Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نیا اٹارنی جنرل کون ہے؟ سپریم کورٹ کے سوال پر ایڈیشنل، ڈپٹی اٹارنی جنرل لاعلم

    نیا اٹارنی جنرل کون ہے؟ سپریم کورٹ کے سوال پر ایڈیشنل، ڈپٹی اٹارنی جنرل لاعلم

    نیا اٹارنی جنرل کون ہے؟ سپریم کورٹ کے سوال پر ایڈیشنل، ڈپٹی اٹارنی جنرل لاعلم

     سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے استعفیٰ اور تقرری کے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری قانون کو ریکارڈ سمیت 17 جنوری کو طلب کر لیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حکم نامہ جاری کیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکم پراپرٹی سے مقدمہ میں ڈپٹی اٹارنی کی کیطرف سے معاونت نہ کرنے پر جاری کیا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل شفقت عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اٹارنی جنرل آفس سے مقدمات میں درست معاونت نہیں مل رہی، بتائیں اٹارنی جنرل کون ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل شفقت عباسی نے بتایا کہ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف ہے، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اشتر اوصاف تو مستعفی ہوچکے ہیں اور انکا استعفیٰ منظور بھی ہو چکا ہے، نیا اٹارنی جنرل کون ہے۔ ڈپٹی اٹارنی نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اوگرا نے گیس چوہتر فیصد تک مہنگی کرنے کی منظوری دے دی
    عمران خان پاکستان کی نہیں بلکہ کسی اور کی ترجمانی کر رہے. شیری رحمان
    ڈاکوؤں نے جہیز کا سامان لوٹ کر گھر کے واحد کفیل کوبھی قتل کردیا
    پی ڈی ایم، پی پی پی، پی ٹی آئی ٹرائیکا نے ہماری تہذیب، سماج، سیاست اور معیشت سمیت سب کچھ تباہ کردیانسراج الحق

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کو روسٹرم پر بلا لیا اور پوچھا کہ نیا اٹارنی جنرل کون ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی اٹارنی جنرل سے متعلق لا علمی کا اظہار کیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ملک بغیر اٹارنی جنرل کے بغیر کیسے چل رہا ہے، آپ کو نئے اٹارنی جنرل کا نام نہیں معلوم۔ عدالت نے آئندہ سماعت 17 جنوری کو سیکریٹری قانون کو اٹارنی جنرل کے استعفیٰ اور نئے اٹارنی جنرل کی تقرری کے ریکارڈ کے ساتھ طلب کرلیا۔

  • پرویز الہیٰ کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی

    پرویز الہیٰ کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی

    لاہورہائیکورٹ ،وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کے اعتماد کے ووٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے گورنر کے وکیل سے سوال کیا کہ اعتماد کے ووٹ سے متعلق معاملہ حل نہیں ہوا؟ وکیل گورنر پنجاب نے عدالت میں جواب دیا کہ اعتماد کا ووٹ لیں گے تو معاملہ حل ہوجائے گا، جسٹس عابد عزیز شیخ نے استفسار کیا کہ خالد اسحاق معاملے سے متعلق کیا کہتے ہیں؟ آپ نے تحریری طور پر عدالت کو بتانا ہے،وکیل گورنر پنجاب نے کہا کہ اس وقت ہم نے کہا تھا کہ 4سے 5 دن دینے کےلیے تیار ہیں، جسٹس عابد عزیز شیخ نے سوال کیا کہ گورنر پنجاب کے وکیل نے کیا آفر دی ہے وکیل خالد اسحاق نے کہا کہ ہم نے آفر دی تھی کہ 3 سے 4دن میں اعتماد کا ووٹ لیں،ہماری آفر نظر انداز کردی گئی

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منظور وٹو کیس میں بھی 2 دن کا وقت دیا گیا تھا جو مناسب نہیں تھا، اب تو 17 دن ویسے بھی گرز چکے ہیں اورکتنا مناسب وقت چاہیے، عدالت نے پرویز الہیٰ کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم کوئی تاریخ مقرر کر دیتے ہیں اور گورنر کے آرڈر کو موڈیفائی کر دیتے ہیں، گورنر کے وکیل نے آفر دی ہے کہ اعتماد کا ووٹ لیں ، عدالت نے پرویز الہیٰ کے وکیل سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اعتماد کا ووٹ لینے کےلیے کتنے دن کا وقت آپکے لیے مناسب ہوگا ؟ہم وہ وقت مقرر کردیتے ہیں کہ آپکا مسئلہ حل ہوجائے گا ،اب تو 17 دن ویسے بھی گزر چکے ہیں اورکتنا مناسب وقت چاہیے،

    وکیل پرویز الہیٰ نے عدالت میں کہا کہ میں اس حوالے سے کچھ گزارشات کرنا چاہتا ہوں ،گورنر پنجاب نے اعتماد کا ووٹ لینے کےلیے کہا اور اسپیکر کو خط لکھا گورنر نے اپنے خط میں لکھا کہ وزیر اعلیٰ اعتماد کھو چکے ہیں، گورنر پنجاب کے حکم کے جواب میں اسپیکر نے رولنگ دی ،اسپیکر کی رولنگ کو تاحال چیلنج نہیں کیا گیا پرویز الہٰی کے وکیل نے گورنر پنجاب کیجانب سے اعتماد کا ووٹ لینے کی آفر مسترد کر دی، وکیل نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ عدالت گورنر کی جانب سے نوٹیفکیشن کی درخواست پر میرٹ پر فیصلہ کرے ، جسٹس عابد عزیز شیخ نے استفسار کیا کہ تو کیا آپ اعتماد کا ووٹ لینے کی آفر قبول نہیں کر رہے ؟آپ کا اعتراض تھا کہ گورنر نے اعتماد کے ووٹ کے لیے مناسب وقت نہیں دیا ، جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ اس بات میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ وزیر اعلی ٰکو 24 گھنٹے اکثریت کا اعتماد حاصل ہونا چاہیے ،

    وفاق کے وکیل منصور عثمان نے وزیر اعلیٰ کو پھر عدم اعتماد کا ووٹ لینے کا پابند کرنے کی پیش کش کر دی ،وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ عدالت تاریخ اور وقت مقرر کر دے،پرویز الہیٰ کے وکیل نے کہا کہ گورنر کا ڈی نوٹیفائی کرنے کا آرڈر ہی غیر قانونی ہے،جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی نے ہی طے کرنا ہے کس نے رہنا ہے ، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدالتی حکم کے17 روز گزر جانے کے باوجود پرویزالہٰی نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا ،جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ آپ مل بیٹھ کر عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے وقت اور تاریخ طے کر لیں،علی ظفر نے کہا کہ گورنر صرف اس صورت میں اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں جب صورتحال خراب ہو،اسمبلی اجلاس جاری تھا، گورنر ڈ ی نوٹیفا ئی نہیں کر سکتے تھے ،عدالت درخواست پر میرٹ پر فیصلہ کرے،

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسکا مطلب ہے آپ عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے اٹارنی جنرل کی پیشکش قبول نہیں کر رہے ؟اسمبلی کا فلور ہی وزیر اعلیٰ کے رہنے کے بارے میں فیصلہ کرے گا ،پھر ہم اس درخواست کا میرٹ پر فیصلہ کر دیتے ہیں ،وکیل علی ظفر نے کہا کہ کل سے اپنے دلائل کا آغاز کر دوں گا ،جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ کل سے نہیں، آپ اپنے دلائل شروع کریں،ہمارا تو خیال تھا کہ آپ آفر قبول کریں گے اور اعتماد کا ووٹ لے لیں گے ، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم گورنر کی آفر پر بعد میں آئیں گے ،جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ اعتماد کا ووٹ لیں تو گورنر تو نوٹیفکیشن واپس لینے کو تیار ہیں ،خالد اسحاق معاملے سے متعلق کیا کہتے ہیں؟ علی ظفر نے کہا کہ ہم اٹارنی جنرل کی پیشکش قبول نہیں کر رہے

    وفاق کے وکیل منصور عثمان نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کر دیا، کہا کہ گورنر کا کوئی فیصلہ کرتے ہوئے وجوہات دینا ضروری نہیں ،جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی کشیدگی جاری ہے ،سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ پہلے جو کال کرے وہ پھنسے،ہم نے اتفاق راے سے اعتماد کے ووٹ کی ہدایت کی تھی،آئین کے تحت اعتماد کے ووٹ کے لیے کم سے کم 3 روزضروری ہیں،جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کا اعتماد کے ووٹ کے لیے مناسب وقت دینا ضروری ہے

    پرویزالہٰی کے وکیل نے اعتماد کا ووٹ لینے کی حکومتی پیشکش مسترد کر دی ،عدالت نے علی ظفر کو میرٹ پر ہونے سے متعلق دلائل دینے کی ہدایت کر دی،جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم روزانہ کی بنیاد پر کیس کو سنیں گے،عدم اعتماد کی تحریک آنے پر رائے شماری ہوتی ایسے میں گورنر پرویز الہٰی کو ہٹا سکتے ہیں،

    علی ظفر نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک آنے کے 20منٹ پر گورنر نے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا،گورنر نے خود ہی وزیر اعلیٰ اور کابینہ کو برطرف کر دیا ,عدالت نے کہا کہ وزیر اعلیٰ 186 ووٹ لے کرخود آنا تھے پرویز الہٰی کو ثابت کرنا تھے کہ انکے پاس اکثریت ہے،علی ظفر نے کہا کہ اب عدم اعتماد آنے پر انکو ثابت کرنا تھا کہ پرویز الہٰی کو اکثریت نہیں رہی،یہی صورتحال وزیراعظم کے آفس کی ہے،یہاں صدر اسمبلی اجلاس بلاکر وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں،رولز اف بزنس اس بارے واضح ہیں،آئین نے گورنر کو اختیارات دیئے ہیں مگر اس کا بھی طریقہ کار ہے،گورنر پنجاب اگر وزیر اعلیٰ کے اعتماد پر مطمئن نہیں تھے ،تو اسپیکر کو اجلاس بلوانے کا کہتے،اسپیکر اسمبلی گورنر کے نوٹیفکیشن کے بعد ممبران کو نوٹسز جاری کرتا ہے ،موجودہ کیس میں ایسا نہیں کیا گیا گورنر پنجاب اعتماد کے ووٹ کے لیے دن مقرر نہیں کرسکتا ,

    لاہور ہائیکورٹ نے پرویز الہیٰ کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی کردی .عدالت نے کہا کہ عدالت کل صبح 9 بجے سماعت کا آغاز کرے گی پرویز الہٰی کو ثابت کرنا تھا کہ انکے پاس اکثریت ہے،

    تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی سے بھی استعفوں پرغور

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہائوس میں جانے سے کسی کو بھی اندر جانےسے روکا جا سکتا،

    گیٹ پر سکیورٹی اسٹاف اور اسمبلی ارکان کے درمیان دھکم پیل ہوئی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

  • دھماکے دار خبریں، 30 دن میں سب کچھ بدل جائے گا

    دھماکے دار خبریں، 30 دن میں سب کچھ بدل جائے گا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عمران خان نااہل ہونے جا رہے ہیں، وہ جیل بھی جائیں گے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جنوری کی دس تاریخ ہے، میری چڑیل بہت مخبریاں لے کر آئی ہے، صورتحال یہ ہے کہ لوگ گھبراتے ہیں، دو جمع دو جمع دو کو چھ کہتے ہیں لیکن پاکستان میں یہ 222 بھی ہو سکتا ہے، عمران خان کے لئے بہت برا دن ہے، اگلا ایک مہینہ بہت برا ہے، پرویز الہیٰ کے لئے اچھی خبریں ہیں مونس الہیٰ کے ستارے گردش میں ہیں، اچھا ٹائم بلاول کا شروع ہونے والا ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حکومتی جماعت نے بڑے فیصلے کر لئے ہیں تو دوسری طرف نواز شریف نے شہباز شریف کی کلاس لی ہے، نواز شریف نے کہا کہ تمہیں حکومت نہیں لینی چاہئے تھی، عمران خان کو گرنے دیتے اپنے بوجھ کے نیچے، اب بھگتو اور برداشت کرو،جنیوا میں ڈالر کی امیدوں کے بعد حکومت کی تسلی ہوئی ہے، دس جنوری کو بتا رہا ہوں کہ چائنہ بھی پاکستان کو سپیشل ایڈ دے گا، چائنہ ایک اچھا پیکج دے رہا ہے،پھر ہمارے فارن ایکسچینج کے مسئلے حل ہو جائیں گے، لیکن انویسٹر مطمئن نہیں، ن لیگ کے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمیں فوری حکومت چھوڑ دینی چاہئے، ٹیکنو کریٹ کا لفظ ن لیگ کی طرف سے آیا ہے، ن لیگ چاہ رہی ہے کہ مرضی کے ٹیکنو کریٹ لا کر بٹھا دیں، انکے اس فارمولے کو ہر طرف سے ریجیکٹ کر دیا گیا ہے، کام کرناہے تو کرو یا گھر جاؤ

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے فالور باور کر لیں کہ ایک ماہ میں عمران خان نااہل ہونے جا رہے، عمران خان نے جیل بھی جانا ہے، لیکن اس میں وقت ہے، عمران خان دو طبقوں کو بہت زیادہ ملنا شروع ہو گئے ہیں، ایک گدی نشینوں کو، بشریٰ بی بی کی مہربانی سے، انکا خیال ہے،کہ یہ گدی نشین لیڈر سے بڑے ہوتے ہیں، لیڈر کو ہاتھ ملاتے اور گدی نشین کا چومتے ہیں ، وکلا سے بھی ملاقاتیں ہو رہی ہیں تاکہ جب مشکل وقت آئے تو وکیل بھی سڑک پر آئیں، تحریک انصاف کا بڑا حلقہ پارلیمنٹیرین کا ٹوٹ جائے گا، ساؤتھ پنجاب کا بلاک پی پی کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے اور اگلے سٹیج پر پہنچ چکا ہے،20 کے قریب لوگ پی ٹی آئی کے پی پی جوائن کرینگے،

    مبشر لقمان کی دہائی، ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔جنرل فیض بے نقاب،وائٹ پیپر،خطرے کی گھنٹیاں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     مبشر لقمان سے بانی مہمند لویہ جرگہ جاوید مہمند کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی ہے،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

     خواجہ سرا رمل علی اس وقت خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں،

  • نیب قانون میں ترامیم منظور کرتے وقت کتنے ممبران حاضر تھے؟ چیف جسٹس

    نیب قانون میں ترامیم منظور کرتے وقت کتنے ممبران حاضر تھے؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 1947 سے آج تک کے قانون کے مطابق مقدمہ ثابت کرنے کا بوجھ درخواست گزار پر ہی ہوتا ہے،سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ عدالت پارلیمان کی نیت پر سوال نہیں اٹھا سکتی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون کو منظور کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے وقت موجود ممبران کی عددی تعداد ہونی چاہئے، نیب قانون میں ترامیم منظور کرتے وقت کتنے ممبران حاضر تھے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ممبران کی درست تعداد بتا دوں گا، آج تک کوئی قانون اس بنیاد پر کالعدم نہیں ہوا کہ اسے اکثریتی ممبران نے منظور نہیں کیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وفاقی حکومت کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک سوال ہے، جذباتی نا ہوں، وکیل مخدوم علی خان نے عدالت میں کہا کہ ممبران پارلیمنٹ آئین کے مطابق فیصلے کرنے کا حلف لیتے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ممبران پارلیمنٹ کے حلف میں یہ بھی ہے کہ وہ تمام فیصلے ملکی سلامتی، ترقی و بہتری کے لیے کریں گے، کیا ملکی سلامتی، ترقی اور بہتری کے برخلاف قانون سازی ممبران پارلیمنٹ کے حلف کی خلاف ورزی تصور ہوگی؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کوئی عدالت ممبران پارلیمنٹ کی نیت کا تعین نہیں کر سکتی،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز اور ممبران کے حلف میں بس یہی فرق ہے کہ ججز قانون کے مطابق فیصلوں کا حلف لیتے ہیں، ججز ملکی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے مطابق فیصلوں کا حلف نہیں لیتے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ججز آئین و قانون کے مطابق فیصلوں کے پابند ہیں،ممبران پارلیمنٹ کی منظور شدہ قانون سازی ملکی سلامتی، ترقی اور بہتری کے حق میں ہی تصور ہوتی ہے، امریکی سپریم کورٹ کے جج نے کہا تھا کہ مقننہ کے پاس احمقانہ قانون سازی کا ہر حق موجود ہے،امریکی کورٹ نے قرار دیا کہ اگر عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ساتھ جہنم بھی جائیں تو ان کی مدد کریں گے، کسی برے یا احمقانہ قانون سازی پر بھی عدالت کا کوئی دائرہ اختیار نہیں بنتا،کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • اجتماعی کوششوں سے زندگی اور امیدوں کو دوبارہ بحال کریں گے. وزیر اعظم

    اجتماعی کوششوں سے زندگی اور امیدوں کو دوبارہ بحال کریں گے. وزیر اعظم

    اجتماعی کوششوں سے زندگی اور امیدوں کو دوبارہ بحال کریں گے. وزیر اعظم

    وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے عالمی رہنماؤں کی جانب سے امدادی رقم کے اعلان پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری نے جنیوا کانفرنس میں بے مثال ہمدردی کا نمونہ پیش کیا ہے۔ مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے لکھا کہ دنیا نے کل دیکھا کہ مصیبت زدہ انسانیت کیلئے قومیں کس طرح اکٹھی ہوتی ہیں، عالمی برادری نے کل شراکت داری کا بے مثال نمونہ پیش کیا۔


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وزیراعظم نے مزید لکھا کہ جنیوا کانفرنس میں پاکستان کے ساتھ ہونے والی اظہار ہمدردی نے بہت متاثر کیا، اجتماعی کوششوں سے زندگی اور امیدوں کو دوبارہ بحال کریں گے۔ انہوں نے بھی یہ بھی لکھا کہ بین الاقوامی ڈونر کانفرنس کی شاندار کامیابی پر سربراہان مملکت، یورپی یونین، ترقیاتی شراکت داروں کے شکر گزار ہیں، پاکستانی عوام انتونیو گوتریس کے کانفرنس میں شاندار کردار پر ہمیشہ شکر گزار رہیں گے۔

    خیال رہے کہ پاکستان کو جنیوا میں بین الاقوامی کانفرنس کے دوران گزشتہ برس آنے والے تباہ کن سیلاب سے بحالی کیلئے عالمی برادری اور اداروں نے بھرپور مدد کا اعلان کیا اور 10.57؍ ارب ڈالر امداد دی جائے گی جو پاکستان کی درخواست سے تقریباً ڈھائی ارب زیادہ ہے ۔ کانفرنس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے عالمی شراکت داروں سے ملک میں ہونے والی تباہی کے بعد اگلے تین سال کے دوران تعمیر نو کیلئے 8؍ ارب ڈالر فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا تھا کہ آدھی رقم کا انتظام خود اپنے وسائل سے کریں گے، امداد میں شفافیت پہلی ترجیح ہوگی ، تھرڈ پارٹی سے آڈٹ کرائیں گے۔

    سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے بھی سیلاب سے متاثرہ ملک میں بحالی کی کوششوں کے لیے بڑے پیمانے پر امداد دینے کا مطالبہ کیا اور کہا تھا کہ پاکستان کو ماحولیاتی انصاف دیا جائے۔ عالمی امداد کے اعلانات کے مطابق اسلامی ڈیولپمنٹ بینک گروپ اگلے تین برسوں میں 4.2؍ ارب ڈالر دے گا۔ عالمی بینک نے سیلاب متاثرین کیلئے 2؍ ارب ڈالر امداد کا اعلان کیا ۔ سعودی عرب ایک ارب ڈالر دے گا، یورپی یونین نے 500ملین ڈالر ، چین نے 100ملین ڈالر ، یو ایس ایڈنے 100ملین ڈالر ، جرمنی نے 88ملین ڈالر ، جاپان نے 77ملین ڈالر ، فرانس نے 345ملین ڈالر ، برطانیہ 9ملین ڈالر دینے اعلان کیا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے ایک ارب 50؍ کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا جبکہ ایشین انفرااسٹرکچر انویسمنٹ بینک نے ایک ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا۔

    جنگ اخبار کے مطابق کانفرنس میں پاکستان کے ریزیلینٹ ریکوری ، بحالی اور تعمیر نو فریم ورک (4 آر ایف) کو تفصیلی طور پر پیش کیا گیا جو کہ موسمیاتی عزم اور جامعیت پر مبنی بحالی اور تعمیر نو کی کثیر الجہتی حکمت عملی ہے۔ تفصیلات کے مطابق جنیوا کانفرنس میں عالمی برادری نے پاکستان کیلئے بھرپور مدد کا اعلان کردیا ، پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے10.57ارب ڈالر سے زائد امداد کے اعلانات کیے گئے ہیں ،اسلامی ترقیاتی بینک نے سیلاب سے متاثرہ پاکستانی علاقوں میں تعمیر نو اور بحالی کے لیے 4 ارب 20 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔

    عالمی بینک نے 2 ارب،ایشیائی بنک نے ڈیڑھ ارب،چین امریکا 100, 100، یورپی یونین 500، جرمنی 88، جاپان 77، فرانس 345ملین ڈالرز دے گا۔ فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے بھی پاکستان کے لیے ایک کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا۔جرمنی پاکستان کو مزید 88ملین یورو فراہم کرے گا، چین کی طرف سے بھی سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے مزید 10 کروڑ ڈالر گرانٹ دینے کا اعلان کیا گیا ہے، جاپان بھی مزید 77 ملین ڈالرامداد دے گا، یورپی یونین کی جانب سے بھی 93 ملین ڈالر کا اعلان ہوا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سیاسی استحکام کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی. خواجہ سعد رفیق
    کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت
    سندھ حکومت کا ہیریٹیج اور آثار قدیمہ کی حفاظت کیلئے فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ

    ان کے علاوہ برادر اسلامی ملک سعودی عرب نے ایک ارب ڈالر امداد کا وعدہ کیا ہے، برطانیہ نے 90 لاکھ یورو اور ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک نے بھی ایک ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے۔کانفرنس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے عالمی شراکت داروں سے ملک میں ہونے والی تباہی کے بعد اگلے تین سال کے دوران تعمیر نو کے لیے 8 ارب ڈالر فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی سیلاب سے متاثرہ ملک میں بحالی کی کوششوں کے لیے بڑے پیمانے پر امداد دینے کا مطالبہ کیا۔

    کانفرنس کے شرکا نے وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر کروڑوں ڈالر دینے کا وعدہ کیا اور یہاں تک اجلاس کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی اعلانات کیے گئے۔ اجلاس کے اختتام پر جاری دستاویز میں بتایا گیا کہ وفود نے فوری طور پر امدادی کوششوں اور بحالی، تعمیرنو کے لیے پاکستان کے عوم کے ساتھ تعاون کا اعادہ کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ وفود نے اظہار یک جہتی کیا اور بحالی منصوبے میں بتائے گئے ترجیحی علاقوں اور مقاصد کا اعتراف کرتے ہوئے مالی امداد کا اعلان کیا۔ مزید بتایا گیا کہ ’وعدوں کے مطابق مجموعی رقم 9 ارب ڈالر سے زیادہ ہے جس میں دو طرفہ اور کثیرالجہتی شراکت داروں دونوں شامل ہیں، مزید وفود نے مختلف پہلووں سے امداد کا اعلان کیا‘۔

  • آرمی چیف کی اماراتی صدر سے ملاقات؛ دو طرفہ تعلقات کو مستحکم بنانے پر اتفاق

    آرمی چیف کی اماراتی صدر سے ملاقات؛ دو طرفہ تعلقات کو مستحکم بنانے پر اتفاق

    آرمی چیف کی اماراتی صدر سے ملاقات: دو طرفہ تعلقات کو مستحکم بنانے پر اتفاق

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی ہے، جس میں دو طرفہ تعلقات کو مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ عرب میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کا شاہی محل میں استقبال کیا۔


    آرمی چیف جنرل اور متحدہ عرب امارت کے صدر کے درمیان قصر الشاطی پیلس میں ملاقات ہوئی ، جس میں شیخ محمد بن زاید النہیان نے جنرل عاصم منیر کو پاکستان کا آرمی چیف مقرر کیے جانے پر مبارکباد دی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان اور اس کے عوام کے حوالے سے اپنی نئی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سرخرو ہوں۔ ملاقات کے دوران پاک فوج کے سپہ سالار جنرل عاصم منیر نے بھی مبارکباد دینے پر صدر متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیا اور ان کی تعریف کی۔

    ملاقات میں دونوں فریقین نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دفاعی اور عسکری امور میں تعاون کے تعلقات اور مل کر کام کرنے کے ساتھ دونوں دوست ملکوں کے مشترکہ مفادات کے لئے انہیں مضبوط بنانے کے طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔ یاد رہے کہ آرمی چیف بننے کے بعد جنرل عاصم منیر اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات پہنچے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سیاسی استحکام کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی. خواجہ سعد رفیق
    کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت
    سندھ حکومت کا ہیریٹیج اور آثار قدیمہ کی حفاظت کیلئے فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ

    اس حوالے سے ترجمان پاک فوج نے بتایا تھا کہ آرمی چیف 4 جنوری سے 10 جنوری تک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے سرکاری دورے پر ہیں۔ آرمی چیف دونوں برادر ممالک کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر فوجی تعاون پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور دوطرفہ تعلقات سلامتی سے متعلق موضوعات پر مرکوز ہیں۔

  • عمران خان، اسدعمر اور فواد چوہدری کے وارنٹ گرفتاری جاری

    عمران خان، اسدعمر اور فواد چوہدری کے وارنٹ گرفتاری جاری

    عمران خان، اسدعمر اور فواد چوہدری کے وارنٹ گرفتاری جاری

    الیکشن کمیشن نے توہین الیکشن کمیشن کیس میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن نے توہین الیکشن کمیشن کیس میں عمران خان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہیں۔ وارنٹ گرفتاری توہین الیکشن کمیشن کیس میں عدم پیشی پر جاری کئے گئے۔

    عمران خان کے علاوہ فواد چوہدری اور اسد عمر کے بھی قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے تینوں رہنماؤں کو پچاس، پچاس ہزار کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے خیال رہے کہ توہین الیکشن کمیشن کیس اور چیف الیکشن کمشنرکیسز میں الیکشن کمیشن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان، اسد عمر، فواد چوہدری کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستوں پر آج فیصلہ سنایا گیا ہے. تینوں رہنماؤں نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں دائر کی تھیں جبکہ چار رکنی کمیشن نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سیاسی استحکام کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی. خواجہ سعد رفیق
    کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت
    سندھ حکومت کا ہیریٹیج اور آثار قدیمہ کی حفاظت کیلئے فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دے دی تھی، عدالتی حکم میں کہا گیا تھا کہ سندھ اور لاہور ہائی کورٹس نے صرف حتمی فیصلہ جاری کرنے سے روکا ہے، الیکشن ایکٹ کمیشن کو کارروائی کیلئے با اختیار بناتا ہے. سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ الیکشن کمیشن عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کے خلاف کارروائی جاری رکھے، الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے اعتراضات پر بھی قانون کے مطابق فیصلہ کرےکیونکہ کسی ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو کارروائی سے نہیں روکا۔

  • سیاسی  استحکام کے لیے   تمام جماعتوں  کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی. خواجہ سعد رفیق

    سیاسی استحکام کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی. خواجہ سعد رفیق

    سیاسی استحکام کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی. خواجہ سعد رفیق

    وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ پریم کورٹ میں ریلوے سے متعلق کیس لگ گیا ہے اور چیف جسٹس نے کہا کہ ریلوے لائف لائن ہے جبکہ اب ہم شفاف اور بہترین پلان لیکر پیش ہوں گے. انکا کہنا تھا کہ ریلوے کو بہتر بنانے کےلیے ریاستی تعاون کی ضرورت ہے، ہم سے جو ممکن ہوا ریلوے کے کی بہتری کے لیے کریں گے، اور سیلاب آیا خیبرپختونخوا اور پنجاب حکومت نے مرکز کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا.

    انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی جبکہ سیاسی اتفاق رائے ضروری ہے ،سب کو ہمت کرکے ایک دوسرے سے بات کرنی چاہیے، اور سیاسی استحکام کے لیے آگے آنا تمام جماعتوں کی ذ مہ داری ہے. ان کے مطابق وفاقی حکومت تنہا سیاسی استحکام نہیں لاسکتی لہذا سیاسی جماعتوں کو کھینچاتانی کے بجائے معاشی استحکام کے لیے سوچنا چاہیے جبکہ احتساب قبر میں ڈال دیا گیا،مائنس کسی کو نہیں کیاجاسکتا۔

    وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ مرکز اور صوبوں میں اختلاف رہاہے مگر ملکی مفاد کے لیے آگے جانا ہوگا اور کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کو مائنس نہیں کیا جاتا وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جبکہ کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کو مائنس نہیں کیا جاتا وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جبکہ اداروں کی بہتری کے لیے اقدامات کیے ہیں، جلد نتائج سامنے آجائیں گے۔ اور سیاست دان اتنا لڑتے ہیں کہ ایک کی چونچ اور ایک کی دم رہ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا ایک پارٹی آئی ہوئی ہے جس نے ملک میں عذاب ڈالا ہوا ہے. لہذا پنجاب میں پرویزالہٰی چلے بھی جائیں ہماری حکومت آ بھی جائے تو سیاسی استحکام نہیں آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو قبر میں ڈال دیا گیا، مائنس نہیں ہوئے۔ لہذا کسی کو پھانسی لگا کر ،جیلوں میں ڈال کر مائنس نہیں کیا جا سکتا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ اربوں ڈالر کا قرض لینے کو ہی آج عوام بھگت رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ریلوے گالف کلب کی لیز سے متعلق کیس کی سماعت کی، جس میں سیکرٹری ریلوے نے عدالت کو بتایا کہ ایم ایل ون 9.8 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے اور ایکنک اس کی منظوری دے چکا ہے۔ عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اربوں ڈالر قرض لے کر منصوبے لگانے کی بات ہر کوئی کرتا ہے۔ ملک میں اربوں ڈالر کا انفرا اسٹرکچر پہلے سے موجود ہے، اس پر کیا ڈلیوری ہے؟۔ اربوں ڈالر کا قرض لینے کو ہی آج عوام بھگت رہے ہیں۔

    علاوہ ازیں چیف جسٹس نے دوران سماعت یہ ریمارکس بھی دیے تھے کہ چھٹیوں کے دوران سندھ میں ریل کا سفر کیا ہے۔ سندھ میں ریلوے لائنوں کے اطراف آج بھی سیلابی پانی کھڑا ہے۔ بارشیں گرمیوں میں ہوئی تھیں، پانی اب تک نہیں نکالا جا سکا۔ ریلوے افسران نے بتایا کہ بلوچستان میں صورتحال سندھ سے بھی ابتر ہے۔ بین الاقوامی جریدے دی اکانومسٹ نے پاکستان کی سڑکوں پر ضمیمہ چھاپا تھا۔عالمی ضمیمے کا عنوان تھا ’’وہ سڑکیں جو کہیں نہیں جاتیں‘‘۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کو یہ پرتعیش آسائشیں نہیں، پرفارمنس اور استعداد کار چاہیے۔ اربوں ڈالروں کے منصوبے لگانے سے عدالت امپریس نہیں ہوگی۔

  • جنیوا کانفرنس، پہلے سیشن میں ساڑھے 8 ارب ڈالر سے زائد کی امداد کا وعدہ

    جنیوا کانفرنس، پہلے سیشن میں ساڑھے 8 ارب ڈالر سے زائد کی امداد کا وعدہ

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا دو روزہ دورہء جینیوا ،وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی پاکستان کے سیلاب زدگان کی امداد و بحالی کیلئے بین الاقوامی سطح پر کوششیں رنگ لے آئیں وزیرِ اعظم کی قیادت میں حکومتی وفد کی بڑی کامیابی، سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے اربوں ڈالر کی امداد کا اعلان کر دیا گیا،

    جنیوا کانفرنس کے پہلے سیشن میں مجموعی طور پر ساڑھے 8 ارب ڈالر سے زائد کی امداد کا وعدہ کیا گیا ہے ،وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ جنیوا کانفرنس میں یورپی یونین نے 93 ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے،جرمنی نے 88 ملین ڈالر، چین نے 100 ملین ڈالردینے کا وعدہ کیا ہے ،اسلامی ترقیاتی بینک 4ارب 20کروڑ ڈالر اورعالمی بینک نے 2ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے، جاپان نے70کروڑ 70لاکھ ڈالر، ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے ڈیڑھ ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے

    وزیر خارجہ بلاول بھٹوزرداری اور چینی ہم منصب میں ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے،وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے چینی ہم منصب کو تقرری پر مبارکباد دی، بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان اورچین ہمہ موسمی شراکت دار اور دوست ہیں ،پاکستان اور چین کی باہمی حمایت اور تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے،دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا بلاول بھٹو نے جنیواکانفرنس میں چین کی فعال شرکت اور حمایت پرچینی ہم منصب کاشکریہ ادا کیا اور کہا کہ سیلاب کے بعد تعمیر نو کیلئے چین کی بروقت امدادلاکھوں پاکستانیوں کیلئے سکون کا باعث تھی،چین کی حمایت بین الاقوامی تعاون کی ایک روشن مثال ہے ،بلاول بھٹو نے چین کے نئے قمری سال پر چینی ہم منصب کو نیک تمنائیں اور مبارکباد دی.

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     مبشر لقمان سے بانی مہمند لویہ جرگہ جاوید مہمند کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی ہے،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

     خواجہ سرا رمل علی اس وقت خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں،

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نےجینوا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا بیشتر علاقہ تاحال پانی میں ڈوبا ہوا ہے،تعمیر نو کے لئے اقدمات تاحال جاری ہیں،سیلاب کے 5 ماہ بعد بھی کئی علاقوں میں پانی موجود ہے، مشکل وقت میں ساتھ دینے والے ممالک اور عالمی تنظیموں کے شکر گزر ہیں،سیلاب کے باعث 3 کروڑ 30لاکھ افراد متاثر ہوئے،

  • چیف جسٹس عمرعطابندیال کا ریلوے کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار

     چیف جسٹس عمرعطابندیال کا ریلوے کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار

    چیف جسٹس آف پاکستان نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ اربوں ڈالر کا قرض لینے کو ہی آج عوام بھگت رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ریلوے گالف کلب کی لیز سے متعلق کیس کی سماعت کی، جس میں سیکرٹری ریلوے نے عدالت کو بتایا کہ ایم ایل ون 9.8 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے اور ایکنک اس کی منظوری دے چکا ہے۔ عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اربوں ڈالر قرض لے کر منصوبے لگانے کی بات ہر کوئی کرتا ہے۔ ملک میں اربوں ڈالر کا انفرا اسٹرکچر پہلے سے موجود ہے، اس پر کیا ڈلیوری ہے؟۔ اربوں ڈالر کا قرض لینے کو ہی آج عوام بھگت رہے ہیں۔

    چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ چھٹیوں کے دوران سندھ میں ریل کا سفر کیا ہے۔ سندھ میں ریلوے لائنوں کے اطراف آج بھی سیلابی پانی کھڑا ہے۔ بارشیں گرمیوں میں ہوئی تھیں، پانی اب تک نہیں نکالا جا سکا۔ ریلوے افسران نے بتایا کہ بلوچستان میں صورتحال سندھ سے بھی ابتر ہے۔ بین الاقوامی جریدے دی اکانومسٹ نے پاکستان کی سڑکوں پر ضمیمہ چھاپا تھا۔عالمی ضمیمے کا عنوان تھا ’’وہ سڑکیں جو کہیں نہیں جاتیں‘‘۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کو یہ پرتعیش آسائشیں نہیں، پرفارمنس اور استعداد کار چاہیے۔ اربوں ڈالروں کے منصوبے لگانے سے عدالت امپریس نہیں ہوگی۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے 2021 میں ایک تفصیلی فیصلہ دیا ہے، جس میں ریلوے اراضی لیز اور فروخت کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ عدالتی فیصلے کی وجہ سے گالف کلب کی لیز کا عمل رُک گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ریلوے کو زمینوں کی فروخت اور لیز کا لائسنس نہیں دے سکتے۔ ریلوے پورا بزنس پلان بنا کر دے تب ہی جائزہ لیں گے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے دوران سماعت کہا کہ کوئٹہ میں ریلوے کے رہائشی کوارٹر فروخت ہوچکے ہیں۔ سیکرٹری ریلوے نے کہا کہ جو زمین استعمال نہیں ہو رہی اسے کمرشل کرنا چاہتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ریلوے وفاقی حکومت سے بطور کمرشل ادارہ کام کرنے کی اجازت کیوں نہیں لیتا؟۔ ریلوے اس وقت مالی بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ریلوے میں ملازمین ضرورت سے زیادہ ہیں۔ پنشنز کا بھی بوجھ ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ریلوے نے کئی قیمتی اراضیاں 500 روپے سالانہ پر 100 سال کے لیے لیز کر رکھی ہیں۔ اولڈ اسلام آباد ائرپورٹ کے قریب ریلوے زمین پر ہاؤسنگ سوسائٹی بن گئی تھی۔ ریلوے کو زمین کمرشل نہیں، آپریشنل مقاصد کے لیے دی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سیکرٹری ریلوے بتائیں کس زمین پر کیا کرنا چاہتے ہیں، پھر لیز سے متعلق سوچیں گے۔ریلوے لائنز کے گرد تجاوزات بڑھ رہی ہیں۔ ریلوے ٹریک پر رکشہ چڑھنے سے بھی حادثہ پیش آیا تھا۔ اگر ادارے اپنی زمینوں کا تحفظ نہیں کریں گے تو تجاوزات ہی ہوں گے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ ریلوے سالانہ کتنا منافع کما رہا ہے؟۔ جس پر سیکرٹری ریلوے مظفر رانجھا نے بتایا کہ پچھلے سال ریلوے کا سالانہ منافع کا ٹارگٹ 58 ارب روپے تھا۔ ریلویز نے 2022ء میں 62 ارب روپے کمائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ریل گاڑی کے انجن سے ایک موٹر خراب ہو جائے تو دوسری ریل گاڑی کا نکال کر لگا لیتے ہیں۔ کیا ریلوے کا نظام ایسے چلا رہے ہیں؟۔ سیکرٹری ریلوے نے کہا پاکستان ریلوے پل صراط پر چل رہی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نائیجیریا میں ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے منتظر 32 افراد اغوا
    ٹائٹن اروم نامی پھول جو 7 سے 10 سال میں ایک بار کھلتا ہے
    کاسمیٹک مصنوعات کے نقصانات سے خبردار کرنے والی سعودی ایپلی کیشن متعارف
    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے
    قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حاثہ میں 7 افراد جاںبحق
    وزیر اعظم شہباز شریف وفد کے ساتھ جنیوا پہنچ گئے
    ایک کمرے میں دو دو کلاسز؛ کراچی میں سرکاری اسکول کی عمارت ٹھیکیدار نے کرائے پر دیدی

    سیکرٹری ریلوے نے عدالت کو بتایا کہ سیلاب کے دوران پاکستان ریلوے کو628 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ریلویز نے سیلاب کے بعد خود ریلوے بحال کیں، حکومت سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا۔ ملک میں سڑکوں کی تعمیر کو زیادہ اہمیت ملی، ریلوے کو پیچھے دھکیلا گیا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حکومت پنشنز کی مد میں ریلوے کو 40 ارب روپے دیتی ہے۔ حکومت پی آئی اے اور اسٹیل ملز کو بھی اربوں روپے دے رہی ہے۔ کیا سب کچھ بیچ کر ملک چلانا ہے؟۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ اس عدالت میں اربوں روپوں کے منصوبے کی بات نہیں کرنے دی جائے گی۔ کوئٹہ سے ریل کا راستہ منقطع ہے۔ چینی بھائیوں ہی سے پوچھ لیں کہ سیلاب کا کھڑا پانی کیسے نکالنا ہے۔ ریلوے کے نظام میں بہتری عام آدمی کی بڑی خدمت ہو گی۔ یہی ریلوے نظام پڑوسی ملک میں چل رہا ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں؟۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں ریل گاڑی جس بھی رفتار سے چلے منزل پر پہنچا ہی دیتی ہے۔ ریلوے پاکستان کی لائف لائن ہے۔ ریلوے نظام کی بحالی کا پلان جمع کرائیں۔ سپریم کورٹ نے 2 ہفتے میں ریلوے کو منافع بخش بنانے سے متعلق جامع پلان عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی آئندہ سماعت 23 جنوری سے شروع ہونے والے ہفتے تک ملتوی کردی۔