Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب کو عمران خان قاتلانہ حملہ کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا

    سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب کو عمران خان قاتلانہ حملہ کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئی جی پنجاب کو عمران خان قاتلانہ حملہ کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا ہے.

    چیئرمین پی ٹی آئی، سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف توہینِ عدالت کے کیس سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئی جی پنجاب فیصل شاہ کار کو عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس پاکستان عمر عطاءبندیال نے اپنے حکم میں آئی جی پنجاب سے کہا کہ 24 گھنٹے میں ایف آئی آر درج کریں ورنہ سو موٹو لیں گے۔

    آئی جی پنجاب فیصل شاہ کار نے جواب دیا کہ حکومتِ پنجاب نے ایف آئی آر درج کرنے سے منع کیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کریمنل جسٹس سسٹم کے تحت پولیس خود ایف آئی آر درج کر سکتی ہے، 90 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر گیا اور ابھی تک ایف آئی آر ہی درج نہیں ہوئی، فی الحال ازخود نوٹس نہیں لے رہے، 24 گھنٹے میں ایف آئی آر درج نہ ہوئی تو سوموٹو لیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    چین درآمدات بڑھانے کو تیار لیکن پاکستان کی پیداواری صلاحیت محدود
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    چیف جسٹس نے کہا کہ سوموٹو نوٹس میں آئی جی صاحب آپ جواب دہ ہونگے، واقعے کی تفتیش کریں شواہد اکٹھے کریں، فرانزک کرائیں، قومی لیڈر کے قتل کی کوشش کی گئی، معاملے کی نزاکت کو سمجھیں۔ واضح رہے کہ ذرائع کے مطابق ایف آئی آر کے معاملے پر آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے اپنا چارج چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ آئی جی پنجاب ایف آئی آر میں شامل کرنے والے ناموں پر اعتراض کر رہے تھے جس کے بعد پی ٹی آئی، پنجاب حکومت اور آئی جی پنجاب میں اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔

  • ممنوعہ فنڈنگ؛ لاہور ہائیکورٹ کے جج  کی عمران خان کی درخواست سننے سے معذرت

    ممنوعہ فنڈنگ؛ لاہور ہائیکورٹ کے جج کی عمران خان کی درخواست سننے سے معذرت

    ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ہائی کورٹ کے جج نے عمران خان کی درخواست پر سماعت سے معذرت کرلی۔

    لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کی ایف آئی اے طلبی کے نوٹس پر سماعت ہوئی، جس میں جسٹس علی ضیا باجوہ نے عمران خان کی ممنوعہ فنڈنگ میں ایف آئی اے طلبی کے خلاف درخواست پر سماعت سے معذرت کر لی۔ جسٹس علی ضیا باجوہ نے درخواست چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو بھجوا دی۔ جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا ہے کہ درخواست سماعت کے لیے کسی دوسرے بنچ کے سامنے پیش کیا جائے۔

    واضح رہے کہ عمران خان نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے کے طلبی کے نوٹسز کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایف آئی اے نے بدنیتی کی بنیاد پر نوٹسز جاری کیے۔ یہ سیاسی بنیادوں پر انتقامی کارروائی ہے۔عدالت عمران خان کی طلبی کے نوٹس پر عمل درآمد سے روکے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    چین درآمدات بڑھانے کو تیار لیکن پاکستان کی پیداواری صلاحیت محدود
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے عمران خان کو ممنوعہ فنڈنگ کیس میں تفتیش کے لیے طلب کیا. ایف آئی اے کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کے لاہور اکاؤنٹ سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا جب کہ اکاؤنٹ کی تفصیلات کے اوپنگ فارم میں عمران خان کا اتھارٹی لیٹر لگا ہوا ہے۔ ایف آئی اے کے 7 نومبر کو طلبی کے نوٹس کو عمران خان کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں دائر کی گئی درخواست میں عمران خان نے ایف آئی اے کو فریق بنایا تھا.

  • ارشد شریف پوسٹ مارٹم رپورٹ فراہم نہ کرنے پر عدالت نے پمز اور اسلام آباد انتظامیہ کو نوٹس جاری کردئیے

    ارشد شریف پوسٹ مارٹم رپورٹ فراہم نہ کرنے پر عدالت نے پمز اور اسلام آباد انتظامیہ کو نوٹس جاری کردئیے

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ارشد شریف کی فیملی کو پوسٹ مارٹم رپورٹ فراہم نہ کرنے پر پمزاسپتال اور اسلام آباد انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیئے۔

    آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں مرحوم ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ فراہم نہ کرنے کے خلاف والدہ کی درخواست سماعت ہوئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی، ارشد شریف کی والدہ کہ طرف سے بیرسٹر شعیب رزاق عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    درخواست میں کہا گیا کہ تین نومبر کو ارشد شریف کی فیملی کے فوکل پرسن نے انتظامیہ سے رپورٹ مانگی تھی انتظامیہ نے کہا ان کے پاس پوسٹمارٹم رپورٹ پولیس کے پاس ہے۔ فیملی فوکل پرسن پولیس کے پاس گئے تو انھوں نے بھی انکار کرتے ہوئے انتظامیہ سے رابطے کا کہہ دیا۔ درخواست میں بتایا گیا کہ پمز انتظامیہ سے بارہا رابطہ کیا نہ انکار کرتے ہیں نہ رپورٹ فراہم کرتے ہیں پمز اور لوکل انتظامیہ نے ارشد شریف کی فیملی کو پوسٹ مارٹم رپورٹ متعلق اندھیرے میں رکھا ہوا ہے شہید ارشد شریف کی فیملی کی مشکل وقت میں رپورٹ کے لیے تذلیل کی جا رہی ہے۔

    درخواست میں ارشد شریف کی والدہ کی جانب سے استدعا کی گئی کہ شک ہے کہ حقائق مسخ کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں رد وبدل کیا جا سکتا ہے اس لیے پورے عمل کو شفاف بنانے کے لیے ارشد شریف کی فیملی کو ہر لمحہ آگاہ رکھا جائے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ بغیر کسی تھرڈ پارٹی کی مداخلت کے پورے عمل کو آگے بڑھانے کی ہدایت کی جائے اور اس عمل میں ارشد شریف فیملی کے فوکل پرسن کو پورے عمل میں شامل کیا جائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    چین درآمدات بڑھانے کو تیار لیکن پاکستان کی پیداواری صلاحیت محدود
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    ارشد شریف کی والدہ کی جانب سے درخواست میں عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ صرف ارشد شریف فیملی کو فراہم کی جائے اور بغیر فیملی کی اجازت اسے پبلک نہ کیا جائے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ارشد شریف کی والدہ کی درخواست پر ایکشن لیتے ہوئے پمزاسپتال اور اسلام آباد انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیئے اور دونوں فریقین سے پندرہ نومبر تک جواب طلب کر لیے۔ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت پندرہ نومبر تک ملتوی کر دی۔

  • پی ٹی آئی دھرنے کی اجازت؛ فریقین خود طے کرلیں، ورنہ پھر عدالت دیکھے گی. اسلام آباد ہائیکورٹ

    پی ٹی آئی دھرنے کی اجازت؛ فریقین خود طے کرلیں، ورنہ پھر عدالت دیکھے گی. اسلام آباد ہائیکورٹ

    ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی جانب سے دھرنے اور جلسے کی اجازت نہ ملنے کے خلاف درخواست میں ریمارکس دیے ہیں کہ فریقین معاملات طے کرلیں، ورنہ عدالت دیکھے گی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی جانب سے جلسے اور دھرنے کی اجازت نہ ملنے کے خلاف درخواست کی سماعت جسٹس عامر فاروق نے کی۔ اس سلسلے میں اسلام آباد انتظامیہ نے بھی متفرق درخواست دائر کررکھی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ دوران سماعت عدالت نے اسٹیٹ کونسل کے نمائندے سے استفسار کیا کہ آپ نے کوئی درخواست دی ہے؟، جس پر نمائندہ اسٹیٹ کونسل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی کے جلسے کی درخواست غیر مؤثر ہو چکی ہے، لہٰذا جلسے اور دھرنے کی اجازت کی درخواست خارج کردی جائے۔

    عدالت نے کہا کہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے، ان کو کچھ وقت دے دیتے ہیں۔ دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ فریقین بیٹھ کر طے کر لیں، وگرنہ عدالت دیکھے گی۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت جمعہ تک ملتوی کردی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    چین درآمدات بڑھانے کو تیار لیکن پاکستان کی پیداواری صلاحیت محدود
    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔
    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے دارالحکومت میں جلسے کی اجازت نہ ملنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا. درخواست پی ٹی آئی اسلام آباد کے صدر علی نواز اعوان کی طرف سے دائر کی تھی جس میں وزارت داخلہ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد کو فریق بنایا گیا تھا جبکہ درخواست میں کہا گیا تھا کہ ملکی معیشت خراب حالات اور بدانتظامی کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کا فیصلہ کیا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی سری نگر ہائے وے پر جلسہ کر سکتی ہے۔

  • خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔

    خفیہ ملاقات، پارٹی پھر شروع، پس پردہ طاقت کون۔ ؟ عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا۔

    لاہور:عمران خان کے زخموں کا پول کھل گیا ہے ، اس حوالے سے سنیئرصحافی مبشرلقمان کہتےہیں کہ پھر سے عمران خان نے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے ، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پہلے جب وہ خود تھے لانگ مارچ میں اس وقت تین چار ہزار لوگ تھے اب وہ خود لانگ مارچ میں نہیں ہوں گے تو پھرکس نے جانا ہے ، اگرکوئی جائے گا تو اس کو پیسے دیئے جائیں گے

    عارف علوی کے حوالے سے ایک پیغام دینے کا ذکرکیا جارہا ہے ، اس کے بعد عمران خان نے لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ، ایک سوال کے جواب میں مبشرلقمان نے کہا کہ کیا یہ پیغام اسٹیبلشمنٹ نے دیا ہے اور کیا اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے ساتھ ملکر یہ لانگ مارچ کررہےہیں‌

    عمران خان پر ہونے والے حملے کے‌حوالے سے مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ گولیاں کتنی لگی ہیں اور کہاں لگی ہیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریسکیو اہلکار سے ایک بیان دلوایا گیا ، کیوں کہ مونس الہی نے کچھ نہ کچھ تو اپنی وابستگی ثابت کرنے کے لیے کچھ کرنا ہی تھا

     

    ان کا کہنا تھا کہ عمران‌خان کے بلڈ رپورٹ کے حوالے سے بھی شکوک وشہبات ہیں ، ان کا ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ عمران خان کے خون میں کچھ ممنوعہ چیزیں بھی شامل ہیں، ان کا کہنا تھا کہ مونس الٰہی نے دوبارہ سے ایک بیان ریکارڈ کرایاہے ، اس کا مطلب کیا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان وزیرآباد جاسکتے تھے لیکن نہیں گئے

    ایک سوال کے جواب میں مبشرلقمان نے کہا کہ عمران خان اور چوہدری پرویز الٰہی کے درمیان اختلافات ہیں، ان کا یہ کہنا تھا کہ پرویز الٰہی پاگل ہوسکتے ہیں ، بے وقوف نہیں ، ان کا کہنا تھا کہ پرویز الٰہی ایسا نہیں کریں‌گے

    مبشرلقمان نے کہا کہ عمران خان اپنی مرضی سے بیان ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں،ان کے پاس بہت سے آپشنز ہیں ، ہو عدالت کے ذریعے اپنی مرضی کا مقدمہ درج کروا سکتے ہیں ، لیکن میرا تو مقدمہ درج نہ ہوسکا ، حریم شاہ اور صندل خٹک نے چوری کی لیکن آج تک ان کا پرچہ درج نہ ہوسکا

     

    ان کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ یہ بیوروکریسی ہے جو اب کوئی غیرقانونی کام نہیں کریں گے کیوں کہ ان کو پتہ ہے کہ یہ سب کچھ ہوگا

     

    ان کا ایک سوال کے جواب کہنا تھاکہ پاکستان کی ٹیم کی کارکردگی آج اچھی رہی لیکن اتنی اچھی بھی نہیں کہ وہ ورلڈ کپ چھین کرلے آئیں ، ان کا کہنا تھا کہ مجھے تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم یہ ورلڈ کپ جیت سکتی ہے ،مبشرلقمان نے اس موقع پر کہا کہ ان کی دعائیں تو قومی ٹیم کے ساتھ ہیں کہ وہ یہ ورلڈ کپ جیت جائے لیکن اسکے لیے اچھا کھیلنا بھی ضروری ہے ، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ٹیم اچھا کھیلے گی تو یقینا اچھے نتائج ملیں گے لیکن جس طرح پہلے کھیل رہی ہے اس سے ورلڈ کپ سے ہاتھ بی دھو سکتے ہیں‌

  • وزیر اعظم شہباز شریف 2 روزہ دورے پر کل مصر روانہ ہوں گے

    وزیر اعظم شہباز شریف 2 روزہ دورے پر کل مصر روانہ ہوں گے

    اسلام آباد: وزیر اعظم محمد شہباز شریف 2 روزہ دورے پر کل مصر روانہ ہوں گے۔

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم 7 اور 8 نومبر کو 2 روزہ دورے پر مصر روانہ ہوں گے اور وہ شرم الشیخ میں شروع ہونے والی کوپ 27 کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ جس میں 197 رکن ممالک شرکت کر رہے ہیں وزیر اعظم کے ہمراہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور کابینہ کے دیگر اراکین اور اعلیٰ حکام بھی ہوں گے۔

    عمران خان کے 1 تیر سے 7 شکار۔ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈرامہ .

    یہ سربراہی اجلاس اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی 27ویں کانفرنس (COP-27) کے ایک حصے کے طور پر ہو رہا ہے۔ COP-27 کی مصری صدارت کی دعوت پر، وزیر اعظم 8 نومبر 2022 کو اپنے نارویجن ہم منصب کے ساتھ ’’کلائمیٹ چینج اینڈ سسٹین ابیبلٹی آف ولنرایبل کمیونٹیز‘‘ پر ایک اعلیٰ سطحی گول میز مباحثے کی شریک صدارت بھی کریں گے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کاپ 27 کو بڑی اہمیت دیتا ہےجہاں موسمیاتی انصاف کے مسائل پر فوری کارروائی کی ضرورت پر غور کیا جائے گا۔ وزیر اعظم اپنے خطاب میں اہم مسائل پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے –

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر اعظم کے ہمراہ وفد کاپ 27 کی تمام اہم کمیٹیوں میں پاکستان کی نمائندگی کریں گا جبکہ وفد ان کمیٹیوں میں کاربن کے کم اخراج والے ممالک کو درپیش خطرے پر بھی بات کرے گا۔ پاکستان اس کانفرنس میں گروپ آف 77 چائنہ کی سربراہی بھی کرے گا –

    چین کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں کی پالیسیاں غلط ہیں. وزیر اعظم

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اعلیٰ سطحی تقاریب بشمول اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی ایگزیکٹیو ایکشن پلان کے ابتدائی وارننگ سسٹمز کے آغاز کے لیےگول میز میں بطوراسپیکر بھی شرکت کریں گے اور 7 نومبر کو ’’مڈل ایسٹ گرین انیشیٹو سمٹ‘‘ جس کی میزبانی سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کر رہے ہیں میں بھی شرکت کریں گے۔ وزیر اعظم سمٹ کی سائیڈ لائنز پر کئی عالمی رہنماؤں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے-

    کوپ 27 ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب پاکستان میں لاکھوں لوگ اور دنیا کے دیگر حصوں میں لاکھوں لوگ موسمیاتی تبدیلی کے شدید منفی اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کوپ 27 اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج (UNFCCC) کے تحت فیصلہ سازی کا سب سے بڑا ادارہ ہے، جو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششوں کا جائزہ لینے اور آگے بڑھانے کے لیے سالانہ بنیادوں پر اجلاس منعقد کرتا ہےایک اہم اسٹیک ہولڈر کے طور پر، پاکستان عالمی موسمیاتی تبدیلی پر بحث، مذاکرات اور اجتماعی کارروائی میں مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

  • عمران خان کے 1 تیر سے 7 شکار۔ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈرامہ .

    عمران خان کے 1 تیر سے 7 شکار۔ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈرامہ .

    لاہور: عمران خان کے 1 تیر سے 7 شکار۔ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈرامہ ،عمران خان پر حملے کے بعد سب سے زیادہ فائدہ بھی عمران خان کو ہوا ہے اور اس کے واضح ثبوت ہے ، اس حوالےسے سینئر صحافی مبشرلقمان نے عمران خان پرہونے والے حملے کا پس منظربیان کرتے ہوئے اہم تکنیکی نقات پیش کیے ہیں اور کہا ہے کہ کوئی بھی ذی شعور ان سوالات کےجوابات تلاش کرسکتا ہے

    مبشرلقمان نے کہا کہ وزیرآباد میں عمران خان نے ڈرامہ کرنے کا زبردست انداز اپنایا ، انہوں نے چیئرمین واپڈا کا ایک واقعہ بتایا، اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ وزیرآباد حملے میں عمران خان نے جان بوجھ کراس واقعہ کے ثبوت مٹا دیے

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں بتاتا ہوں کہ عمران خان نے ایک نہیں ساتھ فائدے اٹھائے ، میں یہ ثابت کرتا ہوں ، ان کا کہناتھا کہ جس شخص نے تسلیم کیا ہے کہ حملہ اس نے کیا ہے تویاد رکھیں کہ اس کو سزا کبھی بھی نہیں ہوگی اور یہ بھی یاد رکھیں کہ وہاں ایک بے گناہ شخص کوگولی لگی اس کو کس نے مارا ، فائرنگ تو کہیں اور سے ہورہی تھی اوراسٹیج سے گولی اس شخص کو لگی پھریہ بھی دیکھا گیا کہ وہ بے چارہ فوت ہوگیا اس کا پوسٹ مارٹم جلدی جلدی کرکے اس کودفنانے کی کوشش کی گئی لیکن یہ پتہ نہیں لگایا گیا کہ اس کو گولی کس نے ماری

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ پھر کوئی بھی پی ٹی آئی والا اس کے نماز جنازہ میں بھی نہیں گیا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان کو اس سارے واقعہ کا فائدہ ہوا ہے اور اس کا مطلب واضح ہے کہ جس کو فائدہ ہوا وہی بہتر جانتا ہے کہ یہ کھیل کیسے کھیلا گیا

    مبشرلقمان نے کہا کہ جب عمران خان نے تقریر کی تو میں نے اپنے پروڈیوسر سے پوچھا کہ عمران خان نے تقریری کرلی تو اس نے جواب دیا جی کرلی ہے تو میں نے پوچھا کہ اس نے کون سی خاص بات کی تو انہوں نے کہا کہ عمران خان نے تین لوگوں‌پر الزامات لگا دیئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ایسے الزامات تووہ لگاتے رہےہیں ، جس طرح کوئی یہ الزام لگاتاہے کہ رمیز راجہ نے پیسے کھائے ہیں

    انہوں نے کہا کہ جب عمران خان پرحملہ ہواتو وہاں تھر تھر کی آوازآئی وہ کہاں سے آرہی تھی ، ان کا کہنا تھاکہ فیصل جاوید کے کپڑوں پراس طرح خون لگا ہے کہ جس طرح کوئی جانورذبح ہوجاتا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ وہاں اس کے بعد واقعہ کے شواہد مٹا دیئے گئے ، وہاں آرپی او اور ڈی پی او گوجرانوالا ذمہ دار ہیں پولیس یہ شواہد رکھتی ہے لیکن پولیس نے کچھ ایسا نہیں کیا

    ان کا کہنا تھاکہ عمران خان پر حملہ ہوا تو وہ وزیرآباد جانے کے جو کہ قریب تھا اور پھرراستے میں گوجرانوالا کا ہسپتال بھی تھاوہاں سے علاج کیوں نہیں کروایا،وہ شوکت خانم سے کیوں علاج کروا رہے ہیں ،ان کا کہنا تھاکہ اس طرح تو نہیں ہوتا ، پھروہاں جسم سے گولیاں نکالنے کا کام کیا جاتا ہے جو کہ اس مقصدکےلیے ہسپتال ہے ہی نہیں

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ کبھی کہا جارہا ہے کہ دو گولیاں ، تین لگیں اور کبھی کہا جاتا ہے کہ چار گولیاں لگیں ، کہیں‌ یہ کہا جاتا ہے کہ گولیوں کے خول لگے ، یہ کیا ڈرامہ ہے ، ان کا کہنا تھا کہ اس سارے حملے کا فائدہ عمران خان کو پہنچا ہے

    ان کا کہنا تھا کہ گولی لگی ہوتو خون تو بہےگا لیکن کوئی خون نہیں لگا ، ایسے نہیں ہوتا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب حملہ ہوا تو کنٹینر سے ہاتھ ہلاتے ہوئے ایسے اتر رہے ہیں کہ جیسے آپ ٹارزن ہیں ان کا یہ کہنا تھا کہ کس طرح یہ شخص ڈرامہ کررہا ہے ، کبھی یہ کہا گیا کہ عمران خان نے بے ہوش ہونے کی دعا لینے سے انکار کردیا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سینیٹر اعجاز چوہدری بھی کہہ رہے ہیں کہ میں نے کہا تھا کہ وزیرآباد میں حملہ ہوگا تو پھر اس کی بات پر کس نے توجہ دی ، ان کا کہنا تھا کہ اب ان کو اپنے بیان کی وضاحت کرنا پڑے گا

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کل کو جس پر حملہ کرنے کا الزام ہے ، ان کا کہنا تھا کہ حملہ کرنے والے نے تسلیم کرلیا اور پھر اس کی وڈیو بیان بھی آگیا اور پھردوبار بیان آیا ، ان کا کہنا تھا کہ اس بندے کو کبھی بھی سزا نہیں ہوسکتی ، ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ وہ عدالت میں بیان دے گا کہ مجھ پر تشدد کرکے بیان لیا گیا

    یوں حملہ آور کو سزا نہیں ملے گی ، ان کا کہنا تھا کہ تمام شواہد مٹا دیئے گے جس کا مطلب یہ ہے کہ حملہ آوروں تک پہنچنا مشکل ہوجائے گا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طرح تو کسی کو سزا نہیں دی جاسکتی ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سارے واقعہ کا فائدہ عمران خان کو ہوا ہے اور مزید ہوگا ،

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اداروں پر الزامات لگائےگئے ،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ الزامات اچھے نہیں ہیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم بھی الزامات لگاتے رہے لیکن شخصیات پر اداروں اور پارٹیوں پر نہیں ، ہم نے فرح گوگی بشریٰ بی بی ، علی زیدی ، فواد چوہدری سمیت کئی لوگوں پر الزامات لگائے لیکن پاکستان تحریک انصاف پر کبھی بھی الزامات نہیں لگائے ،

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سارے واقعہ کا فائدہ عمران خان کو ہوا ہے اور وہ اس واقعہ سے مزید فائدہ اٹھائے گا لیکن اصل حقائق تک شاید کوئی نہیں جائے گا

  • عمران خان کے الزامات:وزیراعظم کا فل کورٹ کمیشن کا مطالبہ

    عمران خان کے الزامات:وزیراعظم کا فل کورٹ کمیشن کا مطالبہ

    لاہور:وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہےکہ عمران خان فوج پر کسی دشمن کی طرح حملہ آورہے۔لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ سیاست میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں، عمران خان سمیت تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہوں۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے مارچ میں ہونے والے واقعےکی ہم سب نےمذمت کی، اس واقعے کے بعد میں نے اپنی پریس کانفرنس بھی ملتوی کر دی، میں نے وزارت داخلہ اور صوبائی حکومت کو ہر ممکن مدد دینے کی ہدایت کی۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت کیلئے دعاگو ہوں لیکن سازشوں پر خاموش نہیں رہ سکتا، مجھ سمیت سب کا فرض ہے پاکستان کو بچانے کیلئے مثبت کردار ادا کرے، کل اور پرسوں بدترین قسم کی الزام تراشی کی گئی، ایک بار پھر جھوٹ اور گھٹیا پن کا مظاہرہ کیا گیا، کہا گیا کہ واقعے کے پیچھے سازش ہوئی، میرا، رانا ثنا اللہ اور ایک ادارے کے افسر پرالزام لگایا گیا جو افسوسناک ہے۔

    عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ شخص سر سے پاؤں تک جھوٹ کا مجسمہ ہے، وہ قوم کو پٹری سے ہٹانے کی پوری کوشش کررہا ہے۔ عمران خان فوج پرکسی دشمن کی طرح حملہ آور ہے، عمران خان کے بیانات تضاد بھری داستان ہے، عمران خان کہتا تھا کہ جنرل باجوہ میرے ساتھ کھڑے ہیں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ مجھ پر پاناما کیس میں 10 ارب روپے کا الزام لگایا گیا، پانچ سال سے کیس چل رہا ہے، ان کے وکیل پیش ہی نہیں ہوتے، ملتان میٹرو کا کیس کہاں گیا؟ چین کو بدنام کیا گیا، جاوید صادق نامی شخص کو میرا فرنٹ مین بتایا گیا۔ہمیں سزا دلوانے کیلئے ریٹائرڈ جج لگوائے گئے، اس کو ایسے ریٹائرڈ ججز چاہییں جنہیں یہ جاوید اقبال کی طرح بلیک میل کرے، طیبہ گل کےذریعےجاویداقبال کوبلیک میل کیا گیا۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ عمران خان قوم کو بتائیں انہیں کتنی گولیاں لگیں، پنجاب حکومت میری تو نہیں ہے، پنجاب حکومت تمہاری ہے، پولیس بھی تمہاری، تحقیقات کرواؤ، بتائیں ابھی تک ایف آئی آر کیوں نہیں ہوئی؟ وفاقی حکومت نے 28اکتوبر کو خط لکھ کر لانگ مارچ میں دہشتگردی سے متعلق بتایا، پنجاب حکومت کو بتایا کہ جلسے جلوسوں میں دہشت گردی کا خطرہ ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان کے پاس ثبوت ہے کہ ان ہی 3 لوگوں نے سازش کی تو ثبوت لے آئیں، عمران خان کے پاس سازش کے ثبوت ہیں تو مجھے ایک لمحہ بھی عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ثبوت خود پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ یہ شخص جھوٹا ہے، قانون کے مطابق زخمی ہونے والا میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ کے لیے سرکاری اسپتال پہنچتا ہے، یہ سیدھے اپنے اسپتال پہنچ گئے، انہیں گولیاں جتنی بھی لگیں، 3 گھنٹے کا سفر یوں ہی کیا کسی اسپتال نہیں گئے، یہ سیدھے اپنے اسپتال پہنچ گئے۔

  • اسد عمر نےحلقہ بندیوں کیخلاف دائر درخواست واپس لینے کیلئے متفرق درخواست دائر کردی

    اسد عمر نےحلقہ بندیوں کیخلاف دائر درخواست واپس لینے کیلئے متفرق درخواست دائر کردی

    ایک اور یوٹرن؛ پی ٹی آئی کا حلقہ بندیوں کیخلاف دائر درخواست واپس لینے کا فیصلہ، اسد عمر نے مقدمہ واپس لینے کیلئے متفرق درخواست دائر کردی

    پی ٹی آئی کا حلقہ بندیوں کیخلاف دائر درخواست واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے حسب روایت ایک اور یوٹرن سامنے آیا ہے، کیوں کہ پی ٹی آئی نے حلقہ بندیوں کیخلاف اپنی ہی دائر درخواست واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحریک انصاف نے درخواست واپس لینے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ہے، اور پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر نے مقدمہ واپس لینے کیلئے متفرق درخواست دائر کی ہے۔

    درخواست میں مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ کیس واپس لینے کا فیصلہ 10 اگست کے عدالتی حکم کی بنیاد پر کیا گیا ہے، ہم حلقہ بندیوں کے معاملے کو ازسرنو چیلنج کرنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے نئی حلقہ بندیوں کے شیڈول کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائرکی تھی. درخواست میں موقف اختیارکیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کا حلقہ بندیون کا شیڈول آئین اورقانون کے خلاف ہے اس لئے نئی مردم شماری تک نئی حلقہ بندیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ ٹوئٹر ملازمین کونکالنے سے امریکا کے وسط مدتی انتخابات پر بھی منفی اثرات پڑنے کا واضح خدشہ چین اور سعودیہ نے حکومت کو 13ارب ڈالر کے مالی پیکیج کی یقین دہانی کرادی
    ایف آئی آرکے اندراج کیلئے تھانے میں موجود ہیں ، پولیس درخواست وصول ہی نہیں کر رہی،زبیر خان نیازی
    پی ٹی آئی کی جانب سے عدالت سے الیکشن کمیشن کے نئی حلقہ بندیوں کے شیڈول کوغیرآئینی اورغیرقانونی قراردینے اور3مئی 2018 کی حلقہ بندیوں کودرست قراردینے کی استدعا کی گئی تھی، درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن اورسیکریٹری الیکشن کمیشن کوانتخابی عمل یقینی بنانے اورالیکشن کمیشن کوانتخابی عمل میں کسی قسم کی تاخیرسے روکنے کا حکم دیا جائے۔
    پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں وفاق ،الیکشن کمیشن،سیکرٹری الیکشن کمیشن،ادارہ شماریات،صوبائی چیف سیکرٹریز اور سیکرٹری کابینہ کو فریق بنایا تھا.

  • چین کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں کی پالیسیاں غلط ہیں. وزیر اعظم

    چین کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں کی پالیسیاں غلط ہیں. وزیر اعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں کی پالیسیاں غلط ہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے بیجنگ میں سی جی ٹی این کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ چین کے دورے کی دعوت میرے لیے باعث عزت ہے جبکہ دونوں ملک سی پیک اور باہمی سرمایہ کاری کے منصوبوں کو فروغ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی میں خلل ڈالنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی جبکہ چینی قیادت کے ساتھ سرمایہ کاری، سی پیک اور جیو پولیٹیکل اسٹریٹجی پر مفید مذاکرات ہوئے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ چین اور ہماری دوستی ناقابل تسخیر ہے اور چین کا بیانیہ ترقی، خوشحالی اور امن ہے۔ دونوں ممالک کی دوستی اور باہمی اعتماد مضبوط تعلقات کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ سے خوشحال اور امیر ملک ہے۔ جو چین کی راہ میں روڑے اٹکانا چاہتے ہیں ان کی پالیسیاں غلط ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ ٹوئٹر ملازمین کونکالنے سے امریکا کے وسط مدتی انتخابات پر بھی منفی اثرات پڑنے کا واضح خدشہ چین اور سعودیہ نے حکومت کو 13ارب ڈالر کے مالی پیکیج کی یقین دہانی کرادی
    ایف آئی آرکے اندراج کیلئے تھانے میں موجود ہیں ، پولیس درخواست وصول ہی نہیں کر رہی،زبیر خان نیازی
    واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف دو روز قبل چین کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وطن واپس پہنچے ہیں۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق دورے میں پاک چین اسٹریٹیجک پارٹنر شپ مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا جبکہ شہبازشریف نے سی پیک کے اعلیٰ معیار کی ترقی کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نے ون چائنا پالیسی کی حمایت کی جبکہ دونوں ملکوں نے ریلوے لائن منصوبے ایم ایل ون پر کام شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔