Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • صدر مملکت کا نوٹفکیشن آرڈر بڑا عجیب،کیا یہ اصلی یا دوسرا بھی جعلی،مبشر لقمان کے تلخ سوال

    صدر مملکت کا نوٹفکیشن آرڈر بڑا عجیب،کیا یہ اصلی یا دوسرا بھی جعلی،مبشر لقمان کے تلخ سوال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی واینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے پروگرام میں آج جاری ہونے والے نوٹیفکیشنز کے حوالہ سے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں،بنا تاریخ کے نوٹفکیشن ملنے پر مبشر لقمان وزیراعظم و صدارتی سیکرٹریٹ کے افسران پر برس پڑے،وزیر اطلاعات عطاتارڑ سے جواب مانگ لیا.

    ان خیالات کا اظہار مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل مبشر لقمان آفیشل پر ایک وی لاگ میں کیا، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بڑا ہی عجیب لگ رہا ہے مجھے یہ پروگرام کرتے ہوئے، یہ چھوٹا سا پروگرام ہے لیکن ٹاپ بریکنگ لے کر آ رہا ہوں یہ اس نوٹفکیشن کے مطابق ہے جس پر ہم سب نے مبارکباد دی، ٹی وی پر آ کر بھی مبارکباددی کہ یہ پاکستان کے لئے بہت اچھا ہے لیکن مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہماری اشرافیہ نالائق ہے یا چالاک ہے،میری سمجھ سے بالاتر ہے، یہ نوٹفکیشن کیا ہے میں اس کو دیکھ رہا ہوں تو لگتا ہے کہ یہ نوٹفکیشن غلط ہے، آپ مجھے بتائیں کہ یہ نوٹفکیشن صحیح ہے یا پہلے کی طرح غلط ہے، جس طرح اعزاز سید نے خبر دی تو بعد میں کہا گیا کہ یہ فیک ہے، بحرحال اس کے بعد نوٹفکیشن آ گیا،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میری چڑیل نے کہا کہ نوٹفکیشن دیکھا جس پر میں نے کہا میں نے کیا دیکھنا جنہوں نے دیکھنا ہے وہ دیکھیں، محسن نقوی، فیصل واوڈا خوش ہوں گے اور لوگ بھی خوش ہوں گے،چڑیل کے دوبارہ کہنے پر میں نے پھر نوٹفکیشن دیکھا ،نوٹفکیشن بڑا سادہ ہے،سات لائنز ہیں ٹوٹل،اس موقع پر مبشر لقمان نے نوٹفکیشن پڑھ کر سنایا.آخری لائن میں مہینہ کے ساتھ تاریخ نہیں لکھی گئی جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دسمبر 2025 ہے لیکن تاریخ کون سی؟ تاریخ نہیں لکھی گئی، اب اس پر بحث ہو گی کہ کونسی تاریخ ہے آج کی ہی یا پہلے کی،یا کب کی، دوسرا نوٹفکیشن ہے ایئر چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا،اس میں بھی تاریخ نہیں لکھی گئی،یہ کس قسم کا نوٹفکیشن ہے، یہ مجھے واٹس ایپ پر سارے ملے، ہو سکتا ہے کسی نے مجھے غلط بھیج دیا ہو تاہم میری درخواست ہے عطا تارڑ سے کیونکہ وہ وزیر اطلاعات ہیں کہ مجھے بتا دیجیے گا کہ اس پر تاریخ ہے ہی یا نہیں یا میرے پاس جو ہے وہ غلط ہے، اگر اس پر تاریخ نہیں ہے تو اسکی لیگل ویلیو کیا ہے،یہ فوری نافذ ہو گا یا پھر دوبارہ تاریخ لکھی جائے گی اور صدر کے دستخط ہوں گے،یا دوبارہ سے نیا نوٹفکیشن ہونا ہے، یہ کس چکر میں ہمیں ڈال دیا مجھے یاد ہے جب جنرل باجوہ کا نوٹفکیشن ہونا تھا اسوقت بہت چکر پڑے تھے،آصف سعید کھوسہ نے بھی سپریم کورٹ بلا لیا تھا،پھر نوٹفکیشن لکھ کر دیا گیا اور پھر آیا،میرے خیال سے اب دوبارہ یہ نوٹفکیشن ایک لائن کے انکو لکھ کر بھیجنے پڑیں گے پھر دستخط ہوں گے،کیونکہ خود سے ہمارے وزیراعظم ہاؤس میں پتہ نہیں کس کی ذمہ داری ہے کیونکہ میں نے وزیراعظم سیکرٹریٹ یا صدارتی سیکرٹریٹ میں کام نہیں کیا، اب پتہ نہیں کس کی غلطی ہے لامنسٹری کی غلطی ہے یا کسی اور کی، جو بھی ہے مذاق بنا دیا ہے کیوں ایسی حرکتیں کرتے ہیں آپ لوگ،

    مبشر لقمان کا مزید کہناتھا کہ ایک دو لائنوں والا نوٹفکیشن صحیح نکال نہیں سکتے لیکن 25 کروڑ آبادی والا ملک چلائیں گے،اب اس کو خسارے سے،ا ندھیروں سے نکالیں گے ،معاشی ترقی کریں گے، میں اس پر کیا کہوں، مجھے غصہ نہ چڑھے تو کیا ہو.اور اگر یہ غلط ہے، میرے پاس غلط نوٹفکیشن آیا ہے تو میری تصحیح کر لیجے گا .اللہ اس ملک کو اپنی امان میں رکھے.

    جنرل عاصم منیر کی تقرری ملکی سلامتی کے تقاضوں کے عین مطابق ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان

    صدر مملکت نے چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کی منظوری دے دی

  • صدر مملکت نے چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کی منظوری دے دی

    صدر مملکت نے چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کی منظوری دے دی

    صدر مملکت نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تقرری کی منظوری دے دی

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پانچ سال کے لیے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کر دیا گیا،
    ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت میں دو سال کی توسیع کی منظوری دی گئی،صدر مملکت نے آرمی چیف کے ساتھ ساتھ چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف ایئر سٹاف کو ان کی کامیاب مدت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی اسٹاف اور بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری باقاعدہ طور پر منظور کرتے ہوئے ایوانِ صدر بھجوائی تھی، پاکستان میں پہلی بار چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ قائم کیا گیا ہے، جس کے پہلے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہیں. چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ تینوں مسلح افواج کے درمیان عسکری ہم آہنگی، رابطوں اور دفاعی حکمتِ عملی میں یکجہتی کو مزید مضبوط بنائے گا۔

  • وزیراعظم نے فیلڈ مارشل کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری ایوان صدر بھجوا دی

    وزیراعظم نے فیلڈ مارشل کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری ایوان صدر بھجوا دی

    وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی اسٹاف اور بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری باقاعدہ طور پر منظور کرتے ہوئے ایوانِ صدر بھجوا دی ہے۔

    اس تاریخی فیصلے کے ساتھ پاکستان میں پہلی بار چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ قائم کیا گیا ہے، جس کے پہلے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہوں گے۔ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کوچیف آف آرمی اسٹاف،چیف آف ڈیفنس فورسز دونوں عہدوں پر پانچ سال کے لیے تعینات کیا جا رہا ہے۔چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ تینوں مسلح افواج کے درمیان عسکری ہم آہنگی، رابطوں اور دفاعی حکمتِ عملی میں یکجہتی کو مزید مضبوط بنائے گا۔

    یہ اعزاز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حصے میں آیا ہے کہ وہ پاکستان کےپہلے چیف آف ڈیفنس فورسزبھی ہوں گے، جو ملکی دفاعی ڈھانچے کی نئے انداز سے تشکیل کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔وزیراعظم نے اس موقع پر ایک اور اہم فیصلہ کرتے ہوئےچیف آف ایئر اسٹاف، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھوکی مدتِ ملازمت میں دو سال کی توسیع بھی منظور کر دی۔ایئر چیف کی موجودہ پانچ سالہ مدت مارچ 2026 میں مکمل ہو رہی تھی۔نئی توسیع ان کی موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد عملی طور پر نافذ العمل ہوگی۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلے ملکی دفاعی تسلسل، ادارہ جاتی استحکام اور بدلتے علاقائی و عالمی سکیورٹی ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے ہیں۔

  • پاک سعودی دوستی، پاکستان کے 3 ارب ڈالرز ڈپازٹ کی مدت میں ایک سال کی مزید توسیع

    پاک سعودی دوستی، پاکستان کے 3 ارب ڈالرز ڈپازٹ کی مدت میں ایک سال کی مزید توسیع

    اسلام آباد: پاکستان کی معاشی صورتحال کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سعودی عرب نے پاکستان کے اسٹیٹ بینک میں رکھے اپنے 3 ارب ڈالرز کے ڈپازٹ کی مدت میں ایک بار پھر توسیع کر دی ہے۔ اس فیصلے کو پاکستان کی معاشی استحکام کی کوششوں کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذرائع کے مطابق سعودی ڈیولپمنٹ فنڈ (SDF) نے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ڈپازٹ اسٹیٹ بینک کے پاس محفوظ ہیں اور ان کی موجودہ مدت آج ختم ہو رہی تھی جس کے باعث اس توسیع کو نہایت اہمیت حاصل ہے۔اسٹیٹ بینک حکام کے مطابق اس توسیع سے نہ صرف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو استحکام ملے گا بلکہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں بھی کمی آئے گی۔ مزید برآں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کا پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد بھی بڑھے گا۔

    یاد رہے کہ سعودی عرب نے 2021 میں پاکستان کو 3 ارب ڈالرز کا ڈپازٹ فراہم کرنے کا معاہدہ کیا تھا، جس کا مقصد پاکستان کے اقتصادی محاذ پر معاونت اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری لانا تھا۔ اس ڈپازٹ کی مدت میں اس سے قبل بھی متعدد بار توسیع کی جا چکی ہے۔حکومتی اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے مسلسل مالی تعاون پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کا واضح عکاس ہے۔ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کئی معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے، ایسے میں یہ توسیع ملک کی مالیاتی حکمت عملی کے لیے تقویت کا باعث بنے گی۔وزارت خزانہ نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے تعاون نے پاکستان کو معاشی مشکلات کے دوران اہم سہارا فراہم کیا ہے، اور دونوں ممالک مستقبل میں بھی اقتصادی تعاون کے مزید مواقع تلاش کرتے رہیں گے۔

  • پاکستان نے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی درخواست کر دی

    پاکستان نے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی درخواست کر دی

    حکومتِ پاکستان نے برطانیہ سے سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر اور یوٹیوبر و کمنٹیٹر عادل راجہ کی حوالگی کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔

    یہ اہم پیش رفت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات میں سامنے آئی، جس میں دو طرفہ تعلقات، سکیورٹی تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ نے ملاقات کے دوران دونوں مطلوب افراد کے خلاف تیار کردہ حوالگی کے سرکاری دستاویزات برطانوی ہائی کمشنر کے سپرد کیے۔ محسن نقوی نے مؤقف اختیار کیا کہ “شہزاد اکبر اور عادل راجہ پاکستان میں مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں، انہیں جلد از جلد پاکستان کے حوالے کیا جائے۔”وزیر داخلہ نے اس موقع پر پاکستانی شخصیات اور ریاستی اداروں کے خلاف چلائی جانے والی مبینہ سوشل میڈیا پراپیگنڈا مہم کے ٹھوس شواہد بھی برطانوی سفارتکار کے سامنے رکھے۔

    ملاقات میں پاک برطانیہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا۔ دونوں فریقوں نے سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ برطانوی ہائی کمشنر نے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔گفتگو میں برطانیہ میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حکومت آزادیٔ اظہار پر مکمل یقین رکھتی ہے، تاہم فیک نیوز اور جعلی پروپیگنڈا ہر ملک کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے جسے روکنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ممالک کے لیے چیلنج بنتا جا رہا ہے، اس لیے ایسے عناصر کے خلاف بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔

  • 11ویں قومی مالیاتی کمیشن کا پہلا اجلا س ختم

    11ویں قومی مالیاتی کمیشن کا پہلا اجلا س ختم

    اسلام آباد: 11 ویں قومی مالیاتی کمیشن کے افتتاحی اجلاس میں مالیاتی امور کو آگے بڑھانے کے لیے ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں گیارہویں قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں سندھ اور کے پی کے وزرائے اعلیٰ بطور صوبائی وزیر خزانہ شریک ہوئے جب کہ پنجاب اور بلوچستان کے وزرائے خزانہ اور پرائیوٹ ممبران اجلاس میں موجود تھے،اجلاس میں وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے اپنی مالی صورتحال پر بریفنگ دی گئی جب کہ اجلاس میں چاروں صوبوں نے بھی اپنی مالی پوزیشن پر بریفنگ دی،وزیرخزانہ نے وزرائے اعلیٰ، صوبائی وزرائے خزانہ، سیکرٹریز اور دیگر ارکان کا اجلاس میں شرکت پر شکریہ ادا کیا۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ آج کا اجلاس آئینی ذمہ داری اور باہمی تعاون کا اہم موقع ہے، فورم آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 150 کے تحت قائم کیا گیا تھا، اس پس منظر میں اس اجلاس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، وفاقی حکومت کا واضح اور پُختہ عزم تھا کہ 11ویں این ایف سی کا افتتاحی اجلاس کسی تاخیر کے بغیر بلایا جائے، وزیراعظم نے خود اس بات میں گہری دلچسپی لی کہ یہ اجلاس جلد از جلد ہو، صوبوں نےبھی اس آئینی ذمہ داری کو بروقت ادا کرنے کا بھرپور ارادہ ظاہر کیا،پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے باعث یہ اجلاس مؤخر کرنا پڑا، این ایف سی کے حوالے سے قیاس آرائیوں، خدشات کا حل مخلصانہ اور شفاف مکالمہ ہے، آج ہم یہاں کھلے ذہن اور بغیر کسی تعصب کے موجود ہیں، ہماری پہلی ترجیح ایک دوسرے کی بات سننا ہے، وفاقی حکومت یہاں صوبوں کے مؤقف کو سننے کے لیے موجود ہے، امید ہےکہ صوبے بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعمیری تعاون کے جذبے سے آگے بڑھیں گے،صوبوں کی جانب سے نیشنل فِسکل پیکٹ پر دستخط انتہائی قابلِ قدر ہے، یہ ہمارے مشترکہ عزم اور قومی مفاد میں مل کر کام کرنے کی صلاحیت کا ثبوت ہے، صوبوں کا لازمی سرپلسزکے حصول، آئی ایم ایف پروگرام پرعملدرآمد یقینی بنانے پرتعاون قابلِ تحسین ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ اس سال ملک کو بھارت کی جانب سے غیر معمولی خطرات اور سیلابوں جیسے چیلنجز کاسامناکرنا پڑا، ان کٹھن حالات میں ہم ایک مضبوط وفاق کی صورت میں متحد کھڑے رہے، یہی وہ جذبہ ہے جسے ہم 11ویں این ایف سی ایوارڈ کے عمل میں بھی برقرار دیکھنا چاہتے ہیں، آنےوالے ہفتوں اورمہینوں میں یہ بامقصد اور تعمیری مباحث جاری رہیں گے، امید ہےتمام اراکین بامعنی اورجامع مکالمے کیلیےبھرپورعزم کےساتھ آگے بڑھیں گے، باہمی اتحاد، تعاون اور باہمی احترام کے جذبے کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھائیں گے، 11ویں این ایف سی ایوارڈکےمعاملات کو کامیابی سے پائیہ تکمیل تک پہنچانا ہماری منزل ہے۔

    این ایف سی کا آئندہ اجلاس 8 یا 15 جنوری کو ہوگا،دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہےکہ قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس میں 6 سے 7 ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ سابق فاٹا کے معاملے پر بھی الگ ورکنگ گروپ بنایا جائے گا۔اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ فیصلہ ہوا ہے کہ گروپس بنیں گے جو مالیاتی امور کو لے کر آگے بڑھیں گے۔علاوہ ازیں وزارتِ منصوبہ بندی نے وسائل کی تقسیم کے دو نئے طریقہ کار پر تجاویز وزیراعظم کو پیش کردی ہیں، پہلی تجویز قابل تقسیم محاصل سے دہشتگردی کے خلاف جنگ، واٹرسکیورٹی، سول آرمڈ فورسز اور آزاد کشمیر وگلگت بلتستان کے گرانٹس کے لیے ڈھائی فیصد کٹوتی کی ہے جس کے بعد ساڑھے 57 فیصد صوبوں اور ساڑھے 42 فیصد وفاق کو ملے گا،دوسری تجویز کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اخراجات قابل تقسیم محاصل سے پہلے نکال لیے جائیں جس سے 2030 تک وفاق کے وسائل میں 11 سے 12 فیصد اضافہ متوقع ہے،صوبوں کے درمیان این ایف سی کی تقسیم میں آبادی کا وزن کم کرکے ریونیو جنریشن، زرخیزی اورForest Cover جیسے عوامل کو بڑھانے کی تجویز بھی دی گئی ہے

  • پاکستان اور کرغزستان کے درمیان معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے

    پاکستان اور کرغزستان کے درمیان معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے

    پاکستان اور کرغزستان کے درمیان معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کیے گئے ہیں۔

    وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں کرغزستان اور پاکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشت کے تبادلے کی تقریب ہوئی۔ جس میں کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف اور وزیراعظم شہباز شریف شریک ہوئے،وزیر اعظم شہباز شریف اور کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف کے درمیان بشکیک اور اسلام آباد کو جڑواں شہر قرار دینے کا معاہدہ ہوا ہے،پاکستان اور کرغزستان کے درمیان کان کنی اور جیوسائنسز میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا،تقریب کے دوران پاکستان فارن سروسز اکیڈمی اور کرغزستان ڈپلومیٹک اکیڈمی کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور کرغزستان کے وزیر خارجہ نے دستاویز کا تبادلہ کیا.پاکستان اور کرغزستان کے درمیان سیاحت اور توانائی کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا،پاکستان اور کرغزستان کے درمیان سزا یافتہ قیدیوں کے تبادلے اور ثقافت کے شعبے میں بھی معاہدہ ہوا ہے۔ وزارت قانون و انصاف اور کرغزستان کی وزارت انصاف میں مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا،وزیر اعظم یوتھ پروگرام اور کرغز ثقافت، اطلاعات، کھیل و امور نوجوانان کی وزارت میں مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کرغزستان کے صدر کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں، صدر صادر ژپاروف کا دورہ دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے اہمیت کا حامل ہے، پاکستان کی 24 کروڑ عوام کی طرف سے معزز مہمان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ صدر صادر ژپاروف دو دہائیوں بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے کرغزستان کے صدر ہیں، یہ دورہ مختلف شعبوں میں تعاون کی نئی جہت دینے کے لیے اہمیت کا حامل ہے، پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات کی جڑیں تاریخ میں ہیں،مذاکرات میں مختلف شعبوں میں تعاون، علاقائی اور عالمی امور پر گفتگو ہوئی، ہم نے تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ہے،توانائی، تجارت اور روابط کے فروغ اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھائیں گے، پاکستان کرغزستان بزنس فورم سے معاشی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی، مختلف شعبوں میں تعاون کے 15 معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں اہم پیشرفت ہے، 2 سال میں دوطرفہ تجارتی حجم 15سے 200 ملین ڈالر تک لے جائیں گے۔

    قبل ازیں کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا،کرغزستان کے صدر کو مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،وزیر اعظم شہباز شریف نے گرمجوشی سے مہمان صدر کا استقبال کیا۔

  • افغانستان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کارگوز کی اجازت کا فیصلہ

    افغانستان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کارگوز کی اجازت کا فیصلہ

    وزارتِ تجارت نے ڈی جی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور ایف بی آر کے ممبر کسٹمز آپریشن کو خط لکھ کر افغانستان کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کارگوز گاڑیوں کی مرحلہ وار ترسیل کی اجازت دینے کی سفارش کی ہے۔

    خط کے مطابق پاکستان نے اقوام متحدہ کی تنظیموں کے کارگوز کی ترسیل میں سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت یونیسف، ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) اور یو این ایف پی اے کے کنٹینرز کو مرحلہ وار کلیئر کیا جائے گا۔پہلے مرحلے میں خوراک لے جانے والے کنٹینرز کی کلیئرنس کی جائے گی، دوسرے مرحلے میں ادویات اور طبی آلات والے کارگوز کو بھیجا جائے گا، جب کہ تیسرے مرحلے میں طلبہ اور اساتذہ کے لیے کٹس لے جانے والے کنٹینرز منتقل کیے جائیں گے۔

    وزارت تجارت نے خط میں واضح کیا کہ یہ فیصلہ وزارت خارجہ کی ایڈوائس پر کیا گیا ہے، اور کنٹینرز کو طورخم اور چمن بارڈرز کے ذریعے افغانستان بھجوانے کی اجازت دی جائے گی۔مزید کہا گیا ہے کہ یہ ترسیل افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور اے پی ٹی ٹی اے (APPTA) رولز کے تحت انجام دی جائے گی

    بھارتی روپیہ تاریخی تنزلی کا شکار، کمزور ترین کرنسیوں میں شامل

    نیپا چورنگی واقعہ: بی آر ٹی ریڈ لائن کا ذمہ داری سے اظہارِ لاتعلقی

    پاکستان کی سیاسی جنگ پاکستان میں لڑیں،خواجہ آصف کا سخت ردعمل

    گیارہواں این ایف سی اجلاس آج، وفاق اور صوبے بریفنگ دیں گے

  • پاکستان کی سیاسی جنگ پاکستان میں لڑیں،خواجہ آصف کا سخت ردعمل

    پاکستان کی سیاسی جنگ پاکستان میں لڑیں،خواجہ آصف کا سخت ردعمل

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علیمہ خان جس جنگ کا ذکر کر رہی ہیں، اگر بھارت نے وہ جنگ دوبارہ مسلط کی تو بھارت کے ساتھ ساتھ انہیں بھی بند کیا جائے گا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی جنگ پاکستان میں ہی لڑی جانی چاہیے، ’’دشمن کی گود میں بیٹھ کر وطن دشمنی نہ کریں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کے لیے بے قرار یہ لوگ بھارتی میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں، ’’سلائی مشین بند ہے اس لیے دکھی ہیں۔وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ اگر بھارت نے دوبارہ جنگ مسلط کی تو اس کا جواب دیا جائے گا، ۔ انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا، جس میں انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے سامنے پاکستان کے 7 جہاز گرانے کا ذکر کئی بار کیا تھا۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ اگر پاکستان سے محبت، ملکی دفاع کے لیے کھڑے ہونا یا دین کی سربلندی کے لیے تیار ہونا ’’ریڈیکل اسلامزم‘‘ ہے، تو پھر یہ لیبل 25 کروڑ پاکستانیوں کے ماتھے پر ہے

    گیارہواں این ایف سی اجلاس آج، وفاق اور صوبے بریفنگ دیں گے

    پاکستانی سی-130 طیارہ امدادی ٹیم کے ساتھ کولمبو پہنچ گیا

    قائد اعظم ٹرافی فائنل: کراچی بلیوز کی سیالکوٹ ریجنز پر 276 رنز کی برتری

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے سعودی رائل فورسز کے کمانڈر کی ملاقات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے سعودی رائل فورسز کے کمانڈر کی ملاقات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے کمانڈر رائل سعودی فورسز لیفٹیننٹ جنرل فہد بن سعودکی اہم ملاقات ہوئی ہے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور مشترکہ دلچسپی کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،ملاقات کے دوران دونوں عسکری قیادتوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل المدتی، برادرانہ اور اسٹریٹجک عسکری تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان اور سعودی عرب کے مضبوط دفاعی اشتراک پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تربیت، کیپسٹی بلڈنگ اور انٹیلی جنس شیئرنگ جیسے شعبوں میں دوطرفہ تعاون میں مزید وسعت کی ضرورت ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل فہد بن سعود الجزہانی نے پاکستان آرمی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کی تعریف کی،

    قبل ازیں جی ایچ کیو آمد پر معزز مہمان کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا،