Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مقبولیت کا بھوت،عمران خان کو لے ڈوبے گا،کچے ذہن اور تباہی کی خطرناک منصوبہ بندی

    مقبولیت کا بھوت،عمران خان کو لے ڈوبے گا،کچے ذہن اور تباہی کی خطرناک منصوبہ بندی

    مقبولیت کا بھوت،عمران خان کو لے ڈوبے گا،کچے ذہن اور تباہی کی خطرناک منصوبہ بندی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مقبولیت کا بھوت عمران خان سے اگلے آنے والے دنوں میں چند ایسے فیصلے کروانے والا ہے جس سے اس ملک کی ساکھ کو ایک لمبے عرصے کیلئے نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ اقتدار میں رہتے ہوئے طاقت کے نشے نے اس شخص سے اتنے نقصان کروائے کہ آج ہمارے ایٹمی اثاثوں پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور اب مقبولیت کے نشے میں اس ملک کے ساتھ کھلواڑ کا سلسلہ جاری ہے ۔۔ عوام کے دماغوں میں گند بھرا جا چکا ہے ۔۔ منصوبہ بندی مکمل ہو چکی ہے اور اب عمران خان ٹڈی دل کے قافلے کے ساتھ کسی بھی وقت اسلام آباد پر حملہ آور ہو سکتا ہے ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے پیچھے چھپے اصل حقائق کونسے ہیں ؟ اور عمران خان کا لایا ہوا ٹڈی دل کتنا خطرناک ہو سکتا ہے ؟ عمران خان اپنے اوچھے ہتھکنڈوں اور کروڑوں روپے کی انویسمنٹ سے تیار کردہ سوشل میڈیا سیلز کو استعمال کر کے اس قوم کی نفسیات سے کھیل رہا ہے ۔ پاکستان میں سولہ کروڑ لوگوں کے پاس موبائل فون کی Accessہے اور جس کے پاس موبائل فون ہوتا ہے اس کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے ۔ آٹھ سے دس کروڑ لوگوں کے پاس انٹرنیٹ ہے اور وہ سوشل میڈیا کا استعمال بھی کرتے ہیں ۔۔ ان میں ستر فیصد کے قریب لوگ نوجوان ہیں ۔۔ دو ہزار اٹھارہ سے آج تک الیکشن کمیشن کے ڈیٹا کے مطابق ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگ ووٹر لسٹ میں شامل ہو چکے ہیں ۔۔ اور اگر ہم پچھلے الیکشن کے نتائج میں ٹرن اوور دیکھیں تو اس حساب سے نئے الیکشن میں ستر سے اسی لاکھ تک نئے ووٹ کاسٹ ہو سکتے ہیں ۔ ان سب عوامل کو دیکھتے ہوئے عمران خان اس وقت صرف نوجوان نسل ہی کو ٹارگٹ کر رہا ہے ۔ کچے ذہنوں کو بہت آسانی سے جدھر مرضی Moldکر لو آپ کر سکتے ہیں اس لیے اس کی ٹارگٹAudienceبھی وہی نوجوان نسل ہے جو آسانی سے دور کے ڈھول سن کر سہانے خواب سجا لیتے ہیں ۔عمران خان سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے چھوٹے چھوٹے Time Bomb
    بنا رہا ہے جو اس کے ایک اشارے پر کہیں بھی پھٹ سکتے ہیں ۔۔ کسی کےساتھ لڑائی کر سکتے ہیں ۔۔ کسی کے خلاف گالیوں کی مہم چلا سکتے ہیں ۔۔ اپنی عزت کی پرواہ کیے بغیر کسی کی بھی پگڑی بیچ چوراہے اتار سکتے ہیں ۔ اور اگر انھیں اشارہ کیا جائے کہ اسلام آباد آ کر شہر کو یرغمال بنا لو تو یہ لوگ وہ بھی کر سکتے ہیں ۔کیونکہ ان کے دماغ زنگ آلود ہو چکے ہیں ۔ ان کے لہجے میں زہر بھرا جا چکا ہے ۔ اور اب وہ انسان کی بجائے صرف ایک Robotکی طرح عمران خان او ر اس کے حواریوں کی Instructions پہ عملد رآمد کرنا جانتے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس سب کے ساتھ جب مذہب کاتڑکا لگتا ہے تو کھیل مزید خطرناک ہو جاتا ہے اور عمران خان پورے موڈ میں ہے کہ جہاں بھی ضرورت ہو مذہب کاچورن ساتھ بیچا جائے ۔۔۔ اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ عمران خان صرف مذہب کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ وہ مذہب کو Weaponizeکر رہا ہے ۔۔ اس کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور اگر ایسے ہی چلتا رہا تو طاقت کا یہ کھیل پاکستان کے سینے پر بہت سی نئی ضربیں لگا سکتا ہے ۔ بہت سے نا بھرنے والے زخموں کا باعث بن سکتا ہے جو بعد میں پاکستان کےلیے ناسور بن سکتے ہیں ۔ اب عمران خان کی نظریں اسلام آباد کی طرف ہیں اور وہ ملک میں ایک بد ترین Anarchy کے خواب دیکھ رہا ہے ۔۔ وہ لوگوں اور حکومت دونوں کی Nervesکو ٹیسٹ کر رہا ہے ۔۔ وہ ا یسے حالات کا انتظار کر رہا ہے اور کچھ حالات خود سے بنا رہا ہے جس کی وجہ سے اس ملک کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے ۔ اکتوبر کا آخری ہفتہ اور نومبر کے پہلے دو ہفتے انتہائی اہم ہیں اور انھی دنوں میں کاروائی ڈالی جا سکتی ہے ۔۔ عمران خان لوگوں کو با ر بار یہ منجن بیچ رہا ہے کہ اس کے لانگ مارچ کا مقصد صرف قبل از وقت انتخابات ہیں ۔ لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہے ۔ اس لانگ مارچ کا سب سے بڑا مقصد اور محور نومبر میں ہونے والی آرمی چیف کی تعیناتی ہے ۔۔ عمران خان کی انا کو کسی صورت گنوارا نہیں ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ موجود ہ حکومت کرے ۔اسے یہ غم اند ر ہی اندر کھائے جا رہا ہے کہ میں اس ایک ملک کا پونے چار سال کےلیے حکمران رہا لیکن میرے پاوں میں ایسی بیڑیاں تھیں جس وجہ سے میں ایک بار بھی آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ نہیں کر سکا ۔اس لیے وہ اس تعیناتی کو متنازعہ بنانے کےلیے کبھی اداروں میں بغاوت کا بیج بوتا ہے تو کبھی اداروں کے سربراہان کی حب الوطنی پر ایک سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے ۔ کبھی جلسوں میں کہتا ہے کہ جو آرمی چیف یہ لوگ لانا چاہتے ہیں وہ ا ن کی کرپشن پر پردہ ڈالے گا اور جب ڈنڈا دکھائی دیتا ہے تو اپنے ہی بیان سے مکر جاتا ہے ۔ابھی اس کے پاس دوسرا کوئی چارہ نہیں بچا ۔۔ ضمنی الیکشن کے بعد وہ الیکشن کمیشن پر بھی حملہ آور نہیں ہو سکتا ۔ اس لیے اس نے نومبر کی تعیناتی کو لے کر ابھی سے اس قوم کے دماغوں کو بنجر کر نا شروع کر دیا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ریاست سے ٹکر لینے کےلیے اس حد تک چلا گیا ہے کہ اس کے بقول اگر لانگ مارچ کے دوران کوئی تیسری قوت مداخلت کرتی ہے تو اس کی ذمہ دار سرکار ہوگی۔ یعنی اس نے اپنے سارے پیادوں کو ہدایا ت جاری کر دی ہیں جو ہر ریاست کے ساتھ ہر طرح کے Clash کے لیے تیار ہیں ۔ اب یہاں دو طرح کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ۔ ایک تو یہ ہے کہ جیسے ہی آرمی چیف کی تعیناتی کسی حتمی مرحلے سے گزرتی ہے فوری طور پر اسلام آباد ڈی چوک کی طرف آیا جائے اور پوری قوت کےساتھ آیا جائے ۔۔ اس کےلیے پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی ساری مشینری استعمال کی جائے ۔۔ کے پی کے وزیر اعلی تو بہت دیر سے رضا مند ہیں ۔ کے پی حکومت کے ہیلی کاپٹر پر وہ سیریں بھی کرتے ہیں ۔۔ کے پی ہاوس میں ان کی بیٹھکیں بھی ہوتی ہیں لیکن پنجاب حکومت اس میں آڑے آ سکتی ہے کیونکہ پرویزا لہی کسی صورت عمران خان کے ان عزائم کا ساتھ نہیں دے سکتے جن کے وہ خواب دیکھ رہے ہیں ۔ اس لیے عمران خان بار بار پنجاب کے چکر کاٹ رہے ہیں ۔۔ یہاں کی انتظامیہ کو ٹکر لینے کےلیے رضا مند کر رہے ہیں ۔ہر روز کی بنا پر وہ لوگوں سے حلف لے رہے ہیں ۔۔ لیکن اپنے اہل خانہ سے ابھی تک کوئی حلف نہیں لیا ۔۔ شاید ان کی حقیقی آزادی کی جنگ میں بشری بی بی شریک نہیں ہونا چاہتیں یا پھر عمران خان کو صرف عام لوگوں کو ریاست کے سامنے لانے کا شوق ہے ۔ایک دوسرا منصوبہ بھی اس سارے کھیل میں شامل ہے ۔وہ یہ ہے کہ اسلام آباد کی بجائے پنڈی میں ہی پڑاو کیا جائے ۔۔ اس کے دو تین فائدے ہیں ۔ ایک تو یہ ہے کہ پنڈی کی حدود میں صرف پنجاب کی حکومت ہے ۔۔ وہاں پر پنجاب پولیس ان کو ہر طرح کی Protectionبھی فراہم کر سکتی ہے ۔۔ وہاں پر یہ اپنی مرضی کے مطابق جس طرح چاہیں قانون کے ساتھ بھی کھیل سکتے ہیں ۔ اور تیسری بڑی وجہ یہ ہے کہ پنڈی میں احتجاج کے دوران عمران خان کو کھلا موقع مل جائے گا کہ وہ اداروں کو مجبور کر دے کہ وہ نا چاہتے ہوئے سامنے آئیں او ر اس کے پھیلائے ہوئے گند کا علاج کریں ۔

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پس پردہ حقائق بھی یہی ہیں کہ ہر صورت اداروں کو مجبور کر دیا جائے کہ وہ اپنے ہی لوگوں کے خلاف کوئی کاروائی کریں ۔۔ تا کہ ایک تو آرمی چیف کی تعیناتی کو تنازعات میں گھیرا جا سکے اور دوسرا اس ملک میں انتشار پھیلا کر پھر سےا س ملک کو دلد ل میں پھینکا جا سکے ۔لیکن دوسری طرف بھی تیار ی پوری ہے ۔ دوسری طرف انتظار کیا جار ہا ہے کہ عمران خان اس قسم کی کوئی حرکت کرے تو پورا ملک دیکھے گا کس طرح اس کے کھنے سیکے جاتے ہیں ۔کیونکہ ایف آئی آر تو پہلے سے موجود ہیں ۔ وفاقی حکومت نے اسلام آباد مارچ کے حوالے سے اپنے خدشات کے بارے میں بھی عدالت کو آگاہ کر دیا ہے۔۔ اور اس ملک میں وارنٹ گرفتاری نکلتے اور پھر طبیعت ٹھیک ہوتے کتنی دیر لگتی ہے وہ تو ہم سب نے دیکھ لیا ہے ۔۔ہم نے شہبازگل کو بھی دیکھ لیا ہے ۔۔ ہم نے اعظم سواتی کو بھی دیکھ لیا ہے ۔۔ اور مستقبل میں بھی جو ملک کے خلاف کسی سازش کا حصہ بنے گا وہ چاہے خود عمران خان ہی کیوں نا ہو اس کا انجام بھی ویسا ہی ہوگا اور ہو سکتا ہےان سے بھی زیادہ برا انجام ہو۔طاقت کا یہ کھیل پاکستان کی سیاست کو کس موڑ پر لے کر آتا ہے یہ تو آنے وا لے دنوں میں واضح ہو جائے گا اور اس کے ساتھ وہ قوتیں بھی مزید بے نقاب ہو جائیں گی جو پاکستان کی بقا کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ۔ بس دعا یہ ہے کہ اس سارے کھیل میں پاکستان کا نقصان نا ہو

  • کیا کوئی رہ گیا ہے جسے نیب قانون سے استثنیٰ نہ ملا ہو؟ جسٹس اعجازالاحسن

    کیا کوئی رہ گیا ہے جسے نیب قانون سے استثنیٰ نہ ملا ہو؟ جسٹس اعجازالاحسن

    نیب قانون میں ترامیم کیخلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی ،پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے ،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کوئی رہ گیا ہے جسے نیب قانون سے استثنیٰ نہ ملا ہو،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مالی فائدہ ثابت کیے بغیر کسی فیصلے جو غلط نہیں کہا جا سکتا، بظاہر افسران کو عوامی عہدیداران کو فیصلہ سازی کی آزادی دی گئی ،وکیل نے کہا کہ ایسے فیصلہ سازوں سے ہی ماضی میں 8 ارب روپے سے زائد ریکوری ہوئی،

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا ریکوری عوامی عہدیداران سے ہوئی تھی؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ عوامی عہدیداروں کیلئے پیسے پکڑنے والوں سے ریکوری ہوئی تھی، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر سرکاری فیصلے کا کسی نہ کسی طبقے کو فائدہ ہوتا ہی ہے، وکیل نے کہا کہ جب تک پہنچایا گیا فائدہ غیر قانونی نہ ہو تو کوئی قباحت نہیں مخصوص افسر کو غیر قانونی فائدہ پہنچانے پر کارروائی نہ ہونا غلط ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کسی ریگولیٹری اتھارٹی اور سرکاری کمپنی پر نیب ہاتھ نہیں ڈال سکتا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نئی ترامیم کے بعد نیب قانون سے بچ نکلنے پر دوسرے میں پھنس جائے گا، آپ کے دلائل سے ایسا لگتا ہے احتساب صرف نیب کر سکتا ہے، احتساب کیلئے دیگر ادارے بھی موجود ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کا جرم کسی دوسرے قانون میں نہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم میں نجی افراد کو جرائم سے نکال دیا گیا ہے،آمدن سے زاہد اثاثہ جات پر اس وقت کارروائی ہوگی جب کرپشن ثابت ہو، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے کہ ترامیم سے کئی جرائم کو ڈی کریمینلائز کردیا گیا ہے؟ ریمانڈ کتنا ہو ضمانت کیسے ہوگی ان ترامیم پر آپکا اعتراض نہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ اچھی ترامیم ہیں ان پر اعتراض نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات سمیت نیب قانون سے جرائم نکالے گئے،کیا ان جرائم کیخلاف دوسرے قوانین موجود ہیں؟ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ نیب ترامیم سے کونسے جرائم نکال دئیے گئے ہیں؟ وکیل نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے جرائم کو ختم کردیا گیا ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب قانون میں آمدن سے زاہد اثاثہ جات کاجرم آج بھی موجود ہے، کیا عدالت اب قانون کے ڈیزائن کا جائزہ بھی لے گی؟ عدالت پارلیمنٹ کیساتھ چالاکی کو کیسے منسوب کر سکتی ہے؟

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں درست ٹیکس ریٹرنز جمع نہیں کرائے جاتے، اثاثوں کا آمدن سے محض زائد ہونا کافی نہیں، آمدن سے زاہد اثاثہ جات میں کرپشن یا بے ایمانی کا ہونا بھی ضروری ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کل کو کوئی عدالت آکر کہیں کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات پر پھانسی ہونی چاہیے،جرم ثابت کرنے کا بوجھ کس پر اور کتنا ہوگا، یہ بحث عدالت نہیں پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے،

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • عوام کی خواہشات دکھ شیئرنہیں کرسکتے توحکومت کرنے کا کوئی جواز نہیں،خواجہ آصف

    عوام کی خواہشات دکھ شیئرنہیں کرسکتے توحکومت کرنے کا کوئی جواز نہیں،خواجہ آصف

    عوام کی خواہشات دکھ شیئرنہیں کرسکتے توحکومت کرنے کا کوئی جواز نہیں،خواجہ آصف

    قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی خواہشات اور دکھ اگرشئیرنہیں کر سکتے تو حکومت کرنے کا کوئی جواز نہیں،

    قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ رستے ہوئے زخموں کو نظر انداز کرنا نقصان دہ ہے معاملات کا سیاسی حل نہیں نکالا جاتا تو یہ بہت گھمبیر ہوگا ،خوشی کی بات ہے سوات کے لوگ اکٹھے ہوئے ہیں سوات میں لگی آگ مجھ سمیت سب کے دامن تک پہنچ سکتی ہے،مسئلہ 50 کی دہائی سے شروع ہے، بوجھ کو کب اپنے کندھوں سے اتاریں گے ایشوز کے حل کے لیے ہمیں سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے، سوات میں 13 سال بعد وہی سلسلہ شروع ہوگیاہے بلوچستان میں 50 کے دہائی سے ایک سلسلہ شروع ہوا، پھر سمجھوتے ہوئے، میں نے بلوچستان کی حکومت پر نقطہ چینی کی جسارت بھی کی تھی ہم بلوچستان گئے تو کہا گیا آپ کو نقطہ چینی نہیں کرنی چاہیے تھی،ہاؤس نے قانونی اور آئینی طریقے سے ایک حکومت کو ہٹایا،جن کی حکومت ہٹائی گئی وہ شخص ریاست کو یرغمال بنانا چاہتا ہے،سب کے ذمہ کوئی نہ کوئی گناہ ہے، اسے ماننا چاہیے، جو کہہ رہا ہوں وہ سنجیدہ ہے،ہاؤس کو بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے،ہم نے فاش غلطیاں کیں، حل ڈھونڈا جاسکتا تھا زخم بہہ رہا ہے، اس پر مرحم رکھنے کی ضرورت ہے، علاج کی ضرورت ہے، پاکستان کے قیام کے ایک ڈیڑھ سال بعد ایک مختلف رائے کو تسلیم نہیں کیا گیا، لیاقت باغ میں فائرنگ کے بعد لوگ دوسرے صوبوں میں چلے گئے، ایسی ہی صورتحال بلوچستان میں کئی دہائیوں سے ہے، اس کا حل ڈھونڈنا چاہیے سوا تین کروڑ پاکستانی کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہا ہے،انہیں نہیں پتہ یہ زندگی کہاں لے جائے گی، سب کچھ لٹ چکا ہے، ملک کے موجودہ مسائل پر ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا،

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ کہ مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ ہمارا معاشرہ جمہوری نہیں، عوام کی خواہشات اور دکھ اگرشئیرنہیں کر سکتے تو حکومت کرنے کا کوئی جواز نہیں، خواجہ آصف کی تقریر کے دوران بات چیت کرنے پر شیری رحمان سے خاموش رہنے کی درخواست کی گئی ،وزیر دفاع خواجہ آصف نے شیری رحمان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے بات کرنے دیں گی؟ شیری رحمان نے جواب دیا کہ کوشش کرتی ہوں، خواجہ آصف نے کہا کہ یہی تو آپ لوگوں کا رویہ ہے جس کی وجہ سے یہ مسائل ہیں،اگر آپ کوئی بات کریں گی تو میں اپنے انداز میں جواب دینے پر مجبور ہوں گا،معاملات کوسیاسی طریقے سے حل نہ کیاجائے تو مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں،کچھ ایشوز ایسے ہیں جن کا حل بہت ضروری ہے ،ایشوز کے حل کے لیے ہمیں سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے، مسائل کا مستقل حل نکالنا چاہیے، ہم اسے مانیں یا نہ مانیں،اس وقت جس ملک کا نام پاکستان ہے، ہم ایک قوم ہیں،

    وفاقی وزیرشیری رحمان کا کہنا تھا کہ ہمیں علم نہیں دہشت گردوں سے کس طرح سمجھوتہ کیا جاتا ہے ،پیپلز پارٹی کی دہشت گردی میں قربانیاں سب کے سامنے ہیں،پیپلزپارٹی نے توکہا تھا پاکستان کے باشندوں سے مذاکرات ہوسکتے ہیں یہ تو شر پسند بھی نہیں یہ مذہب کو استعمال کرتے ہیں جہاں آپریشنز ہورہے ہیں ہمیں اعتماد میں لیا جائے اوربتایا جائے کدھر کدھر ہورہا ہے،18اکتوبر کے زخم نہیں بھولیں،اے پی ایس پرکیا ہوا، بلوچستان کے لیے ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن بنایا جائے ،ہم اقتدار میں اس لیے نہیں آئے تھے کہ دہشت گردی سراٹھائے ہمارے دور میں سوات آپریشن شروع ہوا تھا،انسانی حقوق کے معاملات پر آگے بڑھیں ،پارلیمنٹ کے پاس اختیارات ہیں، ہم نے ملک بچانا ہے ،اس کےلیے کام کرنا ہوگا

    وفاقی وزیرشیری رحمان کا کہنا تھا کہ میرے خلاف سوشل میڈیا پرغیرمناسب باتیں پھیلائی جا رہی ہیں،سوشل میڈیا پر ویسے بھی خواتین سافٹ ٹارگٹ ہے

    کوئی سیاست کے لیے اتنا کیسے گر سکتا ہے؟ پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو لیک پر ردعمل

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    آڈیو لیکس کا معاملہ، وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا

    آڈیو لیکس، معاملے کی تہہ تک نہ پہنچے تو معاملات اس سے زیادہ بگڑجائیں گے

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

     مریم نواز نے عمران خان پر کڑی تنقید 

  • وزیر اعظم کی جانب سے چینی وفد کی کاوشوں کا خیر مقدم

    وزیر اعظم کی جانب سے چینی وفد کی کاوشوں کا خیر مقدم

    وزیر اعظم کی جانب سے چینی وفد کی کاوشوں کا خیر مقدم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امید ہے ریسکیو اور ریلیف سے متعلق چینی ماہرین کا تجربہ مفید ثابت ہو گا۔ وزیر اعظم شہباز شریف سے اسلام آباد میں چینی ڈیزاسٹر مینجمنٹ وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مسائل اور ان کے حل سے متعلق امور پر گفتگو ہوئی۔ وزیر اعظم کی جانب سے چینی وفد کی کاوشوں کا خیر مقدم کیا گیا۔ اور ان کی کاوشوں کو سراہا گیا ہے.

    اس موقع پر وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ چینی وفد کو تجویز دوں گا کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں تعاون کے معاہدے پر دستخط کر کے جائیں اور مشکل گھڑی میں مدد پر چینی قیادت اور عوام کی مجھ سمیت پوری پاکستانی قوم شکر گزار ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے پاکستان کی ہر مشکل وقت میں مدد کی جو دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کی عمدہ مثال ہے، سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقے اب بھی زیرِ آب ہیں اور وہاں بیماریاں نئے چیلنجز کو جنم دے رہی ہیں۔
    جنرل قمر جاوید باجوہ بطور آرمی چیف اور سیکیورٹی چیلنجز ، بقلم: شکیل احمد رامے
    امریکہ پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری چاہتا ہے،امریکی محکمہ خارجہ
    روس سے قریبی تعلقات کے الزام میں جرمنی کے سائبر سیکیورٹی چیف برطرف
    شہباز شریف نے کہا کہ چینی کمپنیوں کی طرف سے فلڈ ریلیف فنڈ میں عطیات پر ان کے مشکور ہیں اور چینی وفد نے متعلقہ پاکستانی اداروں و حکام سے تعاون کے لیے ورکنگ گروپ تشکیل دے دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی وفد 21 اکتوبر کو متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے تفصیلی منصوبہ اور رپورٹ پیش کرے گا۔ امید ہے ریسکیو اور ریلیف سے متعلق چینی ماہرین کا تجربہ مفید ثابت ہو گا۔

  • اعظم سواتی کیس،ناقابل ضمانت دفعات پرغورکریں قابل ضمانت پربحث نہ کریں،جج کی ہدایت

    اعظم سواتی کیس،ناقابل ضمانت دفعات پرغورکریں قابل ضمانت پربحث نہ کریں،جج کی ہدایت

    اسپیشل سینٹرل کورٹ اسلام آباد ، متنازعہ ٹویٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سینیٹر اعظم سواتی کے وکیل بابر اعوان کے دلائل مکمل ہوئے ،عدالت نے کل پراسیکیوٹر سے دلائل طلب کر لئے،سینیٹر اعظم سواتی کے وکیل بابر اعوان نے ایف آئی آر پڑھ کر عدالت کو سنائی،بابر اعوان نے کہا کہ ایف آئی آر میں اعظم سواتی کے ٹویٹ کو ملکی سالمیت کے خلاف تصور کیا گیا سات بجے ٹویٹ کی اور ایک بجے پرچہ ہو گیا، کہاں انکوائری ہوئی اور کب ہوئی؟تین سے چار گھنٹے میں کارروائی کی گئی مجھے بتایا بھی نہیں، ایف آئی اے بغیر انکوائری کے کیسے بندے کو گرفتار کر سکتی ہے، پہلے نوٹس ہوتا ہے پھر پرچہ ہوتا ہے لیکن اس کیس میں بغیر انکوائری کے کارروائی کی گئی ،ایک کیس میں چیف جسٹس نے یہ کہا تھا کہ عدلیہ اور ادارے اتنے کمزور نہیں کہ ٹویٹ سے گر جائیں،

    عدالت نے بابر اعوان کو ہدایت کی کہ آپ ناقابل ضمانت دفعات پر غور کریں قابل ضمانت پر بحث نہ کریں، بابر اعوان نے کہا کہ سینیٹر اعظم سواتی کے گھر سے بچوں کے ٹیبلٹس بھی لے گئے ہیں، اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے دلائل کے کیلئے مزید وقت مانگ لیا. جج نے پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بچے نہیں ہیں کہ آپ کو تیاری کے لیے وقت دیا جائے، عدالت نے کیس کی سماعت کل تک کے لئے ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ  اعظم سواتی کو اداروں کے‌ خلاف ٹویٹ کرنے پر مقدمہ درج کر کے ایف آئی اے نے گرفتار کیا تھا،  گزشتہ روز عدالت نے اعظم سواتی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد سینیٹر اعظم سواتی نے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائرکر دی تھی، عدالت میں دائر درخواست میں انہوں نے رہائی کی استدعا کی تھی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

     ماحولیاتی منظوری کے بغیر مارگلہ ایونیو کی تعمیر کیس پر فیصلہ محفوظ 

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

    سینیٹر اعظم سواتی نے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائرکر دی

  • اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    اسلام آباد:پاکستان نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک پلس کے فیصلے کے تناظر میں سعودی عرب کے خلاف بیانات پر مملکت کی قیادت کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

    اوپیک پلس فیصلے کے خلاف آنے والے بیانات پر پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اظہاریکجہتی کا کھل کراعلان کیا ہے

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی قیادت کےساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے عالمی اقتصادی استحکام کو یقینی بنانےکیلئے سعودی عرب کے خلوص اوراحساس کودرست اور سراہتے ہیں

    ’پاکستان باہمی احترام پر مبنی ایسے معاملات پر تعمیری نقطہ نظر کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔‘دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم مملکت سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ، پائیدار اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہیں۔‘

    ہفتے کےدن تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک کی تنظیم اوپیک کے سیکریٹری جنرل نے کہا تھاکہ ’تیل پیداوار میں کمی سے متعلق اوپیک پلس کا فیصلہ درست اور بروقت ہے۔‘اوپیک کے سیکریٹری جنرل علی بن سبت نے ایک بیان میں عندیہ دیا کہ ’اس فیصلے میں عالمی معیشت کے اردگرد کی غیر یقینی صورت حال، تیل منڈی میں عدم توازن خاص طور پر طلب اور رسد کے پہلووں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔‘

    تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک کی تنظیم اوپیک میں سعودی عرب، الجزائر، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، مصر، شام، عراق، تیونس اور لیبیا شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ اوپیک پلس نے پانچ اکتوبر کو ویانا میں اجلاس کے دوران نومبر میں تیل کی یومیہ پیداوار 20 لاکھ بیرل کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔اجلاس کے موقع پر سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کا کہنا تھا کہ ’اوپیک پلس عالمی معیشت کے استحکام کا بنیادی ستون ہے اور رہے گا۔‘

  • ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کیلیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گئے ہیں ،آرمی چیف

    ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کیلیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گئے ہیں ،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرصدارت جی ایچ کیو میں کورکمانڈر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کورکمانڈر کانفرنس میں ملکی اندرونی اوربیرونی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ، کانفرنس میں سیلابی صورتحال میں آرمی کے سول انتظامیہ کے ساتھ تعاون کو سراہا گیا ،شرکا نے نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سے متعلق سیکیورٹی انتظامات پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک افواج وطن کا دفاع کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں،ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کیلیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گئے ہیں ایٹمی اثاثوں کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی قوانین کااحترام کرتے ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق  کانفرنس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ پاکستان کا موثر نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام ہے پاکستان ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ذمہ دار ملک ہے ، ملک کے اسٹراٹیجک اثاثوں کا جامع نظام ہے ،

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    لسبیلہ ہیلی حادثہ، پاک فوج کیخلاف مہم میں یوٹیوبر سمیت سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی شامل

  • چیف الیکشن کمشنر کا پنجاب حکومت کیخلاف سپریم کورٹ میں ریفرنس بھجوانے کا اعلان

    چیف الیکشن کمشنر کا پنجاب حکومت کیخلاف سپریم کورٹ میں ریفرنس بھجوانے کا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیرصدارت 3 رکنی بینچ نے پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کے حوالہ سے درخواست پر سماعت کی

    دوران سماعت چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ای وی ایم پر تحقیقات ہوئیں، برازیل اور بھارت میں اس کا استعمال ہورہا ہے،برازیل کے نمائندے نے کہا کہ 2023 کا الیکشن ای وی ایم پر کرانا معجزہ ہو گا،تحقیقات کے مطابق ای وی ایم کو جلدی میں مسلط کیا گیا تو الیکشن مشکوک ہو جائے گا انارکی پھیلے گی،یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم شوق میں ای وی ایم پر الیکشن کرائیں اور ملک میں انارکی پھیلے،پنجاب حکومت چاہتی ہے کہ انارکی پھیلے،بلدیاتی الیکشن میں تو پولنگ اسٹیشن تو زیادہ ہوتے ہیں،اب ہم ای وی ایم کے چکر میں پڑ جائیں ،اگر الیکشن خراب ہو جائے تو کوئی ذمہ داری لے گا،ہم کیا پنجاب کے پرانے قانون پر بلدیاتی انتخابات کروا سکتے ہیں؟ دس ماہ سے پنجاب میں بلدیاتی حکومت نہیں،کوئی بھی حکومت بلدیاتی الیکشن کرانا نہیں چاہتی،

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    مالی نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے بعد دوستوں کو بلا لیا،اجتماعی درندگی کا ایک اور واقعہ

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کے ساتھ مزید کوئی اجلاس نہیں کریں گے، فیصلہ کریں گے ہم سپریم کورٹ ریفرنس بھیج رہے ہیں کہ پنجاب حکومت الیکشن نہیں کرا رہی،پنجاب حکومت سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہیں کر رہی تو توہین عدالت کی کارروائی کی جائے، سپریم کورٹ کو خط میں تفصیلات لکھیں کہ پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی پنجاب حکومت آئین قانون اور سپریم کورٹ احکامات کی خلاف ورزی کر رہی ہے پنجاب حکومت 7 روز میں بلدیاتی حکومت کا قانون بنائے ورنہ سابقہ قانون پر بلدیاتی انتخابات کرائیں گے، اگر پنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخابات پر تعاون نہیں کیا تو توہین کی کارروئی کا آغاز کریں گے،

  • عدالت کیخلاف روزویلاگز ہوتے،ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا،چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ

    عدالت کیخلاف روزویلاگز ہوتے،ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا،چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اعتزاز احسن کے خلاف کیپٹن (ر) صفدر کی درخواست نمٹادی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس میں آرڈر کرکے نمٹا دینگے اگر پاکستان بار کونسل یا کسی بھی بار کو اس عدالت پر شک ہے تو بتائیں، کیپٹن ر صفدر نے کہا کہ سوشل میڈیا نے اعتزاز احسن کے بیان کو بہت کوریج دی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کسی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانبداری پر کوئی شک ہے؟ اگر شک نہیں تو کسی کے غیر ذمہ دارانہ بیان پر توجہ کیوں دیں؟ فیصلہ کریں گے کہ لوگوں کا اس عدالت پر کتنا اعتماد ہے؟ یہ عدالت کسی سے غیر ضروری وضاحت طلب نہیں کرے گی، عدالت کے خلاف روزانہ وی لاگز ہوتے ہیں،ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، غیر ضروری چیزوں کو اہمیت ہی نہیں دینا چاہیے، عدالت اپنے فیصلوں سے جانی جاتی ہے،جن کا جی چاہتا ہے کہتا ہے مگر توہین عدالت کارروائی اسکا حل نہیں،

    وکیل درخواست گزار کی جانب سے رانا شمیم کیس کے حوالے پر عدالت نے اظہارِ برہمی کیا اور کہا کہ کیا درخواست گزار کو خود اس عدالت پر کوئی شک ہے ؟درخواست گزار نے کہا کہ ہمیں آپ پر اور عدالتی نظام پر بڑا اعتماد ہے،عدالت نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ طلال چودھری، دانیال عزیز اور نہال ہاشمی طرح کے فیصلے یہاں بھی ہوں،

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد پولیس کو زیر حراست ملزمان پر تشدد کے الزامات کے خلاف درخواست پر نوٹس جاری کر دیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کو 15روزمیں جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر تو کیس مقدمہ اندراج کا ہے تو جسٹس آف پیس کے پاس جائیں،یہ عدالت کوئی ایسی روایت نہیں بنانا چاہتی آپ پہلے متعلقہ فورم پر جائیں،ایف آئی آر اندراج کے استدعا کے علاوہ کوئی ہے تو اس سے متعلق بتائیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت دو ہفتے تک ملتوی کر دی

  • صدرمملکت نے ریکوڈیک ریفرنس سپریم کورٹ میں دائرکردیا

    صدرمملکت نے ریکوڈیک ریفرنس سپریم کورٹ میں دائرکردیا

    صدر مملکت عارف علوی نے ریکوڈیک ریفرنس سپریم کورٹ میں دائرکردیا ہے.

    صدر کی جانب سے دائر ریکوڈک ریفرنس میں عدالت عظمیٰ سے غیر ملکی کمپنی سے معاہدے پر رائےلی جائےگی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر صدرمملکت نے ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا۔وفاقی حکومت نے ریکوڈک ریفرنس منظور کیا تھا۔ واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اس سے قبل ریکوڈک منصوبے پر سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی تھی.
    ایوان صدر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیر اعظم شہباز شریف کی تجویز پر ریکوڈک پروجیکٹ پر 1973 کے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت ریفرنس دائر کرنے کی سمری کی منظوری دی تھی. جبکہ مارچ 2022 میں وزیر خزانہ اور ٹیتھیان کاپر کمپنی پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے شیئر ہولڈرز نے اپیکس کمیٹی میں ریکوڈک منصوبے کے تصفیے اور بحالی کے فریم ورک پر اتفاق کیا تھا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ 30 ستمبر 2022 کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وفاقی کابینہ نے وزارتِ قانون و انصاف کی سفارش پر ریکوڈک کے حوالے سے وفاقی حکومت اور حکومت بلوچستان کے ریکوڈک منصوبے کی تعمیر کے بارے میں سپریم کورٹ کے گزشتہ فیصلے کے حوالے سے وزیراعظم کی سفارش پر صدر پاکستان کی طرف سے وضاحتی ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔
    یاد رہے کہ ڈان اخبار کی 19 جولائی کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ کینیڈا کی مائننگ فرم بیرک گولڈ کارپوریشن کو توقع ہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ، بلوچستان میں ریکوڈک کاپر اینڈ گولڈ منصوبے میں عالمی ثالثی کے تحت 7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے راستہ بناتے ہوئے عدالت سے باہر کیے گئے اس کے 6 ارب ڈالر کے تصفیے کی منظوری دے گی۔