Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاک بحریہ کا اینٹی شپ بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ، قیادت کی مبارکباد

    پاک بحریہ کا اینٹی شپ بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ، قیادت کی مبارکباد

    پاک بحریہ نے اینٹی شپ بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کرلیا۔

    اینٹی شپ بیلسٹک میزائلکے مطابق یہ میزائل پاکستان میں مقامی سطح پر تیار کیا گیا ہے، جو سمندری اور زمینی اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جدید ویپن سسٹم بہترین گائیڈنس ٹیکنالوجی اور اہم تکنیکی خصوصیات کا حامل ہے، جبکہ کامیاب ٹیسٹ فلائٹ ملک کی دفاعی صلاحیت، انجینئرنگ مہارت اور قومی مفادات کے تحفظ کے حصول کا واضح ثبوت ہے۔

    نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف، سینئر سائنسدانوں اور انجینئروں نے تجرباتی فائرنگ کا براہ راست مشاہدہ کیا۔صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر نے کامیاب تجربے پر متعلقہ یونٹس، سائنسدانوں اور انجینئرنگ ٹیموں کو مبارک باد دی۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس نے بھی اس اہم کامیابی پر خراجِ تحسین پیش کیا

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا جی ایچ کیو کا الوداعی دور

  • چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل  ساحر شمشاد  مرزا  کا جی ایچ کیو کا الوداعی دور

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا جی ایچ کیو کا الوداعی دور

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے جی ایچ کیو کا الوداعی دورہ کیا اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے الوداعی ملاقات کی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو آمد پر جنرل ساحر شمشاد مرزا نے یادگار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کی مثالی قیادت، اسٹریٹجک بصیرت اور پاک فوج کے لیے شاندار خدمات کو سراہا اور کہا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے تینوں مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا، انہوں نے مسلح افواج کی مشترکہ آپریشنل تیاری کو مضبوط بنانے میں بھی کردار ادا کیا، جنرل ساحر شمشاد مرزا نے قومی سلامتی کے اسٹریٹجک اہداف کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کی دوست ممالک کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کی کاوشوں اور علاقائی استحکام اور عسکری سفارت کاری کے لیےکاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا، جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کریئر کے دوران فراہم کی گئی حمایت پر آرمی چیف اور مسلح افواج کا شکریہ ادا کیا۔

  • افغانستان میں خطرناک قیدیوں کی رہائی،خطے میں دہشتگردی کی نئی لہر کا خدشہ

    افغانستان میں خطرناک قیدیوں کی رہائی،خطے میں دہشتگردی کی نئی لہر کا خدشہ

    افغانستان کی عبوری حکومت نے ایک 3,200 سے زائد ایسے سخت گیر قیدیوں کی سزائیں معاف کر دی ہیں جو عام مجرم نہیں بلکہ دہشتگردی کے نہایت سنگین مقدمات میں سزا یافتہ تھے۔ ان میں خودکش حملہ آوروں کے نیٹ ورکس، بارودی دھماکوں، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور سرحد پار دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث عناصر شامل تھے۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان قیدیوں کی سزا معافی کے فوراً بعد پاکستان کی جانب منظم اور تیز رفتار نقل و حرکت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ، رپورٹ کے مطابق 4,300 مزید قیدیوں کی سزا میں نمایاں کمی کی گئی ہے اور یہ گروہ بھی اگلے مرحلے میں افغانستان سے نکل کر کالعدم تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت کے لیے "تیار بیچ” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ معافی پانے والوں میں نہ صرف تجربہ کار شدت پسند شامل ہیں بلکہ ایسے افراد بھی ہیں جو پاکستان میں کارروائیاں کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں بارودی مواد کے ماہر، خودکش بمبار تیار کرنے والے، اغوا برائے تاوان نیٹ ورک کے سہولت کار اور سرحدی راستوں سے واقف گائیڈز شامل ہیں۔پاکستانی سکیورٹی حکام کو خدشہ ہے کہ یہ عناصر دوبارہ منظم ہو کر ملک میں دہشتگردی کی نئی لہر کا باعث بن سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب افغانستان کے اندرونی حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں اور قوتِ نافذہ کمزور پڑ چکی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق افغانستان میں حکومتی کنٹرول کمزور ہونے کے باعث شدت پسند گروہ تیزی سے خالی جگہوں کو پُر کر رہے ہیں۔ کئی رہائی پانے والے قیدی داعش خراسان میں شمولیت کے قریب بتائے جا رہے ہیں، جو خطے میں بہت بڑے سکیورٹی چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے۔سکیورٹی ماہرین کے مطابق اگر یہ گروہ داعش اور ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر سرگرم ہوتے ہیں تو سرحدی علاقوں میں عدم استحکام، حملوں میں اضافہ اور خطے بھر میں دہشتگردانہ نیٹ ورکس کی مضبوطی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

    پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں نے غیرمعمولی اقدام کرتے ہوئے سرحدی علاقوں میں نگرانی، بھاری نفری کی تعیناتی اور انٹیلیجنس نیٹ ورک کو مزید فعال کر دیا ہے۔ افغانستان سے مشکوک آمد و رفت کی کڑی نگرانی جاری ہے جبکہ ممکنہ اہداف پر حفاظتی اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں۔پاکستان کے اعلیٰ حکام اور علاقائی سکیورٹی ماہرین نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور علاقائی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کے اس فیصلے کے سنگین اثرات کا فوری نوٹس لیں، کیونکہ یہ اقدام نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی امن و سلامتی کے لیے نیا بھاری خطرہ بن کر اُبھرا ہے۔

  • یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم پرحملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی کریں،ترجمان پاک فوج

    یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم پرحملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی کریں،ترجمان پاک فوج

    پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان جب بھی حملہ کرتا ہے تو اعلانیہ کرتا ہے اور کبھی سویلین پر حملہ نہیں کرتا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بریفنگ میں بتایاکہ ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالبان نہیں ہیں، دہشت گردوں میں کوئی تفریق نہیں، پاکستان جب بھی حملہ کرتا ہے تو اعلانیہ کرتا ہے اور کبھی سویلین پر حملہ نہیں کرتا، ہم ریاست ہیں، ریاست کے طور پر ہی ردعمل دیتے ہیں، خون اورتجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتے، یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم پرحملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی کریں، ہم افغان عوام کے نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہیں، طالبان حکومت ریاست کی طرح فیصلہ کرے، طالبان حکومت نان اسٹیٹ ایکٹرز کی طرح فیصلہ نہ کرے، طالبان حکومت کب تک عبوری رہے گی؟

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے مطالبہ کیاکہ دہشت گردی کے بہت سے واقعات میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں استعمال ہوئیں لہٰذا نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پرفوری پابندی عائد کی جائے، فیض حمید کا ٹرائل قانونی معاملہ ہے اس پر قیاس آرائی نہ کی جائے، جب یہ معاملہ حتمی نتیجے پر پہنچے گا فوری طور پر اعلان کردیا جائے گا۔ سرحد پار سے دہشتگردی کی معاونت سب سے بڑا مسئلہ ہے او پاک ، افغان بارڈر پر اسمگلنگ اور پولیٹیکل کرائم کا گٹھ جوڑ توڑنے کی ضرورت ہے۔ بیرون ممالک سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ریاست کے خلاف بیانیہ بنارہے ہیں، ہمارا مسئلہ افغان عبوری حکومت سے ہے، افغانستان کے لوگوں سے نہیں، دہشتگردی کے خلاف مربوط جنگ لڑنے کیلئے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہوگا،افغان رجیم دہشتگرد ٹھکانوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کرے اور دہشتگردوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی تک بات چیت نہیں ہوگی،پاکستان کی عوام اور افواج دہشتگردوں کے خلاف متحد ہیں اور دہشتگردوں کا آخری دم تک پیچھا کیا جائے گا۔

  • ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملے کا مقدمہ درج

    ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملے کا مقدمہ درج

    فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر پر دہشت گردوں کے حملے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کرلیا گیا، مقدمہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

    ایف آئی آر ایس ایچ او عبداللہ جلال کی مدعیت میں درج ہوئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دہشت گردوں نے ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے اور سرکاری املاک کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ایف آئی آر کے مطابق 3 دہشت گردوں نے ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا، ایک دہشت گرد نے مین گیٹ پر پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ 2 حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ سے 27 سے زائد گولیوں کے خول برآمد ہوئے، سیکیورٹی فورسز نے دونوں حملہ آوروں کو ہلاک کردیا تھا۔گزشتہ روز ہونیوالے حملے میں تینوں دہشت گرد مارے گئے تھے، حملے کے نتیجے میں ایف سی کے 3 جوان شہید جبکہ 11 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان ،دہشتگردوں کیخلاف کاروائی،اہم کمانڈرسمیت متعدد جہنم واصل

    خیبر پختونخوا،بلوچستان ،دہشتگردوں کیخلاف کاروائی،اہم کمانڈرسمیت متعدد جہنم واصل

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں، افغانستان کے سرحدی صوبے پکتیکا میں بھی ٹی ٹی پی کے ایک اہم کمانڈر کے ہلاک ہونے کی اطلاع ملی ہے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق کیچ کے علاقے بولیدہ میں سڑک کی تعمیر میں مصروف گاڑیوں اور مشینری پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا۔ ابتدائی تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق ڈاکٹر اللہ نذر گروپ سے تھا جبکہ انہیں بشیر زیب گروپ کی عملی معاونت حاصل تھی۔چونکہ حملہ اس وقت کیا گیا جب بھاری مشینری سڑک کیلئے زمین ہموار کر رہی تھی، اس لیے تعمیراتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو گئیں۔ اطلاعات کے مطابق علاقے میں حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد بُلڈوزر اور لوڈرز تباہ کیے جا چکے ہیں، جبکہ ٹھیکیدار تاحال شدید عدم تحفظ کے باعث کام بند رکھنے پر مجبور ہیں۔

    پنجگور کے علاقے واشبوڈ میں گزشتہ رات نامعلوم مسلح افراد نے کسٹمز چیک پوسٹ پر حملہ کر کے اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا اور سرکاری اسلحہ، مواصلاتی آلات اور متعدد گاڑیاں ساتھ لے کر فرار ہو گئے۔ حکام نے ابھی تک واقعے کی پوری تفصیل جاری نہیں کی تاہم سیکیورٹی فورسز علاقے میں الرٹ ہیں۔

    بی ایل ایف نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مسک کے علاقے میں ایک تعمیراتی کمپنی اور فوجی مقامات پر حملے کیے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع یا سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

    بولان کے علاقے مچھ میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر مسلح افراد کی فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ فائرنگ مچھ اور سنگان کے درمیانی علاقے میں ہوئی، تاہم کسی جانی نقصان کی فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔

    ڈیرہ مراد جمالی میں زیر تعمیر بینظیر بھٹو میڈیکل کالج پر دہشت گردوں کے حملے کو سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ بھرپور جوابی کارروائی میں تین حملہ آور زخمی ہو کر فرار ہوگئے۔فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے ڈرون کی مدد سے حملہ آوروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور کسی بڑے سانحے کے ارادے سے آئے تھے، تاہم کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

    زیارت کے علاقے سپیرا رغہ لیویز چیک پوسٹ پر کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے پانچ افغان شہریوں کو گرفتار کیا جو مبینہ طور پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔ زیر قبضہ اسلحے میں دستی بم، ایس ایم جیز، ایم فور رائفلز کے پرزے، آر پی جیز، وائرلیس سیٹس، بارودی مواد، اور ممنوعہ تنظیم ٹی ٹی پی سے متعلق لٹریچر شامل ہے۔حکام کے مطابق ملزمان کی گرفتاری سے ایک بڑا حملہ ناکام بنا دیا گیا۔

    پکتیکا: ٹی ٹی پی کا اہم کمانڈر الیاس بدری المعروف الکُرَسّانی قتل
    افغان صوبہ پکتیکا کے برمل ضلع میں نامعلوم مسلح افراد نے ٹی ٹی پی کے اہم ترین کمانڈرز میں شمار ہونے والے الیاس بدری عرف الکُرَسّانی کو ساتھی سمیت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔بدری 2009ء سے تنظیم کا سرگرم کمانڈر تھا اور اسے بھتہ خوری، بم حملوں اور متعدد دہشت گرد کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا تھا۔ حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔

    پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے میں ملوث تینوں دہشت گرد افغان شہری نکلے۔پہلا حملہ آور سنہری مسجد روڈ سے مرکزی دروازے کے قریب آیا اور خودکش دھماکا کیا جس سے تین ایف سی اہلکار شہید ہوئے۔دو دیگر خودکش حملہ آور اندر داخل ہوئے لیکن اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں کو 30 سے 40 میٹر کے فاصلے پر ہی ہلاک کر دیا۔حکام کا ماننا ہے کہ دہشت گردوں کا منصوبہ ہیڈکوارٹر کے اندر یرغمال بنانا اور بڑا جانی نقصان پہنچانا تھا۔ حملے میں پانچ شہری بھی زخمی ہوئے۔

    بنوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کے دوران سیکورٹی فورسز نے مطلوب دہشت گرد "زاہد” کو ہلاک کر دیا جو گل بہادر گروپ کی ملٹری کونسل کا رکن تھا۔

    نرمی خیل میں کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے ٹی ٹی پی کے دو خودکش تربیتی مراکز تباہ کر دیے، جنہیں ترک شدہ سرکاری اسکولوں میں قائم کیا گیا تھا۔ کارروائی کے دوران 25 سے زائد دہشت گرد مارے گئے جن میں 13 تربیت یافتہ خودکش بمبار شامل ہیں، جن میں اکثریت افغان شہریوں کی تھی۔

    کرم ضلع میں کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے افغان صوبہ کندوز کے رہائشی اور ٹی ٹی پی سے وابستہ مطلوب دہشت گرد عبدالمالک عرف طلحہ کو ہلاک کر دیا۔

  • پاکستان–سعودی عرب اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

    پاکستان–سعودی عرب اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی، دفاعی اور سیکیورٹی سمیت تمام شعبوں میں تاریخی برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم سے سعودی عرب کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حمید الرویلی نے اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار بھی موجود تھے۔ملاقات میں شہباز شریف نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی مسلسل حمایت اور یکجہتی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ عقیدے، یکساں اقدار اور باہمی اعتماد پر قائم ہیں۔

    وزیراعظم نے گزشتہ دو ماہ میں ریاض کے اپنے کامیاب دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان دوروں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اہم اسٹریٹجک دفاعی معاہدوں پر دستخط ہوئے، جو دوطرفہ شراکت داری کو نئی جہت دیں گے۔شہباز شریف نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان اور سعودی عرب کے مشترکہ عزم کو بھی اجاگر کیا۔

    جنرل فیاض بن حمید الرویلی نے سعودی قیادت کی جانب سے وزیراعظم اور پاکستانی عوام کے لیے تہنیتی پیغام پہنچایا اور کہا کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ موجودہ دفاعی اور تزویراتی تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔اس سے قبل جی ایچ کیو میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سعودی چیف آف جنرل اسٹاف کے درمیان بھی اہم ملاقات ہوئی تھی

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے سعودی چیف آف جنرل اسٹاف کی ملاقات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے سعودی چیف آف جنرل اسٹاف کی ملاقات

    سعودی عرب کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فَیّاض بن حمید الرویلی نے آج فیلڈ مارشل ،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں ملاقات کی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں دونوں عسکری قائدین نے باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا، خصوصاً پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ اور اسٹریٹیجک عسکری تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دفاعی اشتراک، سکیورٹی تعاون اور انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو مزید وسعت دی جائے گی، جو دونوں ممالک کے گہرے اور تاریخی تعلقات کی بنیاد ہیں۔

    سعودی جنرل فَیّاض بن حمید الرویلی نے سعودی مسلح افواج کے ساتھ مختلف شعبوں میں پاکستان کے تعاون کو سراہا اور اسے مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔قبل ازیں جی ایچ کیو آمد پر معزز مہمان نے یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی جبکہ پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔

  • چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا  کی وزیراعظم سے الوداعی ملاقات

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کی وزیراعظم سے الوداعی ملاقات

    وزیرِ اعظم شہباز شریف سے سبکدوش ہونے والے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے الوداعی ملاقات کی۔

    ملاقات میں وزیرِ اعظم نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور ملک و قوم کے لیے خدمات کی تعریف کی۔

    واضح رہے کہ 20 نومبر کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا الوداعی دورہ کیا تھا، جنرل ساحر شمشاد مرزا کی چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات ہوئی تھی، جنرل ساحر شمشاد مرزا نے پاکستان نیوی کی جنگی تیاریوں کی بھرپور ستائش کی اور قومی سمندری سرحدوں کے تحفظ کیلئے پاک بحریہ کے پختہ عزم کو سراہا، نیول چیف نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا شکریہ ادا کیا اور تینوں مسلح افواج میں مشترکہ کارکردگی مضبوط بنانے میں جنرل ساحر شمشاد کے کردار کو سراہا۔

  • ایف سی ہیڈ کوارٹر حملہ،ابتدائی رپورٹ تیار،شہدا کی نماز جنازہ ادا

    ایف سی ہیڈ کوارٹر حملہ،ابتدائی رپورٹ تیار،شہدا کی نماز جنازہ ادا

    پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے خودکش حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی گئی۔

    پولیس رپورٹ کے مطابق ایک خودکش حملہ آور پیدل ایف سی ہیڈ کوارٹرزکے گیٹ تک پہنچا، خودکش حملہ آور نے چادر اوڑھ رکھی تھی، خودکش بمبار نے مرکزی گیٹ کے ناکے پر خود کو دھماکے سے اڑایا، مرکزی گیٹ پر خودکش دھماکے کے نتیجے میں 3 اہلکار موقع پر شہید ہو گئے، دھماکے کے فوری بعد دو حملہ آور سائیڈ گیٹ سے ایف سی ہیڈ کوارٹر میں داخل ہوئے، دونوں خودکش حملہ آوروں کے پاس رائفلز اور ہینڈ گرینیڈ بھی تھے، خودکش حملہ آور اندر داخل ہونے کے بعد دائیں جانب موٹر سائیکل اسٹینڈ پر پہنچے، خودکش حملہ آوروں نے فائرنگ کی اور جوابی فائرنگ میں مارے گئے، ایف سی ہیڈ کوارٹر کے اندر داخل ہونے والے دہشتگردوں کو مرکزی گیٹ کے 30 سے 40 میٹر کے اندر ہی مار دیا گیا۔

    پولیس کی رپورٹ کے مطابق دہشتگردوں کا مقصد لوگوں کو یرغمال بنانا تھا، ایف سی ہیڈ کوارٹرز میں اعلیٰ افسران بیٹھتے ہیں اور نفری بھی زیادہ ہوتی ہے، ایف سی ہیڈ کوارٹرز میں پریڈ بھی ہو رہی تھی تاہم ایف سی ہیڈ کوارٹرز کو کلیئر کر دیا گیا ہے

    دوسری جانب پشاور خود کش حملے میں شہید 3 اہلکاروں کی نماز جنازہ ایف سی ہیڈکوارٹرز میں ادا کردی گئی۔ایف سی اہلکاروں کی نماز جنازہ میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، کور کمانڈر پشاور، آئی جی ایف سی اور آئی جی پولیس سمیت اعلیٰ فوجی و سول حکام نے شرکت کی۔عسکری و سیکیورٹی حکام نے شہداء کے جسد خاکی پر پھول رکھے اور سلامی پیش کی۔

    ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کی شناخت،افغان شہری نکلے

    پشاور ایف سی ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملہ ناکام،3حملہ آور جہنم واصل، اہلکار شہید