Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بنوں دہشتگردوں کا راکٹ حملہ،ڈی آئی خان 21 مشتبہ افراد گرفتار،سیکورٹی فورسز کاروائیاں جاری

    بنوں دہشتگردوں کا راکٹ حملہ،ڈی آئی خان 21 مشتبہ افراد گرفتار،سیکورٹی فورسز کاروائیاں جاری

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں

    بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ قلات میں ڈرون حملے کے نتیجے میں اس کے پانچ جنگجو مارے گئے ہیں۔ تنظیم کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں عبدالاحد، اسرار احمد، شعیب احمد، عبیداللہ سیاہ پاد اور فیصل بدینی شامل ہیں۔ حکام کی جانب سے تاحال اس کارروائی یا جانی نقصان کی کوئی سرکاری تصدیق جاری نہیں کی گئی۔ سیکیورٹی فورسز نے بھی حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے نوکنڈی میں کارروائی کرتے ہوئے پاکستان میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 179 افغان شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ آپریشن سرحدی علاقوں میں غیر قانونی نقل و حرکت سے متعلق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کو معمول کی چیکنگ اور نگرانی کے دوران روکا گیا۔ تمام زیر حراست افراد کے پاس درست سفری دستاویزات موجود نہیں تھیں، جس کے بعد انہیں مزید قانونی کارروائی کے لیے تحویل میں لے لیا گیا۔ بعد ازاں گرفتار افغان شہریوں کو تصدیق اور رجسٹریشن کے لیے مخصوص مرکز منتقل کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق اسکریننگ اور دستاویزی عمل امیگریشن قوانین کے تحت جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی سرحدی داخلے کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) پنجاب نے اوکاڑہ میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک کارندے کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزم کی شناخت مطیع اللہ کے نام سے ہوئی ہے۔ سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق ملزم کے قبضے سے انتہاپسند لٹریچر اور پروپیگنڈا مواد برآمد ہوا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں اس کے کالعدم تنظیم کے لیے بھرتی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس کے نیٹ ورک اور روابط کا پتہ چلایا جا سکے۔

    لکی مروت میں نورنگ تھانے کی حدود میں شیرکالا موڑ کے قریب عسکریت پسندوں کی فائرنگ سے ایک بچہ شہید جبکہ ایک شہری زخمی ہو گیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے غیر مسلح شہریوں کو نشانہ بنایا اور موقع سے فرار ہو گئے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ شہید ہونے والا بچہ سب انسپکٹر امتیاز خان کا کمسن بیٹا تھا، جبکہ زخمی شخص ان کا بھائی ہے۔ زخمی کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ شہید بچہ مکمل طور پر معصوم تھا اور اس کا کسی قسم کے تنازع سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

    ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے پہاڑپور میں ضلعی پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی مشترکہ کارروائی کے دوران 21 مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کر لیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ خفیہ اطلاعات پر مبنی کارروائی تھی جس میں مختلف علاقوں میں بیک وقت چھاپے اور سرچ آپریشن کیے گئے، جن میں سیدو والی، برز والی، علی ونڈا، چندہ، کلی ونڈا، گڑھ پیر امام شاہ، گلوٹی اور پنیالہ شامل ہیں۔ آپریشن کی نگرانی سینئر پولیس اور سی ٹی ڈی افسران نے کی، جبکہ البرق فورس، ایلیٹ فورس، سی ٹی ڈی اور ضلعی پولیس کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔ کارروائی کے دوران بین الصوبائی سرحد کے قریب پہاڑی علاقے میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں گھیراؤ اور سرچ آپریشن کے دوران 21 افراد کو حراست میں لے لیا گیا، جن میں مبینہ سہولت کار بھی شامل ہیں۔ تمام گرفتار افراد کو مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    سب ڈویژن حسن خیل کے دہشت گردوں نے بازرگئی گاؤں کے علاقے سے سیکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار کو اغوا کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے، جن کی قیادت اعزاز عرف عمر عثمان کر رہا تھا، سیکیورٹی فورسز کے لانس نائیک ریحان کو اس وقت اغوا کیا جب وہ چھٹی پر اپنے گھر موجود تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اغوا کے بعد اہلکار کو پہاڑی علاقے کی طرف لے جایا گیا۔ اس واقعے سے مقامی آبادی میں تشویش پائی جاتی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے مغوی اہلکار کی بازیابی کے لیے کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جبکہ مقامی عمائدین بھی سیکیورٹی حکام کے ساتھ مل کر محفوظ رہائی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

    دہشت گردوں نے بنوں میں کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) کے علاقے پر راکٹ حملہ کیا جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس کے مطابق راکٹ سی ایم ایچ کے قریب کنوائے گراؤنڈ کے علاقے میں ایک خالی احاطے میں گرا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، لیکن کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔ راکٹ سے قریبی تنصیبات کو بھی کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ بم ڈسپوزل اور تحقیقاتی ٹیموں نے بھی جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور شہر میں حساس مقامات کے گرد سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

    میران شاہ میں دہشت گردوں کے حملے میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کا ایک اہلکار شہید ہو گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی آپریٹر عمر نیاز کو منگل کے روز ان کی رہائش گاہ کے قریب مسلح افراد نے نشانہ بنایا۔ حکام کے مطابق فائرنگ کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ شدید زخمی حالت میں عمر نیاز کو قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ ان کا تعلق شمالی وزیرستان کے گاؤں دندے درپا خیل سے تھا۔ واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ ٹارگٹڈ تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات جاری ہیں اور ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

  • نئے سال نئے عزم کیساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کا سال نو پر پیغام

    نئے سال نئے عزم کیساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کا سال نو پر پیغام

    وزیراعظم شہباز شریف نے قوم کو نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2025 کے اختتام پر ہم شکرگزاری اور عاجزی کے ساتھ اپنے سفر کا جائزہ لیتے ہیں اور نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔

    وزیراعظم نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ گزرا ہوا سال کئی اعتبار سے آزمائشوں سے بھرپور رہا، تاہم اس نے قوم کی اجتماعی طاقت اور خود اعتمادی کو مزید مضبوط کیا۔ استقامت، نظم و ضبط اور مشکل مگر ناگزیر فیصلوں کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنے، اعتماد بحال کرنے اور پاکستان کو معاشی بحالی اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اقدامات کیے گئےیہ کامیابیاں آسانی سے حاصل نہیں ہوئیں بلکہ یہ پاکستانی عوام کی محنت، صبر اور قربانیوں کا نتیجہ ہیں، جنہیں ان کی ثابت قدمی اور مستقبل پر یقین کے لیے خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

    وزیراعظم نے دشمنوں کی جارحیت کے مؤثر جواب اور دہشت گردی کے خلاف بے مثال جرات و بہادری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میدانِ جنگ اور مذاکرات دونوں محاذوں پر قوم نے حوصلہ دکھایافیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مثالی عسکری قیادت کو سراہتے ہوئے مسلح افواج پر فخر کا اظہار کیا گیا، جنہوں نے ثابت کیا کہ جنگیں غرور سے نہیں بلکہ حوصلے سے جیتی جاتی ہیں۔

    ایل او سی ،برف پوش مورچوں سے پاک فوج کے جری جوانوں کا سال نو پر پیغام

    بیان میں اقتصادی بنیادوں کو مضبوط بنانے، گورننس بہتر کرنے، سماجی تحفظ میں توسیع اور طویل المدتی ترقی کی بنیاد رکھنے کے لیے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی وزیراعظم نے کہا کہ مالی نظم و ضبط، ساختی اصلاحات، سرمایہ کاری، برآمدات اور توانائی کے تحفظ میں پیش رفت کے ذریعے پاکستان نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

    پیغام میں کہا گیا کہ مستحکم، خود انحصار اور خوشحال پاکستان کی تعمیر ہمارا مشترکہ عزم ہے جو ہر شہری کو مواقع اور وقار فراہم کرے۔ اس سال تاریخی سنگِ میل منائے گئے، شہدا اور قومی ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور امن، اتحاد اور قومی یکجہتی کے عزم کی تجدید کی گئی۔

    وزیراعظم نے تعلیم، مہارتوں، ڈیجیٹل تبدیلی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کو نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے ناگزیر قرار دیا اور زراعت، صنعت، آئی ٹی اور قابلِ تجدید توانائی میں پیداوار بڑھانے، جدت کی حوصلہ افزائی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    سال نو کی پہلی گرفتاری، ہوائی فائرنگ کرنے والا ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار،2 افراد زخمی

    ثقافتی اور روحانی ورثے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہماری روایات اور فنون ہماری طاقت اور شناخت ہیں، جنہیں ترقی کے ساتھ ساتھ فروغ دینا ہوگاعوامی فلاح کو تمام کوششوں کا مرکز قرار دیتے ہوئے سماجی تحفظ، صحت و تعلیم میں بہتری، کسانوں اور محنت کشوں کی حمایت اور جامع ترقی کے عزم کا اظہار کیا گیا، ملک امن، علاقائی استحکام، کثیرالجہتی تعاون اور قوانین پر مبنی عالمی نظام کے لیے پُرعزم ہے، اور مکالمے، ترقی اور تعاون کو ترجیح دیتا رہے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اتحاد، نظم و ضبط اور محنت سے ہم ایک مضبوط، منصفانہ اور باوقار پاکستان تعمیر کریں گے نیا سال امید اور مواقع کی روشنی لے کر آئے، وطنِ عزیز سربلند رہے، کھیتوں میں فراوانی، گھروں میں امن اور ہر پاکستانی کی زندگی میں مقصد اور کامیابی نصیب ہو۔

    پاکستان میں سال نو کا آغاز،پرتپاک استقبال،فائرنگ،آتش بازی

  • ایل او سی ،برف پوش مورچوں سے پاک فوج کے جری جوانوں کا سال نو پر پیغام

    ایل او سی ،برف پوش مورچوں سے پاک فوج کے جری جوانوں کا سال نو پر پیغام

    لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر اگلے مورچوں میں تعینات پاک فوج کے جوانوں نے نئے سال 2026 کے آغاز پر قوم کے نام خصوصی پیغام دیا ہے۔

    اپنے پیغام میں بہادر جوانوں نے اپنے غیر متزلزل عزم، جذبۂ قربانی اور مادرِ وطن سے بے لوث محبت کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شدید سردی، برف باری اور دشوار گزار پہاڑی علاقہ ان کے حوصلے اور عزم کو کمزور نہیں کر سکتا۔پاک فوج کے جری جوانوں نے کہا کہ اگرچہ وہ اپنے گھروں اور اہلِ خانہ سے دور ہیں، مگر وطن کا دفاع ان کی اولین ذمہ داری ہے، اور وہ برف سے ڈھکے بنکروں میں ڈٹ کر کھڑے ہیں تاکہ سرزمینِ پاکستان کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرحدوں پر پاک فوج کی موجودگی ہی قوم کے امن و سلامتی کی ضمانت ہے، اور واضح پیغام دیا کہ کسی دشمن کو سرحد پار سے بری نظر ڈالنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

    فوجی جوانوں نے دشمن کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ مارکۂ حق اور آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وہ اتحاد، یکجہتی اور پختہ عزم کے ساتھ دشمن کو شکست دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ افواجِ پاکستان کے سپاہی دن رات انتہائی پیشہ ورانہ مہارت، بے مثال جرات اور بھرپور لگن کے ساتھ ملکی دفاع کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔جب آپ سو رہے ہوتے ہیں، افواجِ پاکستان جاگ رہی ہوتی ہیں،پاکستان ہمیشہ زندہ باد

  • دہشت گردی کے خلاف جنگ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرو ٹالرنس پالیسی

    دہشت گردی کے خلاف جنگ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرو ٹالرنس پالیسی

    جیسے ہی سال 2025 اختتام کی جانب بڑھا، پاکستان کو دہشت گردی کی ایک نئی اور شدید لہر کا سامنا کرنا پڑا، جس میں عسکریت پسند گروہوں نے دوبارہ منظم ہو کر تازہ حملوں کی کوشش کی۔ تاہم، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مضبوط اور پُرعزم قیادت میں، پاکستان کی بہادر سیکیورٹی فورسز نے اللہ کے فضل و کرم سے اس سال کو دہشت گردوں کے لیے ’’سالِ احتساب‘‘ میں تبدیل کر دیا۔

    چیف آف ڈیفنس فورسز،آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن عزمِ استحکام کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کی جامع حکمتِ عملی جس میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ، فضائی کارروائیاں اور زمینی آپریشنز شامل ہیں،نے دہشت گرد نیٹ ورکس کی کمر توڑ دی اور بھارت کی پشت پناہی یافتہ گروہوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کامیابیوں سے نہ صرف پاکستان کی داخلی سلامتی مضبوط ہوئی بلکہ عالمی سطح پر اس کا وقار بھی بڑھا۔

    ایک اہم سنگِ میل پاکستان کا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی غیر مستقل رکنیت کے لیے 2025-2026 کی مدت کے لیے انتخاب ہے، جو جون 2024 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے انتخابات میں 182 ووٹ حاصل کر کے ممکن ہوا۔ یہ سلامتی کونسل میں پاکستان کی آٹھویں مدت ہے، جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیوں اور کاوشوں کا عالمی اعتراف ہے۔ یہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور علاقائی امن کے لیے پاکستان کے نمایاں کردار کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ جولائی 2025 میں پاکستان نے سلامتی کونسل کی ماہانہ صدارت سنبھالی، جس کے ذریعے فیلڈ مارشل منیر کی قیادت میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا موقع ملا۔ اس منصب نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف عالمی پالیسی سازی اور ابھرتے خطرات سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کرنے کا موقع دیا، جو ان کی حکمتِ عملی کی مؤثریت کا واضح ثبوت ہے۔

    دو دہائیوں سے زائد عرصے سے پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور ثابت قدم جنگ لڑ رہا ہے۔ بے پناہ چیلنجز کے باوجود، سیکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیاں اور فوج و عوام کے درمیان ناقابلِ شکست رشتہ دشمن کے عزائم کو ناکام بناتا رہا ہے۔سال 2025 میں دہشت گردی کے خلاف جنگ مزید شدت اختیار کر گئی، تاہم حملوں میں اضافے کے باوجود دہشت گردوں کو پہنچنے والا نقصان تین گنا بڑھ گیا، جو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرو ٹالرنس پالیسی اور اعلیٰ عسکری حکمتِ عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔2025 کے پہلے 11 ماہ کے دوران تقریباً 1,118 دہشت گرد واقعات رپورٹ ہوئے، جو 2024 کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہے۔ ان میں سے 68 فیصد واقعات خیبر پختونخوا جبکہ 28 فیصد بلوچستان میں پیش آئے۔سیکیورٹی فورسز نے ہزاروں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن کے نتیجے میں 2024 کے مقابلے میں دہشت گردوں کی ہلاکتوں میں 122 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر 2,115 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جو 2015 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ شاندار کامیابی فیلڈ مارشل منیر کی عملی اور انٹیلی جنس برتری کو واضح کرتی ہے۔اس کے علاوہ 497 مشتبہ دہشت گرد گرفتار کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 83 فیصد اضافہ ہے۔

    بدقسمتی سے، تقریباً 664 سیکیورٹی اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 1,025 زخمی ہوئے۔ شہری جانی نقصان میں 580 شہدا اور 982 زخمی شامل ہیں۔یہ قربانیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے قوم کے غیر متزلزل عزم کی علامت ہیں۔ فورسز نے دہشت گردوں کے سیکڑوں ٹھکانے، اسلحہ کے ذخیرے اور بارودی مواد تباہ کیا۔خودکش حملوں میں 53 فیصد اضافہ (26 واقعات) دیکھا گیا، تاہم 80 فیصد سے زائد حملے ناکام بنا دیے گئے۔ بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آپریشن عزمِ استحکام (جون 2024 میں آغاز) کو ترجیح دی، جس میں عسکری کارروائیوں کے ساتھ سماجی و معاشی ترقی اور سرحدی سیکیورٹی کو بھی مربوط کیا گیا۔یہ جامع حکمتِ عملی مؤثر ثابت ہوئی، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم اور رسد کی لائنیں منقطع کی گئیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور کاچھی جیسے اضلاع میں ہدفی کارروائیاں کی گئیں۔ فروری 2025 تک 706 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے تھے۔ صرف بنوں میں 168 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے 170 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، جو جدید جنگی مہارت پر فیلڈ مارشل منیر کی دسترس کو ظاہر کرتا ہے۔

    اہم جھلکیاں

    قلات آپریشن (28 دسمبر 2025): بھارت کی پشت پناہی یافتہ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، جس میں متعدد دہشت گرد مارے گئے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں، 1,500 سے زائد واقعات میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے۔یرہ اسماعیل خان میں دسمبر کے آپریشنز میں 13 ٹی ٹی پی دہشت گرد ہلاک ہوئے

    30 دسمبر 2025، افغانستان سے دراندازی کی کوشش کرنے والے 45 خوارج کو ناکام بنا دیا گیا۔

    مئی 2025 میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران، جو انسدادِ دہشت گردی کی وسیع کوششوں سے جڑی تھی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کی، جس پر عالمی سطح پر اسٹریٹجک مہارت کو سراہا گیا۔اس کامیابی سے سلامتی کونسل کی رکنیت کے لیے پاکستان کے مؤقف کو مزید تقویت ملی۔

    2,115 ہلاک دہشت گردوں میں اکثریت ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سے تعلق رکھنے والوں کی تھی، جنہیں مالی وسائل، بھرتی اور لاجسٹکس کو ہدف بنا کر ختم کیا گیا، جو طویل المدتی کامیابی کی بنیاد ہے۔مجموعی طور پر، اگرچہ دہشت گرد سرگرمیوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہوا، تاہم سیکیورٹی فورسز نے دشمن کو 134 فیصد زیادہ نقصان پہنچایا۔ ابھی بھی چیلنجز موجود ہیں، جن میں افغانستان سے سرحد پار دراندازی، ڈیجیٹل دہشت گردی اور معاشی دباؤ شامل ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر، امریکاپاکستان انسدادِ دہشت گردی مذاکرات کے دوران امریکا نے بی ایل اے، داعش خراسان اور ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں کو سراہا۔

    سعودی عرب نے فیلڈ مارشل منیر کو شاہ عبدالعزیز میڈل سے نوازا۔گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 نے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی، جبکہ سلامتی کونسل کی رکنیت کو ان کا براہِ راست نتیجہ قرار دیا، جس سے عالمی امن میں پاکستان کے کردار کو مزید وسعت ملی۔آنے والے وقت میں ترجیحات میں غیر قانونی افغان باشندوں کی بے دخلی، سوشل میڈیا کی نگرانی اور زیرو ٹالرنس پالیسی کا تسلسل شامل ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی رہنمائی میں مضبوط سرحدی باڑ، ڈرون ٹیکنالوجی اور کمیونٹی پروگرامز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کی راہ ہموار کریں گے۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں متحد ہو کر، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور عوام دشمن قوتوں کو شکست دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔ حملوں میں اضافہ دشمن کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔ اندرونی و بیرونی گھیراؤ کی تمام کوششوں کے باوجود، پاکستان کی دانا قیادت اور شہدا کی قربانیوں نے دشمن کے منصوبے چکناچور کر دیے ہیں۔ اللہ کے فضل سے دشمن ہمیشہ شکست خوردہ رہے گا۔
    پاکستان زندہ باد!

  • وادیٔ تیراہ میں کلیئرنس آپریشن کی تیاریاں مکمل، 10 جنوری تک آبادی کے انخلا کی ہدایت

    وادیٔ تیراہ میں کلیئرنس آپریشن کی تیاریاں مکمل، 10 جنوری تک آبادی کے انخلا کی ہدایت

    خیبر پختونخواہ کے قبائلی ضلع خیبر کی حساس وادیٔ تیراہ میں ایک مرتبہ پھر کلیئرنس آپریشن کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے، جہاں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے امن و امان کی بحالی کے لیے فیصلہ کن اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ مجوزہ کلیئرنس آپریشن کا مقصد وادیٔ تیراہ کو دہشتگرد عناصر، منشیات فروشوں اور غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندوں سے مکمل طور پر پاک کرنا ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی خدشات اور حالیہ حالات کے پیش نظر وادیٔ تیراہ میں امن و استحکام کی بحالی اب ناگزیر ہو چکی ہے، جس کے لیے مرحلہ وار اور جامع حکمت عملی کے تحت کلیئرنس آپریشن کیا جائے گا۔ آپریشن سے قبل علاقے کو مکمل طور پر آبادی سے خالی کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔انتظامیہ کی جانب سے مقامی آبادی کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ 10 جنوری تک وادیٔ تیراہ کو مکمل طور پر خالی کر کے محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے اور آپریشن کو مؤثر بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔

    متاثرہ افراد کے لیے حکومت نے مالی معاونت اور معاوضے کے جامع پیکج کا اعلان بھی کیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق نقل مکانی کرنے والی ہر فیملی کو 2 لاکھ 50 ہزار روپے کی فوری مالی امداد دی جائے گی، جبکہ گھروں کے نقصان کی صورت میں 10 لاکھ سے 30 لاکھ روپے تک معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اپریل تک ہر متاثرہ خاندان کو ماہانہ 50 ہزار روپے وظیفہ بھی فراہم کیا جائے گا تاکہ بے گھر ہونے والے افراد کو معاشی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    اس سلسلے میں وادیٔ تیراہ میں سیکیورٹی اداروں اور قبائلی مشران پر مشتمل 24 رکنی جرگے کے درمیان باقاعدہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ جرگے نے کلیئرنس آپریشن اور 10 جنوری سے نقل مکانی کے فیصلے پر اتفاق کیا ہے۔ قبائلی مشران نے حکومت کے اقدامات کو علاقے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ ریاست وادیٔ تیراہ میں دیرپا امن، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کلیئرنس آپریشن کے بعد علاقے میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات کی بحالی اور معمولاتِ زندگی کی بحالی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔انتظامیہ اور سیکیورٹی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں، مقررہ تاریخ تک نقل مکانی یقینی بنائیں اور امن و امان کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کریں۔

  • وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کا عزم کیا گیا۔

    وزیراعظم آفس کے مطابق نہایت گرمجوش اور خوشگوار گفتگو کے دوران وزیراعظم نے خادمِ حرمینِ شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے اپنے احترام اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم نے پاکستان کے لیے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی محبت، خلوص اور گرمجوشی پر ان کا شکریہ ادا کیادونوں رہنماؤں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ حالیہ مہینوں میں نئی بلندیوں کو چھونے والے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے گا، اس کے علاوہ علا قا ئی صورتحال اور موجودہ پیش رفت پر بھی تبادل خیال کیا گیا۔

    وزیراعظم نے مختلف چیلنجز کے تناظر میں امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔

    ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ٹیلیفونک رابطے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی مملکت کی خواہش کا اعادہ کیا انہوں نے آئندہ برس پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

  • بلوچستان کی ترقی پاکستان کی خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر

    بلوچستان کی ترقی پاکستان کی خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے 18ویں نیشنل ورکشاپ آن بلوچستان کے شرکاء سے ملاقات اور گفتگو میں کہا ہے کہ سول سوسائٹی کا پروپیگنڈے کے توڑ میں مثبت اور تعمیری کردار قابلِ تحسین ہے، ذاتی و محدود سیاسی ایجنڈوں کو مسترد کرنا ہوگا،وفاقی و صوبائی حکومتوں کے عوام دوست اقدامات بلوچستان کی ترقی کا باعث بن رہے ہیں، بلوچستان کی معاشی صلاحیتوں کو عوام کے فائدے کے لیے بروئے کار لایا جا رہا ہے، ذاتی اور سیاسی مفادات پر مبنی ایجنڈوں کو مسترد کرنا روشن مستقبل کیلئے ضروری ہے،وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی عوام دوست پالیسیوں کو سراہتا ہوں،بلوچستان کی ترقی پاکستان کی خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے، بھارت کے حمایت یافتہ عناصر بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں،سیکیورٹی فورسز دشمن عناصر کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں،پاکستان کی علاقائی سلامتی اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جی ایچ کیو میں 18ویں نیشنل ورکشاپ آن بلوچستان کے شرکاء سے تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے بلوچستان کے عوام کی قربانیوں، حب الوطنی اور صوبے کی پاکستان کی ترقی میں کلیدی حیثیت کو اجاگر کیا۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی عوامی فلاح پر مبنی ترقیاتی کوششوں، سول سوسائٹی کے مثبت کردار اور پروپیگنڈے کے مؤثر تدارک کو سراہا۔ انہوں نے بھارتی سرپرستی میں تخریب کاری کو ناکام بنانے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان کی خودمختاری کے دفاع کے لیے سخت اور فیصلہ کن ردعمل پر زور دیا۔

  • ڈھاکہ میں اسپیکر ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ کی ملاقات

    ڈھاکہ میں اسپیکر ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ کی ملاقات

    ڈھاکہ: پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں بھارتی وزیر خارجہ سے اہم ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی جہاں مختلف ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود بھی موجود تھے۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران بھارتی وزیر خارجہ نے خود آگے بڑھ کر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی نشست پر جا کر ان سے مصافحہ کیا، جسے سفارتی حلقوں میں خیرسگالی اور مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ماحول میں مختصر مگر بامعنی گفتگو ہوئی۔دونوں رہنماؤں کے مابین خوشگوار جملوں کا تبادلہ ہوا، یہ ملاقات سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کی رہائش گاہ پر اس وقت ہوئی جب وہاں ان کی نماز جنازہ اور تعزیتی سرگرمیوں کے سلسلے میں غیر ملکی وفود کی آمد جاری تھی۔ ایاز صادق نے پاکستان کی جانب سے تعزیت اور ہمدردی کا پیغام بھی پہنچایا۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ کی یہ ملاقات اگرچہ غیر رسمی تھی، تاہم اس کے سفارتی مضمرات اہم سمجھے جا رہے ہیں، کیونکہ ایسے مواقع پر ہونے والے رابطے مستقبل میں پارلیمانی اور علاقائی سطح پر بات چیت کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان،دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں‌جاری،افغان سرحد سے دراندازی ناکام،25 ہلاک

    خیبر پختونخوا،بلوچستان،دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں‌جاری،افغان سرحد سے دراندازی ناکام،25 ہلاک

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں

    نصیرآباد کے علاقے میں باباکوٹ پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع گوٹھ جویہ میں نامعلوم مسلح افراد نے چھاپہ مارا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق مسلح حملہ آوروں نے اسلحے کے زور پر چھ افراد کو اغوا کر لیا، جن میں دو خواتین، دو بچے اور دو مرد شامل ہیں، اور انہیں نامعلوم مقام پر لے گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی اور مقامی آبادی میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی نصیرآباد نے متعلقہ پولیس ٹیموں کو اغوا شدگان کی جلد اور محفوظ بازیابی کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ہدایت کی۔ پولیس ذرائع کے مطابق مختلف مقامات پر ناکہ بندیاں قائم کر دی گئی ہیں اور اغوا کاروں کا سراغ لگانے اور مغویوں کی رہائی کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ خواتین اور بچوں کو اسلحے کے زور پر اغوا کرنے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آواران کے علاقے مونچی میں آپریشن کے دوران تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے قابلِ عمل انٹیلی جنس موصول ہونے پر کارروائی کی اور دہشت گردوں سے مقابلہ ہوا، جس کے نتیجے میں تین مشتبہ افراد مارے گئے۔ تاحال سیکیورٹی اہلکاروں کے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ آپریشن کے بعد فورسز نے ملحقہ علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس سرگرمیاں تیز کر دیں تاکہ کسی بھی باقی ماندہ دہشت گرد کو ختم کیا جا سکے اور فرار کے ممکنہ راستے بند کیے جا سکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ مزید تفصیلات آپریشن مکمل ہونے پر سامنے آئیں گی۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بنوں کی تحصیل ڈومیل کے علاقے پائندہ خیل میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شدت پسند کارروائی سے بچنے کے لیے مقامی شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ شہریوں کی موجودگی کے باعث سیکیورٹی فورسز انتہائی احتیاط کے ساتھ پیش قدمی کر رہی ہیں تاکہ بے گناہ افراد کو نقصان نہ پہنچے۔ پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے جس سے شدت پسندوں کی نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق آپریشن مرحلہ وار انداز میں کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور شدت پسند خطرے کو مؤثر طور پر ختم کیا جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز بدستور علاقے میں مصروفِ عمل ہیں اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

    ہنگو میں امن و امان پر غور کے لیے ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں سیکیورٹی فورسز اور ممتاز قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔ جرگے کے دوران مقررین نے علاقے میں پائیدار امن کی بحالی اور قیام کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ شرکاء نے علاقائی امن کمیٹیاں قائم کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا تاکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹا جا سکے، مقامی تنازعات حل ہوں اور کمیونٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط ہو۔ سیکیورٹی حکام نے شدت پسندی کے خاتمے اور امن و امان برقرار رکھنے میں عوامی تعاون کے کردار کو اجاگر کیا، جبکہ قبائلی عمائدین نے امن اقدامات کی حمایت اور تشدد میں ملوث عناصر کی حوصلہ شکنی کے عزم کا اظہار کیا۔ جرگے کا اختتام سیکیورٹی فورسز اور مقامی آبادی کے درمیان تعاون بڑھانے کے اتفاقِ رائے پر ہوا۔

    منگل کے روز ٹانک ضلع کے گاؤں نصران میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے ایک کمانڈر سمیت دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ دو دیگر کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔ پولیس حکام کے مطابق یہ جھڑپ مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف مشترکہ آپریشن کے دوران پیش آئی۔ مقابلے میں کاشف نامی کمانڈر اور ایک اور شدت پسند سہیل مارے گئے، جبکہ دو مشتبہ افراد زخمی ہو کر گرفتار ہوئے۔ ذرائع کے مطابق یہی گروہ ایک روز قبل پولیس کانسٹیبل سجاد کے قتل میں ملوث تھا۔ مقابلے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا تاکہ کسی باقی ماندہ شدت پسند کی موجودگی یقینی طور پر ختم کی جا سکے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔

    سیکیورٹی فورسز نے کرم ضلع میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی اور بروقت اور مستعد کارروائی کے نتیجے میں 25 سے زائد شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق 40 سے 45 شدت پسندوں نے طورغر پوسٹ کے قریب افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ علاقے میں تعینات دستوں نے مشتبہ نقل و حرکت بروقت دیکھ لی اور فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں سرحد عبور کرنے سے روک دیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 25 سے زائد شدت پسند مارے گئے جبکہ 20 سے 25 دیگر زخمی ہوئے۔ ذرائع کے مطابق ہلاک شدگان کی لاشیں سیکیورٹی فورسز نے تحویل میں لے لیں جبکہ زخمی شدت پسند سرحد پار واپس فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا تاکہ کسی بھی باقی ماندہ خطرے کا خاتمہ کیا جا سکے اور سرحدی علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز کی بروقت کارروائی نے ایک بڑے سیکیورٹی خطرے کو ٹال دیا اور ممکنہ دہشت گرد حملوں کو روک لیا۔ سیکیورٹی فورسز نے سرحد پر کڑی نگرانی اور مستقبل میں کسی بھی دراندازی کی کوشش کا بھرپور جواب دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    لکی مروت کے علاقے شیر کالی کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے ایک گاڑی پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک پولیس سب انسپکٹر کا بیٹا شہاب جاں بحق جبکہ اس کا بھائی رحمت اللہ شدید زخمی ہو گیا۔ حکام کے مطابق حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے۔ شہاب موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ رحمت اللہ، جو سرائے نورنگ میں پٹواری تعینات ہے، شدید زخمی ہوا۔ دونوں کو مقامی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں رحمت اللہ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور تفتیش شروع کر دی۔ حکام کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں جبکہ علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق پولیس اسٹیشن گومل کی حدود سے دہشت گردوں نے ایک پولیس اہلکار کو اغوا کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق فرنٹیئر ریزرو پولیس (FRP) کے حوالدار عبدالحلیم چھٹی پر گھر جا رہے تھے کہ شیخ سلطان گاؤں میں واقع مڈل اسکول کے قریب اغوا کر لیے گئے۔ حملہ آوروں نے انہیں روک کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ واقعے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مغوی اہلکار کی محفوظ بازیابی کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ مختلف مقامات پر ناکہ بندیاں قائم کر دی گئی ہیں اور اغوا کاروں کا سراغ لگانے کی کوششیں جاری ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور حوالدار عبدالحلیم کی جلد بازیابی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    تحصیل پہاڑپور کے تھانہ پہاڑپور کی حدود میں واقع خسر رینج کے علاقے کوٹلہ لودھیان میں قائم 14 سے 15 کرش پلانٹس کے مزدوروں اور مالکان کو کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مسلح افراد کی جانب سے بھتہ وصولی کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق پلانٹ مالکان کو ایک دھمکی آمیز خط موصول ہوا جس میں تین دن کے اندر ایک کروڑ روپے بطور نام نہاد “ٹیکس” ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ خط میں دھمکی دی گئی ہے کہ مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں کرش پلانٹس کی مشینری اور تنصیبات کو آگ لگا دی جائے گی۔ دھمکیوں کے بعد مزدوروں اور مالکان میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ معاملہ مقامی پولیس کو رپورٹ کر دیا گیا ہے جس نے صورتحال کا جائزہ لینا اور خط کے ماخذ سے متعلق معلومات اکٹھی کرنا شروع کر دی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق علاقے کی سیکیورٹی کا ازسرِنو جائزہ لیا جا رہا ہے اور دھمکی کی تصدیق اور ذمہ داران کی نشاندہی کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ بھتہ خوری اور دھمکیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور جان و مال کے تحفظ کے لیے مناسب کارروائی کی جائے گی۔

  • ہندو انتہا پسند گروپ کیسے ہندوستان کی سیاست پر قابض ہوا،نیویارک ٹائمز کی رپورٹ

    ہندو انتہا پسند گروپ کیسے ہندوستان کی سیاست پر قابض ہوا،نیویارک ٹائمز کی رپورٹ

    نیو یارک ٹائمز کی آر ایس ایس کی صد سالہ تاریخ پر تنقیدی رپورٹ جاری کر دی گئی

    نیویارک ٹائمز نے تفصیلی تجزیہ میں کہا کہ ایک ہندو انتہا پسند گروپ کیسے ہندوستان کی سیاست پر قابض ہوا۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) ایک خفیہ، نیم عسکری، ہندہ انتہا پسند نظریاتی تنظیم ہے – آر ایس ایس تربیتی کیمپس 1925 سے ہی فوجی انداز میں مزہبی نفرت کو منظم کرتے رہے ہیں،آر ایس ایس کا مقصد بھارت کو ایک ہندو قوم پرست ریاست میں تبدیل کرنا ہے۔آر ایس ایس کے انتہا پسند ہٹلر کی طرح نسل پرستانہ نظریے کے ہامی ہیں۔آر ایس ایس نے 1948 میں گاندھی کو “مسلمان نواز” کہہ کر قتل کیا گیا ،1975 کی ایمرجنسی کی مخالفت سے آر ایس ایس کو ماضی کے جرائم دھونے کا موقع ملا،1992 میں بابری مسجد کی شہادت سے آر ایس ایس اور بی جے پی نے مذہب کو ووٹ بینک میں بدلا، 2014 کے بعد سے آر ایس ایس بھارت کے سیکولر آئین کو ختم کر کے ہندو راشٹر قائم کر رہی ہے- بی جے پی محض سیاسی جماعت نہیں، آر ایس ایس کا سیاسی چہرہ ہے،آر ایس ایس کی حکمتِ عملی اب ریاستی طاقت میں بدل چکی،آر ایس ایس کی 100 سالہ حکمتِ عملی “ہندو بالادستی کا منصوبہ “ رہی ہے – مودی حکومت نے آر ایس ایس آیڈیالوجی کے تحت کشمیر کی حیثیت ختم کی، رام مندر تعمیر کیا اور اقلیتوں کو منظم طور پر نشانہ بنایا-

    نیویارک ٹائمزنے انکشاف کیا کہ بھارت میں اقلیتیں دوسرے درجے کے شہری بن چکی ہیں،گاندھی کے قاتل کی سوچ سے مودی تک- آر ایس ایس کا سیاسی سفر خون آلود رہا-بابری مسجد کی شہادت درحقیقت ہندوستان کے سیکولر آئین کی شکست تھی،کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ، آر ایس ایس کے دیرینہ ایجنڈے کی تکمیل میں اہم قدم تھا ، آر ایس ایس مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو تاریخی دشمن قرار دیتی ہے،یہ تنظیم بی جے پی سمیت درجنوں ذیلی تنظیموں کے ذریعے ریاستی اداروں میں سرایت کر چکی ہے،آر ایس ایس تعلیم، میڈیا، عدلیہ اور سیکیورٹی اسٹرکچر پر اثر انداز ہو چکی ہے-مودی آر ایس ایس کا پیرو کا ر ہے اور اس کے انتہا پسند ایجنڈے پر کام کر رہا ہے