Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • 27 ویں آئینی ترمیم پر اقوام متحدہ کی بے جا تشویش ناقابل فہم ہے،پاکستان

    27 ویں آئینی ترمیم پر اقوام متحدہ کی بے جا تشویش ناقابل فہم ہے،پاکستان

    پاکستان نے 27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے بیان کو مسترد کر دیا۔

    دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کی منظور کردہ 27 ویں آئینی ترمیم پر اقوام متحدہ کی بے جا تشویش ناقابل فہم ہے،آئینی ترامیم عوام کے منتخب نمائندوں کا مکمل اختیار ہے، جمہوری طریقہ کار کا احترام ہونا چاہیے، پاکستان انسانی حقوق، انسانی وقار، بنیادی آزادیوں، قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے عزم پر قائم ہے،پاکستان کا مؤقف اور زمینی حقائق اقوام متحدہ کے بیان میں شامل نہیں کیے گئے، یو این ہائی کمشنر خودمختار فیصلوں کا احترام کریں اور سیاسی تعصب اور غلط معلومات پر مبنی تبصروں سےگریز کریں۔

    یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان میں جلد بازی میں منظور کی گئی آئینی ترمیم عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرتی ہے،ولکر ٹرک نے ایک بیان میں ملٹری احتساب سے متعلق بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ گزشتہ سال 26 ویں آئینی ترمیم کی طرح یہ ترمیم بھی وکلا براداری اور سول سوسائٹی سے بڑے پیمانے پر مشاورت اور بحث کے بغیر کی گئی۔

  • انسدادِ دہشت گردی مہم جاری، رواں برس 136 افغانوں سمیت1873 دہشتگرد جہنم واصل

    انسدادِ دہشت گردی مہم جاری، رواں برس 136 افغانوں سمیت1873 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے سال 2025 کی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی اور آپریشنز کے حوالے سے اہم ترین بریفنگ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کی کمر توڑنے کے لیے ریکارڈ تعداد میں آپریشنز کیے ہیں۔ اس دوران ملک دشمن عناصر، خصوصاً افغانستان سے سرگرم نیٹ ورکس کی کارروائیوں کو مؤثر انداز میں ناکام بنایا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال اب تک 67,023 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے گئے،1,873 دہشت گرد ہلاک کیے گئے،جن میں 136 افغان شہری بھی شامل ہیں،4 نومبر کے بعد دہشت گردی کی لہر میں اضافہ دیکھتے ہوئے اداروں نے آپریشنز مزید تیز کر دیے،4,910 آپریشنز کئے گئے،206 دہشت گردوں کا خاتمہ کیا گیا، خیبر پختونخوا میں 12,857 آپریشنز،بلوچستان میں 53,309 آپریشنزکئے گئے،بلوچستان میں زیادہ تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کا سب سے بڑا دباؤ اس خطے پر رہا، جہاں سرحد پار سے دراندازی سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ افغانستان کی عبوری طالبان حکومت کی سرزمین اب بھی القاعدہ، داعش خراسان (IS-KP) اور دیگر تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کا کردار ادا کر رہی ہے۔پاکستان پر حملہ کرنے والے کئی گروہ اسلحہ، فنڈنگ اور تربیت افغانستان سے لے رہے ہیں۔متعدد حملوں میں شامل دہشت گردوں نے اعتراف کیا کہ وہ افغانستان میں منظم ہو کر پاکستان پر حملے کرتے ہیں۔پاکستان نے ان الزامات کو عالمی فورمز پر بھی اٹھایا ہے اور افغانستان سے پرامن سرحدی نظم کے لیے تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔

    پاک افغان سرحد کی کل لمبائی 1,229 کلومیٹرہے اورصرف 20 قانونی سرحدی راستے ہیں،محض فینسنگ کافی نہیں ،سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے، ڈرون نگرانی،ماڈرن واچ ٹاورزضروری قرار دیے گئے۔مزید یہ کہ کئی خودکش حملوں اور بارڈر کراسنگ میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے استعمال کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو ایک سنگین سلامتی خطرہ تصور ہوتی ہیں۔بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ افغانستان کی موجودہ طالبان حکومت کے پاس 7.2 ارب ڈالر مالیت کا امریکی فوجی اسلحہ موجود ہےجس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔یہ جدید اسلحہ دہشت گرد گروہوں تک پہنچنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا۔

    پاکستان نے غیر قانونی افغان باشندوں کی مرحلہ وار وطن واپسی کا عمل تیز کر دیا ہے،سال 2024: 366,704 افغان شہری واپس گئے،سال 2025: 971,604 (تاحال)واپس گئے،صرف نومبر 2025 میں 239,574 افغان شہریوں کی واپسی ہوئی ہے،حکومتِ پاکستان کے مطابق اس اقدام کا مقصد داخلی سکیورٹی کو بہتر بنانا ہے، جبکہ واپسی کے تمام مراحل انسانی بنیادوں پر انجام دیے جا رہے ہیں۔

    2025 پاکستان کے لیے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن سال ثابت ہو رہا ہے۔ ریاستی اداروں کی بھرپور کارروائیوں نے دہشت گرد نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا ہے، تاہم سرحد پار خطرات بدستور موجود ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے۔

  • شمالی وزیرستان میں 4 ،قلات میں چھ دہشتگرد جہنم واصل،پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام

    شمالی وزیرستان میں 4 ،قلات میں چھ دہشتگرد جہنم واصل،پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام

    سیکورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں

    پشاور کے علاقے بورڈ تاج آباد میں جمعے کے روز فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں نامور مذہبی عالم اور جامعہ اسریہ کے مہتمم شیخ عزت اللہ اپنے بیٹے سمیت جاں بحق ہوگئے، جبکہ دوسرا بیٹا شدید زخمی ہے۔ پولیس کے مطابق موٹر سائیکل سوار نامعلوم حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں شیخ عزت اللہ اور ایک بیٹا موقع پر دم توڑ گئے۔اس واقعے کی ذمہ داری داعش خراسان (ISIS-K) نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں قبول کرلی۔ ایف آئی آر کے مطابق شیخ عزت اللہ کو گزشتہ کئی ماہ سے داعش کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔ واقعے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کرلیا گیا ہے۔

    ضلع مہمند میں سکیورٹی ذرائع نے ایک سنگین انکشاف کیا ہے کہ دہشتگردوں نے ایک مسجد کو اسلحے، بارودی مواد اور کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے بطور ٹھکانہ استعمال کیا۔ حکام کے مطابق مسجد کے اندر سے ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ برآمد ہوا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسند مذہبی مقامات کو منصوبہ بندی، سازش اور عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔علاقہ سکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    بنوں کے علاقہ جانی خیل سے تعلق رکھنے والے مبینہ ٹی ٹی پی کمانڈر خالد کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے جس میں اسے ڈرون چلانے کی تربیت حاصل کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق شدت پسند تنظیمیں جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً ڈرونز، کو حملوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی دہشتگرد ڈرونز کے ذریعے آئی ای ڈیز گرانے کی کوشش کر چکے ہیں، جس سے سکیورٹی فورسز اور شہری دونوں متاثر ہوئے۔ ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق ابھی باقی ہے۔

    کرم ضلع میں پاک افغان سرحد کے قریب مشکوک افراد کی نقل و حرکت دیکھ کر سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔ اطلاعات کے مطابق مسلح افراد پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے بعد درانداز افغانستان کی جانب فرار ہوگئے۔ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا تھا کہ افغان فورسز کبھی کبھار دہشتگردوں اور اسمگلرز کو کور فراہم کرتی ہیں۔علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور ہر قسم کی سرحدی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

    شمالی وزیرستان کے نکہوری ہل اور سنی شوران کے درمیان سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر مبنی ایک اہم کارروائی کی جس میں چار دہشتگرد مارے گئے۔ کارروائی کے دوران راکٹ لانچر، تھرمل امیجنگ ڈیوائسز، اسلحہ اور دہشتگردوں کی استعمال شدہ موٹر سائیکلز برآمد ہوئیں۔فورسز نے علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کرنے کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

    واشک کے علاقے مشکِل بازار میں نامعلوم افراد نے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کرکے دو افراد کو قتل کردیا۔ حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ لاشوں کو ایم آر ہیڈکوارٹر منتقل کیا گیا ہے۔

    کوئٹہ کے علاقے محلہ بالا روڈ پر کرائم سین یونٹ (CSU) کی گاڑی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ پہلے دھماکے کی جگہ جا رہی تھی۔ ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے ہونے والے دھماکے میں گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا لیکن کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    کمبرانی روڈ پر سکیورٹی فورسز کی معمول کی گشت کے دوران ایک دھماکہ ہوا جس سے گاڑی جزوی طور پر متاثر ہوئی، تاہم تمام اہلکار محفوظ رہے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو سیل کرکے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    قلات کے مضافات میں ایک خفیہ اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی جس کے دوران دہشتگردوں کے ساتھ شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس جھڑپ میں چھ دہشتگرد مارے گئے۔ دہشتگردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔حکام کے مطابق ہلاک دہشتگرد متعدد سنگین وارداتوں میں مطلوب تھے۔ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    کوئٹہ کے سریاب علاقے میں دہشتگردوں نے ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑادیا، جس کے باعث ٹرینوں کی آمدورفت روکنا پڑی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے، جبکہ پولیس نے علاقے میں وسیع سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

  • پاک فوج کی اسپیشل فورسز ٹریننگ مکمل، عراق کے فوجی اہلکار بھی شامل

    پاک فوج کی اسپیشل فورسز ٹریننگ مکمل، عراق کے فوجی اہلکار بھی شامل

    پاک فوج نے عراقی فوج کے دستوں کے لیے اسپیشل فورسز کی تربیت کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ تربیتی پروگرام 24 ستمبر سے 29 نومبر تک نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پاکستان میں منعقد کیا گیا۔446 ٹرینیز کے تیسرے بیچ کی گریجویشن تقریب آج منعقد ہوئی، جس میں پاک فوج اور عراق کے عسکری حکام نے شرکت کی۔ دوران تربیت دونوں ممالک کے اہلکاروں نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت، عملی صلاحیت اور لگن کا مظاہرہ کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق تربیتی پروگرام کا مقصد انسداد دہشت گردی کی مہارتوں کو فروغ دینا، حربی مشقوں میں بہتری اور مشترکہ مشن پلاننگ کو مضبوط بنانا تھا۔ تمام تربیتی اہداف کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیے گئے ہیں۔

    اس پروگرام سے پاکستان اور عراق کے دیرینہ عسکری تعلقات مزید مستحکم ہوئے، اور دونوں ممالک نے علاقائی سلامتی اور مشترکہ دفاعی تیاریوں کے عزم کا اعادہ کیا

    پنجاب ٹریفک اصلاحات، 48 گھنٹوں میں 7 کروڑ سے زائد کے چالان

    برطانیہ ،سیاسی پناہ گزینوں کے ٹیکسی استعمال پر پابندی کا فیصلہ

    فلسطینیوں سے یکجہتی کا عالمی دن، غزہ میں سوگ، کارروائیاں ناقابلِ قبول

    غزہ میں شہادتیں70 ہزار سے تجاوز ، بیشتر لاشیں ملبے سے برآمد

  • سابق ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم  کی گرفتاری کی افواہ من گھڑت، شہزاد قریشی کی قریبی ذرائع سے بات

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم کی گرفتاری کی افواہ من گھڑت، شہزاد قریشی کی قریبی ذرائع سے بات

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ندیم انجم اور ان کی بیٹی کی گرفتاری کی سوشل میڈیا پر خبریں بے بنیاد اور افواہ ہیں

    باغی ٹی وی کے سینئر تجزیہ کار شہزاد قریشی کی جنرل ر ندیم انجم کے قریبی ذرائع سے بات ہوئی ہے جنہوں نے ایسی خبروں کی تردید کی۔ جنرل ر ندیم انجم کے گھر پر کوئی چھاپہ نہیں پڑا یہ افواہ ہے اور غلط خبر بلکہ پروپیگنڈا ہے

    واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ جنرل ر ندیم انجم اور انکی بیٹی کو گرفتار کر لیا گیا ہے انہیں چکلالہ سے گرفتار کیا گیا تاہم باغی ٹی وی کے سینئر تجزیہ کار شہزاد قریشی کے مطابق ایسی تمام خبریں من گھڑت ہیں۔

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ ندیم انجم اور ان کے اہل خانہ کی گرفتاری کے بارے میں چلنی والی خبر جھوٹی ہے،سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس پر پھیلائی گئی، یہ جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈا ہے۔ ایسی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

  • بھارت افغان گٹھ جوڑ  اور شدت پسند پالیسی عالمی امن کیلئے شدید خطرہ

    بھارت افغان گٹھ جوڑ اور شدت پسند پالیسی عالمی امن کیلئے شدید خطرہ

    بھارت کی زیر سرپرستی افغان سرزمین سے خطے کے دیگر ممالک میں دہشتگردی عالمی امن کیلئے خطرہ بن گئی

    گزشتہ دنوں عالمی سطح پر ہونے والے دہشتگردی کے ہولناک واقعات میں افغانستان کا کردار کھل کر سامنے آیا ہے،پاکستان میں دہشتگردی ، امریکہ میں فائرنگ اور تاجکستان میں چینی ملازمین پر ڈرون حملہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے،پاکستان کی جانب سے افغانستان کا بطور دہشتگردوں کی آماجگاہ بننے کے حوالے سے متعدد بار عندیہ دیا گیا ہے،یورپی یونین، ڈنمارک اور دیگر ممالک بھی افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کو خطے اور عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے چکے ہیں

    اقوام متحدہ، سلامتی کونسل کی رپورٹ کے مطابق؛افغان طالبان رجیم کا دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا خطے کی سلامتی کیلئے شدید خطرہ ہے،ساری دنیا افغانستان کی سرزمین پر دہشتگردوں کی موجودگی پر مہر ثبت کرچکی ہے مگر بھارت افغانستان کیساتھ روابط بڑھا رہا ہے،افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اکتوبر 2025ء میں بھارت کا دورہ کیا اور متعدد معاہدے کئے،جب افغان وزیر خارجہ دورہ بھارت پر تھے تو عین اسی وقت پاکستان پر افغانستان کی بلااشتعال جارحیت بھی کی گئی

    ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق;بھارت اور افغانستان اب ایک دوسرے کے ملک میں اپنی سفارت خانوں میں تجارتی نمائندے تعینات کریں گے،افغانستان اور بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات نے جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے،

    بھارت افغانستان کودہشتگردوں کی آماجگاہ بنا کر اسے اسٹرٹیجک کامیابی تصور کر رہا ہے ،بھارت کے افغانستان کے ساتھ مراسم خیرخواہی نہیں بلکہ پاکستان کیخلاف پراکسی کے طور پر استعمال کرنا ہے

  • عالمی سطح پر دہشتگردی،افغانستان کا کردار کھل کر سامنے آ گیا

    عالمی سطح پر دہشتگردی،افغانستان کا کردار کھل کر سامنے آ گیا

    گزشتہ دنوں عالمی سطح پر دہشتگردی کے واقعات میں افغانستان کا کردار کھل کر سامنے آگیا۔

    پاکستان میں دہشتگردی، امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں چینی ملازمین پر ڈرون حملہ اسی کی کڑی ہے،یو این رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم کا دہشتگرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا خطے کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے،رپورٹ کے مطابق ساری دنیا افغانستان کی سرزمین پردہشتگردوں کی موجودگی پرمہر ثبت کرچکی ہے مگر بھارت افغانستان کے ساتھ روابط بڑھا رہا ہے،ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارت، افغانستان ایک دوسرے کے ملک میں اپنے سفارتخانوں میں تجارتی نمائندے تعینات کریں گے،افغانستان اور بھارت کے بڑھتے تعلقات نے جنوبی ایشیاکی بدلتی سیاسی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

    گزشتہ ماہ کی بات کی جائے تو افغانستان کے وزیرخارجہ امیر خان متقی نے اکتوبر میں بھارت کا دورہ کیا اور متعدد معاہدے کیے۔جب افغان وزیرخارجہ دورہ بھارت پر تھےتو اسی وقت پاکستان پر افغانستان کی جانب ست بلااشتعال جارحیت بھی کی گئی۔

  • افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں،ترجمان پاک فوج

    افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں،ترجمان پاک فوج

    ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ بارڈر مینجمنٹ پر سیکیورٹی اداروں کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔

    سینئر صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر تفصیلاً گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 4 نومبر 2025 سے اب تک دہشت گردی کے خلاف 4 ہزار 910 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ رواں سال خیبر پختونخوا میں 12 ہزار 857 اور بلوچستان میں 53 ہزار 309 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیے گئے۔ ان آپریشنز کے دوران 206 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا،رواں سال مجموعی طور پر 1873 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے، جن میں 136 افغانی بھی شامل ہیں۔ پاک افغان بارڈر انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے، خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد 1229 کلومیٹر پر محیط ہے، جس میں 20 کراسنگ پوائنٹس ہیں، پاک افعان بارڈر پر پوسٹوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک بھی ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہوسکتی اگر وہ آبزرویشن اور فائر سے کور نہ ہو، اگر 2 سے 5 کلومیٹر کے بعد قلعہ بنائیں اور ڈرون سرویلنس کریں تو اس کے لیے کثیر وسائل درکار ہوں گے،ہ پنجاب اور سندھ کے برعکس خیبر پختونخوا میں بارڈر کے دونوں اطراف منقسم گاؤں ہیں، ایسی صورتِ حال میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج ہے، دنیا میں بارڈر مینجمنٹ ہمیشہ دونوں ممالک مل کر کرتے ہیں، اس کے برعکس افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی کے لیے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کرتے ہیں، اگر افغان بارڈر سے متصل علاقے دیکھیں بمشکل مؤثر انتظامی ڈھانچہ گورننس کے مسائل میں اضافے کا باعث ہے، ان بارڈر ایریاز میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے، سہولت کاری فتنہ الخوارج کرتے ہیں، اگر سرحد پار سے دہشت گردوں کی تشکیلیں یا اسمگلنگ، تجارت ہو تو اندرون ملک اس کو روکنا کس کی ذمے داری ہے، اگر لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں آپ کے صوبے میں گھوم رہی ہیں تو انہیں کس نے روکنا ہے؟ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اس پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسز کا حصہ ہیں جو خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں، افغانستان کے ساتھ دوحہ معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں۔

  • صدر مملکت آصف زرداری کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ

    صدر مملکت آصف زرداری کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ

    صدر مملکت آصف زرداری نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے 27 ویں نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس ورکشاپ میں پارلیمنٹیرینزسمیت سینئر سول وملٹری افسران نے بھی شرکت کی اور تعلیمی و سماجی شعبوں کے نمائندے بھی شریک تھے، صدر مملکت نے ورکشاپ مکمل کرنے پر شرکا کو مبارکباد دی اور قومی سلامتی سے متعلق آگاہی بڑھانے میں ان کی لگن کو سراہا، نیشنل سکیورٹی ورکشاپ مکالمےکو فروغ دینےکے نمایاں پلیٹ فارمز میں سے ہے اور اس سے پاکستان کو درپیش موجودہ سکیورٹی چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے، نیشنل سکیورٹی ورکشاپ ملک کی اُن نمایاں پلیٹ فارمز میں سے ہے جو قومی سطح پر مکالمے کو فروغ دیتی ہیں اور یہ پلیٹ فارم ادارہ جاتی صلاحیت کوبڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، یہ قومی سلامتی کے لیے قومی حکمتِ عملی کومضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    اس موقع پر صدر مملکت نے باخبر قیادت، قومی یکجہتی اور مربوط پالیسی سازی کی اہمیت پر زور دیا اور اختتامی تقریب میں فارغ التحصیل شرکا میں اسناد بھی پیش کیں۔

  • جنرل ساحر شمشاد کے خلاف منفی مہم بے بنیاد قرار

    جنرل ساحر شمشاد کے خلاف منفی مہم بے بنیاد قرار

    سیکیورٹی ذرائع نے سابق جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی منفی خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے تردید کی ہے۔

    ذرائع کے مطابق جنرل ساحر کے خلاف یہ مہم منظم انداز میں چلائی جا رہی ہے کیونکہ 9 مئی کے واقعات کے دوران آرمی چیف کے بیرون ملک ہونے پر فوج کی کمان جنرل ساحر کے پاس تھی، اور انہوں نے ملک بھر میں حملوں کو ناکام بنانے میں فرنٹ لائن پر رہ کر کردار ادا کیا۔
    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان دشمن عناصر اُن کے اسی فعال کردار سے ناخوش ہیں اور اسی وجہ سے ان کی ذات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے

    فیکٹ چیک،تاجکستان ڈرون حملہ،سوشل میڈیا پر افغان،بھارتی اکاؤنٹس کے پروپیگنڈے کی حقیقت