Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان اور کرغزستان کے درمیان معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے

    پاکستان اور کرغزستان کے درمیان معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے

    پاکستان اور کرغزستان کے درمیان معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کیے گئے ہیں۔

    وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں کرغزستان اور پاکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشت کے تبادلے کی تقریب ہوئی۔ جس میں کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف اور وزیراعظم شہباز شریف شریک ہوئے،وزیر اعظم شہباز شریف اور کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف کے درمیان بشکیک اور اسلام آباد کو جڑواں شہر قرار دینے کا معاہدہ ہوا ہے،پاکستان اور کرغزستان کے درمیان کان کنی اور جیوسائنسز میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا،تقریب کے دوران پاکستان فارن سروسز اکیڈمی اور کرغزستان ڈپلومیٹک اکیڈمی کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور کرغزستان کے وزیر خارجہ نے دستاویز کا تبادلہ کیا.پاکستان اور کرغزستان کے درمیان سیاحت اور توانائی کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا،پاکستان اور کرغزستان کے درمیان سزا یافتہ قیدیوں کے تبادلے اور ثقافت کے شعبے میں بھی معاہدہ ہوا ہے۔ وزارت قانون و انصاف اور کرغزستان کی وزارت انصاف میں مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا،وزیر اعظم یوتھ پروگرام اور کرغز ثقافت، اطلاعات، کھیل و امور نوجوانان کی وزارت میں مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کرغزستان کے صدر کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں، صدر صادر ژپاروف کا دورہ دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے اہمیت کا حامل ہے، پاکستان کی 24 کروڑ عوام کی طرف سے معزز مہمان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ صدر صادر ژپاروف دو دہائیوں بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے کرغزستان کے صدر ہیں، یہ دورہ مختلف شعبوں میں تعاون کی نئی جہت دینے کے لیے اہمیت کا حامل ہے، پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات کی جڑیں تاریخ میں ہیں،مذاکرات میں مختلف شعبوں میں تعاون، علاقائی اور عالمی امور پر گفتگو ہوئی، ہم نے تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ہے،توانائی، تجارت اور روابط کے فروغ اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھائیں گے، پاکستان کرغزستان بزنس فورم سے معاشی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی، مختلف شعبوں میں تعاون کے 15 معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں اہم پیشرفت ہے، 2 سال میں دوطرفہ تجارتی حجم 15سے 200 ملین ڈالر تک لے جائیں گے۔

    قبل ازیں کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا،کرغزستان کے صدر کو مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،وزیر اعظم شہباز شریف نے گرمجوشی سے مہمان صدر کا استقبال کیا۔

  • افغانستان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کارگوز کی اجازت کا فیصلہ

    افغانستان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کارگوز کی اجازت کا فیصلہ

    وزارتِ تجارت نے ڈی جی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور ایف بی آر کے ممبر کسٹمز آپریشن کو خط لکھ کر افغانستان کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کارگوز گاڑیوں کی مرحلہ وار ترسیل کی اجازت دینے کی سفارش کی ہے۔

    خط کے مطابق پاکستان نے اقوام متحدہ کی تنظیموں کے کارگوز کی ترسیل میں سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت یونیسف، ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) اور یو این ایف پی اے کے کنٹینرز کو مرحلہ وار کلیئر کیا جائے گا۔پہلے مرحلے میں خوراک لے جانے والے کنٹینرز کی کلیئرنس کی جائے گی، دوسرے مرحلے میں ادویات اور طبی آلات والے کارگوز کو بھیجا جائے گا، جب کہ تیسرے مرحلے میں طلبہ اور اساتذہ کے لیے کٹس لے جانے والے کنٹینرز منتقل کیے جائیں گے۔

    وزارت تجارت نے خط میں واضح کیا کہ یہ فیصلہ وزارت خارجہ کی ایڈوائس پر کیا گیا ہے، اور کنٹینرز کو طورخم اور چمن بارڈرز کے ذریعے افغانستان بھجوانے کی اجازت دی جائے گی۔مزید کہا گیا ہے کہ یہ ترسیل افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور اے پی ٹی ٹی اے (APPTA) رولز کے تحت انجام دی جائے گی

    بھارتی روپیہ تاریخی تنزلی کا شکار، کمزور ترین کرنسیوں میں شامل

    نیپا چورنگی واقعہ: بی آر ٹی ریڈ لائن کا ذمہ داری سے اظہارِ لاتعلقی

    پاکستان کی سیاسی جنگ پاکستان میں لڑیں،خواجہ آصف کا سخت ردعمل

    گیارہواں این ایف سی اجلاس آج، وفاق اور صوبے بریفنگ دیں گے

  • پاکستان کی سیاسی جنگ پاکستان میں لڑیں،خواجہ آصف کا سخت ردعمل

    پاکستان کی سیاسی جنگ پاکستان میں لڑیں،خواجہ آصف کا سخت ردعمل

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علیمہ خان جس جنگ کا ذکر کر رہی ہیں، اگر بھارت نے وہ جنگ دوبارہ مسلط کی تو بھارت کے ساتھ ساتھ انہیں بھی بند کیا جائے گا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی جنگ پاکستان میں ہی لڑی جانی چاہیے، ’’دشمن کی گود میں بیٹھ کر وطن دشمنی نہ کریں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کے لیے بے قرار یہ لوگ بھارتی میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں، ’’سلائی مشین بند ہے اس لیے دکھی ہیں۔وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ اگر بھارت نے دوبارہ جنگ مسلط کی تو اس کا جواب دیا جائے گا، ۔ انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا، جس میں انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے سامنے پاکستان کے 7 جہاز گرانے کا ذکر کئی بار کیا تھا۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ اگر پاکستان سے محبت، ملکی دفاع کے لیے کھڑے ہونا یا دین کی سربلندی کے لیے تیار ہونا ’’ریڈیکل اسلامزم‘‘ ہے، تو پھر یہ لیبل 25 کروڑ پاکستانیوں کے ماتھے پر ہے

    گیارہواں این ایف سی اجلاس آج، وفاق اور صوبے بریفنگ دیں گے

    پاکستانی سی-130 طیارہ امدادی ٹیم کے ساتھ کولمبو پہنچ گیا

    قائد اعظم ٹرافی فائنل: کراچی بلیوز کی سیالکوٹ ریجنز پر 276 رنز کی برتری

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے سعودی رائل فورسز کے کمانڈر کی ملاقات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے سعودی رائل فورسز کے کمانڈر کی ملاقات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے کمانڈر رائل سعودی فورسز لیفٹیننٹ جنرل فہد بن سعودکی اہم ملاقات ہوئی ہے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور مشترکہ دلچسپی کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،ملاقات کے دوران دونوں عسکری قیادتوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل المدتی، برادرانہ اور اسٹریٹجک عسکری تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان اور سعودی عرب کے مضبوط دفاعی اشتراک پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تربیت، کیپسٹی بلڈنگ اور انٹیلی جنس شیئرنگ جیسے شعبوں میں دوطرفہ تعاون میں مزید وسعت کی ضرورت ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل فہد بن سعود الجزہانی نے پاکستان آرمی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کی تعریف کی،

    قبل ازیں جی ایچ کیو آمد پر معزز مہمان کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا،

  • پی آئی اے کی بِڈنگ 23 دسمبر 2025 کو ہوگی، وزیرِ اعظم

    پی آئی اے کی بِڈنگ 23 دسمبر 2025 کو ہوگی، وزیرِ اعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے پی آئی اے کی نجکاری میں بِڈنگ میں حصہ لینے والے تمام بڈرز کی ملاقات آج وزیرِ اعظم ہاؤس میں ہوئی.

    اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اسحاق ڈار، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، اعظم نذیر تارڑ، سردار اویس خان لغاری، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، مشیر وزیرِ اعظم محمد علی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. ملاقات میں پی آئی اے کی بِڈنگ میں شرکت کرنے والے تمام بِڈرز نے شرکت کی. شرکاء نے حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں پیشہ ورانہ اور شفاف طریقہ کار کی تعریف کی.وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کی نجکاری میں شفافیت اور میرٹ اولین ترجیح ہے، نجکاری کیلئے بِڈنگ ملک بھر میں ٹی وی پر براہ راست نشر کی جائے گی، پی آئی اے کا کھویا ہوا تشخص بحال کرنے اور قومی ایئرلائن کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے نجکاری کا عمل سہل طور سے جاری ہے.انشاء اللہ جلد پی آئی اے ایک مرتبہ پھر سے "گریٹ پیپل ٹو فلائی وِد” (Great People to Fly With)کی اپنی روایات پر پورا اترنے لگے گا.پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنا رہے ہیں، بِڈنگ ملک بھر میں ٹی وی پر براہ راست نشر کی جائے گی،پی آئی اے کی دنیا بھر میں پروازوں کی بحالی سے سمندر پار مقیم پاکستانیوں کیلئے سہولت ہوگی. پاکستان کے سیاحتی شعبے کی ترقی کیلئے بھی قومی ائیر لائن کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا انتہائی ضروری ہے.پر امید ہیں کہ آپ میں سے جو بھی بِڈنگ کے بعد اس اہم ذمہ داری کو سنبھالے گا وہ قومی ائیر لائن کے تشخص کی بحالی اور اسکی ترقی پر اپنی بھرپور توانائیاں مرکوز کرے گا. پی آئی اے کی بِڈنگ 23 دسمبر 2025 کو ہوگی جسکو تمام میڈیا پر براہ راست نشر کیا جائے گی.

  • افغان طالبان رجیم کے دہشتگردانہ عزائم عالمی امن کے لئے سنگین خطرہ

    افغان طالبان رجیم کے دہشتگردانہ عزائم عالمی امن کے لئے سنگین خطرہ

    افغان طالبان رجیم نہ صرف وسطی ایشیا بلکہ عالمی امن کے لئے بھی شدید خطرہ بن چکی ہے

    افغانستان فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان، داعش، القاعدہ جیسی عالمی کالعدم دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ بن چکا ہے،26 نومبر 2025 کو امریکہ کے وائٹ ہاؤس پر فائرنگ کے واقعہ میں افغان نژاد رحمان اللہ لاکانوال ملوث تھا،اس افسوسناک واقعہ میں نیشنل گارڈز کے دو اہلکار ہلاک بھی ہوئے،سی این این کے مطابق گرفتار ہونے والا دہشتگرد اس سے قبل افغانستان میں CIA کے لئے کام کر چکا ہے،سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے مطابق نیشنل گارڈ پر حملہ کرنے والا دہشتگرد افغانستان میں شدت پسند تنظیموں سے مسلسل رابطے میں تھا،واشنگٹن میں افغان شہری جمال ولی نے ورجینیا کے دو پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کرکے زخمی کیا

    امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق; بہت سی افغان شہری اس سے قبل بھی مختلف جرائم میں ملوث پائے گئے جن کو بائیڈن انتظامیہ کی طرف قانونی حیثیت دی گئی تھی،افغان شہری عبداللہ حاجی زادہ اور ناصر احمد توحیدی کو 2024 کے الیکشن کے دن دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ،افغان شہری محمد خروین جو دہشت گردی کی واچ لسٹ میں شامل تھا، کو 2024 میں گرفتار کیا تھا ،افغان شہری جاوید احمدی کو 2025 میں گرفتار کیا تھا اور اسے دوسرے درجے کے حملے کا مجرم قرار دیا گیا تھا ،افغان شہری بحر اللہ نوری کو مجرمانہ سرگرمیوں پرگرفتار کیا گیا تھا،اسی طرح افغان شہری ذبیح اللہ مہمند کو مختلف نوعیت کے جرائم میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا

    27 نومبر 2025 کو افغان سرزمین سے ڈرون حملے میں تاجکستان میں تین چینی مزدور ہلاک ہو گئے تھے،1 دستمبر کو تاجک حکام نے تصدیق کی کہ افغانستان کے ساتھ جھڑپ میں مزید دو چینی مزدور ہلاک ہو ئے

    افغان شہریوں کی جانب سے یہ دہشتگردانہ حملے وسطی ایشیا، یورپ اور اب امریکہ تک پھیل چکے ہیں ،پاکستان سمیت بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل افغان طالبان رجیم کی دہشتگردوں کے لئے پشت پناہی پر خدشات ظاہر کر چکی ہیں،رواں سال پاکستان میں دہشتگردانہ حملوں میں ہلاک اور گرفتار دہشتگردوں کا تعلق افغانستان ہی سے تھا

    آسٹریلوی جریدے "The Conversation” کے مطابق”اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ برسر اقتدار میں آنے کے بعد سے خطہ بھر میں دہشتگردی کا خطرہ بڑھ گیا”آسٹریلوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے شمال و مشرقی علاقوں میں موجود شدت پسند نیٹ ورکس نے اپنے مراکز قائم کر رکھے ہیں،امریکی ادارہ برائے امن نے بھی طالبان کی واپسی کے بعد افغانستان کو بین الاقوامی امن کے لئے خطرہ قرار دیا تھا، فاکس نیوز کے مطابق 29 نومبر 2025 کو ٹیکساس میں افغان نژاد محمد داؤد نے سوشل میڈیا پر بم دھماکے کی دھمکی دی،اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم اور SIGAR رپورٹس مسلسل افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتی رہی ہیں،اس سے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ڈنمارک اور روس نے بھی فتنہ الخوارج کے مذموم عزائم سے عالمی برادری کو خبردار کیا تھا،ایران، جرمنی اور دنیا بھر کے بیشتر ممالک شدت پسندی اور دہشتگردی کے باعث افغانیوں کو ملک بدر کر رہے ہیں،دنیا بھر میں موجود افغان شدت پسند نظریات عالمی امن کے لئے خطرے کا باعث بن گئے ہیں

  • وزیراعظم کی زیر صدارت تجارتی شعبہ میں اصلاحات پر قائم کردہ ذیلی ورکنگ گروپ کا اجلاس

    وزیراعظم کی زیر صدارت تجارتی شعبہ میں اصلاحات پر قائم کردہ ذیلی ورکنگ گروپ کا اجلاس

    اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت ملکی درآمدات پر کسٹم ڈیوٹی اورتجارتی شعبہ میں دیگر اصلاحات پر قائم کردہ ذیلی ورکنگ گروپ کی سفارشات پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

    ملک کے نمائندہ کاروباری حضرات پر مبنی ذیلی ورکنگ گروپ کی طرف سے محمد علی ٹبہ اور دیگر نے وزیراعظم کو کسٹم اور ٹیکس وصولی سے متعلقہ مسائل سے آگاہ کیا اور اپنی سفارشات پیش کی۔ وزیراعظم نے سفارشات کا خیر مقدم کیا اور ملکی صنعتی پیداوار کو بڑھانے اور کاروباری اور سرمایہ کار حضرات کو ہر ممکن سہولت دینے کے لیے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو خصوصی ہدایات دیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ قومی ٹیرف پالیسی ملکی صنعتی پیداوار کو مثبت انداز میں سہولت پہنچانے کے لیے نافذ کی گئی ہے تاکہ برآمدات اور درآمدات کو ملکی مجموعی معاشی ترقی سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملکی صنعتی پیداوار اور تجارت میں اضافے کے لیے شعبہ جاتی مخصوص تجاویز اور مسائل کی نشاندہی نا گزیر ہے۔دہائیوں سے معاشی و صنعتی پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیۓ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کو ریسرچ، ٹریننگ پر استعمال نہیں کیا گیا۔ملکی برآمدات اور درآمدات کے شعبہ میں ماہرین کی طرف سے سفارشات اور اصلاحاتی تجاویز حقیقت پر مبنی اعداد و شمار کے مطابق ہونی چاہیے۔مقامی صنعت و تجارت اور مقامی آبادی کے لیے صنعتی مصنوعات کی پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لیۓ موثر اقدامات اٹھانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔حکومت کی طرف سے منظور کردہ قومی ٹیرف پالیسی ایک انقلابی قدم ہے جو ملکی صنعتی پیداوار کو بڑھانے کے ساتھ مقامی اور عالمی منڈیوں میں کاروبار کو مسابقتی بناتی ہے۔دوسرے ممالک کے ساتھ دو طرفہ اور راہداری (ٹرانزٹ) تجارتی مصنوعات کی بارڈر پر کسٹم ڈیوٹی کی وصولی کی کڑی نگرانی ہونی چاہیے۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ ، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے پاور سردار اویس احمد لغاری، وفاقی وزیر برائے اکنامک افئیرز ڈیژن احد خان چیمہ، فاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت خزانہ اظہر بلال کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، چیئرمین ایس ائی ایف سی، ملکی صنعت وکاروبار کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی۔

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان سیکورٹی فورسز کی بڑی کاروائیاں،نوکنڈی میں تمام دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا،بلوچستان سیکورٹی فورسز کی بڑی کاروائیاں،نوکنڈی میں تمام دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں.

    نوکنڈی، بلوچستان، سیکیورٹی فورسز نے نوکنڈی کے علاقے میں ایک بڑے دہشت گرد حملے کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ اس وقت شروع ہوا جب ایک شدت پسند نے تقریباً 500 کلو گرام دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی کو علاقے میں داخل کرکے دھماکے سے اڑا دیا، جس سے تقریباً 50 فٹ گہرا گڑھا بن گیا۔
    ذرائع کے مطابق ابتدائی دھماکے کے بعد چھ مزید دہشت گردوں نے فالو اپ حملے کی کوشش کی، تاہم فورسز نے فوری جوابی کارروائی شروع کرتے ہوئے 48 گھنٹے طویل آپریشن کیا۔ اس آپریشن میں تمام سات حملہ آور مارے گئے۔حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    خودکش حملہ آور زرینہ رفیق بلوچ کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) نے زرینہ کے والد، چچا اور منگیتر کو اغوا کرلیا ہے، تاکہ اس کیس کے حقائق منظرِ عام پر نہ آسکیں،اہل خانہ کے مطابق زرینہ، جو BYC کی رکن بتائی جاتی ہے، ایک ’’ورکشاپ‘‘ کے بہانے لے جائے جانے کے بعد لاپتہ ہوئی۔ خاندان نے الزام لگایا کہ اسے زبردستی دباؤ میں رکھا گیا اور اس کی نامناسب ویڈیوز بنا کر اہلِ خانہ کو دھمکایا گیا۔ذرائع کے مطابق زرینہ کے والد ماسٹر رفیق، چچا خدا داد اور منگیتر زبیر کو اس وقت اغوا کیا گیا جب انہوں نے واقعے کی تفصیلات بتانے کی کوشش کی۔ خاندان نے دعویٰ کیا ہے کہ BLF کی جانب سے دھمکی دی گئی ہے کہ اگر کسی نے بات کی تو انہیں قتل کردیا جائے گا۔

    سیکیورٹی و انٹیلی جنس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مخالف قوتوں کی سرپرستی میں سرگرم نیٹ ورکس نے دو مزید شدت پسند تنظیموں کو بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) میں ضم کردیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جوابی کارروائیوں کے بعد مبینہ طور پر بھارت اور اسرائیل نے جیش العدل اور انصار الفرقان کو BLA کے ساتھ یکجا کرنے میں کردار ادا کیا۔ ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تنظیموں نے مل کر نیا مشترکہ پرچم بھی تیار کر لیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔جیش العدل پاکستان میں کارروائیوں میں BLA کی معاونت کرے گی،جبکہ BLA ایران میں کارروائیوں کے لیے جیش العدل کو اسلحہ، گولہ بارود اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرے گی

    دوسری جانب ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ ایران کی مسلح افواج اپنے جنوب مشرقی علاقوں میں ایک ریپڈ ری ایکشن بریگیڈ تعینات کرنے کی تیاری کر رہی ہیں، جو چار ہزار تک بھاری اسلحے سے لیس جنگجوؤں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    مقامی پولیس کے مطابق منگل کی صبح نامعلوم شدت پسندوں نے حاجی ظفر خان کے گھر پر راکٹ فائر کیا، جس کے نتیجے میں گھر میں موجود دو بچے زخمی ہوگئے۔انتظامیہ اور پولیس اہلکار موقع پر پہنچے جبکہ بچوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

    کوئٹہ ، سیکیورٹی اداروں نے ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے نصرآباد، تربت ٹمپ کے رہائشی ہلال داد کو مبینہ طور پر شدت پسند عناصر سے روابط کے شبہے میں حراست میں لے لیا۔ذرائع کے مطابق ملزم کو قانونی تحقیقات کے لیے ایک محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔

    سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران کالعدم گلبہار گروپ کے اہم ترین چار کمانڈروں کو ہلاک کردیا۔ذرائع کے مطابق مارے جانے والوں میں مولوی حمید افغانی گروپ کا اہم اور انتہائی بااثر رہنما،کمانڈر ابو دُجانہ،کمانڈر مُنیب،کمانڈر محب اللہ عرف میبل شامل ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ گلبہار گروپ کے مقامی عناصر نے بھی اپنے سینئر کمانڈروں کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

    صوابی ، رزاڑ کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے ایف سی نائب خطیب عبدالمجید پر اُس وقت فائرنگ کردی جب وہ اپنے بھائی کی دکان پر موجود تھے۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے اور اسپتال منتقل کر دیے گئے۔پولیس کے مطابق عبدالمجید معمول کی چھٹی پر گاؤں آئے ہوئے تھے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    شمالی وزیرستان ، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ضلع کے دو مختلف علاقوں میں کی گئی کارروائیوں میں سات دہشت گرد مارے گئے۔میر علی میں فورسز نے خفیہ اطلاع پر ایک مقام کا محاصرہ کیا جہاں فائرنگ کے تبادلے میں چھ دہشت گرد مارے گئے۔دوسرا آپریشن سپین وام میں کیا گیاجس میں‌ ایک شدت پسند کو ہلاک کیا گیا۔فورسز نے جائے وقوعہ سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مارے گئے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں پر حملوں میں ملوث تھے۔ بعض ذرائع نے دعویٰ کیا کہ گروپ کے روابط ’’بھارتی سرپرستی‘‘ میں سرگرم نیٹ ورکس سے تھے، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

  • نومبر 2025 میں  دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ

    نومبر 2025 میں دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ

    اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) نے نومبر 2025 کی ماہانہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق نومبر کے دوران دہشت گردی کے 97 واقعات رپورٹ ہوئے، جو اکتوبر میں ہونے والے 89 واقعات کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہیں۔ ماہرین اس اضافے کو شدت پسند گروہوں کی حکمت عملی میں تبدیلی اور نرم اہداف کو نشانہ بنانے کے بڑھتے رجحان کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان جیسے گروہوں کی جانب سے شہری علاقوں اور غیر محفوظ برادریوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں۔ نومبر میں 54 شہری دہشت گردی کا نشانہ بن کر جاں بحق ہوئے، جو اکتوبر کے مقابلے میں 80 فیصد زیادہ ہیں۔ شہری ہلاکتوں میں یہ اضافہ سیکیورٹی اداروں کے لیے تشویش کا باعث ہے، کیونکہ یہ گروہ تیزی سے اپنی کارروائیاں شہری مراکز کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔

    رپورٹ بتاتی ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور امن کمیٹیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ نومبر میں 25 سیکیورٹی اہلکار اور 7 امن کمیٹی ارکان مختلف حملوں میں شہید ہوئے، جبکہ 83 سیکیورٹی اہلکار، 67 شہری اور 4 امن کمیٹی ارکان زخمی ہوئے۔ ان حملوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ نفسیاتی دباؤ پیدا کرنا اور ریاستی اداروں کی کارروائیوں کو سست کرنا تھا۔

    دہشت گردی میں اضافے کے باوجود سیکیورٹی فورسز نے بھرپور ردعمل کا مظاہرہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق نومبر کے دوران مجموعی طور پر 206 دہشت گرد مختلف کارروائیوں میں ہلاک کیے گئے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ صلاحیت اور مسلسل کارروائیوں کا ثبوت ہیں۔نومبر میں خودکش حملوں کی تعداد بڑھ کر 4 ہوگئی، جبکہ اکتوبر میں صرف ایک حملہ رپورٹ ہوا تھا۔ نئے حملے اسلام آباد، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سابق فاٹا میں ہوئے، جو شدت پسندوں کے وسیع جغرافیائی نیٹ ورک اور متحرک صلاحیتوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری سے نومبر 2025 تک مجموعی طور پر 1,940 شدت پسند مارے جا چکے ہیں، جو 2015 کے بعد کسی بھی سال میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ اعداد و شمار ریاست کی جانب سے بڑھتے دباؤ اور موثر انسدادِ دہشت گردی پالیسیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

    پی آئی سی ایس ایس نے خبردار کیا ہے کہ شدت پسند گروہ اپنی حکمت عملی تیزی سے تبدیل کر رہے ہیں اور شہری آبادیوں کو خاص طور پر نشانہ بنا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ سیکیورٹی فورسز نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، مگر مجموعی صورتحال اب بھی نازک اور غیر مستحکم ہے۔

  • افغانستان میں طالبان دھڑوں کی خانہ جنگی،خطے میں نیا بحران

    افغانستان میں طالبان دھڑوں کی خانہ جنگی،خطے میں نیا بحران

    افغانستان میں طالبان حکومت کے دو بڑے دھڑوں ملا یعقوب کی قیادت میں قندھاری گروپ اور سراج حقانی کے زیر اثر حقانی نیٹ ورک کے درمیان طاقت کی کشمکش اب مسلح تصادم میں بدل چکی ہے۔

    دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق یہ خانہ جنگی نہ صرف طالبان کی حکومت کو کمزور کر رہی ہے بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہی ہے۔ جھڑپیں جنوبی اور مشرقی افغانستان کے پہاڑی علاقوں میں ہو رہی ہیں، جہاں دونوں گروپوں کے جنگجو آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ملا یعقوب جو طالبان کے قائم مقام وزیر اعظم ہیں، قندھاری دھڑے کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ سراج حقانی، جو وزیر داخلہ ہیں، اپنے نیٹ ورک کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں۔ دونوں دھڑوں کے درمیان اختلافات کئی ماہ سے جاری تھے، مگر اب یہ کھلے عام لڑائی میں تبدیل ہو گئے ہیں۔پاکستان نے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کے خلاف سخت ردعمل دینے کا اعلان کیا ہے۔ خطے کے دیگر ممالک جیسے ایران اور چین بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہ تصادم سرحدی سلامتی اور تجارتی راہداریوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

    طالبان کی اندرونی تقسیم افغانستان کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اگر یہ تصادم جاری رہا تو نہ صرف افغانستان بلکہ پورا جنوبی ایشیا اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے گا۔افغانستان میں ایک نئی خانہ جنگی کا آغاز ہو سکتا ہے، جس سے داعش اور دیگر شدت پسند گروہوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ طالبان حکومت کی تقسیم سے افغانستان میں دو الگ الگ اقتدار کے مراکز بن سکتے ہیں۔ انسانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، اور پناہ گزینوں کی نئی لہر خطے میں پھیل سکتی ہے۔