Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عمران خان کے 4 سال میں قرضے 3ہزارارب سے بڑھ کر 54 کھرب تک پہنچ گئے،اسحاق ڈار

    عمران خان کے 4 سال میں قرضے 3ہزارارب سے بڑھ کر 54 کھرب تک پہنچ گئے،اسحاق ڈار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی حمایت کرتے ہیں،بعض صنعتی شعبوں میں ٹیکس کی رپورٹنگ کا مسئلہ بھی ہے

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت ہے،پانچ سال قبل ہم کہاں تھے اور اب کہاں ہیں،گزشتہ چار سال میں اکنامک مینجمنٹ مکمل طور پر ناکام رہی،چار سال میں قرضے 3ہزار ارب سے 54 ہزار ارب تک پہنچ گئے دنیا کےبڑے ممالک کا قرض ٹوجی ڈی پی پاکستان سے کہیں زیادہ ہے، پاکستان کو بھی معیشت کو سیاست سے الگ کرنا ہوگا،کیا بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک کرنسی مارکیٹ میں مداخلت نہیں کر رہے ہیں ، ادھر حکومت کو بھی مارکیٹ میں مداخلت کرنا پڑتی ہے اسمگلرز اور ہنڈی مافیا نے ملکی معیشت کو یرغمال بنایا ہوا ہے ،ڈالرز اسمگلنگ کے خلاف حکومت نے آپریشن شروع کیا ہوا ہے ہمارے پاس بھی ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریٹ بڑھانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں کئی وزارتیں اور ڈویژنز نیب سے خوفزدہ ہیں،انتظامی اخراجات میں کمی کرکے قرضوں کی ادائیگی کی جاسکتی ہے، سیکیورٹی کے اخراجات میں کمی نہیں کی جاسکتی،

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ قرضوں پر شرح سود کی ادائیگی کا مسئلہ پاکستان کو درپیش ہے،میں نے معاشی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی سزا کاٹی، میں نے 2013 میں وزیر اعظم کے صوابدیدی فنڈز کو ختم کیا، میں نے 2013 میں وزیروں کے صوابدیدی فنڈز ختم کیے آئی ایم ایف نے سیلاب متاثرین کی بحالی پر اخراجات کی تفصیل طلب کی

     وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی اسلام آباد میں اہم ملاقاتیں جاری ہیں

    اسحاق ڈار مشکل حالات سے معیشت کو نکالیں گے،وزیراعظم کی کابینہ اجلاس میں گفتگو

    جس دفتر سے نکل کر آیا تھا، اللہ نے اسی میں واپس بلوایا ہے، اسحاق ڈار

    ڈبل شاہ کیس، نیب کی جانب سے متاثرین میں کتنے کروڑ کے چیک تقسیم ہوئے؟

    نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ،23 ماہ میں کتنے مقدمات دائر ہوئے؟ چیئرمین نیب نے بتا دیا

    خورشید شاہ نے اپنا گھر کس کے پلاٹ پر بنایا؟ نیب کا عدالت میں حیران کن انکشاف

  • وفاقی وزیر سرکاری ٹی وی پر آکر بات کرتا ہے تو ایم ڈی کا کیا قصور ہے؟ عدالت

    وفاقی وزیر سرکاری ٹی وی پر آکر بات کرتا ہے تو ایم ڈی کا کیا قصور ہے؟ عدالت

    جاوید لطیف کی پریس کانفرنس سرکاری پی ٹی وی پر نشر کرنے پر درج مقدمہ کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    ہائیکورٹ نے جاوید لطیف کی پی ٹی وی پر پریس کانفرنس کے بعد درج دہشت گردی کے مقدمات پر عمل درآمد روک دیا ، "مدعیوں” کو بھی فریق بنانے کی ہدایت ” کر دی گئی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیا ٹرینڈ شروع ہو گیا ہے پورے پاکستان میں پرچے درج ہو رہے ہیں اعظم سواتی پر مقدمے بننے پر جو شور مچاتے ہیں خود بھی وہی کر رہے ہیں

    جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ کون سے وفاقی وزیر کی پریس کانفرنس تھی؟ وکیل نے عدالت میں جواب دیا کہ جاوید لطیف کی جانب سے پریس کانفرنس کی گئی تھی ، عدالت کی ہدایت پر پٹشنرز کے وکیل نے ایف آئی آر کا متن پڑھا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر سرکاری ٹی وی پر آکر بات کرتا ہے تو ایم ڈی کا کیا قصور ہے؟ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بار میں آکر بات کرتا ہے تو کیا بار کے صدر پر مقدمہ درج ہو گا؟ اعظم سواتی پر مقدمے ہوتے ہیں تو یہ شور مچاتے ہیں خود کیا کر رہے ہیں؟ مقدمے میں درخواست گزاروں کو اس درخواست میں فریق بنائیں، یہ طے ہونا چاہیے کہ کیا ایک ٹی وی پروگرام یا وی لاگ پر پورے ملک میں پرچے ہونگے؟

    عدالت نے استفسار کیا کہ دہشت گردی کا مقدمہ بنایا گیا کیا یہ دنیا کے ٹاپ کے دہشتگرد ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پنجاب کے علاوہ باقی صوبوں سے رپورٹس موصول ہو گئیں ہیں،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ مقدمات کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی پولیس پر وفاق کا کوئی کنٹرول نہیں، عدالت نے کہا کہ صوبائی پولیس پر وفاق کاکیسے کنٹرول نہیں؟ اسلام آباد کے شہریوں کے بھی کچھ حقوق ہیں،یہ نیا ٹرینڈ شروع ہو گیا ہے کہ پورے پاکستان میں پرچے درج ہو رہے ہیں ،اعظم سواتی پر مقدمے بننے پر جو شور مچاتے ہیں وہ خود بھی وہی کر رہے ہیں، یہاں کوئی قانون کوئی ضابطہ ہے؟اسلام آباد ہائیکورٹ نے دونوں مقدمات کے مدعی کو درخواست میں فریق بنانے کا حکم دے دیا،عدالت نے پاکستان بار کونسل، اسلام آباد بار کونسل، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹسز جاری کر دیئے،عدالت نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدور کو معاونت کے لیے نوٹسز جاری کر دیے

    آڈیو لیکس، معاملے کی تہہ تک نہ پہنچے تو معاملات اس سے زیادہ بگڑجائیں گے

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

     مریم نواز نے عمران خان پر کڑی تنقید 

  • خطرہ۔! سیتا وائٹ کی روح انتقام لینے آگئی ۔ فیض، تحریک انصاف کو ضرورملے گا

    خطرہ۔! سیتا وائٹ کی روح انتقام لینے آگئی ۔ فیض، تحریک انصاف کو ضرورملے گا

    لاہور:خطرہ۔! سیتا وائٹ کی روح انتقام لینے آگئی ۔ فیض، تحریک انصاف کو ضرورملے گا،دیکھتے جاو۔اس حوالےسے سینیئرتجزیہ نگار مبشرلقمان نے کہا ہے کہ سیتا وائٹ تو بیچاری چلی گئی مگرعمران خان کو کوئی احساس نہ آیا کہ وہ اس سےنکاح کرلیتا یا پھر اسے طلاق دے دیتا لیکن آج ٹیرن جو کہ سیتا وائٹ کی بیٹی تھی اس طرح بغیر باپ کے نہ رہتی ، ان کا کہنا تھاکہ وہ تو خود حیران ہےکہ اس شخص کو کبھی بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ ٹیریان جو کہ عمران خان کی بیٹی تھی اس کے سر پردست شفقت ہی رکھ لیتا کبھی اپنے بیٹوں سے بھی باپ جیسا سلوک کرلیتا ، جو اپنی اولاد کا خیر خواہ نہیں وہ قوم کا ہمدرد کیسے ہوسکتا ہے ، یہ بس ریاست مدینہ کا نعرہ سب کو اپنے ساتھ ملانے کا ایک بہانہ تھا

    انکاکہنا تھاکہ الیکشن کمیشن میں آٹھ سال سے عمران خان کےخلاف فیصلہ کس نے نہیں ہونے دیا یہ بھی پتہ چل گیا ہے جو فیض عمران خان کو حاصل تھا ، اس فیض نے اپنی کرپشن چپھانے کےلیے جو کچھ کیا وہ بھی سامنے آنے والا ہے ، ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بھی بتادوں کہ وہ فیض اب پھر عمران خان کو حاصل ہونے والا ہے اور وہ پی ٹی آئی میں شامل ہونے والا ہے

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اس کی مقبولیت سے خائف ہے ، کس بات سے خائف ہے ، عمران خان نے تو یہ سب کچھ جعل سازی کی ہے ، اس نے سوشل میڈیا پر جس طرح‌ پچاس فیصد جعلی فالوورز جمع کررکھے ہیں وہ بھی بہت جلد سامنے آنے والے ہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ ٹیریان کو جمائما خان پال رہی ہے وہ اس کے بچوں کے ساتھ رہتی ہے اس کو احساس ہوگیا مگر عمران خان کو احساس نہ ہوا، نوازشریف کی وطن واپسی کے حوالے سے انکا کہنا تھاکہ وہ وطن واپس آتا ہے یاکہ نہیں اگرآنا بھی ہے تو کچھ نہ کچھ عدالتی ریلیف ضرور لینا پڑے گا ، وہ کس طرح عدالتی ریلیف لے گا اس کو معلوم ہے ، مگر وہ بیمار ہے یا کہہ نہیں اس کو پتہ ہے مگراس نے جھوٹا بیان حلفی جمع کروایا ہوا ہے

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس شخص نے جس طرح جھوٹ بولا وہ بھی حیران کن ہے ، نواز شریف کے ڈاکٹرز عدنان نے جس طرح اس کے بیمار ہونے کی کہانی گھڑی اور ایسے ہی ڈاکٹر راشد یاسمین ، فیصل سلطان اور عثمان بزدار کوبھی جیل میں ہونا چاہیے جنہوں نے نوازشریف کو ملک سے باہر بھجوانے کےلیے جعلی رپورٹس پر دستخط کیے ، ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی بیماری کا ڈرامہ جس طرح‌کیا گیا وہ بھی باعث شرم ہے کہ کس طرح‌ ڈاکٹر عدنان اور ایک دو اور چند ٹویٹ پر ٹویٹ کررہے تھے کہ نوازشریف کو اگر پاکستان سے نہ نکالا گیا تو وہ مرجائے گا ، پھر سب نے دیکھ لیا کہ وہ نوازشریف لندن جا کر تندرست نکلا اور کبھی بھی ڈاکٹر کے پاس نہیں گیا

    مونس الٰہی اور ملک ریاض کے حوالے سے ان کا کہنا تھاکہ سنا ہےکہ مونس الٰہی آج کل ٹی وی چینلوں کی بولی لگا رہے ہیں ،ملک ریاض توپہلے بھی یہ کرتا ہے اب ایک اور انداز سے کررہا ہے، ایک اور بزنس ٹائیکون ہے تو پہلے اس کے پاس ایک چینل تھا اب وہ ایک اور لینے کے لیے لابنگ کررہا ہے ، مونس الٰہی اور چوہدری پرویز الٰہی اپنا اپنا کارڈ کھیل سکتے ہیں ، میاں اسلم اقبال کہتے ہیں کہ لبرٹی جا کر اسمبلیاں‌ توڑ دیں‌گے ، مگرعدالت پیش نہیں ہوتے ، عدالت کو یہ دکھایا جاتا ہے کہ وہ بیمار ہے ،

    جہاں تک ملکی معیشت کا تعلق ہے تو ملکی معیشت ڈوب رہی ہے ، اس حکومت نے کچھ نہیں کیا ، بھارت نے جس طرح‌معیشت کو سنبھالاہےوہ سب جانتے ہیں

  • "کہانی بڑے گھر کی ” پاکستان کی دبنگ خاتون صحافی عاصمہ شیرازی کی کتاب

    "کہانی بڑے گھر کی ” پاکستان کی دبنگ خاتون صحافی عاصمہ شیرازی کی کتاب

    پاکستان کی خاتون ، دبنگ، نڈر صحافی عاصمہ شیرازی کی کتاب "کہانی بڑے گھر کی "شائع ہو چکی ہے

    عاصمہ شیرازی نے کتاب کا انتساب امی کے نام کیا اور کہا کہ جن کی مہد میری پہلی درسگاہ بنی، ابو کے نام، جن کی خواہشوں کی تکمیل میں میری منزل ہے، مدثر کے نام، جو میرے ہر قدم کا ساتھی اور محبت کا سائبان ہے

    "کہانی بڑے گھر کی ” کا حرف آغاز مستنصر جاوید، وسعت اللہ خان نے لکھا ، وسعت اللہ خان نے عنوان ایک سیالکوٹی کی ہنرمندی دیا اور کہا کہ عاصمہ کا شمار ان صحافیوں میں باآسانی کیا جا سکتا ہے جو صحافت کے نام پر گہری ہوتی غوغائی دلدل میں بھی اپنی شناخت بچاتے ہوئے اپنے اطلاعاتی و تبصراتی فرائض زنانہ وار مرادنگی کے ساتھ نبھا رہی ہیں، اخباری کالموں کی کتابی شکل میں اشاعت پر ایک عام اعتراض کیا جاتا ہے کہ انکی شیلف لائف کم ہوتی ہے اور چند دن، مہینوں یا برسوں بعد انکی وہ اہمیت نہیں رہتی، میں بھی بہت عرصے تک اسی خیال کا حامی تھا لیکن اب میرا ماننا ہے کہ کوئی بھی تحریر رائیگاں نہیں جاتی،

    عاصمہ شیرازی کا آبائی علاقہ سیالکوٹ ہے، انہوں نے ماسٹرز، پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کیا،زمانہ طالبعلمی میں عاصمہ شیرازی نے فن خطابت میں ایک سو سے زائد ایوارڈز حاصل کئے، عاصمہ شیرازی کا صحافت کا سفر سال 2000 میں شروع ہوا، پی ٹی وی جوائن کیا پھر، 2002 میں جیو نیوز سے صحافی سفر شروع ہوا، عاصمہ شیرازی نجی ٹی وی انڈسٹری کی پہلی خاتون رپورٹر ہیں، انہوں نے پارلیمانی سیاست پر پہلا پروگرام پارلیمنٹ کیفے ٹیریا کیا، 2006 ، پاکستان کی پہلی خاتون وار کاریس پانڈنٹ، دو بار حملوں کی زد میں آئیں، حزب اللہ نے گرفتار کیا ،عاصمہ شیرازی کو ان کی جرات مندی اور با اخلاق صحافت پر سال 2014 کے پیٹر میکلر ایوارڈ کا حقدار قرار دیا گیا تھا، عاصمہ شیرازی نے سال 2006 میں لبنان ۔ اسرائیل جنگ کی ، 2009 میں پاکستان ۔ افغانستان کے بارڈر اور 2007 میں جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ایمرجنسی کے نفاذ کی رپورٹنگ کی تھی،

    عاصمہ شیرازی نے 14 اگست 2018، سے بی بی سی اردو پر کالموں کا آغاز کیا، اب تک کالموں کا سلسلہ جاری ہے، عاصمہ شیرازی کی کتاب کہانی بڑے گھر کی میں 191 تحریریں ہیں اور 431 صفحات ہیں، کتاب کی آخری تحریر،19 اپریل 2022 کا کالم ، اور مجھے یوں نکالا کتاب میں آخری تحریر ہے، جس کی آخری لائن عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ کاش کہ سیاسی جماعتیں اور سیاستدان بھی ماضی کی غلطیاں نہ دہرائیں ، پھر ہی ہو گا اصل جمہوریت کا بول بالا،

     

    حارث خلیق کہتے ہیں کہ میں عاصمہ شیرازی کو طویل عرصے سے ایک نڈر اور بے باک صحافی کی حیثیت سے جانتا ہوں، انکی رپورٹنگ اور تجزئے معلومات افزا بھی رہے، اور فکر پرور بھی، عاصمہ نے کمال حوصلے سے سب قلم بند کر دیا یہ کتاب اشرافیہ کو آئینہ دکھانے کے لئے اور عوام کو سچائی سے آگاہ کرنے میں معاون ثابت ہو گی

    پیپلزپارٹی کی رہنما ، وفاقی وزیر شیری رحمان کہتی ہیں کہ عاصمہ شیرازی پاکستان کی صحافتی دنیا کا ایک نایاب ہیرا ہے، ایک بہادر صحافی اور انسان جس نے سختیوں ، تعصب ،اور سیلکٹڈ حکومت کی جانب سے ہراسمنٹ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، لیکن سچ کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، امید کرتی ہوں عاصمہ ہمیشہ لکھتی رہیں گی

    عاصمہ شیرازی خاتون‌ صحافی ہیں جنہوں نے مردانہ وار کام کیا اور میدان صحافت میں کردار کشی، پروپیگنڈے کے باوجود ہمیشہ آگے کی جانب سفر کرتی رہیں، سابق حکمران جماعت تحریک انصاف کی جانب سے عاصمہ شیرازی کے خلاف ٹویٹر ، سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کی انتہا کی گئی لیکن عاصمہ شیرازی نے عمران خان کے یوتھیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے کام کو فوقیت دی، وہ لکھتی گئیں اور مقبول ہوتی چلی گئیں، عاصمہ شیرازی نے ہمیشہ کھری بات کی، اور سچ کا دامن نہیں چھوڑا، کہنے والے انکے بارے میں بہت کچھ کہتے رہے، کردار کشی کی انتہا کی گئی، لیکن عاصمہ شیرازی نے صبر کیا اور میدان صحافت نہیں چھوڑا،عاصمہ شیرازی نہ صرف خواتین بلکہ مرد صحافیوں کے لیے بھی کسی مثال سے کم نہیں وہ کسی بھی جعلی مہم اور دھمکیوں سے ڈرتی ہیں نہ گبھراتی ہیں بلکہ بھرپورانداز سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سچ بولتی ہیں۔ سچ بولنے اور سننے والے ہمیشہ عاصمہ کے ساتھ رہے،خاتون ہو کر بھی انکا کام کئی مرد صحافیوں سے بہت بہتر دیکھنے میں ملا،پاکستان میں میڈیا میں مردوں کے لئے بھی مشکلات ہیں اور پھر خاتون کا میدان صحافت میں قدم رکھنا اور 2000 سے اب تک اسی فیلڈ میں رہنا، پاکستانی خواتین کے لئے نمونہ ہے،

    کالم لکھنا بھی ایک فن ہے، کالم لکھنے والے تو بہت ہوں گے لیکن اچھا لکھنے والے نہیں، عاصمہ شیرازی اچھا لکھنے والوں میں شامل ہے، صحافت کے میدان میں عاصمہ شیرازی جہاں الیکٹرانک میڈیا میں مقبول ہیں وہیں اب مصنف بھی بن گئیں، انکی کتاب "کہانی بڑے گھر کی” پاکستان کی بہترین کتابوں میں سے ایک ہے،انہوں نے اس کتاب میں جھوٹی اور من گھڑت کہانیوں کی بجائے وہ لکھا جو انہوں نے دیکھا، جس کا مشاہدہ کیا، عاصمہ شیرازی نے وفاقی دارالحکومت میں رہتے ہوئے "کہانی بڑے گھر کی” ، لکھ کر تلخ حقیقت سامنے لے آئی ہیں

    آڈیو لیک پرمبشر لقمان نے بینڈ بجا دی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عاصمہ شیرازی کی کتاب کہانی بڑے گھر کی،کے حوالہ سے عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ یہ کتاب گزشتہ چار برسوں کی کہانی بیان کرتی ہے، جو دیکھا سچ کی صورت میں اظہار کیا ، جو لکھا حاضر اور ناظر ایک ذات گواہ بنا کر لکھا باوجود روکنے کی کوشش کے، جو لکھا نہ لکھتی تو ان سامنے کس منہ سے جاتی جنہوں نے تیروں کے مصلے پر باطل اور جابر حکمراںوں کے سامنے بھی سچ کہا ۔ مجھے صحافت میں 20 برس ہوگئے لیکن ان میں سے 16 برس مجھے کوئی گالی نہیں دی گئی لیکن چار سال قبل جب مجھے پہلی گالی دی گئی تو مجھے بہت تکلیف ہوئی اس طرح کے الفاظ لیے گئے جنہیں دہرانے کی میری ہمت نہیں۔ جب بھی مجھے گالیاں دی جاتی تھیں تو میرے اندر ایک زور آور چیز بولتی تھی کہ تم بولو یہ نہیں کروگی تو کیا کرو گی، تو میں کہتی تھی کہ ہاں میں کیا کروں گی، اگر چپ رہوں گی نہیں لکھوں گی تو میں مرجاؤں گی اور میں بول کے بھی مرجاؤں گی تو میں بول کے مرجاؤں گی…

  • صدرمملکت عارف علوی کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ،مختلف منصوبوں کا جائزہ لیا

    صدرمملکت عارف علوی کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ،مختلف منصوبوں کا جائزہ لیا

    ٹیکسلا:صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ کیا جہاں انہیں جاری منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا آمد پر ایچ آئی ٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل سید عامر رضا نے صدر مملکت کا استقبال کیا۔

    ‏جی ایچ کیو نے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی تعیناتی کی سمری بھجوا…

    ترجمان پاک فوج کے مطابق صدر کو ایچ آئی ٹی کی فنی صلاحیتوں اور پیداواری سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی اور خود انحصاری کی کوششوں، ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کے منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق صدر مملکت نے مختلف فیکٹریوں کا بھی دورہ کیا اور منصوبوں پر ہونے والے کام کا معائنہ کیا۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف مذموم مہم پر آئی ایس پی آر کا ردعمل

    ترجمان پاک فوج کے مطابق صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کے جاری منصوبوں، بلٹ پروفنگ اور فوجی گاڑیوں کو بارودی سرنگوں سے محفوظ رکھنے کے پراجیکٹس میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔

    صدر عارف علوی نے جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے ذریعے خود انحصاری حاصل کرنے پر ایچ آئی ٹی کی کوششوں اور صلاحیتوں پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور تنظیم کو جدید دفاعی پیداوار کے ادارے میں تبدیل کرنے پر ایچ آئی ٹی کے عزم کو سراہا۔

  • بھارتی دہشتگردی کا معاملہ وزارت خارجہ کے ذریعے اقوام متحدہ میں اٹھائیں گے، وزیر داخلہ

    بھارتی دہشتگردی کا معاملہ وزارت خارجہ کے ذریعے اقوام متحدہ میں اٹھائیں گے، وزیر داخلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ انٹرنل سیکیورٹی سے متعلق آپ کو بریف کیا جائے گا،

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے، ہم ہر روز نئی صورتحال سے دو چار ہوتے ہیں،کوئی طبقہ ایسا نہیں کہ اس نے قربانی پیش نہ کی ہو، پچھلے 70سال سے کشمیر ہندوستان کے ظلم کا شکار ہے،دہشتگردی کو کوئی بھی واقعہ ہو بھارت اس میں کسی نا کسی انداز میں شامل رہا ہے پاکستان بہت عرصے سے دہشتگردی کی آگ میں جھلس رہا ہے آج بریف کئے جانے والے واقعے میں ہندوستان کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ہیں ، کلبھوشن واقعہ پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کا منہ بولتا ثبوت ہے، بھارت پاکستان میں ہر قسم کی دہشتگردی کو پروموٹ کرتا ہے،بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرتے رہیں گے، پاکستان میں مساجد اور امام بارگاہوں کا نشانہ بنایا گیا،بھارتی دہشتگردی کا معاملہ وزارت خارجہ کے ذریعے اقوام متحدہ میں اٹھائیں گے،

    ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ کسی دہشتگرد تنظیم نے جوہر ٹاون دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی،جوہر ٹاون دھماکے کے 24گھنٹےکے اندر 3دہشتگردوں کو گرفتارکیا گیا تھا،دھماکے کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی لے کر آنے والے شخص کی شناخت کر لی گئی،

    قبل ازین جوہر ٹاؤن لاہور 2021 کے دہشتگردی کے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جوہر ٹاؤن لاہور دھماکے کے ماسٹر مائنڈ سمیع الحق اور سہولت کار گرفتار جر کئا فئامدہشت گردی کا واقعہ حافظ سعید کے گھر کے قریب پیش آیا تھا سمیع الحق کو پاک افغان سرحد پار کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا،دو مفرور ملزمان سمیع الحق اور عزیر اکبر گرفتار کر لئے گئے،اس کیس میں مفرور ملزمان کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی را سے بتایا گیا تھا دہشت گرد حملے میں 3 افراد جاں بحق ہوئے تھے،

    جوہر ٹاون دھماکہ کیسے ہوا ؟ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ آ گئی

    جوہر ٹاون دھماکہ حافظ محمد سعید کی رہائشگاہ کے قریب ہوا؟ حقیقت سامنے آ گئی،

    جوہر ٹاون دھماکہ۔ زخمیوں کے نام سامنے آ گئے ۔اموات میں اضافہ

    لاہور جوہر ٹاؤن دھماکے میں پڑوسی ملک کے ملوث ہونے کے ثبوت سینئر صحافی سامنے لے آئے

    لاہور میں دھماکہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے ، شہباز شریف

    دہشت گردی کے کتنے تھریٹ ملے تھے؟ لاہور دھماکے کے بعد آئی جی کا انکشاف

    جوہرٹاون دھماکہ:تحقیقاتی ادارے ملزم کے قریب پہنچ گئے،

    جوہرٹاؤن دھماکہ؛ بارود سے بھری گاڑی کا مالک کون؟بارود کہاں نصب کیا گیا اورگاڑی کیسے پہنچی؟تہلکہ خیزانکشافات 

    لاہور دھماکہ، ایئر پورٹ سے فرار ہونیوالے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا

    جوہر ٹاؤن دھماکہ،تحقیقات میں زبردست کامیابی حاصل کر لی، شیخ رشید

    جوہر ٹاؤن دھماکہ "را” کے ملوث ہونے کے ثبوت،دو مزید ملزمان گرفتار،ڈیوڈ بارے اہم انکشافات

    جوہر ٹاؤن دھماکہ، سب ملزمان گرفتار، ملک دشمن خفیہ ایجنسی ملوث، بزدار کی پریس کانفرنس

    جوہرٹاؤن دھماکہ ، گرفتار ملزمہ عدالت پہنچ گئی

  • نیب قانون کے غلط استعمال سے کتنے لوگوں کے کاروبار تباہ ہوئے،چیف جسٹس کے ریمارکس

    نیب قانون کے غلط استعمال سے کتنے لوگوں کے کاروبار تباہ ہوئے،چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے گئے،وکیل نے کہا کہ ایگزیکٹو اپنا کام نہ کرے تو لوگ عدالتوں کے پاس ہی آتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترمیم اس اسمبلی نے کی جو مکمل ہی نہیں،اس پر قانون نہیں ملا کہ نامکمل اسمبلی قانون سازی کر سکتی ہے یا نہیں سیاسی حکمت عملی کے باعث آدھی سے زیادہ اسمبلی نے بائیکاٹ کر رکھا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم سے فائدہ صرف ترمیم کرنے والوں کو ہی ہوا،چند افراد کی دی گئی لائن پر پوری سیاسی پارٹی چل رہی ہوتی ہے،لائن کو فالو کریں تو اس کا فائدہ صرف چند افراد کی ذات کو پہنچتا ہے نیب ترمیم کی ہدایت کرنے والوں کو اصل میں فائدہ پہنچا، کیا ایسی صورتحال میں عدلیہ ہاتھ باندھ کر تماشا دیکھے؟نیب ترامیم کو بغیر بحث جلد بازی میں منظور کیا گیا،ترامیم کی نیت ہی ٹھیک نہ ہو تو آگے جانے کی ضرورت ہی نہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے باوجود کرپشن ختم نہیں ہوسکی، مسئلہ صرف کرپشن کا نہیں سسٹم میں موجود خامیوں کا بھی ہے سسٹم میں موجود خامیوں کو کبھی دور کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی،پارلیمان کا کام ہے سسٹم میں بہتری کیلئے قانون بنائے اور عمل بھی کرائے،ہر صوبے میں پانچ ماہ بعد آئی جی اور تین ماہ بعد ایس ایچ او بدل جاتا ہے،ایگزیکٹو فیصلے کرتے وقت قانون پر عمل نہیں کیا جاتا، ماضی میں ریکوڈک اور اسٹیل مل کے فیصلے عدالت نے اچھی نیت سے کیے،حکومت سسٹم کی کمزوری کے باعث منصوبوں میں کرپشن پکڑ نہیں سکی، نیب قانون کے غلط استعمال سے کتنے لوگوں کے کاروبار تباہ ہو چکے ہیں،کرپشن پر کسی صورت معافی نہیں ہونی چاہیے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کرپشن غلط ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کرپشن ہونی نہیں چاہیے،سوال یہ ہے کہ کرپشن کا سدباب کس نے اور کیسے کرنا ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کرپشن ختم کرنا ایگزیکٹو کا کام ہے، اگر وہ نہیں کر سکی تو عدالت مداخلت کرتی ہے، عدالت نے ہمیشہ عوامی عہدوں پر کرپشن کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سے معاملات میں بہتری بھی آئی ہے،خوش آئند بات یہ بھی ہے کہ پاکستان میں میڈیا آزاد ہے اور سچ سامنے لاتا ہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پاکستانی میڈیا ورلڈ رینکنگ میں 180 میں سے 157 نمبر پر ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کرپشن کی رینکنگ میں پاکستان اسی نمبر پر ہے جو نیب ترامیم سے پہلے تھا،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم کے بعد اب جو رینکنگ جاری ہوگی اس میں پاکستان یقینا 100 نمبر نیچے جا چکا ہوگا ،جب سسٹم تباہ ہو رہا ہو تو عدلیہ مداخلت کرتی ہے،عدالت کس اختیار کے تحت نیب ترامیم کو مفادات کے ٹکراو پر کالعدم قرار دے سکتی ہے؟ وکیل نے کہا کہ خود کو فائدہ پہنچانے کیلئے کی گئی قانون سازی کیلئے ریگولیٹری کیپچرکی اصطلاح استعمال ہوتی ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پھر ہم حالیہ نیب ترامیم کو پارلیمنٹری کیپچر کہیں گے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پارلیمنٹری کیپچر کسی اور معنی میں استعمال ہوتا ہے، سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • سیلاب متاثرین کو درست طور پر سروے میں شامل نہ کرنے پرتوجہ دلاو نوٹس قومی اسمبلی میں پیش

    سیلاب متاثرین کو درست طور پر سروے میں شامل نہ کرنے پرتوجہ دلاو نوٹس قومی اسمبلی میں پیش

    اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا

    حلقہ 249 سمیت پورے ملک میں گیس کی کمی سے متعلق توجہ دلاو نوٹس پیش کیا گیا،قومی اسمبلی اجلاس میں توجہ دلاو نوٹس پیپلزپارٹی کے قادر خان مندوخیل نے پیش کیا ، پارلیمانی سیکریٹری حامد حمید کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے پورے ملک میں گیس کا شیڈول دیا ہے،ملک میں گیس کی مانگ موجودہ مقدار سے زیادہ ہے، گیس حاصل کرنے کے لیے متعدد نئے کنوئیں کھودے جا رہے ہیں، کچھ حاصل شدہ گیس نیشنل گریڈ میں آ گئی ہے، پچھلے 4 سال سے انفراسٹرکچر پر کوئی کام نہیں ہوا،سعید آباد میں پائپ لائن پر کام شروع کردیا گیا ،بیس کلو میٹر کی پائپ لائن پر کام جلد شروع ہوگا،امید ہے ایک سال میں پائپ لائن پر کام مکمل کریں گے،ہمارے پاس جو وسائل ہیں اس کے مطابق گیس فراہم کی جارہی ہے،عمران خان نے نئے کنکشن پر پابندی لگائی تھی،قادر خان مندو خیل نے کہا کہ میرے حلقے میں گیس کے کنکشن نہیں دئیے جا رہے، پارلیمانی سیکریٹری حامد حمید کا کہنا تھا کہ نئے کنکشن کیلئے نئی پالیسی وضع کی جائے گی ،

    قومی اسمبلی اجلاس،ٹریڈ آرگنائزیشن ترمیمی بل 2022 منظورکر لیا گیا،بل وفاقی وزیر تجارت نوید قمر نے پیش کیا ،ٹیکس قوانین دوسری ترمیمی آرڈیننس 2022 کی مدت میں 120 دن توسیع کی قرارداد منظورکرلی گئی ،قرارداد وزیرپارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے پیش کی

    سیلاب متاثرین کو درست طور پر سروے میں شامل نہ کرنے پر تشویش سے متعلق توجہ دلاو نوٹس قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا،ریاض مزاری اور محمد افضل نے توجہ دلاؤ نوٹس قومی اسمبلی میں پیش کیا ،ریاض مزاری نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ متاثرہ علاقوں میں غلط سروے کیا گیا،جن کے گھر تباہ ہوئے ان کے نام سروے میں شامل نہیں کیے گئے،وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضی ٰجاوید عباسی کا کہنا تھا کہ بارہ ستمبر کو مشترکہ سروے شروع کیا گیا تھا،تیس نومبر کو سروے مکمل کرلیا گیا ،صوبوں نے ابھی تک اپنی رپورٹ این ڈی ایم اے کو نہیں بھیجی،

    اپوزیشن لیڈرراجہ ریاض کا کہنا تھا کہ سروے سے متعلق کسی بھی علاقے کے رکن قومی و صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، ہمارا مطالبہ ہے کہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کو اعتماد میں لیا جائے،

    وفاقی وزیر ایازصادق نے کہا کہ پرویز الہٰی کی صدارت میں کابینہ اجلاس ہوا ،ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے جو پیسے آتے ہیں وہ پاکستان کے ہوتے ہیں ،ڈونر وفاقی حکومت اور صوبوں کیساتھ ملکر استعمال کا فیصلہ کرتا ہے 2021 میں تھر کینال پراجیکٹ پر سائن ہوا ،پنجاب کابینہ سے التجا کروں گا کہ پراجیکٹ کے کنڈیشنز پڑھیں پنجاب حکومت سندھ کے ساتھ بیٹھے اور ملکر فیصلہ کریں ،وزیر اعلیٰ سندھ سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ بیٹھنے کو تیار ہیں سیکریٹری آبپاشی نے کہا کہ وزیر کو 200 ملین ڈالر بچانے کی فکر ہے پنجاب حکومت نے قرض کی توسیع سے متعلق ایشین ڈویلپمنٹ بینک کو نہیں لکھا ،یہ پنجاب حکومت کا کام تھا ،ہم ابھی بھی مسئلہ حل کرانے کو تیار ہیں ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے دروازہ بند نہیں کیا پنجاب حکومت کا آڈٹ کرانا چاہیے کہ پتہ چلے ایری گیشن ڈیپارٹمنٹ نے کیا کیا پنجاب حکومت کو کچھ کرنا پڑے گا ،وفاقی حکومت سے پیسہ نہیں روکا یہ غلط تاثر ہے عمران خان احسان کرنے والے پرہی وار کرتے ہیں،

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

    حامد زمان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے تحقیقات سے متعلق رپورٹ

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

  • خورشید شاہ کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت مل گئی

    خورشید شاہ کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت مل گئی

    نیب سکھر نے وفاقی وزیر خورشید شاہ کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی

    آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں وفاقی وزیر خورشید شاہ سکھر کی نیب عدالت میں پیش ہوئے ،وکیل نے کہا کہ جج نے میڈیکل رپورٹ کی روشنی میں خورشید شاہ کو بیرون ملک علاج کی اجازت دی خورشید شاہ کو 10 لاکھ روپےمچلکے کے عوض ایک ماہ کے لیے بیرون ملک جانےکی اجازت دی نیب عدالت نے ای سی ایل سے خورشید شاہ کا نام نکالنے کی ہدایت جاری کر دی خورشید شاہ نے نیب عدالت میں بیرون ملک علاج کے لیے درخواست جمع کرائی تھی خورشید شاہ ، بیٹے، 2 بیگمات ،داماد اور اویس شاہ سمیت 18 ملزمان کے خلاف ریفرنس تھا نیب نے خورشید شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی استدعا منظورکرلی

    قیادت کمزور ہونے کی وجہ سے بھارت آئے روز پاکستان پر حملے کر رہا ہے،خورشید شاہ

    گرفتاری کے بعد بیماری سیاسی رہنماؤں کا معمول،خورشید شاہ بھی

    خورشید شاہ کی گرفتاری، دونوں بیگمات نے بڑا قدم اٹھا لیا، عدالت پہنچ گئیں

    کیا خورشید شاہ قید تنہائی میں ہیں؟ سپریم کورٹ

    خورشید شاہ کیس، سب کی حاضری ضروری ،عدالت کا بڑا حکم

    حکومت عوام پر عذاب الہی ہے، خورشید شاہ

    نیب سکھر کی جانب سے خورشید شاہ پر ایک ارب 30 کروڑ روپے کا ریفرنس دائرکیا گیا تھا خورشید شاہ سمیت 18 افراد کےخلاف ایک ارب 23 کروڑ کا ریفرنس دائر ہے ، سندھ ہائیکورٹ سکھر بنچ نے پیپلز پارٹی کے رہنما ،رکن قومی اسمبلی خورشید شاہ اور ان کے بیٹے ایم پی اے فرخ شاہ کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی خورشید شاہ اور ان کے 18 ساتھیوں پر نیب عدالت میں ایک ارب 23 کروڑ روپے سے زائد آمدن کے اثاثے بنانے کے الزام میں ریفرنس زیر سماعت ہے خورشید شاہ کو18ستمبر2019 کو نیب نے گرفتارکیا تھا۔عدالت نے 70 روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد خورشید کو 19 نومبر 2019 کو جیل بھیجا ،خورشید کو این آئی سی وی ڈی میں زیر حراست رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے بعد ازاں سپریم کورٹ نے خورشید شاہ کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا

  • توہین الیکشن کمیشن،اسد عمر نے عدالت میں معافی مانگی،یہاں کیوں نہیں آتے؟ الیکشن کمیشن

    توہین الیکشن کمیشن،اسد عمر نے عدالت میں معافی مانگی،یہاں کیوں نہیں آتے؟ الیکشن کمیشن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، پارٹی رہنماؤں اسد عمر اور فواد چودھری کیخلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت ہوئی،

    ممبرسندھ نثار درانی کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی،عمران خان اور فوادچودھری کے وکیل فیصل چودھری کمیشن میں پیش ہوئے ،وکیل فیصل چودھری نے کہاکہ عمران خان ابھی تک سفر کے قابل نہیں ہوئے ممبربلوچستان نے کہاکہ عمران خان کا میڈیکل سرٹیفکیٹ کہاں ہے ؟ فیصل چودھری نے کہا کہ میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی پیش کردیںگے سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی اپیل پر تحریری فیصلہ نہیں آیا مناسب ہوگا سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے دیا جائے سپریم کورٹ نے ہمارے اعتراضات برقرار رکھے ہیں ۔

    ممبر کے پی نے کہا کہ عمران خان بیمار ہیں تو باقی لوگ کیوں پیش نہیں ہوئے؟ وکیل اسد عمر نے کہا کہ مناسب ہوگا سب کا کیس ایک ساتھ ہی چلایا جائے،فیصل چودھری نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان، فوادچودھری کے شوکاز معطل کر رکھے ہیں سپریم کورٹ کی گائیڈ لائنز آنے دی جائیں، ممبر کے پی نے کہا کہ شوکاز نوٹس کمیشن کے بنچ نے جاری کیا تھا،سیکرٹری نے نہیں

    وکیل درخواستگزار نے کہا کہ کمیشن کا آرڈر قانون کے مطابق نہیں ہے ممبر کے پی نے کہا کہ اگر کمیشن غلطی کرتا ہے تو ہائیکورٹ سے آپ کو ریلیف مل جائے گا، ممبر سندھ نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کاانتظار تو ٹھیک ہے لیکن فریقین پیش کیوں نہیں ہو رہے، فیصل چودھری نے کہا کہ فواد چودھری کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دے رہا ہوں فوادچودھری کو بخار اور فلو ہے، پیش نہیں ہو سکتے ممبر سندھ نے کہا کہ توہین کسی کی ذات کی نہیں کمیشن کی بطور ادارہ ہوئی ہے وکیل عمران خان نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں، افراد اداروں کے احترام کے پابندہیں، جو بھی ہونا ہے قانون کے مطاق ہونا ہے پورا یقین ہے کمیشن انصاف کرے گا ممبر کے پی نے کہا ہم پر کوئی شک نہ کرے کسی سے عناد نہیں ممبر پنجاب نے کہا کہ اسد عمر نے عدالت میں معافی مانگی تو یہاں کیوں نہیں آتے؟ کمیشن آ کر بھی کہہ دیں یہ نہیں کہنا چاہتے تھے،فیصل چودھری نے جواب دیا کہ آپ کا پیغام پہنچا دوں گا۔

    الیکشن کمیشن نے آئندہ سماعت پر عمران خان، اسد عمر اور فوادچودھری کو پیش ہونے کی ہدایت کردی۔ممبر کے پی نے کہاکہ ممبر پنجاب کی معذرت والی بات پر غور کریں، ممبر پنجاب نے کہاکہ اصل چیز ملک ہے وہ ہے تو ہم سب ہیں ،الیکشن کمیشن نے کیس کی مزید سماعت 3 جنوری 2023 تک ملتوی کردی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    عمران خان، فواد چودھری اور اسد عمر کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا گیا