Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈر اینکر پر قاتلانہ حملہ

    پاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈر اینکر پر قاتلانہ حملہ

    لاہور:پاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈر اینکر لاہور میں قاتلانہ حملے کے دوران بال بال بچ گئیں۔ٹرانس جینڈر اینکر مارویہ ملک پرقاتلانہ حملےکا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے،پولیس کو دیے گئے بیان میں مارویہ ملک نے بتایا کہ وہ فارمیسی سے کینٹ کے علاقے میں اپنے گھر واپس آرہی تھیں جس دوران ان پر فائرنگ کی گئی۔

    مارویہ ملک نے بتایا کہ انہیں فون پر دھمکیاں موصول ہورہی تھیں خوف سے انہوں نے گھر چھوڑ دیا ہے اور لاہور سے باہر منتقل ہوگئی ہیں۔

    ایک انٹرویو کے دوران مارویہ کا کہنا تھا کہ ‘میں اپنی کمیونٹی سمیت سب کے لیے ایک مثال ہوں کہ جب خواجہ سرا فیشن اور میڈیا میں جگہ بناسکتے ہیں تو دیگر شعبوں میں بھی وہ اہمیت کے حامل ہیں’۔

    ادھرشہزاد رائے کے ساتھ پرفارم کرنے والے معروف بلوچی لوک گلوکار واسو خان انتقال کرگئے۔خاندانی ذرائع نے بلوچی گلوکار واسو خان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ واسو خان سانس کی بیماری میں مبتلا تھے، گزشتہ شب سکھرکے نجی اسپتال میں دم توڑ گئے۔خاندانی ذرائع کے مطابق واسو خان کی نماز جنازہ اور تدفین گوٹھ رستم گاجانی میں ہوگی۔واضح رہے کہ واسو خان نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کو گلوکاری کے ذریعے اپنے منفرد انداز میں بیان کرکے شہرت حاصل کی تھی۔

    یاد رہے کہ گلوکار شہزاد رائے نے 2011 میں یوٹیوب پر بلوچستان کے ایک گاؤں سے واسوخان کو ڈھونڈا تھا۔ جس کے بعد گلوکار شہزاد رائے نے واسو کے ساتھ مل کر ان کے منفرد انداز میں ایک مشہور گانا ’اپنے الو‘ پیش کیا تھا۔اس کے بعد اس جوڑی نے ٹی وی پروگرام ’واسو اور میں‘ پیش کیا جو واسو خان کی مقبولیت کی وجہ بنا۔

  • پچھلے 8 ماہ کے دوران عدلیہ نے جو حالات پیدا کئے ہیں ان کا ازالہ کریں،خواجہ آصف

    پچھلے 8 ماہ کے دوران عدلیہ نے جو حالات پیدا کئے ہیں ان کا ازالہ کریں،خواجہ آصف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اعلی عدلیہ کا الیکشن کے معاملے پر 9 رکنی بینچ خوش آئند ہے عدلیہ مسئلے کا حل تلاش کرے ایسی مثالیں سیٹ نہ کرے کہ نوازشریف کی 200 پیشیاں اورعمران خان کو فوری ضمانت مل جائے

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ملک میں سب سے پہلے سیاسی شہادت عدلیہ نے کی بھٹو کو پھانسی پر لگایا پھر نوازشریف کی آئینی شہادت ہوئی وہ بھی عدلیہ نے کی سیاستدانوں نے تاریخ میں ایسے نشانات ثبت کئے کہ قوم ان کو آج بھی یاد کرتی ہے ملکی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک شخص کو عدالت طلب کیا جائے مگر وہ نہ آئے لاڈ پیار سے بلائیں اس کے باوجود نہیں آتا بعد میں عمران خان نے اپنی ضمانت کروا لی ان کے میڈیکل کس سرکاری ہسپتال نے تصدیق کی؟ 6 مہینے ہو گئے عمران خان کا پلاسٹر نہیں کھلا قوم کو کہتا ہے جیل جاو اور اپنی ضمانت قبل از گرفتاری کروا لی،خواجہ آصف نے مطالبہ کیا کہ اب عدلیہ اپنے وقار کیلئے شہادت دے ایسی مثال پیش کرے کہ ملک مضبوط آئینی ڈھانچے پر مبنی بنیادوں پر کھڑا ہو سکے

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ مجھے پرویز الٰہی نے خود بتایا کہ میں ایک بیوروکریٹ کی بیٹی کی شادی میں گیا تو میرے حلقے کا بندہ وہاں پر سلامی اکھٹی کر رہا تھا میں نے اسے بلا کر پوچھا کہ کتنی سلامی ہوئی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ سر 72 کروڑ روپے اکھٹی ہو گئی ہے پیسے تھیلے میں ڈالے ہوئے ہیں اور ابھی سلسلہ جاری ہے، پرویز الٰہی نے کہا کہ میں نے اس سے پوچھا کہ ’ کام مُک گیا اے کہ جاری اے‘ ، اس نے بتایا کہ نہیں سر ابھی تک سلسلہ جاری ہے اسی بیوروکریٹ کی پہلی بیٹی کی شادی میں ایک ارب 20 کروڑ روپے سلامی ہوئی تھی جبکہ زیور اور گاڑیاں علیحدہ تھیں کسی نے اس بیورو کریٹ سے پوچھا ؟ہمیں تو پکڑتے ہوئے دو منٹ نہیں لگتے شاہ محمود قریشی کل کا پکڑا ہوا ہے،آج وہ رو رہا ہے اس کا بیٹا عدالت میں آیا ہواہے ۔شاہد خاقان عباسی کا 90 روز کا ریمانڈ ہوا، میرے ساتھ بیٹھے شخص نے 14 مہینے جیل کاٹی مریم نے جیل کاٹی وزیراعظم میرا ہمسایہ تھا مجھے وہ روٹی بھیجتا تھا

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ ہم ماضی کی حکومت کا گند صاف کر رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 86 ہزار جانیں گنوائیں عوام پولیس اور افواج کی جانوں کو خطرہ ہے، کسی کو اس کا احساس ہے؟ پچھلے 8 ماہ کے دوران عدلیہ نے جو حالات پیدا کئے ہیں ان کا ازالہ کریں ماضی میں عدلیہ کی بحالی کیلئے ہمیں اتحادی حکومت چھوڑنی پڑی، وکلا نے بھی بے شمار قربانیاں دیں۔ عدلیہ آرٹیکل 6 کو ری رائیٹ نہ کرے،عوام سمجھتے ہیں ہم کروڑوں روپیہ لیتے ہیں مگر ہم اپنے خرچے پر یہاں آتے ہیں ہماری تنخواہ ایک لاکھ 68 ہزار روپے ہے کچھ پارلیمنٹیرین پیدل چل کر قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے آتے ہیں

    میڈم یہ کہتے ہیں بچے کو نہیں ملے گی،فردوس عاشق اعوان کو بچے نے پکڑ لیا

    بے بس عوام:بےحس افسران:ACسیالکوٹ اورفردوس عاشق کےدرمیان ہونے والی نوک جھوک:ویڈیووائرل

  • خیبر پختونخوا اور پنجاب میں انتخابات کیس، فاروق ایچ نائیک نے دو ججز پراعتراض اٹھا دیا

    خیبر پختونخوا اور پنجاب میں انتخابات کیس، فاروق ایچ نائیک نے دو ججز پراعتراض اٹھا دیا

    سپریم کورٹ میں خیبر پختونخوا اور پنجاب میں انتخابات سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران فاروق ایچ نائیک نے بینچ میں شامل جسٹس اعجا ز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی پر اعتراض اٹھا دیا عدالت نے سماعت پیر ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران (ن) لیگ کے وکیل منصور اعوان نے کہا کہ حکم کی کاپی ابھی تک دستیاب نہیں ہوئی چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج اکٹھے ہونے کا مقصد تھا کہ سب کو علم ہو جائے ،مختلف فریقین کے وکلاعدالت میں دیکھ کر خوشی ہوئی فارو ق ایچ نائیک نے کہا کہ ہمیں کوئی نوٹس نہیں ملا،درخواست ہے سب کو نوٹس جاری کیے جائیں بینچ کی تشکیل پر ہمیں 2 ججز پر اعتراض ہے دونوں ججز کو بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی کے بینچ میں شامل ہونے پر اعتراض ہے نہایت احترام سے ججز کے بینچ میں شامل ہونے پر اعتراض کر رہا ہوں اعتراض کرنے کا فیصلہ قائدین نے کیا ہے جے یو آئی ایف ، مسلم لیگ( ن) اور پاکستان بار کونسل کی جانب سے 2 ججز پر اعتراض اٹھایا گیا ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ آج پہلے سب کی حاضری لگائیں گے ، سوموار کو سب کو سنیں گے ،4 صوبائی وکلا کی نمائندگی عدالت میں موجود ہے ،سپریم کورٹ بار کسی اور وکیل کے ذریعے اپنی نمائندگی عدالت میں کرے، صدر کی جانب سے ان کے سیکریٹری عدالت میں پیش ہو رہے ہیں ، مجھے لگتا ہے ہم نے سب سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کیے ، سب موجود ہیں عدالت میں گورنر پنجاب کے وکیل مصطفیٰ رمدے پیش ہوئے ہیں،فاروق ایچ نائیک نے( ن) لیگ ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ایف کا مشترکہ بیان عدالت میں پڑھ کر سنایا ، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ (ن) لیگ ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کا متفقہ بیان پڑھ رہاہوں، تینوں سیاسی جماعتیں احترام سے کہتی ہیں کہ 2رکنی بینچ کا از خود نوٹس کا حکم سامنے ہے۔ جسٹس جمال مندو خیل کا عدالت میں پڑھا گیا بیان بھی ہے، انصاف کی فراہمی ، فیئر ٹرائل کے تناظر میں دونوں ججز صاحبان کو بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ مناسب نہیں ہو گا معاملہ فل کورٹ سنے فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیف جسٹس سے درخواست کرتا ہوں معاملے پر فل کورٹ بینچ تشکیل دیا جائے عدالت سے استدعا ہے کہ فل کورٹ تشکیل دیاجائے

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس وقت میں گہرائی میں نہیں جاﺅں گا، میرا بھی یہی خیال ہے معاملہ فل کورٹ میں سنا جائے۔چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ہم پہلے کیس میں قابل سماعت ہونے پر بات کریں گے سپریم کورٹ نے سماعت پیر ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

  • پہلے خود گرفتاریاں دی اب عدالتوں پر بوجھ ڈالنے آگئے

    پہلے خود گرفتاریاں دی اب عدالتوں پر بوجھ ڈالنے آگئے

    لاہور ہائیکورٹ میں جیل بھرو تحریک میں گرفتار شاہ محمود قریشی، اسد عمر، اعظم سواتی اور ولید اقبال کی بازیابی کے لیے درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے حکم دیا کہ سرکاری وکیل 27 فروری تک رپورٹ جمع کروائیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پولیس کی جانب سے تحریک انصاف کے رہنماوں کو غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے، عدالت نے کہا کہ پولیس تو آپ کو گرفتار نہیں کررہے تھی، مگر آپ خود پولیس کی گاڑیوں پر چڑھ کر بیٹھ گئے،

    عدالتی ریمارکس پر عدالت میں قہقہہ گونج اٹھا۔وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریوں علامتی تھیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے خود گرفتاریاں دی اب آپ عدالتوں پر بوجھ ڈالنے آگئے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کو حراست میں کیسے اور کب لیا گیا، یہ کہاں لکھا ہے کہ پلیز مجھے گرفتار کر لیں، عدالت نے استفسار کیا کہ زین قریشی کیا آپ کے والد بھی گرفتار ہوئے ہیں، زین قریشی نے عدالت مین کہا کہ جی بلکل گرفتار کیا ہوا ہے، ہمیں اپنے والد سے ملنے کی اجازت دی جائے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ملنا چاہتے ہین تو چئرنگ کراس چلے جائیں، زین قریشی نے کہا کہ ہم تو وہاں گئے تھے ہمیں تو گرفتار نہیں کیا گیا، جسٹس شہرام سرور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو خود گئے کہ ہمیں گرفتار کرلیں بتائیں کہ آپ لوگ خود نہیں گاڑی میں بیٹھے؟ آپ کو دکھ اس بات کا ہے کہ گرفتار رہنماؤں کو لاہور سے باہر لے کر گئے، آپ ہوم سیکرٹری کو کہہ دیں وہ آپ کو گھر میں نظر بند کردیں جہاں ساری سہولیات ہوں، وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ عدالت سے استدعا ہے کہ عدالت آج ہی جواب طلب کرلے، عدالت نے آج ہی کیس دوبارہ فکس کرنے کی استدعا مسترد کر دی

  • ترکیہ زلزلہ؛ پاکستانی ریسکیو ٹیم عوامی پذیرائی کے ساتھ وطن واپس روانہ

    ترکیہ زلزلہ؛ پاکستانی ریسکیو ٹیم عوامی پذیرائی کے ساتھ وطن واپس روانہ

    ترکیہ زلزلہ؛ پاکستانی ریسکیو ٹیم عوامی پذیرائی کے ساتھ وطن واپس روانہ

    پاکستان کی جانب سے زلزلے کے بعد امدادی اور ریسکیو کاموں کے لیے ترکیہ بھیجی جانے والی ٹیم زبردست عوامی پزیرائی کے ساتھ وطن واپسی کیلیے روانہ ہوگئی ہے۔ جبکہ پاکستانی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم نے ترکیہ کے زلزلے کے متاثر ہونے والے علاقے اڈیامن میں 17 روزہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا، پاکستانی ٹیم میں آرمی کا 33 رکنی دستہ اور ریسکیو 1122 کا 53 رکنی دستہ شامل تھا۔
    https://twitter.com/MariamMalik1947/status/1628839401827565569
    نجی ٹی وی کے مطابق ریسکیو ٹیموں نے مجموعی طور پر 91 مقامات پر امدادی کام کیا جبکہ 39 مقامات پر ریسکیو آپریشن میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحتوں کے جوہر دکھائے۔ شب و روز کاوشوں سے 8 افراد کو زندہ بچا لیا گیا جن میں چھوٹے بچے بھی شامل تھے، اس کے علاوہ 5 دیگر زندہ افراد کی نشاندہی پر دوسری ریسکیو ٹیموں کی امداد سے ان افراد کو بھی بحفاظت زندہ نکالا گیا ریسکیو ٹیم نے ملبے تلے دب کر مرنے والے 138 افراد کی لاشیں نکال کر ترکیہ انتظامیہ کے حوالے کیا۔ ریسکیو ٹیم نے 2 ساٸٹس کو خیمہ بستی کیلٸے مکمل کلٸیر کیا۔ ریسکیو ٹیم کا آپریشن مسلسل کٸی روز تک جاری رہا ترکیہ عوام کے دل جیت کر پاکستان کے امدادی کارکنان نے دنیا بھر میں وطن عزیز کے نام کو سرخرو کیا۔


    اُدھر ریسکیو ٹیم کے اعزازمیں الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستانی سفیر اور استنبول کے ڈپٹی گورنر ازلیم بوزکرٹ گیورک نے شرکت کی اور پاکستانی رضاکاروں کو شاندار انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔ جبکہ پاکستانی سفیر ڈاکٹر یوسف جنیداورترکی کے حکام نے پاکستانی ٹیم کو تالیوں کے ساتھ رخصت کیا اور کہا کہ پاکستان امداد اور بحالی کی کوششوں میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔

    واضح رہے کہ ترکیہ کے زلزلہ متاثرین کیلٸے سب سے پہلے پہنچنے اور سب سے آخر میں وہاں سے نکلنے پر بین الاقوامی اور ترکیہ میڈیا پر پاکستان کی ریسکیو ٹیم کی تعریفیں بھی کی گئیں۔ جبکہ ٹیم کامیاب ریسکیو آپریشنز کے بعد استنبول سے روانہ ہوگئی جو کل علی الصبح وطن واپس لوٹے گی۔


    دوسری جانب وطن واپسی پر ترکیہ کے ایئرپورٹ پر پاکستانی ریسکیو ٹیم کو شاندار انداز میں الوداع کیا گیا جہاں ہوائی اڈے پر موجود ترک حکام نے تالیاں بجا کر عملے کی حوصلہ افزائی کی۔ اس موقع پر پاکستان زندہ باد اور پاک ترک دوستی زندہ باد کے نعرے بھی فضا میں بلند ہوئے۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’قوم کے ان بہادر اور فرض شناس بیٹوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ترکیہ کے بہنوں، بھائیوں اور بچوں کی زلزلہ کی تباہی کے دوران زندگیاں بچائیں‘۔ انہوں نے لکھا کہ ریسکیو حکام نے دن رات انسانیت کے جذبے سے کام کیا۔ ترکیہ میں ریسکیو آپریشن مکمل ہونے پر ریسکیو 1122 کے دستے کی وطن واپسی کا قابل فخر اور روح پر مناظر ہیں۔

  • پی ٹی آئی رہنماء شاہ محمود قریشی کو 30 روز کیلئے نظر بند کردیا گیا

    پی ٹی آئی رہنماء شاہ محمود قریشی کو 30 روز کیلئے نظر بند کردیا گیا

    شاہ محمود کو 30 روز کیلئے نظر بند کردیا گیا
    نائب چئیرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) شاہ محمود قریشی 30 روز کے لئے نظر بند کر دئیے گئے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی جیل بھروتحریک کے معاملے پر شاہ محمود قریشی کو نظر بند کیئے جانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ پی ٹی آئی نائب چیئرمین کی نظر بندی کے احکامات ڈپٹی کمشنر لاہور کی سفارش پر محکمہ داخلہ پنجاب نے جاری کردیئے۔
    notification
    شاہ محمود قریشی کو آج کوٹ لکھپت سے اٹک جیل منتقل کردیا گیا تھا۔

    مزید اپڈیٹ کی جارہی ہے

  • شہبازشریف سےآصف زرداری کی ملاقات،وزیراعظم نےاپیکس کمیٹی کااجلاس طلب کرلیا

    شہبازشریف سےآصف زرداری کی ملاقات،وزیراعظم نےاپیکس کمیٹی کااجلاس طلب کرلیا

    اسلام آباد:وزیر اعظم شہباز شریف سے سابق صدر آصف علی زرداری نے ملاقات کی، جس میں ملکی کی موجودہ صورتحال پر غور کیا گیا۔

    پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری کی وزیراعظم ہاؤس آمد پر وزیراعظم شہباز شریف نے استقبال کیا، ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ملک کی سیاسی صورت حال، عوامی فلاح اور بہبود کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

    ملاقات میں پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات پر سپریم کوٹ کی جانب سے ازخود نوٹس لینے اور سماعت کرنے والے بنچ سے متعلق تفصیلی مشاورت کی گئی، وزیر اعظم شہباز شریف اور آصف زرداری نے سپریم کورٹ میں اپنا موقف بھرپور طریقے سے پیش کرنے پر اتفاق کیا۔

    ادھرذرائع کےحوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد : وزیر اعظم شہبازشریف نے اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا۔ذرائع کے مطابق اپیکس کمیٹی کا اجلاس کل 3 بجے وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا، اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں عسکری و سول قیادت شریک ہوگی، اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں ملکی امن وامان کی صورتحال پر غور ہوگا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں پشاور دھماکے، کراچی میں دہشتگردی کے واقعات پر بریفنگ دی جائے گی، اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق بھی غور ہوگا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی شریک ہوں گے۔

  • پنجاب، خیبرپختونخوا انتخابات، اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری

    پنجاب، خیبرپختونخوا انتخابات، اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری

    پنجاب اورخیبرپختونخوا الیکشن کی تاریخ سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے 3 معاملات ہیں،وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہماری درخواست زیر التوا ہے اسے بھی ساتھ سنا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیکشن 57 کے تحت صدر مملکت نے انتخابات کا اعلان کیا،الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 میں چیزیں واضح نہیں،دیکھنا ہے اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد الیکشن تاریخ دینے کا اختیار کس کو ہے، ہمارے سامنے ہائیکورٹ کا 10 فروری کا آرڈر سامنے تھا ،ہمارے سامنے بہت سے فیکٹرز تھے ،جن کی بنیاد پر از خود نوٹس لیا،ہائیکورٹ میں لمبی کارروائی چل رہی ہے،وقت گزرتا جار ہا ہے،

    سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے صرف آئینی نکتہ دیکھنا ہے اور اس پر عملدرآمد کرانا ہے،سپریم کورٹ آئین کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گی،انتہائی سنگین حالات ہوں تو انتخابات کا مزید وقت بڑھ سکتا ہے ہم نے آئین کو دیکھنا ہے اس پر عمل درآمد ہورہا ہے،ہمارے سامنے 2درخواستیں تھیں اور سمپل تھا کہ وہ سنتے،سماعت آئندہ ہفتے کریں گے اس وقت ہم نوٹس جاری کرتے ہیں،کچھ سوال دونو ں اسمبلی کے اسپیکرز نے اپنی درخواستوں میں شامل کیے ہیں،20فروری کو صدر کے انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے بعد صورتحال بدل گئی دورخواستیں ہیں وہ اب آ وٹ ڈیڈڈ ہوگئی ہیں ، اس پر وضاحت کی ضرورت ہے،آرٹیکل 224 کہتا ہے 90 روز میں انتخابات ہونگے،وقت جلدی سے گزر رہا ہے،ہائیکورٹ میں معاملہ زیر التوا تھا مگر کوئی فیصلہ نہیں ہو پارہا تھا،

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے ازخود نوٹس سے متعلق کچھ تحفظات ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتحابات کے ایشوپر وضاحت طلب ہے، ہم اردارہ رکھتے ہیں سب کو سنیں،ہم نے آئندہ ہفتے کا شیڈول منسوخ کیا تا کہ یہ کیس چلا سکیں، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے دو اسمبلیوں کے اسپیکر درخواست ہیں،ازخود نوٹس جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے نوٹ پر لیا گیا،کیس میں چیف الیکشن کمشنر کو بھی بلایا گیا جو کہ فریق نہیں ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وقت کی کمی کی وجہ سے زیادہ لمبی سماعت نہیں کر سکتے، ہمارے سامنے یہ تجویز آئی ہے کہ ہم کل بھی سماعت کریں،اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ کل کیس کی سماعت نہ کریں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کل ہم محدود سماعت کریں گے ، اس میں کہیں گے کہ تیاری کرکے آئیں ،شعیب شاہین نے کہا کہ یہ ٹائم باونڈ کیس ہے اس میں انتخابات کرانے کا ایشو ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت فیصلہ دیتی ہے تو سب سیاسی جماعتیں فائدہ حاصل کرینگی،شعیب شاہین نے کہا کہ ازخود نوٹس میں اگر فیصلہ انتخابات کرانے کا آتا ہے تو سب کوہو فائدہ ہوگا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں سیاسی جماعتیں حکومت بناتی ہیں،میرے خیال میں تمام سیاسی جماعتوں کو سننا چاہیے، وکیل نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور حکومت کو قانونی موقف دینا چاہیے اس لیے بلایا جاسکتا ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم ایشو ہے ،اس کا مقصد ٹرانسپرنسی اور عدالتوں پر اعتماد کی بات ہے،وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ لاہورہائیکورٹ میں جو کیس چل رہے ہیں ان کا ریکارڈ طلب کیا جائے، عدالت نے کہا کہ ہمارے سامنے 2 درخواستیں آئیں، درخواستوں میں گورنرز کی جانب سےالیکشناعلان نہ کرنے کو چیلنج کیا گیا،جب اسپیکرز نے درخواست دی اس وقت صدر اور الیکشن کمیشن میں خط وکتابت شروع ہوئی، صدر نے 20 فروری کو 9 اپریل کو انتخابات کرانے کی ہدایت کی ، ہائیکورٹس نے الیکشن تاریخ کے لیے گورنرزسے ڈسکس کرنے کی ہدایت کی ،گورنز نے اس آرڈر پر تحفظات کیا اور انٹراکورٹ اپیل دائر کی گئی انٹراکورٹ اپیل پرسماعت کی تاریخ 27 فروری ہے، پشاور ہائیکورٹ میں ایسے ہی کیس کی سماعت 28 فروری کو ہے ،آئین کے مطابق الیکشن اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد 90 دن میں کیے جانے ہیں،از خود نوٹس میں کچھ سوالات الیکشن کمیشن ایکٹ 27 اور 28 سے متعلق اٹھائے گئے

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

  • جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا گیا

    سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے بھجوایا گیا ہے، ریفرنس میں سپریم کورٹ کے جج اورانکے اہلخانہ کی جائیدادوں کی تحقیقات کرنے کی استدعا کی گئی ہے، کہا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی کے اثاثوں کی تحقیقات کرے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے اثاثے 3 ارب روپے سے زائد مالیت کے ہیں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا فیڈرل ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ ہے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا سپریم کورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ ہے گلبرگ تھری لاہور میں 2 کنال 4 مرلےکا پلاٹ ہے سینٹ جون پارک لاہورکینٹ میں 4 کنال کا پلاٹ ہے اثاثوں میں گوجرانوالا الائیڈ پارک میں غیر ظاہر شدہ پلازہ بھی شامل ہے

    میاں داؤد کی جانب سے دائر ریفرنس میں الزام لگایا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے مبینہ طور پر 2021 میں 3 بارسالانہ گوشواروں میں ترمیم کی، گوشواروں میں ترمیم گوجرانوالا ڈی ایچ اے میں گھر کی مالیت ایڈجسٹ کرنے کے لیے کی گئی، پہلے گھرکی مالیت 47 لاکھ پھر 6 کروڑ اور پھر 72 کروڑ ظاہرکی گئی

    طالبان کا امریکی فوجی اڈوں کو اکنامک زونز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ
    چیٹ جی پی ٹی نے نریندر مودی کودنیا کی متنازع ترین شخصیات میں سے ایک قرار دیا
    کھمبے سے باندھ کر لوہے کی راڈ گرم کرکے جسم کے مختلف حصوں میں لگانے کی ویڈیو وائرل

  • لاہور ہائیکورٹ کا 2002 سے قبل کا توشہ خانہ ریکارڈ پیش کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کا 2002 سے قبل کا توشہ خانہ ریکارڈ پیش کرنے کا حکم

    لاہور:لاہورہائیکورٹ نے حکومت کو 2002 سے قبل کا توشہ خانہ ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر سماعت لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی۔ کابینہ سیکرٹری اعزاز ڈار ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہوئے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کابینہ نے 2002 سے اب تک کا توشہ خانہ کا ریکارڈ ڈی کلاسیفائیڈ کردیا ہے کہ یہ تحائف کس نے خریدے ۔ یہ سارا ریکارڈ ویب سائٹ پر ڈالا جائے گا۔وہ ریکارڈ نہیں دے رہے کہ بیرون ملک سے یہ تحائف دیے کس نے ہیں۔

    جسٹس عاصم حفیظ نے استفسار کیا کہ 2002 سے پہلے کا ریکارڈ آپ کے پاس نہیں ہے؟ جس پر وفاقی حکومت نے جواب دیا کہ 2002 سے پہلے کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ نہیں ہے۔عدالت نے آئندہ سماعت پر کابینہ سیکریٹری کو 2002 سے پہلے کا توشہ خانہ ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا۔

    وفاقی حکومت کے وکیل نے کابینہ کا ریکارڈ ڈی کلاسیفائیڈ کرنےکا فیصلہ عدالت میں پیش کیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ حکومت کو سارا ریکارڈ عدالت کے سامنے رکھنا چاہیے۔جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس میں کہا کہ ایک دم سے چیزیں تبدیل نہیں ہوتیں۔ حکومت نے 2023 میں ریکارڈ ڈی کلاسیفائیڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے کارروائی 13 مارچ تک ملتوی کردی۔ عدالت میں دائر درخواست میں قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ سے دئیے گئے تحائف کی تفصیل اور جن اشخاص کو تحفے دیے گئے ان کی تفصیل مانگی گئی ہے۔