختیار دیگر معمول کے عوامل سے مختلف ہے -جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ کیا نگران حکومت پر پابندی ہے کہ گورنر کو تاریخ تجویز کرنے کا نہیں کہہ سکتی؟کیا گورنر کو اب بھی سمری نہیں بھجوائی جا سکتی ؟ -صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے کہا کہ آئین کی منشاء کے مطابق 90 دن میں انتخابات ہونا ہے ، نگران کابینہ نے آج تک ایڈوائس نہیں دی تو اب کیا دے گی-

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نگران کابینہ کی ایڈوائس کے اختیار پر اٹارنی جنرل کو بھی سنیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ گورنر جب بھی تاریخ دے گا تو 52 دن کا وقت اپنے ذہن میں ضرور رکھے گا، وکیل عابد زبیری نےدلائل میں کہا کہ الیکشن ایکٹ کے تحت صدر الیکشن کمیشن سے مشاورت کر کے تاریخ دی سکتا ہے، الیکشن ایکٹ آئین کے آرٹیکل 222 کی تحت بنایا گیا ہے-چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے استفسار کیا کہ صدر نے الیکشن کی تاریخ دینے میں تاخیر کیوں کی ؟شاید صورتحال واضح نہ ہونے پر تاخیر ہوئی ،گورنر الیکشن کی تاریخ کے لیے کس سے مشاورت کریں گے؟-جس پر وکیل نے بتایا کہ مشاورت الیکشن کمیشن سے ہی ہوسکتی ہے-جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ صدر نے الیکشن کمیشن کو پہلی چٹھی لکھی کس آرٹیکل کے تحت بھیجی ؟ ہمیں علم ہے کہ صدر جو بھی عمل کریں گے وہ وزیر اعظم کی ایڈوائس کے ساتھ کریں گے،صدر اپنے اختیارات کن قوانین کے تحت استعمال کرتے ہیں ، معاونت کریں-صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بارعابد زبیری نے کہا کہ آئین کے مطابق صدر نے کمیشن کو پہلی چٹھی لکھی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل 57 کے مطابق انتخابات کی تاریخ دینا آئینی ذمہ داری ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ صدر نے الیکشن کمیشن کو پہلی چٹھی کس آرٹیکل کے تحت بھیجی ؟ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ گورنر کہہ رہا ہے کہ اسمبلی میں نے تحلیل نہیں کی-عابد زبیری نے بتایاکہ تاریخ دینے کی بات کا ذکر صرف آئین کے آرٹیکل 105 تین میں ہے،نوے روز میں الیکشن کرانا آئین کی روح ہے-جسٹس جمال مندوخیل نے بتایا کہ حکومت کے انتخاب کی تاریخ دینے پر کوئی پابندی نہیں،چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمے میں کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں حکومت آئینی ذمہ داری پوری نہیں کررہی؟اٹارنی جنرل سے کہیں گے آئینی نکات پر معاونت کریں-عابد زبیری نے بتایا کہ دباؤ میں اگر اسمبلی ٹوٹ جائے تو صدر مملکت تاریخ دیں گے ،میرا موقف ہے کہ انتخاب کی تاریخ دینا صدر مملکت کا اختیار ہے-جسٹس منصور علی شاہ ریمارکس دیئے کہ مشاورت میں وسائل اور حالات کا جائزہ لیا جائے گا،عدالت نے پوچھا کہ الیکشن کمیشن انتخابات سے معذوری ظاہر کرے کیا پھر بھی گورنر تاریخ دینے کا پابند ہے؟،صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار عابد زبیری نے کہا کہ گورنر ہر صورت تاریخ دینے کا پابند ہے-جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ گورنر کے پاس تاریح نہ دینےکا کوئی اختیار نہیں،گورنر الیکشن کمیشن کے انتظامات مدنظر رکھ کر تاریخ دے گا،صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن عابد زبیری نے کہا کہ گورنر ہر صورت تاریخ دینے کا پابند ہے- جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ گورنر جب بھی تاریخ دے گا 52 دنوں کا مارجن رکھا جائےگا،جسٹس جمال مندوخیل بولے کہ صدر کے اختیارات براہ راست آئین نے نہیں بتائے،آئین میں اختیارات نہیں توپھر قانون کے تحت اقدام ہوگا،قانون بھی تو آئین کے تحت ہی ہوگا-جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ اب تو آپ ہم سے پوچھنے لگ گئے ہیں کہ کرنا کیا ہے،صدر مملکت کس قانون کے تحت چھٹیاں لکھ رہے ہیں؟وکیل اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری نے کہا کہ صدر مملکت نے مشاورت کیلئے خط لکھے ہیں-جسٹس منصور علی شاہ نے عابد زبیری سے مکالمے میں کہا کہ آئین میں تو کہیں مشاورت کا ذکر نہیں،اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر مان لیا قانون صدر مملکت کو اجازت دیتا ہے پھر صدر ایڈوائس کا پابند ہے،جسٹس منصور علی شاہ بولے کہ نگران حکومت بھی تاریخ دینے کا کہہ سکتی ہے، اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ دوسرے فریق کو سن کر فیصلہ کریں گے صدر کو مشاورت کی ضرورت ہے یا نہیں-

    وکیل اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ نگران حکومت صرف محدود اختیارات کے تحت کام کر سکتی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اگرصدر تاریخ دے سکتے ہیں تو پھر تاریخ دینے میں تاخیر کیوں ہوئی؟ وکیل اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ آئین کی منشاء کے مطابق 90 دن میں انتخابات ہونا ہے ،الیکشن ایکٹ آئین کے آرٹیکل 222 کی تحت بنایا گیا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن کمیشن آزاد ادارہ ہے جس کی ذ مہ داری انتخابات کرانا ہے،گورنر پنجاب کا موقف ہے الیکشن کمیشن خود تاریخ دے،گورنر نے انٹرا کورٹ اپیل میں کہا کہ ان سے مشاورت کی ضرورت نہیں الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ وہ ازخود تاریخ کیسے دے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آتا ہائیکورٹ میں 14 دن کا وقت کیوں مانگا گیا؟بطور اٹارنی جنرل آپ کیس شروع ہوتے ہی مکمل تیار تھے ایسے کونسے نکات تھے جس کی تیاری کے لیے وکلاء کو 14 دن درکار تھے؟ہائیکورٹ میں تو مقدمہ روزانہ کی بنیاد پر چلنا چاہیے تھا،

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 ون کا استعمال کیا ہے،اگر صدر کا اختیار نہیں تو سیکشن 57 ون غیر موثر ہے،اگر سیکشن 57 ون غیر موثر ہے تو قانون سے نکال دیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرے حساب سے الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ دے سکتا ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اعلان کرنا ہے تو کسی سے مشاورت کی ضرورت نہیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئین اور قانون کی منشا کو سمجھیں ، الیکشن کمیشن نے اعلان کرنا ہو تو صدر اور گورنر کا کردار کہاں جائیگا ؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کردار ہر صورت میں اہم ہے،آپ کے مطابق الیکشن کمیشن کا کردار حتمی ہے،

    واضح رہے کہ رہے کہ سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے غلام محمود ڈوگر کیس میں 16فروری کو ازخودنوٹس کے لیے معاملہ چیف جسٹس کوبھیجا تھا جس پر سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد انتخابات کے لیے تاریخ کا اعلان نہ ہونے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے 9 رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔سپریم کورٹ نے از خود نوٹس میں تین سوالات اٹھائے ہیں، پہلا سوال اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کی تاریخ دینا کس کی ذمہ داری ہے؟ دوسرا سوال انتخابات کی تاریخ دینے کا آئینی اختیار کب اور کیسے استعمال کرنا ہے؟ تیسرا سوال یہ ہے کہ عام انتخابات کے حوالے سے وفاق اور صوبوں کی ذمہ داری کیا ہے؟

    عدالت نے ازخود نوٹس سی سی پی او غلام ڈوگر ٹرانسفرکیس میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہرنقوی کے نوٹ پرلیا ہے۔پہلے روزکی سماعت کے اہم ریمارکس میں عدالت نے اسمبلی کی تحلیل پر سوال اٹھا یا ،سپریم کورٹ میں سماعت کے آغاز پر عدالت نے کہا کہ اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار وضاحت طلب ہے، پنجاب اورکے پی اسمبلیاں 14 اور17 جنوری کو تحلیل ہوئیں، آرٹیکل 224/2 کے تحت انتخابات اسمبلی کی تحلیل سے90 دنوں میں ہونے ہوتے ہیں، آرٹیکل 224 ایک ٹائم فریم دیتا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ آئین کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گی، چاہتے ہیں انتخابات آئین کے مطابق ہوں عدالت نے 3 معاملات کو سننا ہے، صدرپاکستان نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا، آرٹیکل 224 کہتا ہے 90 دنوں میں انتخابات ہوں گے، سیکشن 57 کے تحت صدر نے انتخابات کا اعلان کیا ہے، دیکھنا ہے صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد تاریخ دینا کس کا اختیار ہے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ انتحابات کا مسئلہ وضاحت طلب ہے، ہم ارادہ رکھتے ہیں کہ آپ سب کو سنیں گے لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے سماعت طویل نہیں کریں گے، تیاری کریں کیس کی سماعت سوموار سے ہوگی۔

    دورانِ سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ میرے ازخود نوٹس سے متعلق کچھ تحفظات ہیں، یہ ازخود نوٹس نہیں بنتا، ہمارے سامنے دو اسمبلیوں کے اسپیکر کی درخواستیں ہیں، یہ ازخود نوٹس جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی کے نوٹ پرلیا گیا، اس کیس میں چیف الیکشن کمشنرکو بھی بلایا گیا جوکہ فریق نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ سوال دونوں اسمبلیوں کے اسپیکرز نے اپنی درخواستوں میں شامل کیے ہیں لیکن سپریم کورٹ نے صرف آئینی نکتہ دیکھنا ہے اور اس پر عملدرآمد کرانا ہے، ہم صرف آئین کی تشریح اور آئین کی عملداری کے لیے بیٹھے ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ ‏ہم آج نوٹس جاری کریں گے، ‏ہم اس معاملے کو طوالت نہیں دینا چاہتے اور نہ کوئی ابہام چھوڑنا چاہتے ہیں، ‏ہم 2 بجے بیٹھے ہیں اور یہ ہمارے لیے غیرمعمولی ہے۔

    سماعت میں اٹارنی جنرل نے وقت دینے کے لیے استدعا کی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کل ہم صرف چند ضروری باتوں تک محدود رہیں گے، کیس کی تفصیلی سماعت اگلے ہفتے کریں گے۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کا بھی ازخود نوٹس لیا جائے جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس ازخود نوٹس کیس پر اپنی آبزرویشن دینا چاہتا ہوں، یہ ازخودنوٹس کیس نہیں بنتا اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس جمال مندوخیل کے سوموٹو پر کچھ تحفظات ہیں، ان کے تحفظات کو نوٹ کرلیا گیا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‏آرٹیکل 224 کہتا ہے 90 روز میں انتخابات ہوں گے اور ‏وقت جلدی سے گزر رہا ہے،ہائیکورٹ میں معاملہ زیر التوا تھا مگر کوئی فیصلہ نہیں ہو پارہا تھا، پنجاب اورکے پی کی اسمبلیوں کو تحلیل کیے جانے کے بعد 6 ہفتے گزرگئے، آرٹیکل 224 کے تحت الیکشن کا انعقاد اسمبلی تحلیل ہونے کے 90 دن میں ہونا چاہیے، بینچ کی 16 فروری کی سفارش پر سوموٹو نوٹس لیے جانے کی سفارش ہوئی۔عدالت نے کہا کہ الیکشن کے انعقاد کے معاملے پر صدر مملکت،گورنرپنجاب اورکے پی کو بھی سنا جائے گا۔جسٹس منصور نے سوال اٹھایا کہ کیا اسمبلیاں کسی کی ڈکٹیشن پر ختم ہوسکتی ہیں؟نمائندے 5 سال کیلئے منتخب ہوتے ہیں تو کسی شخص کی ہدایت پر اسمبلی تحلیل کیسے ہوسکتی ہے۔بعد ازاں عدالت نے صدر مملکت اور گورنرکے پرنسپل سیکرٹری کو ان کے نظریے کی نمائندگی کے لیے نوٹس جاری کردیے جب کہ عدالت نے وائس چیئرمین پاکستان بار، چیئرمین سپریم کورٹ بار اور پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں کونوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

    دوسرے روز کی سماعت:

    سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل روسٹرم پرآ کر کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی کاپی نہیں ملی، تمام فریقین کو نوٹس نہیں مل سکےاس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آج کی سماعت کا مقصد تمام متعلقہ حکام کو ازخودنوٹس کے متعلق اطلاع دینا تھا، فاروق ایچ نائیک اور تمام ایڈووکیٹ جنرلز یہاں ہیں۔

    دورانِ سماعت پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر اعتراض اٹھادیا۔فاروق نائیک نے کہا کہ ججز سے کوئی ذاتی خلفشار نہیں، جو ہدایات ملیں وہ سامنے رکھ رہا ہوں، ہدایات ہیں کہ جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی بینچ سے الگ ہوجائیں۔فاروق ایچ نائیک کے اعتراض پر چیف جسٹس نے کہا کہ ججز کے معاملے پر پیر کو آپ کو سنیں گے،فاروق ایچ نائیک نے پی ڈی ایم جماعتوں کا مشترکہ تحریری بیان عدالت میں پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا کہ جسٹس مظاہرنقوی اور جسٹس اعجازالاحسن پہلے ہی غلام محمود ڈوگرکیس میں اس معاملے کو سن چکے، استدعا ہے دونوں جج صاحبان خود کو ازخود نوٹس سے الگ کرلیں۔پی ڈی ایم کے مشترکہ تحریری نوٹ میں کہا گیا ہےکہ فیئر ٹرائل کے حق کے تحت جسٹس اعجاز اور جسٹس مظاہرکو بینچ سے الگ ہوجانا چاہیے، دونوں ججز کے کہنے پر ازخود نوٹس لیا گیا اس لیے مذکورہ ججز بینچ سے الگ ہوجائیں، دونوں ججز (ن) لیگ اور جے یو آئی کے کسی بھی مقدمے کی سماعت نہ کریں۔فاروق ایچ نائیک نے غلام محمود ڈوگر کیس میں دونوں ججز کا فیصلہ بھی پڑھ کر سنایا جب کہ جسٹس جمال کا گزشتہ روز کا نوٹ بھی پڑھا۔پی پی کے وکیل نے کہا کہ دونوں ججز نے ازخود نوٹس کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوایا، جسٹس مندوخیل کے نوٹ کے بعد جسٹس اعجاز اور جسٹس مظاہر خودکو بینچ سے الگ کردیں، ڈوگر کے سروس میٹر میں ایسا فیصلہ آنا تشویشناک ہے۔دورانِ سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا کہ مسٹر نائیک آپ کو نہیں لگتا کہ یہ مفاد عامہ کا معاملہ فل کورٹ کو سننا چاہیے؟اس پر فاروق ایچ نائیک نے انتخابات میں تاخیر کے ازخود نوٹس پر فل کورٹ بنانے کی استدعا کی اور کہا کہ انتخابات کا معاملہ عوامی ہے،اس پر فل کورٹ ہی ہونا چاہیے۔فاروق نائیک کے موقف پر چیف جسٹس نے کہا کہ 16 فروری کو فیصلہ آیا اور22 فروری کو ازخود نوٹس لیا گیا، ازخود نوٹس لینا چیف جسٹس کا دائرہ اختیارہے، آرٹیکل 184/3 کے ساتھ اسپیکرزکی درخواستیں بھی آج سماعت کے لیے مقرر ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اسپیکرزکی درخواست میں اٹھائےگئے قانونی سوالات بھی دیکھ رہی ہے، آج ہمارے دروازے پر آئین پاکستان نے دستک دی ہے اس لیے ازخود نوٹس لیا ہےجسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دییےکہ سیاسی معاملات کو پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے، اپنی جماعتوں سے کہیں کہ یہ معاملہ عدالت کیوں سنے؟فاروق نائیک نے کہا کہ عدالت کی آبزرویشنز نوٹ کرلی ہیں، اپنی جماعت سے اس معاملے پر ہدایت لوں گا۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیرتک ملتوی کردی۔

    تیسرے روز کی سماعت:

    پیر27 فروری کو پنجاب اور خیبر پختونخوا (کے پی) میں انتخابات کی تاریخ کے تعین کے لیے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والے 9 رکنی لارجر بینچ ٹوٹنے کے بعدعدالت عظمیٰ کا 5 رکنی بینچ کیس کی-

    سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی ،جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی کیس سننے سے معذرت کرنے کے بعد پانچ رکنی بینچ چیف جسٹس عمر عطا بندیال ، جسٹس منیب اختر، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل نے کیس کی سماعت کی- چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پارلیمان نے الیکشن ایکٹ میں واضح لکھا ہے کہ صدربھی الیکشن کی تاریخ دے سکتے ہیں، اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 13 اپریل کو انتخابات لازمی کرانے کے 90 دن ختم ہوں گے۔

    اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ صدرکی جانب سے دی گئی تاریخ پر الیکشن ممکن نہیں، کسی صورت بھی 25 اپریل سے پہلے انتخابات نہیں ہو سکتے، 2008 میں بھی انتخابات کی تاریخ آگے گئی تھی، اگر آج بھی الیکشن کا اعلان کریں گے تو 90 دن کی حد پر عمل نہیں ہوسکتا۔ اس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ وہ تو قومی سانحہ تھا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آئین کی کوئی ایسی شق نہیں جو انتخابات میں90 دن سے زائد تاخیر کا جواز دے، الیکشن کی تاریخ آئے گی توہی فیصلہ ہوگا کہ اس وقت انتخابات ہوسکتے ہیں یا نہیں، پورا مہینہ اس بات پر ضائع کردیا کہ گورنر نے مشاورت کا کہا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ اگرملک کے پاس انتخابات کرانے کے پیسے نہ ہوں توکیا ہوگا؟جسٹس منیب اختر نے کہا کہ تعجب ہے ملک بھرمیں کرکٹ میچز کرانے کے پیسے ہیں لیکن انتخابات کیلئے نہیں،کیسے ہوسکتا ہے کہ اس بنیاد پر انتخابات نہ ہوں کہ پیسے نہیں ہیں؟

    صوبائی اسپیکرز کے وکیل علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ کوئی آئینی عہدے دار بھی انتخابات میں 90 دن سے زیادہ تاخیر نہیں کرسکتا، پنجاب میں 90 دن کا وقت 14 جنوری سے شروع ہوچکا ہے، عدالت گورنر یا الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کا حکم دے سکتی ہے، انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، صدر مملکت نے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے آئینی اختیارکے تحت خود تاریخ مقرر کی،الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابات کی تاریخ وہ نہیں دے سکتے، اصل معاملہ انتخابات کی تاریخ کا ہے جو دینے کیلئے کوئی تیار نہیں، الیکشن کمیشن سپریم کورٹ میں انتخابات کی تیاری کا بتا چکا ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ تیاری تو تب ہوگی جب انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوگا، تاریخ کی بات ہو رہی ہے، ابھی تو رشتہ ہونا ہے، کیا گورنر کا کردار پارلیمانی جمہوریت میں پوسٹ آفس کا ہی ہے؟کیا گورنر اپنی صوابدید پر اسمبلی تحلیل کرسکتا ہے؟ میری رائے میں گورنرکی صوابدید یہ ہےکہ فیصلہ کرے اسمبلی تحلیل ہوگی یا نہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ گورنر کی یہ صوابدید نہیں ہے، گورنر اگر سمری منظور نہ کرے تو اسمبلی از خود تحلیل ہوجاتی ہے، گورنر سمری واپس بھیجے تو بھی 48 گھنٹے کا وقت جاری رہتا ہے، الیکشن کمیشن کو اسمبلی کی تحلیل سے 90 دن میں انتخابات کرانے ہی ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو آئین کی کون سی شق انتخابات نہ کرانے کا اختیار دیتی ہے؟کیا الیکشن کمیشن کا انتخاباتی پروگرام 90 دن سے اوپر ہوسکتا ہے؟ اگر گورنر تاریخ نہ دے تو کیا الیکشن کمیشن ازخود انتخابات کراسکتا ہے؟

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ گورنر کے پی نے اسمبلی تحلیل کی، ان کو انتخابات کی تاریخ بھی دینا تھی، جب گورنرنے تاریخ نہیں دی تو صدرکے پاس ڈیفالٹ پاور موجود ہے، آئین خود کہتا ہے کہ انتخابات کی تاریخ دینا گورنرکی ذمہ داری ہے، سال 1976 میں آئین خاموش تھا کہ الیکشن کی تاریخ دینا کس کی ذمہ داری ہے، اسمبلی نے ترمیم کرکے صدر اور گورنر کو تاریخ دینے کا اختیار دیا، بعض حالات میں الیکشن کی تاریخ دینا گورنر اور بعض میں صدر کی ذمہ داری ہے انتخابات کی تاریخ دینا آئینی ذمہ داری ہے، پنجاب کی حد تک صدر نے شاید تاریخ درست دی ہو۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ نے الیکشن ایکٹ میں صدر مملکت کو انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار دیا ہے، قانون کے مطابق صدر کو الیکشن کمیشن سے مشاورت کرنا ہوتی ہے، یہ اہم معاملہ ہے کہ دیکھا جائے کہ صدرالیکشن کمیشن سے کیا مشاورت کرتے ہیں،گورنر بھی کس بنیاد اور مشاورت پر تاریخ مقرر کرسکتا ہے؟

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ہر وقت انتخابات کیلئے تیار رہنا چاہیے، کوئی بھی اسمبلی کسی بھی وقت تحلیل ہوسکتی ہے،گورنر پنجاب نے معاملہ الیکشن کمیشن کی کورٹ میں پھینک دیا، ایک مہینہ گزرگیا ہے تاحال کوئی اعلان نہیں کیا جاسکا۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کوکاغذات نامزدگی سمیت تمام مراحل کیلئے 52 دن درکار ہیں، الیکشن کمیشن نے اسی بنیاد پر ہی گورنر کو تاریخیں تجویزکی تھیں چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کسی نہ کسی نکتے پر پہنچ رہے ہیں، جہاں آئین خاموش ہے وہاں قوانین موجود ہیں، منگل کو کیس کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

    تیسرے روز کی سماعت کے دوران اسپیکر پنجاب و کے پی اسمبلی کے وکیل علی ظفر نے دلائل مکمل کرلیے فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ وہ مختصر دلائل دیں گے جس کے بعد عدالت نے مزید سماعت منگل 9 بجے تک ملتوی کردی۔

    چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ چار ممبرز نے خود کو بینچ سے الگ کرلیا ہے، عدالت کا باقی بینچ مقدمہ سنتا رہےگا، آئین کی تشریح کے لیے عدالت سماعت جاری رکھے گی، آئین کیا کہتا ہے اس کا دارو مدار تشریح پر ہےکل ساڑھے 9 بجے سماعت شروع کرکے ختم کرنےکی کوشش کریں گے، جب تک حکمنامہ ویب سائٹ پر نہ آجائے جاری نہیں کرسکتے،سٹس جمال مندوخیل کا نوٹ حکمنامے سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر آگیا تھا، مستقبل میں احتیاط کریں گے کہ ایسا واقعہ نہ ہو۔

    چیف جسٹس نے حکم دیا کہ وکیل علی ظفر دلائل کا آغاز کریں، آگاہ کریں عدالت یہ کیس سنے یا نہیں؟ آگاہ کیا جائے عدالت یہ مقدمہ سن سکتی ہے یا نہیں؟کل ہر صورت مقدمےکو مکمل کرنا ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر کے سوال پر علی ظفر نےکہا کہ گورنر کا تقرر صدر مملکت کی منظوری سے ہوتا ہے جسٹس محمد علی مظہر نےکہا کہ گورنرکے اسمبلی تحلیل کرنے اور آئینی مدت پر ازخود اسمبلی تحلیل ہوجانےمیں فرق ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ انتخابات کی تاریخ کا فیصلہ کرنا کس کا کام ہے؟علی ظفر نےکہا کہ انتخابات کی تاریخ کا کون ذمہ دار ہے اسی معاملے پر ازخود نوٹس لیا گیا ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہرکا کہنا تھا کہ آئین کی کوئی ایسی شق نہیں جو انتخابات میں90 دن کی تاخیرکو جسٹیفائی کرے، کیا کوئی انتخابات میں تاخیرکرسکتا ہے؟

    وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ انتخابات میں کوئی تاخیر نہیں کرسکتا، اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیےکہ گورنرپنجاب نے معاملہ الیکشن کمیشن کی کورٹ میں پھینک دیا، اس پر وکیل علی ظفر نےکہا کہ انتخابات کی تاریخ پر پنگ پانگ کھیلا جا رہا ہے،گورنریا الیکشن کمیشن کو عدالت انتخابات کی تاریخ مقررکرنےکا حکم دے سکتی ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ میں فریقین کے کہنے پر مقدمہ مؤخر ہوا ہے؟ وکیل اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ انتخابات کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے اس لیے ہائی کورٹ سے مؤخرہوا۔کیل علی ظفر نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں جاری انٹراکورٹ اپیل میں کوئی حکم امتناع نہیں دیا گیا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نےکہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے انتخابات کی تاریخ کا حکم دیا تھا، کیا کوئی توہین عدالت کی درخواست دائر ہوئی؟ وکیل علی ظفر نےکہا کہ الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر ہوچکی ہے۔ وکیل اظہر صدیق نےکہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے توہین عدالت کیس میں مبہم جواب دیا گیا، لاہور میں انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت 16 فروری کو ہوئی، اب 21 فروری کو ہوگی۔

    چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ نے اتنے لمبے التوا کی وجوہات دیں؟ ٹھوس وجوہات کے بغیر اہم معاملے میں اتنا لمبا التوا نہیں دیا جاسکتا۔

    وکیل اظہر صدیق نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے لاہور ہائی کورٹ میں جواب جمع کرانے کا وقت مانگا جس پر التوا دیا گیا۔

    وکیل علی ظفر نےکہا کہ الیکشن کمیشن نے ہائی کورٹ کے حکم کا احترام نہیں کیا، 14 فروری کو لاہور ہائی کورٹ میں توہین عدالت دائر کی گئی، صدر مملکت نے معاملے پر 2 خطوط لکھے، 8 فروری کو پہلے خط میں الیکشن کمیشن کو تاریخ کے اعلان کرنےکا کہا گیا تھا۔

    چیف جسٹس پاکستان نے استفسارکیا کہ کیا صدر مملکت کے پہلے خط کا الیکشن کمیشن نے جواب دیا؟ اس پر وکیل علی ظفر نےکہا کہ میری معلومات کے مطابق پہلے خط کا الیکشن کمیشن نے جواب نہیں دیا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئےکہ صدر مملکت کا خط ہائی کورٹ کے حکم کے متضاد ہے، ہائی کورٹ نےگورنر سے مشاورت کے بعد تاریخ دینےکا کہا تھا، صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کو تاریخ دینےکا کہا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نےکہا کہ الیکشن کمیشن نے تو اپنے جواب میں خود لکھا کہ گورنر سے مشاورت آئین میں نہیں، اگر مشاورت نہیں ہوئی تو کمیشن پھر خود الیکشن کی تاریخ دے دیتا۔

    وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا موقف ہےکہ انتخابات کی تاریخ وہ نہیں دے سکتا، اصل معاملہ انتخابات کی تاریخ کا ہے جو دینے پر کوئی تیار نہیں، پہلے آپ، نہیں پہلے آپ کرکے تاخیر کی جارہی ہے، صدر نے تاریخ مقرر کرنےکے خط میں تمام حقائق کو واضح کیا۔

    جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ کیا صدر سےکسی نے رجوع کیا تھا کہ تاریخ دیں یا انہوں نے ازخود ایسا کیا؟ وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ بنیادی حقوق کا معاملہ تھا اس لیے صدر کو مداخلت کرنا پڑی، کسی نہ کسی نے تو تاریخ کا اعلان کرنا ہی ہے، اگرعدالت سمجھتی ہےکہ الیکشن کمیشن تاریخ دےگا تو اسے حکم جاری کرے گی، ایسا نہیں ہوسکتا کہ جمہوریت میں خلا چھوڑ دیا جائے، باقی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ انتخابات کسی اور ادارے نے کرانے ہیں تو وہ بھی عدالت کو بتادیں۔

    جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ کے پی میں بھی اسمبلی تحلیل ہوئی ہے وہاں کیا پوزیشن ہے؟ اس پر وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ کے پی میں گورنر نے اسمبلی تحلیل کی ہے، گورنر کے پی نے الیکشن کمیشن کو اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا کہا ہے،گورنر کے پی نے اپنے خط میں سکیورٹی کو بنیاد بنایا ہے، انتخابات کی تاریخ تو گورنر کے پی نے بھی نہیں دی۔

    وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ میں 3 آئینی درخواستیں زیر التوا ہیں چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ نے 21 دن کا نوٹس کیوں دیا فریقین کو؟ قانونی نکتہ طےکرنا ہے، یہ کوئی دیوانی مقدمہ تو نہیں جو اتنا وقت دیا گیا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا گورنر کہہ سکتا ہے کہ دہشت گردی ہو رہی ہے مشاورت کی جائے؟ میری نظر میں گورنر کے پی کو ایسا خط لکھنےکا اختیار نہیں۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ کیس اب صرف اسی سوال پر چل رہا ہے کہ انتخابات کی تاریخ دینا کس کا اختیار ہےجسٹس منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ تاریخ کے لیے مشاورت آئین میں شامل نہیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نےکہا کہ الیکشن کمیشن اگر خود تاریخ دے دے تو کیا یہ توہین عدالت ہوگی؟ وکیل علی ظفر نےکہا کہ یہ سب تاخیری حربے ہیں، الیکشن کمیشن کا تاریخ دینا آئینی عمل ہے، کسی نے تو انتخاب کی تاریخ کا اعلان کرنا ہے، ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس میں الیکشن 10 سال تاخیرکا شکار ہوجائے، دوسرا فریق بتادے الیکشن کی تاریخ کس نے دینی ہے، جسے یہ کہتے ہیں اسے تاریخ کا اعلان کرنے دیں۔

    چیف جسٹس پاکستان نےکہا کہ اگر انتخابات کے لیے حالات سازگار نہیں تو اس کی وجوہات بتائی جائیں جسٹس محمد علی مظہر نےکہا کہ الیکشن کی تاریخ آئےتو ہی فیصلہ ہوگا کہ اس وقت انتخابات ہوسکتےہیں یا نہیں، پورا مہینہ ضائع کردیا کہ گورنر نے مشاورت کا کہا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ امن وامان کا معاملہ گورنرکا نہیں الیکشن کمیشن کا ہے، کیا امن وامان کا معاملہ انتخابات کی آئینی راہ میں آسکتا ہے؟چیف جسٹس پاکستان نےکہا کہ سال 2013 اور 2018 میں اسمبلیوں نے مدت مکمل کی تھی۔

    ڈی جی لاء الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اسمبلی مدت مکمل کرے تو صدر مملکت انتخابات کی تاریخ مقرر کرتے ہیںجسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئےکہ کے پی میں وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پرعملدرآمد ہوا لیکن پنجاب میں نہیں۔

    وکیل علی ظفرکا کہنا تھا کہ اسمبلیاں نہ ہوں تو آئین میں گورننس کا کوئی اور طریقہ نہیں، یہی وجہ ہے کہ انتخابات کے لیے 90 دن کی حد مقررکی گئی ہے، 90 دن میں الیکشن کا ہونا ضروری ہے، صرف اعلان نہیں۔

    چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کرانا ہے۔

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ذمہ انتخابات کے لیے انتظامات کرنا اور الیکشن کرانا ہے، آئین کے مطابق الیکشن کمیشن نے قومی،صوبائی اوربلدیاتی انتخابات کرانے ہیں، آرٹیکل 218، 219 اور 222 الیکشن کمیشن کو انتخابات کی ذمہ داری دیتے ہیں، تمام ایگزیکٹو ادارے انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں، الیکشن کمیشن بے بسی ظاہر کرے تو عدالت کو ایکشن لینا چاہیے۔

    گزشتہ روز پنجاب اور خیبر پختونخوا (کے پی) میں انتخابات کے لیے سپریم کورٹ نے 23 فروری کو ازخود نوٹس کیس کی سماعت کا تحریری حکم جاری کردیا تحریری حکم نامے میں کہا گیا انتخابات کی تاریخ کا اعلان کس کی آئینی ذمہ داری ہے؟ اس نکتے پر ازخود نوٹس لیا۔

    23 فروری کے حکم نامے میں 4 جسٹس صاحبان کے الگ الگ نوٹ ہیں، جسٹس مندوخیل، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منصور اور جسٹس اطہر من اللہ کے نوٹ ہیں۔

    تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ بینچ کی ازسرنو تشکیل پر معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا ہے، چاروں جج صاحبان کے نوٹ لکھنے پرطےکیا گیا کہ بینچ کی تشکیل کا معاملہ ازسرنو چیف جسٹس کو بھجوایا جائے۔

  • عمران خان جن کے کندھے پر بیٹھ کر آنا چاہ رہا وہ کندھے اب  نہیں رہے. مریم نواز شریف

    عمران خان جن کے کندھے پر بیٹھ کر آنا چاہ رہا وہ کندھے اب نہیں رہے. مریم نواز شریف

    عمران خان جن کے کندھے پر بیٹھ کر آنا چاہ رہا وہ کندھے اب نہیں رہے. مریم نواز شریف

    مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ پہلے گھڑی چور عمران خان کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرو پھر الیکشن ہوگا۔ ساہیوال میں مسلم لیگ (ن) کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ الیکشن کا سال ہے، الیکشن ضرور ہوگا اور شیر بھاری اکثریت سے جیتے گا، الیکشن ہوگا لیکن پہلے انصاف ہوگا، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگا، ترازو کے دونوں پلڑے برابر کیے جائیں گے، نواز شریف سے ناانصافیوں کا ازالہ ہوگا، ان کی غلط سزائیں ختم ہوں گی، اور عمران خان کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے پھر الیکشن ہوگا، پاناما بنچ کو پہلے سسلین مافیا اور گاڈ فادر کے القابات واپس لینے ہوں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ملکی صورتحال کا ذمہ دار پاناما بنچ اور اسے بنوانے والے ہیں، آئی ایم ایف کے ہاتھوں ملک گروی ہے، کیا عمران خان کو گند ڈالنے اور نواز شریف کو اس کی صفائی کیلیے رکھا ہے؟ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ نواز شریف کی بیٹی سامنے کھڑی ہے، عمران خان کی بیٹی کدھر ہے؟ پہلی بار کسی وزیراعظم نے اتنا جھوٹ بولا اور اپنی اولاد تک چھائی۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے بہت سی پیشیاں بھگتیں، عمران خان بھی بھگتے گا، پہلے عمران خان کی بھی دو سو پیشیاں ہوں گی پھر الیکشن ہوگا، پہلے ووٹ کو عزت دو کا انصاف ہوگا پھر الیکشن ہوگا، آج انصاف کردو پھر کل اس ملک میں الیکشن کرادو ہمیں کوئی خطر نہیں لیکن ہمیں پہلے انصاف چاہیے، عدلیہ کا جو معیار نواز شریف کے لیے تھا وہی عمران خان کے لیے چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب زمین والے ناانصافی کرتے ہیں تو آسمان کا نظام انصاف حرکت میں آجاتا ہے، آج کہا ہے جنرل (ر) فیض؟ کہاں ہے جسٹس (ر) کھوسہ اور کہاں ہے وہ ڈیم والا بابا جسٹس (ر) ثاقب نثار؟ یہ تو سارے بے نقاب ہوگئے لیکن وہ جو حاضر سروس ججز ہیں وہ بھی بے نقاب ہوگئے، آڈیو لیکس میں سامنے آیا کہ عمران خان نے اپنے سہولت کاروں سے مل کر بینچ فکسنگ کی جس کا بھانڈا بیچ چوراہے پر پھوٹ چکا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    راجن پور: این اے 193 میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا وقت ختم
    یہ وہی بینچ ہے جس نے عمران خان کےخلاف فیصلہ دیا،پھرشورشرابہ کیوں؟پرویز الہٰی
    ہم کون سی صدی میں رہتے ہیں جہاں طاقتوروں نے نجی جیل بنائے ہوئے؟ شیری رحمان
    بچوں کو سکول چھوڑنے والی سرکاری گاڑی بارکھان سیکنڈل کے مرکزی ملزم کے بیٹے کی ملکیت
    شیخ رشید بتائیں،سسرال میں کوئی روتا ہے؟ حنیف عباسی
    پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار اور جاوید علی کے وکیل کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آ گئی
    پی ایس ایل:ملتان سلطانز کے خلاف کراچی کنگز کی شاندار فتح
    مریم نواز نے کہا کہ عمران خان جن لوگوں نے تمہیں کندھے پر بٹھایا ہوا تھا وہ اسٹیبلشمنٹ گھر کو جاچکی اور اللہ کو پیاری ہوچکی اور اب جن ججز کے کندھے پر بیٹھ کر تم دوبارہ آنے کی تیاری کررہے ہو وہ کندھے نہیں رہیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فیض حمید چکوال میں بیٹھ کر آج بھی سازشوں کے تانے بانے جوڑ رہا ہے۔

  • شمالی وزیرستان: سیکورٹی فورسزکی کارروائی،2 سپاہی شہید،2 دہشتگرد ہلاک اور 2 گرفتار

    شمالی وزیرستان: سیکورٹی فورسزکی کارروائی،2 سپاہی شہید،2 دہشتگرد ہلاک اور 2 گرفتار

    راولپنڈی: شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپ میں 2 سپاہی شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی:آئی ایس پی آر کیجانب سے جاری بیان کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کےخلاف کارروائی کی-

    آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلےمیں سپاہی عمران اللہ او رسپاہی افضل خان شہید ہوگئےسیکورٹی فورسزکےآپریشن میں 2 دہشتگرد بھی مارے گئےجبکہ 2 کو گرفتار کرلیا گیا دہشتگردوں کے قبضے سے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کرلیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں اور معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث تھے-

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کلئیرنس آپریشن جا رہی ہے۔

  • سپریم کورٹ انتخابات ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ گیا

    سپریم کورٹ انتخابات ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ گیا

    پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس،سپریم کورٹ کا نیا بینچ تشکیل دے دیا گیا،
    چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نئے بینچ میں شامل ہیں،جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر بھی سپریم کورٹ کے نئے بینچ کا حصہ ہیں ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی نقوی سپریم کورٹ کےنئے بینچ میں شامل نہیں اختلافی نوٹ لکھنے والے 4 میں سے 2 ججز بھی سپریم کورٹ کے نئے بینچ میں شامل نہیں جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی بھی سپریم کورٹ کےنئے بینچ میں شامل نہیں

    اسلام آباد: پنجاب اور کے پی میں انتخابات کیلئے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا-

    باغی ٹی وی: پنجاب اور خیبر پختونخوا (کے پی) میں انتخابات کے لیے سپریم کورٹ نے 23 فروری کو ازخود نوٹس کیس کی سماعت کا تحریری حکم جاری کردیا۔سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کی سماعت کے لیے پہلے ساڑھے11، پھر 12 بجےکا وقت دیا گیا تھا۔تاہم اب انتخابات کیلئے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا .جسٹس اعجا الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے انتخابات ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرنے سے معذرت کر لی۔

    چیف جسٹس عمر عطابندیال کا کہنا تھا کہ چاروں ججز نے اختلافی نوٹ لکھا ہے،انتخابات سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کل ساڑھے 9 بجے کریں گے ،جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ گورنر کون مقرر کرتا ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ گورنر کا تقرر صدر مملکت کی منظوری سے ہوتا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ گورنر کے اسمبلی تحلیل کرنے اور آئینی مدت کے بعد ازخود تحلیل ہو جانے میں فرق ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سماعت کل ساڑھے 9 بجےکر کے مکمل کریں گے ،وکیل علی ظفر نے کہا کہ گورنر پنجاب نے نگران وزیراعلیٰ کیلئے دونوں فریقین سے نام مانگے،ناموں پر اتفاق رائے نہ ہوا تو الیکشن کمیشن نے وزیراعلی ٰکا انتخاب کیا،الیکشن کمیشن نے گورنر کو خط لکھ کر پولنگ کی تاریخ دینے کا کہا،گورنر نے جواب دیا انہوں نے اسمبلی تحلیل نہیں کی تو تاریخ کیسے دیں؟ آئین کے مطابق اسمبلی تحلیل کے بعد 90 دن میں انتخابات لازمی ہیں،کوئی آئینی عہدیدار بھی انتخابات میں90 دن سے زیادہ تاخیر نہیں کرسکتا، 90دن کی آئینی مدت کا وقت 14 جنوری سے شروع ہوچکا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ لاہورہائیکورٹ میں جو سماعت ہوئی کب تک ملتوی ہوئی؟ وکیل نے کہا کہ لاہورہائیکورٹ میں آ ج سماعت مقرر تھی وہ ملتوی کردی گئی ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک غیر یقینی کی صورتحال ہے،علی ظفر ایڈوکیٹ نے عدالت میں کہا کہ الیکشن کمیشن آئین پر عمل نہیں کررہا ،گورنر کو بھی سمجھ نہیں آرہی ہے، وکیل شیخ رشید نے کہا کہ معاملے میں توہین عدالت کی درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کیس میں کیا احکامات ہائیکورٹس نے جاری کیے ہیں؟وکیل شیخ رشید نے کہا کہ ان درخواستوں پر مارچ میں سماعت ہوگی،وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدالت گورنر یا الیکشن کمیشن کو تاریخ مقرر کرنے کا حکم دے سکتی ہے،انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،ہائیکورٹ نے قرار دیا انتخابی عمل الیکشن سے پہلے شروع اور بعد میں ختم ہوتا ہےعدالتی حکم پر الیکشن کمیشن اور گورنر کی ملاقات بے نتیجہ ختم ہوئی، صدر مملکت نے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے خود تاریخ مقرر کر دی،

    قبل ازیں سپریم کورٹ ،پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس سپریم کورٹ نے 23 فروری کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا نئے بینچ تشکیل دینے کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھیج دیا گیا، چار ججز نے نئے بینچ کی تشکیل کیلئے معاملہ چیف جسٹس عمر عطابندیال کو بھجوایا سپریم کورٹ کے چار وں ججز کے نوٹس آرڈر شیٹ میں شامل ہیں،جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس جمال خان مندوخیل نے نوٹ لکھا،جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ کو نوٹ بھی شامل ہیں،

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے نوٹ لکھا کہ الیکشن کا معاملہ پشاوراور لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، ازخود کیس میں سپریم کورٹ کی رائے لاہور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پراثرانداز ہوسکتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ
    بینچ کے 4 ممبرز نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا ہے،عدالت کا باقی بینچ مقدمہ سنتا رہے گا، آئین کی تشریح کیلئے عدالت سماعت جاری رکھے گی،آئین کیا کہتا ہے اس کا دارومدار تشریح پر ہے، کل ساڑھے 9 بجے سماعت شروع کرکے ختم کرنے کی کوشش کریں گے،جب تک حکمنامہ ویب سائٹ پر نہ آجائے جاری نہیں کرسکتے،جسٹس جمال مندوخیل کا نوٹ حکمنامہ سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر آگیا،مستقبل میں احتیاط کریں گے کہ ایسا واقعہ نہ ہو،علی ظفر آگاہ کریں عدالت یہ کیس سنے یا نہیں؟ کل ہر صورت مقدمہ کو مکمل کرنا ہے،

    زرائع کے مطابق گیارہ بجے سے غیر رسمی فل کورٹ میٹنگ جاری ہے جو اس وقت تک جاری ہے جبکہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ججز صاحبان کے درمیان تلخ اور شدید جملوں کا بھی تبادلہ ہوا-

    باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات تو دور کی بات ہے اطلاعات کے مطابق ضمنی انتخابات بھی نہیں ہوں گے ۔

    واضح رہے کہ کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ کر رہا ہے جس میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ بینچ میں شامل ہیں۔

    حکمران اتحاد 9 رکنی بینچ میں سے جسٹس مظاہر علی نقوی اور جسٹس اعجاز الاحسن کو الگ کر کے فل کورٹ بنانے کی اپیل دائر کرچکا ہے۔

    پچھلی سماعت میں چیف جسٹس نے کہا تھا پیر کو ججز کے معاملے پر معترضین کو سنیں گے،چیف جسٹس نے پہلی سماعت میں ریمارکس دیئے تھے کہ الیکشن 90 دن میں ہونے ہیں ، آئین کی خلاف ورزی برداشت نہیں کریں گے۔

    عدالت نے آج اٹارنی جنرل ، چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرل اور پی ڈی ایم سمیت سیاسی جماعتوں، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کو نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے غلام محمود ڈوگر کیس میں 16فروری کو ازخودنوٹس کے لیے معاملہ چیف جسٹس کوبھیجا تھا سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد انتخابات کے لیے تاریخ کا اعلان نہ ہونے پر از خود نوٹس لیا تھا۔

  • بریکنگ نیوز- رکنی میں بم دھماکہ 4 جان بحق اور10  زخمی

    بریکنگ نیوز- رکنی میں بم دھماکہ 4 جان بحق اور10 زخمی

    بریکنگ نیوز- رکنی میں بارکھان روڈ پر گیٹ کے قریب بم دھماکہ ہوا ہے ابتدائی اطلاعات کے مطابق 5 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے ہیں اور 10 سے زائد زخمی ہونے کی اطلاع ہے
    رکنی بلوچستان میں بارکھان روڈ پرگیٹ کے قریب شہر میں حجام کی دکان میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق ہونے کی ابتدائی اطلاعات ہیں جبکہ 10 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں
    ایس ایچ او تھانہ رکنی سجاد افضل کا کہنا ہے ۔دھماکے کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہوگئے ہیں ،لاشیں اور زخمی سول ہپستال منتقل کردئیے گئے ہیں،رکنی بم بلاسٹ میں ڈیرہ غازیخان سخی سرور سے تعلق رکھنے والا شہری بھی زخمی ہوا،
    فوری طور پر دھماکے کی نوعیت کے بارے میں علم نہیں ہوسکا ہے۔
    دھماکےکے بعد پولیس اور قانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور شواہد جمع کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
    پولیس کے مطابق دھماکے میں متعدد گاڑیوں، موٹرسائیکلوں اور دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔
    رکنی کے دھماکے میں شہید ہونے والے 4 افراد میں گل خان ولد سید خان قوم وگا،میر محمد ولد خیر محمد قوم قاسمانی ،رحیمو ولد الن قوم مسوری ،عبد العزیز ولد عبد الرحمان قوم سید شامل ہیں جبکہ زخمی ہونے والے 9 افراد کے ناموں کی تصدیق ہوسکی ہے جن میں اعجازولدمحمدفاضل قوم مجاور سکنہ سخی سرور ڈیرہ غازیخان،میرن شاہ ولدنذرشاہ قوم سید،خیرمحمد ولدعلی محمد قوم عیشانی کھتران،سکنہ عیشانی بارکھان،اللہ بخش ولدلادوخان قوم مری سکنہ کوہلو،خرمحمدولدعلی محمدقوم عیشانی کھتران،نظام الدین ولد عادوخان قوم سلارانی کھتران سکنہ رکنی،کمال خان ولدیت نامعلوم ،حکم بی بی دخترسفرخان قوم ڈوم ،امیراں بی بی بنت سفرخان قوم ڈوم شامل ہیں.

  • عالمی سطح پر پاکستان کا امیج خراب کرنے کی ایک اور بھارتی سازش بے نقاب

    عالمی سطح پر پاکستان کا امیج خراب کرنے کی ایک اور بھارتی سازش بے نقاب

    لاہور:عالمی سطح پر پاکستان کا امیج خراب کرنے کی ایک اور بھارتی سازش بے نقاب ہو گئی، یورپی یونین کے ادارے ای یو ڈس انفو لیب نے بھارتی سازش کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔تفصیلات کے مطابق ای یو ڈس انفو لیب نے ایک اور بھارتی سازش بے نقاب کردی، بھارتی سرکاری خبر رساں ادارہ اے این آئی جن عالمی صحافیوں، تنظیموں اور بلاگرز کا حوالہ دے کر پاکستان، پاک فوج اور چین کے خلاف جعلی رپورٹس پھیلا رہا ہے ان کا کوئی وجود ہی نہیں ملا۔

    فیک نیوز کے خلاف کام کرنے والے یورپی یونین کے ادارے ای یو ڈس انفو لیب نے پاکستان کے خلاف ایک اور بھارتی سازش کا بھانڈہ پھوڑ دیا، پاکستان اور پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والی بھارتی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایشین نیوز انٹرنیشنل مسلسل اپنی خبروں سے ایسے کرداروں کے حوالے سے پاکستان مخالف بیانیہ بنانے میں مصروف ہے جن کا کوئی وجود ہی نہیں۔

    ای یو ڈس انفو لیب نے ہیڈ سورسز رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اے این آئی نے اپنے آرٹیکل میں ایک ایسے تھنک ٹینک کی رپورٹ کا حوالہ دیا جو کینیڈا کے سابق رکن پارلیمنٹ نے 2012 میں بنایا جبکہ 2014 میں اس تھنک ٹینک کو بند کردیا گیا تھا، ای یو ڈس انفو لیب نے "پالیسی ریسرچ گروپ” نامی تھنک ٹینک کو بہت ڈھونڈا لیکن اس کا سراغ نہ لگ سکا۔

    مبینہ تھنک ٹینک میں شامل تین افراد میں سے ایک جیمز ڈگلس کرکٹن نے 2016 میں سابق صدر پرویز مشرف کے سوئٹزرلینڈ میں مبینہ خفیہ بینک اکاؤنٹ کے حوالے سے خبر دی جو جعلی ثابت ہوئی، اے این آئی نے اس جھوٹی بات کو بھی پروپیگنڈہ کے طور پر اچھالا۔

    بھارتی خبر ایجنسی نے فروری 2021 میں ایک مبینہ اینٹی ٹیررازم ٹاسک فورس کے ماہر لکھاری رونلڈ ڈچمین کےنام سے پاکستان اور مسلح تنظیموں کے حوالے سے ایک جعلی رپورٹ چلائی، درحقیقت اس خیالی لکھاری کا بھی کوئی اتہ پتہ نہیں مل سکا۔

    رپورٹ کے مطابق ’انٹرنیشنل فورم فار رائٹس اینڈ سکیورٹی‘ نامی تھنک ٹینک 2014 میں بند ہوچکا ہے، اس کے باوجود 2020 سے 2022 تک اس نام نہاد تھنک ٹینک کے نام سے 19 جعلی کانفرنسزکی گئیں، اس تھنک ٹینک کے بینر تلے 500 سے زائد آرٹیکلز چھاپے گئے، ان میں سے 200 سے زائد آرٹیکلز کا حوالہ اے این آئی نے اپنی خبروں میں دیا ،لیکن ان لکھاریوں کا بھی وجود نہیں ملتا۔ؕ

    عالمی تحقیقی ادارے کا کہنا ہے کہ بھارتی خبررساں ادارے میں شامل صحافی سب کچھ جانتے ہوئے بھی پاکستان کے حوالے سے جھوٹی خبریں پھیلانے کی مہم کا حصہ لگتے ہیں، اگرانہیں یہ معلوم نہیں کہ ایسی رپورٹس کے ذرائع جھوٹے ہیں تو یہ صورتحال ان کی ناکامی کا اعتراف ہے۔

  • اسلام آباد کی عدالت نے عمران خان کو 28 فروری کو طلب کر لیا

    اسلام آباد کی عدالت نے عمران خان کو 28 فروری کو طلب کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کی عدالت نے عمران خان کو 28 فروری کو طلب کر لیا،

    اسلام آباد بینکنگ کورٹ نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں عمران خان کو 28 کو طلب کرلیا۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں عمران خان اور دیگر کے خلاف فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی۔ عمران خان کی قانونی ٹیم کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈر کی کاپی عدالت میں پیش کی گئی،ایف آئی اے نے عمران خان کے طبی معائنہ کیلئے پمز یا پولی کلینک ہسپتال کا بورڈ بنانے کیلئے درخواست دائر کر دی درخواست میں ایف آئی اے نے عمران خان کا پولی کلینک یا پمز ہسپتال اسلام آباد سے طبی معائنہ کروانے کی استدعا کی ،عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی روشنی میں عمران خان کو 28 فروری کو پیش ہونے کا حکم دے دیا، عدالت نے کیس کی سماعت 28 فروری تک ملتوی کر دی

    دوسری جانب عمران خان کی ممکنہ اسلام آباد روانگی کے پیش نظر مشاورت کیلئے عمران خان نے زمان پارک میں اجلاس طلب کر لیا ،عمران خان کی بینکنگ کورٹ میں طلبی کے سبب اسلام آباد روانگی متوقع ہے عمران خان نے راولپنڈی سے اہم رہنماوں کو طلب کر لیا جس کے بعد غلام سرور اور واثق قیوم عباسی زمان پارک پہنچ گئے ہیں، گلگت بلتستان کے مشیر داخلہ شمش لون بھی عمران خان کی رہائش گاہ پہنچ گئے ہیں

  • تحریک انصاف کے 32 ایم این ایز کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا نوٹیفکیشن معطل

    تحریک انصاف کے 32 ایم این ایز کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا نوٹیفکیشن معطل

    تحریک انصاف کے 32 ایم این ایز کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا گیا الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے اراکین کی رکنیت بحال کر دی ہے الیکشن کمیشن نے شیخ رشید سمیت پی ٹی آئی کے 27 ایم این ایزاور5 مخصوص نشستوں پر منتخب ایم این ایز کو بطور ایم این اے بحال کر دیا الیکشن کمیشن نے لاہور ہائی کورٹ کے احکامات پر نوٹیفکیشن جاری کیا راولپنڈی کے 6حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات ملتوی کر دیئے گئے، ان تمام 27 حلقوں پر الیکشن ملتوی کر دیئے گئے ہیں،الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی 5خواتین ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال کردی عالیہ حمزہ،کنول شوذب اور عندلیب عباس کی رکنیت بحال کر دی گئی،اسما حدید اورملیکہ بخاری کی بھی مخصوص نشست پر رکنیت بحال ہوگئی،میانوالی اور بھکر کے ضمنی انتخابات بھی تاحکم تاثانی ملتوی،فیصل آباد،خوشاب اور لاہور کے ضمنی انتخابات بھی ملتوی کردیئے گئے،

    دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو قومی اسمبلی کے 6 حلقوں سے ڈی نوٹیفائی کر دیا اور مذکورہ نشتیں خالی قرار دے دیں ،الیکشن کمیشن نے این اے 22 مردان، این اے 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ صاحب اور این اے 239 کراچی سے ڈی نوٹیفائی کردیا

  • ریاست کیلیےآئی ایم ایف کی کڑی شرائط ماننے کیلیے تیار ہیں،وزیراعظم

    ریاست کیلیےآئی ایم ایف کی کڑی شرائط ماننے کیلیے تیار ہیں،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 3فروری کے بعد ایپکس کمیٹی کا یہ دوسرا اجلاس ہے،

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کچھ اہم فیصلے کیے گئے ہیں،کراچی میں پولیس اور رینجرز نے دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا،آرمی پبلک اسکول سانحہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنا،پشاور کے بعد کراچی میں دہشتگردی کاافسوسناک پیش آیا،نوازشریف نے اس وقت نیشنل ایکشن پلان پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا،نیشنل ایکشن پلان پر تمام جماعتوں کو دعوت دی،کچھ لوگوں کی ابھی بھی کوشش ہےکہ ملکی معاملات سڑکوں پر حل ہوں،پاکستان اس وقت معاشی چیلنجز کاشکار ہے،کچھ دنوں میں آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو جائے گا،حکومتی اتحادیوں نے اپنی سیاست کو چھوڑ کر ریاست کو بچایا،ریاست کے لیے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ماننے کے لیے تیار ہیں،اپنے گھر کے حالات خود درست کرنا ہوں گے،اگر ہم اپنے حالات خود ٹھیک نہیں کریں گے تو کوئی ہماری مدد کو نہیں آئے گا،پاکستان کو مشکل حالات سے ہم نے بچایا،سب سیاسی جماعتوں نے اپنی سیاست داؤ پر لگائی ہے،

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی استحکام ہر لحاظ سے مقدم ہے، ہم نے پاکستان کیلئے قربانیاں دی ہیں اپنی انا اور پسند اور ناپسند کو الگ رکھ کر مل کر کام کرنا ہے، ہم نے پاکستان کو مشکلات سے بچایا اور اس طرف لے گئے جو پاکستان کا خواب تھا، ایک دوست ملک انتظار میں ہے کہ ہمارا آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو جائے تو وہ فوری مدد کرے اگر ہم اپنے گھر کے حالات خود درست نہیں کریں گے تو کوئی دوسرا مدد کو نہیں آئے گا،

    فردوس عاشق نے اپنے حلقہ انتخاب میں کیا کارنامہ سرانجام دیا، تہلکہ خیز انکشاف

    مشیر نہیں بلکہ جہنم میں تھی، فردوس عاشق اعوان کی ایک بار پھر گندی گالیاں

    شوکت خانم کے فنڈز سے نجی ہاؤسنگ پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کی گئی، عمران خان کا اعتراف

    فردوس عاشق کالہجہ تلخ تھا،مگرسرکاری ملازم صاحبہ کا ڈیوٹی سےچلےجانا،تکبر،انااورافسرشاہی نہیں تواورکیاہے

  • افغان ٹرانزٹ سامان میں کسٹم حکام کی جانب سے چیکنگ ،سپریم کورٹ نے کیس نمٹا دیا

    افغان ٹرانزٹ سامان میں کسٹم حکام کی جانب سے چیکنگ ،سپریم کورٹ نے کیس نمٹا دیا

    سپریم کورٹ میں افغان ٹرانزٹ سامان میں کسٹم حکام کی جانب سے چیکنگ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار دکھتے ہوئے درخواستیں نمٹا دیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا معاملہ ریاست کے اختیار میں ہے،سپریم کورٹ کا افغان ٹرانزٹ سے جڑے معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں،کیا کسٹمز کو لگتا ہے کہ این ایل سی افغان ٹرانزٹ سامان میں سے کچھ چوری کر لیتا ہے؟ کسٹمز حکام کسی کو سامان تلاشی کے نام پر ہراساں نہیں کر سکتے، وکیل کسٹمز نے کہا کہ افغان ٹرانزٹ سامان کی تلاشی رسک منیجمنٹ کے لیے کی جاتی ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسٹمز حکام رسک منیجمنٹ کے لیے نہیں، اپنی مرضی سے سامان کی تلاشی لیتے ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کسٹمز صرف افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے سامان پر مصدقہ سیل چیک کرتی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں کسی ممنوعہ سامان کی ترسیل بھی ہوتی ہے؟ اگر افغان ٹرانزٹ میں ممنوعہ سامان ہو تو اس کی تلاشی بھی کی جاتی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کسٹمز پشاور سے آنے والے سامان کو چیک نہیں کر سکتی، کسٹمز حکام کراچی پورٹ پر سامان کو چیک کرسکتے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ٹرانسپورٹرز اور ٹریڈرز کے حقوق کو بھی دیکھنا ہے،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ افغان ٹرانزٹ 2010 معاہدے کے مطابق فوجی ساز وسامان کی ترسیل کی اجازت نہیں ہوگی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ کوئی قانون نہیں ہوتا بلکہ حکومتی معاملہ ہے ،عدالت ان معاملات میں نہیں پڑے گی،

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟