Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ترمیم سے لگتا  49 کروڑ روپے تک کرپشن ٹھیک اس سے زیادہ غلط،سپریم کورٹ

    ترمیم سے لگتا 49 کروڑ روپے تک کرپشن ٹھیک اس سے زیادہ غلط،سپریم کورٹ

    ترمیم سے لگتا 49 کروڑ روپے تک کرپشن ٹھیک اس سے زیادہ غلط،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    نیب نے 21 سال کے دوران ہونے والی پلی بارگین کی تفصیلات جمع کرا دیں ،وکیل نے کہا کہ ترمیم کے تحت دباو کا الزام لگنے پر پلی بارگین منسوخ ہوجائے گی،منسوخ ہونے پر پلی بارگین کے تحت جمع رقم واپس کرنا ہوگی، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا پلی بارگین منسوخ ہونے سے سزا کیساتھ جرم بھی ختم ہوجائے گا؟ وکیل نے کہا کہ ترمیم کی تحت جرم اور سزا دونوں ہی ختم ہوجائیں گے، عدالت نے کہا کہ پلی بارگین اعتراف جرم ہوتا ہے جس کی سزا میں عدالت پیسے واپس کرنے کی منظوری دیتی ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کی جانب سے دی گئی سزا قانون سازی سے کیسے ختم ہوسکتی؟ صدر بھی رحم کی اپیل میں سزا معاف کر سکتے ہیں جرم ختم نہیں ہوتا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پلی بارگین جرم کی بنیاد ہے وہ ختم ہو جائے تو جرم کیسے برقرار رہے گا؟ قاتل کا جرم ختم ہو سکتا ہے تو بدعنوانی کے ملزم کا کیوں نہیں، عدالت نے کہا کہ کرپشن 50 کروڑ روپے سے کم ہو تو پلی بارگین کیساتھ مقدمہ بھی ختم ہو جائے گا،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ترمیم سے لگتا ہے 49 کروڑ روپے تک کرپشن ٹھیک اس سے زیادہ غلط ہے، وکیل نے کہا کہ کابینہ اور دیگر فورمز کیساتھ وزرا اور معاونین خصوصی کو بھی استثنیٰ دیدیا گیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا ایمنسٹی اسکیم کا فائدہ اٹھانے والا عام آدمی بھی نیب ریڈار پر آسکتا ہے؟ معاشرہ ایسا ہے کہ کاروباری افراد کو کئی جگہ رشوت دینا پڑتی ہے، کیا کاروباری افراد کو بزنس کرنے پر بھی سزا ملے گی؟ وکیل نے کہا کہ عوامی عہدیدار کی منی لانڈرنگ میں سہولت کاری کرنے والا نیب ریڈار پر آئے گا، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا نیب قوانین میں ترامیم عدالتی فیصلوں کی روشنی میں نہیں کی گئیں؟ وکیل نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کی غلط تشریح کرکے نیب قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں،

    نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب قوانین کے ترامیم میں 500 ملین کا بینچ مارک بنا دیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ اب تک کتنے مقدمات عدالتوں سے واپس آئے ہیں ؟ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں جواب دیا کہ عدالتوں سے 219 مقدمات واپس آچکے ہیں، اب تک تعداد 280 ہوگئی، اعداد و شمار مقدمے کے آغاز میں لیے گئے تھے، تمام مقدمات نیب کو واپس آرہے ہیں جنہیں کمیٹی دیکھے گی، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم میں بھی ایسا ہی تھا نام اور رقم نہیں بتائی جا سکتی، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں ایمنسٹی اسکیم بھی فراڈ ہے ؟ ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے پیسے کو وائٹ کرنا تو بڑے عرصے سے چل رہا ہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایسا نہیں کہہ رہا ہے مگر کرپشن کی رقم کا ایشو مختلف ہوتا ہے ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے رقم ڈکلئیر کرنے والوں کو کچھ نہ کہنا نہ پوچھنے کا لکھا گیا ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس میں بھی رکشے والے اور ایسے لوگوں کے کھاتوں سے اربوں نکلے تھے، نئے قانون کے مطابق احتساب عدالت اور نیب نے ہاتھ کھڑے کر دے گی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان ترامیم کو گزشتہ حکومت نے شروع کیا تھا باتوں سے باتیں نکل رہی ہیں، دو ماہ میں ان ترامیم کی ڈرافٹنگ کا کریڈٹ وزیر قانون کو جاتا ہے،وکیل نے کہا کہ کچھ کریڈٹ سابقہ حکومت کو بھی جاتا ہے جو خود اس عمل میں شامل رہی اور پھر چیلنج کر دیا،

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • عمران خان نے پاک امریکا تعلقات کو نقصان پہنچایا، بلاول

    عمران خان نے پاک امریکا تعلقات کو نقصان پہنچایا، بلاول

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خارجہ بلاول زرداری نے کہا ہے کہ ملک کے بڑے حصے میں تاحال سیلابی پانی موجود ہے،

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اورسندھ کے بیشترعلاقوں میں سمندر ہی سمندر ہے ،سیلاب دریاوں سے نہیں آسمان سے اس کا پانی آیا،3کروڑ لوگ قدرتی آفت سے متاثر ہوئے جون سے لیکرآج تک متاثرین سیلاب کی مدد کا سلسلہ جا ری ہے ،متاثرین کی تعداد امداد اور وسائل سے زیادہ ہے ایک تہائی پاکستان سیلابی پانی میں ڈوبا ہواہے ،متاثرین کے لیے ہمیں بیرون ممالک سے تعاون کی فراہمی کا عمل جاری ہے،سیلاب سے فصلیں تباہ ہوئیں جس کے باعث خوراک کا مسئلہ پیدا ہوا،سیلابی پانی کی وجہ سے متاثرین میں بیماریاں پھیل رہی ہیں،کھڑے پانی میں مچھروں کی بھرمار ہے ،ہمارے اسپتال ان اضافی مریضوں کا بوجھ نہیں اٹھاسکتی ،ایک چیلنج سے نکلتے ہیں تو دوسرا سامنے آتا ہے ،ہمیں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے،نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے سروے کا عمل جاری ہے ہمارا اندازہ ہے کہ 30ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہوگا،

    وزیر خارجہ بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم مایو س نہیں، سیاست نہیں ملکی مفاد کودیکھنا ہوگا، ملک کو متحد کرکے عوام کی مدد کرنا ہوگی،ہمیں پہلی بار ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وزیراعظم پورے ملک کو اون کررہے ہیں،کچھ لوگ اب بھی کچھ الگ سوچ رہےہیں،انہیں عوام کا سوچنا چاہیے جب پرویز مشرف کی حکومت تھی تو کیا ہم نے لانگ مارچ شروع کیا تھا،سیاست ہوتی رہے گی،الیکشن بھی ہوتے رہتے ہیں مگر یہ وقت ملک کو مشکل سے نکالنے کا ہے،میں نے محسوس کیا کہ ملک کو وحدت کی ضرورت ہے ،متاثرین کی مزید امدا د کےلیے کام کرنا ہوگا،کیا سیلاب متاثرینموجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہیں؟یہ ترقی یافتہ ممالک کا نتیجہ بھگت رہے ہیں پاکستان کے لوگوں نے تاریخ میں ہر مشکل کو دیکھا اوراس کا سامنا کیا ہے،اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل پاکستان آئے انہوں نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھا، ہم نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے کوششوں پر زور دیا پورے یونائیٹڈ نیشن کا ایجنڈا موسمیاتی تبدیلی میں تبدیل کر دیا،انتونیو گوتریس اورامریکی صدر بائیڈن نے کہا کہ پوری دنیا کو پاکستان کی مدد کر نی ہے، جہاں جہاں انفراسٹرکچر کا نقصان ہوا ہے، اسے کھڑا کریں گے، نومبر کے اختتام تک نئی فصل اگانے کے قابل ہوں گے ہم چھوٹے کسانوں کو تعاون فراہم کریں گے، سیلاب سے معیشت تباہ ہوئی ،ہم دوبارہ ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنائیں گے، سندھ حکومت کو کہا ہے کہ محنت سے اگلی فصل ہر حال میں اگائیں گے اس مشکل سے نکل کر پورے پاکستان کو ایک چھتری تلے لائیں گے، سیلاب سے معیشت تباہ ہوئی ،ہم دوبارہ ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنائیں گے، اگر مستقبل میں ایسا سیلاب آیا تو اس سے نمٹنے کی بھی تیاری کرنی ہے معیشت کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ ہم فصل تیار کرنے کے لیے دن رات ایک کریں

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    وزیر خارجہ بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ڈوبا ہواتھا ،لوگ شہباز گل کے ڈرامے کے پیچھے پڑے ہوئے تھے اس وقت ہمیں سیاست کا نہیں سوچنا،کچھ لوگ سازشیں کر رہے ہیں کہ سیلاب کے دوران ان کی حکومت کیسے آئے، ہمارے لوگ زندہ رہیں گے تو سیاست کرسکیں گے، کراچی نہیں پورے ملک کی تعمیر نو کی ضرورت ہے ،خود تعمیر نو کے لیے وسائل جمع کر رہا ہوں، میرے آنے سے پہلے جو ہوا سو ہوا ،اب خود کام کر رہا ہوں ،ماڈل یوسی نہیں پورے سندھ کو ماڈل صوبہ بنائیں گے، ہم نے ایک قوم بن کر سانحات کا مقابلہ کرنا ہے، بین الاقوامی برادری کے سامنے پاکستان میں ہونے والی تباہی کا مقدمہ پیش کیا،امیر ممالک نے امیر بننےکے لیے ہم پر بوجھ ڈالا اور موسمیاتی تبدیلیاں لے آئے، ہم عالمی برادری سے بھیک نہیں انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں پاکستان امریکہ تعلقات بہتری کی طرف جا رہے ہیں،ہمیں صرف پاک بھارت اور پاک افغانستان تعلقات کے حوالے سے دیکھا جاتا تھا میں سیلاب زدگان کو چھوڑ کر جلسے نہیں کر سکتا جہاں میں نہیں جا سکتا وہاں کارکنان جائیں اور بلاول بن کر کام کریں اپوزیشن اراکین قومی اسمبلی میں آتے ہیں نہ کسی دفتر میں جاتے ہیں،

    وزیر خارجہ بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے ملک کو ہر طرح سے نقصان پہنچایا،عمران خان نے خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچا یا ،فنانشل ٹائمز نے لکھا عمران خان نے چندہ چوری کیا پی ٹی آئی دور میں دوست ممالک کےساتھ تعلقات متاثر ہوئے ہیں عمران خان نے اپنی انا کے لیے ملک کو نقصان پہنچایا، عمران خان کا طریقہ کار ہے کہ اتنا جھوٹ بولوکہ لوگ سچ سمجھیں ،عمران خان نے اپنا گھر ریگولرائز کرایا اور دوسروں کے گھر گرائے ، فارن فنڈنگ لینے والا چندہ چور دوسروں پر الزام لگاتا ہے، عمران خان سازش کررہے ہیں کہ سیلاب کے دوران حکومت آئے،سندھ کا پیسہ سپریم کورٹ میں پھنسا ہوا ہے ،اس پیسے سے ہم ایک بی او ڈی کا مسئلہ حل کرتے، ڈھائی سو تربیلا ڈیم جتنا پانی کہاں لے کر جاتے، سو کلو میٹر کی جھیل سندھ کے درمیان بن چکی ہے ،دریائےسندھ کے اردگرد سمندر ہے،عمران خان کی عادت ہے وہ الزامات لگاتے ہیں ،ہم پر کبھی سیلاب متاثرین کی امداد میں کرپشن کا الزام نہیں لگا ،عمران خان پر توشہ خانے میں خیانت کا الزام لگا،عمران خان کے پروپیگنڈے سے کوئی فرق نہیں پڑتا،عمران خان کے ساتھ سندھ کے قوم پرست بھی سیلاب پر سیاست کر رہے ہیں ، یہ کہا جا رہا ہے کہ ہم ڈوبے نہیں ہمیں ڈبویا گیا ، غلط ہے ،

  • تاحیات نااہلی صادق اورامین کے اصول پر پورا نہ اترنے پر ہوتی ہے،چیف جسٹس

    تاحیات نااہلی صادق اورامین کے اصول پر پورا نہ اترنے پر ہوتی ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں تسلیم کیا گیا کہ غلطی ہوگئی نااہلی بنتی ہے مگر تا حیات نہیں، وکیل فیصل واوڈا وسیم سجاد نے کہا کہ الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں اس لیے نااہلی کا فیصلہ نہیں دے سکتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تاحیات نااہلی صادق اور امین کے اصول پر پورا نہ اترنے پر ہوتی ہے اثاثے چھپانے یا غلطی کرنے پر آرٹیکل 63 ون سی کے تحت نااہلی ایک مدت تک ہوتی ہے،

    وکیل نثار کھوڑو فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ فیصل واوڈا کا سارا جھگڑا سینیٹ کی نشست کا ہے ،وکیل فیصل واوڈا وسیم سجاد نے کہاکہ فیصل واوڈا نے نہ حقائق چھپائے نہ کوئی بدیانتی کی، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ
    فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی کب جمع کرائے؟ وکیل نے کہا کہ فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی 7 جون 2018 کو جمع کرائے اور ان پر اسکروٹنی 18 جون کو ہوئی ،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی کب جمع کرایا تھا؟ وکیل نے کہا کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی 11 جون 2018 کو جمع کرایا، ریٹرننگ افسر کو بتا دیا تھا کہ امریکی شہریت چھوڑ دی ہے،امریکن کونسلیٹ جا کر نائیکاپ کینسل کرایا،جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ آپ نے کس تاریخ کو امریکی سفارت خانے میں جا کر نیشنیلٹی منسوخ کرائی؟ وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ امریکی سفارت خانے جا کر کہہ دیا تھا کہ نیشنیلٹی چھوڑ رہا ہوں،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ایمبیسی جا کر زبانی بتا دیا کہ میرا پاسپورٹ کینسل کر دو؟ وکیل نے کہا کہ امریکی شہریت چھوڑنے کا ثبوت میں نے تو نہیں دینا تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ بیان حلفی 11 جون کو جمع کرانے سے پہلے آپ نے زحمت ہی نہیں کی کہ دوہری شہریت کا معاملہ ختم کریں؟ وکیل نے کہا کہ نادرا نے 29 مئی 2018 کو امریکی شہریت کینسل ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا تھا،

    عدالت نے فیصل واوڈا کے وکیل کو الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے متعلق مزید تیاری کی ہدایت کر دی،عدالت نے کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی ،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    واضح رہے کہ ،الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو دوہری شہریت کی بنیاد پر تاحیات نااہل قرار دیا تھا فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی، اپیل میں الیکشن کمیشن اور مخالف شکایت کنندگان کو فریق بنایا گیا،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو تاحیات نا اہل کرنے کا اختیار نہیں تھا الیکشن کمیشن مجاز کورٹ آف لا نہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عجلت میں اپیل خارج کی،الیکشن کمیشن کا نااہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر سینیٹر کے عہدے پر بحال کیا جائے، فیصل واوڈا کی اپیل ایڈووکیٹ وسیم سجاد نے سپریم کورٹ میں دائر کی تھی

    فیصل واوڈاصادق وامین نہیں رہے،حقائق چھپائے:نااہل کیا جائے:مبشرلقمان نےاسپیکرقومی اسمبلی کودرخواست دےدی

    فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

    فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

    بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

    بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

    پی ٹی آئی کی استعفوں کی منظوری کے خلاف رخواست پر سماعت دوبارہ ہوئی ،

    پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کی جانب سےاسلام آباد ہائیکورٹ میں دلائل دیئے گئے، وکیل نے کہا کہ عدالتی سوال پر بعد میں جواب دونگا،اسپیکر نے استعفے منظور کرتے وقت طریقہ کار پر عملدرآمد نہیں کیا،درحقیقت اسپیکر نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے استعفے منظور ہی نہیں کیے اسپیکر نے استعفے منظور کرنے کا فیصلہ بھی خود نہیں کیا، لیکڈ آڈیو سامنے آ چکی ہے عدالت اسکا ٹرانسکرپٹ دیکھ لے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا انکا اپنا فیصلہ تھا؟ کیا قاسم سوری کا استعفے منظور کرنے کا فیصلہ انکا اپنا فیصلہ تھا؟ ہر ایک کو عوام سے مخلص ہونا چاہیے، یہ سیاسی عدم استحکام عوام کے مفاد میں نہیں ہےاگر کوئی پارلیمنٹ کو تسلیم نہیں کرتا تو کیا عدالت سیاسی عدم استحکام کا حصہ بن جائے؟ ہمارا ماضی بھی کوئی اتنا اچھا نہیں ہے،ملکی معیشت اس سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے خراب ہوئی ہے،ہمیں تاریخ سے سیکھنا چاہیے اور وہ دہرانا نہیں چاہیے، منتخب نمائندے پارلیمنٹ کا احترام نہیں کر رہے جو انکو کرنا چاہیے، یہ ارکان پارٹی پالیسی کو تسلیم کرتے ہوئے دوبارہ پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کر کے بیٹھیں گے،اگر پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنا ہے تو پھر تو موقف میں تضاد ہے،علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ پارلیمنٹ جانا نہ جانا پارٹی کا کام ہے، عدالت اس سے دور رہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت آپکو پارلیمنٹ جانے کا نہیں کہہ رہی لیکن آپکے موقف میں تضاد ہے،یہ عدالت درخواست گزاروں اور انکی پارٹی کے کنڈکٹ کو دیکھ رہی ہے، اگر پارلیمنٹ میں نہیں جانا تو یہ ارکان بحالی کیوں چاہ رہے ہیں؟ علی ظفر نے کہا کہ اگر پانچ دن بعد پارٹی پارلیمنٹ جانے کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ ارکان موجود نہیں ہونگے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت آپکو پانچ دن کا وقت دے دیتی ہے، پانچ دن میں ثابت کریں کہ آپ کلین ہینڈز کے ساتھ آئے ہیں،علی ظفر نے کہا کہ عدالت نے استعفے کی منظوری کا طریقہ کار طے کر دیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان نے جینوئن استعفے دیئے تھے یا اپنے لیڈر کی خوشنودی کیلئے؟ بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ پی ٹی آئی نے استعفے دیئے کہ تمام 124 منظور کیے جائیں، اب 11 کو منتخب کر کے استعفے منظور کیے گئے، استعفے درست طور پر منظور نہیں ہوئے اس لیے پارٹی اب استعفے نہیں دینا چاہتی،پارٹی کی پالیسی ہے کہ ہم اب ایم این ایز برقرار ہیں، علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزار بیان حلفی دینے کو تیار ہیں کہ وہ اپنے حلقے کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کرینگے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکی پارٹی کی لیکن یہ پالیسی نہیں ہے، تضاد آ جاتا ہے، آپ اپنے حلقے کے عوام کی نمائندگی نہیں بلکہ سیاسی بنیاد پر واپسی چاہتے ہیں،کیا عدالت درخواست گزاروں کو پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرانے کیلئے درخواست منظور کرے؟ اسمبلی کا ممبر ہو کر اسمبلی سے باہر رہنا اس مینڈیٹ کی توہین ہے،علی ظفر صاحب آپ پہلی رکاوٹ ہی دور نہیں کر پا رہے، آپ یہ ثابت کریں کہ غلطی ہو گئی تھی واپس پارلیمنٹ جانا چاہتے ہیں،یہ بتا دیں کہ آپکو کسی نے استعفے دینے پر مجبور کیا تھا، پارٹی نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا پارلیمنٹ اور عوام کے مفاد میں ہے، عوامی بہترین مفاد میں یہ ہے کہ سیاسی عدم استحکام نہ ہو،عوامی مفاد یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال نہ کیا جائے، یہ عدالت اسپیکر قومی اسمبلی کے پی ٹی آئی کو دوبارہ پارلیمنٹ جانے کا موقع دینے پر سراہتی ہے،اسپیکر نے پی ٹی آئی کو سیاسی افراتفری ختم کر کے واپس پارلیمنٹ جانے کا موقع دیا،کوئی سیاسی جماعت پارلیمنٹ سے بالاتر نہیں، اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہےپارلیمنٹ صرف ایک عمارت نہیں ہے، آج بھی کوئی سول سپرمیسی کی بات نہیں کر رہا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر دس بیان حلفی دیدیں کہ آپ اپنی پارٹی پالیسی کو نہیں مانتے، یہ بیان حلفی دیں تو عدالت آپکی درخواست منظور کر لے گی، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم پارٹی کی پالیسی کو تو تسلیم کرتے ہیں،عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تو پارلیمنٹ کی تحلیل کو غیرآئینی قرار دیا تھا،یہ پارٹی تو سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہی نہیں مان رہی،یہ پارٹی کہتی ہے کہ ہماری طرف سے یہ اسمبلی تحلیل ہو چکی ہم اسکو نہیں مانتے، جو وہ براہ راست نہیں کر سکتے وہ اس عدالت کے ذریعے کرانا چاہتے ہیں،یہ اگر الیکشن چاہتے ہیں تو پھر تو دو ہی طریقے ہیں، پہلا یہ کہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا، پھر عدالتیں آپکو ریسکیو نہیں کرینگی،دوسرا طریقہ آئین کا احترام کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں مسائل حل کرنا ہے، یہ بھی کہہ دیں کہ میں مانتا بھی کسی چیز کو نہیں اور الیکشن بھی ہو جائیں،
    اگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوتا تو پی ٹی آئی آج پارلیمنٹ میں ہوتی،یہ عدالت صرف آئین کے تحت چلے گی، کوئی پارٹی کہے کہ ہم آئین اور پارلیمنٹ کو نہیں مانتے لیکن ہمیں بحال کر دیں، یہ بہت مشکل کام ہے آپ اس میں سے نہیں نکل سکتے، یہ عدالت بہت واضح ہے کہ آئین اور پارلیمنٹ سپریم ہیں،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بیان حلفی پر مشاورت کیلئے ہمیں وقت دیدیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت درخواست کو لمبے عرصے کیلئے ملتوی کر دیتی ہے، جب پارٹی پارلیمنٹ جانے کا فیصلہ کر لے تو متفرق درخواست دیدیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تب کوئی فائدہ نہیں تب تک تو الیکشن ہو جائیں گے، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ درخواست صرف اس الیکشن کو روکنے کیلئے دائر کی گئی ہے؟ یہ عدالت پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کرنے والی کوئی درخواست منظور نہیں کریگی، 123 ممبران پارلیمنٹ نے کہا کہ ہم استعفے دے رہے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مان رہے لیکن کہتے ہیں کہ انہیں بحال کر دیں، یہ موقف کا تضاد ہے، سماعت ملتوی کر دیتے ہیں،یہ عدالت آپکی درخواست پر نوٹس بھی جاری نہیں کریگی، اگر چاہتے ہیں تو آج ہی فیصلہ کر دیتے ہیں،پہلے پٹیشنر مطمئن کریں کہ حقیقی معنوں میں کلین ہینڈز کے ساتھ آئے ہیں، یہ بھی کہیں کہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں،یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کہیں کہ میری مرضی کے مطابق چیزیں ہوئیں تو مانیں گے، یہ کورٹ اس معاملے پر فیصلہ کرے یا ملتوی کر دے؟ پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ فی الحال اس معاملے کو ملتوی کر دیں،عدالت نے سماعت ملتوی کر دی جسے رجسٹرار آفس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کرے گا

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کی استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ استعفوں کی منظوری میں طریقہ کار پرعمل نہیں کیا گیا، یہ عدالت پارلیمنٹ کا احترام کرتی ہے، درخواست گزاروں کو پہلے اپنی نیک نیتی ثابت کرنی ہو گی،کیا یہ درخواست گزار پارٹی پالیسی کے خلاف جائیں گے؟ اس عدالت کو معلوم تو ہو کہ کیا یہ پارٹی کی پالیسی ہے؟ درخواست گزاروں کو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ پارلیمنٹ کا سیشن اٹینڈ کرتے رہے ہیں، حلقے کے عوام نے اعتماد کر کے ان لوگوں کو پارلیمنٹ میں بھیجا،یہ سیاسی تنازعے ہیں اور انکے حل کیلئے پارلیمنٹ موجود ہے کیا یہ تمام ارکان اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف جائیں گے؟ وکیل علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ اراکین پارٹی پالیسی کے خلاف نہیں ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھرتو درخواست قابل سماعت نہیں ، پارٹی تو کہتی ہے کہ ہم نے استعفے دیئے، اگر یہ پارٹی پالیسی کے ساتھ ہیں پھر تو تضاد آ جاتا ہے، یہ عدالت اسپیکر کو ڈائریکشن تو نہیں دے سکتی، ہم نے دیکھنا ہے کہ پٹیشنرز کلین ہینڈز کے ساتھ عدالت آئے یا نہیں؟ بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ پٹیشنرز اپنی پارٹی کی پالیسی کے خلاف عدالت نہیں آئے، اس شرط پر استعفے دیئے گئے تھے کہ 123 ارکان مستعفی ہوں گے، اسپیکر نے تمام استعفی منظور نہیں کیے اور صرف 11 استعفے منظور کیے،ہم کہتے ہیں کہ دیے گئے استعفے مشروط تھے،اگر تمام ارکان کے استعفے منظور نہیں ہوئے تو شرط بھی پوری نہیں ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن کے استعفے منظور نہیں ہوئے انکو پارلیمنٹ میں بیٹھنا چاہیے، جب تک استعفے منظور نہیں ہوتے انکو پارلیمنٹ میں موجود ہونا چاہیے، اراکین کی ذمہ داری ہے کہ اپنے حلقے کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کریں یہی پارٹی کے موقف میں تضاد ہے، اسی لیے نیک نیتی ثابت کرنے کا کہا،اگر دیگر ارکان پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوتے تو شاید یہ عدالت درخواست منظور کر سکتی، ایک طرف پارلیمنٹ میں بیٹھ نہیں رہے دوسری طرف نشستیں واپس چاہتے ہیں،اگر وہ پارٹی پالیسی کے خلاف نہیں آئے تو درخواست منظور نہیں ہو گی،اس عدالت نے آج تک کبھی پارلیمنٹ یا اسپیکر کو ڈائریکشن نہیں دی، یہ پارلیمنٹ کیلئے احترام ہے جو 70 سال سے کسی نے نہیں دی، اپنے سارے سیاسی تنازعے پارلیمنٹ میں حل کریں، ارکان خود مانتے ہیں کہ استعفے جینوئن تھے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ارکان اسمبلی کے استعفے جینوئن مگر مشروط تھے،ہم کہتے ہیں کہ تمام استعفے جینوئن تھے اور انہیں منظور کیا جائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان خود مانتے ہیں کہ استعفے جینوئن تھے، عدالت یہ تصور کیوں نہ کرے کہ اسپیکر پی ٹی آئی کو دوبارہ اسمبلی واپس جانے کا موقع دے رہے ہیں؟سیاسی تنازعات عدالتوں میں لانے کی بجائے پارلیمنٹ میں حل کریں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر استعفے واپس لے لیے جائیں تو پھر پی ٹی آئی اسمبلی واپسی کا سوچ سکتی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان خود مانتے ہیں کہ استعفے جینوئن تھے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ارکان اسمبلی کے استعفے جینوئن مگر مشروط تھے،ہم کہتے ہیں کہ تمام استعفے جینوئن تھے اور انہیں منظور کیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار اسپیکر کے پاس جا کر کہہ سکتے ہیں کہ ہم پارلیمنٹ میں واپس آنا چاہتے ہیں، وکیل نے کہا کہ ہم اسپیکر کے پاس تو نہیں جا سکتے، یہ عدالت نوٹیفکیشن معطل کرے پھر جا سکتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت آپکی سیاسی ڈائیلاگ کیلئے سہولت کاری تو نہیں کریگی،عدالت یہ تصور کیوں نہ کرے کہ اسپیکر پی ٹی آئی کو دوبارہ اسمبلی واپس جانے کا موقع دے رہے ہیں؟ سیاسی تنازعات عدالتوں میں لانے کی بجائے پارلیمنٹ میں حل کریں،پہلے اسمبلی جائیں اور پھر یہ درخواست لے آئیں عدالت درخواست منظور کر لے گی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہم اسمبلی واپس نہیں جا سکتے انہوں نے ہمیں نکال دیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے استعمال نہیں ہو گی، جائیں اور اپنی سیاسی لڑائی اس عدالت سے باہر لڑیں، جب استعفے دیدیے تو اسپیکر نے اپنی مرضی سے منظور کرنے ہیں،ملک میں غیریقینی صورتحال پیدا کر دی گئی ہے، معیشت کا یہ حال اسی غیریقینی صورتحال کی وجہ سے ہے،باتوں سے نہیں ہو گا اپنےعمل سے کر کے دکھائیں،اس عدالت نے اس پارلیمنٹ کو مسلسل احترام کیا ہے، جائیں اور اپنے عمل سے ثابت کریں کہ آپ پارلیمنٹ کا احترام کرتے ہیں، ایک طرف آپ کہہ رہے ہیں ہم پارلیمنٹ کو نہیں مانتے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کو مانتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی کہے کہ عدالت کو مانتا ہوں اور عدالت کو جو مرضے آئے کہتا رہے،سیاسی غیریقینی ملکی مفاد میں نہیں،یہ عدالت درخواست منظور کیوں کرے؟جب تک پارلیمنٹ کے احترام کا اظہار نہیں کرینگے درخواست منظور نہیں ہو سکتی،پارلیمنٹ مانتے بھی نہیں اور کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ میں بھیج دیں،سیاسی جماعت پارلیمنٹ میں واپس جا کر سیاسی عدم استحکام کو ختم کرے، سیاسی عدم استحکام سے ملک کا نقصان ہو رہا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی تو پی ٹی آئی کو موقع دے رہے ہیں کہ آئیں اور عوام کی خدمت کریں، بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ مجھے ایک گھنٹہ دیں میں مشاورت کر کے عدالت کو آگاہ کرتا ہوں،

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے فلور پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا،شاہ محمود قریشی نے وزارتِ عظمیٰ کے الیکشن کے دوران تقریر میں کہا تھا ہم اس ایوان سے مستعفی ہوتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ نئے الیکشن کروائے جائیں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 30 مئی کو سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو استعفوں کی تصدیق کے لیے طلب کیا تھا

  • نواز شریف سے ملاقات؟ لندن میں پرویز الہی نے امیدوں پر پانی پھیر دیا

    نواز شریف سے ملاقات؟ لندن میں پرویز الہی نے امیدوں پر پانی پھیر دیا

    وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی ایسے وقت میں لندن پہنچ گئے جب عمران خان لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں لاہور آئے ہوئے تھے۔

    لندن میں میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ نواز شریف سے میری ملاقات نہیں ہو گی لانگ مارچ کا وقت آئے گا تو جو عمران خان کہیں گے وہ کریں گے وزیرداخلہ پنجاب کے لانگ مارچ سے متعلق بیان کو نہ دیکھیں لانگ مارچ کے دوران رانا ثنا ء اللہ کو کھڑے ہونے کی جگہ نہیں ملے گی۔

    وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کا مزید کہنا تھا کہ پانچ برس بعد لندن میں اپنے بیٹے مونس کی فیملی سے ملنے آیا ہوں نوازشریف سے ملنے کا شوق نہیں سیلاب کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے پنجاب کو ایک پیسہ نہیں دیا منشیات کی روک تھام کی الگ فورس بنا رہے ہیں، جو اسکول ، کالجز میں بھی روک تھام کرے گی

    واضح رہے کہ وزیرداخلہ پنجاب ہاشم ڈوگر نے لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اگر عمران خان نے لانگ مارچ کا اعلان کیا تو پنجاب حکومت اس کا حصہ نہیں بنے گی لانگ مارچ کے شرکا کو سہولیات بھی نہیں دی جائیں گی تاہم سکیورٹی مہیا کریں گے

    وزیراعلی پنجاب اور وزیر داخلہ کے الگ الگ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ لانگ مارچ کے حوالہ سے پنجاب حکومت میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ پرویز الہی کی عدم موجودگی میں پنجاب کے اراکین نے عمران خان کو پرویز الہی کے خلاف شکایات کے انبار لگائے ہیں پی ٹی آئی کے اراکین نے عمران خان کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے کہ پرویز الہی نے اپنے بیٹے مونس الہی کو حلقے کیلئے 30 ارب اور پرنسپل سیکرٹری کو منڈی بہاوالدین کیلئے 10 ارب کی گرانٹ کا اعلان کیا ہے جبکہ ہمارے حلقوں کیلئے کوئی فنڈز نہیں ہیں ایسے لگتا ہے پرویز الہی پنجاب میں ق لیگ کو مضبوط اور پی ٹی آئی کو کمزور کر رہے ہیں

  • لانگ مارچ کسی صورت اسلام آباد میں داخل نہ ہونے دینگے:  پی ڈی ایم کا اعلان

    لانگ مارچ کسی صورت اسلام آباد میں داخل نہ ہونے دینگے: پی ڈی ایم کا اعلان

    اسلام آباد: پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ اور حکومتی اتحادیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ عمران خان کے ممکنہ لانگ مارچ کو اسلام آباد میں کسی صورت داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    وزیراعظم ہاؤس میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) اور حکومتی اتحادیوں کا اہم اجلاس ہوا، جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف کمر کس لی گئی۔

    ریلوے کو تاریخ کا سب سے بڑا نقصان:مگرخواجہ سعد رفیق کوکوئی پرواہ ہی نہیں

    ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم اور اتحادیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ عمران خان کے ممکنہ لانگ مارچ کو اسلام آباد میں کسی صورت داخل نہ ہونے دیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے پی ڈی ایم اور اتحادی حکومت کے ممبران پر مشتمل 2 کمیٹیاں تشکیل دیدیں۔ کمیٹی پارٹی ترجمانوں اور دوسری قانونی ماہرین پر مشتمل ہوگی۔ ترجمانوں کی کمیٹی میں ہر جماعت سے ایک ایک رکن شامل کیا جائیگا، ترجمانوں کی کمیٹی عمران خان کے بیانیہ کے خلاف اپنا بیانیہ عوام تک پہنچانے کی ذمہ دار ہوگی، قانونی کمیٹی اتحادی اور پی ڈی ایم جماعتوں کے درمیان قانونی امور پر لائحہ عمل کی ذمہ دار ہو گی۔

    ’عمران خان کوسخت جواب دینےپرباتھ روم میں بندکیا گیا:بشیرمیمن نےتصدیق کردی

    ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے ملکی داخلی صورت حال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے لانگ مارچ کے حوالے سے ہماری تیاری مکمل ہے۔

    ذرائع کے مطابق سائفر، آڈیو لیکس سمیت دیگر امور پر وفاقی وزیر داخلہ نے بریفنگ دی، اور کسانوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور مطالبات کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

    ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملکی معیشت، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ڈالرز کے مقابلے میں روپے کی قدر سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی، پی ڈی ایم اور حکومتی اتحادیوں نے وزیر خزانہ کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات میں کمی، ڈالرز کے نیچے آنے سے حکومتی ساکھ بہتر ہوئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کی جانب سے سیلاب کی حالیہ صورتحال پر بریفنگ دی گئی جبکہ وفاقی و سندھ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

    اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی صحت سے متعلق بھی ارکان کو آگاہ کیا گیا، وزیراعظم نے وزیر خارجہ سے رابطے بارے بھی آگاہ کیا، سابق صدر کی صحت و سلامتی کے لئے بھی دعا کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس اور ضمنی انتخابات کے حوالے سے بھی حکمت عملی پر گفتگو کی گئی، اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے بھی بلوچستان، خیبرپختونخوا کی صورتحال بارے بریفنگ دی۔

  • مسلح افواج نے خود کو سیاست سے دور کرلیا، آرمی چیف

    مسلح افواج نے خود کو سیاست سے دور کرلیا، آرمی چیف

    مسلح افواج نے خود کو سیاست سے دور کرلیا، آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ افواج پاکستان سیاست سے دور ہیں اور دور ہی رہیں گی، مسلح افواج اسی طرح رہنا چاہتی ہیں

    امریکا کے دورے کے دوران واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں ظہرانے کی تقریب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شرکت کی، اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو بحال کرنا معاشرے کے ہر فرد کی ترجیح ہونی چاہیے، مضبوط معیشت کے بغیر قوم اپنے ٹارگٹ حاصل نہیں کرسکے گی اور مضبوط معیشت کے بغیر سفارتکار ی نہیں ہوسکتی

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ امریکا کے دورے پر ہیں جہاں ان کی جوبائیڈن انتظامیہ کے سینئر حکام سے ملاقاتیں جاری ہیں ،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کی امریکا کی قومی سلامتی کے مشیر جیکب سلیوان اور نائب وزیرخارجہ وینڈی روتھ شرمین سے بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دوسری تین سالہ مدت پوری ہونے کے حوالہ سے کہا کہ وہ ریٹائرڈ ہو جائیںگے،انہوں نے سفارتخانے میں خطاب بھی کیا اور مہمانوں سے غیر رسمی بات چیت بھی کی،

    علاوہ ازیں مقامی میڈیا نے آرمی چیف کے ہمراہ ڈی جی آئی، سی جی ایس، اور ڈی جی ایم او کے دورہ امریکہ کی غلط خبر دی ہے

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • پارلیمان بھی آئین اور شریعت کے تابع،احتساب اسلام کا بنیادی اصول ہے،سپریم کورٹ

    پارلیمان بھی آئین اور شریعت کے تابع،احتساب اسلام کا بنیادی اصول ہے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بنچ کا حصہ ہیں عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ نے کسی ختم کیے گئے قانون کو بحال کرنے کا کبھی حکم دیا ہے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ 1990 میں واپس لیا گیا قانون بحال کرنے کا حکم دے چکی ہے،عوامی عہدیدار ہونا ایک مقدس ذمہ داری ہوتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمان بھی آئین اور شریعت کے تابع ہوتی ہے،احتساب اسلام کا بنیادی اصول ہے،

    نیب نے اٹارنی جنرل کے دلائل اپنانے کا تحریری موقف عدالت میں جمع کرا دیا ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پلی بارگین سے متعلق قانون میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، پلی بارگین کی قسط نہ دینے والے کو سہولت دی گئی ہے،پہلے پلی بارگین کی رقم نہ دینے والے کیخلاف کارروائی ہوتی تھی،ترمیم کے بعد قسط نہ دینے والی کی پلی بارگین ختم ہو جائے گی، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کا کیس 50 کروڑ روپےسے کم ہو تو ازخود کیس ختم ہوجائے گا،وکیل نے کہا کہ ترمیم کے تحت ملزم بری ہوکر جمع کرائی گئی پلی بارگین رقم واپس مانگ سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح تو ریاست کو اربوں روپے کی ادائیگی کرنا پڑے گی، گرفتاری کے دوران پلی بارگین کرنے والا دباو ثابت بھی کر سکتا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا دباو ڈال کر ملزم سے پیسے لینا درست ہے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پلی بارگین احتساب عدالت کی منظوری سے ہوتی ہے، اگر ملزم پر دبا و ہو تو عدالت کو آگاہ کر سکتا ہے، منتخب نمائندے حلقے میں کام نہ ہونے پر عدالت ہی آسکتے ہیں اسمبلی نہیں جاتے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عمران خان پر بھی عوام نے اعتماد کرکے اسمبلی بھیجا تھا، عمران خان حلقے کے عوام کی مرضی کے بغیر اسمبلی کیسے اور کیوں چھوڑ آئے؟ نیب ترامیم پر تمام سوالات عمران خان اسمبلی میں بھی اٹھا سکتے تھے، وکیل نے کہا کہ اسمبلی میں حکومت اکثریت سے قانون منظور کروا لیتی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ نے اہم نکات بتائے ہیں، بنیادی انسانی حقوق اور ملزمان کی جانب سے قانون سازی اہم سوالات ہیں،کیس کی سماعت کل دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • توشہ خانہ نااہلی کیس، الیکشن کمیشن متحرک،عمران خان مشکل میں پھنس گئے

    توشہ خانہ نااہلی کیس، الیکشن کمیشن متحرک،عمران خان مشکل میں پھنس گئے

    الیکشن کمیشن میں عمران خان کا توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف مالی گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے معاملہ ،الیکشن کمیشن کا بڑا اقدام سامنے آ گیا، الیکشن کمیشن نے سٹیٹ بنک سے عمران کے بینک اکاوئنٹس کی تفصیلات مانگ لیں

    سٹیٹ بینک سے عمران خان کے بنک اکاوئنٹس کی تفصیلات کے لیےخط لکھ دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سٹیٹ بینک عمران خان کے بنک اکاوئنٹس کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو دے الیکشن کمیشن سٹیٹ بینک کی طرف سے تفصیلات ملنے کے بعد جائزہ لے گا الیکشن کمیشن سٹیٹ بینک سے بنک اکاوئنٹس کا جائزہ لینے کے بعد محفوظ فیصلہ سنائے گا

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی نااہلی سے متعلق درخواست پرالیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے، آخری سماعت پرعمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ چار سال گزر گئے اب الیکشن کمیشن یہ معاملہ نہیں دیکھ سکتا،سیاسی بدنیتی کی بنیاد پر یہ کیس دائر کیا گیا،اسپیکر قومی اسمبلی نے بغیر کسی تحقیقات کے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا،توشہ خانہ قوانین کے مطابق 30 ہزار سے کم قیمت کے تحائف بغیر ادائیگی کے لیے جاسکتے ہیں،عمران خان نے توشہ خانہ تحائف خرید کر ادائیگی بھی کی ، ممبر شاہ محمد جتوئی نے کہا کہ ہمارے سامنے کیس یہ ہے کہ توشہ خانہ تحائف اثاثوں میں ظاہر نہیں کیے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 2018 میں چار تحائف کی خریدے گئے،31 جون سے قبل تحائف بیچ دیے گئے اس لیے ان کو اثاثوں میں ظاہر کرنا ضروری نہیں تھا، ممبر اکرام اللہ خان نے کہا کہ توشہ خانہ میں جو رقم دیکر تحائف خریدے گئے اس کو کہاں پر ظاہر کیا گیا،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تحائف خریدنے کے ذرائع بتانے کے پابند نہیں ہیں، الیکشن کمیشن،توشہ خانہ کیس ،اسپیکر نے صرف دو سال 2018 اور 2019 کے تحائف ظاہر نہ کرنے کا الزام لگایا ہے، اگر 30 جون تک تحائف موجود ہیں تو وہ اور فروخت کیے تو پیسے ظاہر کرنے لازمی ہیں،ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ توشہ خانہ کو دی گئی رقم کہاں سے آئی یہ بتانا بھی ضروری ہے،علی ظفر نے کہا کہ ہر رکن الیکشن کمیشن کو اپنے اثاثوں اور آمدن کے گوشوارے جمع کراتا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ جہاں شک ہو وہاں الیکشن کمیشن سکروٹنی بھی کرتا ہے،ایسا نہیں ہوتا کہ گوشوارے آئیں اور ہم الماری میں رکھ دیں،اس مرتبہ الیکشن کمیشن نے گوشواروں کا فارم مزید بہتر کیا ہے،

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    عمران خان کے خلاف ن لیگ نے الیکشن کمیشن میں نااہلی کا ریفرنس دائر کیا تھا، ریفرنس میں استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کوآرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا جائے،ن لیگی رہنما محسن شاہنواز رانجھا نےعمران خان کی نااہلی کے لیے ریفرنس جمع کرایا گیا تھا،

    رہنما مسلم لیگ ن محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن سے کچھ دستاویزات توشہ خانہ سے متعلق مانگی گئیں،محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کیبنٹ کے ذریعے دستاویز دینے سے روک دیا،عمران خان نے تحائف کی رپورٹ خفیہ رکھی، میاں گل نے عمران خان کو دیئے گئے تحفوں کی تفصیلات سامنے لانے کو کہا،عمران نیازی کے گوشواروں کی تفصیلات کیلئے ہم نے اسپیکر سے درخواست کی،الیکشن کمیشن سے عمران خان کا ہم نے 2018 اور 19 کاگوشوارہ لیا،جب رپورٹ نکلوائی تو معلوم ہوا کہ توشہ خانہ میں کتنا گھپلا ہوا ، 10 کروڑ سے زائد مالیت کی گھڑیاں 2کروڑ میں توشہ خانہ سے لی گئیں،کیبنٹ ڈویژن کو توشہ خانہ کی انفارمیشن چھپانے کیلئے استعمال کیا گیا،عمران خان نے قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی،ہم ان کا اصل چہرہ عوام کے سامنے لائیں گے،عمران خان تم نے پاکستانی قوم سے اتنا جھوٹ بولاہے ، کب تک خیر مناؤ گے،عمران خان تم نہ صادق ہونہ امین ہو،الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے گوشواروں میں توشہ خانہ تحائف کا کوئی ذکر نہیں،گوشواروں میں بہت سے تحائف ظاہر نہیں کئے گئے اور حلف نامہ دیا کے سب ظاہر ہے عمران خان جھوٹا ہونے کے علاوہ ٹیکس چور بھی ثابت ہو گئے،عمران خان نے ٹیکس چوری کی، جھوٹا حلف نامہ دیا ،اختیارات کا غلط استعمال کیا،

  • لال مسجد کے باہر روڈ کی بندش، عدالت نے ڈی سی کو حکم دے دیا

    لال مسجد کے باہر روڈ کی بندش، عدالت نے ڈی سی کو حکم دے دیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے آبپارہ میلوڈی روڈ فوری کھولنے کا حکم دے دیا

    وفاقی دارالحکومت میں سڑکوں کی بندش کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے آبپارہ میلوڈی روڈ فوری کھولنے کا حکم دے دیا ،ڈپٹی کمشنر عرفان نواز عدالت کے سامنے پیش ہوئے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ لال مسجد کے باہر روڈ بھی بند ہے ، ڈی سی نے عدالت میں کہا کہ مولانا صاحب کا مدرسہ ہے ان کے شاگرد اکثر احتجاج کے طور پر سڑک بلاک کردیتے ہیں ،جسٹس محسن اختر کیانی نے ڈی سی اسلام آباد سے استفسار کیا کہ تو پھر آپ نے کیا کیا ہے ؟ جس پر ڈی سی اسلام آباد نے جواب دیا کہ ہم ان سے مذاکرات کرتے ہیں ، جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو پھر انڈیا افغانستان بھارت اسرائیل سے بھی مذاکرات کر لیں وہ معاملہ بھی حل ہو جائے ،عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ جائیں اور جا کر لال مسجد کے باہر کی روڈ کھولیں ،

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

    تین سال سے ہر جمعہ کو مفتی عزیز الرحمان میرے ساتھ…..متاثرہ طالب علم مزید کتنی ویڈیوز سامنے لے آیا؟

    درخواست گزار وکیل نے کہا کہ آبپارہ والی سائیڈ بھی رستہ بند ہے اس کا نام نہیں لینا چاہتا ، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہاں تو کوئی رستہ بند نہیں آپ پنڈی سے ہیں اس لیے معلوم نہیں ، اچھے وقتوں میں وہ رستہ اسی عدالت کے حکم پر کھل گیا تھا ، اپنے حقوق کے لیے پبلک اپنے نمائندوں کے پاس جائے . درخواست گزار نے کہا کہ قانون سب کے لیے ہو صرف چند لوگوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننا چاہیے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تو چند افراد کے مطابق ہی چل رہا ہے گراؤنڈ ریئلٹی یہی ہے ، عدلیہ بحال ہو کے بھی وکیلوں کے ہاتھوں قید ہے ، سڑکوں کی بندش سے متعلق حکم جاری کریں گے ،