Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • جنرل قمر جاوید باجوہ کی 6 سالہ کارکردگی،پاکستان کا سنہرا باب

    جنرل قمر جاوید باجوہ کی 6 سالہ کارکردگی،پاکستان کا سنہرا باب

    جو قوم اپنے محافظوں کو بھلا دیتی ہے وہ خود بھی بھلا دی جاتی ہے۔کیونکہ ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہاں ممالک کی سرحدیں دیواروں کی حیثت رکھتی ہیں اور ان کی حفاظت سپاہی اور بندوقیں کرتی ہیں۔ بےپناہ چیلنجز، مشرق اور مغرب سے دشمن کی یلغار، ملک کے اندرہائیبرڈ وار کی للکار، مہنگائی کے مارے غریبوں کی پکار، گرتی معیشت، تاریخی بجٹ خسارہ، قدرتی آفتوں کی بھرمار۔ایسے میں دنیا کی ساتویں بڑی اور 9th most powerful فوج کے سپہ سالار اپنے دفاعی بجٹ میں سو ارب کمی کی پیش کش کر دے۔ یہ انتہائی حیرانی کی بات ہے کیونکہ اس فوج نے صرف سرحدوں کی حفاظت نہیں کرنی، بلکہ ہر اُس چیز سے لڑنا ہے جو ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے۔
    چاہےگرتی معیشت ہو یا بگڑتی خارجہ پالیسی ۔
    شدید موسمی تغیرات ہوں یا اچانک قدرتی آفتیں۔
    چاہےتعلیم ، صحت ہو یا دہشت گردی
    پاک فوج نےہر میدان میں سول اداروں کے ساتھ کندے سے کندھا ملا کر اپنا کردار ادا کرنا ہے۔یہی نہیں بلکہ اس نےپوشیدہ امتحانات کو جھیلتے ہوئے مقدس مشن کی آبیاری بھی کرنی ہے، جو ایک کوہ گراہ ہی سرانجام دے سکتا ہے۔پاکستان کی فوج پر انیس سو ستر میں جی ڈی پی کا6.5% خرچ ہو رہا تھاا ور دوہزار اکیس ، بائیس میں جی ڈی پی کا2.54% جہاں پاکستان کی فوج کا بجٹ 8.8 billion doller ہے وہیں پاکستان کے ازلی دشمن بھارت اپنی فوج پر 76 billion doller خرچ کر رہا ہے۔sipri military data base کے مطابق جہاں بھارت ملٹری پر اخراجات کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے تو وہیں پاکستان کا اخراجات کے حوالے سے چالیس ممالک کی لسٹ میں 23rd تیسواں نمبر ہے۔جہاں پاکستان کا دشمن اپنے فوجی پر سالانہ
    42000 $ خرچ کر رہا ہے وہیں پاکستان اپنے فوجی پر 12500 $ سالانہ خرچ کر کے اسی دشمن کےسامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا ہوا ہے ۔

    ان حیران کن کامیابیوں کے پیچھے بلاشبہ فوجی قیادت کا اہم کردار ہے کیونکہ قیادت شاندار کارناموں کو اپنے سر کا تاج بنانےکا نام نہیں ہے۔بلکہ قیادت اپنی ٹیم کو ایک مقصد پر فوکس رکھنے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل ترغیب دینے کا نام ہے۔خاص طور پر ایسے حالات میں جب سازشوں کا جال ہر طرف بکھرا ہو ، اندرونی اور بیرونی دشمن ہر طرف سے داو پیچ کھیل رہا ہو۔ اور اس مقصد کے نتائج برائے راست ملکی سالمیت پر اثر انداز ہو رہے ہوں۔ وہ قیادت جو کامیابی کا سہرا اپنے سر سجانے کی بجائے پیچھے کھڑی دوسروں کو چمکنے کا موقع فراہم کر رہی ہو۔وہی حقیقی قیادت کہلانے کی حق دار ہوتی ہے اورقیادت کا یہ حق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خوب ادا کیا۔ دفاعی بجٹ کو کم سے کم تک محدود رکھنے کے علاوہ، پاک فوج نے سال 2019 میں دفاعی بجٹ کی مختص رقم کو منجمد کرنے کا ایک بے مثال قدم بھی اٹھایا۔اس معمولی بجٹ میں پاک فوج نے نہ صرف پرانے روائیتی ہتھیاروں کو استعمال کے لیے برقرار رکھا بلکہ ناگزیرنئے روایتی ہتھیاروں کے نظام،سمولیٹرز،سائبر وارفیئر کی ص،لاحیتوں، میزائل اور جوہری ٹیکنالوجی میں جدیدترین پیش رفت کو بھی شامل کیا ۔دیگر مدمقابل افواج کے مقابلے میں کم ترین بجٹ ہونے کے باوجود پاک فوج نے اپنی معیاری صلاحیتوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا۔ اور یہ دنیا کی واحد فوج ہے جس نے دہشت گردی کو شکست دی۔

    کیا آپ کو پتا ہے کہ پاک فوج نے سال دوہزار بیس ، اکیس میں اٹھائیس ارب روپے ٹیکس کی مد میں حکومت کو دیا۔؟کیا آ پ کو پتا ہے کہ فوجی فاونڈیشن ایک کاروباری منصوبہ نہیں بلکہ ایک ویلفیئر ادارہ ہے جو اپنی انکم کا73%شہدا کی فیملی، جنگ کے نتیجے میں ہونے والے معزور اور زخمیوں اور ریٹائر فوجیوں پر خرچ کرتا ہے۔ اس میں کام کرنے والے
    17% لوگوں کا تعلق شہدا کی فیملیوں جبکہ83% سویلین سے ہے۔ فوجی فاونڈیشن نے سال دوہزار اکیس میں تقریبا ایک ارب روپے فلاحی کاموں پر خرچ کیئے۔ اگر یہ ادارہ خود فنڈ generate نہ کرے تو حکومت پر سالانہ دس ارب روپے کا مزید بوجھ بڑھ جائے۔کیا آپ کو پتا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس فوجی گروپ دیتا ہے جو سالانہ 150 ارب روپے بنتا ہے۔ اور گزشتہ پانچ سالوں میں ایک ٹریلین روپے حکومت کو ٹیکس دے چکا ہے۔کیا آپ کو پتا ہے کہ ملک بھر کے DHA’s
    میں صرف تیس سے پینتیس فیصد لوگ سابق فوجی ہیں باقی سب سویلین کام کرتے ہیں۔کیا آپ کو پتا ہے کہ آرمی ویلفیئر آرگنائزیشن سالانہ 156% ٹیکس دیتی ہے جو دفاعی بجٹ کا 26% بنتا ہے۔کیا آپ کو پتا ہے کہ پاک فوج نے جنرل باجوہ کی سربراہی میں حکومت کو GSP PLUS status برقرار رکھنے کے لیے ستائیس انٹرنیشنل کنوینشن کرنے میں مدد فراہم کی۔
    جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں فوج نے پاکستان کی قومی سلامتی کے نقطہ نظر کو ماحول، انسانی اور روایتی سلامتی کے ساتھ ہم آہنگی کے تعلقات کو استوار کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ترتیب دیا۔ قومی سلامتی کو ہی مدنظر رکھتے ہوئے پاک فوج نے Karkey Karadeniz Electrik Uterimتنازعات کا حل نکالا۔ سول اور فوجی قیادت پر مشتمل ایک کور کمیٹی نے ترکی، سوئٹزرلینڈ، لبنان، پاناما اور دبئی میں کرپشن کے شواہد کو بے نقاب کیا۔ یہ ثبوت کور کمیٹی کی جانب سے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (ICSID) ٹریبونل کے سامنے پیش کیے گئے۔
    پاک فوج نے کارکے تنازعہ کو خوش اسلوبی سے حل کیا اور ICSID کی طرف سے عائد 1.2 billion doller جرمانہ بچایا۔ اگر تنازعہ طے نہ ہوتا اور پاکستان رقم ادا کر دیتا تو پاکستان کی جی ڈی پی تقریباً دو فیصد تک سکڑ جاتی اور پاکستان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں میں کوتاہی کرتا۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں Rekodiqمعاملہ فوج کی ان گنت کوششوں سے حل ہوا۔ اورپاکستان کو ریکوڈک کیس میں11 بلین ڈالر کے جرمانے سے بچایا گیا اور اس منصوبے کی تشکیل نو کی گئی جس کا مقصد بلوچستان میں اس جگہ سے سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر کی کھدائی کرنا تھا۔ ریکوڈک معاہدہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ذاتی کوششوں کا نتیجہ تھا کیونکہ انہوں نے تمام فریقین کو قومی اتفاق رائے کے لیے قائل کیا۔ اور تین سال کی انتھک محنت اور بات چیت کے مراحل سے گزر کر طے ہوا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ریکوڈک ممکنہ طور پر دنیا کی سب سے بڑی سونے اور تانبے کی کان ہو گی۔ یہ پاکستان کو قرضوں سے نجات دلائے گا اور ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز کرے گا۔
    ریکوڈک وفاقی، صوبائی حکومتوں اور بلوچستان کے عوام کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ ہر جنگ کا ایک ہیرو ہوتا ہے اور وہ ہیرو وہ ہوتا ہے جو چیلنجز کو قبول کرتا ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے چھ سالہ دور میں کئی چیلجز کو کھلے د ل سے قبول کیا۔اور بلاشبہ چاہے ایف اے ٹی ایف ہو یا ریکوڈک karkey disputesettalment ہو یا نیشل ایکشن پلان۔ ان محاذوں کے ہیرو جنرل قمر جاوید باجوہ ہی ہیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں جس طرح پاکستان کو FATF کی گرے لسٹ سے نکلانے کے لیے کام کیا گیا اس کا ذکر سنہرے حروف میں کیا جائے گا۔ دشمن کے بھرپور زور لگانے اور اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کے باوجود پاکستان کا ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل جانا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔اس کام کے لیے نہ صرف تیس سے زائد وزارتوں اور محکموں کے درمیاں کوآرڈینیشن بلکہ چودہ قوانین اور تیس سے زائد rules/regulations پاس کی گئی۔

    بات پاکستان کی معیشت کی ہو اور سی پیک کا ذکر نہ ہو یہ اچھنبے کی بات ہے۔ سی پیک نے پاکستان اور دنیا کی ابھرتی ہوئی طاقت چین کے تعلقات کو ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ اوران مضبوط تعلقات کے لیے اہم کردار پاک فوج نے جنرل باجوہ کی قیادت میں ادا کیا ہے کیونکہ فوج کی جانب سے جس طرح CPECاور چینی حکام کو فراہم کردہ سیکیورٹی کو یقینی بنایا گیا تھا۔اس کے بغیر اس منصوبہ کا پایہ تکمیل تک پہنچا ممکن نہیں۔سی پیک منصوبہ پہلے دن سے ہی دشمن کی چھاتی پر مونگ دل رہا ہے اور وہ اسے سبوتاژ کرنے کے لیئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ سی پیک کے حوالے سے چین نے جنرل باجوہ کی خدمات کو کئی موقعوں پر سراہا۔وقت گواہ ہے کہ اگر اس پاک سرزمین نے لہو کا خراج مانگا تو وہاں افواج پاکستان کے جوانوں اور افسروں نے ہمیشہ سبقت لی۔

    چاہے امن ہو یا جنگ، ہنگامی حالات ہو یا آفت ،پاک فوج کے جانبازوں نے ملک کے وقار کو ہمیشہ بلند کیا۔پاک فوج قوم کے ماتھے کاجھومر ہے جو سیاچن گلیشیئرسے لے کر سندھ کے ریگزاروں تک، سوات آپریشن سے آپریشن ردالفساداورسمندروں تک ہر جگہ پاکستان کی بہادر افواج اپنے خون سے ہمت واستقلال کی داستان رقم کرتی ہے ،یہ نہ صرف سرحد پار دشمن کو منہ توڑ جواب دیتے ہیں بلکہ اس کے ایجنٹ دہشت گردوں کو کونوں کھدروں سے نکال کر جہنم واصل بھی کر تےہیں
    اس لیے تاریخ شاہد ہے کہ ہر مشکل وقت میں سیاسی قیادت اور عوام نے پاک فوج سے مدد لینے کو ہی اولین ترجیح قرار دیا ۔قوم کے بیٹے کبھی کراچی کی سڑکوں سے نکاسی آب کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں تو کبھی پہاڑوں کی چوٹیوں پر مقیم ہم وطنوں کی داد رسی کے لیے پہنچتے ہیں ۔ چاہے مری میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنا ہو یا سیلاب زدہ علاقوں سے۔
    لوگوں کو ریلیف مہیا کرنا ہو یا کرونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے اقدامات ہوں ،اہم مواصلاتی شریانوں کو کھولنا ہو یا ٹڈی دَل کے فصلوں پر حملوں کا سدباب ہو پاک فوج نے انتہائی مربوط اور منظم انداز میں اپنا کردار نبھایا۔

    کرونا وائرس جب 2020ء میں پاکستان پہنچا تو وطن عزیز کے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف کے ساتھ فوج نے ایک منظم ادارہ ہونے کا ثبوت دیا ، ضرورت مند ہم وطنوں کو ان کے دروازوں پر راشن فراہم کیا، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے ریلیف پیکجز دئیے گئے جس کی حقدار اقلیتیں بھی تھی۔آئسولیشن وارڈز کا قیام ہو یا لاک ڈاون پالیسی، ٹریک اینڈ تریس پالیسی ہو یا خوراک کی فراہمی کوئی بھی کام پاک فوج کے تعاون کے بغیر ممکن نہ تھا۔ابھی کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اقدامات جاری تھے کہ ملک کے مختلف حصوں میں ٹڈی دَل کی آفت نمودار ہوئی جس سے ملک کی بہت سی فصلیں تباہ ہوئیں۔ قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، ریسکیو اور دیگر اداروں کے ساتھ افواجِ پاکستان نے ملک کو اس آفت سے نکالنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا، اورتقریباً دس ہزار جوان و افسر تعینات کیئے گئے ۔ اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے برائے راست اس آپریشن کا معائنہ کیا۔سیلاب آیا تو پاک فوج نے عوام کی مدد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔پاک فوج نے 83 نکاسی آب کے آلات، 20 کشتیوں اور دیگر ضروری مشینری اور سازوسامان کے ساتھ آپریشن کا آغاز کیا۔نہ صرف گنجان آباد علاقوں میں پھنسے41,482 افراد کو گاڑیوں اور کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات تک منتقل کیا بلکہ ضرورت مند لوگوں میں راشن کے 180120 پیکٹس بھی تقسیم کئے گئے،ملک بھر میں آرمی، نیوی اور فضائیہ کے ریلیف کیمپس قائم کیئے گئے جہاں پچاس ہزار سے زائد افراد کو ریلیف ملا۔ جبکہ 250 میڈیکل کیمپس میں آرمی ڈاکٹرز، نرسنگ اور پیرامیڈیکس سٹاف اب تک 83ہزار سے زائد مریضوں کو فری طبی امداد فراہم کرچکا ہے
    نہ صرف پاک فوج کی اعلی قیادت بلکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاکستان آرمی کی تمام فارمیشنز اور سینئر کمانڈرز موجود رہے اور امدادی کارروائیوں میں مصروفِ عمل رہے ، اور ہیلی کاپٹرز مسلسل متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائی کررہے تھے اور انہی کوششوں کے دوران پاک فوج کے لیفٹنٹ جنرل سرفراز سمیت سینئر فوجی افسران نے جام شہادت نوش فرمائی ۔

    پاکستان کو دنیا میں سب سے زیادہ آفات کے خطرے کی سطح کا سامنا ہے، جو 2020 کے انفارم رسک انڈیکس کے مطابق
    191 ممالک میں سے 18 ویں نمبر پر ہے،ماضی میں جتنے بھی لرزا دینے والے زلزلے اور سیلاب گزرے ان میں پاک فوج کے جوانوں کا کردار ناقابل فراموش رہا ، پاک فوج نے ہمیشہ منظم ادارہ ہونے کا ثبوت دیا ہے اور اندرونی یا بیرونی چیلنجز کے باوجود ہر صورتحال میں قوم کو مایوس نہیں ہونے دیا۔ یہی وہ ادارہ ہے جس نے نہ صرف حکومت کے ساتھ مل کر ہر آفت اور چیلنج سے نمٹنے کے لیے کام کیا بلکہ بطور ادارہ بھی لوگوں کو اس مشکل وقت سے نکالا، ابھی بھی فوجی قیادت ملک کو دیوالیہ ہونےسے بچانے کے لئے متحرک ہے، اور دوست ممالک میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے سیاسی قیادت کی مدد کر رہی ہےکسی بھی ملک کی کامیاب خارجہ پالیسی میں اس ملک کی فوجی طاقت اور معیشت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جبکہ پاکستان کی فوج پاکستان کے لیے روح کی حیثیت رکھتی ہے۔ جو جسم سے نکل جائے تو پیچھے کچھ نہیں بچتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں دفاعی تعلقات ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چاہے چین ہو یا امریکہ، عرب ممالک ہوں یا یورپ۔ ہر ملک پاکستان سے خارجہ تعلقات استوار کرتے ہوئے ا سکی فوجی طاقت کو مدنظر رکھتا ہے، جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی اس طاقت کو بڑ ے اچھے طریقے سے ملک کے مفاد کے لیے استعمال کیا۔ اور سعودی عرب، چین، امریکہ، ترکی اور روس سے پاکستان کے لیے بے حد فواہد حاصل کیے۔ یہ جنرل باجوہ ہی تھے جنہوں نے چین اور سعودی عرب سے پاکستان کے قرضے ری شیڈول کروانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔پاکستان کے اندر کرکٹ ڈپلومیسی کی دوبارہ سے بنیاد رکھی ،بین الاقوامی تاثر کو تبدیل کرنے میں فوجی سفارت کاری بہت اہم تھی اور ملٹری ٹو ملٹری تعلقات نے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کی راہ ہموار کی۔ سری لنکا پہلا ملک تھا جس نے 2019
    کے آخر میں بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ دوبارہ شروع کرنے کے لیے پاکستان کا دورہ کیااور آج پاکستان میں الحمد للہ انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہو چکی ہے۔

    بھارت کی شدید ترین مخالفت کے باوجود کرتار پور کوریڈور کی کامیاب بنیاد رکھ کر ملک میں مذہبی سیاحت کو فروغ دیا۔ جس کے نتیجے میں سکھ برادری کے ساتھ بہتر تعلقات، پاکستان کو دوسرے مذاہب کے لیے محفوظ مقام کے طور پر پیش کرنے میں مدد ملی۔
    اور یہ سب کچھ اتنا آسان نہ تھا۔۔
    جنرل قمر جاوید باجوہ کی سرپرستی میں پاک فوج نے ملک میں محفوظ ماحول پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔ اب تک پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسی ہزار قربانیاں اور ایک سو پچاس بلین ڈالر کا نقصان اٹھا چکا ہے۔ اور ابھی بھی آپریشن رد الفساد کے دوران قربانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاکہ دہشت گردوں کی باقیات اور چھپے ہوئے خطرات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔آپریشن ردالفساد کے تحت فوج کے تعاون سےنیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد، سابقہ فاٹا کو مرکزی دھارے میں لانے اور انتہا پسندی پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرنا شامل ہے۔ کُل دو لاکھ بائیس ہزار آٹھ سو چھیتیسCombing operations کے دوران72,364ہتھیار برآمد ہوئے جبکہ 5.029 ملین گولہ بارود برآمد کیا گیا۔دوہزار ایک سے لے کر اب تک ان آپریشنز کے دوران فوج کے
    5460 اہلکار شہید جبکہ19070اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔، جبکہ دوہزار سترہ سے آپریشن رد الفساد کے دوران291
    اہلکار شہید اور647 اہلکار صرف بلوچستان میں زخمی ہو چکے ہیں جبکہ دوہزار نو سے اب تک 12914 دہشت گردون کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔ قوم کے اعتماد اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے ہی پاکستان نے دہشت گردی کی لعنت کو کامیابی سے شکست دی ہے۔ پاکستان کی داخلی سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے۔غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ماحول پیدا کیا۔ بلاشبہ، ایک محفوظ ماحول سرمایہ کاروں کو اعتماد فراہم کرتا ہے اور سیاحت کی صنعت کو فروغ دیتا ہے۔ اور اسی مقصد کی تکمیل کے لیے پاکستان،پاک فوج کی کوششوں سے، 2,600 کلومیٹر طویل افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام تقریباً مکمل کر چکا ہے جس کا مقصد سرحد پار سے بے قابو نقل و حرکت کو روکنا ہے جس سے دہشت گردی اور اسمگلنگ دونوں کو ہوا ملتی ہے کیونکہ لوگوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ پاک فوج کے مغربی سرحد پر باڑ لگانے کا 94%
    کام مکمل ہو چکا ہے۔ ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا 5 جنوری 2022 کا بیان باڑ کے مقصد کی ترجمانی کرتا ہے۔ جس کے مطابق سیکیورٹی، بارڈر کراسنگ اور تجارت کو منظم کرنے کے لیے پاک افغان سرحد پر باڑ کی ضرورت ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ ان کی حفاظت کرنا ہے۔ یہی نہین بلکہ پاک فوج نے دوحہ معاہدے پر دستخط کرنے اور مغربی سرحد پر سیکورٹی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد کے انتظام میں اہم کردار ادا کیا ۔اس کے علاوہ ایران کا دورہ کرنے والے زائرین کا تحفظ، لائن آف کنٹرول پر پوسٹوں کو محفوظ بنانا، کشمیر ایکشن پلان کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا، افغانستان سے انخلا کا عمل، اور بارڈر کراسنگ اور سمگلنگ میں کمی کے اہم کارنامے بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں سر انجام ہوئے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملٹری ڈپلومیسی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں نے ان ممالک کے ساتھ مجموعی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مزید قومی، اقتصادی اور سفارتی مقاصد کی راہ ہموار کی۔ کامیاب فوجی تربیت اور مشقوں کے نتیجے میں روس کے ساتھ تعلقات بھی بحال ہوئے۔ پاکستان نے اردن، نائجیریاں، سعودی عرب، چین، برطانیہ، بحرین، ترقی، ملائشیا، مراکش، سمیت متعد ممالک کے ساتھ ملٹری ڈپلومیسی کے تحت ایکسر سائزز میں حصہ لیا۔ جبکہ امریکہ، روس اور نیٹو کے ساتھ بھی بیشتر ایکسرسائزز میں حصہ لیا گیا۔پاکستان کو ایک پرامن اور کھیلوں سے محبت کرنے والی قوم کے طور پر متعارف کروانے کے لیے عالمی مقابلوں اور میگا ایونٹس کا انعقاد کروایا گیا جس میں ملک کا حقیقی چہرہ پیش کیا گیا۔

    جنرل قمر جاوید باجوہ نے نہ صرف فوج کی دفاعی ضروریات کو اولین ترجیح دی بلکہ دفاعی برآمدات پر بھی خصوصی توجہ دی۔ جہاں فوجی سفارت کاری نے پاکستان کے خارجہ تعلقات کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا وہیں اس نے قومی مقاصد کے حصول کے ساتھ ساتھ معاشی بہتری میں ریاستی اداروں کی تکمیل بھی کی ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی اسلحے کی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ظاہر ہوتا رہا ، جو کامیاب فوجی سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔ ایم او ڈی پی MODP
    کے مطابق، پچھلے پانچ سالوں میں دفاعی برآمدات (تقریباً 60 ارب روپے) اور اندرون ملک فروخت (تقریباً 70 ارب روپے) میں بے مثال اضافہ ہوا۔ دوہزار انیس میں نائجیریا کو 184 ملین امریکی ڈالر میںJF-17 برآمد اور 33.33 ملین امریکی ڈالر مالیت کے عراق کو 12 ایکس مشاک کے معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نے بین الاقوامی مارکیٹ کی 1/3 one thirdقیمت پر مقامی طور پر تیار کردہ الخالد ٹینکوں کو تیار کرنے کا بیڑا اٹھایا۔برآمدات پیدا کرنے کے علاوہ،
    MoDP نے قومی خزانے میں سالانہ تقریباً 6 ارب روپے ٹیکس/ڈیوٹیز ادا کیں اور دفاعی پیداوار کے شعبے میں آٹھ ہزار ملازمتیں پیدا کیں۔ انتہائی سیاسی تقسیم رائے کی وجہ سے اگر ہم یہ کہیں کہ فاٹا کا خیبر پختون خواہ میں انضمام جنرل قمر جاوید باجوہ کی ذاتی کوششوں کے بغیر ممکن نہ تھا۔ تو غلط نہ ہو گا۔ اور اس کام پر نہ صرف فاٹا کے عمائدین بلکہ
    fata youth Jirga نے بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کی خدمات کو خوب سراہا ۔ پاک فوج کی انتھک محنت اور سیکیورٹی کے بغیر یہ عمل مکمل ہونا ناممکنات میں سے تھے۔ پاک فوج نے نہ صرف یہاں اس عمل کو نافذ کرنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ گورننس، پولیس،قانون سازی، جوڈیشل کمپلیکسس،صحت اور تعلیم کے شعبہ میں بھی مرکزی کردار ادا کیا جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ یہی نہیں بلکہ خیبر پختونخواہ کے newly merged Districts میں بارڈر فینسنگ، بارڈر ٹرمینلز،
    temperory displacemet persons میں اسی ارب کی تقسیم، 619 تعلیمی ادارے مکمل، پانچ کیڈٹ کالج مکمل اور269
    تعلیمی ادارے زیر تعمیر ہیں۔ 140صحت کے مراکز مکمل جبکہ ستر زیر تعمیر ہیں۔980 مکمل جبکہ کلو میٹر سڑکوں کی تعمیر360 کلومیٹر سڑکیں زیر تعمیر ہیں۔اربوں روپے کے سینکڑوں پراجیکٹس
    socio economic sectors
    developments works
    chief of army staff youth employment scheme
    re habilitation & construction
    کی صورت میں جاری ہیں اور بیشتر پایہ تکمیل تک پہچ چکے ہیں پاک فوج اس وقت بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی اور معاشرتی خوشحالی پر بھی تاریخی کام کر رہی ہے۔ ا س مقصد کے لیے نہ صرف سینکڑوں سکول، ہسپتال فوج کی زیر نگرانی کام کر رہے ہیں جس میں چالیس ہزار بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں بلکہ گیارہ سو کلو میٹر لمباسڑکوں کا جال بچھانے میں بھی پاک فوج اہم کردار ادا کر رہی ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ کی سر پرستی میں پاک فوج نے
    badani
    chaman
    اور
    kech
    میں قائم کی ہیں۔ تاکہ وہاں پر معاشی سرگرمیاں پیدا کی جا سکیں۔لوگوں کی زندگیوں کو بہتر کیئے بغیر، انہیں روزگار فراہم کیئے بغیر کسی بھی علاقے میں امن ممکن نہیں اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس سنہرے اصول کو اپنی پالیسی کا حصہ بناتے ہوئے جہاں انتشار پسندوں کا قلعہ قمع کیا وہیں معصوم لوگوں کو ان کے چنگل سے بچانے کے لیے معاشی سرگرمیاں بھی شروع کروائی۔ جس نے امن کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔پاک فوج کا یہ کمال ہے کہ ا س نے اپنے سے کئی گنا بڑے ملک بھارت کی فوج کو ہر لحاظ سے ٹکر دی ہے۔ اور دفاعی بجٹ کے پہاڑ جیسے فرق کو کبھی بھی اپنے عزم کے درمیاں حائل نہیں ہونے دیا۔ اور انتہائی ذہانت سے اپنے آپ کو ہر قسم کے چیلنچ کے لیے وقت سے پہلے تیار رکھا۔ اور بھارت کی تسلط پسندانہ سوچ کو اپنی حکمت عملی اور عزم سے ہمیشہ شکست دی۔پیشہ ور سنائپرز کی تربیت کے لیے آرمی سنائپر سکول کی منظوری دی گئی۔ حقیقت پسندانہ تربیت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آرمی سمیلیٹر رجیمsimulator regime
    کو فوج میں شامل کیا گیا VT-4 ٹینک کی شمولیت کی گئی جو ایک جدید ترین مشین ہے، جس کا موازنہ دنیا کے کسی بھی جدید ٹینک سے کیا جا سکتا ہےاسی طرح ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے
    HIMAD air defence system
    SH-15 Howitzer self propelled artillery system
    زمین اور سمندر پر اونچی پرواز کرنے والا
    CH-4 Male UAV
    J-10 C fighter aircraft
    اور
    Type 54 Frigates
    سمیت بیشتر جدید ترین ہتھیار شامل کیئے گئے۔فوج کی ٹرپل پلے سروسز (وائس، ویڈیو اور ڈیٹا) کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ایک محفوظ موبائل کمیونیکیشن سسٹم بنایا گیا ہے ۔ملکی خزانے پر بوجھ کم کرنے کے لیے خود انحصاری اور معاشی وسائل کے حصول کے لیے، پاک فوج دفاعی پیداوار کے مختلف شعبوں میں مقامی طور پر بھی کام کر رہی ہے۔
    جنرل قمر جاوید باجوہ نے وقت کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے پاکستان کی معاشی شہہ رگ کراچی کے1.1 trillion
    کے transformation planکو آرمی کی مدد سے لانچ کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے خصوصی توجہ دی۔

    تعلیم کسی بھی قوم کے مستقبل کا تعین کرتی ہے، پاک فوج اس وقت ملک میں نہ صرف تعلیم کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے بلکہ دور حاضر کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے جدید تعلیم کو بہترین طریقے سے متعارف کروا رہی ہے۔ اس وقت ملٹری تعلیمی اداروں سے759426طلبا ہائیر سکینڈری لیول جبکہ71411طلبا اعلی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ تعلیم کو ہر طبقے تک رسائی دینے کے لیے فوج اپنے زرائع سے سالانہ نہ صرف 831 million خرچ کر رہی ہے بلکہ دوہزار پانچ سے اب تک Army public school and education system تحت کے 81655 اساتذہ کو معیاری تعلیم دینے کے لیے ٹریننگ بھی دے چکی ہے۔ جبکہ وفاقی تعلیمی سیکٹر کی مدد کے ساتھ ساتھ فوج
    special education
    youth development
    technical & vocational trainingانٹر نیشنل معیار کے مطابق سمیت، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر
    Army public school for international Studies کا آغاز بھی کر چکی ہے۔جہاں تعلیم کے میدان میں فوج بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے وہیں صحت کے شعبے میں بھی نمایاں خدمات سرانجام دی جا رہی ہیں، پاک فوج نے خاص طور پر دور دراز علاقوں (سندھ، کے پی کے، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد جموں اینڈ کشمیر) میں مفت طبی کیمپوں کا قیام، قدرتی آفات کے دوران طبی امداد اور وفاقی اور صوبائی طبی انفراسٹرکچر میں قوم کی بے لوث خدمت کی ہے اور ان صوبوں میں میڈیکل کیمپوں کے زریعے ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد مریضوں کا اعلاج کیا جا چکا ہے۔

    افواج پاکستان نے بذریعہ عسکری سفارتکاری عالمی سیاست میں توازن قائم کیا،آرمی چیف

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرمی چیف کی تعیناتی پر دستخط کر دئیے

    بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف

    سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالہ سے اہم انکشافات کئے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف مذموم مہم پر آئی ایس پی آر کا اہم ردعمل سامنے آیا ہے

    جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے عہدے کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے نہ صرف پاکستان کو بے شمار خطرات سے بچایا بلکہ دنیا کی ساتویں بڑی فوج کے سربراہ ہونے کا حق بھی خوب نبھایا۔ ان کی سربراہی میں پاک فوج نے لازوال کامیابیاں حاصل کی ، ایسے کام کیئے ایسے چیلجز سے نبٹاجو ان کی پیشہ وارانہ زندگی سے ہٹ کر تھے۔تاریخ گواہ ہے کہ جنرل باجوہ کے دور میں جس طرح پاکستان کے ہر گلی کوچے سے کشمیر کے ساتھ یکجہتی کی تحریک نے زور پکڑا اس کی مثال ماضی میں بہت کم ملتی ہے۔جنرل باجوہ نے ایک مقدس مشن کی آبیاری کرتے ہوئے افغانستان میں اپنے پتے اس خوبصورتی سے کھیلے کے دنیا کی سپر پاورکو پاکستان پر انحصار کے بغیر وہاں سے نکلنا محال ہو گیا اور دشمن پاکستان کے مفادات کو ضرب لگانے کی بجائے اپنے زخم چاٹتا رہ گیا۔جس طرح پاکستان کو عالمی تنہائی سے نکال کر پاکستان پر چھائے نحوست کے بادلوں کو مار بھگایا۔ جنرل باجوہ آپکے کارنامے پاک فوج میں مشعل راہ بن چکے ہیں۔ اور قوم کو آپ پر فخر ہے۔

    پاکستان زندہ باد
    پاک فوج
    پائندہ باد

     

  • روحانی رابطہ ہمیشہ فوج کے ساتھ قائم رہے گا،جنرل قمر جاوید باجوہ

    روحانی رابطہ ہمیشہ فوج کے ساتھ قائم رہے گا،جنرل قمر جاوید باجوہ

    جنرل قمرجاوید باجوہ نے کمان کی چھڑی نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیرکوسونپ دی

    جنرل قمرجاوید باجوہ عہدے سےسبکدوش ،جنرل عاصم منیر پاک فوج کے 17ویں آرمی چیف بن گئے جنرل سید عاصم منیر نے پاک فوج کے 17ویں آرمی چیف کی حیثیت سے فوج کی کمان سنبھال لی جنرل سید عاصم منیر نے فوجی کیریئر کے دوران بہترین عسکری پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا

    قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج سے طویل تعلق رہا پاک فوج کے ساتھ تعلق میرے لیے باعث فخر ہے،میرے 6 سالہ دور میں دہشت گردی سے لیکر ہر مشکل میں فوج نے میری آواز پر لبیک کہا،فوج میں خدمات کا موقع دینے پراللہ کامشکور ہوں ،میرا روحانی رابطہ ہمیشہ فوج کے ساتھ قائم رہے گا، جنرل عاصم منیر کو سپہ سالار بننے پر مبارکباد پیش کرتاہوں ،جنرل عاصم منیر حافظ قران اور باصلاحیت افسرہیں، یقین ہے فوج ان کی قیادت میں نئی منازل عبور کرے گ، ان کی تعیناتی مثبت ثابت ہوگی خوشی ہےکہ فوج ایک مایہ ناز اور قابل افسر کے حوالے کرکے جارہا ہوں۔آج سے 44 سال پہلے میرا فوجی سفر شروع ہوا جو اختتام پذیر ہورہا ہے 6 سالہ دور میں ایل او سی کے معاملات، دہشتگردی، امن و امان یا قدرتی آفات کا مقابلہ ہو، اس فوج نے ہمیشہ میری آواز پر لبیک کہا میں نے ان سے جہاں پسینہ مانگا انہوں نے خون دیا ان کی اسی قربانیوں کی وجہ سے آج ملک امن کا گہوارہ ہے مجھے اپنی فوج پر فخر ہے جو کم وسائل کے باوجود سیاچن سے لے کر صحرا تک سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے یہ لسانیت، رنگ نسل اور مذہب کی تفریق سے بالاتر ہوکر ملک کے چپے چپے کا دفاع کرتی ہے یقین ہے آنے والے وقت میں فوج جنرل عاصم کی قیادت میں اس سے بڑھ کر ملک کی خدمت کرے گی

    جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ بطور آرمی چیف اپنی 6 سالہ مدت کے دوران ملک و قوم کے لیے جو ہو سکتا تھا وہ کیا، ملک و قوم کے لیے خدمات پر مطمئن ہوں، جنرل سید عاصم منیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ اب کمانڈ ان کے حوالے ہے،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر بہترین آفیسر ہیں،

    جنرل قمر جاوید باجوہ کو پرتپاک انداز سے جی ایچ کیو سے رخصت کیا گیا ،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے الوداع کہا ،پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بھی سابق آرمی چیف کو الوداع کہا ،ڈی جی آئی ایس آئی اور اعلیٰ فوجی افسران نے جی ایچ کیو تقریب سےجنرل قمر جاوید باجوہ کو رخصت کیا

    سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا مزید کہنا تھا کہ عنقریب گمنامی میں چلا جاؤں گا لیکن فوج سے روحانی رابطہ ہمیشہ قائم رہے گا جب فوج کی کا میابیاں ہوگی خوشی ہوگی اور جب فوج پر مشکل وقت آئے گا میری دعائیں آپ کے ساتھ ہوں گی

    افواج پاکستان نے بذریعہ عسکری سفارتکاری عالمی سیاست میں توازن قائم کیا،آرمی چیف

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرمی چیف کی تعیناتی پر دستخط کر دئیے

    بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف

    سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالہ سے اہم انکشافات کئے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف مذموم مہم پر آئی ایس پی آر کا اہم ردعمل سامنے آیا ہے

  • پاک فوج میں کمانڈ کی تبدیلی کی تقریب میں سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کی  شرکت

    پاک فوج میں کمانڈ کی تبدیلی کی تقریب میں سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کی شرکت

    پاک فوج میں کمانڈ کی تبدیلی کی تقریب میں سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کی شرکت

    جی ایچ کیوراولپنڈی میں پاک فوج میں کمانڈ کی تبدیلی کی تقریب ہوئی

    تقریب میں مسلح افواج کے سربراہان، اعلیٰ سول، فوجی افسران شریک ہوئے پاک فوج میں کمانڈ کی تبدیلی کی تقریب میں وفاقی وزرا اورسفارتکار بھی شریک ہوئے، سینئر صحافی و اینکر پرسن، سی ای و باغی ٹی وی، معروف ٹی وی پروگرام کھرا سچ کے میزبان مبشر لقمان بھی تقریب میں شریک ہوئے،تقریب میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی شریک تھے،ایئر چیف بھی پاک فوج میں کمانڈ کی تبدیلی کی تقریب میں موجود تھے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا تقریب میں موجود تھے وزیرداخلہ راناثنااللہ،وزیرخارجہ بلاول بھٹو بھی تقریب کا حصہ تھے وفاقی وزیر احسن اقبال،وزیراطلاعات مریم اورنگزیب بھی تقریب میں شریک تھے

    جنرل عاصم منیر اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی سلامی کے چبوترے پر آمد ہوئی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تقریب کے مہمان خصوصی تھے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اعزازی گارڈ زکی جانب سے سلامی دی گئی مہمان خصوصی جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے اعزازی گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا گیا اعزازی گارڈزنے سلامی کے چبوترے کے سامنے جگہ لیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج سے طویل تعلق رہا پاک فوج کے ساتھ تعلق میرے لیے باعث فخر ہے،میرے 6 سالہ دور میں دہشت گردی سے لیکر ہر مشکل میں فوج نے میری آواز پر لبیک کہا،فوج میں خدمات کا موقع دینے پر اللہ کامشکور ہوں ،میرا روحانی رابطہ ہمیشہ فوج کے ساتھ قائم رہے گا، جنرل عاصم منیر کو سپہ سالار بننے پر مبارکباد پیش کرتاہوں ،جنرل عاصم منیر حافظ قران اور باصلاحیت افسرہیں،

    تقریب میں جی ایچ کیو ملٹری بینڈ نے مارچ کیا،جی ایچ کیو ملٹری بینڈنے ٹوکیو فیسٹیول میں بھی شرکت کی جی ایچ کیو ملٹری بینڈ نے چین،ملائیشیا، ترکیہ،یواے ای اور روس میں بھی مہارت کا لوہا منوایا تقریب میں ملٹری بینڈ کی جانب مشہور ملی نغمے دل دل پاکستان کی خوبصورت دھن پیش کی گئی،میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن،ملٹری بینڈ نے مشہور کشمیری نغمے کی دھن بھی پیش کی،ملٹری بینڈ کی جانب سے میاں محمد بخش کے مشہور کلام کی دھن بھی پیش کی گئی ملٹری بینڈنے ملی نغمے جیوے جیوے پاکستان کی خوبصورت دھن بھی پیش کی

    اعزازی گارڈ کی جانب سے مارچ کرتے ہوئے تقریب میں شرکت کی گئی،اعزازی گارڈ کے دستے کی قیادت میجر ثاقب عالم کر رہے ہیں میجر ثاقب عالم کا تعلق فرسٹ عباسیہ اے بلوچ رجمنٹ سے ہے اعزازی گارڈ کے دستے کا تعلق پاک فوج کے مایہ ناز بریگیڈ ٹرپل ون انٹڈیپنڈنٹ انفنٹری بریگیڈ سے ہے

    افواج پاکستان نے بذریعہ عسکری سفارتکاری عالمی سیاست میں توازن قائم کیا،آرمی چیف

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرمی چیف کی تعیناتی پر دستخط کر دئیے

    بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف

    سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالہ سے اہم انکشافات کئے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف مذموم مہم پر آئی ایس پی آر کا اہم ردعمل سامنے آیا ہے

     

  • جنرل عاصم منیر نے پاک فوج کی کمان سنبھال لی

    جنرل عاصم منیر نے پاک فوج کی کمان سنبھال لی

    جنرل عاصم منیر نے پاک فوج کی کمان سنبھال لی ہے.
    راولپنڈی میں پاک فوک کی کمان کی تبدیلی کی پروقار تقریب میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنرل عاصم منیر کو کمانڈ کی چھڑی سونپ دی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی کمان کی علامت سمجھی جانے والی ملاکا اسٹک جنرل سید عاصم منیرکو سونپ دی، جنرل عاصم منیراس چھڑی کو ہاتھ میں لیتے ہی پاکستان آرمی کی کمانڈ سنبھالنے والے 17ویں آرمی چیف بن گئے ہیں۔ جنرل سید عاصم منیر 3 سال کےلئے پاکستان کے نئے آرمی چیف اور جنرل سید ساحر شمشاد مرزا 27 نومبر سے نئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ہوں گے۔

    تقریب سے اپنے الوادعی خطاب میں جنرل باجوہ نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے عظیم فوج میں خدمت کا موقع دیا اور مجھے یہ اعزاز دیا، امید ہے کہ نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی پروموشن ملک اور قوم کی ترقی کا باعث بنے گی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ان کی تعیناتی ملک اور قوم کیلئے بہترین فیصلہ ثابت ہوگی۔
    سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل باجوہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ”ریٹائر ہونے کے بعد بھی میری روح کا رشتہ فوج سے جاری رہے گا، ان کی کسی بھی کامیابی کو میں اپنی کامیابی سمجھ کر فخر محسوس کروں گا“۔
    اپنے مختصر خطاب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاک فوج نے ہمیشہ میری آواز پر لبیک کہا، خوشی ہے کہ اتنے قابل افسر کے ہاتھ میں فوج کی کمان دے کر ریٹائر ہو رہا ہوں، فوج کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ان کی کامیابیوں کا اعتراف صرف دوستوں ہی نے نہیں بلکہ دشمنوں نے بھی کیا۔ میں پاک فوج کی کامیابیوں کیلئے دعا گو ہوں۔

    جنرل عاصم منیر کون ہیں؟

    جنرل سید عاصم منیر بہترین پیشہ وارانہ کیریئر کے حامل ہیں اور فور اسٹار جنرلز کی تعیناتی کی سینیارٹی لسٹ میں جنرل عاصم منیر پہلے نمبر پر تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کور کمانڈ، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ رہے۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر نے آفیسرز ٹریننگ اسکول سے تربیت مکمل کی اور انہوں نے پاک فوج کی فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر 2014 میں کمانڈر فورس کمانڈ ناردرن ایریا تعینات ہوئے اور 2017 میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس کے عہدے پر فائز ہوئے۔

    لیفٹیننٹ جنرل عاصم کو اکتوبر 2018 میں ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا گیا تھا اور جون 2019 میں کور کمانڈر گوجرانوالہ کے عہدے پر تعینات ہوئے جبکہ اکتوبر 2021 سے جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

  • کیا سمندر کا پانی ریکوڈک تک لا کر استعمال نہیں ہو سکتا؟ چیف جسٹس

    کیا سمندر کا پانی ریکوڈک تک لا کر استعمال نہیں ہو سکتا؟ چیف جسٹس

    کیا سمندر کا پانی ریکوڈک تک لا کر استعمال نہیں ہو سکتا؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں ریکوڈک منصوبے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت ہوئی

    ریکوڈک منصوبے کے ماحول دوست ہونے کے عدالتی سوالات پر وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیئے،وکیل مخدوم علی نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے میں تمام تر ماحولیاتی تحفظات کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے، عدالت نے ریکوڈک منصوبے کیلئے استعمال ہونے والے پانی کا سوال کیا تھا، کمپنی جو پانی استعمال کرے گی وہ جانداروں کے استعمال کے قابل نہیں پائپ لائن سے جانے والا پانی گوادر بندرگاہ پر صاف ہونے کے بعد سمندر میں جائے گا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا سمندر کا پانی ریکوڈک تک لا کر استعمال نہیں ہو سکتا؟ وکیل مخدوم علی نے کہا کہ ریکوڈک سے گوادر 680 کلومیٹر ہے، روزانہ پانی لانا ناممکن ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پراجیکٹ میں مسلسل پانی کےاستعمال سے بلوچستان میں خشک سالی ہو سکتی ہے، وکیل نے کہا کہ تحقیق کے مطابق ریکوڈک میں پانی کا ذخیرہ منصوبے کی مجموعی زندگی سے زیادہ ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا یہ ممکن نہیں کہ غیر ملکی کمپنی صوبہ بلوچستان کے پانی کا ری سائیکلنگ پلانٹ لگائے؟ ریکوڈک کان میں کام کرنے والے مزدوروں کے تحفظ اور مراعات کیا طے ہوئیں؟ ریکوڈک میں کام کرنے والے مزدوروں کی مراعات لوکل مزدوروں سے بہتر ہونی چاہئیں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ لوکل لیبر قوانین ہی ریکوڈک کان کے ملازمین پر لاگو ہوں گے،اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے اقدار کی پابندی کی جائے گی،

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بیرک گولڈ کے پاکستان اور دیگر ملکوں میں جاری منصوبوں میں مزدوروں کی تنخواہوں کا موازنہ بتائیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں کان کنی کرنے والے مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں،مزدوروں کے تحفظ کا فریم ورک بتائیں،

    ریکوڈک منصوبے میں سرمایہ کار حکومتی ملکیتی اداروں کے وکیل جہانزیب اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریکوڈک معاہدے میں حکومت پاکستان 50 فیصد سرمایہ کاری کر رہی ہے،پاکستان کی سرمایہ کاری براہِ راست نہیں ہے،پاکستان 3 حکومتی ملکیتی اداروں کے ذریعےریکوڈک منصوبے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، حکومتی مالیاتی اداروں میں او جی ڈی سی ایل ، پاکستان پیٹرولیم کمپنی لیمیٹڈ شامل ہیں،گورنمنٹ ہولڈنگ پرائیویٹ کمپنی بھی سرمایہ کار حکومتی مالیاتی اداروں میں شامل ہے، تینوں حکومتی مالیاتی اداروں کی جانب سے منصوبے میں 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی پاکستان نے 4.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کیساتھ 900 ملین ڈالر زجرمانہ بھی ادا کرنا ہے، پاکستان کے جرمانے کی مد میں تینوں حکومتی مالیاتی اداروں نے 562 ملین ڈالرز ادا کر دیے ہیں، ریکوڈک منصوبے سے ملنے والا 64 فیصد فائدہ پبلک سیکٹر کو ہو گا، ریکوڈک منصوبے میں تمام ٹرانزیکشنز کا آڈٹ اسٹیک ہولڈرز کو میسر ہو گا،

    ریکوڈک منصوبے میں سرمایہ کار حکومتی ملکیتی اداروں کے وکیل جہانزیب اعوان کے دلائل مکمل ہو گئے، ریکوڈک منصوبے سے متعلق ریفرنس کی سماعت 29 نومبر تک ملتوی کر دی گئی

    سابق چیئرمین FBR شبر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہو گیا ہے

    دیوالیہ پن سے بچاؤ کے لئے فلپائن ایئر لائن امریکی عدالت پہنچ گئی

    پاکستان کو 5.84 ارب ڈالرز کاجرمانہ،عالمی ادارے کا اعلامیہ،باغی ٹی وی کی خبر کی تصدیق ہوگئی

    افتخار چوہدری پاکستان کو لے ڈوبے،پاکستان کو 4.7 ارب ڈالرز کا جرمانہ کروا دیا

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    بجٹ میں،کم فیس والے نجی سکولوں کے لیے الگ سے رقم مختص کی جائے، ملک ابرار حسین

    ریکوڈک منصوبے کے مال کی بقیہ 15فیصد ادائیگی منزل پر پہنچ کر مارکیٹ ریٹ کےمطابق ہوگی

  • آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی صدر مملکت، وزیراعظم سے الگ الگ ملاقات

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی صدر مملکت، وزیراعظم سے الگ الگ ملاقات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی الوداعی ملاقاتیں جاری ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے صدر مملکت اور وزیراعظم سے الگ الگ الوداعی ملاقات کی ہے.صدر مملکت عارف علوی سے بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی الوداعی ملاقات ہوئی ہے ، صدر مملکت عارف علوی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور سپہ سالار خدمات کو سراہا اور انکے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا،

    بعد ازاں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ وزیراعظم ہاؤس پہنچے،وزیراعظم شہبازشریف سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے الوداعی ملاقات کی ہے وزیراعظم شہبازشریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کیا،وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے آرمی چیف کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا،وزیر اعظم نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی پاک آرمی، ملکی دفاع اور قومی مفادات کیلئے خدمات کو سراہا ،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے تاریخ کے ایک مشکل مرحلے پر پاک آرمی کی قیادت کی،دفاع پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے کلیدی کردار ادا کیا ،وزیراعظم نے جیو اکنامکس کی اہمیت کے حوالے سے جنرل قمر جاوید باجوہ کے کردار کو سراہا ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سرکاری امور کی انجام دہی میں تعاون پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا ،آرمی چیف نے قومی امور کی انجام دہی میں بھرپور تعاون پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا.

    آرمی جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر کو ریٹائر ہورہے ہیں،انکی جگہ پاک فوج کی کمان جنرل عاصم منیر کریں گے، جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف مقرر کر دیا گیا ہے،

    افواج پاکستان نے بذریعہ عسکری سفارتکاری عالمی سیاست میں توازن قائم کیا،آرمی چیف

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرمی چیف کی تعیناتی پر دستخط کر دئیے

    بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف

    سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالہ سے اہم انکشافات کئے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف مذموم مہم پر آئی ایس پی آر کا اہم ردعمل سامنے آیا ہے

  • علی امین گنڈہ پور کو گرفتار کرنیکی کوشش،پولیس کو چکمہ دے کرنکل گئے

    علی امین گنڈہ پور کو گرفتار کرنیکی کوشش،پولیس کو چکمہ دے کرنکل گئے

    ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ احمد نواز، ) وفاقی پولیس کی جانب سے سابق وفاقی وزیر سردار علی امین خان گنڈہ پور کو گرفتار کرنے کی کوشش، سابق وفاقی وزیروفاقی پولیس کو چکمہ دے کر نکل گئے،

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان سے لانگ مارچ کے شرکاء کو اسلام آباد لے جانے کے دوران میانوالی میں وفاقی پولیس کی جانب سے سابق وفاقی وزیر سردار علی امین خان گنڈہ پور کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی لیکن رش زیادہ ہونے کے باعث سابق وفاقی وزیرسردارعلی امین خان گنڈہ پوروفاقی پولیس کے اہلکاروں کو چکمہ دیکر نکل جانے میں کامیاب ہو گئے۔اس حوالے سے مزید انکشافات بھی سامنے آرہے ہیں ۔ شنید ہے کہ سندھ پولیس بھی مختلف مقدمات میں سردارعلی امین خان گنڈہ پور کو گرفتارکرنے ڈیرہ پہنچ سکتی ہے۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے خیبرپختونخواہ میں کئی اہم عہدیداروں کی گرفتاری کاخطرہ موجودہے جس کے بعد حالات سنگین ہونے کاخدشہ بڑھ گیاہے۔

    دوسری جانب سابق وفاقی وزیر سردار علی امین خان گنڈہ پور کے خلاف نیب اور ایف آئی اے نے شکنجہ تنگ کر لیا، مختلف ٹھیکوں اور جائیداد کا حساب طلب کر لیا گیا، نیب اور ایف آئی اے نے سابق وفاقی وزیر سردار علی امین خان گنڈہ پور کے خلاف شکنجہ تنگ کرتے ہوئے ان سے ان کی جائیداد کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں علاوہ ازیں ڈیرہ اسماعیل خان میں سابق وفاقی وزیر کی جانب سے دی گئی نوکریوں اور مختلف محکمہ جات میں ان کے کہنے پر ہونے والی پوسٹنگ ٹرانسفرز کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا گیاہے۔ نیب اور ایف آئی اے نے سابق وفاقی وزیرسردارعلی امین خان گنڈ ہ پور سے گلگت بلتستان کے ٹھیکوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔ ان تمام امور سے واضح ہو رہا ہے کہ نیب اور ایف آئی اے نے سردار علی امین خان گنڈہ پور کے خلاف کاروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے ان پر اپنی گرفت سخت کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس ضمن میں نیب نے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ہ سے بھی رابطہ کیا ہوا ہے۔

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈا پور کی ایک اور آڈیو وائرل 

  • سپریم کورٹ نے گن اینڈ کنٹری کلب کے فوری آڈٹ کا حکم دے دیا

    سپریم کورٹ نے گن اینڈ کنٹری کلب کے فوری آڈٹ کا حکم دے دیا

    سپریم کورٹ نے گن اینڈ کنٹری کلب کے فوری آڈٹ کا حکم دے دیا

    سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ گن اینڈ کنٹری کلب کے آڈٹ کے عمل کو جلد مکمل کیا جائے،2دسمبر 2019 سے 20 جون 2022 تک کا آڈٹ کیا جائے، گن اینڈ کنٹری کلب اور سی ڈی اے میں زمین لیز کے معاملے پر مجاز اتھارٹی کو فیصلے کی ہدایت بھی کی گئی،عدالت نے کہا کہ سیکریٹری آئی پی سی جو چیئرمین کمیٹی بھی ہیں انکی میٹنگ میں چائے کا خرچہ 4لاکھ 16 ہزار روپے تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے اجلاسوں میں ہم کھانے پینے کے اخراجات خود ادا کرتے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سنا ہے قائد اعظم بھی اجلاسوں میں چائے بسکٹ نہیں دیتے تھے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ موجودہ کمیٹی کی جانب سے آڈٹ بھی نہیں کروایا جا رہا،نعیم بخاری ممبر کمیٹی نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں فیصل سخی بٹ ،دانیال عزیز اور خرم کی سیاسی تقرریاں ہوئیں انٹرنل آڈٹ ہر سال ہو رہا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بینچ کے ایک ممبر کیس نہیں سننا چاہتے،نعیم بخاری نے کہا کہ کمیٹی سی ڈی اے کو 1880 ملین کی ادائیگی کرنا چاہتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 180کروڑ کی ادائیگی کا متعلقہ اتھارٹی فیصلے کرے ہم کچھ نہیں کریں گے،گن اینڈ کنٹری کلب قومی اثاثہ ہے جس کو ہم صرف تحفظ دینا چاہتے ہیں، حکومت جلد از جلد قانون سازی کرے اور کلب کے انتظامات کو سنبھالے،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت آئندہ برس فروری تک ملتوی کر دی

    حکومت نے یہ کام کیا تو وکلاء 2007 سے بھی بڑی تحریک چلائیں گے،وکلا کی دھمکی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی میدان میں‌ آگئے، ریفرنس کی خبروں‌ پر صدرمملکت کوخط لکھ کر اہم مطالبہ کر دیا

    سپریم کورٹ میں گن اینڈ کنٹری کلب کیس کی سماعت، عدالت نے دیا حکومت کو بڑا جھٹکا

    گن اینڈ کنٹری کلب سے متعلق کیس کی سماعت،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    واضح رہے کہ عدالت نے دی گن اینڈ کنٹری کلب کے قیام کے حوالے سے پرویزمشرف دور کی قرارداد غیرقانونی قرار دیتے ہوئے سروے آف پاکستان کو تین ہفتوں میں 145 ایکڑ زمین کی حد بندی کا حکم دیا تھا،عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ 1975 میں لیز کے تحت 175 ایکڑ زمین دی گئی جس میں 2008 میں مزید 33 سال کی توسیع کر دی گئی، دی گن اینڈ کنٹری کلب کو دی گئی زمین کی سی ڈی اے سے منظوری نہیں لی گئی۔

  • افواج پاکستان نے بذریعہ عسکری سفارتکاری عالمی سیاست میں توازن قائم کیا،آرمی چیف

    افواج پاکستان نے بذریعہ عسکری سفارتکاری عالمی سیاست میں توازن قائم کیا،آرمی چیف

    افواج پاکستان نے بذریعہ عسکری سفارتکاری عالمی سیاست میں توازن قائم کیا،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ افواج پاکستان نے اندرونی خلفشار پر قابو پانے میں ہمیشہ کردار ادا کیا ، فوج کے غیرسیاسی ہونے سے ادارے کا وقار بڑھ جائے گا،عرب ریاستوں کے ساتھ ہمارے بے لوث تعلقات ہیں،ہم نےدہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں، مستقبل میں پاک فوج کو مربوط اور ایک جدید فورس کے طور پر دیکھتا ہوں، نوجوان نسل اپنا وقت اور توانائی تعلیم اور ہنر کے لیے وقف کریں،

    گلف نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ فوج پروپیگنڈے کے باوجود غیر سیاسی رہنے کے فیصلے پر ثابت قدم رہے گی،افواج پاکستان نے بذریعہ عسکری سفارتکاری عالمی سیاست میں توازن قائم کیا، فوج کے غیر سیاسی ہونے سے جمہوری اقدار پر وان چڑھے گی ،فوج کے غیر سیاسی ہونے سے پاکستان میں سیاسی استحکام کو فروغ ملے گا ،کچھ افراد نے فوج کو تنقید کا ہدف بنایا فوج کے غیر سیاسی ہونے سے فوج کے عوام سے تعلقات مضبوط ہوں گے فوج کے غیرسیاسی ہونے سے ادارے کا وقار بڑھ جائے گا،پاک فوج نے پاکستانی قوم کا بے مثال احترام اور اعتماد حاصل کیا قومی سلامتی اور ترقی میں فوج کے تعمیری کردار کو ہمیشہ غیر متزلزل عوامی حمایت حاصل رہی سیاسی معاملات میں مداخلت سے عوامی حمایت اور افواج کے درمیان وابستگی ختم ہو جاتی ہے،میں نے پاکستان میں سیاست کے انتشار سے پاک فوج کو بچانا سمجھداری سمجھا،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ ہمارے خلیجی اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں عرب ریاستوں کے ساتھ ہمارے بے لوث تعلقات ہیں، مشکل وقت میں عرب ممالک کی فراخدلانہ اور غیر مشروط حمایت کے مشکور ہیں، پاکستان نے ہمیشہ مشرق وسطیٰ ممالک کے مفادات کی حمایت کی ہے

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی اورانتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی دو دہائیوں کی طویل جدوجہد ہے،آپریشن ردالفسادکا مقصد دہشت گردوں اور انتہا پسند گروپوں کا خاتمہ کرنا تھا، ہم نےدہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں، مشکل ترین وقت میں دنیا کی بہترین فوجی قوتوں میں سے ایک کی خدمت اور قیادت اعزاز ہے، چار دہائیوں میں پاک فوج کو ایک مسلسل ابھرتی ہوئی قوت کے طور پر دیکھا ہے ہم نے محدود وسائل کا بہترین استعمال کرتے ہوئے خود کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا،مستقبل میں پاک فوج کو مربوط اور ایک جدید فورس کے طور پر دیکھتا ہوں،کوئی بھی قوم صرف دفاعی قوت کی وجہ سے محفوظ نہیں ہوتی ہم نوجوانوں کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتے، ہماری نوجوان نسل کل آبادی کا 60 فیصد ہے،مسلح افواج مادر وطن کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں، پاکستان کی مسلح افواج قوم کی طرف سے اپنی طاقت اور حمایت حاصل کرتی ہیں، نوجوان نسل اپنا وقت اور توانائی تعلیم اور ہنر کے لیے وقف کریں،ایماندارای اور بے لوث محنت ترقی پسند معاشرے کی بنیاد ہے، نوجوان خود کو تفرقہ انگیز پروپیگنڈے سے محفوظ رکھیں ،

    وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کی الوداعی ملاقات

    آرمی چیف نے مختلف فارمیشنز کے الوداعی دوروں کے ایک حصے کے طور پر سیالکوٹ اور منگلا گیریژن کا دورہ کیا۔

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرمی چیف کی تعیناتی پر دستخط کر دئیے

    بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف

    سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالہ سے اہم انکشافات کئے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف مذموم مہم پر آئی ایس پی آر کا اہم ردعمل سامنے آیا ہے

  • عمران خان راولپنڈی جلسے میں موجود تھے تو پیش نہیں ہو سکتے؟عدالت کا استفسار

    عمران خان راولپنڈی جلسے میں موجود تھے تو پیش نہیں ہو سکتے؟عدالت کا استفسار

    اے ٹی سی اسلام آباد،تھا نہ سنگجانی میں درج کار سرکار میں مداخلت مقدمے کی سماعت ہوئی

    عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی عبوری ضمانت میں 9 دسمبر تک توسیع کردی ،عمران خان کے وکیل بابر اعوان کی جانب سے میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی ،بابر اعوان نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان لاہور میں ہیں،عدالت پیش نہیں ہو سکیں گے،عدالت نے استفسار کیا کہ عمران خان راولپنڈی جلسے میں موجود تھے تو عدالت کیوں پیش نہیں ہو سکتے؟ وکیل بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان کے ہیلی کاپٹر کو لینڈنگ کی اجازت نہیں مل سکی، عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ لینڈنگ کی اجازت نہ ملنے کا کوئی تحریری آڈر ہے؟ وکیل نے کہا کہ لینڈنگ کی اجازت نہ ملنے کا کوئی تحریری کوئی آڈر نہیں ،

    فیفا کے وارے نیارے ہوگئے؛ اسپانسر شپ سے ایک بلین ڈالر اضافی کمالیے
    پروین رحمان قتل کیس؛ ملزمان کو دی گئی سزا کالعدم قرار
    انتظار ختم! تاریخ کا مہنگا ترین عالمی فٹبال میلہ قطر میں سج گیا:میزبان ملک قطرپہلے میچ میں ہی ہارگیا

    واضح رہے کہ کہ عمران خان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت21 اگست کو اسلام آباد میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جب کہ عدالت نے 25 اگست کو انہیں ضمانت دیتے ہوئے یکم ستمبر تک گرفتار کرنے سے روکا بھی تھا۔ جبکہ 20 اگست کو سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اسلام آباد کے علاقے صدر کے مجسٹریٹ علی جاوید کی مدعیت میں تھانہ مارگلہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
    ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ 20 اگست کو پاکستان تحریک انصاف رہنما شہباز گِل کی گرفتاری کے خلاف عمران خان کی قیادت میں ریلی نکالی گئی جس کا راستہ زیرو پوائنٹ سے ایف 9 پارک تک تھا، اس دوران عمران خان کی تقریر شروع ہوئی جس میں انہوں نے اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ ترین افسران اور ایک معزز خاتون ایڈیشنل جج صاحبہ کو ڈرانا اور دھمکانا شروع کیا۔