Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عدم اعتماد، پرویز الہیٰ کیوں کامیاب ہوا؟ نواز شریف برہم

    عدم اعتماد، پرویز الہیٰ کیوں کامیاب ہوا؟ نواز شریف برہم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لینے میں وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کامیاب ہو گئے ہیں.

    پرویز الہیٰ نے گزشتہ شب پنجاب اسمبلی میں عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد ووٹ لے لیا، پرویز الہیٰ نے 186 ووٹ حاصل کئے، اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا تھا، ن لیگ جوڑ توڑ کر رہی تھی تا ہم ن لیگ کو کامیابی نہیں ہو سکی،گزشتہ روز رانا ثناء اللہ نے بیان دیا تھا کہ اب پنجاب حکومت تبدیل کروا کر ہی اسلام آباد جاؤں گا تا ہم وہ مشن میں کامیاب نہ ہو سکے، تحریک انصاف کی جانب سے 186 ووٹ پورے ہونے پر لندن میں مقیم سابق وزیراعظم نواز شریف نے اظہار برہمی کیا ہے اور پارٹی رہنماؤ‌ں سے رپورٹ طلب کی ہے کہ ایسا کیوں ہوا ہے؟ نواز شریف ن لیگ کی صوبائی قیادت پر شدید برہم ہوئے،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے استفسار کیا کہ پارٹی قیادت کو آگاہ کیا گیا تھا کہ تحریک انصاف کے کم از کم 7 ناراض اراکین پی ڈی ایم سے رابطوں میں ہیں ناراض اراکین کیسے ووٹنگ کے لئے پہنچ گئے انہیں مینیج کیوں نہیں کیا جا سکا۔ ن لیگ پنجاب کے صدر، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے نواز شریف اور مریم نواز کو معاملے پر ابتدائی رپورٹ پیش کرتے ہوئے مریم نواز کی فوری وطن واپسی کی تجویز دے دی، رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ مریم نواز فوری وطن واپس نہیں آتی تو پارٹی کو نقصان ہو سکتا ہے، ضروری ہے کہ مریم نواز فوری وطن واپس آئیں اور پارٹی کو سنبھالیں،

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہائوس میں جانے سے کسی کو بھی اندر جانےسے روکا جا سکتا،

    گیٹ پر سکیورٹی اسٹاف اور اسمبلی ارکان کے درمیان دھکم پیل ہوئی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

  • گورنر نے وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا

    گورنر نے وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا

    پرویز الٰہی کو ڈی نوٹی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت دوبارہ ہوئی

    گورنر کے وکیل منصور عثمان نے دلائل دیئے، وکیل گورنر نے کہا ہے کہ گورنر سے رابط ہو گیا ہے ،گورنر نے اعتماد کے ووٹ کی تصدیق کردی ہے ،گورنر نے وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا ہے ،جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر نے اپنا نوٹیفکیشن واپس لے لیا ہے تو پھر معاملہ ہی ختم ہوگیا ہے ،آپ نے اپنی اسمبلی کے اندر یہ معاملہ حل کرلیا ہے جو اچھی چیز ہے ،سب کچھ آئین اور قانون کے مطابق ہوگیا ہے،ہم تو چاہتے ہیں ایسے معاملات میں عدالت کی مداخلت کم سے کم ہونی چاہیے ،

    عدالت نے گورنر پنجاب کے وکیل کے جواب کے بعد فیصلہ لکھوانا شروع کر دیا، جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ عدالت نے گورنر پنجاب کیجانب سے وزیر اعلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم معطل کیا، پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلی نے 12 جنوری کو اعتماد کا ووٹ حاصل کیا، وزیر اعلی پنجاب نے آئین کے آرٹیکل 137 کے سب سیشن 7 کے تحت اعتماد کا ووٹ حاصل کیا، اعتماد کے ووٹ کا نتیجہ گورنر پنجاب نے مان لیا ہے، گورنر کے وکیل منصور اعوان نے گورنر پنجاب کیجانب سے اسٹیمنٹ عدالت میں دی،معاملہ عدالت میں آنے پر اسمبلی فلور پر حل ہوگیا سارا کچھ آئین کے مطابق حل ہو گیا گورنر نے آئین کے مطابق آرڈر جاری کیا ۔پرویز الٰہی نے گورنر کے آرڈر پر اعتماد کا ووٹ لے لیا ۔اگر سپیکر گورنر کی ایڈوائس پر اجلاس میں معاملہ حل کر لیتے رواج ایسی صورت حال نہ ہوتی۔لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے وزیر اعلی پنجاب کی درخواست نمٹا دی ،عدالت نے وزیر اعلی پنجاب اور کابینہ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے دیا

    تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی سے بھی استعفوں پرغور

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہائوس میں جانے سے کسی کو بھی اندر جانےسے روکا جا سکتا،

    گیٹ پر سکیورٹی اسٹاف اور اسمبلی ارکان کے درمیان دھکم پیل ہوئی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

  • کسی کو گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں. وزیر اعظم

    کسی کو گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں. وزیر اعظم

    کسی کو گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں. وزیر اعظم

    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں،ملک میں کسی کو گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں دیں گے،حکومت غریب عوام کیلئے آٹے کی مصنوعی قلت سے مہنگائی پیدا کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دے گی۔ وزیراعظم آفس کے میڈیاونگ سے جاری یبان کے مطابق ان خیالات کااظہار وزیراعظم نے اپنی زیرصدارت ملک میں گندم اور آٹے کی مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزوں و ناجائز منافع خوری کے حوالے سے اعلی سطح کے ہنگامی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

    اجلاس میں وفاقی وزیرِ غذائی تحفظ طارق بشیر چیمہ، مشیرِ وزیرِ اعظم احد چیمہ، متعلقہ وفاقی اعلی حکام اور صوبائی چیف سیکٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ ملک میں کسی کو گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں دیں گے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبے اپنے اور پاسکو کے ذخائر سے گندم کی فلور ملز تک بروقت رسد یقینی بنائیں، صوبے گندم کی بروقت ترسیل کیلئے اپنی گورننس بہتر بنائیں۔ متعلقہ وفاقی و صوبائی ادارے آٹے اور گندم کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت اقدامات کریں۔

    حکومت غریب عوام کیلئے آٹے کی مصنوعی قلت سے مہنگائی پیدا کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دے گی۔ وزیراعظم نے کہاکہ گزشتہ پانچ دن میں حکومت کے اقدامات کی بدولت آٹے کے 40 کلو کے تھیلے کی قیمت میں تقریباً 1000 روپے کی کمی واقعہ ہوئی، جو خوش آئند ہے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم نے ملک میں گندم کے موجودہ ذخائر کا جائزہ لیا ۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں اور صوبوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ پاسکو کے ذخائر سے فلور ملز تک گندم کی ترسیل مزید تیز کی جائے، مزید برآں 1.3 ملین میٹر ٹن گندم درآمدی گندم کا سٹاک بھی ملک میں پہنچ گیا ہے جبکہ جنوری کے اختتام تک مزید اتنا ہی اسٹاک پہنچ جائے گا۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں سال سیزن کے اختتام پر گندم کے کیری فارورڈ سٹاک 1.4 ملین میٹرک ٹن ہونگے جو کہ نیا سیزن شروع ہونے سے پہلے ملکی غذائی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہیں۔ وزیرِ اعظم نے گندم کے موجودہ ذخائر پر اطمینان کا اظہار کیا اور صوبوں کو ہدایت کی کہ گندم کی ترسیل کے حوالے سے اپنی گورننس بہتر کریں۔

    دوسری جانب وزیراعظم دو روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات روانہ پوگئے ہیں وزیر اعظم محمد شہباز شریف، متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان کی دعوت پر آج اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ دو روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہوئے ہیں۔ دورے میں وزیراعظم کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات ہوگی جس میں دونوں برادر اسلامی ملکوں کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے اور یو اے ای میں پاکستانی افرادی قوت کے لیے مواقع پیدا کرنے سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے۔


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا. لاہور ہائی کورٹ
    امریکی ایوی ایشن سسٹم کی اپ گریڈیشن مکمل؛ مقامی پروازیں جزوی طور پر بحال

    دونوں رہنما باہمی دلچسپی کے متعدد علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ وزیر اعظم متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم اور نائب صدر اور دبئی کے حاکم شیخ محمد بن راشد المکتوم سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس موقع پر وزیراعظم، تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے اماراتی تاجروں اور سرمایہ کاروں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

  • یکم فروری تک پارٹی الیکشن نہ ہوئے تو انتخابی نشان واپس لے لیں گے،الیکشن کمیشن

    یکم فروری تک پارٹی الیکشن نہ ہوئے تو انتخابی نشان واپس لے لیں گے،الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن کی جانب سے سیاسی جماعتوں کو حکم مل گیا کہ یکم فروری تک پارٹی الیکشن نہ ہوئے تو انتخابی نشان واپس لے لیں گے

    مسلم لیگ ن کے انٹراپارٹی انتخابات نہ کرانے کے کیس میں چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف مصروف ہیں تو کسی اور کو ذمہ داری دے دیں ،چند سیاسی جماعتوں کے علاوہ سب کے پارٹی الیکشن مذاق ہی ہوتے ہیں ،الیکشن کمیشن میں مسلم لیگ ن کے انٹراپارٹی انتخابات نہ کرانے کے کیس کی سماعت ہوئی،وکیل نے کہا کہ انٹراپارٹی الیکشن کرانا چاہتے ہیں لیکن حالات کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئے ، شہباز شریف کے وزیراعظم بننے سے پارٹی انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی صدر وزیراعظم ہے تو کسی اور کو صدر بنا لیتے ن لیگ کو یہ بھی نہیں پتہ کہ پارٹی انتخابات کب ہوں گے،

    وکیل ن لیگ نے کہاکہ 31 جنوری تک پارٹی انتخابات کرا دیں گے،ممبر پنجاب نے کہاکہ یکم فروری تک پارٹی الیکشن نہ ہوئے تو انتخابی نشان واپس لے لیں گے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کئی سیاسی جماعتوں کو ایک تک بھی مہلت دے چکے ہیں،ٹھوس وجہ ہو تو مہلت دی جا سکتی ہے،شہباز شریف مصروف ہیں تو کسی اور کو ذمہ داری دے دیں ،چند سیاسی جماعتوں کے علاوہ سب کے پارٹی الیکشن مذاق ہی ہوتے ہیں،الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ ن کو14 مارچ تک پارٹی الیکشن کرانے کی مہلت دیدی۔

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

     خواجہ سرا رمل علی اس وقت خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں،

  • اعتماد کا ووٹ،پرویز الہی 186 ووٹ حاصل کرکےوزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے پرقائم

    اعتماد کا ووٹ،پرویز الہی 186 ووٹ حاصل کرکےوزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے پرقائم

    :لاہور : وزپر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہوگئے، پرویز الٰہی نے کل 186 ووٹ حاصل کئے۔

    قبل ازیں پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے اعتماد کے ووٹ کیلئے کارروائی کا آغاز کیا گیا، حکومتی اتحاد کے ارکان نے لابی میں جا کر پرویز الٰہی کو ووٹ کاسٹ کیا، جبکہ اپوزیشن اراکین اجلاس کا بائیکاٹ کر کے ایوان سے باہر چلے گئے ۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کیلئے سپیکر سبطین خان کی زیر صدرات پنجاب اسمبلی کا اجلاس دوبارہ شروع کیا، اسلم اقبال اور راجہ بشارت نے اعتماد کے ووٹ کیلئے قرارداد سپیکر اسمبلی کو پڑھ کر سنائی، سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے اعتماد کے ووٹ سے متعلق ارکان کو طریقہ کار بتایا۔

    اس دوران اپوزیشن نے پنجاب اسمبلی میں شدید احتجاج کیا، مشترکہ اپوزیشن کے ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔

    اجلاس کے دوران اسمبلی اور لابی کے تمام دروازے بند کر دیئے گئے۔

    سپیکر سبطین خان نے کہا کہ رولز کے مطابق ایوان کی کارروائی چلا رہا ہوں، کسی کوبھی اندرآنےکی اجازت نہ دی جائے، جوپرویزالہٰی کوووٹ دیناچاہتےہیں وہ ارکان لابی میں چلےجائیں۔
     

    اس سے پہلے

    ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم نے کہا کہ آج 186 ارکان کا نمبر ہاؤس میں شو کیا جائے گا، آج نمبرز گیم شو کریں گے، اعتماد کا ووٹ کل لیں گے۔

    میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ ہماری پوری تسلی ہے، 186 کو کراس کر چکے ہیں، کل ہی کہا تھا ہمارے پاس سرپرائز ہے، سرپرائز کیلئے موقع چاہیے تھا، ہم جو کہا تھا پورا کر دیا۔ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ ہم نے ان کونمبرز پورے کر کے بتانے تھے وہ کر دیئے، اعتماد کے ووٹ کے لیے ایجنڈے پر لانا ضروری ہے، ہمارا مقصد نمبرز پورے کرنا تھا وہ آج ہم نے دکھا دیئے۔

     

    واثق قیوم نے مزید کہا کہ یہ کہتے تھے ہمارے پاس نمبرز پورے نہیں، آج ہم نے دکھا دیئے، عمار یاسر بھی ایوان میں آگئے ہیں، ہمارے پاس ایک اور سرپرائز بھی ہے اس کا ابھی انتظار کریں۔

    اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے دعویٰ کیا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ پرویز الہی کے اعتماد کے ووٹ کے لیے حکومت کے نمبر پورے ہیں۔ٹویٹر پیغام میں فواد چوہدری نے لکھا کہ الحمدللہ 187 کا نمبر مکمل، یعنی وزیراعلیٰ پنجاب کو 187 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔

     

     

    اجلاس سے قبل ایک اور ٹویٹ میں فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کیلئے 177 ممبران اسمبلی پہنچ چکے ہیں جبکہ قاف لیگ کے 10 ارکان کچھ دیر میں پہنچ رہے ہیں اور انشاللہ اجلاس میں 187 ارکان شامل ہوں گے۔

    خیال رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے زمان پارک میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی ہے جس میں سیاسی صورتحال اور اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔

  • ہیتھرو ایئرپورٹ پریورینیم پیکج کا معاملہ؛رپورٹس حقائق پرمبنی نہیں ہیں:دفتر خارجہ

    ہیتھرو ایئرپورٹ پریورینیم پیکج کا معاملہ؛رپورٹس حقائق پرمبنی نہیں ہیں:دفتر خارجہ

    اسلام آباد: دفتر خارجہ نے لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ پر یورینیم پیکج سے متعلق میڈیا رپورٹس پر کہا ہے کہ اس سلسلے میں کوئی بھی معلومات باضابطہ طور پر شیئر نہیں کی گئی ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ رپورٹس حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔

    واضح رہے کہ برطانوی خبر ایجنسی نے خبر میں دعویٰ کیا تھا کہ یورینیئم پاکستان سے عمان کے راستے ایک پرواز کے ذریعے برطانیہ پہنچا تھا۔

    اس حوالے سے دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پریورینیم پیکج سے متعلق میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مذکورہ معاملے پر کوئی بھی معلومات باضابطہ طور پر شیئر نہیں کی گئی ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ رپورٹس حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے یہ خبریں وائرل کی گئی تھیں کہ گذشتہ ماہ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر یورینیئم سے آلودہ دھات کا ٹکڑا ملنے کے واقعے پر پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔میٹرو پولیٹن پولیس کی انسداد دہشت گردی کمانڈ کے افسران کو اس ضمن میں 29 دسمبر کو سکیورٹی الرٹ موصول ہوا تھا۔

    برطانیہ کے اخبار ’دی سن‘ نے سب سے پہلے یہ خبر دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یورینیئم پاکستان سے آیا تھا۔ بی بی سی کے مطابق انکوائری میں اس بات کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے کہ آیا یہ پورا واقعہ ’ناقص ہینڈلنگ‘ کا نتیجہ تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عوام کو اس سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔

  • قانون سازی کے وقت اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے، چیف جسٹس

    قانون سازی کے وقت اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے، چیف جسٹس

    قانون سازی کے وقت اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان
    چیف جسٹس آف پاکستان نے نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ہمارا معاشرہ کرپشن کی بیماری کا شکار ہے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بنچ نے کی، جس میں وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترمیم کے وقت ارکان اسمبلی کی اکثریت نے منظوری دی۔ اس وقت 159 ارکان اسمبلی موجود تھے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سوال یہ ہے کہ قانون سازی کے وقت اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ایسی کوئی پہلے مثال موجود ہے کہ رکن پارلیمنٹ نے قانون سازی کو چیلنج کیا ہو؟۔ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ میرے سامنے ایسا کوئی کیس نہیں جس میں رکن پارلیمنٹ نے قانون چیلنج کیا ہو۔ درخواست گزار نہ صرف رکن پارلیمنٹ ہے بلکہ ملک کا وزیر اعظم بھی رہا ہے۔میں اپنے دلائل میں درخواست گزار کی بدنیتی اور ذاتی مفاد کی بھی وضاحت کروں گا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ موجودہ کیس میں نیب قانون کی بہتری دیکھ رہے ہیں۔ ضروری نہیں کہ قانون کو کالعدم ہی قرار دیا جائے۔ قانون کو کالعدم قرار دینے کے علاوہ بھی عدالت کے پاس آپشن موجود ہیں۔ قانون کو آئین کے مطابق ہونے پر ہی آگے بڑھنا چاہیئے۔

    جٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر نیب ترامیم بنیادی حقوق سے متصادم ہوئیں تو ہی عدالت آپشنز پر غور کرے گی۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ کوئی بھی ایسا قانون قائم نہیں رہ سکتا تو بنیادی حقوق سے متصادم ہو۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالتیں سیاسی فیصلے کرنے کی جگہ نہیں ہیں۔ کیا عدالت متنازع معاملات پر فیصلے کرنے لگے تو کیا مزید تنازعات پیدا ہوتے ہیں؟۔اس کیس میں سیاسی تنازع بھی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل میں کہا پاکستان بننے کے وقت سے کرپشن بیماری کی صورت میں موجود ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا معاشرہ کرپشن کی بیماری کا شکار ہے۔ عوامی مفاد اور انفرادی فائدہ اٹھانے والوں کے درمیان توازن ہونا چاہیے۔سوال یہ ہے کہ عدالت نے آئین کا دفاع اور تحفظ کیسے کرنا ہے۔

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     مبشر لقمان سے بانی مہمند لویہ جرگہ جاوید مہمند کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی ہے،

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین کا مطلب پاکستان کے عوام ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ فیصلہ کرنے میں عدالت کہاں اور کس حد تک جا سکتی ہے۔ پبلک آفس ہولڈرز قابل احتساب ہیں۔ اگر حالیہ نیب ترامیم سے احتساب کا معیار گرا ہوا ہے تو عدالت ان کو برقرار کیسے رکھ سکتی ہے؟۔ جب سے پاکستان بنا انسداد کرپشن قوانین بنے ہوئے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ انسداد کرپشن قوانین کی وجہ ہی سے عوامی عہدیدار قابل احتساب ہیں۔ ہم نے سماجی یا سیاسی مسائل کو نہیں دیکھنا۔ اعتماد ہی تمام معاملات کا مرکز ہے۔ پبلک آفس کے لیے ڈاکٹرائن آف ٹرسٹ ضروری ہے۔ ججز بھی عوامی اعتماد کے ضامن ہیں۔ ججز بھی قابل احتساب ہیں۔ ججز پیسے کے قریب بھی نہیں جا سکتے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سپریم کورٹ کو ایک معاملے میں فنڈز ملے وہ اسٹیٹ بینک میں جمع کرا دیے۔ آج بھی انتظار کر رہے ہیں کہ فنڈز استعمال ہوں۔ اگر سپریم کورٹ فنڈز کی تفصیلات اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر نہ ڈالتی تو آج بھی تنقید ہو رہی ہوتی۔ وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ اعتماد بہت اہم ہوتا ہے۔ عدلیہ بھی پارلیمنٹ اور سیاستدانوں پر اعتماد کرے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو پارلیمنٹ پر اعتماد ہے مگر عوام کا اعتماد عدلیہ پر ہے۔ کچھ بنیادی لوازمات ہیں جس پر عدالت نے بھی عمل کرنا ہے۔ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 12 جنوری سہ پہر ڈیڑھ بجے تک ملتوی کر دی۔

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

     خواجہ سرا رمل علی اس وقت خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں،

  • عوام کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ جنیوا کانفرنس کامیاب ہوئی،وزیراعظم

    عوام کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ جنیوا کانفرنس کامیاب ہوئی،وزیراعظم

    عوام کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ جنیوا کانفرنس کامیاب ہوئی،وزیراعظم

    وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہیں گے ،جینوا میں اسلامی ڈیولپمینٹ بینک نے بڑی امداد کا اعلان کیا،عوام کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ جنیوا کانفرنس کامیاب ہوئی،

    وزیراعظم شہباز شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جینوا کانفرنس میں پاکستان کے لیے 9.7 ارب ڈالرامداد کا اعلان کیا گیا ،اسلامی ڈیولپمینٹ بینک کی جانب سے امداد پرحیرانی اور خوشی ہوئی،ورلڈ بینک نے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے 2 ارب ڈالر کا اعلان کیا،اٹلی، نیدرلینڈ، ناروے، قطر، فرانس امداد دینے والے ممالک میں شامل ہیں، سعودی عرب، سویڈن، برطانیہ، امریکابھی امداد دینے والے ممالک میں شامل ہیں، مخالفین نے ہمارے خلاف پراپیگنڈ ہ کیا،رقوم کا اعلان قوم کی عزت، توقیر اور اعتماد کا اظہار ہے جو پاکستان پر کیا گیا، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے عالمی مالیاتی اداروں کو قائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا،احسن اقبال، شیری رحمان، ایاز صادق، حنا ربانی کھر اور مریم اورنگزیب کاوشوں پر داد کے مستحق ہیں، وزیرخارجہ بلاول بھٹو کا مشکورہوں.

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     مبشر لقمان سے بانی مہمند لویہ جرگہ جاوید مہمند کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی ہے،

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ مخالفین کے پراپیگنڈے پر کان دھرے جاتے تو امداد کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا، امداد کے حوالے سے ہمیں طے کرناہوگا کہ کیسے ایک ایک پائی استعمال کرنی ہے،میں نے جینوا میں کہا تھا کہ امدادی رقم کی ایک ایک پائی عوام کی خوشحالی اور ترقی پرنچھاور کی جائے گی، سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے بہترین مسودہ تیار کیا گیا ،جنیوا میں دنیا کو وفاق نہیں تمام صوبوں کی یگانگت کا پیغام دیا گیا ، کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ حکومت پر ہماری عوام اور دنیا نے اعتماد کیا،اب ہم نے اپنی کاوشیں اور توانائی بروئے کارلا کر کام کرنا ہے ،ہمیں شفافیت کے ساتھ امداد کو استعمال کرنا ہو گا ،ہماری ٹیم میں تجربہ کار ، با ہمت اور نوجوان لوگ موجود ہیں، سب سے بڑا ڈونرسعودی عرب ہے سعودیعرب نے ایک ارب ڈالر کا اعلان کیا،امریکا نے 100ملین ڈا لر کا حصہ ڈالا جس پر ان کے مشکور ہیں،قطر نے 25ملین ڈالر کا اعلان کیا فرانس نے 340 ملین یوروکا اعلان کیا، مل کر کام کریں گے، کوئی شک نہیں، عوام کی ضرورت پوری ہوگی،بدقسمتی سے ملک میں تقسیم درتقسیم پیدا کردی گئی ،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

     خواجہ سرا رمل علی اس وقت خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں،

  • عمران خان کو پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا کیس کی سماعت ملتوی

    عمران خان کو پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا کیس کی سماعت ملتوی

    الیکشن کمیشن میں عمران خان کو پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا کیس کی سماعت ہوئی

    چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی.عمران خان کی جانب سے بیرسٹر گوہر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، پی ٹی آئی پارٹی کے چیف الیکشن کمشنر جمال اکبر انصاری الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی گزشتہ سماعت کا حکمنامہ نہیں ملا،لاہور ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کا نوٹس چیلنج کیا ہے،عمران خان کو پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا کیس لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے ،ممبر اکرام اللہ خان نے کہا کہ اس کمیشن پر اعتماد کریں، عدالت جانے میں جلد بازی نہ کریں، ہو سکتا کے جو آپکو لگتا ہے وہ فیصلہ نہ آئے،پی ٹی آئی کی جانب سے سماعت 2 ہفتے تک ملتوی کرنے کہ درخواست کردی گئی

    چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار بھی آج پیش نہیں ہوا، الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 25 جنوری تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے عمران خان کو چیئرمین پی ٹی آئی کے عہدے سے ہٹانےکی درخواست غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دی۔ عمران خان کی ممنوعہ فنڈنگ میں نااہلی کے خلاف حلقے کے ووٹر کی جانب سے درخواست واپس لیے جانے کے بعد عدالت نے یہ درخواست بھی خارج کر دی۔

    علاوہ ازیں عمران خان نے الیکشن کمیشن کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،عمران خان کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا یے، چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے اختیارات سے تجاوز کر کے پارٹی عہدے سے ہٹانے کی کاروائی کر رہا ہے، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی چیرمین کو عہدے سے ہٹانے کے لئے غیر قانونی طور پر نوٹس جاری کیا، الیکشن کمیشن نے 7 دسمبر 2022 کو خلاف قانون کاروائی کا آغاز کیا، چیرمین تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے روبرو اپنے مکمل اثاثے ظاہر کر رکھے ہیں، عدالت الیکشن کمیشن کیجانب سے بھیجیے گئے نوٹس کو معطل کرنے کا حکم دے،عدالت درخواست گزار کی استدعا پر حتمی کاروائی تک الیکشن کمیشن کو کاروائی سے روکنے کا حکم دے،عدالت الیکشن کمیشن کے خلاف قانون اقدام کی کالعدم قرار دے،

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • آپکی درخواست کو اٹھا کرکھڑکی سے باہر پھینک دینا چاہیے،جسٹس منیب اختر

    آپکی درخواست کو اٹھا کرکھڑکی سے باہر پھینک دینا چاہیے،جسٹس منیب اختر

    سپریم کورٹ میں قومی اداروں کی توہین روکنے کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، وکیل حیدر وحید نے کہا کہ میرا کیس فریڈم آف سپیچ کو ریگولیٹ کرنے کیلئے ہے،سپریم کورٹ نے براڈ کاسٹ میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کا حکم بھی دیا تھا،استدعا ہے سوشل میڈیا کو براڈ کاسٹ میڈیا کی طرز پر ریگولیٹ کرنے کا حکم دیا جائے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا میڈیا کو ریگولیٹ کرنا عدالت کا کام ہے،کیا عدالت اب بنیادی حقوق کا کٹ ڈاون کرے گی اداروں کی توہین ہوتی کیا ہے؟برطانوی عدالت کا فیصلہ ہے کہ حکومت کی توہین نہیں ہوتی،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ پارلیمنٹ سے کہیں ہم قانون سازی کا نہیں کہیں گے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا بنیادی حقوق کو کٹ کرنے کا عدالت کہے گی، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست پابندی لگانا نہیں چاہتی تو سپریم کورٹ کیوں آرڈر دے؟ آپ سپریم کورٹ کو نہیں کہہ سکتے کہ حکومت کو قانون بنانے کا کہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میری رائے میں آپکی درخواست کو اٹھا کرکھڑکی سے باہر پھینک دینا چاہیے،عدالت نے وکیل کو مزید تیاری کیلئے وقت دیدیا عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

     عمران خان نے الیکشن کے لئے حکومت کے سامنے مزاکرات کی جھولی پھیلائی ہے

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو