لاہور: لاہور ہائی کورٹ کے اسسٹنٹ رجسٹرار کی طرف سے پی سی بی ملتان اسٹیڈیم کے مینجر کے نام خط پرعوامی ردعمل کے بعد حالات بدل گئے ہیں اور اسسٹنٹ رجسٹرارنے کہا ہے کہ ہائی کورٹ کے عملےکوملتان میں ہونے والے پی ایس ایل کے میچز دیکھنے لیے اب نہ تو وی وی آئی پیز ٹکٹس چاہیں اور نہ ہی گاڑیوں کے لیے سرخ رنگ کے اسٹیکرز چاہیں ، ہائی کورٹ اپنے اس حکم نامے کو واپس لیتی ہے ،
یاد رہےکہ اس سے پہلے اسسٹنٹ رجسٹرار پروٹوکول ہائی کورٹ کی طرف سے پی سی بی کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ ہمیں پی ایس ایل میچ دیکھنے کےلیے 30پاس اور گاڑیوں کے لیے ریڈ سٹیکر پیش کیے جائیں لاہور ہائیکورٹ نے پی سی بی کوحکم دے دیا ہے ،اطلاعات ہیں کہ اس سلسلے میں لاہورہائی کورٹ کی طرف سے باقاعدہ خط بھی لکھ دیا گیا ہے
باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق لاہور ہوئی کورٹ کے اسسٹنٹ رجسٹرار پروٹوکول سعید احمد خان کی طرف سے لکھے گئے اس خط میں کہا گیا ہےکہ لاہورہائی کورٹ میں کام کرنے والے عملے جس میں ججز بھی شامل ہیں کوملتان میں ہونے والے پی ایس ایل کے ہرمیچ کے لیے 30 انتہائی وی آئی پی کارڈز اوران کی گاڑیوں کو بلاروک ٹوک جانے کے لیے سرخ رنگ کے سٹیکرپیش کیے جائیں تاکہ ان کوکسی قسم کی پریشانی لاحق نہ ہو
اس لیٹرمیں کہا گیاہے کہ چیئرمین باکس میں ہرمیچ کےلیے تیس وی وی آئی پی پاس چاہیں اوران پاسز کی فراہمی کےلیے جلد عمل درآمد کیا جائے ،اس خط میں کہا گیا ہے کہ حکم کے مطابق اس خط پرفی الفورعمل کیا جائے
ادھرپاکستان کرکٹ بورڈ کی مینجمنٹ کمیٹی کے چئیرمین نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ شالیمار باغ میں پی ایس ایل ٹرافی کی رونمائی کرانے کا مقصد یہی تھا کہ کچھ تو پتہ چلنا چاہیے نہ کہ تبدیلی آ گئی ہے، تبدیلی میں کچھ تخلیقی چیزیں بھی ہو تی ہیں، اس لیے شالیمار گارڈن سے بہتر اور کونسی جگہ ہو سکتی ہے۔
لاہور میں پی ایس ایل 8 کی ٹرافی کی تقریب رونمائی کے موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا یہ اتنی خوبصورت جگہ ہے کہ سب کو پتہ چلنا چاہیے کہ لاہور میں بھی بڑے ستارے ہیں صرف پی ایس ایل میں ستارے نہیں ہیں، اس مرتبہ ہمارا نعرہ بھی یہ ہے کہ سب ستارے ہمارے، اس کے لیے اس سے اچھی جگہ کوئی اور نہیں ہوسکتی کہ کہیں اور رونمائی کی جاتی۔
آرمی چیف کا دورہ امریکہ؛ ترجمان پاک فوج نے تردید کردی
آئی ایس پی آر نے سوشل میڈیا پر آرمی چیف کے امریکا کے دورے کی خبروں پر وضاحت جاری کردی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف کی امریکا دورہ سے متعلق قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں کیونکہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر برطانیہ کے دورے پر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف 5 سے 10 فروری تک برطانیہ کے سرکار ی دورے پر ہیں، سوشل میڈیا پر آرمی چیف کی دورہ امریکا سے متعلق قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔
Which is a bi-annual event for military to military cooperation between the two countries. Senior Pakistan military leadership has been participating in the event since 2016. 2/2
گزشتہ دنوں کچھ گھنٹوں کیلئے بڑے شہروں میں بجلی کیا گئی تھی پورے ملک کا میڈیا اور سوشل میڈیا چیخ اٹھا لیکن کیا ان بڑے شہروں میں بسنے والوں نے ان علاقوں کے بارے میں بھی کبھی سوچا ہے جہاں کئی کئی ہفتوں تک بجلی سرے سے ہوتی ہی نہیں ہے جبکہ محکمہ واپڈا کے سرکاری ملازمین بجلی صارفین کی شکایت پران کا مسئلہ حل کرنے میں ہفتے لگا دیتے ہیں کیونکہ یہ محکمہ ایک ایسا سفید ہاتھی بن چکا ہے جس کی غلطی اور بدعنوانیوں کیخلاف شائد کسی میں ہمت نہیں کہ وہ برخلاف بدعنوان افسران کوئی کاروائی عمل میں لا سکے لیکن میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ صوبائی سطح کا ایک وزیر بھی اس محکمے کے آگے بے بس ہوگا۔
کہانی کچھ یوں ہے کہ مقامی وڈیروں کے مظالم کیخلاف لکھنے پر جب مجھ پر ان کے لوگوں نے حملے شروع کئے تو میں نے اپنا گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کیا کیونکہ روز بروز کسی نہ کسی تنازعہ کو لیکر کبھی میرے بھائیوں تو کبھی رشتہ داروں کے ساتھ لڑائی جھگڑے جبکہ سیاسی اثرورسوخ پر ناصرف مجھے پولیس سے گرفتار کروا کر شدید ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا بلکہ میرے بہت ہی قریبی رشتہ داروں کیخلاف بھی ٹھیک اسی طرح کے جھوٹے و من گھڑت الزامات لگا کر مقدمات درج کروائے گئے اور حوالات بند کروا کر ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے جیل ڈلوایا گیا تاکہ وہ میرے خاندان کے ساتھ غمی خوشی کا معاملہ منقطع کردیں اور میرے خاندان کو مجبور کیا جاسکے کہ میں ان کے مظالم کے خلاف بولنا بند کردوں لہذا یہ سب ہونے کے بعد میں نے سوچا کہ مجھے میرے خاندان سمیت گاؤں چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ وہ لوگ ہر لحاظ سے مجھ سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ میری وجہ سے مجھ سے جڑے لوگوں کو کوئی مزید نقصان پہنچ جائے علاوہ ازیں گاؤں چھوڑنے کی دوسری اہم وجہ ہم بہن بھائیوں کی تعلیم بھی تھی کیونکہ گاؤں میں اسکول صرف جماعت پنجم تک تھا اور اس میں بھی کئی قسم کی مشکلات تھیں جیسے کہ اساتذہ پڑھانے کیلئے بھی نہیں آتے تھے کیونکہ مقامی وڈیرے چاہتے تھے کہ یہاں کے بچے پڑھنے لکھنے نہ پائیں اور یوں سیاسی اثرورسوخ پر وہ لوگ حاضری نہ کرنے والے اساتذہ کو محکمانہ کاروائی سے بھی بچا لیتے تھے۔
بہرحال جب ہم گاؤں چھوڑ کر شہر منتقل ہوئے تو میں نے اس وقت محکمہ واپڈا (پیسکو) کو ایک درخواست لکھی جس میں آگاہ کیا گیا تھا کہ اس تاریخ سے ہمارا گاؤں والا گھر بند ہے اور ایسا نہ ہو کہ آپ جرمانہ بھیج دیں، ناصرف تحریری طور پر محکمہ کو آگاہ کیا تھا بلکہ زبانی طور پر بھی بزات خود اپنے علاقہ کے اس وقت کے میٹر ریڈر کو بھی بتایا تھا تاکہ وہ بھی لاعلم نہ رہے۔ یہاں پر ایک بات واضح کرتا چلوں کہ اس کے باوجود کہ بجلی کئی کئی دنوں میں سے چند گھنٹوں کیلئے منہ دکھائی کی رسم پوری کرتی تھی پھر بھی پورے گاؤں کے اُن چند گھرانوں میں ہم بھی شامل تھے جنہوں نے بجلی کے میٹر لگوا رکھے ہیں اور باقاعدگی سے بل ادا کرتے رہے لیکن ہمارے گاؤں چھوڑنے کے کچھ ہی عرصہ بعد میرے والد کے نام پر لگے اس میٹر کے بل میں تقریبا بیس ہزار روپے سے زائد کا جرمانہ بھیج دیا گیا چونکہ اس وقت میری تعلیم بھی جاری تھی اور تعلیم کے ساتھ ایک جگہ پر کام بھی کررہا تھا تو مجھے اس وقت فوراََ وقت نہ مل سکا لہذا اگلے میں بل کے آتے ہی بڑی مشکل سے اپنے مالک سے چھٹی لے کر پیسکو آفس جا پہنچا جہاں ایک متعلقہ افسر صاحب کو شکایت کرتے ہوئے بتایا کہ اِس ایک ماہ کے اندر جرمانہ ڈبل ہوکر چالیس ہزار روپے سے زائد ہوچکا ہے اور ہم انتہائی غریب لوگ ہیں براہ کرم یہ بغیر کسی جرم کے عائد کیا گیا ہے لہذا اس کو ختم کیا جائے جس پر موصوف نے جواب دیا کہ یہ جرمانہ بجلی استعمال نہ ہونے یعنی میٹر بند ہونے یا یونٹ کم آنے کی وجہ سے لگایا گیا ہے تاہم انہیں درخواست کی نقل پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ جناب کے محمکہ کو ناصرف تحریری طور پر آگاہ کیا تھا بلکہ میٹر ریڈر کو بھی بتایا تھا کہ اب ہم شہر منتقل ہورہے ہیں لہذا آئندہ سے گھر بند ہوگا مگر یہ سب سننے کے باوجود بھی افسر صاحب نے بڑے متکبرانہ انداز میں فرمایا "اب آپ کا کچھ نہیں ہوسکتا، جائے اور بِل جمع کروائے۔”
پڑوسی کی لگی کنڈی کی وجہ سے میٹر والے گھر پر جرمانہ دے دیا گیا۔
واپڈا آفیسر صاحب کی یہ بات سن اور انداز محسوس کرکے مایوس ہوگیا کیونکہ میرے پاس اتنی وافر دولت تو تھی نہیں کہ بلاجواز جرمانہ ادا کر دیتا لہذا پھر میں نے اسے موجودہ بل جمع کروانے کی استدعا کی تو انہوں نے موجودہ بل جمع کرنے سے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ "جرمانہ سمیت مکمل بِل ادا ہوجائے گا۔” تاہم بعدازاں وقتاََ فوقتاََ جب موجودہ بِل جمع ہوجاتا تو کردیتے تھے اور نہ ہوتا تو رہنے دیتے تھے اور یوں گاؤں کے گھر کا جرمانہ بڑھتے بڑھتے اب ایک لاکھ 43 ہزار سے بھی اُوپر بڑھ گیا ہے۔
گزشتہ سال ایک دن تحریک انصاف کے ایک سینئر صوبائی وزیر سے بات ہورہی تھی تو میں نے انہیں محکمہ واپڈا (پیسکو) سے متعلق اپنا تجربہ بتایا جس کے بعد انہوں نے واپڈا بارے جو الفاظ ادا کیئے انہیں اخلاقی طور پر یہاں تحریر کرنے سے قاصر ہوں۔ جبکہ اب کئی سال بعد شہر کے گھر جو کرایہ کا ہے کے میٹر پر بھی گزشتہ دسمبر کے بل میں 46 ہزار روپے کا جرمانہ پیسکو کی جانب سے بھیج دیا گیا ہے، جسے دیکھ کر میرے ہوش اُڑ گئے اور میں یہ سوچنے لگا کہ چلو وہ گاؤں والا میٹر تو والد کے نام پر تھا جرمانہ ادا نہیں کیا تھا لیکن یہ تو کرایہ کا گھر ہے اب اگر ادھر بھی محمکہ واپڈا نے جرمانہ ختم نہ کیا تو کیا ہوگا؟ یہی کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ مالک مکان کی کال نے مزید پریشان کردیا جب انہوں نے میری پوری بات سنے بغیر بل میں جرمانہ بارے سن کر کہا بس اسے فوراََ جمع کروائیں کیونکہ میں نے تو آپ کو کلیئر بل دیا تھا۔
اس کے بعد میں نے میٹر ریڈر کا نمبر تلاش کیا اور انہیں مسلسل تین دن لگاتار پہلے پیغامات جبکہ بعدازاں کالز کرتا رہا تاہم انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا جسکے بعد اسلام آباد سے رات کے وقت نکلا اور صبح اپنے شہر ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ کر پیسکو دفتر جرمانے والا بل ہمراہ لے کر پہنچ گیا جہاں انہوں نے زبانی طور پر بتایا کہ آپ پر جرمانہ کنڈا یعنی بجلی چوری کرنے کی وجہ سے آیا ہے میں نے ان سے اس کا ثبوت مانگا تو انہوں نے کہا آپ کے کم یونٹ اس بجلی چوری کا ثبوت ہیں تاہم میرے ٹھوس ثبوت کے مطالبے پر وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے اور ان کے پاس کوئی خاطرخواہ جواب نہ تھا جبکہ میں نے انہیں گزارش کی کہ جس بنا پر میرے خلاف جرمانہ عائد کرنے کا جواز پیش کیا جارہا ہے ایک تو اس کا آپ کے پاس ثبوت نہیں اور دوسرا کنڈے پڑوسیوں نے واضح لگائے ہوئے جن کے خلاف کاروائی کے الٹا آپ میٹر لگانے والوں پر بلاجواز جرمانے دے رہے اس کے ساتھ ثبوت کے طور انہیں تصاویر بمع ویڈیوز بھی پیش کیں اور یہ بھی کہا کہ میرے ساتھ آپ لوگ ابھی چلیں میں آپ کو دیکھا سکتا ہوں کہ ابھی بھی سرعام کنڈے لگے ہوئے ہیں لیکن افسر صاحب نے مجھے شائد ٹالنے کیلئے کہا تھا کہ آپ جاؤ ہم آئندہ بروز ہفتہ 14 جنوری کو آپ کے پاس موقع پر آکر معائنہ کریں گے جبکہ حضور والا ابھی تک نیا مہینہ فروری لگ جانے کے باوجود بھی میری شکایت پر معائنہ کرنے نہیں آئے ہیں۔
خیال رہے حالیہ دنوں واپڈا اہلکار میرے قریبی محلہ میں کنڈا کے خلاف آپریشن کرنے آئے اور اس محلہ کی طرف جانے والی مین تاروں کو کاٹ دیا جبکہ میرے گھر کی گلی سے گزرے تو اظہر من الشمس لگے کنڈے نظرانداز کردیئے گئے اور چونکہ وہ گاڑی میں تھے تو علم ہونے پر گھر سے باہر نکلا اور انہیں رکنے کا اشارہ کیا تاکہ شکایت بارے دوبارہ آگاہ کروں اور لگے کنڈوں کی طرف بھی توجہ مبذول کرواؤں مگر وہ بغیر مجھے شکایت بتانے اور بجلی چوری کی نشاندہی کروانے کا موقع دیئے چلے گئے۔ تاہم بعدازاں محلے داروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس دن جو پیسکو اہلکار بجلی کی تاریں کاٹ گئے تھے وہ آج دوبارہ لگا گئے ہیں کیونکہ ان کا اصل مقصد بجلی چوری کو کرنا نہیں تھا بلکہ کچھ اور تھا.
بالآخر تنگ آکر اس مسئلہ پر متعلقہ محکمہ، وفاقی وزیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کو ٹیگ کرتے ہوئے ایک ٹوئیٹ کی جس میں مدعا بیان کیا کہ؛ "وزیراعظم شہباز شریف صاحب! آپ نے ٹھیک فرمایا تھا کہ اس ملک میں جسکی لاٹھی اسکی بھینس ہے، میں مستقل بل ادا کرتا ہوں جبکہ میرے محلہ کی اکثریت نے کنڈے لگائے ہوئے ہیں مگر شائد کنڈا کے بجائے میٹر لگوانا میرا جرم بن گیا اور پیسکو نے46529 روپے کا بل بھیج دیا جوکہ میری ماہانہ آمدن سے بھی زائد ہے۔ حالانکہ میرا سردیوں کے دوران ماہانہ بل 500 سے 1000 تک آتا رہتا ہے اور موجودہ بل تو 398 ہے لہذا اب مجھے بتایا جائے کہ میرے ساتھ یہ ظلم کیوں؟ اس سے قبل بھی میرے گاؤں والے ایک گھر جو بند ہے پر بنا کسی وجہ کے جرمانہ بھیج دیا گیا تھا جو بڑھتے بڑھتے اب ایک لاکھ سے بھی زائد ہوگیا ہے جسکی شکایت محمکہ واپڈا میں کرنے پر جواب دیا گیا کہ جرمانہ ادا کریں۔”
حالانکہ میرا ماہانہ بل 500 سے 1000 تک آتا رہتا ہے اور موجودہ بل تو 398 ہے لہذا اب مجھے بتایا جائے کہ میرے ساتھ یہ ظلم کیوں اس سے قبل بھی میرے گاؤں والے اس گھر جو بند 🔐 ہے پر ایک لاکھ سے زائد بنا کسی وجہ کے جرمانہ بھیج دیا گیا۔ جسکی شکایت محمکہ واپڈا میں کی تو جواب ملا ادا کرو
اس ٹوئیٹ پر مجھے کسی متعلقہ شخص یا اہل اقتدار نے تو کوئی جواب نہ دیا لیکن کچھ ٹوئیٹر صارفین نے کنڈا لگانے کا مشورہ ضرور دیا اور کچھ نے تو بنا پوری بات جانے ہی کہہ دیا کہ آپ کے بِل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بجلی چوری کرتے ہیں کیونکہ بل بہت کم ہے لہذا کم بل پر بجلی چوری کا الزام لگانے والوں کیلئے عرض ہے کہ میں اس گھر میں چند ماہ پہلے کرایہ پر مُنتقل ہوا ہوں اور اس سے قبل گھر بند تھا جسکے سبب 123 روپے تک کا بھی بل آتا رہا تھا اب چونکہ سردیاں ہیں تو بلبوں، استری اور موبائل چارج کرنے کے علاوہ کوئی دوسری چیز زیادہ استعمال ہی نہیں ہوتی جبکہ گھر میں بھی کوئی اے سی، واٹر پمپ یا زیادہ بجلی پر استعمال ہونے والی چیز ہے نہیں اور دوسرا گھر میں شمسی سسٹم موجود ہے لہذا ہماری کوشش یہ ہوتی کہ کم سے کم بجلی کا استعمال ہو تاکہ بِل کم آئے اور سب سے اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اس گھر میں بہت کم رہتے ہیں کیونکہ میں اسلام آباد میں باغی ٹی وی سے بطور نیوزایڈیٹر منسلک ہوں تو صحافتی کام کے سلسلہ میں زیادہ تر اسلام آباد میں رہنا پڑتا ہے.
بہرحال بہت سارے لوگوں نے مجھے واپڈا سے متعلق اپنے تجربات بارے بتایا تو میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا کہ کیا محمکہ واپڈا بذات خود بجلی چوری پر عوام کو مجبور کرتا ہے؟ تو اس کا جواب چچا رحیم (فرضی نام) نے دیا کہ جی ہاں! یہ محمکہ خود ہی عوام کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بجلی چوری کریں اور پھر اس کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف آپ یا پھر میرے ساتھ نہیں ہوا کئی لوگوں کے ساتھ ایسا ہوا ہے کیونکہ کئی بجلی صارفین نے انہی بغیر جرم کے جرمانوں کے سبب تنگ آکر بجلی کے میٹر اتار کر اب براہ راست کنڈے لگادیئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں چچا رحیم نے جواب دیا کہ میں نے خود بیٹوں سے جھگڑا کرکے اپنے نام پر بجلی کا میٹر لگوایا تھا چونکہ میں اس وقت بجلی چوری کو ناصرف جرم بلکہ گناہ کبیرہ سمجھتا تھا لیکن میرے بیٹے مجھے کہتے تھے بابا میٹر نہ لگوائیں کنڈا ٹھیک لگا ہوا ہے کیونکہ کئی لوگوں نے جرمانوں کے سبب میٹر کٹوا دیئے ہیں۔ مگر میں نے ان کی ایک نہ سنی اور بجلی کا میٹر لگوا دیا جسکے کچھ سال بعد مجھے تقریبا پندرہ ہزار روپے کا جرمانہ بھیجا گیا تھا جو محمکہ پیسکو میں ایک جاننے والے اہلکار کی سفارش کے بعد ختم ہونے کے بجائے آدھا ہوگیا تو قسط کروا کر جمع کرواتا رہا لیکن اُسکی مکمل ادائیگی کے کچھ ہی عرصہ بعد دوبارہ پیسکو نے 30 ہزار روپے کا جرمانہ بھیج دیا جسکے بعد میں نے میٹر اتار کر کنڈا لگا دیا اور اب سب کو یہی مشورہ دیتا ہوں کہ کنڈا لگا لو مگر بجلی کا میٹر کبھی بھی نہ لگوائیں۔
آخر میں قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی کے ساتھ محمکہ واپڈا یا کسی نے بھی ایسی کوئی ناانصافی کی ہے تو اس کے جواب میں ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ بجلی چوری کی جائے یا غلط کام کے بدلے غیر آئینی کام کیا جائے جبکہ آئین و قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے انصاف کے تقاضے کیلئے آواز بلند کی جائے اور ایسے محکموں یا بدعنوان اور ظالم افراد کو بے نقاب کیا جائے. جبکہ میری ذاتی رائے کے مطابق افسوس ہے کہ پاکستان میں اچھے لوگوں کی قدر ہے اور نہ برے کی پکڑ لہذا یہی وجہ ہے کہ آج تک ہم ان تمام مسائل کا شکار اور دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہیں لیکن جہاں تک محکمہ واپڈا کی بات ہے تو اس کی بہتری کا واحد حل صرف ور صف نجکاری ہے اور اس کی زندہ مثال پی ٹی سی ایل ہے کیونکہ اب سے پہلے اس کا بھی یہی کچھ حال تھا لیکن جب سے اس کی نجکاری ہوئی ہے اب اس میں آہستہ آہستہ بہتری آرہی ہے.
نوٹ؛ اگر محکمہ واپڈا (پیسکو) اس پر اپنا موقف دینا چاہے تو malikramzanisra@gmail.com پر رابطہ کرسکتا ہے.
ضمنی انتخابات کیلئے سکیورٹی فراہم نہیں کرسکتے ہیں. وزارت دفاع
وزارت دفاع نے خیبر پختونخوا و پنجاب اسمبلی میں الیکشن اور قومی اسمبلی کی 93 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لیے رینجرز اور ایف سی کی فراہمی کے معذرت کر لی ہے جبکہ رینجرز اور ایف سی کی پولنگ اسٹیشنوں کے باہر تعیناتی کے حوالے سے وزارت دفاع نے سیکرٹری داخلہ کو خط لکھ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز بارڈر اور اندرونی ملک سکیورٹی میں مصروف ہیں۔
وزارت داخلہ کو لکھے گئے خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب رینجرز راجن پور ضمنی الیکشن میں کوئیک رسپانس فورس کے طور پر دستیاب ہو گی۔ دوسری جانب وزارت خزانہ نے الیکشن کمیشن سے وسیع تر قومی مفاد میں انتخابات کے لیے اضافی ضمنی گرانٹ کی درخواست مؤخر کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
عمران خان کی گرفتاری کے حوالے سے سنیئرصحافی مبشرلقمان کا کہنا تھاکہ عمران خان کی گرفتاری پکی ہے ، لیکن فی الحال توشہ خانہ کیس اور ایسے ہی ٹیریان کیس کا فیصلہ آنےدیں پھر پکی گرفتاری ہوگی ،ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ ابھی تو اگرگرفتاری ہوتی ہےتوہوسکتا ہے گرفتاری کے بعد جلد ضمانت ہوجائے توایسے پھر درست نہیں ، پہلے فواد چوہدری گرفتار ہوئے پھرشیخ رشید اور اب باری عمران خان کی ہے کسی بھی وقت گرفتاری ہوسکتی ہے لیکن امکان یہ ہے کہ یہ گرفتاری عدالتی فیصلے کے بعد آئےگی،دوسروں کو جیل بھرو کی تحریک کا کہہ کراب پھرڈر گیا ہے یہ کئی بار یوٹرن لے گا
قتل کی سازش کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے دوافراد کو میرے قتل کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے ، اس پر مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ پہلے زرداری پرقتل کا الزام لگانے پرایک مقدمہ بن چکا ہے اب یہ پھرالزام لگا رہا ہے،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان کسی کا خیرخواہ نہین ہےاس شخص نے سب کوپریشان کررکھا ہے
باجوہ کی ایکسٹینشن کے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا یہ کہنا ہے کہ اس سے باجوہ کوایکسٹیشن دینے کی بڑی غلطی سرزد ہوئی ، ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ اب توپتہ چل گیاکہ باجوہ ایکسٹینشن نہیں چاہتے تھے ان لوگوں نے خود ایکسٹیشن دی ہے
عمران خان کی نااہلی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نااہل ہوکررہے تھا کیوں کہ ٹیریان کے حوالے سے عدالتوں کے پاس اتنے مضوط شواہد آچکے ہیں کہ عدالتوں کے پاس اب اس کی نااہلی کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے ،وہ کبھی ٹانگ کے زخمی ہونے کا بہانہ بناتے ہیں تو کبھی کوئی کہانی سنا دیتے ہیں ، وہ انٹریوتودے سکتےہیں مگرعدالت پیش نہیں ہوسکتے یہ کیسا زخم اور کیسا بہانہ ہے
شیخ رشید کی ضمانت کےحوالے سے ان کا کہنا تھاکہ یہ وہی شیخ رشید ہیں کہ جو جب وزیرداخلہ تھے تو وہ بڑی بڑھکیں مارتے تھے اور اب تووہ پولیس والے کے سینے کے ساتھ چمٹ کررورہے تھے ، اب بھی پتہ نہیں کہ ضمانت کب ہوتی ہے، انہوں الزام لگایا تھا اب ثابت کریں یا پھرسزا کےلیے تیاررہیں، پنجاب اور کے پی میں الیکشن عام انتخابات کے ساتھ ہوتے نظرآرہے ہیں ، اگراب ہوتے ہیں توقوم کا اربوں روپے کا نقصان ہوگا
افغانستان میں ڈالرکی اسمگلنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ عالمی جریدے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ تاجر اور دیگر ذرائع سے یومیہ 50 لاکھ ڈالرپاکستان سے افغانستان جارہے ہیںآئی ایم ایف کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے سخت شرائط عائد کی ہیں اورمطالبہ کیا ہےکہ بجلی کی قیمت دوگنی کی جائے حکومت اس پوزیشن میں نہیں لیکن اس کے سوا کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے
وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی سے متعلق اجلاس ہوا
وزیر اعظم شہباز شریف نے اسپیشل ٹیکنالوجی زونزاتھارٹی کی کارکردگی پراظہار برہمی کیا، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملک میں موجود وسائل کا مزید ضیاع کسی صورت قبول نہیں،پاکستانی باصلاحیت نوجوان شعبہ آئی ٹی میں وزگار کما رہے ہیں، وزیراعظم نے اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی فعال کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ،وزیر خزانہ اسحاق ڈار اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے کمیٹی میں وزیرآئی ،قانون،سرمایہ کاری، احد چیمہ، عفنان اللہ اور چیئرمین سی ڈی اے شامل ہوں گے،کمیٹی ایک ہفتے میں اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کو فعال کرنے کیلئے سفارشات پیش کرے،
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اتھارٹی کے بورڈ آف گورنرز کو بھی فوری طور پر فعال کیا جائے، بورڈ آف گورنرز میں متعلقہ شعبے کے ماہرین کی موجودگی یقینی بنائیں، پلاٹوں میں سرمایہ کاری کی بجائے ملک میں ٹیکنالوجی کے فروغ پر توجہ دی جائے،اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کی اصلاحات اور فعالی میں تعطل قبول نہیں کرونگا،مسلم لیگ ن نے نوجوانوں کو آئی ٹی برآمدات بڑھانے کیلئے ہنر دینے کی بنیاد رکھی، عالمی وبا کے دوران نوجوانوں کو دیئے گئے لیپ ٹاپس سے لاکھوں افراد نے روزگار کمایا
نیو بالاکوٹ سٹی زلزلہ متاثرین کیس ،سپریم کورٹ نے چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا آئندہ سماعت پر طلب کر لئے
سپریم کورٹ نے سیکریٹری ریلیف ورک کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کر لیا سپریم کورٹ نے ایرا سے زلزلہ متاثرین کیلئے فنڈز کی تفصیلات طلب کرلیں، سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ زلزلہ زدہ علاقوں متاثرین کی بحالی کی کتنی رقم اکھٹی ہوئی؟قومی و بین الاقوامی سطح سے حاصل فنڈز سے کتنی رقم خرچ ہوئی؟ایرا بتائے کہ زلزلہ متاثرین کے فنڈز میں باقی کتنی رقم موجود ہے؟ زلزلہ متاثرین کی باقی فنڈز کس ادارے کے پاس ہیں؟چیف سیکریٹری بھی زلزلہ متاثرین کے فنڈز سے متعلق الگ تحریری جواب دیں،
ڈائریکٹر ایرا نے عدالت میں کہا کہ ایرا نے بالاکوٹ مانسہرہ میں متاثرین کی آباد کاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے 205 بلین خرچ کیے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ڈائریکٹر ایرا سے سوال کیا کہ کیا 205 ارب کی خرچ رقم کا آڈٹ ہوا؟ ایرا اپنی رپورٹ کیساتھ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ بھی جمع کرائے،پاکستان میں زلزلہ 2005 میں آیا،متاثرین کی بحالی کیلئے 18 سال سے دائرے میں گھوم رہے ہیں،زلزلہ متاثرین کو نیو بالاکوٹ سٹی کا سبز باغ دکھایا گیا، زلزلہ متاثرین کے فنڈز کدھر گئے اور کہاں خرچ ہوئے؟ جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترکی و شام میں تباہ کن زلزلے کے بعد پاکستان کی جانب سے امداد کا سلسلہ جاری ہے
پاک فضائیہ کا دوسرا سی ون تھرٹی طیارہ امدادی سامان لے کر ترکیہ روانہ ہو گیا ہے، ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق طیارہ لاہور سے خیمے، کمبل اور دیگر اشیا لے کر ترکیہ کے لیے روانہ ہوا، سی ون تھرٹی ساڑھے 18ہزار پاؤنڈز امدادی سامان لے کر جا رہا ہے پاک فضائیہ پاکستانی طلباکو وطن واپس لانے کی بھی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، وزارت خارجہ اور ترکیہ میں پاکستانی سفارتخانے کے درمیان رابطے جاری ہیں
دوسری جانب ترجمان این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ شام زلزلہ متاثرین کیلئے خصوصی امدادی کھیپ روانہ کر دی ہے، شام زلزلہ متاثرین کیلئے سامان میں خیمے اور کمبل شامل ہیں ،سامان اسلام آباد سے خصوصی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے دمشق بھیجا گیا زلزلہ سے متاثر ین کیلئے مزید امدادی سامان جلد بھیجا جائے گا ، پاکستان نے مشکل کی اس گھڑی میں شام کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے، امدادی سامان شام میں تعینات پاکستانی سفیر شاہد علوی وصول کریں گے مزید امدادی سامان براستہ روڈ شام اور ترکیہ کیلئے جلد روانہ کیا جائے گا،
وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ ترکیہ اور شام زلزلہ متاثرین کے لیے مستقل ریلیف کا سلسلہ جاری رکھنا ہوگا ترکیہ اور شام زلزلہ متاثرین کی مکمل بحالی تک امداد کا سلسلہ نہیں رکنا چاہیے،ترکیہ اور شام کے بھائی بہنوں کی امداد کو قومی کاوش بنائیں،
واضح رہے کہ ترکیہ اور شام میں زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 9 ہزار سے تجاوز کر گئی،ترکیہ میں 7ہزار108،شام میں2 ہزار530 افراد جاں بحق ہوئے،،ترکیہ میں زلزلے سے 31 ہزار777 افرادزخمی ہوئے، زلزلےسےمتاثرہ علاقوں میں5 ہزار775عمارتیں تباہ ہوئی ہیں، زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں 10ہزارخیمےلگا دیے گئے ترک صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ ترکیے میں زلزلے سے اموات میں کتنا اضافہ ہوگا اس کا ابھی اندازہ نہیں لگا سکتے۔ ترک صدر نے ملک بھر میں ایک ہفتے کے سوگ کا اعلان کردیا، ترکیہ میں ایک ہفتے تک پرچم سرنگوں رہے گا۔
علاوہ ازیں ترک سفارتخانے نے ملک میں تباہ کن زلزلے کے فوری بعد پاکستان جانب سے فوری امداد اور بھرپور حمایت پر شکریہ کا اظہار کیا ہے۔ ترکیہ کے سفارتخانے کے ایک ٹویٹ کے مطابق پاک فوج کی یو ایس اے آر ٹیموں کو لے کر پاک فضائیہ کا ایک طیارہ امدادی سامان لے کر بحفاظت اڈانا پہنچ گیا ہے۔ ٹویٹ میں مزید کہا گیا کہ ہم زلزلہ کے بعد فوری امداد پر پاکستان میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز نے 12 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے لکی مروت میں آپریشن کیا ہے جس کے نتیجے میں 12دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں، ہلاک دہشت گردوں سے ہتھیار اور افغان کرنسی برآمد ہوئی ہے، انٹیلی جنس اطلاعات پرآپریشن 7 اور 8 فروری کی درمیانی شب کیا گیا ،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسیز دہشتگردوں کی نقل و حرکت کا ایک ماہ سے جائزہ لے رہی تھیں،منصوبہ بندی کے تحت دہشت گردوں کو فرار ہونے کے لیے گاڑی فراہم کی گئی،دہشتگردوں کی فرار ہونے کی کوشش کو ناکام بنایا گیا،لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کلیئرنس آپریشن کر رہی ہیں،
دوسری جانب ڈی آئی خان، ہتھالہ پولیس چیک پوسٹ پر نامعلوم دہشتگردوں نے حملہ کیا، پولیس حکام کے مطابق پولیس اور دہشتگردوں سے 25 منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، کوئیک رسپانس فورس کے پہنچنے پر حملہ آور فرار ہوگئے، حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،
واضح رہے کہ سیکورٹی فورسز پاکستان کے امن کے لئے جانوں کے نذرانے دے رہی ہیں، قیام امن کے لئے سیکورٹی اداروں کی قربانیاں قابل تحسین ہیں، پاکستانی قوم وطن کے دفاع کے لئے جانیں قربان کرنے والے جوانوں کو خراج عقیدت ہیش کرتی ہے،وطن عزیز سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستانی قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی تھی، ہے اور رہے گی،
وزیر اعظم شہباز شریف نے ترکیہ کا دورہ ملتوی کردیا۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کو کل ترکیہ کےلیے روانہ ہونا تھا، وزیر اعظم کے ترکیہ کے دورے کی آئندہ کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ ترکیہ میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ جانے کا اعلان کیا تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان کی وفاقی کابینہ نے ترکیہ میں زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے وزیراعظم امدادی فنڈ قائم کرنے کی منظوری دے دی تھی۔ ایوان وزیراعظم کے مطابق امدادی فنڈ کے قیام کی منظوری منگل کو اسلام آباد میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دی گئی تھی۔ اجلاس کی صدارت وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کی۔ بعد ازاں وفاقی حکومت کے آفس آف دی کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس نے ’وزیراعظم ریلیف فنڈ برائے متاثرینِ زلزلہ ترکیہ‘ کے لیے بینک اکاؤنٹ (جی 12166) کے قیام کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
مزید یہ بھی بڑھیں؛ لاہورچیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ’پہلے معیشت پھر الیکشن‘ کی متفقہ قرار داد منظور کامران اکمل کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان پیسے دینے کے بہانے خاتون کے ساتھ جنگل میں تین ملزمان نے کیا گھناؤنا کام اپرکوہستان میں بس اور کار کھائی میں جاگریں، 17 افراد جاں بحق
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے مخیر حضرات اور عام شہریوں کو بھی ترکیہ کے امداد کے لیے قائم کیے گئے فنڈ میں دل کھول کر عطیات دینے کی استدعا کی تھی.ترکیہ اور پڑوسی ملک شام میں پیر کی صبح ریکٹر سکیل پر 7.8 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا تھا. جس سے دونوں ممالک میں مجموعی طور پر پانچ ہزار سے زیادہ اموات ہوئیں جبکہ 15 ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ صرف ترکیہ میں تقریباً چھ ہزار عمارتیں زلزلے کے جھٹکوں کے باعث زمین بوس ہو گئیں، جبکہ ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے کاروائیاں جاری ہیں.