Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وفاق فنڈز نہیں دے رہا،خیبر پختونخواہ، گلگت کے وزیراعلیٰ،پنجاب،آزاد کشمیر کے وزیر خزانہ کی دہائی

    وفاق فنڈز نہیں دے رہا،خیبر پختونخواہ، گلگت کے وزیراعلیٰ،پنجاب،آزاد کشمیر کے وزیر خزانہ کی دہائی

    وفاق فنڈز نہیں دے رہا، پختونخواہ، گلگت کے وزیراعلیٰ،پنجاب،آزاد کشمیر کے وزیر خزانہ کی دہائی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے وفاق پر فنڈز نہ دینے کے الزامات لگا دئے، پنجاب، خیبر پختونخواہ،گلگت بلتستان کے وزرا نے پریس کانفرنس کی تو آزاد کشمیر کے وزیر خزانہ بھی پیچھے نہ رہے، تمام رہنماؤں نے فنڈز نہ ملنے کی صورت میں قومی اسمبلی کے سامنے احتجاج کی کال دینے کا عندیہ دے دیا

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان کا کہنا ہے کہ صوبائی معاملات پر مشاورت ہوتی رہتی ہے فنڈزکے حوالے سے ون پوائنٹ ایجنڈا ہے وفاق کے ذمہ خیبرپختونخوا کے بقایاجات ہیں،وفاق کو خبردار کررہاہوں ہمارے واجبات ادا کرے وفاقی حکومت جب سے آئی ہے ہمیں مالی مسائل کا سامنا ہے خیبرپختونخوا نے تاریخ میں ایک اعشاریہ 3ٹریلین بجٹ دیا ہم نے وفاق سے بقایاجات پر بات کرنے کی کوشش کی ،ہمیں دسمبر تک 5اعشاریہ 5ارب روپے ملے ہیں ایکس فاٹا کے فنڈز بھی نہیں دیئے گئے ،بجٹ پر کٹ لگایا گیا،اگلا لائحہ عمل بعد میں بتائیں گے، قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا بھی دیں گے، خیبرپختونخوا کےعوام کو اکٹھا کر کے لائیں گے، اپنا حق چھینیں گے، اگر ہمارے پیسے ہمیں نہیں ملے تو ہر حد تک جانے کو تیار ہیں، ہمیں کسی بینک وغیرہ سے قرضہ لینے کی بھی اجازت نہیں دے رہے،

    وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے ہمارے ترقیاتی بجٹ پر کٹ لگایا،اس وقت ایسی حالت ہے، مرمتی کام تک نہیں کر سکتے، گلگت بلتستان ٹھنڈا علاقہ ہے مگر وہاں 21 سے 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہے، گندم کی سبسڈی وفاق ہمیشہ دیتا رہا، اب کہاں سے گندم اور بجلی پوری کریں گلگت بلتستان کونسل کے کچھ پیسے پھنسے ہوئے تھے، ان کے لیے خط لکھا، وفاق کی جانب سے بات سنی جارہی ہے نہ ہی رسپانس دے رہے ہیں، وفاق نے مذاق بنا رکھا ہے، 25 فیصد باقیوں کے بڑھائے وہی بڑھا دیتے، ہمیں سمجھ نہیں آرہی یہ کیا چاہ رہے ہیں، پی ایس ڈی پی ایک ٹکا نہیں دیا،سردیوں کا سیزن سخت ہے، ہمیں پیسے ملنے چاہیے تھے نہیں د یئے گئے،ہمارے پاس احتجاج کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہم نے احتجاج کیا تو وفاق کو پتہ لگ جائے گا،ہم اپنے لوگوں کو ساتھ لاکر قومی اسمبلی کے باہر احتجاج کریں گے،گلگت بلتستان این ایف سی میں نہیں ہمیں گرانٹ ملتی ہے،گلگت بلتستان کا بجٹ 40 ارب سے 25 ارب روپے کردیا تاریخ میں پہلے کبھی ایسی دشمنی اس خطے کےساتھ نہیں ہوئی،پی ڈی ایم حکومت نے آتے ہی جی بی کے ترقیاتی بجٹ میں کمی کردی

    صوبائی وزیر خزانہ پنجاب محسن لغاری کا کہنا تھا کہ پنجاب کو بھی فلڈ کے حوالے سے ایک بھی پیسہ نہیں دیا گیا، ایکنک کی میٹنگ میں پنجاب کا ایک بھی پراجیکٹ نہیں رکھا گیا،سندھی اور بلوچی بھائیوں کا نقصان ہوا ان کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں، ایشین ڈویلپمنٹ کے ساتھ ہمارا بھی ایک پروگرام تھا، ہم ایک گریٹر کینال بنارہے تھے، فوڈ سیکیورٹی کے لیے بہت بہتر تھا، جہلم میں کینال بنا رہے تھے، ڈیمز بنا رہے تھے،وفاقی حکومت نے ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے ساتھ سائن نہیں کیا ، وفاقی حکومت کا صوبوں کے ساتھ تعاون بہت کم ہے، مالی معاملات میں تو ہر صوبے کو این ایف سی کے تحت ہمیں حصہ ملتا ہے وہ نہیں مل رہا، آواز اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، خط بھی لکھتے رہے ہیں،

    پاکستان سے انتہائی اہم شخصیت سعودی عرب پہنچ گئی

    سعودی عرب کے دو ایئر پورٹس پر ڈرون حملے،فضائی آپریشن معطل

    جمال خاشقجی کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کیلیے ہر ممکن کوشش کرینگے،منگیتر کا عدالت میں بیان

    امریکی صدر جوبائیڈن نے دیا محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا

    جمال خاشقجی قتل،سعودی ولی عہد نے خاموشی توڑ دی

    وزیر خزانہ آزاد کشمیر عبدالماجد خان کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کی اہمیت ہے ،وہاں کے معاملات بھی اہم ہیں، معیشت کے چیمپئن وفاق میں آکے بیٹھ گئے، رجیم چینج کے بعد وفاق نے سب سے پہلے آزاد کشمیر کو ہٹ کیا،ہمیں 60 ارب روپے دیئے ، ہم بجٹ پیش نہیں کر رہے تھے، قمر زمان کائرہ اور مفتاح اسماعیل نے میٹنگ کی اور کہا جائیں بجٹ پیش کریں، میٹنگ کی منٹس کی کاپی بھی موجود ہے،پنشن ، پاورٹی الاؤنس اور باقی مراعات دیں ، ہم چھٹے ماہ کی تنخواہ ادائیگی کے قابل نہیں ہیں،ڈویلپمنٹ پیکج 28 ارب روپے تھا، 25 ارب روپے کر دیا گیاایلوکیشن 19 ارب روپے کی تھی 2 ارب 80 کروڑ دیا، ہمارے صبر کے پیمانے لبریز ہوچکے ہیں، پر امن احتجاج کے علاوہ کچھ نہیں ہے،31سال بعد آزاد کشمیر میں بلدیاتی الیکشن کروائے، ہمیں پولیس بھی نہیں دی ،

  • الیکشن کمیشن نے عمران خان کی پریس کانفرنس کا نوٹس لے لیا

    الیکشن کمیشن نے عمران خان کی پریس کانفرنس کا نوٹس لے لیا

    الیکشن کمیشن نے عمران خان کی پریس کانفرنس کا نوٹس لے لیا،

    الیکشن کمیشن نے پیمرا سےگزشتہ روزکی تقریرکا سکرپٹ مانگ لیا،الیکشن کمیشن نے پیمرا کوآج عمران خان کی تقریر کا اسکرپٹ فراہم کرنے کی ہدایت کر دی،میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن آرٹیکل 204 کے تحت عمران خان کیخلاف کارروائی کرسکتا ہے عمران خان نے گزشتہ روزچیف الیکشن کمشنرکوتنقید کا نشانہ بنایا تھا ،الیکشن کمیشن پہلے ہی عمران خان کے خلاف توہین چیف الیکشن کمشنر کی کاروائی کر رہا ہے

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے 13 دسمبر کو سماعت ہونے والے کیسز ڈی لسٹ کر دیئے، اب کیسز کی سماعت 20دسمبرکو ہوگی الیکشن کمیشن نے عمران خان کو پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا کیس ڈی لسٹ کردیا الیکشن کمیشن نے عمران خان ضمنی الیکشن میں کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا کیس ڈی لسٹ کردیا

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    توہین الیکشن کمیشن کے حوالہ سے عمران خان سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنما سپریم کورٹ بھی گئے تھے، تا ہم سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے سب کو جھٹکا دیا، عمران خان، فواد چودھری اور اسد عمر کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا گیا، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ الیکشن کمیشن عمران خان، فواد چودھری اوراسد عمر کیخلاف سماعت جاری رکھے، لاہور اور سندھ ہائیکورٹس نے الیکشن کمیشن کو سماعت سے نہیں روکا،الیکشن کمیشن لاہور اور سندھ ہائیکورٹس کے فیصلے تک کیس میں کوئی حتمی آرڈر جاری نہ کرے، ہائیکورٹس میں زیر التوا درخواستوں پر جلد سماعت مکمل کی جائے،الیکشن کمیشن کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی قیادت کیخلاف حکم دینے سے روک رکھا ہےلاہور ہائیکورٹ نے توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی سے نہیں حتمی فیصلے سے روکا ہے، قانون کے مطابق توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی جاری رہے گی

  • عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا
    سیشن کورٹ اسلام آباد،متنازعہ ٹویٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی حاضری کے بعد عدالت سے روانہ ہو گئے،اعظم سواتی کے وکیل بابر اعوان کی جانب سے دلائل دیئے گئے،

    دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ نے اعظم سواتی کی سندھ میں گرفتاری کے خلاف درخواست فوری سماعت کے لیے منظور کر لی اعظم سواتی کے بیٹے عثمان سواتی نے والد کی سندھ میں گرفتاری کے خلاف نئی درخواست دائر کی تھی جس کی فوری سماعت کی استدعا کی گئی تھی سندھ ہائیکورٹ نے عثمان سواتی کی درخواست کو فوری سماعت کے لیے منظور کرلیا جس پر جسٹس کے کے آغا کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ سماعت کرے گا درخواست پر سماعت کےسلسلے میں اعظم سواتی کے بیٹے اور سندھ میں اپوزیشن لیڈر حلیم صدیقی سندھ ہائیکورٹ پہنچ گئے ہیں

    عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بتائیں ایک ہی واقعہ کی اتنی ایف آرز کیسے کٹیں ؟ پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف سندھ میں مقدمات کے خلاف عثمان سواتی کی درخواست آج ہی دائر کی گئی ہے ،ہمیں مہلت دی جائے ،جسٹس کریم خان آغا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی مہلت نہیں دی جائے گی کل تک تیاری کرلیں ،عدالت نے آئی جی کو ہدایت کی کہ تمام ایس ایس پیز کو بلوالیں جہاں جہاں مقدمات درج ہوئے ہیں،
    اگر تمام مقدمات کی وضاحت پیش نہیں کی گئی تو آپ کے خلاف کارروائی کی جائے گی ،تمام ایف آئی آرز کی انگلش ٹرانسلیشن لے کر آئیں ،آئی جی سندھ نے کہا کہ ہمیں مہلت دی جائے ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نہیں کوئی مہلت نہیں دی جائے گی کل تک تمام ایف آئی آرز لے کر آئیں ،انوسٹی گیشن بہت ہی خراب ہے ،پولیس ہاتھ کھڑے کر لے گی تو عام شہری کیا کرینگے؟

    علاوہ ازیں پروین رحمان قتل کے ملزمان سے متعلق کیس میں اعظم سواتی کا بھی ذکر سامنے آیا،عدالت نے آئی جی سندھ کو مخاطب کر کے کہا کہ ہمیں اعظم سواتی کے خلاف مقدمات کی تفصیلات بتائیں ،سنا ہے کے وکٹیمائزیشن ہورہی ہے اور کیسز بن رہے ہیں ، اعظم سواتی کے خلاف ایک ہی الزام میں کئی مقدمات کیسے درج ہوئے ؟ عدالت نے آئی جی سندھ کو تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کردی اور کہا کہ سابق وزیراعظم سیاسی انتقام کی بات کر رہے ہیں، اعظم سواتی سینیٹر ہیں ان کے خلاف کیسز کیسے ہو رہے ہیں آئی جی سندھ اور سیکریٹری داخلہ بتائیں ایک سے زائد ایف آئی آرز کیسے ہو رہی ہیں؟ ایس ایس پیز سے رپورٹس طلب کریں اور اس پر وضاحت پیش کریں،

    واضح رہے کہ اعظم سواتی متنازع ٹوئٹ کے کیس میں گرفتار ہیں جنہیں گزشتہ ہفتے سندھ پولیس نے گرفتار کیا اور انہیں بلوچستان سے سکھر منتقل کیا گیا ،

    قبل ازیں اعظم سواتی کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں درج مقدمات اسلام آباد ٹرانسفر کرنے کی درخواست دائر کی گئی ہے،درخواست تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے دائر کی ہے، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں وفاقی حکومت ، ڈی جی ایف آئی اے اور آئی جی سندھ و بلوچستان کو فریق بنایا گیا ہے، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے اعظم سواتی کو جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا ایف آئی اے مقدمہ کے بعد ملک بھر میں اعظم سواتی کے خلاف متعدد مقدمے درج ہوئے اعظم سواتی کو دیگر علاقوں میں کیسز میں پیش ہونے پر سکیورٹی خطرات ہیں سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اعظم سواتی پر درج تمام مقدمات کو اسلام آباد میں یکجا ٹرانسفر کیا جائے ،سپریم کورٹ میں درخواست التوا کے دوران مقدمات پر آپریشن معطل کیا جائے .

    اعظم سواتی مشکل میں پھنس گئے، حکومت کا ایک اور ایکشن

    پورے راستے مجھ پر تشدد کیا گیا، میری ویڈیوز بنائی گئیں،اعظم سواتی

    نازیبا ویڈیو کی تحقیقات،اعظم سواتی کمیٹی میں پیش نہ ہوئے،ایف آئی اے نے بتائی حقیقت

    اسلام آباد:اعظم خان سواتی نے سپاہی سےسینیٹرتک کا سفرکس طرح‌ طے کیا؟

     تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کو گرفتار کر لیا گیا

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

  • چمن بارڈر فائرنگ،افغان حکومت یقینی بنائے کہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو،وزیراعظم

    چمن بارڈر فائرنگ،افغان حکومت یقینی بنائے کہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو،وزیراعظم

    چمن بارڈر فائرنگ،افغان حکومت یقینی بنائے کہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چمن بارڈر پرفائرنگ اور گولہ باری کے واقعے کی مذمت کرتے ہیں،چمن بارڈر پر فائرنگ اور گولہ باری سے پاکستانی شہری شہید اورزخمی ہوئے افغان حکومت یقینی بنائے کہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو،

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ چمن بارڈرپرافغان فورسز کی فائرنگ کی مذمت کرتے ہیں افغان بارڈر فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ سے 6 شہری جاں بحق ،17 زخمی ہوئے،افسوس ناک واقعات برادرانہ تعلقات کے مطابق نہیں،افغان حکام کو آگاہ کیا گیا کہ ایسے واقعات سے گریز کیا جائے،افغانستان فائرنگ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے پاکستان افغانستان حکام رابطے میں ہیں ،

    وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان نے چمن میں افغان بارڈر پرفائرنگ واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ فائرنگ میں شہید ہونے والے شہریوں کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہیں،فائرنگ میں زخمی ہونے والے 17 شہریوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہیں،

    چیئرمین سینیٹ محمدصادق سنجرانی نے چمن بارڈر پر فائرنگ اور گولہ باری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قیمتی اورمعصوم جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ افغان حکومت اس طرح کے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنائے۔سرحدپر بسنے والے شہریوں کی حفاظت کرنا دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ چیئرمین سینٹ نے شہدا کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے بھی چمن بارڈر پر اافسوسناک واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے معصوم جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے

    دوسری جانب چمن کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ باب دوستی دوطرفہ تجارت اور پیدل آمدورفت کیلئے کھول دیاگیا ،سرحد پر معمول کے مطابق آمدورفت اور تجارتی سرگرمیاں بحال ہیں شیلنگ سے زخمی 12 زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال سے ڈسچارج کردیا،گزشتہ روز افغان سرحدی فورسز کی شہری آبادی پر شیلنگ سے 7 شہری شہید ہوئےتھے

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

  • پروین رحمان قتل کیس،بہت ہوگیا ہم پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیں گے،عدالت

    پروین رحمان قتل کیس،بہت ہوگیا ہم پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیں گے،عدالت

    سندھ ہائیکورٹ ،ڈائریکٹر او پی پی پروین رحمان قتل کیس کی سماعت ہوئی

    بری ملزمان کی نظر بندی کےسلسلے میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن پیش ہوئے،سیکریٹری داخلہ سندھ سعید احمد اور دیگر بھی ہائیکورٹ میں پیش ہوئے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ درخواست قابل سماعت نہیں ،سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ لوگ بد نیتی پر مبنی فیصلے کرتے ہیں اور آکر اعتراف کررہے ہیں ، جسٹس کے کے آغاز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب ہائیکورٹ نے بری کرنے کا حکم دیا تو نظر بندی کا کیا جواز ہے؟ فیصلے پر اعتراض تھا تو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریں ،اس طرح کا رویہ ہر گز قابل قبول نہیں ہے ،اگر ملزمان سے نقص امن کا خدشہ ہے تو سی آر او کہاں ہیں ؟عدالت نے آئی جی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پبلک سرونٹ ہیں کسی حکومت کے نہیں ،

    آئی جی سندھ نے عدالت میں کہا کہ ملزمان کے خلاف ایک ہی مقدمہ پروین رحمان قتل کیس درج ہے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم 15،15 قتل کے ملزمان کو عدم شواہد پر رہا کردیتے ہیں ان کے خلاف ایم پی او کیوں نہیں لگاتے ؟عدالت شواہد دیکھتی ہے اور فیصلہ کرتی ہے پروین رحمان کیس کے ملزمان رہا ہو کر کب اور کہاں گئے تھے ؟ ملزمان رہا ہوکر اورنگی ٹاؤن گئے،آپ کو کس نے اطلاع دی کہ ان سے خطرہ ہے ؟آئی جی سندھ نے عدالت میں کہا کہ ملزمان کے حوالے سے خفیہ اطلاعات تھیں، عدالت نے اسفتسار کیا کہ آپ کو کسی ایس ایچ او کسی پولیس افسر نے بتایا ؟ایڈوکیٹ جنرل بتائیں ان کے خلاف کیا کارروائی ہوسکتی ہے ؟ معذرت کے ساتھ آپ کے محکمے کی انویسٹی گیشن سے مطمئن نہیں، خراب انویسٹی گیشن پر متعدد بار متنبہ کر چکے

    آئی جی سندھ نے عدالت میں کہا کہ ہمیں ایک اور چانس دے دیا جائے، عدالت نے کہا کہ آپ سب کے خلاف خراب انویسٹی گیشن پر کارروائی ہونی چاہیے، ملزمان کو 90 روز کے لیے بند کرنا چاہتے ہیں، وضاحت دیں، آپ نے جس طرح انویسٹی گیشن کی، فیصلے میں سب لکھ دیا ہے،آپ کی انویسٹی گیشن سے بالکل مطمئن نہیں، بہت ہوگیا ہم پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیں گے،جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی تفتیش ناقص ہے، اگر شواہد تھے تو عدالت میں پیش کرتے ،عدالت نے آئی جی سے سوال کیا کہ اسپیشل برانچ آپ کے ماتحت کام کرتی ہے ؟ جس پر آئی جی سندھ نے جواب دیا کہ جی ،اسپیشل برانچ ہمارے ماتحت کام کرتی ہے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لیٹر آپ کے ادارے کا ہے اور پولیس کی کارکردگی ہمارے سامنے ہے ،آئی جی سندھ نے کہا کہ ہمیں آئی بی کے ذمہ دار افسر کا فون آیا تھا انہوں نے خدشے کا اظہار کیاتھا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کے حوالے سے کارکردگی بتانے کی ضرورت نہیں ہے،لاپتہ افراد کے کیسز میں جو کارکردگی ہے اس پر بھی بات کریں ؟ آئی جی سندھ نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تعداد اب کم ہورہی ہے ہم اس پر کام کررہے ہیں ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں نہ بتائیں کام کررہے ہیں جو رپورٹس آتی ہیں اس میں سب لکھا ہوتا ہے،آئی جی سندھ نے کہا کہ اندازے اور اطلاعات کی بنیاد پر لیٹر جاری کیا جاتا ہے ، اندازہ غلط بھی ہوسکتاہے

    عدالت نے سیکرٹری داخلہ سندھ سے سوال کیا کہ آپ کس گریڈ کے افسر ہیں ؟ سیکرٹری داخلہ سندھ نے عدالت میں جواب دیا کہ میرا گریڈ 20 ہے عدالت نے سوال کیا کہ کون سے شواہد کی بنیاد پر ایم پی او کا فیصلہ کیا گیا ؟ ملزمان 9دن تک باہر رہے، کوئی شرپسندی یا کوئی جرم کیا ؟ آپ لوگ مسلسل ایک فون کال کو ا نٹیلی جنس رپورٹ کہہ رہے ہیں ،جب تک ملزمان کے سی آر او سے خطرناک ثابت نہیں کرتے ایم پی او کا کوئی جواز نہیں ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کو انتظامی فیصلے کرنے کا اختیار ہے، اجازت دی جائے ،سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ اگر آپ ایم پی او کا حکم واپس لیتے ہیں تو کیس ختم ہوجائےگا ،سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ مجھے کابینہ نے اختیار دیا ہے اسلیے مشاورت کا موقع دیا جائے ، عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو حکم دیا کہ آدھے گھنٹے میں حکام سے ہدایات لے کر آئیں اور جواب دیں ،عدالت نے سرکاری وکلا اور سیکریٹری داخلہ کو جواب کیلئے 12 بجے تک مہلت دے دی

    بعد ازاں کیس کی سماعت ہوئی تو سندھ ہائیکورٹ نے پروین رحمان قتل کیس کے بری ملزمان کی نظر بندی کو کالعدم قرار دے دیا سندھ ہائیکورٹ نے محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دے دیا محکمہ داخلہ سندھ نے یکم دسمبر کو پانچوں افراد کو 3 ماہ کے لیے نظر بند کرنے کا حکم دیا تھا

    آئی جی سندھ نے عدالت میں مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر آپ کو بھروسہ نہیں تو میں کیا کہوں ؟عدالت کے ریمارکس سے مجھے تکلیف ہوئی ہے، جسٹس کے کے آغاز نے آئی جی سندھ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو ملازمت میں دلچسپی نہیں تو استعفیٰ دیں ، آئی جی سندھ نے کہا کہ میں کیوں استعفیٰ دوں ؟ ہم عدالت کی عزت کرتے ہیں ،عدلیہ سے احترام کی توقع رکھتے ہیں ،سندھ ہائیکورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل کو مداخلت کرنے سے روک دیا،جسٹس کے کے آغا نے پراسیکیوٹر جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ خاموش رہیں مجھے بات کرنے دیں ،آئی جی سندھ نے کہا کہ میں آئی جی ہوں، ایس ایچ او نہیں ،آپ کو بھی ہماری عزت کرنی چاہیے ،میں سندھ پولیس کا سربراہ ہوں ،پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ میں آئی جی کی طرف سے معافی مانگتا ہوں

    اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی سربراہ پروین رحمان کو2013 قتل کیا گیا تھا۔پروین رحمان قتل کیس کے ملزمان کو دسمبر2021 میں سزائیں سنائی گئی تھیں۔ انسداد دہشتگردی کی عدالت نے ملزم رحیم سواتی، امجد حسین، ایاز سواتی اور احمد حسین کو دو بار عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ سندھ ہائیکورٹ نے ملزمان کی سزاؤں کے خلاف اپیل منظورکرتے ہوئے سزاؤں کو کالعدم قراردیتے ہوئے حکم دیا کہ اگر ملزمان دوسرے کیسز میں مطلوب نہیں توانہیں رہا کیا جائے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک اور ریفرنس بھیج دیا گیا

    پروین رحمان قتل کیس ،سپریم کورٹ میں سماعت ملتوی

    واضح رہے کہ کراچی کی ایک انسداد دہشتگردی کی عدالت نے سماجی کارکن پروین رحمان کے قتل کے مقدمے میں چار ملزمان کو پچھلے سال دو، دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ ان چار ملزمان رحیم سواتی, احمد خان, امجد اور ایاز سواتی پر دو, دو لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔ جبکہ پانچویں مجرم عمران سواتی کو قتل میں دیگر مجرموں کی معاونت کرنے پر سات سال قید اور دولاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔

    گذشتہ نو برسوں میں مجسٹریٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک پروین رحمان کے قتل کے مقدمے کی درجنوں سماعتوں کے بعد بالآخر 17 اکتوبر 2021 کو ٹرائل کورٹ نے اس کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو 28 اکتوبر 2021 کو سنایا گیا۔ یاد رہے کہ 13 مارچ 2013 کو سماجی کارکن پروین رحمان کو اپنے دفتر جاتے ہوئے ایک موٹر سائیکل پر سوار دو اسلحہ برادر افراد نے فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ یہ واقع کراچی کی مین منگھو پیر روڈ پر پیش آیا تھا۔

    خیال رہے کہ ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے جبکہ 55 برس کی سماجی کارکن کو ان کے ڈرائیور نے شدید زخمی حالت میں عباسی شہید ہسپتال پہنچایا تھا، جہاں وہ علاج کے دوران دم توڑ گئیں۔ انھیں گردن میں گولیاں لگی تھیں

  • آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرکا کوئٹہ اور تربت کا دورہ:یادگارشہدا پرپھولوں کی چادر چڑھائی

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرکا کوئٹہ اور تربت کا دورہ:یادگارشہدا پرپھولوں کی چادر چڑھائی

    راولپنڈی :آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرکا کوئٹہ اور تربت کا دورہ:یادگارشہدا پرپھولوں کی چادر چڑھائی،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل سید عاصم مینر دوروزہ دورے پر بلوچستان پہنچے ہیں ، اس سلسلے میں آج چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نےکوئٹہ اور تربت کا دورہ کیا۔

    آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے کور ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا اور شہدا کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔بعد ازاں آرمی چیف کو آپریشنل، ٹریننگ اور فارمیشن کے دیگر معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی

     

     

    دورہ بلوچستان کے دوران آرمی چیف نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ اور اسکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹکس کا بھی دورہ کیا اور نوجوان افسران اور انسٹرکٹرز سے بات چیت کی اور انہیں مستقبل کے میدان جنگ کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پیشہ ورانہ مہارت پر توجہ مرکوز کرنے کی تاکید کی

    دورے کے دوسرے روزآرمی چیف نے تربت کا دورہ کیا۔ آئی جی ایف سی جنوبی بلوچستان نے آرمی چیف کو جنوبی بلوچستان میں سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال اور محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی تاکہ پائیدار امن اور خوشحالی کے نتیجے میں سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے سازگار ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔

    قبل ازیں آرمی چیف کوئٹہ پہنچنےتو کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور نے استقبال کیا۔

  • واہ خان صاحب، کیا عمدہ کھیل کھیلتے ہیں

    واہ خان صاحب، کیا عمدہ کھیل کھیلتے ہیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ارشد شریف قتل کیس ایک ایسا معمہ بن چکا ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید الجھتا جا رہا ہے ۔ روز ایک ایسا انکشاف ہوتا ہے جو پہلے انکشاف پہ بھاری ہوتا ہے ۔ روز ایک نئی داستان جنم لیتی ہے اور روز ایک نئی کہانی سننے کو ملتی ہے ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کچھ کہتی ہے حکومت کچھ اور کہتی ہے۔جبکہ ہمارا عدالتی نظام کچھ اور ہی رام کتھا سنا رہا ہے ۔لیکن اس سارے سلسلے میں ایک مخصوص طبقہ ۔۔ بلکہ مخصوص کیوں کہنا ہے میں نام ہی لے لیتا ہوں کہ تحریک انصاف اور ان کے چاہنے والے کچھ لوگ جو تحریک انصاف کےلیے اپنے دل میں Soft Cornerرکھتے ہیں ۔ وہ لوگ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس سارے معاملے کو متنازعہ بنانا چاہ رہے ہیں ۔ متنازعہ بنانے کے پیچھے کونسے سنگین قسم کے عزائم چھپے ہیں ؟ حکومتی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے جو پانچ سو بیانوے صفحوں کی ایک رپورٹ بنائی ہے اس کی کیا اہمیت ہے ؟اور یہ سارا معاملہ کس جانب دھکیلنے کی کوشش ہور ہی ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پہلے میں آپ کو Briefly فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے بارے میں بتا دیتا ہوںکہ انھوں نے جو ریاست کے وسائل کے استعمال کیے ہیں ۔ کینیا اور دبئی کے چکر کاٹے ہیں کینیا کی پولیس سے بات کی ہے۔دونو ں مشکو ک کردار وقار اور خرم سے بات کی ہے ۔ تو ان ساری تحقیقات یا پھر تحقیقات کے نام پر جو کچھ بھی ہوتا رہا ہے اس میں کیا باتیں سامنے آئی ہیں؟رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ارشد شریف کو غلطی سے نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش اور منصوبہ بندی کے تحت گولی ماری گئی ۔کمیٹی کے اراکین نےوقار احمد اور خرم احمد سمیت وقار کی بیوی سے بھی تفتیش کی کینیا کی پولیس سے بھی گفتگو ہوئی اور اس سے نتیجہ یہ نکلا کہ پولیس اہلکاروں کے بیانات تضادات سے بھرپور ہیں ۔رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ کینیا کی پولیس نے تحقیقات میں کوئی تعاون نہیں کیا رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جس جگہ ارشد شریف کی گاڑی تھی وہ علاقہ کاروں کی سمگلنگ کےلیے مشہور ہے اور وہاں پر پولیس کی رکاوٹیں کھڑی کرنے والی ساری باتیں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں ۔ وہ صرف ایک کہانی ہے۔رپورٹ میں ارشد شریف پر چلائی جانے والی گولی کے حوالے سے ایک اہم بات سامنے آئی جس کے مطابق ارشد شریف کو ایک گولی کمر کے اوپری حصے میں لگی ۔۔گولی گردن سے تقریباً چھ سے آٹھ انچ نیچے لگی جو سینے کی جانب سے باہر نکلی یعنی اس زخم سے ایک بات واضح ہو گئی کہ گولی قریب سے چلائی گئی۔ارشد شریف کو کمر پر بھی گولی ماری گئی لیکن جس سیٹ پر ارشد شریف بیٹھے ہوئے تھے اس کی سیٹ پرگولی کا کوئی نشان نہیں۔یعنی ارشدشریف کو کسی اور جگہ پہلے لے جایا گیا ۔ وہاں گولی چلائی گئی اور پھر انھیں گاڑی میں بٹھایا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق خرم احمد اور وقار احمد کے الگ الگ انٹرویو کیے گئے اور دونوں کے بیانات ایک دوسرے سے نہیں مل رہے تھے ۔ جب ارشد شریف کو قتل کیا گیا تو اس وقت ان کی گاڑی خرم احمد چلار ہے تھے خرم احمد نے ہی ارشد شریف کے ویزے کو Sponsorکیا ۔رپورٹ کے مطابق وقار احمد نے پہلے فارم ہاؤس کی سی سی ٹی وی فوٹیج دینے سے پہلے آمادگی ظاہر کی لیکن پھر انھوں نے فوٹیج دینے سے معذرت کرلی۔یعنی دال میں کچھ کالا نہیں ہے بلکہ پوری دال ہی کالی ہے ۔

  • منشیات برآمدگی کیس ،عدالت نے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کو بری کردیا

    منشیات برآمدگی کیس ،عدالت نے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کو بری کردیا

    منشیات برآمدگی کیس ،عدالت لاہور نے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کو بری کردیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انسداد منشیات عدالت نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی منشیات کیس میں بریت کی درخواست منظور کر لی ، بعد ازاں سماعت کے بعد عدالت نے رانا ثناء اللہ کو کیس سے بری کر دیا ،پراسیکیوشن کے 2 گواہان نے وزیرداخلہ رانا ثنااللہ کے حق میں بیان دے دیا انسپکٹر احسان اعظم اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر امتیاز چیمہ نے بیان حلفی عدالت میں جمع کرادیا ،کہا کہ ہمارے سامنے رانا ثنا اللہ سے کوئی منشیات برآمدگی نہیں ہوئی، واقعے کا حقیقی طور پر علم نہیں ہے درست حقائق نہیں جانتا، استغاثہ میں گواہی کی تائید نہیں کرتا ،ہم نے کسی قسم کی کوئی منشیات رانا ثنااللہ کے پاس نہیں دیکھی رانا ثنااللہ کےخلاف منشیات کے الزام کے ٹھوس شواہد نہیں ہیں،

    وکیل فرہاد علی شاہ نے کہا کہ رانا ثنااللہ پر سیاسی مقدمہ بنایا گیا تھا جو آج ختم ہوگیا ،فواد چودھری خود اعتراف کرچکے تھے کہ مقدمہ انہوں نے نہیں بنایا گواہان نے بیان دیا کہ رانا ثنا اللہ سے منشیات بر آمد نہیں ہوئی،رانا ثنا اللہ کے کیس میں واٹس ایپ پر جج تبدیل ہوتے تھے،رانا ثنا اللہ نے اسمبلی میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ یہ جھوٹا مقدمہ ہے،رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ ایک وقت آئیگا کہ وہ بےگناہ ثابت ہونگے،

    عدالتی فیصلے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج حق کی فتح ہوئی ، میرے خلاف مقدمہ بے بنیاد تھا،عمران خان اور شہزاد اکبر نے معاملے میں دباو ڈالا،انتقامی کیسز بنانے والوں کے لیے آج یوم عبرت ہے،آئی جی اسلام آباد نے بات نہیں سنی تو انہوں نے اے این ایف کو استعمال کیا، ہمارے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے گئے ، اب عوام کے سامنے سچ آرہا ہے، جھوٹے مقدمات کا یہی انجام ہونا چاہیے، نوازشریف اگلے الیکشن سے پہلے آئیں گے،آج کا فیصلہ ان لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے،

    وفاقی وزیرمریم اورنگزیب نے وزیرداخلہ راناثنااللہ کو بریت پر مبارکباد دی اور ہا کہ راناثنااللہ نے مقدمے کا سامنا کیا، اگر راناثنااللہ کے خلاف ثبوت تھے تو عدالت کو دیتے ،گزشتہ حکومت نے مخالفین پر بے بنیاد مقدمات بنائے پی ٹی آئی رہنما وں نے قرآن شریف کی بھی قسمیں کھائی گئیں ،رانا ثنا اللہ پر جو الزام لگائے اس کی قیمت کون ادا کرے گا ؟ الیکشن کی تاریخ اکتوبر 2023ہے

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے منشیات کیس میں بریت کی درخواست دائر کی ہے، عدالت میں درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پراسیکیوشن کے پاس ٹھوس شواہد نہیں ہیں سیاسی بنیادوں پر مقدمہ درج کیا گیا فوادچودھری کے میڈیا پر بیان کے بعد مقدمے کی کوئی حیثیت نہیں رہی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت رانا ثنااللہ کو بری کرنے کا حکم دے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    ٹرائل کورٹس میں زیرالتواء منشیات کیسز کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب

    رانا ثنا اللہ کے خلاف سی این ایس اے 1997ء کی دفعات 9 سی، 15 اور 17 کے تحت کیس درج کیا گیا،رانا ثناءاللہ کی لاہور ہائی کورٹ سے 24 دسمبر 2019 کو درخواست ضمانت منظور کر لی گئی تھی رانا ثناءاللہ اس کیس میں تقریبا چھ ماہ جیل میں قید رہے تھے رانا ثناء اللہ کو اے این ایف حکام نے یکم جولائی 2019 کو موٹر وے پر ناکہ لگا کر منشیات کی بھاری مقدار کے ساتھ گرفتار کیا تھا،

    @MumtaazAwan

  • عمران خان کی گرفتاری کا دن بھی جلد آئیگا،نواز شریف

    عمران خان کی گرفتاری کا دن بھی جلد آئیگا،نواز شریف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور سیاستدان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی،ہم وہ ہیں جنہوں نے ایٹمی دھماکے کیے، موٹر ویز بنائیں،

    لندن میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے ملک کو بجلی کے بحران سے نکالا، نئے منصوبے لگائے، ایک شخص خود کرپشن میں ڈوبا ہے اور دوسروں پر الزام لگا رہا ہے،جن کو کرپٹ کہتے ہیں انکو لندن میں عدالتیں سرٹیفکیٹ دے رہی ہیں، جھوٹے پراپیگنڈے کے بعد پھر اخباروں میں معافیاں مانگتے ہیں،اللہ نے ہمیں ہر جگہ سرخرو کیا،عمران خان کے خلاف الزمات نہیں ، ثابت شدہ کرپشن ہے، عمران خان نے 50، 50 ارب روپے کی کرپشن کی،میرے خلاف تو ہائی جیکنگ کا کیس بھی بنا گیا تھا، بتائیں کون سی ہائی جیکنگ کی ہے؟

    نواز شریف نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کسی ایک منصوبے کا نام لیں جس کی بنیاد رکھی ہو اور پایا تکمیل تک پہنچایا ہو، عمران خان اور شہزاد اکبر کو شرم آنی چاہیے، یہ جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچیں گے، ہمیں مفت میں جلاوطنی اور جیلیں بھگتنا پڑیں ،پاکستان میں عمران خان کے خلاف انکوائریاں چل رہی ہیں، پاکستان میں انکوائریوں کا کام ڈھیلا ڈھالا ہوتا ہے، ہفتے کا کام دو سال پر چلا جاتاہے، عمران خان کی گرفتاری کا دن بھی جلد آئیگا،اخبار ڈیلی میل نے عدم ثبوت کی بنا پر معافی مانگ لی ہے منی لانڈرنگ، کرپشن، کمیشن کک بیکس ،فنڈز اور آفس استعمال کے الزامات لگائے گئے نیشنل کرائم ایجنسی پہلے ہی تحقیقات کر کے شہباز شریف کو کلین چٹ دے چکی ،برطانیہ ایک آزاد جمہوری ملک ہے اور یہاں عوام کی حکمرانی ہے ،ڈیلی میل معافی کے بعد عمران خان پارٹی اور شہزاد اکبر کو سر شرم سے جھکا لینا چاہیے مریم نواز کے حق میں فیصلہ بھی عدم شوائد کی بنا پر آیا بچے بچے کی زبان پر توشہ خانہ چوری کے قصے ہیں قوم کو ان سب چیزوں کو غور سے دیکھ کر سمجھنا چاہیےبیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر مجھے نااہل کیا گیا پاکستان کا آج یہ حال کر دیا کہ غریب آدمی بچوں کا پیٹ تک نہیں پال سکتا

    سابق وزیراعظم نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ہم وہ ہیں جنہوں نے پاکستان کی معیشت کو ترقی دی،ہم نے چند ماہ میں بجلی کے کارخانے لگائے، لوڈ شیڈنگ 3سال میں ختم کر دیا ہماری خدمات قوم کے سامنے ہیں ،اب بھی کوئی نہ سمجھے تو پھر کیسے سمجھایا جائے خیبر پختونخوا میں ایک میٹرو بنائی وہ بھی فالٹی اور اربوں کا خرچ آیا، نیب کیس بھی بن گیا بلین ٹری اور القادر ٹرسٹ کی تفصیلات سامنے آئیں گی تو لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

  • بھونچال آگیا | بیٹی جائز یا ناجائز| عمران خان جواب دو

    بھونچال آگیا | بیٹی جائز یا ناجائز| عمران خان جواب دو

    لاہور:بھونچال آگیا | بیٹی جائز یا ناجائز| عمران خان جواب دو | بشری قربان | شکنجہ تیار،نااہلی کی تلوارہوچکی ہے،عمران خان کے‌ماضی کے حوالے سے مبشرلقمان نے دعویٰ کرتےہوئے کہا ہے کہ وہ جتنا عمران خان کو جانتے ہیں ، اتنا عمران خان مغرب کو بھی نہیں جانتے ، ان کا کہنا تھا کہٹیریان وائٹ عمران خان کی بیٹی ہے اور عمران خان اس کے اخراجات بھی ادا کرتے ہیں ، اس سلسلے میں عمران خان کی بہن ٹیریان وائٹ کےلیے پیسے بھی بھیجتی رہی اور اس کا خاص خیال رکھتی تھی

    ذلفی بخاری کے حوالےسے ان کا کہنا تھاکہ اس کو پتہ ہی نہیں ، ان کا کہنا تھا کہ ذلفی بخاری نے پہلے آڈیولیک ہونے پر کہا کہ اس کو جوڑ توڑ کرکے تیارکیا گیا ہے اور پھر اب اس ویڈیو کے متعلق اس کا کوئی وضاحتی بیان سامنے نہیں آیانہ ہی تائید کی اور نہ تنقید ،ان کا کہنا تھاکہ مرشدکے پہلے خاوند کی کرپشن ، مرشد کی پہلی اولاد کی کرپشن سمیت بڑے بڑے لوگوں کی کرپشن موجود ہے، ان کا کہنا تھا کہ ذلفی بخاری کی کرپشن پرپارٹی کارکنان بھی پریشان ہیں

    ان کا کہنا تھا کہ ابھی تو مزید آڈیوز لیک ہونے والی ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ جس شخص کوگھڑی بیچی گئی تھی اس نے انکار کردیا ہے ،شفیق نام کے شخص نے بیان دے کرثابت کردیا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں، عمرفاروق ظہور نے بھی انکشاف کیا تھا ، عمران خان نے جوجو توشہ خانہ سے نکال نکال کر بیچھا اس کا بھی ریکارڈ موجود ہے

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نوازشریف اگلے چند ہفتوں میں پاکستان آتے ہیں یا کہ نہیں اسکے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نوازشریف اگرپاکستان واپس آئے تو اکیلے آئیں گے ،مریم نواز نہیں آئیں گی ، ن لیگی ذرائع تو کہتے ہیں کہ مریم ضرور آئے گی مگرکم امکان ہے ،اور اگرنوازشریف آجاتے ہیں تو پھرعمران خان کو سخت مقابلے کا سامنا کرنے پڑے گا

     

     

    انہوں نے یہ بھی انکشاف کیاکہ پرویز الٰہی ہیلی کاپٹر کا تقاضا کررہے ہیں اور اس مقصد کے لیے معاملات بھی چل رہے ہیں ، پرویز الٰہی بتائیں کہ انہوں نے کون سا ایسا کام کیا ہے کہ جس میں‌ ہیلی کاپٹر کے ذریعے سفر کرنا مشکل ہوتا ہے ، وہ پنجاب حکومت کے ہیلی کاپٹر کہاں ہیں‌ ، ان کا کہنا تھاکہ پنجاب حکومت کے وہ پہلے والے طیارے کہاں گئے

    ان کا کہنا تھاکہ ٹرانسپریسی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے اور خصوصا پولیس میں کرپشن بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہے ،ہماری جوڈیشری کے بارے میں اس عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ دنیا میں کرپشن میں تیسرے نمبر پر ہے

    ان اکا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان اسمبلیاں تحلیل نہیں کریں ، ان کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان کو بہت زیادہ جانتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پرویز الٰہی کا بیان بھی سامنے آگیا ہے ، کے پی میں‌ارکان اسمبلی استعفیٰ نہیٰں دینا چاہتے ، ان کا کہنا تھاکہ بلوچستان میں بھی پی ٹی آئی کے کارکنان آپ میں دست وگریبان ہیں ، پی ٹی آئی کے اندر دراڑیں‌پڑگئی ہیں‌، ان کا کہنا تھاکہ عمران خان نے پہلے اعلان کیا کہ اسمبلیاں توڑ دیں‌گے ، لیکن کبھی عمل نہیں کرسکیں گے ، کے پی میں ارکان اسمبلی مستعفی نہیں ہونا چاہتے

    ان کا کہنا تھا کہ کل کو عمران خان نااہل ہوجاتے ہیں ، اس دوران پارٹی کا چیئرمین کون ہوگا ، ان کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی کو اہمیت نہیں دتے ، ان کا کہنا تھا کہ اسد عمر بھی امیدوار ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ بشریٰ‌ بی بی پی ٹی آئی کی چیئرمین ہوسکتی ہیں ،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان سیاست بچاتے ہیں یا انا پرستی کا شکار کرتے ہیں