Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • صدر مملکت آصف زرداری کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ

    صدر مملکت آصف زرداری کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ

    صدر مملکت آصف زرداری نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے 27 ویں نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس ورکشاپ میں پارلیمنٹیرینزسمیت سینئر سول وملٹری افسران نے بھی شرکت کی اور تعلیمی و سماجی شعبوں کے نمائندے بھی شریک تھے، صدر مملکت نے ورکشاپ مکمل کرنے پر شرکا کو مبارکباد دی اور قومی سلامتی سے متعلق آگاہی بڑھانے میں ان کی لگن کو سراہا، نیشنل سکیورٹی ورکشاپ مکالمےکو فروغ دینےکے نمایاں پلیٹ فارمز میں سے ہے اور اس سے پاکستان کو درپیش موجودہ سکیورٹی چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے، نیشنل سکیورٹی ورکشاپ ملک کی اُن نمایاں پلیٹ فارمز میں سے ہے جو قومی سطح پر مکالمے کو فروغ دیتی ہیں اور یہ پلیٹ فارم ادارہ جاتی صلاحیت کوبڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، یہ قومی سلامتی کے لیے قومی حکمتِ عملی کومضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    اس موقع پر صدر مملکت نے باخبر قیادت، قومی یکجہتی اور مربوط پالیسی سازی کی اہمیت پر زور دیا اور اختتامی تقریب میں فارغ التحصیل شرکا میں اسناد بھی پیش کیں۔

  • جنرل ساحر شمشاد کے خلاف منفی مہم بے بنیاد قرار

    جنرل ساحر شمشاد کے خلاف منفی مہم بے بنیاد قرار

    سیکیورٹی ذرائع نے سابق جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی منفی خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے تردید کی ہے۔

    ذرائع کے مطابق جنرل ساحر کے خلاف یہ مہم منظم انداز میں چلائی جا رہی ہے کیونکہ 9 مئی کے واقعات کے دوران آرمی چیف کے بیرون ملک ہونے پر فوج کی کمان جنرل ساحر کے پاس تھی، اور انہوں نے ملک بھر میں حملوں کو ناکام بنانے میں فرنٹ لائن پر رہ کر کردار ادا کیا۔
    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان دشمن عناصر اُن کے اسی فعال کردار سے ناخوش ہیں اور اسی وجہ سے ان کی ذات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے

    فیکٹ چیک،تاجکستان ڈرون حملہ،سوشل میڈیا پر افغان،بھارتی اکاؤنٹس کے پروپیگنڈے کی حقیقت

  • فیکٹ چیک،تاجکستان ڈرون حملہ،سوشل میڈیا پر افغان،بھارتی اکاؤنٹس کے پروپیگنڈے کی حقیقت

    فیکٹ چیک،تاجکستان ڈرون حملہ،سوشل میڈیا پر افغان،بھارتی اکاؤنٹس کے پروپیگنڈے کی حقیقت

    سوشل میڈیا پر افغانستان اور بھارت سے منسلک بعض اکاؤنٹس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے چترال کے علاقے سے افغانستان کے اندر ڈرون حملہ کرتے ہوئے تاجکستان کے صوبہ خطلون میں کام کرنے والی ایک چینی کمپنی کے ملازمین کو نشانہ بنایا۔ تاہم یہ دعویٰ سرکاری ریکارڈ اور تاجک حکام کے بیانات سے مطابقت نہیں رکھتا۔

    تاجکستان کی حکومت کے مطابق یہ ڈرون حملہ افغانستان کی جانب سے کیا گیا تھا، جس میں خطلون خطے میں قائم ایل ایل سی "شوہن ایس ایم” کے کیمپ کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام نے بتایا کہ ڈرون میں گرینیڈ اور ہلکے ہتھیار نصب تھے اور حملہ “استقلول” بارڈر گارڈ پوسٹ کے زیرِ کنٹرول علاقے پر کیا گیا۔ واقعے میں چینی کمپنی کے تین ملازمین جاں بحق ہوئے۔

    تاجک وزارتِ خارجہ نے حملے کے بعد افغان طالبان انتظامیہ سے باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے، جس میں سرحد پار سے ہونے والے حملوں کو روکنے میں ناکامی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    دوسری جانب تاجک، روسی، چینی یا دیگر آزاد ذرائع میں سے کسی نے بھی اس حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا تذکرہ نہیں کیا۔ مبصرین کے مطابق پاکستان سے متعلق یہ دعویٰ زیادہ تر ان آن لائن نیٹ ورکس سے پھیل رہا ہے جو اس سے قبل بھی پاکستان مخالف بیانیے کی تشہیر میں سرگرم رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غیر مصدقہ معلومات پر مبنی ایسی افواہیں خطے میں غلط فہمیاں اور سفارتی تناؤ بڑھانے کا سبب بن سکتی ہیں، اس لیے سرکاری ذرائع اور مستند رپورٹس پر انحصار ضروری ہے۔پاکستان کی آئی ایس آئی پر چینی کارکنوں پر تاجکستان میں ڈرون حملہ کرنے کا الزام جھوٹا، غیر مصدقہ اور سرکاری تاجک بیانات کے خلاف ہے۔یہ بیانیہ افغان اور بھارتی پراپیگنڈا اکاؤنٹس کی ایک مربوط ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنا اور پاک چین تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے۔یہ بیانیہ صرف را سے منسلک اور افغان ڈس انفارمیشن نیٹ ورکس سے ہی سامنے آیا ہے، جو پہلے بھی پاکستان مخالف پراپیگنڈا پھیلانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

  • وادیِ تیراہ  میں خوارج کی بڑھتی دہشت گردانہ سرگرمیاں،پشاور کیلیے خطرے کی گھنٹی

    وادیِ تیراہ میں خوارج کی بڑھتی دہشت گردانہ سرگرمیاں،پشاور کیلیے خطرے کی گھنٹی

    وادیِ تیراہ میں خوارج کی بڑھتی دہشت گردانہ سرگرمیوں نے پشاور کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    فتنہ الخوارج نے ایک بار پھر وادی تیراہ کے نیٹ ورکس کے ذریعے پشاور پر دہشتگردانہ حملے شروع کر دیے، تیراہ اور پشاور کا درمیانی فاصلہ تقریباً 70 کلومیٹر اور سفر کا وقت صرف دو گھنٹے ہے، 24نومبر کوپشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر حملے میں ملوث افغان خوارجیوں نے تیراہ کا راستہ ہی اپنایا، 25 نومبر کو حسن خیل، پشاور میں گیس پائپ لائن آئی ای ڈی سے تباہ کرنے والے خوارجی بھی وادی تیراہ سے آئے،ماضی میں خارجی حکیم اللہ محسود کا مرکز طویل عرصہ تک تیراہ میں قائم رہا، خارجی حکیم اللہ محسود پورے قبائلی علاقے ، پشاور اور ملک بھر میں تیراہ سے کارروائیاں کرتا رہا،حالیہ متعدد حملوں میں ملوث افغان شہریوں کے روابط بھی تیراہ میں قائم نیٹ ورکس سے منسلک پائے گئے، 2014 میں اے پی ایس حملے کی منصوبہ بندی بھی خوارج نے تیراہ میں واقع انہی خفیہ مراکزِ میں کی تھی، تیراہ میں ایک بار پھر دہشتگردوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، ذرائع

    منشیات کے کاروبار سے جڑے اندرونی مفادات بھی اسی خطّے میں کھل کر سامنے آ رہے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر پہلے بھی اپنی پریس کانفرنس میں کہہ چکے ہیں کہ منشیات کے کاروبار اور دہشتگردی میں گہرا تعلق ہے،تیراہ میں اس بڑھتے گٹھ جوڑ اور اس سے پیدا ہونے والی دہشتگردی کو اگر ختم نہ کیا گیا تو پشاور میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہو سکتاہے،صوبائی حکومت کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ورنہ پشاور سمیت پورے خیبر پختونخوا میں حملوں میں اضافے کا خدشہ ہے،

  • بولان گھر میں دھماکہ،ڈی آئی خان 22 دہشتگرد ہلاک،گوادر ایک گرفتار

    بولان گھر میں دھماکہ،ڈی آئی خان 22 دہشتگرد ہلاک،گوادر ایک گرفتار

    پاکستان: خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی، جھڑپوں اور سیکیورٹی کارروائیوں کے متعدد واقعات

    ملک کے مختلف حصوں خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دہشت گردی، فائرنگ، ڈرون حملے، بارودی مواد کے دھماکوں اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے متعدد افسوسناک واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

    باجوڑ: سیکیورٹی فورسز نے متعدد بارودی سرنگیں ناکارہ بنا دیں

    باجوڑ کی تحصیل خار کے علاقے جنّت شاہ میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی جانب سے مختلف مقامات پر نصب متعدد بارودی مواد (IEDs) برآمد کرکے کامیابی سے ناکارہ بنا دیا۔یہ وہی علاقہ ہے جہاں ایک روز قبل دو نوجوان شہید ہوئے تھے جب وہ دہشت گردوں کے نصب کردہ ایک بارودی آلے کی زد میں آ گئے تھے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بارودی مواد بڑے سانحے کا سبب بن سکتا تھا، تاہم بم ڈسپوزل اسکواڈ نے پیشہ ورانہ مہارت سے تمام ڈیوائسز کو تلف کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع کو آپریشنز کے ذریعے کلیئر کر دیا گیا ہے، لیکن دہشت گرد فرار ہوتے ہوئے مختلف مقامات پر بارودی سرنگیں اور IEDs نصب کر گئے تھے، جو وقتاً فوقتاً المناک واقعات کا باعث بنتی رہتی ہیں۔پاکستان آرمی قبائلی اضلاع میں وسیع ڈی مائننگ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ شہریوں کی جانیں محفوظ رہ سکیں اور علاقے میں مکمل امن بحال ہو سکے۔

    باجوڑ: ایم پی اے انور زیب خان کے گھر پر دھماکا، ایک شخص زخمی

    خار کے علاقے رگاگان میں صوبائی اسمبلی کے رکن انور زیب خان کے گھر پر بم دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔پولیس کے مطابق زخمی کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ایم پی اے انور زیب خان نے تصدیق کی کہ واقعے کے وقت وہ گھر پر موجود نہیں تھے،پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی طور پر سی ٹی ڈی نے واقعے کو ذاتی دشمنی کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔

    شمالی وزیرستان: TTP کمانڈر اندرونی اختلافات کی فائرنگ میں ہلاکڈیرہ اسماعیل خان: سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 22 شدت پسند ہلاک
    آئی ایس پی آر کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران بھارت نواز تنظیم فتنہ الخوارج کے 22 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔فورسز نے ایک مصدقہ ٹھکانے پر کارروائی کی جہاں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
    ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائی آپریشن عزمِ استحکام کے تحت کی گئی، جو نیشنل ایکشن پلان کے سلسلے میں وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری کے بعد جاری ہے۔مزید دہشت گردوں کی تلاش کے لیے علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    لکی مروت کے علاقے فتح خان خیل سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو نامعلوم شدت پسندوں نے اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا۔اس کی لاش بنوں ضلع کے ہواڈ تھانے کی حدود سے ملی۔واقعے کی وجوہات سامنے نہیں آ سکیں۔ پولیس نے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    ٹانک ضلع میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے نوجوان بائیت اللہ جاں بحق ہو گیا۔مقامی ذرائع کے مطابق حملہ آور موقع واردات سے فرار ہو گئے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔تھانہ حوید کے علاقے شیخ لنڈک میں شدت پسندوں نے ایک کواد کاپٹر ڈرون کے ذریعے پولیس چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ڈرون سے بم گرنے کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار حمید اللہ، اسلم شاہ اور اسماعیل خان زخمی ہو گئے۔زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    گوادر میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے 18 سالہ مشتبہ شدت پسند ساتھی غلام قادر ولد مراد بخش کو کوسٹل اسپتال کے قریب سے گرفتار کر لیا۔حکام کے مطابق نوجوان کے دہشت گرد گروہوں سے ممکنہ روابط کی تحقیقات جاری ہیں۔بولان کی تحصیل سنی میں ایک گھر میں نصب دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے تین بچے جاں بحق جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہو گئے۔دھماکے کے نتیجے میں گھر کی چھت اور دیواروں کو شدید نقصان پہنچا۔ پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے دو رات قبل گھر کے اندر بارودی مواد نصب کیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹارگٹڈ اٹیک تھا۔

  • ایکس کا نیا فیچر؛ پاکستان مخالف بیرونی پروپیگنڈا نیٹ ورک بے نقاب

    ایکس کا نیا فیچر؛ پاکستان مخالف بیرونی پروپیگنڈا نیٹ ورک بے نقاب

    ایکس کے نئے ٹرانسپیرنسی فیچر نے پاکستان مخالف منظم بیرونی پروپیگنڈا نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے، جس میں بھارتی خفیہ ایجنسی را اور فتنہ الخوارج گروپس کے درمیان واضح روابط سامنے آئے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں سے منسلک متعدد ایکس ہینڈلز منظم انداز میں انتہا پسند بیانیہ پھیلانے میں سرگرم ہیں۔ اسی طرح اسرائیلی، ایرانی اور روسی انفلوئنسرز کے نام پر چلنے والے متعدد اکاؤنٹس بھی دراصل بھارت سے آپریٹ ہوتے ہوئے پاکستان مخالف پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں۔ایکس کے ٹرانسپیرنسی ٹول کے مطابق افغان دفترِ خارجہ کے ترجمان کا آفیشل ہینڈل بھی بھارت سے چلایا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر تقریباً 90 فیصد پاکستان مخالف آن لائن پروپیگنڈا دشمن ممالک کے ٹرول فارمز سے پیدا ہو رہا ہے۔

    مزید انکشاف ہوا ہے کہ افغانستان میں موجود فتنہ الخوارج اور دیگر دہشت گرد گروپوں سے منسلک اکاؤنٹس مسلسل انتہا پسند بیانیہ آگے بڑھا رہے ہیں، جبکہ "آزاد بلوچ تحریک” کے اکاؤنٹس بھی بھارت سے چلائے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے

    سوشل میڈیا پر جھوٹی آف لوڈنگ معلومات پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی شروع

    بابر اعظم کا ٹی20 میں ناپسندیدہ ریکارڈ برابر

    ہانگ کانگ آگ،ہلاکتیں 83 تک پہنچ گئیں، 300 افراد لاپتہ

  • افغانستان کا تاجکستان میں ڈرون حملہ، 3 چینی شہری ہلاک

    افغانستان کا تاجکستان میں ڈرون حملہ، 3 چینی شہری ہلاک

    افغانستان سے تاجکستان پر کواڈ کاپٹر ڈرون حملے میں 3 چینی کارکن ہلاک ہو گئے

    چینی میڈیا کے مطابق افغانستان سے ہونے والے حملے میں تاجکستان میں 3 چینی شہری ہلاک ہوگئے، نجی کمپنی کے کیمپ کو نشانہ بنایا گیا،افغانستان سے آئے حملہ آوروں نے ڈرون کے ذریعے نجی کمپنی کے کیمپ کو نشانہ بنایا جس میں تین چینی باشندے ہلاک ہوئے، اس واقعے کے بعد تاجکستان نے افغانستان سے حملے کو دہشتگردی قرار دیدیا ہے۔چینی میڈیا نے بتایا کہ تاجکستان حکومت نے افغان طالبان رجیم سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ چین نے تاجکستان پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

    تاجک وزارت خارجہ نے کہا کہ ملک کے جنوب میں یہ حملہ ہوا ہے، بیان میں بتایا گیا کہ یہ حملہ، آتشیں اسلحہ اور دستی بموں سے لدے ڈرون سے کیا گیا، جس میں چینی شہریت کے تین ملازمین اپنی جان سے گئے۔تاجکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب اس ملک کے صوبہ ختلون پر افغان سرزمین سے مسلح حملے میں تین چینی شہری مارے گئے۔تاجکستان کی وزارت خارجہ نے جمعرات، کو ایک بیان میں کہا کہ یہ حملہ ہتھیاروں اور گرینیڈ سے لیس ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا۔بیان کے مطابق اس حملے کا ہدف ’شاہین‘ نامی نجی کمپنی کا ہیڈ کوارٹر تھا۔تاجکستان کی وزارت خارجہ نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے طالبان سے کہا ہے کہ وہ سرحدی استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کریں۔تاجکستان کی وزارت خارجہ نے مزید کہا ہے کہ افغانستان اور تاجکستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں سلامتی کو برقرار رکھنے اور امن و استحکام کے قیام کے لیے دوشنبہ کی مسلسل کوششوں کے باوجود، "افغانستان میں مقیم جرائم پیشہ گروہوں” کی تخریبی کارروائیاں جاری ہیں۔

    غور طلب ہے کہ ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی طالبان نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کیا ہے۔یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب کئی بین الاقوامی تنظیموں اور ممالک کا خیال ہے کہ افغانستان میں سرگرم عسکریت پسند گروپ وسطی ایشیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

    تاجک حکام کے مطابق یہ واقعہ تاجکستان میں سرحد کے قریب چینی کارکنوں پر افغان حملے کے دوران پیش آیا۔ چینی شہری ایک فیکٹری میں کام کر رہے تھے اور افغان ڈرون اور فائرنگ کے حملے میں ہلاک ہوئے۔چینی میڈیا کے مطابق حملہ ڈرون کے ذریعے کیا گیا، جس پر دستی بم اور آتشیں اسلحہ نصب تھا

    افغانستان میں موجود دہشتگردوں سے پاکستان ہی نہیں دیگر پڑوسی بھی محفوظ نہیں ،تاجکستان نے اس سرحد پار دہشتگرد حملے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے افغان حکام سے فوری اور مؤثر سرحدی سکیورٹی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

  • پاکستان کی علمی میدان میں بڑی فتح، بھارت بھاگ گیا

    پاکستان کی علمی میدان میں بڑی فتح، بھارت بھاگ گیا

    پاکستان کی علمی میدان میں بڑی فتح، آکسفورڈ یونین کے تصدیق شدہ مباحثے سے جنرل ایم ایم نروا نے، ڈاکٹر سبرامنیَم سُوامی اور سچن پائلٹ عین وقت پر دستبردار ہو گئے،

    پاکستان ہائی کمیشن لندن کے مطابق بھارتی وفد کی اجتماعی پسپائی کے بعد پاکستان کو آکسفورڈ یونین میں بلامقابلہ فتح ملی، آکسفورڈ یونین کے تصدیق شدہ مباحثے سے بھارتی وفد عین وقت پر دستبردارہو گئے، جنرل (ر) زبیر محمود حیات، حنا ربانی کھر سابق وزیر خارجہ اور ڈاکٹر محمد فیصل مباحثے کے لیے لندن موجود، بھارتی وفد حاضری کی ہمت نہ کر سکا، اپنے مصدقہ اسپیکرز کے انکار کے بعد بھارتی جانب سے چند غیر معروف اور کم درجے کے مقررین کی پیشکش کی گئی جو پاکستانی وفد کے معیار کے مطابق نہ تھی، آکسفورڈ یونین میں اعلان شدہ بھارتی پینل کو کم تر متبادل سے بدلنے کی کوشش نے مباحثے کی ساکھ اور توازن کو شدید متاثر کیا، بھارت کے اعلیٰ سطحی مقررین کی دستبرداری اور کم تر متبادل کی پیشکش نے آکسفورڈ یونین اور جامعہ آکسفورڈ دونوں کو سخت خفت سے دوچار کیا، قرارداد یہ تھی کہ بھارت کی پاکستان پالیسی محض عوامی جذبات بھڑکانے کی حکمت عملی ہے، بھارتی مقررین نے اسی بحث سے راہِ فرار اختیار کی،بھارتی وفد کی دستبرداری نے آکسفورڈ یونین جیسے غیرجانبدار فورم پر بھارتی بیانیے کی کمزوری بے نقاب کر دی، بھارتی رہنما ٹی وی چینلز پر شور مچاتے ہیں، مگر علمی مباحثے میں دلیل اور جواب دینے سے گھبراتے ہیں،

    پاکستان ہائی کمیشن لندن کے مطابق آکسفورڈ میں طلبہ کی اکثریت بھارتی ہونے کے باوجود بھارتی وفد نے ووٹ کا سامنا کرنے سے انکار کیا، بھارت کی نام نہاد “سیکورٹی پالیسی” آکسفورڈ یونین میں ممکنہ منطقی سوالات کا وزن نہ اٹھا سکی، بھارتی مقررین نے ممکنہ شرمندگی سے بچنے کے لیے پہلے سے طے شدہ مباحثہ خود ہی سبوتاژ کر دیا، میڈیا پر پاکستان مخالف پراپیگنڈا کرنے والے بھارتی تجزیہ کار جب کھلی بحث کا موقع ملا تو غائب ہو گئے، آکسفورڈ یونین میں بھارتی وفد کی غیرحاضری مئی 2025 کے بعد سے جاری سفارتی و بیانیاتی ناکامیوں کی تازہ کڑی ہے، چرچل نے کہا تھا “گفتگو جنگ سے بہتر ہے”، بھارت آج ثابت کر رہا ہے کہ وہ نہ گفتگو کے لیے تیار ہے نہ جواب دہی کے لیے، پاکستان نے دلیل، مکالمے اور قانونی مؤقف سے بحث جیتنے کی تیاری کی، بھارت نے بحث شروع ہونے سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیے، آکسفورڈ یونین میں بھارتی وفد کی عدم شرکت ان کے اپنے عوام کے سامنے بھی سوالیہ نشان بن گئی ہے، پاکستان نے واضح، مدلل اور پراعتماد مؤقف کی تیاری کر رکھی تھی، جبکہ بھارت نے پسپائی کو ہی حکمت عملی بنایا .

  • وزیراعظم کی بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

    وزیراعظم کی بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

    وزیراعظم شہبازشریف نے بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے ہر ممکن سہولیات دینے کا اعلان کیا ہے۔

    بحرین کے دارالحکومت منامہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بحرین اور پاکستان برادر ملک ہیں، ہماری اسٹریٹیجک شراکت داری کئی برسوں سے قائم ہے، بحرین کے دورے کا مقصد اقتصادی شعبوں میں نئی پیشرفت ہے، زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، فن ٹیک اور دیگر شعبوں میں تعاون ضروری ہے، بحرین میں پاکستانیوں نے ثابت کیا ہے کہ شناخت سرحدوں میں نہیں دنیا کے ہر گوشے میں زندہ ہے، بحرین سے پاکستانیوں نے گزشتہ مالی سال میں 484 ملین ڈالر کی ترسیلات زر بھیجی، بحرین میں اعلیٰ قیادت کا پاکستانیوں کے لیے محبت اور تعاون پر دل سے شکرگزار ہوں، پاکستانی کیمونٹی سے درخواست ہے کہ وہ بحرین کے لیے بھی بہترین سفیر بنیں، بحرین مالیاتی ترقی، انسانی مرکزیت اور جدید معیشت کا روشن نمونہ ہے، پاکستان بحرین کی ترقی کے سفر سے سیکھنا چاہتا ہے اور بھرپور تعاون کا خواہاں ہے، پاکستان کے پاس افرادی قوت، وسائل، ابھرتی منڈی اور اسٹریٹیجک محل وقوع ہے جب کہ بحرین کے پاس مالیاتی مہارت اور عالمی تجربہ ہے، پاکستان اور بحرین مل کر عظیم کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان معاشی اصلاحات اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے نئے دور میں داخل ہورہا ہے، میں بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دیتا ہوں، سرمایہ کار پاکستان آئیں، ہمارے ساتھ شراکت داری کریں، بحرینی کاروباری برادری کےساتھ نئی، دیرپا اوربامعنی اقتصادی راہیں کھولنےکیلئےتیار ہیں، ہم سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور کاروباری تعاون کیلئے ہرممکن سہولت فراہم کریں گے،پاکستان کے پاس نوجوانوں کی بڑی طاقت ہے، ہماری 60 فیصد آبادی 15 سے 30 سال کے درمیان ہے اور یہ نوجوان آبادی ایک چیلنج ہے، ایک بڑی نعمت اور موقع بھی ہے، نوجوانوں کو آئی ٹی، اے آئی، فنی تربیت اور جدید مہارتوں سے آراستہ کررہے ہیں، بحرین کے کاروباری اداروں کے ساتھ ملکر نئی راہیں کھول سکتے ہیں،پاکستان اور جی سی سی کا فری ٹریڈ معاہدہ حتمی مراحل میں ہے جو تعلقات کو نئی بلندی دے گا۔

  • بھارتی وزیر دفاع کی گیڈر بھبکی کیخلاف سکھ پاکستان کے شانہ بشانہ

    بھارتی وزیر دفاع کی گیڈر بھبکی کیخلاف سکھ پاکستان کے شانہ بشانہ

    بھارتی وزیر دفاع کی گیڈر بھبکی کیخلاف سکھ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے

    بھارتی جبر و استبداد کا شکار سکھوں نےپاکستان کیخلاف دہشت گرد مودی کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ،سکھ رہنماؤں نےسکھ فوجیوں سے سندھ کے دفاع کیلئے پاک فوج میں شامل ہونے کی ہدایت کر دی،سکھوں کی سب سے بڑی تحریک "سکھ فار جسٹس ” کا بھارت کیخلاف سکھوں کی پاک فوج میں کھلی بھرتی کا مطالبہ سامنے آیا ہے،سکھ فار جسٹس نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھارتی مقبوضہ پنجاب کے سکھ رضاکاروں کو پاک فوج میں شمولیت کی دعوت دینے کی درخواست کر دی

    سکھ فار جسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر دفاع کی سندھ پر قبضے کی کھلی دھمکی کے پیشِ نظر پاکستان کو فوری سکھوں کیلئے خصوصی بھرتی کاراستہ کھولنا ہوگا،پاکستان سکھوں کیلئے بھرتی کا راستہ کھولے تاکہ وہ سندھ کے دفاع کیلئے پاک فوج میں شامل ہو سکیں،*سکھوں کی سب سے بڑی تحریک "سکھ فار جسٹس ” نے درخواست دی کہ؛سکھ رضاکاروں کی خصوصی فہرست اور ایک وقف سکھ دفاعی یونٹ کی تشکیل کی جائے،سکھ رضا کاروں کے اس یونٹ کی تعیناتی خاص طور پر سندھ کے دفاع کے لیے کی جائے ،جیسے ہی پاکستان اندراج کاپروٹوکول جاری کرے گا دنیا بھر میں ہزاروں سکھ رضاکار شامل ہونے کیلئے تیار ہیں ہم اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر مضبوط مؤقف رکھتے ہیں ، عالمی قوانین کے تحت فوجیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ضمیر یا اخلاقی وجوہات کی بنا پر کسی جنگ میں حصہ لینے سے انکار کر سکتے ہیں،

    دنیا پاکستان کے مضبوط مؤقف اور بھارتی جارحیت کیخلاف اپنی مکمل حمایت کا اظہار کر رہے ہیں ،بھارتی جنگی سیاست اور دہشت گردی کے فروغ کے منصوبے کیخلاف دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے