Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • "کہانی بڑے گھر کی ” پاکستان کی دبنگ خاتون صحافی عاصمہ شیرازی کی کتاب

    "کہانی بڑے گھر کی ” پاکستان کی دبنگ خاتون صحافی عاصمہ شیرازی کی کتاب

    پاکستان کی خاتون ، دبنگ، نڈر صحافی عاصمہ شیرازی کی کتاب "کہانی بڑے گھر کی "شائع ہو چکی ہے

    عاصمہ شیرازی نے کتاب کا انتساب امی کے نام کیا اور کہا کہ جن کی مہد میری پہلی درسگاہ بنی، ابو کے نام، جن کی خواہشوں کی تکمیل میں میری منزل ہے، مدثر کے نام، جو میرے ہر قدم کا ساتھی اور محبت کا سائبان ہے

    "کہانی بڑے گھر کی ” کا حرف آغاز مستنصر جاوید، وسعت اللہ خان نے لکھا ، وسعت اللہ خان نے عنوان ایک سیالکوٹی کی ہنرمندی دیا اور کہا کہ عاصمہ کا شمار ان صحافیوں میں باآسانی کیا جا سکتا ہے جو صحافت کے نام پر گہری ہوتی غوغائی دلدل میں بھی اپنی شناخت بچاتے ہوئے اپنے اطلاعاتی و تبصراتی فرائض زنانہ وار مرادنگی کے ساتھ نبھا رہی ہیں، اخباری کالموں کی کتابی شکل میں اشاعت پر ایک عام اعتراض کیا جاتا ہے کہ انکی شیلف لائف کم ہوتی ہے اور چند دن، مہینوں یا برسوں بعد انکی وہ اہمیت نہیں رہتی، میں بھی بہت عرصے تک اسی خیال کا حامی تھا لیکن اب میرا ماننا ہے کہ کوئی بھی تحریر رائیگاں نہیں جاتی،

    عاصمہ شیرازی کا آبائی علاقہ سیالکوٹ ہے، انہوں نے ماسٹرز، پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کیا،زمانہ طالبعلمی میں عاصمہ شیرازی نے فن خطابت میں ایک سو سے زائد ایوارڈز حاصل کئے، عاصمہ شیرازی کا صحافت کا سفر سال 2000 میں شروع ہوا، پی ٹی وی جوائن کیا پھر، 2002 میں جیو نیوز سے صحافی سفر شروع ہوا، عاصمہ شیرازی نجی ٹی وی انڈسٹری کی پہلی خاتون رپورٹر ہیں، انہوں نے پارلیمانی سیاست پر پہلا پروگرام پارلیمنٹ کیفے ٹیریا کیا، 2006 ، پاکستان کی پہلی خاتون وار کاریس پانڈنٹ، دو بار حملوں کی زد میں آئیں، حزب اللہ نے گرفتار کیا ،عاصمہ شیرازی کو ان کی جرات مندی اور با اخلاق صحافت پر سال 2014 کے پیٹر میکلر ایوارڈ کا حقدار قرار دیا گیا تھا، عاصمہ شیرازی نے سال 2006 میں لبنان ۔ اسرائیل جنگ کی ، 2009 میں پاکستان ۔ افغانستان کے بارڈر اور 2007 میں جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ایمرجنسی کے نفاذ کی رپورٹنگ کی تھی،

    عاصمہ شیرازی نے 14 اگست 2018، سے بی بی سی اردو پر کالموں کا آغاز کیا، اب تک کالموں کا سلسلہ جاری ہے، عاصمہ شیرازی کی کتاب کہانی بڑے گھر کی میں 191 تحریریں ہیں اور 431 صفحات ہیں، کتاب کی آخری تحریر،19 اپریل 2022 کا کالم ، اور مجھے یوں نکالا کتاب میں آخری تحریر ہے، جس کی آخری لائن عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ کاش کہ سیاسی جماعتیں اور سیاستدان بھی ماضی کی غلطیاں نہ دہرائیں ، پھر ہی ہو گا اصل جمہوریت کا بول بالا،

     

    حارث خلیق کہتے ہیں کہ میں عاصمہ شیرازی کو طویل عرصے سے ایک نڈر اور بے باک صحافی کی حیثیت سے جانتا ہوں، انکی رپورٹنگ اور تجزئے معلومات افزا بھی رہے، اور فکر پرور بھی، عاصمہ نے کمال حوصلے سے سب قلم بند کر دیا یہ کتاب اشرافیہ کو آئینہ دکھانے کے لئے اور عوام کو سچائی سے آگاہ کرنے میں معاون ثابت ہو گی

    پیپلزپارٹی کی رہنما ، وفاقی وزیر شیری رحمان کہتی ہیں کہ عاصمہ شیرازی پاکستان کی صحافتی دنیا کا ایک نایاب ہیرا ہے، ایک بہادر صحافی اور انسان جس نے سختیوں ، تعصب ،اور سیلکٹڈ حکومت کی جانب سے ہراسمنٹ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، لیکن سچ کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، امید کرتی ہوں عاصمہ ہمیشہ لکھتی رہیں گی

    عاصمہ شیرازی خاتون‌ صحافی ہیں جنہوں نے مردانہ وار کام کیا اور میدان صحافت میں کردار کشی، پروپیگنڈے کے باوجود ہمیشہ آگے کی جانب سفر کرتی رہیں، سابق حکمران جماعت تحریک انصاف کی جانب سے عاصمہ شیرازی کے خلاف ٹویٹر ، سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کی انتہا کی گئی لیکن عاصمہ شیرازی نے عمران خان کے یوتھیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے کام کو فوقیت دی، وہ لکھتی گئیں اور مقبول ہوتی چلی گئیں، عاصمہ شیرازی نے ہمیشہ کھری بات کی، اور سچ کا دامن نہیں چھوڑا، کہنے والے انکے بارے میں بہت کچھ کہتے رہے، کردار کشی کی انتہا کی گئی، لیکن عاصمہ شیرازی نے صبر کیا اور میدان صحافت نہیں چھوڑا،عاصمہ شیرازی نہ صرف خواتین بلکہ مرد صحافیوں کے لیے بھی کسی مثال سے کم نہیں وہ کسی بھی جعلی مہم اور دھمکیوں سے ڈرتی ہیں نہ گبھراتی ہیں بلکہ بھرپورانداز سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سچ بولتی ہیں۔ سچ بولنے اور سننے والے ہمیشہ عاصمہ کے ساتھ رہے،خاتون ہو کر بھی انکا کام کئی مرد صحافیوں سے بہت بہتر دیکھنے میں ملا،پاکستان میں میڈیا میں مردوں کے لئے بھی مشکلات ہیں اور پھر خاتون کا میدان صحافت میں قدم رکھنا اور 2000 سے اب تک اسی فیلڈ میں رہنا، پاکستانی خواتین کے لئے نمونہ ہے،

    کالم لکھنا بھی ایک فن ہے، کالم لکھنے والے تو بہت ہوں گے لیکن اچھا لکھنے والے نہیں، عاصمہ شیرازی اچھا لکھنے والوں میں شامل ہے، صحافت کے میدان میں عاصمہ شیرازی جہاں الیکٹرانک میڈیا میں مقبول ہیں وہیں اب مصنف بھی بن گئیں، انکی کتاب "کہانی بڑے گھر کی” پاکستان کی بہترین کتابوں میں سے ایک ہے،انہوں نے اس کتاب میں جھوٹی اور من گھڑت کہانیوں کی بجائے وہ لکھا جو انہوں نے دیکھا، جس کا مشاہدہ کیا، عاصمہ شیرازی نے وفاقی دارالحکومت میں رہتے ہوئے "کہانی بڑے گھر کی” ، لکھ کر تلخ حقیقت سامنے لے آئی ہیں

    آڈیو لیک پرمبشر لقمان نے بینڈ بجا دی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عاصمہ شیرازی کی کتاب کہانی بڑے گھر کی،کے حوالہ سے عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ یہ کتاب گزشتہ چار برسوں کی کہانی بیان کرتی ہے، جو دیکھا سچ کی صورت میں اظہار کیا ، جو لکھا حاضر اور ناظر ایک ذات گواہ بنا کر لکھا باوجود روکنے کی کوشش کے، جو لکھا نہ لکھتی تو ان سامنے کس منہ سے جاتی جنہوں نے تیروں کے مصلے پر باطل اور جابر حکمراںوں کے سامنے بھی سچ کہا ۔ مجھے صحافت میں 20 برس ہوگئے لیکن ان میں سے 16 برس مجھے کوئی گالی نہیں دی گئی لیکن چار سال قبل جب مجھے پہلی گالی دی گئی تو مجھے بہت تکلیف ہوئی اس طرح کے الفاظ لیے گئے جنہیں دہرانے کی میری ہمت نہیں۔ جب بھی مجھے گالیاں دی جاتی تھیں تو میرے اندر ایک زور آور چیز بولتی تھی کہ تم بولو یہ نہیں کروگی تو کیا کرو گی، تو میں کہتی تھی کہ ہاں میں کیا کروں گی، اگر چپ رہوں گی نہیں لکھوں گی تو میں مرجاؤں گی اور میں بول کے بھی مرجاؤں گی تو میں بول کے مرجاؤں گی…

  • صدرمملکت عارف علوی کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ،مختلف منصوبوں کا جائزہ لیا

    صدرمملکت عارف علوی کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ،مختلف منصوبوں کا جائزہ لیا

    ٹیکسلا:صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ کیا جہاں انہیں جاری منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا آمد پر ایچ آئی ٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل سید عامر رضا نے صدر مملکت کا استقبال کیا۔

    ‏جی ایچ کیو نے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی تعیناتی کی سمری بھجوا…

    ترجمان پاک فوج کے مطابق صدر کو ایچ آئی ٹی کی فنی صلاحیتوں اور پیداواری سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی اور خود انحصاری کی کوششوں، ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کے منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق صدر مملکت نے مختلف فیکٹریوں کا بھی دورہ کیا اور منصوبوں پر ہونے والے کام کا معائنہ کیا۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف مذموم مہم پر آئی ایس پی آر کا ردعمل

    ترجمان پاک فوج کے مطابق صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کے جاری منصوبوں، بلٹ پروفنگ اور فوجی گاڑیوں کو بارودی سرنگوں سے محفوظ رکھنے کے پراجیکٹس میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔

    صدر عارف علوی نے جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے ذریعے خود انحصاری حاصل کرنے پر ایچ آئی ٹی کی کوششوں اور صلاحیتوں پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور تنظیم کو جدید دفاعی پیداوار کے ادارے میں تبدیل کرنے پر ایچ آئی ٹی کے عزم کو سراہا۔

  • بھارتی دہشتگردی کا معاملہ وزارت خارجہ کے ذریعے اقوام متحدہ میں اٹھائیں گے، وزیر داخلہ

    بھارتی دہشتگردی کا معاملہ وزارت خارجہ کے ذریعے اقوام متحدہ میں اٹھائیں گے، وزیر داخلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ انٹرنل سیکیورٹی سے متعلق آپ کو بریف کیا جائے گا،

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے، ہم ہر روز نئی صورتحال سے دو چار ہوتے ہیں،کوئی طبقہ ایسا نہیں کہ اس نے قربانی پیش نہ کی ہو، پچھلے 70سال سے کشمیر ہندوستان کے ظلم کا شکار ہے،دہشتگردی کو کوئی بھی واقعہ ہو بھارت اس میں کسی نا کسی انداز میں شامل رہا ہے پاکستان بہت عرصے سے دہشتگردی کی آگ میں جھلس رہا ہے آج بریف کئے جانے والے واقعے میں ہندوستان کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ہیں ، کلبھوشن واقعہ پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کا منہ بولتا ثبوت ہے، بھارت پاکستان میں ہر قسم کی دہشتگردی کو پروموٹ کرتا ہے،بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرتے رہیں گے، پاکستان میں مساجد اور امام بارگاہوں کا نشانہ بنایا گیا،بھارتی دہشتگردی کا معاملہ وزارت خارجہ کے ذریعے اقوام متحدہ میں اٹھائیں گے،

    ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ کسی دہشتگرد تنظیم نے جوہر ٹاون دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی،جوہر ٹاون دھماکے کے 24گھنٹےکے اندر 3دہشتگردوں کو گرفتارکیا گیا تھا،دھماکے کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی لے کر آنے والے شخص کی شناخت کر لی گئی،

    قبل ازین جوہر ٹاؤن لاہور 2021 کے دہشتگردی کے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جوہر ٹاؤن لاہور دھماکے کے ماسٹر مائنڈ سمیع الحق اور سہولت کار گرفتار جر کئا فئامدہشت گردی کا واقعہ حافظ سعید کے گھر کے قریب پیش آیا تھا سمیع الحق کو پاک افغان سرحد پار کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا،دو مفرور ملزمان سمیع الحق اور عزیر اکبر گرفتار کر لئے گئے،اس کیس میں مفرور ملزمان کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی را سے بتایا گیا تھا دہشت گرد حملے میں 3 افراد جاں بحق ہوئے تھے،

    جوہر ٹاون دھماکہ کیسے ہوا ؟ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ آ گئی

    جوہر ٹاون دھماکہ حافظ محمد سعید کی رہائشگاہ کے قریب ہوا؟ حقیقت سامنے آ گئی،

    جوہر ٹاون دھماکہ۔ زخمیوں کے نام سامنے آ گئے ۔اموات میں اضافہ

    لاہور جوہر ٹاؤن دھماکے میں پڑوسی ملک کے ملوث ہونے کے ثبوت سینئر صحافی سامنے لے آئے

    لاہور میں دھماکہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے ، شہباز شریف

    دہشت گردی کے کتنے تھریٹ ملے تھے؟ لاہور دھماکے کے بعد آئی جی کا انکشاف

    جوہرٹاون دھماکہ:تحقیقاتی ادارے ملزم کے قریب پہنچ گئے،

    جوہرٹاؤن دھماکہ؛ بارود سے بھری گاڑی کا مالک کون؟بارود کہاں نصب کیا گیا اورگاڑی کیسے پہنچی؟تہلکہ خیزانکشافات 

    لاہور دھماکہ، ایئر پورٹ سے فرار ہونیوالے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا

    جوہر ٹاؤن دھماکہ،تحقیقات میں زبردست کامیابی حاصل کر لی، شیخ رشید

    جوہر ٹاؤن دھماکہ "را” کے ملوث ہونے کے ثبوت،دو مزید ملزمان گرفتار،ڈیوڈ بارے اہم انکشافات

    جوہر ٹاؤن دھماکہ، سب ملزمان گرفتار، ملک دشمن خفیہ ایجنسی ملوث، بزدار کی پریس کانفرنس

    جوہرٹاؤن دھماکہ ، گرفتار ملزمہ عدالت پہنچ گئی

  • نیب قانون کے غلط استعمال سے کتنے لوگوں کے کاروبار تباہ ہوئے،چیف جسٹس کے ریمارکس

    نیب قانون کے غلط استعمال سے کتنے لوگوں کے کاروبار تباہ ہوئے،چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے گئے،وکیل نے کہا کہ ایگزیکٹو اپنا کام نہ کرے تو لوگ عدالتوں کے پاس ہی آتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترمیم اس اسمبلی نے کی جو مکمل ہی نہیں،اس پر قانون نہیں ملا کہ نامکمل اسمبلی قانون سازی کر سکتی ہے یا نہیں سیاسی حکمت عملی کے باعث آدھی سے زیادہ اسمبلی نے بائیکاٹ کر رکھا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم سے فائدہ صرف ترمیم کرنے والوں کو ہی ہوا،چند افراد کی دی گئی لائن پر پوری سیاسی پارٹی چل رہی ہوتی ہے،لائن کو فالو کریں تو اس کا فائدہ صرف چند افراد کی ذات کو پہنچتا ہے نیب ترمیم کی ہدایت کرنے والوں کو اصل میں فائدہ پہنچا، کیا ایسی صورتحال میں عدلیہ ہاتھ باندھ کر تماشا دیکھے؟نیب ترامیم کو بغیر بحث جلد بازی میں منظور کیا گیا،ترامیم کی نیت ہی ٹھیک نہ ہو تو آگے جانے کی ضرورت ہی نہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے باوجود کرپشن ختم نہیں ہوسکی، مسئلہ صرف کرپشن کا نہیں سسٹم میں موجود خامیوں کا بھی ہے سسٹم میں موجود خامیوں کو کبھی دور کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی،پارلیمان کا کام ہے سسٹم میں بہتری کیلئے قانون بنائے اور عمل بھی کرائے،ہر صوبے میں پانچ ماہ بعد آئی جی اور تین ماہ بعد ایس ایچ او بدل جاتا ہے،ایگزیکٹو فیصلے کرتے وقت قانون پر عمل نہیں کیا جاتا، ماضی میں ریکوڈک اور اسٹیل مل کے فیصلے عدالت نے اچھی نیت سے کیے،حکومت سسٹم کی کمزوری کے باعث منصوبوں میں کرپشن پکڑ نہیں سکی، نیب قانون کے غلط استعمال سے کتنے لوگوں کے کاروبار تباہ ہو چکے ہیں،کرپشن پر کسی صورت معافی نہیں ہونی چاہیے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کرپشن غلط ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کرپشن ہونی نہیں چاہیے،سوال یہ ہے کہ کرپشن کا سدباب کس نے اور کیسے کرنا ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کرپشن ختم کرنا ایگزیکٹو کا کام ہے، اگر وہ نہیں کر سکی تو عدالت مداخلت کرتی ہے، عدالت نے ہمیشہ عوامی عہدوں پر کرپشن کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سے معاملات میں بہتری بھی آئی ہے،خوش آئند بات یہ بھی ہے کہ پاکستان میں میڈیا آزاد ہے اور سچ سامنے لاتا ہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پاکستانی میڈیا ورلڈ رینکنگ میں 180 میں سے 157 نمبر پر ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کرپشن کی رینکنگ میں پاکستان اسی نمبر پر ہے جو نیب ترامیم سے پہلے تھا،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم کے بعد اب جو رینکنگ جاری ہوگی اس میں پاکستان یقینا 100 نمبر نیچے جا چکا ہوگا ،جب سسٹم تباہ ہو رہا ہو تو عدلیہ مداخلت کرتی ہے،عدالت کس اختیار کے تحت نیب ترامیم کو مفادات کے ٹکراو پر کالعدم قرار دے سکتی ہے؟ وکیل نے کہا کہ خود کو فائدہ پہنچانے کیلئے کی گئی قانون سازی کیلئے ریگولیٹری کیپچرکی اصطلاح استعمال ہوتی ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پھر ہم حالیہ نیب ترامیم کو پارلیمنٹری کیپچر کہیں گے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پارلیمنٹری کیپچر کسی اور معنی میں استعمال ہوتا ہے، سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • سیلاب متاثرین کو درست طور پر سروے میں شامل نہ کرنے پرتوجہ دلاو نوٹس قومی اسمبلی میں پیش

    سیلاب متاثرین کو درست طور پر سروے میں شامل نہ کرنے پرتوجہ دلاو نوٹس قومی اسمبلی میں پیش

    اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا

    حلقہ 249 سمیت پورے ملک میں گیس کی کمی سے متعلق توجہ دلاو نوٹس پیش کیا گیا،قومی اسمبلی اجلاس میں توجہ دلاو نوٹس پیپلزپارٹی کے قادر خان مندوخیل نے پیش کیا ، پارلیمانی سیکریٹری حامد حمید کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے پورے ملک میں گیس کا شیڈول دیا ہے،ملک میں گیس کی مانگ موجودہ مقدار سے زیادہ ہے، گیس حاصل کرنے کے لیے متعدد نئے کنوئیں کھودے جا رہے ہیں، کچھ حاصل شدہ گیس نیشنل گریڈ میں آ گئی ہے، پچھلے 4 سال سے انفراسٹرکچر پر کوئی کام نہیں ہوا،سعید آباد میں پائپ لائن پر کام شروع کردیا گیا ،بیس کلو میٹر کی پائپ لائن پر کام جلد شروع ہوگا،امید ہے ایک سال میں پائپ لائن پر کام مکمل کریں گے،ہمارے پاس جو وسائل ہیں اس کے مطابق گیس فراہم کی جارہی ہے،عمران خان نے نئے کنکشن پر پابندی لگائی تھی،قادر خان مندو خیل نے کہا کہ میرے حلقے میں گیس کے کنکشن نہیں دئیے جا رہے، پارلیمانی سیکریٹری حامد حمید کا کہنا تھا کہ نئے کنکشن کیلئے نئی پالیسی وضع کی جائے گی ،

    قومی اسمبلی اجلاس،ٹریڈ آرگنائزیشن ترمیمی بل 2022 منظورکر لیا گیا،بل وفاقی وزیر تجارت نوید قمر نے پیش کیا ،ٹیکس قوانین دوسری ترمیمی آرڈیننس 2022 کی مدت میں 120 دن توسیع کی قرارداد منظورکرلی گئی ،قرارداد وزیرپارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے پیش کی

    سیلاب متاثرین کو درست طور پر سروے میں شامل نہ کرنے پر تشویش سے متعلق توجہ دلاو نوٹس قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا،ریاض مزاری اور محمد افضل نے توجہ دلاؤ نوٹس قومی اسمبلی میں پیش کیا ،ریاض مزاری نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ متاثرہ علاقوں میں غلط سروے کیا گیا،جن کے گھر تباہ ہوئے ان کے نام سروے میں شامل نہیں کیے گئے،وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضی ٰجاوید عباسی کا کہنا تھا کہ بارہ ستمبر کو مشترکہ سروے شروع کیا گیا تھا،تیس نومبر کو سروے مکمل کرلیا گیا ،صوبوں نے ابھی تک اپنی رپورٹ این ڈی ایم اے کو نہیں بھیجی،

    اپوزیشن لیڈرراجہ ریاض کا کہنا تھا کہ سروے سے متعلق کسی بھی علاقے کے رکن قومی و صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، ہمارا مطالبہ ہے کہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کو اعتماد میں لیا جائے،

    وفاقی وزیر ایازصادق نے کہا کہ پرویز الہٰی کی صدارت میں کابینہ اجلاس ہوا ،ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے جو پیسے آتے ہیں وہ پاکستان کے ہوتے ہیں ،ڈونر وفاقی حکومت اور صوبوں کیساتھ ملکر استعمال کا فیصلہ کرتا ہے 2021 میں تھر کینال پراجیکٹ پر سائن ہوا ،پنجاب کابینہ سے التجا کروں گا کہ پراجیکٹ کے کنڈیشنز پڑھیں پنجاب حکومت سندھ کے ساتھ بیٹھے اور ملکر فیصلہ کریں ،وزیر اعلیٰ سندھ سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ بیٹھنے کو تیار ہیں سیکریٹری آبپاشی نے کہا کہ وزیر کو 200 ملین ڈالر بچانے کی فکر ہے پنجاب حکومت نے قرض کی توسیع سے متعلق ایشین ڈویلپمنٹ بینک کو نہیں لکھا ،یہ پنجاب حکومت کا کام تھا ،ہم ابھی بھی مسئلہ حل کرانے کو تیار ہیں ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے دروازہ بند نہیں کیا پنجاب حکومت کا آڈٹ کرانا چاہیے کہ پتہ چلے ایری گیشن ڈیپارٹمنٹ نے کیا کیا پنجاب حکومت کو کچھ کرنا پڑے گا ،وفاقی حکومت سے پیسہ نہیں روکا یہ غلط تاثر ہے عمران خان احسان کرنے والے پرہی وار کرتے ہیں،

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

    حامد زمان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے تحقیقات سے متعلق رپورٹ

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

  • خورشید شاہ کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت مل گئی

    خورشید شاہ کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت مل گئی

    نیب سکھر نے وفاقی وزیر خورشید شاہ کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی

    آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں وفاقی وزیر خورشید شاہ سکھر کی نیب عدالت میں پیش ہوئے ،وکیل نے کہا کہ جج نے میڈیکل رپورٹ کی روشنی میں خورشید شاہ کو بیرون ملک علاج کی اجازت دی خورشید شاہ کو 10 لاکھ روپےمچلکے کے عوض ایک ماہ کے لیے بیرون ملک جانےکی اجازت دی نیب عدالت نے ای سی ایل سے خورشید شاہ کا نام نکالنے کی ہدایت جاری کر دی خورشید شاہ نے نیب عدالت میں بیرون ملک علاج کے لیے درخواست جمع کرائی تھی خورشید شاہ ، بیٹے، 2 بیگمات ،داماد اور اویس شاہ سمیت 18 ملزمان کے خلاف ریفرنس تھا نیب نے خورشید شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی استدعا منظورکرلی

    قیادت کمزور ہونے کی وجہ سے بھارت آئے روز پاکستان پر حملے کر رہا ہے،خورشید شاہ

    گرفتاری کے بعد بیماری سیاسی رہنماؤں کا معمول،خورشید شاہ بھی

    خورشید شاہ کی گرفتاری، دونوں بیگمات نے بڑا قدم اٹھا لیا، عدالت پہنچ گئیں

    کیا خورشید شاہ قید تنہائی میں ہیں؟ سپریم کورٹ

    خورشید شاہ کیس، سب کی حاضری ضروری ،عدالت کا بڑا حکم

    حکومت عوام پر عذاب الہی ہے، خورشید شاہ

    نیب سکھر کی جانب سے خورشید شاہ پر ایک ارب 30 کروڑ روپے کا ریفرنس دائرکیا گیا تھا خورشید شاہ سمیت 18 افراد کےخلاف ایک ارب 23 کروڑ کا ریفرنس دائر ہے ، سندھ ہائیکورٹ سکھر بنچ نے پیپلز پارٹی کے رہنما ،رکن قومی اسمبلی خورشید شاہ اور ان کے بیٹے ایم پی اے فرخ شاہ کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی خورشید شاہ اور ان کے 18 ساتھیوں پر نیب عدالت میں ایک ارب 23 کروڑ روپے سے زائد آمدن کے اثاثے بنانے کے الزام میں ریفرنس زیر سماعت ہے خورشید شاہ کو18ستمبر2019 کو نیب نے گرفتارکیا تھا۔عدالت نے 70 روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد خورشید کو 19 نومبر 2019 کو جیل بھیجا ،خورشید کو این آئی سی وی ڈی میں زیر حراست رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے بعد ازاں سپریم کورٹ نے خورشید شاہ کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا

  • توہین الیکشن کمیشن،اسد عمر نے عدالت میں معافی مانگی،یہاں کیوں نہیں آتے؟ الیکشن کمیشن

    توہین الیکشن کمیشن،اسد عمر نے عدالت میں معافی مانگی،یہاں کیوں نہیں آتے؟ الیکشن کمیشن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، پارٹی رہنماؤں اسد عمر اور فواد چودھری کیخلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت ہوئی،

    ممبرسندھ نثار درانی کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی،عمران خان اور فوادچودھری کے وکیل فیصل چودھری کمیشن میں پیش ہوئے ،وکیل فیصل چودھری نے کہاکہ عمران خان ابھی تک سفر کے قابل نہیں ہوئے ممبربلوچستان نے کہاکہ عمران خان کا میڈیکل سرٹیفکیٹ کہاں ہے ؟ فیصل چودھری نے کہا کہ میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی پیش کردیںگے سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی اپیل پر تحریری فیصلہ نہیں آیا مناسب ہوگا سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے دیا جائے سپریم کورٹ نے ہمارے اعتراضات برقرار رکھے ہیں ۔

    ممبر کے پی نے کہا کہ عمران خان بیمار ہیں تو باقی لوگ کیوں پیش نہیں ہوئے؟ وکیل اسد عمر نے کہا کہ مناسب ہوگا سب کا کیس ایک ساتھ ہی چلایا جائے،فیصل چودھری نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان، فوادچودھری کے شوکاز معطل کر رکھے ہیں سپریم کورٹ کی گائیڈ لائنز آنے دی جائیں، ممبر کے پی نے کہا کہ شوکاز نوٹس کمیشن کے بنچ نے جاری کیا تھا،سیکرٹری نے نہیں

    وکیل درخواستگزار نے کہا کہ کمیشن کا آرڈر قانون کے مطابق نہیں ہے ممبر کے پی نے کہا کہ اگر کمیشن غلطی کرتا ہے تو ہائیکورٹ سے آپ کو ریلیف مل جائے گا، ممبر سندھ نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کاانتظار تو ٹھیک ہے لیکن فریقین پیش کیوں نہیں ہو رہے، فیصل چودھری نے کہا کہ فواد چودھری کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دے رہا ہوں فوادچودھری کو بخار اور فلو ہے، پیش نہیں ہو سکتے ممبر سندھ نے کہا کہ توہین کسی کی ذات کی نہیں کمیشن کی بطور ادارہ ہوئی ہے وکیل عمران خان نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں، افراد اداروں کے احترام کے پابندہیں، جو بھی ہونا ہے قانون کے مطاق ہونا ہے پورا یقین ہے کمیشن انصاف کرے گا ممبر کے پی نے کہا ہم پر کوئی شک نہ کرے کسی سے عناد نہیں ممبر پنجاب نے کہا کہ اسد عمر نے عدالت میں معافی مانگی تو یہاں کیوں نہیں آتے؟ کمیشن آ کر بھی کہہ دیں یہ نہیں کہنا چاہتے تھے،فیصل چودھری نے جواب دیا کہ آپ کا پیغام پہنچا دوں گا۔

    الیکشن کمیشن نے آئندہ سماعت پر عمران خان، اسد عمر اور فوادچودھری کو پیش ہونے کی ہدایت کردی۔ممبر کے پی نے کہاکہ ممبر پنجاب کی معذرت والی بات پر غور کریں، ممبر پنجاب نے کہاکہ اصل چیز ملک ہے وہ ہے تو ہم سب ہیں ،الیکشن کمیشن نے کیس کی مزید سماعت 3 جنوری 2023 تک ملتوی کردی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    عمران خان، فواد چودھری اور اسد عمر کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا گیا

  • الیکشن کمیشن نے تو عمران خان کو 62 ون ایف پر نااہل تو نہیں کیا،عدالت

    الیکشن کمیشن نے تو عمران خان کو 62 ون ایف پر نااہل تو نہیں کیا،عدالت

    الیکشن کمیشن کے نااہلی فیصلے کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت 20 دسمبرتک ملتوی کر دی گئی

    عمران خان کے وکیل علی ظفر، الیکشن کمیشن کے وکلا اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے،ن لیگی رہنما محسن شاہ نواز رانجھا اپنے وکیل کے ہمراہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے محسن شاہ نواز رانجھا کے وکیل نے دلائل کےلیے ایک ہفتے کی مہلت مانگ لی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پہلے علی ظفر دلائل شروع کر لیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پارٹی کی صدارت سے ہٹانے کی کارروائی شروع کی ہے، عمران خان کے خلاف فوجداری مقدمہ قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ ہوا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دو سے تین ہفتے میں سن کر فیصلہ کردیں گے،

    توشہ خانہ مقدمے میں سماعت کے دوران فیصل واوڈا کیس کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا ذکر بھی آیا،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفرکی جانب سے دلائل دیئے گئے، وکیل نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے کسی عدالتی ڈکلیئریشن کے بغیر عمران خان کو نااہل قرار دیا،اسپیکر نے عمران خان کی 62 ون ایف کے تحت نااہلی کا ریفرنس بھیجا اسپیکر قومی اسمبلی نے عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیجا،عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر اپنے اثاثے چھپائے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا اسپیکر کی جانب سے کوئی الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوا؟ اسپیکر کی جانب سے تو شاید کسی کو پیش ہونے کی ضرورت نہیں الیکشن کمیشن نے عمران خان کو 62 ون ایف پر نااہل تو نہیں کیا، آپکا صداقت اور امانت والا مسئلہ تو نہیں ہے ؟ الیکشن کمیشن کے نااہلی فیصلے کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت 20دسمبرتک ملتوی کر دی گئی

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن عمران خان کو نااہل کر چکا ہے،اب نیب نے بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں، نیب نے توشہ خانہ کے حوالہ سے سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق صدر آصف زرداری، سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف بھی تحقیقات کی تھیں،الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو 63 ون کے تحت نااہل قراردیا تھا،الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ عمران خان کی نااہلی 5 رکنی کمیشن کا متفقہ فیصلہ ہے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے غلط گوشوارے جمع کروائے

    توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کیخلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان کیا تھا،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہوگا یہ ایسی چوری ہے جس میں مقدمہ درج ہونے سے پہلے ہی سب کچھ ثابت ہے

    جھوٹ پھیلانے والا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ،عمران خان کی نااہلی پر بلاول کا ردعمل

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • 22 ویں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ،رجسٹریشن کروا لیں،رکن ممالک کو مراسلہ جاری

    22 ویں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ،رجسٹریشن کروا لیں،رکن ممالک کو مراسلہ جاری

     

    پاکستان برج فیڈریشن کے زیر انتظام 22 ویں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہو گی

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ کی جانب سے اس حوالہ سے رکن ممالک بنگلہ دیش، بھارت، اردن، کویت،پاکستان، فلسطین، سعودی عرب، سری لنکا،متحدہ عرب امارات کے صدور کو اعلامیہ جاری کیا گیا ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ 22 ویں برج فیڈریشن چیمیئن شپ پاکستان کے شہر لاہور میں شروع ہو گی، 22 ویں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ کا آغاز 5 مئی بدھ سے ہو گا اور 13 مئی تک جاری رہے گی، اعلامیہ میں لاہور کی سیاحتی صنعت بارے میں بھی بتایا گیا اور کہا گیا کہ لاہور میں مشہور بادشاہی مسجد، وزیر خان مسجد، لاہور قلعہ سمیت کئی تاریخی عمارات سمیت سکھ اور صوفی مزارات بھی ہیں

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ کی جانب سے جاری خط میں کہا گیا ہے کہ 22 ویں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین کے انعقاد کے لئے ہمیشہ کی طرح پر جوش ہیں، شرکا کے لئے اس چیمپئن شپ کو یادگار بنائیں گے، چیمپئن شپ کو انٹرنیٹ پر پوری دنیا میں لائیو دکھانے کا انتظام بھی کیا جائے گا، چیمپئن شپ میں چار ایونٹس شامل ہوں گے: اوپن، ویمن، سینئرز اور مکسڈ ٹیمیں،لاہور کے معروف ہوٹل پی سی میں چیمپین شپ کا انعقاد کیا جائے گا،

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ کی جانب سے جاری مراسلے میں 22 ویں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ میں شرکت کےلئے شرائط، فیس، اور شیڈول بارے بھی بتایا گیا ہے،فیس کی ادائیگی کے لئے بینک اکاؤنٹ بھی دیا گیا ہے ،رکن ممالک کے صدور کو کہا گیا ہے کہ جنوری 2023کے آختر تک ٹیموں کی رجسٹریشن مکمل کروا لیں، اس ضمن میں کسی بھی معلومات کے لئے پاکستان برج فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری احسان قادر سے انکے فون نمبر+92 342 4330000 یا ای میل secretary@pakistanbridgefederation.com, ihsanqadir@imlpk.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے

    پاکستان برج فیڈریشن کے صدر مبشر لقمان پاکستان میں برج کے فروغ کے لئے متحرک ہیں ، پاکستان میں 22 ویں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ کے حوالہ سے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ برج کے فروغ کے لیے برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ اہم قدم ہے ،انہوں نے پاکستان کی ٹیم کے لئے بھی نیک جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ گڈ لک ٹیم پاکستان، مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ 22 ویں برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپین شپ کا پاکستان میں ہونا پاکستان کے لئے ایک اعزاز ہے، بین الاقوامی کھلاڑی پاکستان آئیں گے. اس چیمپین شپ میں 22 ممالک کے کھلاڑی اور ٹیمیں شرکت کریں گے۔ لاہور میں ہونے والی چیمپین شپ کے نتائج آنے سے آٹھ ممالک ورلڈ برج چیمپئن شپ کے لئے کوالیفائی کریں گے ، ورلڈ برج چیمپین شپ اگلے برس اگست میں مراکو میں ہو گی،

    مبشر لقمان پاکستان برج فیڈریشن کے صدر منتخب

    سپریم نیشنل برج چیمپئن شپ:باغی ٹی وی ٹیم کی شاندار کاکردگی

    لاہور میں تین روزہ پاکستان نیشنل برج ٹورنامنٹ اختتام پذیر 

    برج گیم میں جوا اور پیسے نہیں لگتے:برج پلیئرغیاث ملک ، جہانگیر اور سعید اختر

    جورڈن(اردن) انٹرنیشنل برج فیسٹول میں باغی ٹی وی کی ٹیم شرکت 

  • عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس قابل سماعت ہے یا نہیں؟ فیصلہ 15 دسمبر کو

    عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس قابل سماعت ہے یا نہیں؟ فیصلہ 15 دسمبر کو

    اسلام آباد سیشن کورٹ، عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی

    الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے دلائل کا آغاز کر دیا ،کہا عمران خان نے کہا کہ توشہ خانہ سے ملنے والی رقم سے سڑک بنائی، 2018میں قانون بنا کہ 20 فیصد رقم توشہ خانہ میں جمع کروا کر تحفہ حاصل کیا جاسکتا ہے، تحریک انصاف کی حکومت نے 20 فیصد سے رقم 50 فیصد تک بڑھا دی،گھڑی کی قیمت ساڑھے آٹھ کروڑ روپے لگائی گئی،عمران خان بتانے میں ناکام رہے کہ گھڑی آگے کتنے میں بیچی گئی، کیس گھڑی نہیں بلکہ عمران خان کے اثاثوں کی تفصیلات سے متعلق ہے، عمران خان اور ان کی اہلیہ نے توشہ خانہ سے 58 تحائف لیے، عمران خان کی جانب سے لئے گئے تحائف کی مالیت 14 کروڑ 20 لاکھ روپے ہے،2018-19 میں عمران خان نے توشہ خانہ سے تقریباً 10کروڑ 70 لاکھ روپے کے تحائف لئے، جوتحائف یا پراپرٹی لی وہ ان کے اثاثوں میں شمار ہوگی،عمران خان کو اپنے تمام اثاثے الیکشن کمیشن کے سامنے ظاہرکرنے چاہیے تھے

    وکیل نے کہا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے جیولری بھی لی لیکن ظاہر نہیں کی، عمران خان نے اپنے گوشواروں میں 4 بکریوں اور 5 لاکھ روپے کا بھی ذکر کیا ہوا ہے سینیٹ،صوبائی یا قومی اسمبلی کیلئے الیکشن لڑنے والا کوئی فرد اپنے اثاثے ظاہرنہیں کرتا تویہ جرم ہے، عمران خان نے دوگنی قیمت کے تحائف توشہ خانہ سے نکلوائے جس کا اقراربھی کرچکے ہیں، عمران خان نے تمام تحائف کی ایک تہائی سے کم قیمت توشہ خانہ میں جمع کرائی،عمران خان تحائف کی قیمت پبلک نہیں کرنا چاہتے تھے،عمران خان نے توشہ خانہ سے142 ملین میں سے107 ملین روپے کے تحائف 20 فیصد قیمت پرحاصل کیے عمران خان دراصل چاہ ہی نہیں رہے تھے کہ 142 ملین روپوں کے تحائف پبلک کیے جائیں،2019/20 میں عمران خان نے ٹیکس ریٹرنزمیں 8 ملین روپے توشہ خانہ کی مد میں ظاہر کیے،عمران خان نے 2019/20 میں نہیں بتایا کہ 8 ملین روپے کن آئٹمزکی قیمت ہے اگرکوئی آئٹمز ٹرانسفر ہوئے تو اس کا بھی گوشواروں میں اظہار کرنا لازم ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی تحفہ یا آئٹم توشہ خانہ سے ملکیت بنایا جائے اورظاہر نہ کیا جائے عمران خان کی جانب سے 2020/21 کے گوشواروں کو الیکش کمیشن صحیح مانتا ہے 2020/21 تک توشہ خانہ کا معاملہ قومی اسمبلی اورکیس ہائیکورٹ میں آچکا تھا عمران خان کا توشہ خانہ کا طریقہ کارمنی لانڈرنگ والا ہے توشہ خانہ تحائف کی رقم کیا کسی اور نے ادا کی یا کیش میں کی گئی؟11 ملین کا جو ٹیکس بنتا تھا اس کو چھپایا گیا لیکن وہ معاملہ ٹیکس اتھارٹیزکا ہے، عمران خان کے 2017/18 اور 2020/21 کے گوشوارے درست ہیں عمران خان کے 2018/19 اور 2019/20 کے گوشوارے متنازع ہیں،2021 میں کچھ رقم کوظاہرکیا گیا جو اس سے پچھلے 2 سال میں ظاہرنہیں کیا گیا

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس قابل سماعت ہے یا نہیں؟ فیصلہ 15 دسمبر کو سنایا جائے گا سیشن کورٹ اسلا م آباد نے فیصلہ سنانے کیلئے 15 دسمبر کی تاریخ مقرر کر دی ،جج سیشن کورٹ اسلا م آباد ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ 15دسمبر کو 2 بجے فیصلہ سنایا جائے گا،

    دوسری جانب تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کو ترمیم شدہ پارٹی آئین کی کاپی جمع کرادی تحریک انصاف نے پارٹی آئین میں ترمیم کے ذریعے جماعتی ڈھانچے میں تبدیلی کی ہے ترمیم کے ذریعےپارٹی ٹکٹ جاری کرنےکیلئے باقاعدہ طریقہ کار وضع کیا گیا، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف سے ترمیم شدہ پارٹی آئین طلب کیا تھا،

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن عمران خان کو نااہل کر چکا ہے،اب نیب نے بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں، نیب نے توشہ خانہ کے حوالہ سے سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق صدر آصف زرداری، سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف بھی تحقیقات کی تھیں،الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو 63 ون کے تحت نااہل قراردیا تھا،الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ عمران خان کی نااہلی 5 رکنی کمیشن کا متفقہ فیصلہ ہے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے غلط گوشوارے جمع کروائے

    توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کیخلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان کیا تھا،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہوگا یہ ایسی چوری ہے جس میں مقدمہ درج ہونے سے پہلے ہی سب کچھ ثابت ہے

    جھوٹ پھیلانے والا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ،عمران خان کی نااہلی پر بلاول کا ردعمل

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ