Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کاروبارکیلئے  قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنایا جائے،وزیراعظم

    کاروبارکیلئے قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنایا جائے،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت چھوٹے و درمیانے پیمانے کے نئے کاروبار و چھوٹے کسانوں کو قرض کی فراہمی میں سہولت، معاشی شمولیت اور نجی شعبے کو قرض کی فراہمی پر جائزہ اجلاس ہوا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کمرشل بینکوں کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے پیمانے کے کاروباروں اور زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے .زراعت کے شعبے میں جدت کے فروغ کیلئے سروس پرووائڈرز کو ترجیحی بنیادوں پر قرض کی فراہمی یقینی بنائی جائے معاون خصوصی ہارون اختر SMEDA کی ٹیم کے ہمراہ گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت تمام صوبوں کا دورہ کریں اور چھوٹے و درمیانے پیمانے کے کاروبار کی سہولت کیلئے صوبوں کے ساتھ مل کر جامع پالیسی سازی کریں.ترقی یافتہ ممالک میں SMEs معیشت اور صنعتوں کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں. نوجوانوں کو آنٹرپرنیورشپ کی تربیت دی جائے تاکہ نئے کاروبار شروع ہوں اور ملک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو،نجی شعبے بالخصوص SMEs اور چھوٹے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے قرض کی فراہمی میں سہولت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے.

    اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، اور متعلقہ اعلی حکام کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان و آزاد جموں و کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے شرکت کی. اجلاس کو نجی شعبے کو گزشتہ برسوں میں کاروبار، مشینری اور جدید ٹیکنالوجی کیلئے فراہم کئے گئے قرض کے اعداد و شمار اور معیشت کی بہتری کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد میں اضافے پر بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ 22-2021 کی نسبت دسمبر 2025 تک نجی شعبے کو بینکوں کی جانب سے قرض کی فراہمی میں بہتری آئی اور قرض حاصل کرنے والوں کی تعداد دو گنا ہو کر 3 لاکھ تین ہزار کی سطح عبور کر گئی اور قرض کا حجم 1.1 ٹریلین پر پہنچ گیا. مزید بتایا گیا کہ زرعی شعبے میں رواں برس قرض سے مستفید ہونے والے کسانوں کی تعداد کا تخمینہ 30 لاکھ لگایا گیا ہے جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 28 لاکھ رہی. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ کمرشل بینکوں کی جانب سے نئے کاروبار اور جدید مشینری کیلئے قرض کی فراہمی کو ترجیح دینے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں. زرعی شعبے کو فراہم کئے گئے قرض میں جدید مشینری اور فصلوں کے ساتھ ساتھ لائیو اسٹاک اور فشریز کے شعبے بھی شامل ہیں. SMEDA چھوٹے اور درمیانے پیمانے کے کاروباروں کو مالیاتی امور کی تربیت اور آگاہی کیلئے جلد ایک پروگرام کا اجراء کرے گی. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ پنجاب میں کسانوں کو جدید زرعی آلات ومشینری کی فراہمی کیلئے سروس پروائڈرز کو قرض کی فراہمی کے پروگرام کا اجراء کیا جا چکا ہے. علاوہ ازیں اجلاس کو بتایا گیا کہ چھوٹے کسانوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولیت کیلئے اسٹیٹ بینک کی جانب سے مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر مبنی "زرخیز-ای ایپ” کا اجراء بھی کیا چکا جس سے کسانوں کی بڑی تعداد مستفید ہو رہی ہے.

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ اس حوالے سے باقائدگی سے بذات خود اجلاس کی صدارت اور نگرانی کریں گے اور جلد اس حوالے سے ایک ذیلی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو ملک میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کیلئے نجی شعبے بلخصوص SME سیکٹر اور زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کیلئے سفارشات مرتب کرے گی.

  • حکومت نے اپوزیشن سے مذاکرات کی حکمت عملی تیار کرلی

    حکومت نے اپوزیشن سے مذاکرات کی حکمت عملی تیار کرلی

    اسلام آباد: ملک میں سیاسی کشیدگی کم کرنے اور سیاسی استحکام کے فروغ کے لیے وفاقی حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی باقاعدہ حکمت عملی تیار کرلی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو اپوزیشن جماعتوں سے بات چیت شروع کرنے کا گرین سگنل دے دیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف موجودہ سیاسی صورتحال میں مفاہمت اور مکالمے کو ناگزیر سمجھتے ہیں اور اسی مقصد کے تحت اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ ہیں۔ وزیراعظم کی ہدایت پر حکومتی سطح پر مشاورت مکمل کرلی گئی ہے اور مذاکرات کے لیے واضح لائحہ عمل بھی تیار کرلیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی درخواست پر حکومتی وفد اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے تیار ہوگا۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا عمل پارلیمانی دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھایا جائے گا تاکہ آئینی اور جمہوری اصولوں کے تحت مسائل کا حل نکالا جا سکے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے واضح فیصلہ کیا ہے کہ مذاکرات صرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منتخب نمائندوں سے ہی کیے جائیں گے، جبکہ کسی بھی غیر منتخب یا غیر پارلیمانی نمائندے سے بات چیت نہیں ہوگی۔ حکومتی موقف ہے کہ پارلیمان ہی مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کا درست فورم ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ دنوں میں اسپیکر قومی اسمبلی اپوزیشن قیادت سے رابطے تیز کریں گے، جس کے بعد مذاکرات کے باضابطہ آغاز کا امکان ہے۔

  • بھارت جنگ بندی کیلئے کیسے امریکا کے پاؤں پڑا، حقائق سامنے آگئے

    بھارت جنگ بندی کیلئے کیسے امریکا کے پاؤں پڑا، حقائق سامنے آگئے

    بھارت جنگ بندی کیلئے کیسے امریکا کے پاؤں پڑا، حقائق سامنے آگئے۔ امریکی محکمہ انصاف کی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ 10 مئی کو جنگ بندی والے دن بھارتی سفارتخانہ اہم امریکی شخصیات سے رابطے میں تھا۔

    امریکی محکمہ انصاف میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق 10 مئی کو جس دن بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی ہوئی، بھارتی سفارتخانہ ٹرمپ انتظامیہ کی اہم شخصیات سے رابطے میں تھا۔وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور دیگر حکام سے لابنگ فرم کی مدد سے رابطہ کیا گیا، بھارت نے جس لابنگ فرم کو ہائر کیا اس کے سربراہ کی صدر ٹرمپ کے ساتھ تصویر بھی سامنے آگئی۔دستاویزات منظرعام پر آنے سے دہلی کے سفارتی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ بھارتی اخبار دی ہندو کی ایڈیٹر سوہاسنی حیدر کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس سے رابطوں اور امریکی حکام سے ملاقاتوں کیلئے بھارت لابنگ فرم پر انحصار کرتا ہے۔امریکی لابنگ فرم نے تصدیق کی ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی ملاقات بھی انہوں نے کروائی، لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرنے والوں میں بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مسری بھی شامل ہیں۔

  • بنگلہ دیشی فضائیہ کے  چیف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات

    بنگلہ دیشی فضائیہ کے چیف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات

    چیف آف دی ایئر سٹاف، بنگلہ دیش ایئر فورس، ایئر چیف مارشل حسن محمود خان کی قیادت میں اعلیٰ سطحی دفاعی وفد نے ایئر ہیڈکوارٹرز، اسلام آباد میں سربراہ پاک فضائیہ، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات دونوں فضائی افواج کے درمیان آپریشنل تعاون اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مزید مستحکم بنانے کی ایک اہم کڑی ہے۔

    ملاقات کے دوران دونوں سربراہان نے باہمی تعاون کے وسیع امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جس میں بالخصوص تربیتی مشقوں اور ایرو اسپیس صنعت میں پیش رفت کے شعبوں میں اشتراک پر زور دیا گیا۔ ایئر ہیڈکوارٹرز آمد پر پاک فضائیہ کے چاق و چوبند دستے نے بنگلہ دیشی مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے معزز مہمان کا پُرتپاک استقبال کیا اور پاک فضائیہ کی حالیہ پیش رفت اور جدید صلاحیتوں کی تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان گہرے مذہبی اور تاریخی تعلقات قائم ہیں جو دونوں برادر ممالک کی افواج کے مابین مثالی عسکری تعاون کا مظہر ہیں۔انہوں نے جدید حربی چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے بنگلہ دیش ایئر فورس کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ایئر چیف نے اس امر پر زور دیا کہ پاک فضائیہ بنگلہ دیش ایئر فورس کے کیڈٹس اور پائلٹس کے لیے بنیادی سے لے کر اعلیٰ سطحی ٹرینگ کے وسیع مواقع فراہم کرے گی۔

    بنگلہ دیش ایئر فورس کی تربیتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایئر چیف نے اس امر کا اعادہ کیا کہ سپر مشاق تربیتی طیاروں کی فراہمی کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں پاک فضائیہ مکمل تربیتی نظام کی فراہمی کو بھی یقینی بنائے گی تاکہ طیاروں کی بروقت شمولیت، بہترین عملی تیاری اور طویل المدتی معاونت کو یقینی بنایا جا سکے۔بنگلہ دیش ایئر فورس کے سربراہ نے پی اے ایف کے شاندار حربی ریکارڈ اور مسلسل عملی برتری کو سراہا۔ اُنہوں نے پاک فضائیہ کے وسیع عملی تجربے اور پیشہ ورانہ مہارت سے استفادہ حاصل کرنے میں بھی گہری دلچسپی ظاہر کی ۔ بنگلہ دیش ایئر فورس کے چیف نے پی اے ایف کے مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی فضائیہ کے فضائی بیڑے کی تعمیر نو کے لیے معاونت کی خواہش کا اظہار کیا۔

    دونوں سربراہان کے مابین جے ایف-17 تھنڈر طیاروں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا جو دفاعی تعاون کے فروغ اور طویل المدتی شراکت داری کے روشن امکانات کی عکاسی کرتا ہے۔ بنگلہ دیشی ایئر چیف نے نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک میں موجود جدید تکنیکی انفراسٹرکچر کو سراہا اور بالخصوص آئی ایس آر، سائبر، خلائی ٹیکنالوجی، الیکٹرانک وارفیئر اور بغیر پائلٹ فضائی نظام کے شعبوں میں قائم جدید ترین سہولیات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ وفد نے نیشنل آئی ایس آر اینڈ انٹیگریٹڈ ایئر آپریشنز سینٹر اور پی اے ایف سائبر کمانڈ کا بھی دورہ کیا، جہاں پاک فضائیہ کی آپریشنل صلاحیتوں پر بریفنگ دی گئی۔

    بنگلہ دیش کے اس اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کا ایئر ہیڈکوارٹرز، اسلام آباد کا دورہ دونوں ممالک کے مابین دفاعی تعاون کو مزید مستحکم بنانے اور صلاحیت سازی و آپریشنل اشتراک پر مبنی تزویراتی شراکت داری کو فروغ دینے کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے

  • بھارت کون ہوتا ہے کہ پاکستان کے کسی شہری کو گزند پہنچائے،ترجمان پاک فوج

    بھارت کون ہوتا ہے کہ پاکستان کے کسی شہری کو گزند پہنچائے،ترجمان پاک فوج

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ سب سے پہلے آپ کا شکریہ جو آپ یہاں تشریف لائے، پریس کانفرنس کا مقصد صرف 2025 میں دہشتگردی کےخلاف آپریشنز ہے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نیوز کا نفرنس کا مقصد دہشت گردی کیخلاف اقدامات کا احاطہ کرنا ہے ،خوارج کا اسلام سے ،پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، 2025 میں پاکستان کی فوج اور عوام دہشتگردی کیخلاف متحد رہیں،دہشتگری کیخلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، 2025 میں ریاست اورعوام کودہشتگردی پرمکمل وضاحت حاصل ہوئی،فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا پاکستان ،بلوچستان سےکوئی تعلق نہیں، گزشتہ سال کاونٹر ٹیرارزم کے لیے لینڈ مارک سال رہا،سال 2025میں دہشتگردوں کے خلاف 75ہزار 175آپریشن کئے گئے،1235پاکستانی شہید ہوئے،سال 2025 میں پاکستان نے 2597 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا،دہشتگردوں کیخلاف 14 ہزار 658 آپریشنز خیبر پختونخواہ میں کئے گئے۔ ملک کے دیگر حصوں میں 1739 آپریشنز کئے گئے، گزشتہ سال 27 خودکش بم دھماکے ہوئے، اور 75 ہزار 175 آپریشنز کئے گئے،خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے 3811 واقعات ہوئے، اس سال 2597 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ دنیا نے پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے۔2021 میں 193دہشت گرد ہلاک ہوئے اور 592 شہادتیں ہوئیں یعنی ایک دہشت گرد کی ہلاکت کے پیچھے 3 شہادتیں ہوئیں۔ دوسری جانب 2025 میں 2597 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ اور شہادتیں 1235 ہوئیں۔ یعنی 2025 میں 1 شہادت کے پیچھے 2 دہشت گرد مارے جارہے ہیں،پچھلے سال 27 خودکش دھماکے ہوئے جس میں 2 دھماکوں میں خواتین کا استعمال کیا گیا۔

    افغانستان دنیا بھر کے اسمگلرز اور دہشت گرد تنظیموں کی آماجگاہ بن چکا ہے،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ ایک سوال ہے خیبرپختونخوا میں 80 فیصد دہشتگردی کے واقعات کیوں؟، ہمارے بہت سے دوست صحافی یہاں خیبرپختونخوا سے بیٹھے ہیں، یہ سوال آپ کے ذہن میں تو چیخ چیخ کر آتا ہو گا کہ کیوں، اِس کی بنیادی وجہ ہے Political criminal terror nexuses جو وہاں پر Flourish کر رہا ہے،خیبرپختونخواہ میں دہشتگردی کے پیچھے دہشتگردوں کا سیاسی گٹھ جوڑ ہے۔ خیبرپختونخواہ میں دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات کی وجہ وہاں دہشت گردوں کے لئے سیاسی طور پر ساز گار ماحول ہے۔پاکستان نے 2025 کے آپریشنز کے لیے نئی حکمت عملی تیار کی ہے، جس کا مقصد دہشتگردوں کو مکمل طور پر شکست دینا ہے،افغانستان میں کوئی حکومت نہیں ہے، اور تمام دہشتگرد پراکسیز زیادہ تر افغانستان سے چل رہی ہیں اور بھارتی اس میں مکمل طور پر شامل ہے. افغانستان میں دہشتگردی کے مرکز بننے کے باوجود، پاکستان کی موقف کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔افغانستان دنیا بھر کے اسمگلرز اور دہشت گرد تنظیموں کی آماجگاہ بن چکا ہے.علاقائی اور عالمی دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے پڑوسی ممالک میں انتشار اور دہشت گردی کا باعث بن رہی ہیں،نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے ،دہشت گردی کرنے والے یہ خوارج ہیں، اِن کا دینِ اسلام سے کوئی تعلق نہیں، اِن کے بارے میں اللہ کا حکم ہے یہ جہاں ملیں اِنہیں مار دو، اِن کے ہاتھ پائوں مختلف سمتوں سے کاٹ دو،ہمیں یقین ہے کہ دہشتگردی کے خلاف یہ جنگ ہم نے جیتنی ہے

    خیبرپختونخواہ میں دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات کی وجہ وہاں دہشت گردوں کے لئے سیاسی طور پر ساز گار ماحول ہے۔ڈی جی آئی ایس پی ار
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ معرکہ حق میں جب ہندوستان کا منہ کالا کیا جاتا ہے ساری دنیا نے دیکھا کہ کیاہوا،معرکہ حق میں دنیا نے دیکھا کہ کیسے پوری قوم بنیان المرصوص بن گئی ، ہندوستان کو وہ سبق سیکھایا گیا جو سیکھایا جانا ضروری تھا ،بھارت کے منہ سے ابھی تک سندور کی کالک نہیں جا رہی ، قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات ریاست کی اولین ترجیح رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے،سیکیورٹی اداروں نے کراچی میں بھارتی پراکسی بی ایل اے کی دہشت گردانہ سازش کا خاتمہ کرکے بڑے پیمانے پر دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنایا، جو پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف ناقابل تسخیر عزم اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کا ثبوت ہے۔افغان طالبان ہمیشہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ انہوں نے امریکہ کو شکست دی جبکہ حقائق کچھ اور ہے، انہیں امریکہ نے ہی بنایا۔ یہ گمراہ کن پروپیگنڈا سے نوجوانوں اور مذہبی طبقے کو گمراہ کرتے ہیں،افغان گروپ نے وعدہ کیا تھا کہ شدت پسندی کا خاتمہ کریں گے اور یہ کہا تھا کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، لیکن ایسا نہیں ہوا.

    دہشتگرد ہماری یکجہتی اور امن کے دشمن ،پاکستان کی حفاظت، قوم کی حفاظت ہے،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی حفاظت، قوم کی حفاظت ہے۔ دہشتگرد ہماری یکجہتی اور امن کے دشمن ہیں۔ اس سال کے اقدامات نے ثابت کر دیا کہ پاکستان ہر قسم کے دہشتگردانہ حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ یاد رکھیں، یہ دہشتگرد اسلام کے دشمن نہیں، بلکہ فتنہ الہندوستان کے پٹھو ہیں،ہمارا نشانہ ٹی ٹی پی ہے، افغان طالبان نہیں،2021 میں افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو اپنی طرز کی تنظیم بنایا اور نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے اپنی تعداد بڑھائی جارہی ہے، اکتوبر 2025 میں دہشتگردوں پر پاک افغان بارڈر پر حملے کیے گئے، گھنٹوں میں درجنوں افغان پوسٹوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا، ہندوستان نے نام نہاد سندور آپریشن میں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا ، ہندوستان کون ہوتا ہے کہ ہمارے کسی شہری کو نشانہ بنائے ، یہ حق ہندوستان کوکسی نےنہیں دیا کہ وہ پاکستان کےکسی شہری یا انفرا اسٹرکچرکو نقصان پہنچائے، ہندوستان کے آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں جا رہی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کےشرکاء کے ہمراہ گزشتہ سال پاک فوج کے شہداء کو سیلیوٹ پیش کیا۔

    جس نے جو کہنا ہے وہ کہے کیونکہ پاک فوج اور ہمارے عوام کے درمیان کچھ نہیں ہے،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں کہ کون کون دہشت گرد ہیں اور کہاں کہاں کس کو جگہ دے رہے ہیں، افغانستان میں کئی دہشت گرد تنظیموں کے سرغنہ اور تربیتی کیمپ موجود ہیں، بنیادی ٹارگٹ کون ہے، اس پر نظر ڈالیں تو دس بڑے واقعات نظر آتے ہیں، ان میں کون ملوث ہے؟ یہ تمام افغانی ہیں، دہشت گردوں نے سویلین اور سافٹ ٹارگٹس پر حملے کیے، جعفر ایکسپریس حملے میں 21 سویلینز شہید کیے گئے، نوشکی میں سویلین بس پر حملہ کیا گیا، یہ تمام دہشت گردانہ حملے افغانیوں نے کیے۔ اے پی ایس وانا میں افغان دہشت گردوں نے اے پی ایس پشاور دہرانے کی کوشش کی۔کورکمانڈر پشاور درجنوں بار کے پی میں عوامی مقامات پر جا چکے ہیں، دیگر افسران جاتے ہیں لوگوں سے بات کرتے ہیں، جس نے جو کہنا ہے وہ کہے کیونکہ پاک فوج اور ہمارے عوام کے درمیان کچھ نہیں ہے،یہ بات ذہن میں ڈالی جاتی ہے کہ ‘یہ تو فوج کی جنگ ہے’ نہیں ، یہ پاکستان کے عوام کی جنگ ہے اگر ہم اس کے سامنے نہیں کھڑے ہوں گے آپ کے اسکولوں اور دفتروں میں بم پھٹیں گے، بھارت پراکسیز کو مالی امداد دیتا ہے اور ان کی سرپرستی کرتا ہے۔ یہ وار اکانومی چلانے کے لیے دہشتگردی کرتے ہیں اور ان کے پاس جدید ترین اسلحہ موجود ہے۔

    ہمیں اس بیانیے سے کوئی ٹس سے مس نہیں کر سکتا، خوارج دائرہ اسلام سے خارج ہیں،ترجمان پاک فوج
    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس کا واقعہ پاکستانیوں کے ذہنوں سے کبھی نہیں جائے گا، ایف سی ہیڈ کوارٹرز کوئٹہ میں حملہ کیا جاتا ہے، اس میں تمام افغانی تھے، جس میں 8 سویلینز شہید ہوئے، نومبر میں ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور پر حملہ کیا گیا، یہ قوم کی جنگ ہے، ایک ایک بچے کی جنگ ہے، بیانیہ بنایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ فوج کی جنگ ہے۔ افغان رابطہ کے تناظر میں بہت سارے دہشت گردوں کے کاغذات بھی ملتے ہیں، دہشت گردوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے اور انہیں پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بھیجا جاتا ہے،جو یہ بیانیہ بناتے ہیں کہ جو باڑ لگی ہے وہاں دہشت گرد کیوں نہیں مارے جاتے، بالکل مارے جاتے ہیں، اپریل میں 71 دہشت گرد مارے گئے، چیونٹیوں کی لمبی لمبی قطاروں کی طرح ان کی تشکیلیں آتی ہیں، حسن خیل میں 12 دہشت گرد مارے گئے، خارجی امجد کو بھی سرحد پار کرتے ہوئے مارا گیا، دہشت گرد سرحد پر جہاں نظر آتے ہیں، ڈھیر کر دیے جاتے ہیں، ایک بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ پاکستان فوج ڈرون استعمال کرتی ہے، خارجیوں نے آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرنا شروع کیا، خوارج مساجد میں بیٹھ کر کواڈ کاپٹرز دہشت گردی کے لیے استعمال کرتے ہیں، ان کا سرپرست اعلیٰ ہندوستان ان کو ہر چیز فراہم کرتا ہے، خوارج بچوں اور خواتین کو ڈھال بنا کر دہشت گردی کرتے ہیں، فوج صرف دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے، سمبازہ میں کواڈ کاپٹر کا استعمال کیا گیا کیونکہ وہاں آبادی نہیں تھی، ہم ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کا استعمال نگرانی کے لیے کرتے ہیں،فوج کوئی کولیٹرل ڈیمیج نہیں کرتی، کور کمانڈر پشاور درجنوں جگہوں پر جا چکے ہیں اور روز جاتے ہیں، کیونکہ ہمارے اور عوام کے درمیان کچھ نہیں ہے، فلڈ ریلیف کی سرگرمیاں اور سڑکیں کلیئر کی جا رہی ہیں، جو کلیئرٹی اس سال پاکستانی قوم کو ملی ہے وہ اس سے پہلے نہیں تھی،فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان پر قیادت اور عوام کلیئر ہیں، یہ وضاحت ہمارے پاس 2023 میں بھی تھی اور آج بھی ہے، ہمیں اس بیانیے سے کوئی ٹس سے مس نہیں کر سکتا، خوارج دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ سویلین اور فوجی قیادت دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے ایک پیچ پر ہے، صوبائی سیاسی قیادت کو مکمل کلیئرٹی ہے کہ دہشت گردی کے ناسور سے کیسے لڑنا ہے، یہ کلیئرٹی پاکستان کے طول و عرض میں عوام کو بھی ہے۔یہ حق صرف ریاستِ پاکستان کا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو سزا دے یا جزا دے، بھارت کون ہوتا ہے کہ پاکستان کے کسی شہری کو گزند پہنچائے،

    سیاست، سیاسی جماعتوں کا کام ہے، ہمارا کام یہ ہے کہ ہم دودھ کا دودھ، پانی کا پانی قوم کے سامنے کر دیں،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہناتھا کہ کیا فوج بیلچے لے کر معدنیات نکالنے گئی ہے، 5 ہزار کے قریب معدنیات کے لائسنس کس نے جاری کئے؟، کیا جی ایچ کیو نے جاری کئے، کیا وفاقی حکومت نے کئے، مائنز اینڈ منرل ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخوا نے جاری کئے، ایک یا دو لائسنس ہوں گے جو فوج کے ماتحت ادارے کے پاس ہوں گے، سیاست، سیاسی جماعتوں کا کام ہے، ہمارا کام یہ ہے کہ ہم دودھ کا دودھ، پانی کا پانی قوم کے سامنے کر دیں، دہشتگردی کا بیانیہ 2023 سے چلا تھا، کلیئرٹی کا سورس آپ کے فیلڈ مارشل ہیں، جو کہتے ہیں دہشتگردوں سے کوئی بات نہیں کرنی، اِدھر تو یہ کلیئرٹی تھی کہ بات کر لو، ڈی جی آئی ایس پی آر نے سہیل آفریدی اور اقبال آفریدی کے بیان چلا دیے۔ ایران، چین اور دیگر ممالک کہہ رہے ہیں کہ افغانستان دہشتگردی میں ملوث ہے جبکہ پی ٹی آئی حکومت اس حوالے سے جھوٹا بیانہ بنا رہی ہے ‘دہشتگردی پاکستان کے اندر سے ہو رہی ہے’،اے این پی نے سینوں پر گولیاں کھائیں،دہشتگردی کے خلاف کھڑے ہوئے یہ (پی ٹی آئی) کہہ رہے کہ ہم نہیں کھڑے ہوں گے،ہم ان کیساتھ شامل ہوں گے،سوال یہ ہے کہ کبھی دہشتگردوں نے اِن (پی ٹی آئی) پر حملہ کیوں نہیں کیا؟ ہم نے جنازے اُٹھائے ہیں، مزید جنازے اُٹھانے کی ہمت رکھتے ہیں، ہم نے جانیں لی ہیں، ہم مزید جانیں لیں گے، دہشتگردوں کو جہنم واصل کرینگے،بھارت پراکسیز کو پیسہ دیتا ہے اور ان کی سرپرستی کرتا ہے۔ یہ وار اکانومی کو چلانے کے لیے دہشتگردی کرتے ہیں۔ ان کے پاس جدید ترین اسلحہ موجود ہے۔27 خودکش حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دشمن نے پوری قوت لگائی، مگر خیبرپختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد سمیت پوری قوم اور سیکیورٹی اداروں نے یکجہتی سے دہشتگردی کو شکست دی۔ہم حق پر ہیں اور حق نے انشااللہ غالب آنا ہے،

    وہ اِتنا بااختیار وزیراعظم تھا کہ اُس نے آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈکلیئر کر دیا تھا، 1947 سے آج تک کسی وزیراعظم کے پاس اِتنا اختیار نہیں تھا کہ وہ آرمی چیف کو باپ ڈکلیئر کر دے، ترجمان پاک فوج
    وہ ڈی جی آئی ایس آئی آج کہاں ہے جسے وزیراعظم (عمران خان) نے اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا؟ ڈی جی آئی ایس پی آر
    یہ سیاسی بیانیہ بناتے ہیں کہ ہم تو بےاختیار تھے، حکومت بےاختیار ہوتی ہے، یہ حکومت بھی ہے، پچھلی بھی تھی اس سے پچھلی بھی تھی،ترجمان پاک فوج
    آپ وہاں دوبارہ دہشتگردوں کی اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں کہ آپریشن نہیں کرنے دیں گے،تاکہ سیاست اور دہشتگردی کا گٹھ جوڑ ہر جگہ پھیل جائے؟ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ کہتے ہیں کہ فوج کے پی سے نکل جائے،غور سے سن لیں کہ فوج ایک وفاقی فورس ہے،یہ وہاں وفاقی ہدایات پر موجود ہے،ہمیں آئینی اور قانونی حکم ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی یقینی بنائیں،یہ آپ کو کوئی اجازت نہیں دے سکتا کہ آپ اپنی سیاست کے لیے،سہولتکاری کے لیے،اپنے صوبے اور علاقوں کو دہشتگردوں کے حوالے کردیں،ماضی میں جائیں،جب اسی طرح کے سیاسی بیانات پر فوج سوات سے گئی تھی تو کیا ہوا تھا؟ہزاروں سواتیوں،ان علاقے کے بچوں نے،فوجیوں نے،کے پی کے لوگوں نے قربانی دی،آپ وہاں دوبارہ دہشتگردوں کی اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں کہ آپریشن نہیں کرنے دیں گے،تاکہ سیاست اور دہشتگردی کا گٹھ جوڑ ہر جگہ پھیل جائے؟دہشتگردی کے خلاف جنگ ہماری سالمیت اور پاکستان کی جنگ ہے، ہمارے لئے تمام قومیں،سیاسی جماعتیں، مذاہب، فرقے سب برابر ہیں،یہ سیاسی بیانیہ بناتے ہیں کہ ہم تو بےاختیار تھے، حکومت بےاختیار ہوتی ہے، یہ حکومت بھی ہے، پچھلی بھی تھی اس سے پچھلی بھی تھی،یہ کہتے ہیں کہ فوج واپس چلی جائے، تو میری بات غور سے سنیں اور سمجھیں۔ فوج وفاق کے احکامات پر کام کرتی ہے، اور پاکستان کی سیکیورٹی ہماری آئینی ذمہ داری ہے۔ ہم کسی کے سیاسی مقاصد کے لیے یا کسی کی سہولت کاری کے تحت اس صوبے کو دہشت گردوں کے حوالے نہیں ہونے دیں گے،ایک شخص(عمران خان) پارٹی ڈکٹیٹر کی طرح چلاتا تھاوہ کہتا تھا میں بے اختیار تھا وہ بااختیار وزیر اعظم تھا،اس وقت ڈ ی جی آئی تھے وہ کہاں ہیں ، انہیں اپنی سیاست کے لئے استعمال کیا گیا، وہ بااختیار وزیراعظم تھا جو بعد میں کہتا ہے میرے پاس اختیار ہی نہیں تھا، وہ آرمی چیف کو باپ کہتا تھا، ہمارے لئے ایک ہی باپ ہے قائد اعظم محمد علی جناح ،۔آئین کی کتاب میں لکھا ہے کوئی قانون، سیاسی جماعت اور آزادی اظہار رائے پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کے منافی نہیں ہو سکتا، آئین یہ کہتا ہے یا نہیں، ہم نے اِس ملک کی خودمختاری اورسالمیت کا حلف لیا ہے یا نہیں لیا،وزیراعلی خیبر پختونخوا کہہ رہے ہیں کہ میرا لیڈر کہتا ہے کہ آپریشن نہیں ہونے دینگے،خیبرپختونخوا میں آپریشن آج بھی ہورہے ہیں، کچھ چیزیں بنیادی ہیں ان پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری آئین پاکستان دیتا ہے،دہشت گرد داعش کا ہو، القاعدہ کا یا ٹی ٹی پی کا۔ سب دہشت گرد ہیں، ان کا کوئی دین ایمان نہیں ہے، ہماری کسی کے لیے کوئی ہمدردی نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردوں کی صرف ایک قسم اچھی ہے اور وہ ہے مردہ دہشت گردی،آئین کہتا ہے کہ ملک کی خودمختاری اور سالمیت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے،وہ(عمران خان) بااختیار وزیراعظم تھا، بعد میں کہتا ہے میرے پاس تو اختیار نہیں تھا، وہ اِتنا بااختیار وزیراعظم تھا کہ اُس نے آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈکلیئر کر دیا تھا، 1947 سے آج تک کسی وزیراعظم کے پاس اِتنا اختیار نہیں تھا کہ وہ آرمی چیف کو باپ ڈکلیئر کر دے،آپ کے صوبے میں 3800 دہشتگردی کے واقعات ہو چکے ہیں۔ اور یہ صاحب مضحکہ خیز بات چیت کیوں کرتے ہیں، کیونکہ جب کوئی لاجگ اور آرگیومنٹ نہ ہو تو ایسی ہی بات چیت کرنی ہے جس کا نہ کوئی سر ہے، نہ پیر، نہ آگے، نہ پیچھے، کیا نور ولی محسود کو صوبے کا وزیر اعلیٰ بنانا ہے؟کیا اُس کی بیعت کر نی ہے، وزیراعلیٰ کے پی کا بیانیہ کھل کر سامنے آیا، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیں واضح اور غیر مبہم رہنمائی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملتی ہے، جن کا مؤقف دوٹوک ہے کہ ان دہشت گردوں سے نہ کوئی بات کرنی ہے اور نہ ہی انہیں کوئی جگہ دینی ہے

    ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں، تمام صوبے اور تمام فرقے برابر ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں شام سے 2500 کے قریب غیر ملکی دہشتگرد افغانستان منتقل ہوئے ہیں اور وہ صرف افغانی نہیں اور قومیت کے دہشتگرد ہیں۔ ریاست ہوگی تو سیکیورٹی ہوگی اور سیکیورٹی ہوگی تو کاروبار اور ترقی ممکن ہوگی،دنیا نے معرکۂ حق میں دیکھا کہ پاکستانی عوام جب بنیانُ المرصوص بنتے ہیں تو دشمن بے نقاب ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں بعد میں پیش آنے والے 540 دہشت گردی کے واقعات نے واضح کر دیا کہ دہشت گردی کا گڑھ افغانستان ہے،سیاسی بات چیت حکومت نے کرنی ہے، ہم سیاسی جماعتوں سے بات چیت نہیں کرتے نہ ہم نے کہا ہے کہ ہم نے کسی سے بات چیت کرنی ہے،یہ ہندوستانی میڈیا پر آ کر کہہ رہے ہیں کہ 2026 میں بھارت اور افغانستان مل کر پاکستان پر حملہ کرینگے آ جائو تم دونوں کا شوق پورا کرینگے ٹی وی پر نہ بیٹھو، تم بھی ساتھ آؤ ویڈیو چلا کر بتائیں گے کہ تم دونوں کا کیا حشر کیا ،خیبر پختونخوا حکومت کے پاس کسی سوال کا کوئی جواب نہیں، ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا کرنا ہے؟ کیا نور ولی محسود کو صوبے کا وزیر اعلیٰ بنانا ہے، کیا اُس کی بیعت کر لینی ہے؟افغانستان میں حکومت بدلنے کا حق افغان عوام کے پاس ہے،

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان،دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز متحرک،چھ سے زائد دہشتگرد جہنم واصل

    خیبر پختونخوا،بلوچستان،دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز متحرک،چھ سے زائد دہشتگرد جہنم واصل

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں

    سیکیورٹی اور انٹیلی جنس حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک آڈیو ریکارڈنگ کا نوٹس لیا ہے جو کالعدم عسکریت پسند رہنما حافظ گل بہادر سے منسوب کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق اس آڈیو کی صداقت کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ یہ بھی واضح کیا گیا کہ اس نوعیت کا پروپیگنڈا مواد کالعدم تنظیمیں عوام کو گمراہ کرنے اور اپنے حامیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے معمول کے طور پر جاری کرتی رہتی ہیں۔

    حکام نے آڈیو میں کیے گئے دعوؤں کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم عسکری تنظیمیں اپنی قیادت، آپریشنل طاقت اور علاقائی اثر و رسوخ سے متعلق اکثر جھوٹے اور مبالغہ آمیز دعوے پھیلاتی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع نے زور دیا کہ وزیرستان اور ملحقہ علاقوں میں ریاست کی عمل داری مکمل طور پر قائم ہے، جہاں مسلسل انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے آپریشنز سے دہشت گرد نیٹ ورکس کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پاک فوج مل کر دہشت گردی کے خاتمے، باقی ماندہ ٹھکانوں کے خاتمے اور کسی بھی ممکنہ دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق ایسی آڈیو پیغامات کی تشہیر ایک منظم گمراہ کن مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد قومی سلامتی کی کوششوں کو کمزور کرنا ہے۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ کالعدم تنظیموں کے پروپیگنڈا مواد کو شیئر نہ کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات پر اعتماد کریں۔ آڈیو کی اصل اور اس کی ترسیل کے نیٹ ورک کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے دہشت گردی کے ہر شکل میں خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے یقین دلایا کہ دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جائے گا۔

    سی ٹی ڈی سندھ نے رئیس گوٹھ سے ایک خودکش بمبار کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار ملزم کا تعلق کالعدم دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کی مجید بریگیڈ سے ہے۔ سیکیورٹی فورسز مزید روابط سامنے لانے اور آئندہ دہشت گرد کارروائیوں کی روک تھام کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    قِلعہ جنگی، اعظم ورسک علاقہ، جنوبی وزیرستان، خیبر پختونخوا
    مقامی کمانڈنگ افسر نے قلعہ جنگی کے عمائدین سے ملاقات کی جس میں عوامی سہولیات اور سیکیورٹی سمیت علاقے کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران کمانڈنگ افسر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی موجودگی کا مقصد مقامی آبادی کو سہولیات فراہم کرنا اور علاقے کی مجموعی ترقی میں معاونت کرنا ہے۔ عمائدین نے سیکیورٹی فورسز کے کردار کو سراہا اور ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اس موقع پر بچوں کو موسمی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بنیادی ادویات بھی تقسیم کی گئیں۔ سیکیورٹی فورسز خطے میں استحکام اور ترقی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    پنالہ، ڈیرہ اسماعیل خان، خیبر پختونخوا
    پنالہ کے علاقے میں پرانے پنالہ پولیس اسٹیشن کے قریب شرپسند عناصر کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شہید ہو گیا۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر تفتیش شروع کر دی ہے اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ شہید اہلکار کی میت کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    پشاور میں کباڑ چنتے ہوئے دستی بم پھٹنے سے تین کم عمر بچے زخمی ہو گئے۔ زخمی بچوں کی عمریں 12 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔ انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ دھماکہ خیز مواد کیسے پھٹا۔

    حیات آباد پولیس نے ایک منظم گینگ کو گرفتار کیا ہے جو افغان شہریوں اور خواتین سے اسلحہ کے زور پر لوٹ مار میں ملوث تھا اور خود کو حساس اداروں کا اہلکار ظاہر کرتا تھا۔ کارروائی کے دوران تین ملزمان گرفتار کیے گئے۔ پولیس نے ان کے قبضے سے 16 لاکھ 10 ہزار پاکستانی روپے، 500 امریکی ڈالر، 1,300 درہم اور 28 ہزار افغانی کرنسی برآمد کی۔ تفتیش کے دوران ملزمان نے جرائم کا اعتراف کیا۔ پولیس مزید تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے۔

    سرائے درگہ کے علاقے میں کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے کالعدم دہشت گرد تنظیم فتنۃ الخوارج کے ایک سینئر کمانڈر کو ہلاک کر دیا۔ ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گرد کی شناخت محمد عرف معاویہ بدری کے نام سے ہوئی، جو افغان صوبہ پکتیکا کا رہائشی تھا اور خودکش بمباروں کی بھرتی و تربیت سے وابستہ تھا۔ سیکیورٹی فورسز علاقے میں مزید کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    وسطی کرم میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے قافلے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر فورسز نے بروقت کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں پانچ دہشت گرد مارے گئے جبکہ باقی فرار ہو گئے۔ واقعے میں کوئی اہلکار یا شہری شہید یا زخمی نہیں ہوا۔ بعد ازاں علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کیا گیا۔

    تیرہ وادی میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر کے حجرے کو دھماکے سے نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کے مطابق حملے میں صرف املاک کو نقصان پہنچا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے موقع پر پہنچ کر تحقیقات شروع کر دی ہیں اور سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    بنوں میں میر یان پولیس اسٹیشن کو کوآڈ کاپٹر کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کے مطابق دو دھماکہ خیز آلات تھانے کے باہر گرے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جبکہ تیسرا دھماکہ خیز آلہ ایک قریبی شہری مکان پر گرا اور پھٹ گیا۔ تاہم اس واقعے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    خیبر کے راجگل سیکٹر میں سرحد پار سے دہشت گردوں کی دراندازی کے بعد سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد افغانستان کے ضلع ننگرہار کے علاقے ڈبیلا، اسپین غر سے داخل ہوئے۔ آپریشن کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    لکی مروت میں دہشت گردوں نے پولیس اہلکاروں کے گھروں کو نشانہ بنایا اور دیواریں و دروازے توڑ دیے۔ دونوں اہلکار اس وقت شہر میں موجود تھے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

    ہرنائی کے علاقے زندہ پیر، 22 میل کے قریب سے پانچ نامعلوم لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ لیویز کے مطابق اطلاع ملنے پر فورسز نے موقع پر پہنچ کر لاشیں تحویل میں لے لیں اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔پنجگور کے علاقے چٹکان میں مرکزی مسجد کے قریب موٹر سائیکل میں نصب آئی ای ڈی دھماکے سے تین افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہو گئے، جن میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔ سیکیورٹی اور ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر کارروائی شروع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق صورتحال قابو میں ہے۔

  • جے شنکر نے آ‌کر کہا میں بھارتی وزیر خارجہ ہوں، ایاز صادق

    جے شنکر نے آ‌کر کہا میں بھارتی وزیر خارجہ ہوں، ایاز صادق

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں پارلیمانی امور، حالیہ دورۂ بنگلا دیش پر تبادلہ خیال کیا گیا، پی ٹی آئی سے مذاکرات اور اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق امور پر بھی گفتگو ہوئی۔ ایاز صادق نے وزیراعظم کو بھارتی وزیر خارجہ سے ملاقات سمیت دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    ایاز صادق نے کہا کہ بنگلادیش کا دورہ سفارتی لحاظ سے انتہائی کارآمد اور مثبت رہا۔ انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر سے ملاقات پر وزیراعظم کو اعتماد میں لیا۔انہوں نے بتایا کہ جے شنکر نے خود میری نشست پر آکر ملاقات کی، جے شنکر نے آکر اپنا تعارف کروایا کہ میں بھارتی وزیر خارجہ ہوں، بھارتی وزیر خارجہ نے مصافحہ کیا۔اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ میں نے بھی بھارتی وزیر خارجہ کا احوال دریافت کیا، ملاقات 6، 7 سکینڈ کی تھی۔

  • کیپٹن عصمد گلفام شہید مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ آبائی شہر لاہور میں سپردِ خاک

    کیپٹن عصمد گلفام شہید مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ آبائی شہر لاہور میں سپردِ خاک

    کیپٹن عصمد گلفام شہید مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ آبائی شہر لاہور میں سپردِ خاک کر دیئے گئے

    برزل ٹاپ پر ریسکیو آپریشن میں جام شہادت نوش کرنے والے کیپٹن عصمد گلفام شہید کی نماز جنازہ لاہور میں ادا کی گئی،جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) لاہور، آئی جی پنجاب پولیس، سینئر عسکری و سول افسران اور عوام کی بڑی تعداد نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی ،کیپٹن عصمد گلفام اُن افسروں میں شامل تھے جو وردی کو صرف نوکری نہیں بلکہ امانت اور ذمہ داری سمجھتے تھے،3 جنوری کی صبح دو بجے، شدید سردی اور جان لیوا موسم کے باوجود، کیپٹن عصمد گلفام اپنے ساتھیوں کے ہمراہ برف میں پھنسی سنو وہیکل کو ریسکیو کرنے میں مصروف تھے ،اچانک برفانی سلائیڈ کےباعث کیپٹن عصمد گلفام اور ان کے دو ساتھی شہید ہو گئے

    کیپٹن عصمد گلفام نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر یہ پیغام دیا کہ اس قوم کے محافظ ہر محاذ پر دفاعِ وطن کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں،شہید کیپٹن عصمد گلفام کی قربانی کو پوری قوم سلامِ عقیدت پیش کرتی ہے

  • چین پاکستان وزرائے خارجہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے 7ویں دور کا مشترکہ اعلامیہ جاری

    چین پاکستان وزرائے خارجہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے 7ویں دور کا مشترکہ اعلامیہ جاری

    چین پاکستان وزرائے خارجہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے 7ویں دور کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چینی وزیر خارجہ کی دعوت پر پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بیجنگ کا دورہ کیا، دونوں وزرائے خارجہ نے اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے 7ویں دور کی مشترکہ صدارت کی، فریقین نے دوطرفہ تعلقات اور تعاون کے مختلف شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جن میں اسٹریٹجک و سیاسی تعاون، دفاع، معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، ثقافتی روابط شامل ہیں۔

    اعلامیے کے مطابق فریقین میں باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی گفتگو ہوئی، فریقین کا اسٹریٹجک روابط مزید مضبوط بنانے، باہمی اعتماد کے فروغ پر اتفاق ہوا، مشترکہ مفادات کے تحفظ، سماجی و اقتصادی ترقی، امن و خوشحالی کے فروغ پر بھی اتفاق کیا گیا۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ 2026ء میں سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کی تقریبات کے آغاز کا اعلان کردیا گیا، مقصد پاک چین دوستی کو مزید مستحکم اور تعاون کے نئے شعبوں کو فروغ دینا ہے، چین پاکستان آہنی دوست، دور کے اسٹریٹجک کو آپریٹو پارٹنرز ہیں،اعلامیے کے مطابق پاک چین مضبوط تعلقات علاقائی امن، استحکام اور ترقی کیلئے انتہائی اہم، دونوں ممالک نے اعلیٰ سطح کے روابط کو تعلقات کی نمایاں خصوصیت قرار دیا۔

  • بھارتی جبروتشدد کے ہتھکنڈے کشمیری عوام کا عزم پست کرنے میں ناکام رہے،وزیراعظم

    بھارتی جبروتشدد کے ہتھکنڈے کشمیری عوام کا عزم پست کرنے میں ناکام رہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ 5 جنوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا۔

    کشمیر کے یوم حق خور ارادیت کے موقع پر اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 5 جنوری 1949 کویو این کمیشن برائے بھارت وپاکستان نے تاریخی قرارداد منظورکی،قرارداد میں طے پایاکہ ریاست جموں و کشمیرکے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری سے ہوگا، افسوس کہ بھارت کے جموں وکشمیر پر غیرقانونی قبضے کے باعث یہ عہد پورا نہ ہو سکا،مقبوضہ کشمیرکے عوام گزشتہ 8 دہائیوں سے بھارتی قابض افواج کے مظالم کا سامنا کر رہے ہیں، مگر بھارتی جبروتشدد کے ہتھکنڈے کشمیری عوام کے عزم کوپست کرنے میں ناکام رہے،بین الاقوامی برادری بھارت کے جابرانہ اقدامات کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے۔