Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • الیکشن کمیشن کا بیرسٹر گوہر کو چیئرمین تحریک انصاف تسلیم کرنے سے انکار

    الیکشن کمیشن کا بیرسٹر گوہر کو چیئرمین تحریک انصاف تسلیم کرنے سے انکار

    الیکشن کمیشن نے بیرسٹر گوہر کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

    ای سی پی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشنز کیس زیر التواء ہے، پی ٹی آئی نے خود ہی لاہور ہائیکورٹ سے اسٹے آرڈر لے رکھا ہے،بیرسٹر گوہر نے آزاد سینیٹرز کی پی ٹی آئی میں شمولیت کیلئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھا تھا جس پر ای سی پی نے جوابی خط لکھ دیا۔الیکشن کمیشن نے جوابی خط میں بیرسٹر گوہر پر قانونی پوزیشن واضح کردی، کہا کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشنز کیس زیر التواء ہے، پی ٹی آئی نے خود ہی لاہور ہائیکورٹ سے اسٹے آرڈر لے رکھا ہے، آپ کو اس وقت چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔الیکشن کمیشن نے خط میں مزید کہا کہ آپ کو آزاد سینیٹرز کو پارٹی میں شامل کرانے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں۔

  • پارلیمنٹ اجلاس میں عمران خان کی تصویر لہرانے والے رکن کی رکنیت معطلی کا فیصلہ

    پارلیمنٹ اجلاس میں عمران خان کی تصویر لہرانے والے رکن کی رکنیت معطلی کا فیصلہ

    پارلیمانی محاذ پر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی مبینہ ’’غیر سیاسی اور جارحانہ‘‘ حکمتِ عملی کا راستہ روکنے کے لیے بڑا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

    دونوں ایوانوں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں ایسے ارکان کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کارروائی میں خلل ڈالنے یا ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر کرنے کے مرتکب ہوں گے۔نجی ٹی وی کے مطابق پارلیمانی قیادت نے طے کیا ہے کہ اگر کوئی رکن ایوان میں ریاستی اداروں کیخلاف تقریر کرے، ڈائس کا گھیراؤ کرے یا بانی پی ٹی آئی کی تصاویر لہرائے تو اس کی رکنیت فوری طور پر معطل کر دی جائے گی۔ اس فیصلے کا مقصد ایوانوں کے تقدس اور پارلیمانی ضابطہ کار کو برقرار رکھنا قرار دیا جا رہا ہے۔

    پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی دونوں ایوانوں کا تقدس برقرار رکھنے کے لیے مکمل مربوط حکمتِ عملی پر متفق ہو چکے ہیں۔ اسی سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کے تحت قائم مقام چیئرمین سینیٹ پیر یا منگل کو پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر کو باضابطہ خط لکھیں گے۔خط میں سیدال خان کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ اپنی جماعت کے ارکان کو رولنگ پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا پابند بنائیں، تاکہ ایوان میں نظم و ضبط قائم رکھا جا سکے۔قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے کہا ہے کہ یہ رولنگ ’’سیاسی‘‘ نہیں بلکہ آئین اور قانون کا واضح تقاضہ ہے، اور ایوان کی کارروائی کو کسی بھی صورت انتشار یا بے نظمی کا شکار ہونے نہیں دیا جائے گا۔

  • شمالی وزیرستان،دہشتگردوں کا جنازے کے قافلے پر بزدلانہ حملہ، 4 سالہ بچہ شہید

    شمالی وزیرستان،دہشتگردوں کا جنازے کے قافلے پر بزدلانہ حملہ، 4 سالہ بچہ شہید

    شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں نے جنازے کے قافلے کو بھی نہ بخشا اور اندھا دھند فائرنگ کرکے معصوم انسانی جانوں کو نشانہ بنایا۔ حملے میں ایک 4 سالہ بچہ شہید جبکہ 4 خواتین زخمی ہو گئیں۔

    پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب خدی سے تعلق رکھنے والے گورنمنٹ کنٹریکٹر بادشاہ میر خان کا جسدِ خاکی اسلام آباد سے آبائی علاقے منتقل کیا جا رہا تھا۔ مرحوم اسلام آباد میں انتقال کر گئے تھے، جس کے بعد رشتہ داروں اور مقامی افراد پر مشتمل قافلہ میت لے کر اپنے علاقے کی طرف روانہ ہوا۔قافلہ جب بنوں کے علاقے بکا خیل پہنچا تو گھات لگائے دہشتگردوں نے اچانک ایمبولینس اور دیگر گاڑیوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ حملہ اتنا اچانک اور شدید تھا کہ قافلے میں شامل کسی شخص کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا۔

    فائرنگ کے نتیجے میں 4 سالہ بچہ موقع پر شہید،4 خواتین شدید زخمی ہو گئیں،زخمی خواتین کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد دہشتگردوں نے سفاکی کی انتہا کرتے ہوئے ایمبولینس کو آگ بھی لگا دی، جس کے باعث گاڑی مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئی۔

    واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرکے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے، جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔مقامی لوگوں نے جنازے کے قافلے پر حملے کو انتہائی بزدلانہ اور انسانیت سوز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معصوم بچے کی شہادت اور خواتین کے زخمی ہونے سے پورا علاقہ غم و غصے میں ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ دہشتگردوں کو جلد از جلد گرفتار کرکے سخت ترین سزا دی جائے۔

  • خیبر پختونخوا ،سیکورٹی فورسز کی کاروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ 9 دہشتگردجہنم واصل

    خیبر پختونخوا ،سیکورٹی فورسز کی کاروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ 9 دہشتگردجہنم واصل

    سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں 2 کارروائیاں کرتے ہوئے ہوئے بھارتی حمایت یافتہ 9 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ضلع ٹانک میں خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیا اور فتنۃ الخوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، ٹانک میں شدید فائرنگ کے تبادلے میں7 خوارج مارے گئے، کیورٹی فورسز نے لکی مروت میں بھی خوارج کے خلاف خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیا، لکی مروت میں فائرنگ کے تبادلے میں 2خوارج ہلاک ہوئے، مارے گئے بھارتی حمایت یافتہ خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، مارے گئے خوارج دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے،دہشتگردوں کے نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے متعلقہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں، یہ آپریشن ملک سے دہشتگردی کے ناسور کو ختم کرنے تک جاری رہیں گے۔

  • چمن بارڈر  ،افغان طا لبان کی  بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کی زبردست جوابی کارروائی

    چمن بارڈر ،افغان طا لبان کی بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کی زبردست جوابی کارروائی

    افغان طالبان کی جانب سے چمن سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ کی گئی ہے، جو ایک لاپرواہ اقدام ہے اور سرحدی استحکام اور علاقائی امن کو نقصان پہنچاتا ہے۔

    افغان جانب سے خفیہ سرنگ کھود کر بارودی مواد نصب کیا گیا تھا۔پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ٹنل کا سراغ لگا کر اسے قبضے میں لے لیا، سیکیورٹی فورسز کا علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن کیا گیا، پاکستانی فوج نے افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کا ذمہ داری کے ساتھ جواب دیا، اس بات کو تقویت دیتے ہوئے کہ ہماری علاقائی سالمیت کی کسی بھی خلاف ورزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ چمن سیکٹر میں ہونے والا یہ تبادلہ ایک بار پھر اس ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ کابل غیر نظم و ضبط کے شکار سرحدی عناصر کو قابو میں رکھے، جن کے اقدامات خود افغانستان کی بین الاقوامی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں۔ پاکستان کا ردِعمل متناسب، سوچا سمجھا اور امن کی بحالی کے لیے تھا جو جارحیت کے باوجود پیشہ ورانہ طرزِعمل کا مظاہرہ ہے۔ سرحدی انتظام کے طریقہ کار موجود ہیں؛ افغان طالبان فورسز کی یکطرفہ خلاف ورزیاں اعتماد کو مجروح کرتی ہیں اور سرحد کے دونوں جانب بسنے والی عام کمیونٹی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

    پاکستان پُرامن بقائے باہمی کے لیے پُرعزم ہے، لیکن امن یکطرفہ نہیں ہو سکتا۔ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے طاقت کے استعمال کی کوششیں بارہا ناکام ہوئی ہیں اور آئندہ بھی ناکام ہوں گی، چمن میں دیا گیا جواب اس پیغام کی واضح توثیق کرتا ہے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز مکمل طور پر چوکس ہیں۔ کسی بھی مزید جارحیت کا اس سے بھی زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔ اشتعال انگیزی کی ذمہ داری صرف اُن پر عائد ہوتی ہے جو بلا اشتعال فائرنگ کا آغاز کرتے ہیں۔

  • فیصلہ ہو گیا،پاگل کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر کی دھواں دھار پریس کانفرنس

    فیصلہ ہو گیا،پاگل کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر کی دھواں دھار پریس کانفرنس

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے آج بڑی دھواں دھار پریس کانفرنس کی ہے،لگتا ہے بڑے غصے میں کی ہے، انکے جذبات امڈ کر آ رہے تھے ،ہونا بھی ایسا ہی چاہئے،کافی لوگ اس پر سوال کر رہے تھے، فوج کا کام امپلیمنٹ کرنا ہوتا ہے اس پریس کانفرنس کو اسی تناظر میں لیا جائے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فوج کا کام رولز،ریگولیشن کو امپلیمنٹ کرنا ہوتا ہے، فوج سیاسی جملے نہیں بول سکتی انکو دوٹوک بات کرنی ہوتی ہے جو بھی انکا مؤقف ہوتا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر نے دو تین باتیں بڑی واضح بتا دیں، لاقانونیت بالکل نہیں چلے گی، جس نے اس ملک کو مذاق سمجھا ہوا جمہوریت یا صحافت کے نام پر،اسکی وہ کاروائی نہیں چلے گی، تیسرا دہشتگردوں کے لئے کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیں، دہشتگردی صرف بندوق اٹھانا نہیں بلکہ زبان ،قلم،مائیک سے بھی پاکستان، ریاست کو کمزور کرنا یہ بھی دہشتگردی ہے،

    مبشر لقمان کا مزیدکہنا تھا کہ بہت سارے ادارے حکومت کے ماتحت ہیں ان میں سے فوج ایک ہے، فوج سب سے اہم ادارہ ہے اور بھی ادارے ہیں،ایف آئی اے، آئی بی بھی اسٹیبلشمنٹ ہے،کچھ چیزیں جو نظر آئی ہیں وہ یہ ہیں کہ آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کی قلابازیاں چلیں گی،انڈیا کو انٹرویو دینے والے یہ کون لوگ ہیں،ڈکلیئرڈ دشمنوں کا جب بیانیہ مضبوط کرتے ہیں تو آپ ریاست پاکستان کے خلاف جرم کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں،اس پر کوئی معافی نہیں ہوتی، بلکہ معافی کو ریاست کی کمزوری سمجھوں گا، ایسے لوگ جو باہر بیٹھے ہوئے ہیں اور پاکستان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں انکا بھی سد باب ہونا چاہئے،ہو سکتا ہے کسی نے فارن پاسپورٹ لیا ہو لیکن کافیوں کے پاس نہیں انکا صرف شناختی کارڈ منسوخ کرنا ہے،پھر جو دوسرے ہیں انکے ریڈ وارنٹ نکال سکتے ہیں، جو جرائم کرتے ہیں لوگ انکے لئے وہاں بھی جگہ تنگ ہونا شروع ہوجاتی ہے،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک پاگل شخص جس کو پہلے نیم پاگل کہتے تھے آج ڈی جی آئی ایس پی آر نے اسے پاگل کہہ دیا میں اتفاق کرتا ہوں،پاگل تو ہے وہ، پاگل اسلئے نہیں کہ ذہنی توازن اسکا خراب ہے،پاگل اسلئے کہ وہ پاکستانی ہوتے ہوئے پاکستان کے خلاف ایجنڈا چلا رہا ہے، میں آج اپنی ٹیم کو بتا رہا تھا سیاسی جماعت بناتے ہں اور اسرائیل و انڈیا سے فنڈز آنا شروع ہو جائیں تو اس کا کیا مطلب ہے، فنڈ ملے گا تو کچھ واپسی بھی ہو گی، انڈیا و اسرائیل فنڈ دیں گے تو توڑ پھوڑ، ملک کی جڑیں کمزور کرنا ہی انکا ہدف ہونا ہے کیونکہ وہ ڈکلیئرڈ دشمن ہے، اسکو یہ احساس نہیں کہ یہ دشمن ہے،اور یہ خود آج میر جعفر،میر صادق بنا ہوا ہے.اسکی کرپشن کی داستانیں بھی سب کو پتہ ہیں.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب سوال یہ ہے آج اگر فرض کریں اس آدمی کے ذہن میں خیال آتا ہے کہ میں نے سمت کو درست کرنا ہے، اپنے سپورٹر،فالورز کے لیے کچھ اچھا کرنا ہے تو اسکے لئے کیا آپشن ہیں، آج بھی اسکے پاس راستے ہیں، وہ تمام جدوجہد کو ملی ٹینسی سے نکال کر سیاسی جدوجہد میں لائے، قومی اسمبلی میں اکثریت تھی، حکومت اڑا دی، اسی طرح پنجاب اور خیبر پختونخوا پھر کشمیر میں، آپ پھر حکومت میں آتے آئے کیوں ہیں، الیکشن کیوں لڑتے ہیں، اسکا مطلب ہے کہ آپ ملک میں جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں،آپکا مقصد کچھ اور ہے وہی ڈونر اور فنڈنگ دینے والے جو ..وہی کریں گے،پی ٹی آئی کے پاس دو تین راستے ہیں مولانا فضل الرحمان سے ہاتھ ملا لیں یا بلاول سے ،اچکزئی وغیرہ پی ٹی آئی کو کچھ نہیں دے سکتے،انکی کوئی ویلیو نہیں،لیکن جے یو آئی، پیپلز پارٹی یہ کوئی نہ کوئی راستہ نکال سکتے ہیں.

  • خیبر پختونخوا ،غیر قانونی افغان مہاجرین  کے کیمپ خالی نہ ہوئے

    خیبر پختونخوا ،غیر قانونی افغان مہاجرین کے کیمپ خالی نہ ہوئے

    خیبر پختونخوا (کے پی) میں غیر قانونی طور پر مقیم لاکھوں غیر دستاویزی افغان باشندوں کی موجودگی اب محض دہشت گردی ہی نہیں بلکہ سنگین معاشی و سماجی چیلنجز بھی پیدا کر رہی ہے۔

    غیر قانونی افغان مہاجرین کی بڑی تعداد نے صوبے کے وسائل پر شدید بوجھ ڈال دیا ہے۔ ان کی مسلسل موجودگی کے پی کے وسائل، سیکیورٹی نظام، معاشرتی ڈھانچے اور عوامی خدمات کے انفراسٹرکچر کو براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔بین الاقوامی جریدے یوریشیا ریویو کے مطابق پاکستان میں تقریباً 17 لاکھ غیر دستاویزی اور 13 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین رہائش، صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں۔ایس ڈی پی آئی کی تحقیق کے مطابق افغان مہاجرین کی آمد کے بعد کے پی کی 30 فیصد آبادی نے تعلیمی سہولیات تک رسائی میں کمی کی شکایت کی، جبکہ 58 فیصد نے صحت کی خدمات میں کمی کو نمایاں مسئلہ قرار دیا۔

    ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے مطابق اضافی مہاجر بوجھ نے خیبر پختونخوا میں بے روزگاری بڑھا کر صوبائی معیشت کو دباؤ میں دے دیا ہے۔کے پی میں متعدد افغان تاجروں نے ٹیکس ادا کیے بغیر خطیر دولت جمع کی، جس سے پاکستان کو بھاری ریونیو نقصان ہوا۔مجموعی طور پر افغان مہاجرین کی آمد نے پاکستان کی قلیل مدتی اور طویل مدتی معاشی ترقی کو متاثر کیا۔صوبے میں معاشی سرگرمیوں میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔قدرتی وسائل کے حد سے زیادہ استعمال نے ماحولیات پر سنگین اثرات چھوڑے۔

    وفاقی حکومت نے اپنے مرحلہ وار منصوبے کے تیسرے مرحلے کے تحت ملک بھر میں 54 افغان مہاجر کیمپ ختم کر دیے ہیں۔ان میں سے 43 کیمپ خیبر پختونخوا، 10 بلوچستان اور ایک پنجاب میں واقع تھا۔تاہم، دیگر صوبوں کی نسبت کے پی کی صورتحال کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔وفاقی حکومت کے غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کے احکامات کے باوجود کے پی کی صوبائی حکومت اُن پر عملدرآمد سے گریزاں ہے۔کے پی میں ختم کیے گئے 43 افغان کیمپوں میں سے صرف دو کو مکمل طور پر خالی کرایا گیا ہے۔نوشہرہ، پشاور، خیبر، کوہاٹ، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے کیمپ اب بھی بجلی، پانی، صحت اور دیگر سہولیات سے استفادہ کر رہے ہیں۔اس کے برعکس پنجاب نے میانوالی میں اپنا واحد افغان کیمپ مکمل طور پر خالی کرا لیا۔بلوچستان نے اپنے 10 میں سے تمام کیمپوں میں واضح پیش رفت دکھائی اور 88 ہزار سے زائد افغان مہاجرین کے حوالے سے مؤثر کارروائی کی۔

  • ایک شخص سمجھتا ہے کہ وہ نہیں تو کچھ بھی نہیں، وہ نیشنل سیکیورٹی کیلئے تھریٹ بن چکا،ترجمان پاک فوج

    ایک شخص سمجھتا ہے کہ وہ نہیں تو کچھ بھی نہیں، وہ نیشنل سیکیورٹی کیلئے تھریٹ بن چکا،ترجمان پاک فوج

    ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی)آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورس کی تعیناتی پر سب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز کی بہت عرصے سے ضرورت تھی،چیف آف ڈیفنس کے ہیڈکوراٹر درجنوں ممالک میں موجود ہیں، یہ نیشنل سیکیورٹی کے لئے بڑا اہم دن ہے، پارلیمنٹ کی ہدایات پر اس کا آغاز ہوا ہے،پریس کانفرنس کا مقصد اندرونی طور پر نیشنل سیکورٹی تھریٹ ہے۔ایک شخص سمجھتا ہے کہ میں نہیں تو کچھ نہیں ،کسی کواجازت نہیں دی جاسکتی کہ عوام اورافواج پاکستان کےدرمیان کوئی دارڑ پیدکریں ،سیاست ختم ، اس کا بیانیہ ملکی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا ،ہم کسی کا ایجنڈا لیکر نہیں چلتے ، ہمارے اندر ہر رنگ، نسل، مذہب، مسلک، سیاسی سوچ کے لوگ ہوتے ہیں مگر یونیفارم پہن کر وہ سب ایک طرف رکھ دیتے ہیں، افواج پاکستان اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے،

    اپنی فوج پر حملہ کرنے والا کیاکسی اور فوج کے لیے جگہ بنانا چاہتا ہے،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت ایک سنگین اندرونی خطرے کا سامنا کر رہا ہے، جس کی جڑ ایک ایسے شخص کی خود ساختہ اور غیر حقیقی سوچ میں ہے جو شدید فرسٹریشن کے باعث خود کو ریاست سے بالاتر سمجھنے لگا ہے۔ایک شخص اپنی ذات کا قیدی، جو یہ سمجھتا ہے کہ میں نہیں تو کچھ نہیں۔ اب اس کی سیاست ختم ہوچکی اس کا بیانیہ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ پاک فوج لسانیت یا کسی سوچ کی نمائندگی نہیں کرتی۔اپنی فوج پر حملہ کرنے والا کیاکسی اور فوج کے لیے جگہ بنانا چاہتا ہے،جو ایجنڈا بنایا جا رہا ہے یہ ایجنڈا دہلی کا ہی ہو سکتا ہے، یہ بیانیہ ان کی جماعت کا اکاونٹ چلاتا ہے پھر اس narcist کا اپنا اکاونٹ چلاتا ہے اس کے بعد اسے بھارتی میڈیا اٹھاتا ہے یہ سوشل میڈیا پر ایک مکمل کوآرڈینیشن سے چلتا ہے،اب مزید گنجائش نہیں قوم نے فیصلہ کرنا ہے

    وہ کہتا ہے این ڈی یو جانے والے غدار ہیں، ارے تم ہو کون؟،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ وہ کہتا ہے این ڈی یو جانے والے غدار ہیں، ارے تم ہو کون؟ تم خود کو سمجھتے کیا ہو؟؟ تم نے کہاں سے پڑھا؟ تمھاری فرسٹریشن کیا ہے؟ اس کی زہنی حالت 9 مئی کو دیکھی نہیں اپنی فوج پر حملہ کرایا،کون سا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ آپ ایک مجرم کو جا کر ملیں اور وہ افواج پاکستان کے خلاف بیانیہ بنائے، بیرون ملک سے کئے جانے والے ایجنڈے کے پیچھے ذہنی مریض ماسٹر مائنڈ ہے،ہم اجازت نہیں دیں گے کہ آپ پاکستان کی عوام کو آرمڈ فوسز کیخلاف بھڑکائیں،عمران خان کی جمہوریت کی تعریف ہے کہ اگر میں حکومت میں ہوں توملک میں جمہوریت ہے اور نہیں توملک میں آمریت ہے،شیخ مجیب الرحمن جانا مانا غدار ہے وہ(عمران خان) اس کے افکار سے متاثر ہے، آپ کے پاس کے پی کی حکومت ہے اس کی گورنس پر بات کیوں نہیں کرتے سیاست پر بات کیوں نہیں کرتے ہر بات میں ہر چیز میں فوج کو شامل کرتے ہیں،

    جو فوج پر حملہ کروا سکتا ہے، شہیدوں کی یادگاروں کو آگ لگوا سکتا، پاکستان کے فخر چاغی کی نشانی کو آگ لگوا سکتا ہے اُسے غدار کہنے میں کیا مسئلہ ہے؟ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی اپنی ذات اور اپنی نرگسی سوچ کے لیے فوج اور فوج کے سربراہان پر حملہ کرتا ہے تو پھر ہم برداشت نہیں کریں گے، سوشل میڈیا پر ترتیب اور تواتر کے ساتھ مسلح افواج کی ہر ز ہ سرائی کی جاتی ہے، بھارت اور افغانستان میں موجود ٹرولنگ کاؤ نٹ منٹوں ، گھنٹوں میں بیانیے کو وائرل کرتے ہیں.بھارتی مخصوص ٹولے کا سب سے بڑا سہولت کار ہے،بھارتی میڈیا پر نورین نیازی ملک و قوم کیخلاف انٹرویوو دیتی ہیں،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی پریس کانفرنس بھی بھارتی میڈیا پر دکھائی جاتی ہے،بھارتی میڈیا پاکستان مسلح افواج کیخلاف پی ٹی آئی کی زبان بنا ہوا ہے، یہ افواج پاکستان کیخلاف بیانیے پر بہت زیادہ پیسے خرچ کر ر ہے ہیں،خوارجین کے سہولتکار افغان میڈیا بھی ان کے بیانیے پر ٹرولنگ کررہا ہے،ایک ذہنی مریض افواج پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کر رہا ہے، ذہنی مریض نے دو دن پہلے ٹویٹ کیا،ذہنی مریض کے ٹویٹ کو بھارتی اور افغان ٹرولرز نے منٹوں میں وائرل کیا، تم کون ہو جو غداری کے سرٹیفیکٹ بانٹ رہے ہو؟9مئی کو جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والے بھی یہی لوگ تھے، شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کرنے والے بھی یہی لوگ تھے، پاک فضائیہ کے جنگ میں جیتے اثاثوں کو آگ بھی انہی شرپسندوں نے لگائی، یہ غداز شیخ مجیب الرحمان سے بھی متاثر ہے.جو اپنی فوج پر حملہ کروا سکتا ہے، شہیدوں کی یادگاروں کو آگ لگوا سکتا ہے، پاکستان کے فخر چاغی کی نشانی کو آگ لگوا سکتا ہے اُسے غدار کہنے میں کیا مسئلہ ہے؟آئین پاکستان میں آزادی اظہار رائے کی اجازت ہے لیکن دفاع پاکستان کے خلاف اس کی اجازت نہیں،کتنی خوشی سے انڈین میڈیا آپ کے آرمی چیف کے خلاف بیانیہ چلا رہا ہے۔ میڈیا کا ایک ایک منٹ قیمتی ہوتا ہے اور وہ اس لیے یہ چلا رہے ہیں کیونکہ یہ شخص پاکستان کے آرمی چیف کے خلاف بولتا ہے اور عوام اور فوج کے درمیان دراڑ ڈالنے کی بات کرتا ہے،انہوں نے تو کہا تھا کہ ملک ڈیفالٹ کرجائے گا تو کیا ملک ڈیفالٹ کرگیا؟ انہوں نے تو کہا تھا کہ یہ فوج لڑ نہیں سکتی،پھر آپ نے دیکھا کہ لڑی،اسی لیے جب کتا بھونکتا ہے تو توجہ نہیں دینی چاہیئے.

    یہ اقتدار میں ہو تو ملک میں جمہوریت ورنہ آمریت،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ جو دشمن بچوں اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنائے، اُس سے مذاکرات نہیں بلکہ ریاستی رِٹ کے مطابق نمٹا جاتا ہے۔وانا کیڈٹ کالج پر حملہ صرف دہشتگردی نہیں، قوم کے مستقبل پر وار تھا۔ ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ امن کمزوری سے نہیں، عمل سے قائم ہوتا ہے۔فوج ریاست نہیں، ریاست حکومت اور اس کے ادارے ہوتے ہیں،فوج ریاست کا ایک حصہ ہے،کوئی سمجھتا ہے کہ اس کی ذات اور سیاست اس ملک کی عوام سے بڑی ہے تو غلط سمجھتا ہے،وہ کہتا ہے کہ وہ فوجی قیادت جس نے بنیان المرصوص میں پاکستان کو فتح دلائی اسکے خلاف بات کریں یہ بیانیہ صرف دہلی سے ہی آسکتا ہے،پہلے بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ ترسیلات زر کو بند کیا جائے، سول نافرمانی کی کال اور آئی ایم ایف کو خط لکھا جاتا ہے، بنیان مرصوص میں دشمن کو شکست دینے والی فوجی قیادت کو نشانہ بنانے کا کہا جاتا ہے، دو سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے جھوٹ پھیلایا جاتا ہے، ان دو سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو پھر بھارتی چینلز اٹھاتے ہیں،تمام بے نامی اکاؤنٹس ملک سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں جو بیانیہ پھیلاتے ہیں، ذہنی مریض سب سے پہلے اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے بیانیہ بناتا ہے، پھر بے نامی اکاؤنٹس اس بیانیے کو آگے پھیلاتے ہیں، ذہنی مریض نے 2 روز پہلے اپنے اکاؤنٹ سے جھوٹ کو پھیلایا، ان کا بیانیہ بھارتی میڈیا اٹھارہا ہے، "را” کے اکاؤنٹس اسی ٹویٹ اور بیانیے کو چلارہے ہیں،خارجیوں کا سہولت کار افغانی میڈیا بھی اس بیانیے کو پھیلاتے ہیں، اس کے بعد انٹرنیشنل میڈیا بھی اس بیانیے کو اٹھالیتا ہے، اس شخص کے اندر کیا فرسٹریشن ہے؟، تم اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہو، اس شخص نے جی ایچ کیو پر حملہ کروایا تھا، فوجی افسران کی تصویر کو لے کر وی لاگ بنائے جارہے ہیں، یہ کیسی آزادی اظہار رائے ہے، یہ اقتدار میں ہو تو ملک میں جمہوریت ورنہ آمریت، دہشت گرد بچوں کو شہید کررہے ہیں یہ کہتا ہے ان سے بات کرو، یہ تو کہتا تھا کہ دہشت گردوں کا پشاور میں دفتر کھولا جائے، فوج کی ایک ایک خبر کو ڈسکس کیا جارہا ہے، فوج کے ساتھ ورکشاپ میں بیٹھنے والے کو غدار کہا گیا۔

    محمد مالک نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی ریاست مخالف ہے تو کیا آپ حکومت سے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا بھی کہیں گے؟ جس کے جواب میں ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ یہ ریاست کا کام ہے اور وہ بہت ذہین ہیں، ہم اپنا موقف دیتے ہیں، آپ اُن سے پوچھیں یہ فیصلہ اُنہوں نے کرنا ہے

    یہ فوج کے اوپر ہر چیز ڈالتے ہیں تاکہ اپنی گورننس کی طرف کوئی بات نہ کریں،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ تم فوج میں دراڑ ڈالنا چاہتے ہو، تمہارا باپ بھی یہ دراڑ نہیں ڈال سکتا۔خیبرپختونخواہ میں گورنر راج لگانے کا فیصلہ حکومت کا ہے، ہمارا نہیں،ہمارے چیف آف آرمی اسٹاف کے حکم پر سپاہی اپنی جان دیتا ہے، جب بھارت نے حملہ کیا اور یہ ذہنی مریض ہوتا تو کشکول لے کر بات چیت کرنے چل پڑتا.ہم کہیں نہیں جارہے،فوج ہمیشہ یہاں رہے گی، 6اور 7مئی کوبھارت نے ہماری مساجد،بچوں کو شہید کیا،
    یہ ذہنی مریض ہوتا تو یہ کشکول لیکر بات چیت کیلئے چلتا،یہ کہتا ہے کہ بات چیت کریں، آپریشن نہ کریں،بات چیت کا بخار ان کو بہت پہلے سے تھا،کون کہتا تھا کہ ٹی ٹی پی کا پشاور میں دفتر کھولنا ہے؟یہ تو خوارج کا پشاور میں دفتر کھولنا چاہتے تھے،یہ آج بھی لوگوں کو آپریشن کیخلاف ہونے کیلئے کہتے ہیں،بھیک سے سیکیورٹی نہیں ملتی،اگر ملتی تو غزہ اور لیبیا کا یہ حال نہ ہوتا،کسی کی سیاست اور ذات کسی صورت ریاست سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی، اسمگلنگ کے ذریعے دہشتگرد اور دھماکا خیز مواد آتے ہیں، خارجی سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائی کرتے ہیں،یہ بیانیہ بنانے کے ماہر ہیں،ہم تو روز روشن کی طرح عیاں ہیں کہ کیا ہور ہا ، کیوں ہورہا اور کیوں کروایا جارہا ؟ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ بیانیے کو چلایا جائے اور سہولتکاری کی جائے،اگر کوئی سمجھتا ہے اس کی ذات اور سیاست ریاست سے بڑی ہے تو غلط سمجھتے ہیں،پاکستان کی فوج کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی،ہم نے اس ریاست کےتحفظ کی قسم کھائی ہے، ہم کہیں نہیں جارہے کیوں کہ ہم حق پر ہیں اور حق پر ہی رہیں گے،اندر بیٹھا ہوا ذہنی مریض اور باقی جتنے ہیں وہ فوج کے بارے میں بات کرتے ہیں،وہ اصل مسائل پر بات نہیں کرتے،ان کواس چیز میں کوئی پریشانی نہیں کہ سچ بول رہے ہیں یا جھوٹ،ان کے کاغذوں میں وائس چیف آف آرمی اسٹاف لگ چکا تھا ،ابھی ان سے پوچھیں نا کہ وائس چیف آف آرمی اسٹاف کیوں نہیں لگا،ان کے خیال میں توسی ڈی ایف کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی نہیں ہونا تھا،ان کی پوری سیاست فوج کے ارد گر گھومتی ہے،یہ فوج کے بارے میں بات کرتے ہیں ،الزامات لگاتے ہیں،یہ فوج کے اوپر ہر چیز ڈالتے ہیں تاکہ اپنی گورننس کی طرف کوئی بات نہ کریں،پاکستان کے عوام بہت باشعور ہیں ،

  • فیلڈ مارشل کی چیف آف ڈیفنس تعیناتی،وزارت دفاع نے نوٹفکیشن جاری کر دیا

    فیلڈ مارشل کی چیف آف ڈیفنس تعیناتی،وزارت دفاع نے نوٹفکیشن جاری کر دیا

    وزارت دفاع نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    گزشتہ روز صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم کی سفارش پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا،اب صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت دفاع نے بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا،اعلامیے کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تقرری 5 سال کے لیے ہوگی۔وزارت دفاع نے ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کی بطور سربراہ پاک فضائیہ مدت میں2 سال کی توسیع کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا،صدر مملکت نے ائیرچیف مارشل ظہیر احمد سدھو کی مدت ملازمت میں بھی 2 سال کی توسیع کی منظوری دی تھی، اعلامیے کے مطابق ائیر چیف کی توسیع شدہ مدت ملازمت 19مارچ2026 سے شروع ہوگی۔

  • سید عاصم منیر کو پاکستان کا پہلا سی ڈی ایف تعینات ہونے پروزیراعظم کی مبارکباد

    سید عاصم منیر کو پاکستان کا پہلا سی ڈی ایف تعینات ہونے پروزیراعظم کی مبارکباد

    وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پاکستان کا پہلا سی ڈی ایف تعینات ہونے پر انھیں مبارکباد دی ہے۔

    شہبازشریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کےلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی عصری، جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے، فیلڈ مارشل کی قیادت میں بہادرافواج نے دشمن کو عبرتناک شکست دی۔وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں معرکہ حق میں شاندار کامیابی سے پاکستان کا نام روشن ہوا، عزت ملی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے ایئرچیف ظہیر احمد بابر سدھو کو بھی مدت ملازمت میں 2 سال کی توسیع پر مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا،وزیراعظم نے کہا کہ ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ نے معرکہ حق میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، پاک فضائیہ نے دشمن کے جنگی ہوائی جہاز تباہ کیے اور دشمن پر اپنی دھاک بٹھائی، پاکستان کے دفاع، ترقی و خوشحالی کیلئے تمام ادارے مل کر کام کریں گے، ملک کے دفاع کو مل کر ناقابل تسخیر بنائیں گے۔

    صدر مملکت کا نوٹفکیشن آرڈر بڑا عجیب،کیا یہ اصلی یا دوسرا بھی جعلی،مبشر لقمان کے تلخ سوال

    جنرل عاصم منیر کی تقرری ملکی سلامتی کے تقاضوں کے عین مطابق ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان

    دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے چیف آف آرمی اسٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدہ پر تعیناتی پر مبارکباد دی ہے، اسپیکر قومی اسمبلی نےفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی خوش آئند ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا مظہر ہے، بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نہایت جراتمندانہ فیصلے کیے، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کمان میں پاک افواج نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، قوم کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرات و بہادری پر فخر ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا، چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر کی قیادت میں بری، بحری اور فضائی افواج کے مابین ہم آہنگی مزید بہتر ہوگی، پاکستان کی مسلح افواج نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے، چیف آف ڈیفنس فورسز کی قیادت میں مسلح افواج نے دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے مؤثر کارروائیاں کیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی ملک کے لیے نیک شگون ثابت ہوگی،

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نےائیر چیف ظہیر بابر سدھو کی مدت ملازمت میں توسیع پر انہیں بھی مبارکباددی اور کہا کہ ائیر چیف ظہیر بابر سدھو کی سربراہی میں پاک فضائیہ نے بھارتی جارحیت کا دنداں شکن جواب دیا،دنیا پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی معترف ہے،