Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وہ کون تھا..؟ راز کھل گئے، بھانڈا پھوٹ گیا

    وہ کون تھا..؟ راز کھل گئے، بھانڈا پھوٹ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک طرف عمران خان اپنی ماری ہوئی بونگی کے دفاع میں تخت پنجاب اور خیبر پختون خواہ کی حکومتوں کو ہلا رہا ہے تو دوسری طرف آصف زرداری گیم چینجر بن کر میدان میں کود پڑے ہیں۔ پرویز الہی زبانی تسلیاں تو دے رہے ہیں لیکن دل میں ارادہ کر چکے ہیں کہ انہوں نے اس معاملے میں کرنا کیا ہے۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات چیت کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے پاس بیچنے کو کچھ نہیں اسی لیے کبھی ڈبو کوعدلیہ پر چھوڑ رہا ہے تو سواتی کے اندر جانے کے بعد کنول شوزب سے اس کا کام لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ہر طرف الیکشن کی گھنٹیاں بج رہی ہیں لیکن اسے آخری آپشن کے طور پر رکھا گیا ہے۔تخت پنجاب کی بات کی جائے تو فیصلہ ہو چکا ہے کہ اسمبلیاں کسی صورت تحلیل نہیں ہونگی اور یہ فیصلہ کہیں اور نہیں ہوا بلکہ تحریک انصاف کے اپنے ہی گروہوں کے درمیان طے پایا ہے ۔ مفاہمت کے بادشاہ آصف علی زرداری کو نیا سیاسی مشن دے دیا گیا ہے اور اب تحریک انصاف کے لیے خیبر پختونخواہ میں بھی خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے ۔ کیونکہ آصف علی زرداری کے مطابق کے پی میں کچھ ایسے لوگ بیٹھے ہیں جو اپنے گھونسلوں کی طرف واپس آنا چاہتے ہیں یعنی اب اقتدار کا جو کھیل اس سال کے ابتدا میں شروع ہوا تھا وہ اسی طرح اگلے کچھ عرصے تک چلتار ہے گا۔ عمران خان کے پرانے بیانیے پٹتے رہیں گے اوروہ نئے بیانیے تراشتے رہیں گے۔ ممکنہ طور پر حکومت بجٹ پیش کرے گی اور اس کے بعد جنرل الیکشن کا اعلان کیا جائے گا۔اس سب میں ایک تبدیلی ضرور ہوگی ۔۔ اور وہ یہ ہوگی کہ عمران خان اب کی بار اکیلے ہونگے ۔کوئی بیرونی ہاتھ ۔۔ کسی کا آشرباد ان کے سر پر نہیں ہوگا
    اور وہ بے فیض ہی رہیں گے ۔۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ اب عمران خان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔؟ اور کتنے بیانیے وہ بنانے جا رہے ہیں۔
    وہ کہتے ہیں نہ نو سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی ۔ اور اب عمران خان فوج کو سیاست سے دور رہنے کا درس دے رہے ہیں۔سیاست سے دور رہنے کا مطلب میں آپ کو اچھے طریقے سے سمجھا دیتا ہوں ۔۔اب عمران خان ایک بار پھر سے نئے آرمی چیف سے چاہتے ہیں کہ وہ سیاست سے دور رہ کر اقتدار کی کنجی عمران خان کے ہاتھ میں تھما دیں ۔اور یہ بیان دیتے ہوئے ساتھ میں عارف علوی کو بھی کہہ دیتے ہیں کہ آرمی چیف تم سے ملنے آئے تو میری بات کروا دو کسی طرح۔
    وہ ایک بار پھر سے چاہتے ہیں کہ آرمی چیف سیاست سے دور رہ کر ان پر ہونے والے سارے کیسز ختم کروا دیں ۔۔
    وہ چاہتے ہیں کہ ایک بار پھر سے آرمی چیف سیاست سے دور رہ کر ان کے راستے سے وہ سارے کانٹے چن لیں جو عمران خان کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔۔وہ چاہتے ہیں کہ آرمی چیف ایک بار پھر سے بشری بی بی کی کرپشن کی کہانیاں دیکھ کر آنکھیں بند کر لیں ۔۔ وہ چاہتے ہیں کہ آرمی چیف ایک بار پھر سے انھیں کھلی چھوٹ دیں تا کہ یہ چئیر مین نیب کو بلیک میل کر کے جعلی کیس بنا سکیں ۔ ان کی مرضی سے الیکشن کی ڈیٹ رکھی جائے، ان کی مرضی سے سازگار ماحول چنا جائے۔ ان کے دشمنوں کو چور ڈاکو قرار دے کر سیاست سے عاق کر دیا جائے۔ اورایک بار پھر میدان سے سارے کھلاڑی بھگا کر کہا جائے چل میرے کپتان کھیل، گراونڈ بھی تیرا، ایمپائر بھی تیرا،وکٹ بھی تیری اور بلا بھی تیرا۔ فیلڈر کے بغیر چوکے چھکے لگائے جا۔ اور کاغذی شیر بن کر قوم کا دماغ پکائے جا۔اور پھر یہ ملکی خزانے کو بے رحمی کے ساتھ درہم برہم کریں ۔۔ کرپشن انڈیکس میں ملک اوپر لے جائیں ۔ججوں کے خلاف ریفرنس دائر کریں۔قرضے پہلے ڈبل کیئے ہیں اب چار گنا کر دے۔ اوررہتی سہتی کسر اگر کوئی رہ گئی ہے تو وہ بھی پوری کر دے۔وہ چاہتے ہیں ایک بار پھر راتوں رات Electableکو ماضی کی طرح ان کی جھولی میں ڈالا جائے اور مجھے حیر ت اس بات کی ہے کہ جس نے خود اس ملک میں انتشار پھیلانے کےلیے ہر حد پار کی وہ اب آرمی چیف سے گزارش کر رہا ہے کہ جی آپ ہیجانی کیفیت کو کم کریں اور یہ پہلی بار نہیں ہوا ۔۔ ہر بار ایسے ہی ہوتا ہے کہ عمران خان پہلے ایک سازشی تھیوری گھڑتے ہیں بدامنی کا سارا سامان فراہم کرتے ہیں ۔اور پھر اس کا الزام دوسروں پر عائد کر کے خود اس بیانیے سے فرار ہو جاتے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وہ کون تھا جس نے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے میر جعفر اور میر صادق کا برینڈ بنایا۔وہ کون تھا جو اپنے سیاسی مخالفین کو ساڑھے پانچ سال جوتیاں پڑواتا رہا اور آخر میں خود بلک بلک کر رونا شروع کر دیا اور ظالم سے ایک ہی لمحے میں مظلوم بن گیا ۔وہ کون تھا جو فوج کو اگلے الیکشن میں گھسیٹنا چاہتا تھا۔وہ کون تھا جس نے اپنی مرضی کا بندہ لا کر دس سالہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور نہیں لگایا۔وہ کون تھا، جو اداروں میں کرداروں کو صرف اس لیے ذلیل کرنا چاہتا تھا کہ انہوں نے اس کی بجائے سیدھے راستے کا انتخاب کر لیا تھا۔لیکن میں تو انھیں کسی صورت فرار نہیں ہونے دوں گا۔۔
    میں تو پوچھوں گا ۔۔
    میں سوالوں کے جواب مانگوں گا،کہ کس نے اس ملک میں نفرت کی آگ لگائی ۔۔؟کس نے ریاست اور عوام کو سامنے لا کر کھڑا کیا ؟وہ کون تھا جس نے ہر طرح کا بھانڈ اپنی ٹیم میں بھرتی کیا ہوا تھا اور ان کو باقاعدہ تنخواہیں دی جاتی تھیں صرف اس کام کےلیے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو بے عزت کرتے رہیں ،
    وہ کون تھا جس نے ارسلان بیٹے کو کہا کہ لوگوں کو غدار ثابت کرنے کی مہم تیز کر دو۔۔
    وہ کون تھا جس نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر مذہبی ٹچ دیا ۔۔
    وہ کون تھا جو اپنے ہر جلسے میں خواتین سیاستدانوں کے بارے میں گھٹیا زبان استعمال کرتا تھا۔۔
    وہ کون تھا جس نے سازش کے بیانیے پر کھیلنا شرو ع کیا
    وہ کو ن تھا جس نے لوگوں کو کہا کہ اگر مخالفین کا ساتھ دو گے تو تم کفر کے رستے پر ہو ۔۔
    وہ کون تھا جس نے اداروں میں پھوٹ پید اکرنے کی ہر ممکن کوشش کروائی
    وہ کون تھا جو را ت کو چھپ چھپ کر ملاقاتیں کرتا تھا اور صبج لوگوں کے سامنے ٹارزن بنتا تھا۔۔
    وہ کون تھا جس نے صرف سیاسی کارڈ کےلیے اداروں پر اپنے قتل کے منصوبے تک کا الزام لگا دیا ۔۔
    کیا وہ آپ نہیں تھے عمران خان ؟
    اس سب کے بعد آپ کہتے ہیں کہ میرا تو کوئی قصور ہی نہیں اور آپ اپنے سارے کرتوتوں کا بوجھ اداروں کے کندھوں پر ڈالنا چاہتے ہیں ۔۔کیسے جعلی معصوم بننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ایسا نہیں چلے گا ۔اپنے ٹویٹس میں قائد اعظم کے فرمان شئیر کرتے ہیں ۔آپ کو قائد اعظم کی حرمت اور ان کی سیاست کے بارے میں تھوڑا سا بھی علم ہے ؟کیا قائد اعظم نے غداری کے فتوے بانٹے تھے ؟کیا قائداعظم نے اپنے سیاسی مخالفین کو کبھی گالی دی ؟ بالکل بھی نہیں قائد اعظم بھی اگر چاہتے تو انگریزوں سے ڈیل کر سکتے تھے ۔ وہ بھی اگر چاہتے تو انھیں انڈیا میں کوئی بڑا عہدہ مل جاتا۔ وہ چور دروازے سے کوئی بڑی کرسی لے سکتے تھے ۔بلکہ انھیں تو آفرز بھی ہوئیں ۔۔ لیکن انھوں نے کچھ قبول نہیں کیا۔ ہر چیز کو جوتے کی نوک پر رکھا اور صرف اپنے لوگوں کے مستقبل بارے سوچا۔ کیونکہ وہ بڑے ظرف والے تھے،آپ کا ظرف تو یہ ہے کہ جس اقبال کے خواب کی آپ مثالیں دیتے ہیں ۔۔ اسی اقبال کے جنم دن کے موقع پر لوگوں کو لانگ مارچ میں انتشار کےلیے اکساتے ہیں جس ملک کو بنانے کےلیے اتنے گھر سنسان ہوئے اتنی گردنیں کٹیں اسی ملک کو آپ توڑنے کی با ت کرتے ہیں ۔اسی ملک کے ایٹمی اثاثوں پر آپ سوال اٹھانا شروع کر دیتے ہیں بند کمروں میں اسی ملک کی معیشت کو تباہ کرنے کی سازشیں تیار کرنا شروع کر دیتے ہیں آپ امریکہ سازش کابیانیہ بنا کر اسی امریکہ کے سفیر کی منتیں ۔۔ ترلے شروع کر دیتے ہیں نہیں خان صاحب ۔۔ نہیں یہ تو ہم نہیں ہونے دیں گے آپ جیسے ہی اپنا بوجھ دوسروں کے کندھوں پر ڈالیں گے ہم آپ کو آئینہ دکھائیں گے ۔ آپ جیسے گند پھیلا کر اپنی آنکھیں بند کرنے لگیں گے ہم بار بار آپ کی آنکھیں کھول کر آپ کو سچ کی تصویر دکھائیں گے۔۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں آپ کا آگے کا منصوبہ بھی اچھی طرح سے معلوم ہے آپ نے پہلے نئے آرمی چیف کی تعریفوں کے پُل ہی باندھنے ہیں ۔لیکن جیسے ہی آپ کا کوئی ایک بھی کیس اپنے منطقی انجام کو پہنچا تو آپ نے ایک بار پھر سے اسی بچے کی طرح رونے شروع کردینا ہے جس کے ہاتھ کوئی نیا کھلونا آتا ہے اور وہ اسے کھیلتے کھیلتے توڑ دیتا ہے ۔آپ نے اس ملک کے ساتھ بھی اپنی حکومت کے پونے چار سال یہی کیا آپ نے ایک بار پھر سے اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے ۔جیسے ہی بھارت اور اسرائیل کی فنڈنگ بے نقاب ہوئی ۔جیسے ہی توشہ خانہ میں کیس آگے بڑھا۔جیسے ہی کسی کیس میں آپ کی نااہلی یا گرفتاری ہوئی تو آپ نے ایک بار پھر سے اسی آرمی چیف کے خلاف محاذ کھول دینا ہے ۔کیونکہ گراونڈ تو آپ پہلے ہی سیٹ کر چکے ہیں۔عمران خان کی چھبیس سال کی سیاست اور ان کی So Called
    محنت کا نچوڑ اگر میں آپ کو صر ف چند الفاظ میں بتاوں تو وہ ہونگے جھوٹ۔۔ الزام تراشی۔۔۔ یوٹرن۔۔ احسان فراموشی ۔۔۔ کم ظرفی۔۔اور نا اہلی ، تحریک انصاف کی اس سے بہتر الفا ظ میں تعریف آپ کو کہیں نہیں ملے گی ۔ اور جب تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں بھی انھی سب باتوں کا ذکر کیا جائے گا۔میں عمران خان کو تب سے جانتا ہوں اور ان کے ساتھ اس وقت کنٹینر پر کھڑا تھا جب آج کے یوٹیوبرز اور عمران خان کے دیوانے سکول جاتے تھے ،آج وہ بنی گالا میں عمران خان کے قدموں میں بیٹھ کر تقریر سنتے ہیں ۔ اور ایک سنسنی پھیلانا شروع کر دیتے ہیں جیسے عمران خان نے ایک پھونک مارنی ہے اور باقی سارے سیاستدان جل کر راکھ ہوجائیں گے ۔انھیں لگتا ہے کہ عمران خان کے اعمال کا ۔۔عمران خان کی چالوں کا کسی کو پتہ نہیں ہوگا۔ عمران خان وہ واحد سیاستدان ہوگا جس کی ہر سیاسی چال پہلے سے Predict
    کی جاسکتی ہے ۔۔بس پیشین گوئی کرنے کےلیے آپ کے پاس شعور اوردرست حقائق ہونا بھی لازمی ہے سارے
    Intellectual anesthesia لے کر views کی جستجو میں عمران خان کے مخالفین پر چڑھ جاتے ہیں۔ آج بچے بچے کو معلوم ہے کہ انھی جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف نا بننے دینے کےلیے آپ نے ہر طرح کی لابنگ کی ۔انھی کی تعیناتی کو آپ نے بار بار متنازعہ بنایا انھی کی حب الوطنی پر آپ نے سوالیہ نشان کھڑے کیے ۔ الزام لگاتے رہے کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف کے فیورٹ ہیں ۔ تو جیسے ہی آپ کے خلاف کیسز کھلے جو کہ نوشہ دیوار ہے کہ جلد یا بدیر کھلنے ہی ہیں ۔تو آپ نے ایک بار پھر کنٹینر پکڑنا ہے اور اپنے ڈیجیٹل مجاہدین کے ہاتھ میں Keyboardتھما دینے ہیں ۔لیکن ایک بات مت بھولیں ۔۔ اگر آپ کے پاس Keyboard Warriors ہیں تو ہمارے پاس حق کہنے کےلیے زبان ہے ۔۔اگر آپ کے پاس جھوٹ کی بڑی بڑی دکانیں ہیں تو ہمارے پاس سچ کہنے اور سچ پر ڈٹے رہنے کا حوصلہ موجود ہے ۔آپ لوگوں کو فریب میں لاتے رہیں گے اور ہم آپ کو آئنہ دکھاتے رہیں گے ۔اور یہ تو ہر جھوٹے شخص کو پتا ہوتا ہے کہ جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے لیکن جو آپ کے ساتھ ہونے والا ہے وہ سوچ کے مجھے خوف آتا ہے۔

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

  • متحدہ عرب امارات کو اپنا دوسرا گھرسمجھتے ہیں،قومی دن پر پاکستانی قیادت کے پیغامات

    متحدہ عرب امارات کو اپنا دوسرا گھرسمجھتے ہیں،قومی دن پر پاکستانی قیادت کے پیغامات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کا قومی دن آج منایا جا رہا ہے

    متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر خارجہ بلاول زرداری،وفاقی وزیر اطلاعات، چیئرمین سینیٹ سمیت دیگر نے متحدہ عرب امارات کومبارکباد دی ہے،وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے موقع پر امارات کے صدرمحمد بن زايد آل نہيان کو مبارکباد دی ہے،سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ اپنی اور پاکستانی عوام کی طرف سے صدرمحمد بن زايد آل نہيان اور متحدہ عرب امارات کے اپنے بہن بھائیوں کو ان کے قومی دن پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ یہ دن ہمیں متحدہ عرب امارات کے بانیان کے متحرک اور توانا وژن کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اتحاد کے ذریعے ایک عظیم قوم کی بنیاد رکھی

    وفاقی وزیر خارجہ بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کی متاثر کن معاشی ترقی کو دنیا تسلیم کرتی ہے۔پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات مشترکہ تاریخ اور اقدار میں گہرے جڑے ہوئے ہیں۔وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے متحدہ عرب امارات کے عوام اور حکومت کو 51 ویں قومی دن پر مبارکباد دی

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے متحدہ عرب امارات کے51 ویں قومی دن کے موقع پر متحدہ عرب امارات کی قیادت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان برادرانہ تعلقات استوار ہیں جو مشترکہ ورثے اور کثیر الجہتی تعاون پر مبنی ہیں، پاکستان کے عوام متحدہ عرب امارات کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں وفاقی وزیر اطلاعات نے پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے یو اے ای کے سفیر کو خیرسگالی اور نیک تمنائوں کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات ہمارے دوطرفہ تعلقات کا اہم حصہ ہیں یو اے ای پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جس کا پاکستان میں سب سے بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں میں شمار ہوتا ہے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کی مزید مضبوطی کے لئے دعا گو ہیں

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن مبارک ہو!!! — بلال شوکت آزاد

    متحدہ عرب امارات کے51 ویں قومی دن پر تصویری نمائش کا انعقاد

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سے متحدہ عرب امارات کے ہم منصب کی ٹیلی فونک بات چیت 

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے موقع پر متحدہ عرب امارات کی قیادت اور عوام کو پاکستان کی پارلیمان، حکومت اور عوام کی جانب سے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد دی ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی سیاسی قیادت نے ترقی و خوشحالی کی جو منزلیں طے کی ہیں وہ قابل تحسین ہیں۔ پاکستان متحدہ عرب امارات کے عوام کی خوشیوں میں برابر کے شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی ترقی، معاشی خوشحالی اور امن کا فروغ ہمارا مشترکہ ویژن ہے۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین برادرانہ تعلقات کثیر الجہتی تعاون پر محیط ہیں۔ بھائی چارے اور اعتماد کا رشتہ مشترکہ مذہبی و ثقافتی روابط کے باعث مزید مستحکم ہو اہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بین الاقوامی فورمز پر مثالی تعاون پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین اعتماد اور احترام کو ظاہر کرتا ہے۔ ہمیں ان تعلقات اور بھائی چارے کی فضاء کو مزید تقویت دینے کیلئے اعلیٰ سطح پر وفود کے تبادلوں میں تیزی لانے اور تجارتی سرگرمیوں کو مزید بڑھانے پر توجہ دینا ہوگی۔ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ سرمایہ کاری اور کاروباری نقل و حمل کے ذریعے دونوں اطراف کے عوام کو مزید قریب لایا جا سکتا ہے۔ ۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی دوستی وقت کے ہر امتحان پر پورا اتری ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان کیلئے نئی کامیابیوں اور ترقی کیلئے دعا گو ہیں۔ پاکستان۔متحدہ عرب امارات دوستی زندہ باد۔

    سیلاب متاثرین کی مدد میں متحدہ عرب امارات کا مثالی کردار

    سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    محمد بن زید النہیان متحدہ عرب امارات کے نئے صدر بن گئے،

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبید ابراہیم سلیم الزیبی کی ملاقات

    مقامی ہوٹل میں متحدہ عرب امارات کے 51ویں قومی دن کی تقریب منعقد ہوئی

  • توہین عدالت کیس،عمران خان نے سپریم کورٹ میں جمع جواب میں جھوٹ بولا، وکیل

    توہین عدالت کیس،عمران خان نے سپریم کورٹ میں جمع جواب میں جھوٹ بولا، وکیل

    سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    وزارت داخلہ کے وکیل سلمان بٹ کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے گئے، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان کے وکیل نے جواب جمع کرادیا ہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حکومت نے سوشل میڈیا کے کچھ کلپس عدالت میں جمع کرائے تھے،کلپس پر عمران خان کی جانب سے جواب جمع کرادیا ہے ، وکیل وزارت خارجہ نے کہا کہ عمران خان 24 مئی سے ڈی چوک پر دھرنا دینے کا اعلان کر تے رہے تھے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل وزارت خارجہ سے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس ویڈیو کلپس ہیں؟ وکیل وزارت خارجہ نے عدالت میں جواب دیا کہ ہمارے پاس ویڈیو کلپس ہیں،وکیل وزارت داخلہ نے عدالت کا 25مئی کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا

    جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ یہ عدالت ٹرائل کورٹ نہیں ، کیسے ایک بیان کا جائزہ لیں،وکیل وزارت خارجہ نے کہا کہ عدالت توہین عدالت کارروائی میں اس بیان کا جائزہ لیا جاسکتا ہے، توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز ہوچکا ہے ، فریقین کو نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے مطابق عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی اور مواد بھی موجود ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں علم ہے کہ توہین کا معاملہ عدالت کے ساتھ ہوتا ہے ،آپ بطور وزارت داخلہ کے وکیل عدالت کی معاونت کریں ،جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے خیال میں جو آرڈر ہوا تھا اس پر حکم بھی جاری ہوا ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب اداروں نے رپورٹس دیں تو پھر یہ درخواست جمع کرانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ وکیل نے کہا کہ عمران خان کا پہلا موقف ہے کہ وفاقی صوبائی حکومت کی پرتشدد کارروائیوں پر ڈی چوک جانے کا فیصلہ کیا،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے جواب میں جیمرز کی بات کی ہے، جیمرز صرف وفاقی حکومت کے حکم پرلگائے جاسکتے ہیں،عمران خان کے بیانات میں درست بات نہیں کی گئی سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے، عدالت توہین عدالت کا شوکاز ٹوٹس جاری کرے گی تو ٹرائل شروع ہوگا،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ معاملہ پہلے ہی غیر موثر ہوچکا ہے،توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور ملزم کے درمیان ہوتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سمجھتے ہیں عمران خان نے خلاف ورزی کی ہے،آپ سمجھتے ہیں کہ عدالتی حکم عدولی کا مواد موجود ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے حکم میں حساس ادروں اور سیکیورٹی اداروں سے رپورٹ طلب کی تھی،وکیل وزارت داخلہ نے کہا کہ بطور وکیل میں عدالت کی معاونت کررہا ہوں،جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اس بارے میں آپ کوئی عدالتیں نظریں پیش کریں گے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر آپ کا متاثرہ فریق ہونے کا دعویٰ کیا ہے ؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بطور وکیل بتائیں گے کہ کونسا شخص اس وقت وہاں رابطے میں تھا؟ ہم نے اس کیس کو مکمل طور پر سنا ہے،سب کو علم ہے کہ عمران خان لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کرچکے ہیں، ہمیں یہ بتانا ہے کہ کیا عمران خان کو عدالتی حکم کا علم تھا؟ وکیل وزارت خارجہ نے کہا کہ عمران خان کی نیت ڈی چوک کی طرف مارچ کرنا تھی ،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ یہ بتائیں کیا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ایک یا دو اشخاص نے کی؟ وکیل وزارت خارجہ نے کہا کہ اپنے جواب میں واضح کیا ، اس وقت عدالتی احکامات کا عمران خان کو علم تھا ،عدالت نے کہا کہ اس وقت بتایا گیا کہ مئی کی ریلی جی نائن گراونڈ میں کرانے کی درخواست دائر کی گئی ،جب ریلی جی نائن اور ایچ ایٹ کی درمیان گراونڈ میں کرنے کی اجازت دی گئی تو بیان دیا گیا، وکیل نے عدالت میں کہا کہ آپ کتنی اور اجازت دینگے مزید جواب جمع کرانے کی،ہر بار مختلف بیان دے رہے ہیں،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب اجازت دی گئی تو عدالت نے ایک کمیٹی بنائی کہ سیکیورٹی کیسے دی جائے گی، جسٹس مظاہر نقوی نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ڈی چوک یا ریڈ زون کا علاقہ ممنوعہ ہے؟ وکیل وزارت داخلہ نے عدالت میں جواب دیا کہ ڈی چوک یا ریڈ زون کا علاقہ ممنوعہ ہے ریڈ زون میں دھرنا دیا گیا تو ججز بھی عدالت آرام سے نہیں پہنچ سکتے تھے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ توہین کا معاملہ عدلیہ اور ملزم کے درمیان ہوتا ہے،جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب عدالت کا حکم ہے تو توہین عدالت کی درخواست کی کیا ضرورت ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے کہ وفاق کا توہین عدالت میں حق دعویٰ کیا ہے،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ وزارت داخلہ نے 12 اکتوبر کو توہین عدالت کی درخواست دی، عدالت نے توہین عدالت کے معاملے کا جائزہ لینے کا حکم 26 مئی کو دیا،

    عمران خان کا ڈی چوک کال دینے کا ویڈیو کلپ عدالت میں چلایا گیا، ویڈیو کلپ چلانے کے بعد جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ ہم کیسے مان لیں کہ یہ ویڈیو کلپ درست ہے،کیا ویڈیو کا فرانزک کرایا گیا ہے؟ وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ عدالت کو شواہد دکھائے ہیں باقی جو بہتر سمجھے وہ کرے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لارجر بینچ نے جب سماعت شروع کی تو لانگ مارچ ختم ہوچکا تھا، کس نے کیا کہا اور کیا کال دی گئی تھی تمام حالات کا جائزہ لینا ہےدیکھنا ہے ڈی چوک پہنچنے والے مقامی تھے یا لانگ مارچ کا حصہ تھے،وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ عمران خان ہمیشہ ڈی چوک ہی آنا چاہتے تھے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ حکومت کیخلاف احتجاج تھا، ڈسپلن سے ہونے والی پریڈ نہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس پر ہم سماعت اگلے ہفتے کرینگے اس کیس میں فریق مخالف کے وکیل نے بھی ہماری معاونت کرنی ہے،ممکن ہے کہ سماعت دوبارہ جمعے کو ہو، گزشتہ کئی ہفتے عدالت کے بارے میں کئی باتیں کی گئیں ، ہم نے نوٹس نہیں لیا، ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی؟

    جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے سپریم کورٹ کو براہ راست کوئی یقین دہانی نہیں کرائی تھی ، ثابت کرنا ہوگا کہ عمران خان کی ہدایت پر یقین دہانی کرائی گئی اگر کوئی غلط بیانی ہوئی ہے تو یہ بابر اعوان اور فیصل چوہدری کی جانب سے ہوگی ،اس لیے اگر توہین عدالت کی کارروائی ہوئی تو وہ بھی بابر اعوان اور فیصل چوہدری کے خلاف ہی ہوگی

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    عدالت ان کو سزا دے جنہوں نےعدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،توہین عدالت کیس میں استدعا

    واضح رہے کہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکی گئی تھی،وفاقی حکومت نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی استدعا کر دی، استدعا میں کہا گیا ہے کہ 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، سپریم کورٹ کے 25 مئی کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی گئی تھی، عمران خان نے ایچ نائن گراونڈ جانے کے بجائے ورکرز کو ڈی چوک کال دی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ورکرز نے ریڈ زون میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس سے واضح ہے کہ عدالتی احکامات کی توہین کی گئی، سپریم کورٹ نے 25 مئی کو فیصلہ دیا تھا جس پر عمران خان نے عمل نہیں کیا، اب پھر عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔لانگ مارچ کو کامیاب کرنے کے لئے کارکنوں کو جہاد جیسے لفظ استعمال کرکے اکسا رہے ہیں، عدالت کے 25 مئی والے فیصلے پرعمل کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، عمران خان نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی، عمران خان اور ان کے پارٹی رہنما عدلیہ اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کا ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔ عمران خان کی آج سے نہیں بلکہ اداروں کو بدنام کرنے کی ایک تاریخ ہے، عمران خان آئینی طریقے سے آنے والی حکومت کو دھمکیاں دے رہے ہیں

  • اسموگ کے پھیلاؤ پر تشویش،ہفتے میں 3 روز تمام اسکولز بند کرنے کا عندیہ

    اسموگ کے پھیلاؤ پر تشویش،ہفتے میں 3 روز تمام اسکولز بند کرنے کا عندیہ

    لاہور ہائیکورٹ میں اسموگ سے تدارک سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ نے اسموگ کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہارکیا،لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ہفتے میں 3 روز تمام اسکولز بند کرنے کا عندیہ دے دیا گیا،عدالت نے ہفتے میں 2روز ورک فرام ہوم کرنے کا عندیہ دے دیا، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت سنجیدہ نہیں لگ رہی ،اسموگ کی صورتحال بگڑ رہی ہے ،اسموگ کے حوالے سے ہمیں بین الاقوامی ماہرین کی ضرورت ہے ،ہفتے میں 2روز ورک فرام ہوم کرنا پڑے گا، تمام سرکاری اور پرائیوٹ ا سکول ہفتے میں تین روز بند کرنا ہوں گے، معاملے پر متعلقہ وزرا سے رابطہ کرکہ بتائیں نوٹیفکیشن جاری کروا دیتے ہیں رولز بنائیں کہ اب بھٹہ یا فیکٹری سیل نہیں ہوگی بلکہ اسے گرایا جائے گا ، بھٹہ مالکان اور فیکٹری مالکان کے خلاف فوجداری مقدمات بھی درج کیے جائیں

    عدالت نے محکمہ ماحولیات کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت تک رولز بنا کر پیش کریں ،عدالت نے آلودگی کا باعث بننے والی سرکاری گاڑیوں کو نیلام کرنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے حکم دیاکہ وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلیوں سے مدد کے لیے رابطہ کیاجائے،انہیں بتایا جائے کہ پنجاب میں ا سموگ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے بیجنگ اور شنگھائی کےعلاوہ اسموگ کے حوالے سے عالمی ماہرین کی مدد لی جائے،سیکریٹری ماحولیات جرمانوں کےحوالے سے عمل درآمد رپورٹ دیں،دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں اب سڑکوں پر نظر نہ آئیں ایسی گاڑیوں کو بھی ایک نوٹس کےبعد قبضے میں لے کر نیلام کرنے کا رولز بنایاجائے

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکٹرک موٹر سائیکل نے یورپ میں انقلاب برپا کر دیا ،الیکٹرک بائیکس کو لاکر اسموگ میں بہتری لائی جاسکتی ہے،عدالت نے شمسی توانائی کولگژری آئٹم میں شامل کرنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ڈی سی قصور نے آرسنیک کےحوالے سے رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں پیش کی

    میڈیا کو حکومت نے اشتہارات کی کتنی ادائیگیاں کر دیں اور بقایا جات کتنے ہیں؟ قائمہ کمیٹی میں رپورٹ پیش

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیکورٹی سخت،رینجرزتعینات،حملہ وکلاء کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    باقی یہ رہ گیا تھا کہ وکلا آئیں اور مجھے قتل کر دیں میں اسکے لیے تیار تھا،چیف جسٹس اطہر من اللہ

    پیکا ترمیمی آرڈیننس،لگتا ہے وزیراعظم کی کسی نے ٹھیک سے معاونت نہیں کی،عدالت

    جیل حکام خواتین قیدیوں کی عزتیں تارتارکرتے ہیں، پیدا ہونے والے بچوں کوقتل کردیا جاتا ہے،لاہورجیل سے خاتون قیدی کی ویڈیووائرل

    سموگ کے تدارک کے لئے لاہور ہائیکورٹ نے حکومت سے کیا پوچھ لیا؟

    مغل پورہ کی طرف جائیں آسمان کا رنگ ہی بدل جاتا ہے،لاہور ہائیکورٹ

  • اعظم سواتی کو بلوچستان پولیس نے گرفتار کر لیا

    اعظم سواتی کو بلوچستان پولیس نے گرفتار کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر اعظم سواتی کوبلوچستان پولیس نےگرفتارکرلیا،

    بلوچستان پولیس سینیٹراعظم سواتی کوکوئٹہ لےگئی، اعظم سواتی کوکچلاک جیل میں رکھا جائے گا،قبل ازیں آج ہی اسلا م آباد ہائیکورٹ میں اعظم سواتی کی مقدمات کی تفصیلات کے حصول کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد پولیس صوبائی حکومت کے کنٹرول میں ہے،وفاقی حکومت کے پاس صوبائی آئی جیز کو ہدایت دینے کا اختیار نہیں ،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ کیا وفاق کا کوئی انتظامی کنٹرول بھی نہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پولیس سے متعلق پالیسی معاملات میں کو آرڈی نیشن رکھ سکتے ہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ آئی جیز ہوم منسٹری کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، مناسب آرڈر جاری کریں گے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف آئی اے سے متعلق جواب دیں گے،صوبوں میں اعظم سواتی کیخلاف مقدمات کی تفصیلات فراہم نہیں کرسکتے،

    عمران خان کا اعظم سواتی کی رہائی کا مطالبہ
    اعظم سواتی کی بلوچستان پولیس کے پاس حوالگی کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا ردعمل آیا ہے،عمران خان کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی کو سینے میں درد اور سانس کی تکلیف کے باعث صبح پمز منتقل کیا گیا، اعظم سواتی کو ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار تھا، کوئٹہ پولیس نے ڈسچارج کرایا اورلے گئے، اعظم سواتی کو فوری رہا کیا جائے، کسی کے جمہوری حقوق کو سلب کرنا سب سے بڑا جرم ہے ،

    قبل ازیں گزشتہ روز اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے متنازع ٹویٹ کیس میں اعظم سواتی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا،ایف آئی اے نے جوڈیشل مجسٹریٹ محمد شبیر بھٹی کی عدالت میں اعظم سواتی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا کی ،ایف آئی اے نے 4 روزہ ریمانڈ ختم ہونے سے قبل ہی عدالت میں درخواست دائر کر دی اعظم سواتی کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ ہفتہ 3 دسمبر کو مکمل ہونا تھا ،ایف آئی اے نے درخواست کی کہ ہم نے تفتیش مکمل کر لی ہے اعظم سواتی سے مزید تفتیش کی ضرورت نہیں ہے ،جوڈیشل مجسٹریٹ شبیر بھٹی نے ایف آئی اے کی درخواست منظور کرتے ہوئے اعظم سواتی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم دے دیا

    قبل ازیں اعظم سواتی کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں درج مقدمات اسلام آباد ٹرانسفر کرنے کی درخواست دائر کی گئی ہے،درخواست تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے دائر کی ہے، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں وفاقی حکومت ، ڈی جی ایف آئی اے اور آئی جی سندھ و بلوچستان کو فریق بنایا گیا ہے، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے اعظم سواتی کو جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا ایف آئی اے مقدمہ کے بعد ملک بھر میں اعظم سواتی کے خلاف متعدد مقدمے درج ہوئے اعظم سواتی کو دیگر علاقوں میں کیسز میں پیش ہونے پر سکیورٹی خطرات ہیں سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اعظم سواتی پر درج تمام مقدمات کو اسلام آباد میں یکجا ٹرانسفر کیا جائے ،سپریم کورٹ میں درخواست التوا کے دوران مقدمات پر آپریشن معطل کیا جائے .

    اعظم سواتی مشکل میں پھنس گئے، حکومت کا ایک اور ایکشن

    پورے راستے مجھ پر تشدد کیا گیا، میری ویڈیوز بنائی گئیں،اعظم سواتی

    نازیبا ویڈیو کی تحقیقات،اعظم سواتی کمیٹی میں پیش نہ ہوئے،ایف آئی اے نے بتائی حقیقت

    اسلام آباد:اعظم خان سواتی نے سپاہی سےسینیٹرتک کا سفرکس طرح‌ طے کیا؟

     تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کو گرفتار کر لیا گیا

  • جائز تعلق کی ویڈیو، کنول شوزب مان گئی،آخر کیوں؟

    جائز تعلق کی ویڈیو، کنول شوزب مان گئی،آخر کیوں؟

    لاہور:وقت تیزی سے گزررہا ہے اور قیامت کے نزیک جس طرح وقت کے گزرنےکے آثاربتائے گئے تھے وہ وقت آچکا ہے ، قیامت قریب ہے ، یہ گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا، ایسا ہے کچھ کہنا تھا پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کا عمران خان سے کہ آپ اسمبلیاں توڑنے کے بات کررہےہیں، اگراسمبلیاں توڑ دی گئیں‌تو پھر ن لیگ اقتدار میں‌آاسکتی ہے ، اور جو ہم نے اربوں روپے کے پراجیکٹ شروع کیئے تھے وہ ن لیگ والے مکمل کریں‌گے ، محنت ہماری ہوگی اور کریڈٹ وہ لے لیں‌گے

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان یوٹرن لے گا،عمران خان اسمبلی تحلیل نہیں کرے گا ،یہ صرف ہمیں دکھانے کےلیے کرتا ہے ، لیکن وہ کبھی یہ کام نہیں‌کرے گا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان پربہت سےکیسز کھلنے والے ہیںَ عمران خان کی خواہش ہے کہ وہ جیت جائے گا اور پھراپنے خلاف ہونے والے مقدمات کو واپس لے لے گا ،اسحاق ڈار نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ سود کے خلاف اپنی درخواست واپس لے رہے ہیں جس سے دائیں بازوں کے لوگ قریب ہوجائیں گے

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ ن لیگ والے تو یہ سمجھ رہے ہیں کہ جبتک نوازشریف آئیں گے نہیں وہ جیت نہیں سکتے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ن لیگ کا یہ بھی خیال ہے کہ پہلے میاں‌ صاحب پھر الیکشن لڑیں‌، میاں صاحب تو بغیر مرنے کیے جنت جانا چاہتے ہیں ، وہ جیل نہیں جانا چاہتے ،ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ ن لیگ کا یہ خیال ہےکہ نوازشریف ہے ان کو بچا سکتی:

     

    آصف علی زرداری نے پھر حکومت کےخلاف محاذ کھول دیا ہے اور پرویز الٰہی ان سے مل رہے ہیں ، پہلے تو معاملات طئے ہوگئے تھے ، مٹھائیاں بھی کھا لی تھیں ،اب پتہ نہیں کیا ہوا ہے ،پرویزالٰہی اسمبلیاں نہیں توڑنا چاہتے انہوں نے عمران خاں سے کہہ دیا ہے کہ اگراسمبلیاں توڑ دی گئیں تو پھرگیم ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی ، اور پھرپنجاب پولیس پکڑ کر بھی لے جائے گی ،یہ پھر وہ کے پی میں چلے جائیں لیکن کے پی میں‌جاکر وہ سب سے الگھ تھلگ ہوجائیں گے اور پھرسیاست کو بہت بڑا دھچکہ لگے گا

    ان کا کہنا تھا کہ پہلے اعظم سواتی نے ویڈیوکے بارے میں غلط بیانی کی پھرکنول شوزب یہی کچھ کہہ رہے ہیں، ان کا کہنا تھاکہ میرااپنا خیال تھاکہ شوذپ خاموش رہے گی ، لیکن اس نے بھی تسلیم کرلیا کہ یہ ویڈیو میری ہے ، باجوہ کے خلاف ٹرولنگ عمران خان کے کہنے پر کی گئی ، اب عارف علوی پھر سے آپریٹر کا کردار ادا کررہے ہیں ، ان کا یہ بیھ کہنا تھا کہ جب تک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی طرف سے کوئی خبر جاری نہیں ہوتی تو یہ فیک ہی تصور کی جائے گی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوج کے حوالے سے غیرذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا پی ٹی آئی والوں کے لیے ٹرینڈ چلانا مشکل ہوجائیں گے ،

  • پرویز الہیٰ عمران خان ملاقات کے بعد پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب

    پرویز الہیٰ عمران خان ملاقات کے بعد پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے زمان پارک میں ملاقات کی ،

    ملاقات میں پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کے حوالے سے آئینی و قانونی پہلوﺅں کا جائزہ لیاگیا،ملاقات میں تحریک عدم اعتماد سے متعلق اپوزیشن کی حکمت عملی پر بھی گفتگوکی گئی، وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے اسمبلی تحلیل کے معاملے پر تجاویز چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے سامنے رکھیں

    وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے اسمبلیوں سے استعفے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں مستعفی ہونے پر ملک کو عام انتخابات کی طرف جانا چاہئے ،ملاقات کے بعد پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ کل بلا لی گئی عمران خان کل پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے ارکان سے ملاقات کریں گے ۔

    ملاقات کے بعد پرویز الہیٰ زمان پارک سے روانہ ہو گئے، انکا کہنا تھاکہ ہم جس کے ساتھ چلتے ہیں اس کا پورا ساتھ دیتے ہیں،عمران خان کے ہر فیصلے کا ساتھ دیں گے،پنجاب اسمبلی عمران خان کی امانت ہے ،

    خان صاحب کی نظریں کہہ رہی ہیں کہ محمود خان آ سکتا ہے تو وہ کیوں نہیں آیا؟

    مسلم لیگ ن ایک فرد واحد کی خاطر اسمبلیاں ختم نہیں ہونے دے گی۔

    ہمارے ساتھ بیٹھ کر پرویز الہیٰ نے عمران خان کو سلیس پنجابی میں ڈیڑھ سو گالیاں دی تھیں،خواجہ آصف کا انکشاف

    الیکشن کی تاریخ چاہئے تو عمران خان پی ڈی ایم قیادت سے ملیں، وزیر داخلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ سے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    قبل ازیں تحریک انصاف کے رہنما و سابق وفاقی وزیر پرویزخٹک سے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں سیاسی امور اور موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال اور اسمبلی کے تمام رولز آف پروسیجر کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ملاقات میں اسمبلی کے حوالے سے تمام تکنیکی پہلوؤں کو زیر بحث لایا گیا۔ پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جان لے کہ پنجاب اسمبلی کسی کی ذاتی خواہش پر نہیں چلے گی۔انشاء اللہ پنجاب اسمبلی میں ہر کام قانون و آئین کے تحت ہوگا۔ عدم اعتماد لانا یا گورنر راج لگانا اپوزیشن کا خواب ہے اور خواب ہی رہے گا۔ 13 جماعتوں کا نام نہاد اتحاد آخری سانسیں لے رہا ہے۔نااہلوں پر مشتمل وفاقی حکومت نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ بہت جلد یہ اتحادی ایک دوسرے کے دست و گریبان ہوں گے۔عمران خان کی مقبولیت شک و شبہ سے بالاتر ہے۔عمران خان نے قوم کے اندر خود داری کا جذبہ بیدار کیا ہے۔ پہلے بھی عمران خان کا ساتھ دیا اور آئندہ بھی کپتان کا ساتھ دیں گے۔

  • آصف زرداری متحرک،پی ڈی ایم جماعتوں کا اعتماد،ملک ڈیفالٹ نہیں کریگا ،زرداری کا اعلان

    آصف زرداری متحرک،پی ڈی ایم جماعتوں کا اعتماد،ملک ڈیفالٹ نہیں کریگا ،زرداری کا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ مقررہ وقت سے پہلے انتخابات ہمیں سوٹ کرتے ہیں اور نہ جمہوریت کو

    پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین ، سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان اگر اسمبلیاں توڑیں گے تو ہم الیکشن میں جائیں گے،پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تحریک عدم اعتماد لائیں گے،خیبرپختونخوا کے گمراہ دوستوں کو واپس لانا ہے،ملک ڈیفالٹ نہیں کریگا ،

    اسمبلیوں کی تحلیل کا معاملہ، وفاقی حکومت میں شامل اتحادی متحرک ہو گئے، سابق صدر آصف زرداری نے تحت لاہور کیلئے کمان سنبھال لی پی ڈی ایم جماعتوں نے ھی آصف زرداری پر اعتماد کا اظہار کر دیا،پی ڈی ایم نے پنجاب کی سیاسی صورت حال پر قانونی ماہرین سے مشاورت کا فیصلہ کر لیا،پی ڈی ایم نےمتبادل آپشن کے طور پر وزیراعلٰی سے بیک ڈور رابطے کا فیصلہ کر لیا،پرویزالٰہی اور عمران خان میں اسمبلیوں کی تحلیل پر اختلاف رائے پر بھی غور کیا جا رہا ہے

    جنرل قمر جاوید باجوہ کی 6 سالہ کارکردگی،پاکستان کا سنہرا باب

    افواج پاکستان نے بذریعہ عسکری سفارتکاری عالمی سیاست میں توازن قائم کیا،آرمی چیف

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

  • سائفرکیس،ایف آئی اے نے عمران خان کو دوبارہ طلب کرلیا

    سائفرکیس،ایف آئی اے نے عمران خان کو دوبارہ طلب کرلیا

    سائفرکیس،ایف آئی اے نے عمران خان کو دوبارہ طلب کرلیا

    ایف آئی اے کاافسر طلبی کے سمن لے کر زمان پارک پہنچ گیا ایف آئی اے نے سائفر کیس میں وزارت داخلہ کے حکم پر تحقیقات کا آغاز کردیا ،تحقیقاتی ٹیم میں ایف آئی اے لاہور کے اعلی ٰافسران شامل ہیں،ایف آئی اے نے اس سے قبل بھی عمران خان کو طلبی کے نوٹس جاری کیے تھے عمران خان کو اس سے قبل 7نومبر اور شاہ محمود قریشی کو 3نومبر کو طلب کیا گیا تھا.

    پاکستان کو ایک مرتبہ پھر انتہا پسندی اور مذہبی جنونیت کا سامنا 

    عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان کی زمان پارک آمد 

     لانگ مارچ کا آج دوبارہ سے آغاز پنجاب پولیس نے سکیورٹی پلان از سر نو تشکیل دیدیا

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف جب تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی تھی تو اسوقت عمران خان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے ایک جلسے میں ایک خط لہرایا تھا اور اس خط کو انکی حکومت کے خلاف بیرونی سازش کہا تھا، بعد ازاں بتایا گیا تھا کہ امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ عمران خان کی حکومت ختم کی جائے، عمران خان اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد ابھی تک اسی بیانئے کو لے کر چل رہے تھے تا ہم سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں واضح کہا گیا کہ کسی قسم کی دھمکی نہیں دی گئی، عمران خان اسی سائفر کو لے کر اپنی تحریک چلا رہے ہیں اور عمران خان کا غیر ملکی سازش و مداخلت کا بیانیہ عوام میں مقبول ہو چکا ہے تا ہم سائفر کے حوالہ سے عمران خان کی دو آڈیو لیک ہو چکی ہیں جس کے بعد سائفر کا بیانیہ پٹ گیا

    سائفر کے حوالہ سے 25 اپریل کو ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار سے سوال کیا گیا کہ مراسلہ سے متعلق نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اجلاس کے بعد بہت کنفیوژن ہے،جس کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں ہونے والی بحث کو دیکھنا ہو گا،این ایس سی کے دونوں اجلاسوں میں کوئی کنفیوژن نہیں ہے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے سب کچھ واضح کیا ہے،سیکیورٹی ایجنسیز نے بتایا کہ کوئی غیر ملکی سازش نہیں ہوئی،اسد مجید کے حوالے سے میڈیا میں چلنے والی خبریں مکمل طور پر بے بنیاد تھیں، اور ہیں کمیٹی اجلاس میں سفیر اسد مجید ہو کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا کسی سفیر پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا.ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخارکا مزید کہنا تھا کہ مراسلے کوکئی روز تک کو دبانے کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں۔ ٹیلیگرام جیسے ہی دفترخارجہ پہنچا اور قانون کے مطابق متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا مراسلہ قومی سلامتی کمیٹی میں زیر بحث لایا گیا اور پھر ڈی مارش دیا گیا

    پیپلز پارٹی کے رہنما علی موسیٰ گیلانی نے 30 مارچ کو دعویٰ کیا تھا کہ دھمکی آمیز خط شاہ محمود قریشی نے خود دفتر خارجہ کے سفارت کار سے لکھوایا،علی موسیٰ گیلانی کا کہنا تھا کہ فارن آفس کے ڈپلومیٹ نے شاہ محمود قریشی کے کہنے پر یہ خط وزیر خارجہ شاہ محمود کو بھجوایا,ڈپلومیٹ سے خود ساختہ خط موصول ہونے کے بعد شاہ محمود قریشی نے عمران خان کو خط پہنچایا,اس معاملے کے حقائق جلد قوم کے سامنے آئیں گے, شاہ محمود قریشی اور فارن آفس اس جعلی سازی کے اصل کرادر ہیں,شاہ محمود قریشی اور فارن آفس لیڑ گیٹ سکینڈل میں بری طرح پھنس چکے ہیں,ہم عمران خان، شاہ محمود قریشی اور فارن آفس کے ملوث کرداروں کو اس کیس سے نہیں نکلنے دیں گے,

  • اسمبلیاں توڑیں گئی تو جنرل الیکشن نہیں بلکہ صرف ان صوبوں میں الیکشن ہوں گے. وفاقی وزیر داخلہ

    اسمبلیاں توڑیں گئی تو جنرل الیکشن نہیں بلکہ صرف ان صوبوں میں الیکشن ہوں گے. وفاقی وزیر داخلہ

    اسمبلیاں توڑیں تو جنرل الیکشن نہیں صرف ان صوبوں میں الیکشن ہوں گے، رانا ثنا اللہ

     وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلیاں توڑی جاتی ہیں، تو پھر ان 2اسمبلیوں کے الیکشن ہوں گے۔جنرل الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے وزیرداخلہ راناثنااللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان جب حکومت میں تھے تو اپوزیشن کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ساڑھے تین سال میں عمران خان نے کرپشن کا بیانیہ بنایا۔عمران خان کو چاہیے تھا قوم سے معذرت کرتے اور واپس پارلیمنٹ میں آتے۔

    ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو سیاسی روایات کے تحت مسائل پر بات کرنی چاہیے تھی۔26نومبر کو عمران خان ناکام ہوئے ، لانگ مارچ میں عوام نے ساتھ نہیں دیا۔عمران خان نے خیبرپختو نخوا اور پنجاب اسمبلیوں کوتوڑنے کی بات کرکے بحرانی کیفیت پیداکی۔جلسوں میں ناکام ہوکے، تقریریں کر کے، اسمبلیاں توڑنا، آئین، قانون، جمہوری عمل کی توہین ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پہلے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا کا فیصلہ، میچ شروع
    بلوچستان اسمبلی کے سامنے 8 روز سے جاری پشین بچاؤ تحریک کا دھرنا ختم
    ابراہیم زدران ایک روزہ میچ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے افغان کھلاڑی بن گئے
    ان کا کہنا ہے کہ اگر سسٹم عمران خان کواقتدار دے تو کرپٹ نہیں، اگر نہ دے تو برا ہے۔سنا ہے پی ٹی آئی والے 20 دسمبر سے استعفے دیں گے۔اگر استعفے دینے کا فیصلہ کر لیا ہے تو 20 دسمبر تک انتظار کیوں ؟ عمران خان کو اگر کرپٹ سسٹم میں نہیں رہنا تو سینیٹ اور آزاد کشمیر سے باہر جائیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ فری اینڈ فیئر الیکشن کے بنیادی تصور کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ہم کوشش کریں گے کہ اسمبلیاں توڑنے کے عمل میں معاون نہ ہوں۔ اسمبلیاں توڑنا کسی سیاسی جماعت اور نہ ملک کے حق میں ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ سیاسی عدم استحکام کو بھی روکنے کی کوشش کی جائے گی، جو بھی مسائل ہوں گے ان کو آئین اور قانون کے مطابق حل کیے جائیں گے۔جو بھی اس کو آئین کے تحت روکنے میں ہوسکتا ہے اس طرف جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلیاں توڑی جاتی ہیں، تو پھر ان 2اسمبلیوں کے الیکشن ہوں گے۔جنرل الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے۔ آئینی مدت پوری کریں گے۔اسمبلیاں توڑنے سے پہلے اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس آئیں اور کہیں استعفے قبول کیے جائیں۔پارلیمنٹ لاجز، گھر،گاڑیاں،تنخواہیں اور مراعات نہیں چھوڑتے اور شور مچاتے ہیں۔

    انہوں نے کہا ہے کہ ہم الیکشن سے خوفزدہ نہیں ہیں۔کوئی نہ سمجھے کہ ہم الیکشن سے پیچھے ہٹیں گے۔ہم کمپین کریں گے، نواز شریف صاحب کمپین کے لیے میسر ہوں گے، یہ ان کی بھول ہے یہ جیت کے واپس آجائیں گے۔