Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کرپشن کا احتساب آئینی حکمرانی کیلئے لازم ہے، چیف جسٹس

    کرپشن کا احتساب آئینی حکمرانی کیلئے لازم ہے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا کہنا درست ہے کرپشن ایک بیماری ہے،کرپشن کا احتساب آئینی حکمرانی کیلئے لازم ہے کرپشن سے معیشت بھی متاثر ہوتی ہے، عدالت کے سامنے سوال ہے کہ ہم کہاں لائن کھینچیں کہ بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں، خرابی نیب قانون میں نہیں اس کے غلط استعمال میں ہے،کرپشن سے سختی سے نمٹنا چاہیے عدالت اس نتیجے پر پہنچتی ہے تو ہمارے پاس اس کا بینچ مارک کیا ہو گا؟

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت روزانہ کی بنیاد پر بنیادی حقوق سے متصادم معاملات پر فیصلے کرتی ہے،کل کو ہمارے پاس ایک شہری کہے پاکستان میں کرپشن کا قانون نہیں ہم پارلیمنٹ کو کہہ دیں کہ ایک قانون بنا دیں،

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • یہ کسی کا حق نہیں کہ وہ کہہ دے کہ موٹروے پر دھرنا دے گا،عدالت

    یہ کسی کا حق نہیں کہ وہ کہہ دے کہ موٹروے پر دھرنا دے گا،عدالت

    یہ کسی کا حق نہیں کہ وہ کہہ دے کہ موٹروے پر دھرنا دے گا،عدالت

    پی ٹی آئی دھرنے کے باعث راستوں کی بندش کے خلاف تاجروں کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اپیل کو پی ٹی آئی کی دھرنے اور جلسے کے این او سی حصول کی درخواست کے ساتھ یکجا کر دیا گیا ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دُگل نے عدالت میں کہا کہ قانونی رائے کے لیے وزارت قانون کو لکھا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فارو ق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی چیزوں میں فوری ایکشن لینا ہوتا ہے،وکیل نے کہا کہ ہائی ویز اور موٹرویز پر ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں، چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائی ویز اور موٹرویز کو بند کر دیں گے تو ٹریڈ بھی متاثر ہو گی، یہ کسی کا حق نہیں کہ وہ کہہ دے کہ موٹروے پر دھرنا دے گا اور وہاں کھڑا ہو جائے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دھرنا کیس میں فیصلہ دیا تھا کہ تمام جلسے پریڈ گراؤنڈ میں ہوں گے،

    بیرسٹر جہانگیر جدون ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ وہ فیصلہ ہماری درخواست پر آیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ایڈوکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اب آپ اس سائیڈ پر آ گئے ہیں،اسلام آباد میں غیرملکی بھی ہیں، ڈپلومیٹک موومنٹ بھی متاثر ہوتی ہے جو جلسہ کرنا چاہ رہے ہیں ان کا حق ہے مگر عام شہریوں کے حقوق بھی متاثر نہیں ہونے چاہئیں، ہائی ویز اور موٹرویز پر کنٹرول فیڈریشن کا ہے، یہ بات واضح ہے کہ فیڈریشن اس متعلق ڈائریکشن دے سکتی ہے، اس درخواست کو پی ٹی آئی درخواست کے ساتھ یکجا کر دیتے ہیں

    عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان کی زمان پارک آمد 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    واضح رہے کہ عمران خان حکومت کے خلاف لانگ مارچ کر رہے ہیں، لانگ مارچ کا لاہور سے آغاز ہوا تھا، وزیر آباد میں مبینہ قاتلانہ حملے کے بعد لانگ مارچ ملتوی کیا گیا تھا ، بعد ازاں لانگ مارچ کا دوبارہ آغاز ہوا تو عمران خان زمان پارک سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہیں ، اسد عمر، شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک لانگ مارچ کی قیادت کر رہے ہیں

  • انتظامیہ اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ مارچ کنٹرول نہیں کر سکتی؟ سپریم کورٹ

    انتظامیہ اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ مارچ کنٹرول نہیں کر سکتی؟ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ ،پی ٹی آئی لانگ مارچ روکنے کیلئے سینیٹر کامران مرتضی ٰکی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان کے لانگ مارچ کے لیے جگہ کا تعین کیا گیا ہے؟ انتظامیہ سے پوچھ کر عدالت کو آگاہ کیا جائے،سپریم کورٹ نے ایڈشنل اٹارنی جنرل کو آدھے گھنٹے میں انتظامیہ سے پوچھ کر بتانے کا حکم دے دیا، درخواست گزار سینیٹر کامران مرتضیٰ نے عدالت میں کہا کہ دو ہفتے سے عمران خان کا لانگ مارچ شروع ہے،فواد چودھری کے مطابق جمعہ یا ہفتے کو لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے گا،لانگ مارچ سے معاملات زندگی متاثر ہو سکتے ہیں، مارچ پی ٹی آئی کا حق ہے لیکن عام آدمی کے حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں،

    جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا حکومت نے احتجاج کو ریگولیٹ کرنے کا کوئی طریقہ کار بنایا ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ انتظامیہ اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ مارچ کنٹرول نہیں کر سکتی؟ یہ ایگزیکٹیو کا معاملہ ہے ان سے ہی رجوع کریں، غیر معمولی حالات میں ہی عدلیہ مداخلت کر سکتی ہے،جب انتظامیہ صورتحال کنٹرول کرسکتی ہے تو عدالت مداخلت کیوں کرے؟ درخواست گزار سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ بات اب بہت آگے جا چکی ہے، پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں فائرنگ سے ایک شخص کی جان گئی،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ تو کافی دنوں سے چل رہا ہے، کیا آپ نے انتظامیہ سے رجوع کیا ہے؟لانگ مارچ کے معاملے میں جلدی کیا ہے اور انتظامیہ کی غفلت کیا ہے؟

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے درخواست میں ماضی کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا ہے، لانگ مارچ سیاسی مسئلہ ہے جس کا سیاسی حل ہو سکتا ہے، اس قسم کے مسائل میں مداخلت سے عدالت کیلئے عجیب صورتحال پیدا ہو جاتی ہے، آپ نے اپنی درخواست میں ایک آڈیو کا ذکر کیا ہے، جس میں ہتھیار لانے کا ذکر ہے،آڈیو سچ ہے یا غلط لیکن اس سے امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے، کیا 25 مئی کے لانگ مارچ میں لوگوں کے پاس اسلحہ تھا؟احتجاج کا حق لامحدود نہیں آئینی حدود سے مشروط ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں لانگ مارچ ابھی پنجاب کی حدود میں ہے،کیا آپ نے پنجاب حکومت سے رابطہ کیا ہے؟اگر صوبے اور وفاق کا رابطہ منقطع ہو جائے تو کیا عدالت مداخلت کر سکتی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے سینیٹر کامران مرتضیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک سینیٹر ہیں پارلیمنٹ کو مضبوط کریں، درخواست گزار نے کہا کہ میں ذاتی حیثیت میں عدالت آیا ہوں، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیسے مان لیں کہ آپ حکومت کا حصہ بھی ہیں اور ذاتی حیثیت میں آئے ہیں،درخواست گزار نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ انتظامیہ صورتحال کو کنٹرول نہیں کر سکتی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر لانگ مارچ کے معاملے میں عدالت کی مداخلت قبل از وقت ہوگی،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ چاہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ ڈپٹی کمشنر کا کردار ادا کرے،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کا معاملہ لارجر بینچ میں زیر التوا ہے، فریقین نے یقین دہانی کی خلاف ورزی پر جواب دینا ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ یہ بینچ الگ سے لانگ مارچ کے معاملے میں مداخلت کرے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ کا معاملہ تو اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی زیر التوا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے 25 مئی کے جلسے کیلئے ایچ نائن گراونڈ کی درخواست دی گئی تھی، انتظامیہ نے ایچ نائن گراونڈ دینے سے انکار کیا تو سپریم کورٹ نے مداخلت کی، ایچ نائن کا گراونڈ مختص ہونے کے باوجود ہجوم ڈی چوک چلا آیا،کیا آپ اس بات سے خائف ہیں کہ 25 مئی والا واقعہ دوبارہ ہو سکتا ہے؟

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی لانگ مارچ روکنے کیلئے سینیٹر کامران مرتضٰی کی درخواست غیر موثر ہونے پر نمٹا دی، سپریم کورٹ نے کہا کہ حالات خراب ہوتے ہیں تو عدالت سے دوبارہ رجوع کیا جاسکتا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ میں لانگ مارچ سے متعلق کیس زیر التوا ہے ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کے موقف کے بعدحکم جاری کرنے کی کوئی وجہ نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی خلاف ورزی کرتا ہے تو ایگزیکٹیو کے پاس وسیع اختیارات موجود ہیں،کیا عدلیہ کی مداخلت سے انتظامیہ اور پارلیمنٹ کمزور نہیں ہو گی؟ جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کو متحرک کریں کہ وہ اپنا کردار ادا کریں، آئے روز اسلام آباد میں پارلیمنٹ سمیت کئی جگہوں پر احتجاج ہوتے ہیں،کیا کبھی باقی احتجاج کے خلاف آپ عدالتوں میں گئے ہیں؟ ایک مخصوص جماعت کے لانگ مارچ میں ہی عدالت کی مداخلت کیوں درکار ہے؟ درخواست گزار نے کہا کہ لانگ مارچ کی وجہ سے ایک پورا صوبہ مفلوج رہا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے مطابق تو ایگزیکٹیو کے اختیارات تو 27 کلومیٹر تک محدود ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کامران مرتضیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ مفروضے کی بنیاد پر ہمارے پاس آئے ہیں، کیا انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے لیے جگہ کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو روات میں جلسے کا کہا تھا،انتظامیہ نے پی ٹی آئی سے بیان حلفی مانگا جو اب تک پر نہیں ہوا،اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی یہ معاملہ چل رہا ہے، آدھا گھنٹہ دیں تو انتظامیہ سے معلومات لے لیتا ہوں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر واضح طور پر آئینی خلاف ورزی کا خطرہ ہو تو عدلیہ مداخلت کرے گی، سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ درخواست میں ماضی کی آئینی خلاف ورزیوں کا حوالہ بھی موجود ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے خلاف ورزیوں پر دوسرے فریق کا اپنا موقف ہو، سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی پر عدالت کے لیے معاملہ پیچیدہ ہو جاتا ہے، عدالتی حکم عملدرآمد کے لیے ہوتے ہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب تو موجودہ درخواست غیر موثر ہو گئی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے عدالتی مداخلت چاہتے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ صورتحال ایگزیکٹیو کے بس سے باہر ہو چکی ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاق نے 5 نومبر کو بھی پنجاب کو آرٹیکل 149 کے تحت خط لکھا ہے، جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا وفاق کو نہیں معلوم کہ اپنی ذمہ داری کیسے پوری کرنی ہے؟ سپریم کورٹ انتظامی معاملات میں کیا کر سکتی ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاست طاقت ور بااختیار ہے، سمجھ سکتے ہیں کہ آپ موجودہ صورتحال سے پریشان ہیں، سمجھ سکتے ہیں کہ آپ موجودہ صورتحال سے پریشان ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج کی ہیڈلائن باجوڑ اور لکی مروت میں حملے کی تھی جس سے پوری قوم متاثر ہوتی ہے، ملک میں ہنگامہ نہیں امن و امان چاہتے ہیں،ایسا حکم دینا نہیں چاہتے جو قبل از وقت ہو اور اس پر پھر عمل درآمد نا ہو،آرٹیکل 149 کے تحت وفاق کا صوبوں کو خط بہت سنجیدہ معاملہ ہوتا ہے،

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

    ہم جنس پرستی کے مکروہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش شرمناک ہے، تنظیم اسلامی

    خواجہ سرا کے ساتھ بازار میں گھناؤنا کام کرنیوالے ملزمان گرفتار

    عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان کی زمان پارک آمد 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

  • شہزاد اکبر نے 1ارب مانگا، فواد کو کتنا دیا؟ عمر فاروق ظہورکا دھماکے دارانٹر ویو

    شہزاد اکبر نے 1ارب مانگا، فواد کو کتنا دیا؟ عمر فاروق ظہورکا دھماکے دارانٹر ویو

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے توشہ خانہ کے تحائف خریدنے کا دعویٰ کرنے والے عمر فاروق کا انٹرویو

    باغی ٹی وی : توشہ خانہ سے ویسے تو بہت زیادہ چیزیں غائب ہوئی ہیں تاہم گزشتہ روز سےایک گھڑی پر زو رو شور سے بحث جاری ہے جو غالباً عمران خان کی فرنٹ پرسن گوگی نے دبئی جا کر بیچی اور جس شخص عمر فاروق نے خریدی ان کے کل کے ایک انٹر ویو نے تہلکہ مچا دیا ہے-

    سردیوں کی آمد سے قبل ہی کراچی میں سوئی گیس کا شدید بحران،شہری مشکلات کا شکار


    بعد ازاں عمران خان کی جانب سے نجی خبررساں ادارے جیو ،اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ اور عمرا فاروق کو دھمکیاں دی گئیں کہ ان پر لندن ،دبئی اور پاکستان میں مقدمے درج کروائیں گے-

    معروف اینکر پرسن مبشر لقمان کے مطابق اس طرح کرنے سے انہیں بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اس طرح ان کو ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ گھڑی گئی کسی کے ہاتھ گئی تھی کہاں پر کس کو بیچی کہاں بیچی اس کی رسید کہاں پر ہے اس کی تشخیص کیسے ہوئی تھی اور تھرڈ پارٹی کی تشخیص ہوئی تھی یا کہ نہیں ہوئی تھی اور توشہ خانہ میں اس کی بیچنے کی رسید جمع کرائی گئی یا نہیں اور توشہ خانہ میں وہ رسید ضرور جمع ہے جو جتنے پیسوں میں وہ گھڑی وہاں سے عمران خان نے خریدی لیکن بیچی کتنے کی وہ نہیں پھر وہ پیسے پاکستان کیسے آئے آئی بھی یا نہیں آئے ان کے اوپر ٹیکس دیا گیا یا نہیں کیا؟ وہ بل کلئیر کئے یا نہیں اس طرح کے بہت سے سوالات ہیں جن کے جواب نہیں ہیں لیکن جب عمر فاروق سے واٹس ایپ پر بات ہوئی تو بہت سے اور سوالوں کے جواب بھی کھل گئے-

    نجی ٹی وی کے پروگرم کھرا سچ میں اینکر پرسن مبشر لقمان کے ساتھ انٹرویو میں عمر فاروق نے بتایا کہ اس گھڑی کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ دنیا میں واحد پیس ہے اس طرح کی دو گھڑیاں نہیں ہیں اور جس بندے کے پاس یہ گھڑی ہو گی وہی اس کا مالک ہے اور حال ہی میں میں نے وہ گھڑی خریدی ہے اور ایسی کوئی بات نہیں جو یہ کہہ سکیں کہ یہ وہ گھڑی نہیں کوئی دوسری گھڑی ہے اور گھڑی کےتمام ڈاکومنٹس سرٹیفیکیٹس میرے پاس ہیں-

    حکومت پنجاب صحت کے تمام شعبہ جات پر خصوصی توجہ دے رہی ہے – عثمان جیلس

    عمر فاروق نے اپنے نام کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹوئٹر پر گردش کئے جانے والے اپنے ٹوئٹس کے حوالے سے کہا کہ ان کا کوئی سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں جن پر ٹوئٹس کی جا رہی ہیں وہ تما م فیک ہیں اور جن لوگوں نے ان کے (عمر فاروق) نام کے فیک اکاؤنٹس بنائے ہیں آپ سمجھتے ہیں-

    https://www.youtube.com/watch?v=r4oadoLZUDM

    انہوں نے بتایا کہ شہزاد اکبر کی وجہ سے صوفیہ مرزا ان کے پیچھے پڑی ہوئیں تھیں اورتوشہ خانہ کی گھڑی کی ٹرانزیکشن کے بعد کا ایک کافی بڑا گراپ ان کے پیچھے پڑا ہوا تھا جو کہ یقیناً میں محسوس بھی کر رہا ہوں-

    عمر فاروق نے بتایا کہ فرح گوگی ان کے دفتر آئیں تھیں اور وہ خود ان کے پاس گھڑی لے کر آئیں تھیں عمرفاروق کے مطابق فرح گوگی ان کے دفتر دو مرتبہ آئیں اور ان کا سٹاف بھی اس بارے جانتا ہے تاہم انہوں نے بتایا کہ ان کے آفس کے سی سی ٹی فوٹیج کا ریکارڈ وہ 6 ماہ رکھتے ہیں اور یہ لین دین کا معاملہ 2019 میں ہوا تھا اورانہیں یہ علم نہیں تھا کہ اس طرح سے یہ معاملات سامنے آئیں گے ورنہ وہ فوٹیج اپنے پاس محفوظ کر لیتے-

    عمر فاروق نے بتایا کہ فرح گوگی کی ان تک رسائی شہزاد اکبر کے ذریعے ہوئی کیونکہ ان کے وہ شہزاد اکبر کے ساتھ اچھے ریلیشنز تھے اور شہزاد اکبر نے انہیں کہا کہ ہمارے پاس توشہ خانہ میں گفٹس جو ہمیں اکثر ملتے ہیں جو ہم نہ رکھنا چاہیں بیچ دیتے ہیں اگر آپ کو کوئی گفٹ خریدنے میں کوئی دلچسپی ہو تو آپ دیکھ سکتے ہیں جس کے بعد شہزاد اکبر نے انہیں فرح گوگی کا نمبر دیا اور وہ ان کے پاس دبئی آئیں جہاں اس نے وہ گھڑی انہیں بیچی اگر فرح اب مُکر رہیں ہیں تو میں اس بارے کچھ نہیں کہہ سکتا-

    سندھ کابینہ نے سیلاب سے تباہ مکانات کی تعمیر کیلئے 50 ارب روپے کی منظوری دے دی

    عمر فاروق نے کہا کہ گھڑی کی ٹرانزیکشن کیش میں ہوئی کیونکہ انہوں نے کیش ہی مانگا تھا میں نے جس دن گھڑی دیکھی اس کی ویلیوایشن کی اس سے اگلے دن انہیں میں نے رقم دی اور انہیں ساڑھے سات ملین درہم کیش دیا تھا جو کہ اتنی بڑی رقم نہیں ہے وہ دو چھوٹے بیگوں میں ان کو ڈال کر دی انہیں یہ نہیں پتہ کہ وہ رقم انہوں نے دبئی میں رکھی یا پاکستان لے کر گئیں-

    فواد چوہدری کے کچھ واٹس ایپ چیٹ بھی سامنے آئی جس میں فواد چوہدری نے کمیشن مانگا تھا عمر فاروق نے کہا کہ یہ میسجز تمام صحیح ہیں اور ابھی بھی میرے پاس ہیں فواد نے مجھے کہا کہ تم اپنے تمام بیانات واپس لے لو اور کہو کہ یہ وہ گھڑی نہیں ہے اور گھڑی ہے ہم سنبھال لیں گے بات کو جس پر میں نے انہیں انکار کیا اور بعد ازاں پریس کانفرنس میں انہوں نے میرے خلاف باتیں کیں-

    عمرفاروق نے کہا کہ ان پر کیسز بنانے والے بھی یہی ہیں اور اس کو بڑھاوا دینے والے بھی اگر میں ان کی نظر میں کرمنلز ہوں تو یہ ایک کرمنلز کے پاس آئے کیوں اور کرمنل کو گھڑی بیچی کیوں؟-

    فواد چوہدری عمر فاروق سے دبئی میں ملتے بھی رہے، عمر فاروق اور فواد چوہدری تحریک انصاف کی حکومت کے دوران ویکسین، ای اسپورٹس اور آئی ٹی سیکٹر سے متعلق کاروباری منصوبہ بندی کیلئے پیغامات کا تبادلہ بھی کرتے نظر آئے ہیں اور ویکیسن کو پاکستان میں اپروو کروانے کیلئے کمیشن بھی مانگی، جس پر شہزاد اکبر نے ان سے ایک ارب روپے کمیشن مانگی اور مجھے پریشرائز کیا انہوں نے میرے پرانے کیسز کی کہانی بنائی جب وہاں پر یہ کامیاب نہیں ہوئے تو پھر بچوں کے حوالے سے کیسز بنائے اور منی لانڈرنگ کے مقدمات بنائے-

    تونسہ شریف:سابق وزیر اعلی پنجاب بزدار سردار عثمان بزدار کا بارتھی کوہ سلیمان کا…

  • باجوڑ ،سیکورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے مابین فائرنگ،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    باجوڑ ،سیکورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے مابین فائرنگ،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    باجوڑ ،سیکورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے مابین فائرنگ،ایک دہشتگرد جہنم واصل
    باجوڑ کے علاقے ہلال خیل میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشتگرد ہلاک ہو گیا ہے، ہلاک دہشتگرد سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں میں ملوث تھا، اس دوران پاک فوج کے دو جوان بھی شہید ہو گئے ہیں،، شہید نائیک تاج محمد کاتعلق کوہاٹ سے ہے،شہید لانس نائیک امتیاز خان کا تعلق مالاکنڈ سے ہے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کا تبادلہ 15 اور 16 نومبر کی درمیانی شب کو ہوا،علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے،

    واضح رہے کہ سیکورٹی فورسز پاکستان کے امن کے لئے جانوں کے نذرانے دے رہی ہیں، قیام امن کے لئے سیکورٹی اداروں کی قربانیاں قابل تحسین ہیں، پاکستانی قوم وطن کے دفاع کے لئے جانیں قربان کرنے والے جوانوں کو خراج عقیدت ہیش کرتی ہے،وطن عزیز سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستانی قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی تھی، ہے اور رہے گی،

    ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں،ترجمان پاک فوج کا راشد منہاس شہید کی برسی پر پیغام

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

  • توشہ خانہ کی گھڑی اسلام آباد میں فروخت کی گئی تھی،عمران خان کا اعتراف

    توشہ خانہ کی گھڑی اسلام آباد میں فروخت کی گئی تھی،عمران خان کا اعتراف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ 60 فیصد سے زیادہ کابینہ ارکان ضمانت پر ہیں،انہوں نے حکومت میں آتے ہی خود کو این آر او دیا،

    لانگ مارچ کے شرکا سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم قانون کی حکمرانی کیلئے جنگ لڑرہے ہیں وہ معاشرے تباہ ہوجاتےہیں جہاں انصاف نہیں ہوتا،امیر ممالک اس لیے خوشحال ہیں کیونکہ وہاں کرپشن نہیں ہے ان کے پاس ملک چلانے کاکوئی ویژن نہیں ان 2خاندانوں کے اقتدارمیں آنے کے بعد ملک نیچے گیا،75فیصد چانس ہے کہ ملک ڈیفالٹ کرجائے گا،انہوں نے صاف نیت سے ملک میں کوئی کام نہیں کیا،یہ ہروقت میرے خلاف کوئی نہ کوئی پروپیگنڈہ مہم شروع کردیتے ہیں،انصاف کےنظام سےمجھےکوئی امید نہیں،جیوگروپ کیخلاف لندن میں کیس کروں گا،

    قبل ازیں لاہور میں زمان پارک میں عمران خان سے صحافیوں نے ملاقات کی، اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ کی گھڑی اسلام آباد میں فروخت کی گئی تھی جس کا ثبوت موجود ہے ہمیں مذاکرات کا پیغام بھیجا جا رہا ہے مگر ہم نے کہا ہے کہ الیکشن کی تاریخ دیں صاف شفاف الیکشن میں تمام بحران کا حل ہے فوری صاف شفاف انتخابات کا انعقاد تیزی سے مسلط ہوتی تباہی کے قدم روکنے کیلئے ناگزیر ہے امریکا کے معاملے پر بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا میں نے کہا تھا اپنے مفاد پر ملکی مفاد کو ترجیح دوں گا امریکا نے میری حکومت گرائی تھی مگر ملکی مفاد کی وجہ سے ان سے اچھے تعلقات رہیں گے

    عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان کی زمان پارک آمد 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ میرے قتل کی کوشش اور حقیقی آزادی مارچ کو خون میں نہلا کر راستہ صاف کرنے کی کوششیں خاک میں ملیں کرپشن، منی لانڈرنگ، ملک کو بدعنوانی کی لعنت کا شکار کرنے والوں کو مسلط کرکے قوم کو ان کی اطاعت پر مجبور کیا جا رہا ہے سازش و جبر کا ہر سطح پر مقابلہ کیا آئندہ بھی پوری قوت سے سامنا کریں گے راولپنڈی میں تاریخ کا سب سے بڑا انسانوں کا سمندر امڈ رہا ہے ، پر امن جمہوری جدوجہد کے ذریعے نظام پر مسلط بے مہار گروہ سے قوم کو آزاد کریں گے

  • نیب آرڈیننس آنے کے بعد اب تک نیب ریفرنسز میں ہونے والی سزاؤں کا ریکارڈ طلب

    نیب آرڈیننس آنے کے بعد اب تک نیب ریفرنسز میں ہونے والی سزاؤں کا ریکارڈ طلب

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے نیب آرڈیننس آنے کے بعد اب تک نیب ریفرنسز میں ہونے والی سزاؤں کا ریکارڈ طلب کر لیا،سپریم کورٹ نے جمعہ تک نیب ریفرنسز میں ہونے والے سزاوں کا ریکارڈ جمع کرانے کا حکم دے دیا،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے دلائل دیئے گئے،وکیل نے کہا کہ عوامی عہدے دار عوامی اعتماد کا حامل اور جوابدہ ہوتا ہے، توہین عدالت کا قانون انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر قانون سازوں کی نااہلیت پر اڑایا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں بنیادی انسانی حقوق کے خلاف بنایا گیا قانون پارلیمنٹیرینز کی نااہلیت پر اڑایا جاسکتا ہے؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نااہلیت پر نہیں توہین عدالت قانون جانبدار ہونے کی وجہ سے کالعدم قرار دیا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ پارلیمنٹ کی قابلیت نہ ہونے کی وجہ سے قانون کالعدم ہوا؟ عدالت نے بنیادی حقوق کے خلاف قانون سازی مسترد کی کبھی نہیں کہا کہ پارلیمان کی قابلیت نہیں،عدالت نے کبھی پارلیمان کی اہلیت یا قابلیت پر سوال نہیں اٹھایا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہیں لکھا نہیں بلکہ سمجھ کی بات ہے،جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں بنیادی انسانی حقوق کا تعلق عوامی اعتماد سے جوڑا گیا،نیب کیس مختلف ہے، خواجہ حارث نے کہا کہ اب بنیادی انسانی حقوق کو تحفظ دینا ہے یا نہیں عدالت دیکھے، سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی

    مت بھولو کہ عمران خان مافیا کے خلاف 24 سال جہاد کرنے کے بعد نہ صرف وزیرِاعظم بنا بلکہ کرپشن کی چٹانوں سے ٹکرایا، عون عباس

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج

    ‏تنخواہ اور پینشن ایک روپیہ نہیں بڑھائی ، پٹرول 25 روپے مہنگا کرکے بتا دیا سلیکٹڈ کے دل میں اس قوم کے لئے کتنا درد بھرا ہوا ہے، جاوید ہاشمی

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • توہین عدالت کیس،عدالت کارروائی ختم کرے،عمران خان کا سپریم کورٹ میں جواب

    توہین عدالت کیس،عدالت کارروائی ختم کرے،عمران خان کا سپریم کورٹ میں جواب

    سپریم کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرا دیا،جواب میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدالت توہین عدالت کیس کی کارروائی ختم کرے، رپورٹس سے ثابت نہیں ہوتا کہ جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی،یہ بات بھی ثابت نہیں ہوتی کہ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی بنتی ہے،قانون نافذ کرنے والے ادراوں کی رپورٹس زیادہ تر مفروضوں پر مبنی ہیں، یہ رپورٹس توہین عدالت کی کارروائی کو برقرار رکھنے کی بنیاد فراہم نہیں کرتیں، عمران خان کی جانب سے 16 صفحات پر مشتمل جواب میں اخبارکے تراشے بھی شامل کئے گئے ہیں،جواب میں مزید کہا گیا کہ اسد عمر نے رابطہ پر زبانی ہدایات دی، اسد عمر کی زبانی ہدایات پر سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی، جانتے ہوئے عدالت کے حکم عدولی نہیں کی، یقین دہانی کراتا ہوں مجھے 25مئی کی شام عدالتی حکم سے آگاہ نہیں کیا گیا،احتجاج کے دوران جیمرز کی وجہ سے فون پر رابطہ نا ممکن تھا،ویڈیو پیغام سیاسی معلومات پرجاری کیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں بابر اعوان کی مجھ سے ملاقات کرانے کا بھی کہا عدالتی حکم کے باوجود انتظامیہ نے بابراعوان کی مجھ سے ملاقات میں کوئی سہولت نہیں دی

    عمران خان نے جواب میں سکیورٹی ایجنسیوں کی رپورٹس کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ 25 مئی کو ڈی چوک جانے کی کال حکومتی رویے کے خلاف پرامن احتجاج کے لیے تھی میری یا تحریک انصاف کی جانب سے کسی وکیل کو سپریم کورٹ میں زیر التوا کیس میں شامل ہونے کو نہیں کہا گیا مجھے اب بتایا گیا ہے کہ اسدعمر نے جی نائن گرؤانڈ کے حوالے سے ہدایات دیں عمران خان کے وکیل نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرانے کے ساتھ توہین عدالت کی کارروائی ختم کرنے کی استدعا بھی کر دی

    رہنما تحریک انصاف ڈاکٹر بابر اعوان نے بھی توہین عدالت کی کاروائی سے اپنا نام نکالنے کی استدعا کردی ڈاکٹر بابر اعوان نے توہین عدالت کیس میں جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دی، جس میں کہا گیا کہ 25 مئی کو ایڈووکیٹ فیصل فرید نے مجھے عدالتی نوٹس کا بتایا بطور وکیل 40 سال عدلیہ کی معاونت میں گزارے

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    عدالت ان کو سزا دے جنہوں نےعدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،توہین عدالت کیس میں استدعا

    واضح رہے کہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکی گئی تھی،وفاقی حکومت نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی استدعا کر دی، استدعا میں کہا گیا ہے کہ 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، سپریم کورٹ کے 25 مئی کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی گئی تھی، عمران خان نے ایچ نائن گراونڈ جانے کے بجائے ورکرز کو ڈی چوک کال دی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ورکرز نے ریڈ زون میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس سے واضح ہے کہ عدالتی احکامات کی توہین کی گئی، سپریم کورٹ نے 25 مئی کو فیصلہ دیا تھا جس پر عمران خان نے عمل نہیں کیا، اب پھر عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔لانگ مارچ کو کامیاب کرنے کے لئے کارکنوں کو جہاد جیسے لفظ استعمال کرکے اکسا رہے ہیں، عدالت کے 25 مئی والے فیصلے پرعمل کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، عمران خان نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی، عمران خان اور ان کے پارٹی رہنما عدلیہ اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کا ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔ عمران خان کی آج سے نہیں بلکہ اداروں کو بدنام کرنے کی ایک تاریخ ہے، عمران خان آئینی طریقے سے آنے والی حکومت کو دھمکیاں دے رہے ہیں

     

  • لانگ مارچ کو کونسا ملک فنڈنگ کر رہا ؟ مولانا فضل الرحمان کا اہم انکشاف

    لانگ مارچ کو کونسا ملک فنڈنگ کر رہا ؟ مولانا فضل الرحمان کا اہم انکشاف

    لانگ مارچ کو وہ ملک فنڈنگ کر رہا جو محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان نہیں چاہتا،مولانا فضل الرحمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ، جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کے پیچھے چھپی سازش سے پردہ چاک کرنا ملکی مفاد کا تقاضا ہے

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے طور پر تحقیقات کیں کہ لانگ مارچ کو ایک ملک فنڈنگ کر رہا ہے، سعودی ولی عہد کے دورہ کو سبوتاژ کرنے کے لے لانگ مارچ کا ڈرامہ رچایا گیا،سعودی ولی عہد کے دورے کی تاریخ نہیں طے ہونے تک لانگ مارچ کااعلان نہیں کر رہے تھے،عمران خان کو جیسے ہی پتہ چلا کہ دورہ نومبر میں ہوگا تو انہوں نے مارچ شروع کیا ایک ملک نہیں چاہتا تھا کہ محمد بن سلمان پاکستان کا دورہ کریں،اس لیے وہ ملک لانگ مارچ کی فنڈنگ کر رہا ہے،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران نے 2014 میں بھی چینی صدر کے دورہ کو سبوتاژ کرنے کے لیے دھرنا دیا تھا،عمران خان نے ہر وہ قدم اٹھایا جو ریاست پاکستان کے مفادات کے خلاف ہے، عمران خان کا لانگ مارچ اب فرلانگ مارچ بن چکا ہے جیسے امریکا کا مستقبل نہیں رہا ایسے ہی عمران خان کا بھی کوئی سیاسی مستقبل نہیں ،مصلحت کی خاطر عمران خان کے خلاف فی الحال کارروائی کی ضرورت نہیں ہے،امریکی سازشی بیانیے اور سائفر سے پیچھے ہٹنا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان حکومت کے خلاف لانگ مارچ کر رہے ہیں، لانگ مارچ کا لاہور سے آغاز ہوا تھا، وزیر آباد میں مبینہ قاتلانہ حملے کے بعد لانگ مارچ ملتوی کیا گیا تھا ، بعد ازاں لانگ مارچ کا دوبارہ آغاز ہوا تو عمران خان زمان پارک سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہیں ، اسد عمر، شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک لانگ مارچ کی قیادت کر رہے ہیں

    عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان کی زمان پارک آمد 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا شعیب شیخ کو ہر سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا شعیب شیخ کو ہر سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ،ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس میں شعیب شیخ و دیگر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    ایف آئی اے کی جانب سے شعیب شیخ سمیت دیگر کی سزا معطلی واپس لینے کی استدعا کی گئی،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ دو سماعتوں پر نہیں آتے پھر وارنٹ نکلتے ہیں تو آتے ہیں ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کرمنل معاملہ ہے ،چار پانچ سال سے اپیل چل رہی ہے اور یہ چھپن چھپائی کر رہے ہیں ، ضمانت واپس لے لیتے ہیں ان کو جیل بھیج دیتے ہیں پھر 2031 کے لیے کیس مقرر کر دیتے ہیں ،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ پچھلی سماعت پر آرڈر ہوا تھا کہ شعیب شیخ حاضر ہو ،شعیب شیخ کو عدالت حاضری سے استثنیٰ دے ،

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے پراسیکیوٹرسے سوال کیا کہ چار سال سے یہ اپیلیں کیوں زیر التوا ہیں ؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ پانچ جولائی 2018 کو سزا ہوئی تو یہ کورٹ سے بھاگ گئے ،ان کی ضمانت خارج ہوئی تو کورٹ سے بھاگ گئے ، عدالت نے شعیب شیخ کے وکیل کو ہدایت کی کہ فیصلہ کر لیں کہ کس نے بحث کرنی ہے مریم نواز کیس میں بھی لکھا ہے کہ کیسز زیر التوا ہونا سسٹم پر دھبہ ہے ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے شعیب شیخ کو ہر سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا، ایف آئی اے پراسیکیوٹر کی جانب سے بار بار بات کرنے کی کوشش پر عدالت نے اظہار برہمی کیا

    شعیب شیخ کی مستقل استثنیٰ کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کر دئیے گئے ، عدالت نے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی ،ایگز یکٹ ا سكینڈل 2018 سے زیر التوا تھا ،شعیب شیخ نے کیس سے بچنے کیلئے کثیر رقم خرچ کی شعیب شیخ نے بارہا مشکوک میڈیکل رپورٹس عدالت میں جمع کرائیں اور سماعت میں التوا لیا

    واضح رہے کہ ڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد چودھری ممتاز حسین نے شعیب شیخ اور دیگر کو 5 جولائی کو سزا سنائی تھی،اسلام ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ میں شعیب شیخ کے خلاف فیصلے کو 2018 کو معطل کیا تھا،ماتحت عدالت نے شعیب شیخ سمیت 23 ملزمان کو مجموعی طور پر 20,20 سال قید اور 13,13 لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں سنائی گئی تھیں،

    خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے قانون سازی، خواجہ سرا کمیونٹی نے اجلاس بلا کر اہم فیصلے کر لئے

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    خواجہ سرا پر تشدد کرنے والے ملزمان گرفتار

    خواجہ سراؤں کو ملازمتوں میں کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ سامنے آ گی

    شعیب شیخ اور دیگر ملزمان پر دفعہ 471 کے تحت 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ دفعہ 468 کے تحت 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے جب کہ دفعہ 420 کے تحت 3 سال قید و 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گی ہے اور ملزمان پر دفعہ 419 کے تحت 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا.عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا تھا کہ تمام سزاؤں کا اطلاق ایک ساتھ ہو گا جب کہ ملزمان کو منی لانڈرنگ اور الیکٹرانک کرائم کے الزامات سے بری قرار دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے 2015 میں ایگزیکٹ کی جعلی ڈگریوں کا انکشاف کیا تھا جب کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری اسکینڈل کا از خود نوٹس لے رکھا ہے۔