باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سیلاب نے تباہی مچائی ، ابھی بھی کئی علاقوں میں سیلاب متاثرین کو امداد کی ضرورت ہے،پانی ختم ہوا تو بیماریوں نے متاثرین کو آ گھیرا، ادویات،راش، صاف پانی کی قلت کی وجہ سے سیلاب متاثرین بیمار ہونے لگے
قمبر شہدادکوٹ میں سیلابی صورتحال برقرار ہے متاثرین نے انتظامیہ سے امدادکی اپیل کی ہے ،وارہ،گاجی کھاوڑ اور قبو سعید خان میں کئی کئی فٹ جمع ہے، ایف پی بند اور حمل جھیل میں سیلابی پانی میں کمی ہونا شروع ہو گئی ہے، متاثرین کھلے آسمان تلے بے یارو مدد گار کسی امداد کے منتظر ہیں
ملک بھرمیں بارشوں اور سیلاب سے 19لاکھ 21ہزار 622 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت متاثرین میں 24ار ب 94کروڑ 3لاکھ روپے تقسیم کی جا چکی ہے بی آئی ایس پی کے تحت 10 لاکھ سے زائد سیلاب متاثرہ خاندانوں کو 25 ارب سے زائد رقم تقسیم ہوئی
محکمہ صحت سندھ کے اعدادوشمار کے مطابق صوبے کے سیلاب سے متاثر علاقوں میں سانس اور دمے کی شکایات کے ساتھ ساتھ جلد کی بیماریوں میں بے پناہ اضافہ دیکھا گیا ہے بلوچستان میں بھی سیلاب متاثرہ علاقوں میں جلدی امراض، خارش اور الرجی کے مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے بچوں میں ان بیماریوں کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ گندے سیلابی پانی میں کھیلنا ہے۔ سیلاب کے بعد پھیلنے والے زیادہ تر جلدی امراض متعدی ہیں
سندھ حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کی امداد جاری ہے، حیدرآباد کے علاقے ٹنڈو حیدر کیمپ سے سیلاب متاثرین کی اپنے گھروں کی جانب روانگی ہوئی ہے، ٹنڈو حیدر کے علاقے کے سرکاری اسکولوں میں رہنے والے سیلاب متاثرین کو پانی کی نکاس ہونے کے بعد متاثرین کو انکے گھروں میں واپس بھیجا گیا۔ اس کے علاوہ سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کی جانب سے متاثرین کو 15 دنوں کا راشن بھی دیا گیا۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ شرجیل میمن کے مشکور ہیں انہوں نے ہماری مدد کی
این ڈی ایم اے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سندھ میں 32 اور بلوچستان میں 5 افراد جاں بحق ہوئے بارشوں اور سيلاب سے سندھ میں سب سے زیادہ 678 اموات ريکارڈ ہوئیں بلوچستان میں 299، خيبرپختونخوا میں 306 ، پنجاب میں 191، گلگت بلتستان میں 22 جبکہ آزاد کشمیر میں 48 افراد زندگى کى بازى ہار گئے، جاں بحق ہونے والوں میں 678 مرد 315 خواتين اور 552 بچے شامل ہیں سیلاب سے مجموعی طور پر ملک بھر میں 19 لاکھ 21 ہزار سے زائد مکانات تباہ ہوئے جبکہ 12 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے
آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ کور کمانڈر پشاور لیفٹننٹ جنرل حسن اظہر حیات نے سوات کا دورہ کیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کور کمانڈ رپشاور لیفٹننٹ جنرل حسن اظہر حیات نے سوات کا دورہ کر کے قبائلی رہنماؤں مالاکنڈ بنیر شانگلہ مردان کے عمائدین سے ملاقات کی۔
کور کمانڈر نے اس موقعے پر فورسز کی بھرپور اور غیر متزلزل حمایت پر عمائدین کی تعریف کی۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آپریشنز کے بعد سول انتظامیہ کو امور کی پرامن منتقلی یقینی بنائی گئی۔
کور کمانڈر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ بالخصوص سوات آپریشنز کے دوران سیکیورٹی فورسز کی بھرپور اور غیر متزلزل حمایت پر مقامی عمائدین کی تعریف کی۔ سوات میں دہشت گردوں کے خلاف تیز رفتار اور بے مثال کامیابیاں صرف اس لیے ممکن ہوئیں کہ لوگ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر لڑے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپریشنز کی کامیاب تکمیل اور معمول کی واپسی کے بعد سول انتظامیہ اور ایل ای اے میں پرامن منتقلی کو یقینی بنایا گیا۔ فوج اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی کہ کوئی بھی شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لے جس سے مقامی آبادی کی روزی روٹی کے لیے ضروری امن اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہوں۔ قبائلی عمائدین نے مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ وہ سیکورٹی فورسز اور دیگر ایل ای اے کی مکمل حمایت کریں گے۔
آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاک فوج کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے گی۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کیسے پاکستانی قوم ستر سال سے ایک ایسے مسیحہ کے انتظار میں ترس رہی ہے جو انہیں غلامی کے اندھیروں، غربت اور جہالت سے نکال سکے، پاکستان کو ایک ایسے راستے پر گامزن کر دے جس پر چل کر وہ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں شامل ہو جائے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ستر سالوں سے ان خوابوں کے نام پر ہر ایک لیڈر نے مسیحہ کے روپ میں بہروپ کا کردار ادا کیا اور رنگ برنگے خواب بیچ کر اس قوم کے خوابوں کا سودا کیا۔ اور عمران خان ان میں سب سے بازی لے گئے ہیں، ان کے سیاسی بیانیے ہالی وڈ کی فلموں کی طرح مارکیٹ میں بک رہے ہیں۔ ان کے ماننے والے اپنی ہر چیز سے اپنی آنکھیں اور کان بند کر چکے ہیں۔ لیکن عمران خان اپنی جنگ کیسے لڑ رہے ہیں۔ کیسے قوم کو چونا لگا رہے ہیں۔ ان کے یوٹرن کیسے ان کی جنگ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ یوٹرن غلطی ہیں یا سوچی سمجھی پلاننگ۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ برطانوی فلاسفرBertrand Russellنے کیا خوب کہاتھا۔۔دنیامیں سب سے بڑی مصیبت یہ ہےکہ بے و قوف پُر یقین اور عقلمند شک وشبہ میں گھرے رہتے ہے اور پاکستان کے حالات دیکھ کر یہ بات درست ثابت ہوتی نظر آتی ہے۔سیاسی عدم استحکام،معاشی بدحالی،اور جنگی ادوار میں قوم بے یقینی کی کیفیت میں چلی جاتی ہے خاص طو ر پر برے حالات میں جب جوش و جذبہ زیادہ ہوتا ہے اور آپکا یقین بے یقینی میں بدل جاےاور خیالات میں پولرائزیشن پائی جاتی ہوتب ایک لیڈر کے اندر یہ خصوصیات ہونی چاہیے کہ وہ credibilityکی طر ف قوم کو لیکر جا ےٴ۔ ان سے جو وعدہ کرے اسے پورا کرے۔بین الاقوامی تعلقات میں ایک ملک صرف اس وقت یوٹرن لےسکتاہے جب وہ ملک کے بہترین مفاد میں ہو،اگر ہم عمران خان کی سیاسی زندگی کی طرف ڈالیں توہمیں اسکی ہر سیاسی بصیرت میں یو ٹرن نظر آتے ہیں۔الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوے کہا کہ ایک ایڈیٹ ہی یوٹرن نہیں لے سکتا
پاکستان کے موجودہ سیاسی منظر میں یو ٹرن کی افادیت بڑھ گئی ہے۔مختلف سیاسی مبصر اور سیاسی ورکر اپنے طور پر اسکی اہمیت وانکار پر بحث کرتے نظر آرہے ہیں۔ لیکن عمران خان کو یو ٹرن کا ماسٹر کہا جا سکتا ہے۔ہم قائداعظم کے فرمان کو سامنے رکھتے ہیں جس میں آپ نے فرمایاکہ
فیصلہ کر نے سے پہلےسو مرتبہ سوچو لیکن جب فیصلہ کر لو تو اس کے ساتھ ہو جاؤ
لیکن عمران خان کے کیس سٹڈی میں ہمیں یہ پتا چلتا ہےکہ یہ شخص ایک نفسیاتی جنگ کرتا ہے کہ وہ پہلے پوری قوت کے ساتھ اپنے مخالفین پر اٹیک کر تا ہے جب مخالف فریق ڈھیرہونے کی بجاےڈٹ جا تا ہےتو پھر وہ یو ٹرن لے لیتا ہے۔ عمران خان نے
اپنے ایک بیان میں کہا تھاکہ
یو ٹرن لینا ایک لیڈر کی علامت ہے۔
ماضی میں ڈکٹیٹر مشرف کو ووٹ دینے والا اسکا مخالف ہو گیا۔بےنظیر اور نواز شریف کی حمایت کی وڈیوآج بھی یو ٹیوب پر مو جود ہیں۔
انڈیا میں ایک پروگرام
آپ کی عدالت
میں یہاں تک بول دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیرپاکستان میں حکومت کوئی نہیں بنا سکتا۔2018 کے الیکشن میں ملک کے مقتدر عسکری حلقوں اور اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملانے کے بعدعمران خان ملک کے بائیسویںوزیراعظم کے طور پر سامنے آئے ٴ۔ اور عمران خان اپنی سیاسی قلابازیوں کی بنا پر یو ٹرن کے نام سے مشہور ہو گئے۔الیکشن جیتنے سے پہلے آپ نے قوم سے وعدہ کیا تھا سابقہ حکمران سیر سپاٹے کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں اس لیے پہلے تین ماہ غیر ملکی دورہ نہیں کرونگا۔پھر جب اقتدار میں آئے تو پہلے تین ماہ میں سعودی عرب کے دو ،متحدہ عرب اور چین کاایک ایک دورہ کیا۔ اور یہاں پر ثابت ہوا کہ یہ نعرے صرف الیکشن Stuntتھے۔الیکشن میں کامیابی کے بعد یوٹرن لے کرآپ نے کہا کہ ا گر انڈیا ایک قدم بڑھاےٴ گا تو پاکستان دو قدم بڑھاےٴگا ، لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ عمران خان نے اپنے سیاسی حریفوں پر بھارت کارڈ خوب کھیلا۔ الیکشن میں لوگوں کو چالیس لاکھ گھر بنا کر دینے والے نے تجاوزات کے نام پر لو گو ں کے گھر گر ادیئے ٴ۔نواز حکومت کو بھیک مانگنے والہ پیالہ لے کر آئی ایم ایف کا طعنہ دینے والے نے کہا تھا کہ خودکشی کر لونگا لیکن آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤگا لیکن یو ٹرن لیا اور ایسا لیٹے کہ تاریخ میں کوئی نہیں لیٹا ہو گا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کوئی بیرونی قرضہ نہیں لے گا،قیام پاکستان سے لیکر 2018 تک بیرونی قرضہ 25 ہزار ارب تھا اکیلے خان نے پونے چار سال میں اتنا ہی قرضہ لے کیا جو ستر سال میں لیا گیا تھا1951 کے بعد عمران خان کے دور حکو مت میں گروتھ ریٹ منفی ہو گئی۔ملک کی اعلی عدلیہ پر آثر انداز ہونے کی کو شش کی۔سیاست ہی وہ ماں ہے جو اقتصادیات اور امور خارجہ جیسے انڈے دیتی ہے ۔خارجہ پالیسی میں پاکستان کٹ کر رہ گیا۔سی پیک سست روی کا شکارہو گیا۔نیب اور ایف آئی اے کی مدد سے سیاسی مخالفین پر مقدمات بناےٴ،ڈرایا دھمکایا،اور انکو گرفتار کر وا یا۔ہیو من رائٹس کی خلاف ورزیاں کیں۔ بیشمار لوگوں کو پابند سلاسل کیا گیا۔تین نیوز چینل پر پابندیاں لگا دی،بےشمار جرنلسٹ کو انکے پروگراموں سے ہٹادیا گیا،کچھ کو گرفتار کیا گیا۔نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسہ دینے والے نے کرونا کے بعد چالیس لاکھ لوگوں کو بےروزگار کر دیا۔ مشہور فلاسفر barrel نے کہا تھا کہجو شخض صحیح معنوںمیں مذہب کا پا بندہو تا ہے کبھی اعصابی اور ذہنی امراض کا شکار نہیں ہوتا۔اپنی انا،خودغرضی کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے پاکستان کے ہر ادارے پر اپنی گرفت کر ناشروع کر دی ۔ ہم تیری ہی عبا دت کر تے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں کہنے والے نےاور ریاست مدینہ بنانے والے نے پوری ریاست کو یرغمال کر لیا۔تب پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے ملکر اس کے خلاف ووٹ آف نو کانفیڈینس لانے کافیصلہ کیاپاکستان کی تاریخ میں دووزیراعظموں بے نظیر اور شوکت عزیز کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی لیکن وہ بچ گئے۔عمران خان کے خلاف آنےوالی تحریک کامیابی سے ہمکنارہوئی اور اسے وزارت اعظمی کے منصب سےہٹنا پڑا۔جھوٹ کو اس انداز سے بولو کہ وہ سچ لگے ۔اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں کہتا تھاکہ میرے علاوہ کوئیٴ چوا ئس نہیں ،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اور اگر مجھے نکالا گیا تو میں اور خطرناک ہو جاؤں گا۔ صرف اللہ سے مدد کا دعوی کرنے والا ایمپائر کی منتوں ترلوں پر آگیا، جسے عوامی حمایت سے زیادہ اداروں کی سپورٹ درکار ہے۔ اس کے قول اور فعل میں فرق پوری قوم نے دیکھا۔ 15th century کے مشہور جج سیاستدانEdward Coke
نے کہا تھا کہ جب تک قانون بادشاہ سے زیادہ مضبوط نہیں ہوتااس وقت تک بر طانوی معاشرے کو مہذب قرار نہیں دے سکتے۔ لیکن یہاں پاکستان میں گنگا ہی الٹی بہہ رہی ہے۔ پاکستان کے واحد نام نہاد صادق اور امین لیڈر عمران خان فارن فنڈنگ لیتے رہے، قانون کی دھجیاں اڑاتے رہے۔ کیس ہوا تو150سماعتیں ہویں 100
مرتبہ کیس التوا کا شکارہوا۔3 الیکشن کمشنروں نے فنڈنگ کیس کا کھوج لگایا۔ اور جب خدا خدا کر کے
الیکشن کمیشن کی رپورٹ آئی تو الزام لگا کہ تحریک انصاف اسکی قیادت بشمول عمران خان نے جانتے بوجھتے ہوےممنوعہ فنڈنگ وصول کی۔اکاؤنٹس میں گڑبڑکیں،جھوٹے حلف نامے جمع کراے، لیکن مجال ہے یہاں کوئی قانون کی بالادستی کی بات کرے یہاں دوسے غلط کاموں سے موازنہ شروع ہو جاتا ہے کہ ان کا کیس بھی کھولو اور ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کیسز کا فیصلہ بھی کرو، ایک جرم کی سز ا دوسرے کسی جرم کی سزا کے فیصلے سے کیسے منسلک ہو سکتی ہے۔ لیکن یہاں اصول وہی ہے جس کا انہیں فائدہ ہو۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ توشہ خانہ کیس کو لے لیں۔ اس سے پہلے بھی توشہ خانہ کے تحفے سابقہ وزرائے اعظموں نے لیے لیکن منڈیوں میں انہیں نیلام نہیں کیا گیا۔ یہ وزیراعظم تھے یا بیوپاری۔ ظاہری سی بات ہے جس طرح کے لوگ ارد گرد موجود ہوں گے حرکتیں بھی ویسی ہی ہوں گی۔لسبیلہ کے واقع پر فوج اور سول اداروں نے پی ٹی آئی کے کئی ٹویٹر اور وٹس ایپ گروپ کا کھوج لگایا۔عمران خان نے حب الو طنی اور جھوٹے ناٹک سے اپنے حامیوں کے جذبات بھڑکائے۔اپنے سیاسی مخالفین کو پہلے ہی وہ چور اور غدار سمجھتے ہیں لیکن اپنے دور اقتدار میں ایک دہیلہ بھی وصول نہ کر پائے۔حا ل ہی میں عمران خان پر تو ہین عدالت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے ان پر الزام ہے کہ انہوں نےمعزز عدلیہ کی ایک خاتون جج کو دھمکایا ہے اور پولیس افسران کے خلاف نا زیبا زبان استعمال کی ہے۔22 ستمبرکوان پر فرد جرم لگنی ہے۔اس سے پہلے عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کو ایک نجی چینل پر فوج کے خلاف بغاوت کے جرم میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہو رہا ہے۔سیا سی مبصر دعوی کر رہے ہیں کہ اگرکوئ بیرونی مداخلت ہوئ تھی تو مارچ میں جب آپ وز یر اعظم تھے تو آئی ایم ایف نے ایک بلین ڈالر اور ورلڈ بینک نے 529 ملین کا قرضہ کیوں جاری کیا تھا؟اگر رجیم چینج کا مسلہ تھا تو خود OIC کا نفرنس میں جو پاکستان میں سات مارچ کو منعقد ہوئ تھی۔اس میں یو ایس اےکی ٹاپ آفیشلز کو کیوں بلا یا گیا تھا؟خیبر پختو نخواہ میں آپ کے وزیراعلی نے کیوں ریڈ کارپٹ ما حول فراہم کیا اور امریکہ سے 36 گاڑیوں کا تحفہ کیوں وصول کیا؟ امریکہ میں ایک فرم کی مدد حاصل کی گی جو پی ٹی ای اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو بہتر کرنے میں اپنا کر دار ادا کر سکے یہ
کیا ہم غلام ہے کہ منافی بات نہیں ہے؟ابھی حال ہی میں آپ نے فرمایا کہنیو ٹر لز نے اپنا فیصلہ نہ بدلہ تو فوج اور قوم کے درمیان دوریاں بڑھ جا ہیں گی دراصل عمران خان نے ایک نفسیاتی جنگ شروع کر دی ہے ۔ اور وہ جنگ جو وہ ہارتے دیکھیں گے اس پر یو ٹرن یقینی ہے اور قوم کو وہ یوٹرن سے نئی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی مہارت رکھتے ہیں۔ دیکھتے ہیں ان کی منافقت اور جھوٹ کے سحر سے قوم کب نکلتی ہے لیکن ہم اپنی بات کرتے رہیں گے کیونکہ
مجھے ہے حکم اذاں
لاالہ الااللہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کوئی ڈیل نہیں ہو رہی، عارف علوی کی کوئی اہمیت نہیں، چودھریوں کے پاس ہے کیا کہ وہ صلح کروائیں گے، ڈیل کی باتیں، پی ٹی آئی یا انکے حامی کر رہے ہیں،حکومتی کیمپ سے ڈیل کی کوئی بات نہیں ہو رہی، ہر طرح کا منت ترلا عمران خان نے کر لیا ،چار بندے اس نے چھوڑے ہوئے لیکن اس پر اعتبار کون کرے گا، آج کچھ کہے گا کل کچھ اور پھر یوٹرن لے لے گا اور پھر کہے گا کہ یوٹرن لینا بڑے بندے کا کام ہے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمٹ کسی کی مدد نہیں کر رہی، یہ عمران خان کو منظور نہیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جب یہ واقعہ ہوا تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس باہر ہوئے تھے، اسکے بعد وہ آئے، از خود نوٹس پہلے ہوا، دوسری بات یہ کہ میں ان سے ایگری کرتا ہوں یہ بیڈ کنٹیںٹ ہے، دہشت گردی نہیں ہے، عمران خان کے ڈیفنس میں یہ بات ماننے کو تیار ہوں، آگے کیا ہوتا ہے،میں عدالتوں کے اوپر کمنٹس نہیں کرتا،اسکی وجہ کیا ہے کہ عدالت میں ہر طرح کی آبزرویشن آتی ہیں اور انکا سیاق و سباق ہوتا ہے، ہمیں سیاق و سباق پتہ ہوتا ،ایک بات کو لے بات کر لیتے ہیں، عدالت کا تحریری فیصلہ وہ ہمارے لئے ہوتا ہے جس پر بات کی جا سکتی ہے، باقی کمنٹس نہیں
مبشر لقمان نے اینکر مہوش تبسم کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات کروا لیں، چار جگہوں پر پی ٹی آئی کی حکومت ہے، پنجاب کے پی کے، گلگت، آزاد کشمیر، ان چار جگہوں پر کروا لیں الیکشن، یہ چاہتے ہیں کہ ہر طرف میری حکومت ہو، جب پنجاب میں الیکشن کروائیں گے اور کے پی میں تو جنرل الیکشن بھی پھر ہو جائیں گے، مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر عمران خان کہتے ہیں اسمبلی توڑو تو چوھدری پرویز الہیٰ کے ساتھ اختلاف شروع ہو جائیں گے کیونکہ پرویز الہیٰ 28 دن کے لئے وزیراعلیٰ نہیں بن کر آئے تھے،
راولپنڈی :سندھ کے مختلف علاقوں میں پاک فوج کا ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سندھ کے مختلف علاقوں میں پاک آرمی کی جانب سے ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ٹنڈوالہیار، عمر کوٹ، سانگھڑ، میرپور خاص میں پاک فوج کے جوان سیلاب زدگان کے لیے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ خیرپور ، نوشہرو فیروز، قمبر شہداد کوٹ میں بھی سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مدد کیلئے پاک فوج سر فہرست ہیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فوج کے جوانوں کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں راشن و دیگر اشیاء ضروریہ کی تقسیم بھی جاری ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق راشن ، کپڑے اور بستروں کے علاوہ آرمی کے جوانوں کی جانب سے سیلاب زدگان کو میڈیکل کی مفت سہولیات بھی فراھم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف اور چینی صدر شی جن پنگ میں ملاقات ہوئی ہے
ملاقات میں دونوں رہنماوں نے دوطرفہ تعلقات کے پہلووں جائزہ لیا ،وزیراعظم شہباز شریف نے چینی کمیونسٹ پارٹی کی 20 ویں سی پی سی قومی کانگریس کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکیا ،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہماری آل ویدر اسٹراٹیجک کوآپریٹو پارٹنرشپ اور آہنی بھائی چارے نے وقت کی کسوٹی کا مقابلہ کیا وزیراعظم شہبازشریف نے دوطرفہ تعلقات کو مزید بلندیوں تک لے جانے کے ذاتی عزم کا اعادہ کیا ملاقات میں دونوں رہنماوں نے باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا ،وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد وزیراعظم شہبازشریف کی چینی صدر سے یہ پہلی ملاقات تھی
وزیراعظم نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی فراخدلانہ اور بروقت مدد پر صدر شی جن پنگ، چینی حکومت اور چین کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین بھر کے تمام حلقوں کی طرف سے ہمدردی اور حمایت کے اظہار پر مشکور ہے اور یہ ہماری منفرد دوستی کا حقیقی عکاس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم "چین پاکستان دوستی کے لیے دیرینہ عزم” رکھنے والے رہنما ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم نے اپنے مشترکہ ویژن اور باہمی اقدار کو علاقائی تعاون اور یکجہتی کے ٹھوس عملی منصوبوں میں آگے بڑھانے کے لیے ایک بہترین فورم فراہم کیا۔ چین پاکستان پائیدار دوطرفہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے صدر شی کے ساتھ 5 ستمبر 2022 کو صوبہ سیچوان میں آنے والے زلزلے سے ہونے والے المناک جانی نقصان اور تباہی پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام اس قدرتی آفت کے دوران چین کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے تجویز دی کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی طرف سے موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کو اٹھایا جائے، تاجکستان، ازبکستان، ایران اور منگولیا کے صدور کی طرف سے وزیراعظم شہبازشریف کی تجویز کی تائید کی گئی صدر مرزایوف کی جانب سے وزیراعظم شہبازشریف کی تجویز ایس سی او تنظیم کی سطح پر اٹھانے پرزوردیا گیا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں تاجک صدر نے وزیراعظم شہبازشریف کی تجویز کی سب سے پہلے حمایت کی صدر مرزایوف نے رکن ممالک پر سیلابی صورتحال سے نمٹنے میں پاکستان کو بھرپور مدد اور حمایت فراہم کرنے پر زوردیا
افغانستان کو نظراندازکرنا غلطی،دنیا کو ہماری مدد کے لیے آگے آنا ہوگا،وزیراعظم
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس علاقائی مسائل کے حل کےلیے بہترین فارم ہے،
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کا امن افغانستان میں امن سے جڑا ہے خطے میں امن و امان کے لیے تمام رکن ممالک کو کام کرنے کی مزید ضرورت ہے خوشحال ،ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ افغانستان خطے کے تمام ممالک کے لیے اہم ہے انسانی ہمدردی کی بنیاد پرافغانستان کو معاشی طورپر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ،افغانستان پاکستان کا ہمسایہ ملک اور امن کی ضمانت ہے افغانستان کو نظرانداز کرنا بہت بڑی غلطی ہوگی افغان حکومت عوام او راقلیتوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرے افغانستان میں خواتین کے حقوق کا خیال رکھا جائے پاکستان عالمی حدت اورموسمیاتی تبدیلی کے زیر اثر ہے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی قیمت پاکستان نے سیلاب سے تباہ کاریوں کی صورت میں اداکی پاکستان میں ایسا سیلاب کبھی دیکھا نہیں تھا، متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا حالات ٹھیک نہیں سیلاب اور بارش کا پانی جگہ جگہ موجود ہے جس کے باعث ملیریا،ڈینگی اور دیگر بیماریاں جنم لے رہی ہیں سیلاب سے ایک ہزارسے زائد افراد جاں بحق ہوئے ،ہزار وں زخمی اور متعدد لاپتہ ہوئے ، سیلاب سے مویشی ،فصلیں ،گھر،بستیاں اور شہر متاثر ہوئے ،سیلاب سے ایک ہزار 400 افراد جاں بحق ہوئے ،ہزاروں زخمی اور متعدد لاپتہ ہوئے سیلاب متاثرین کو شدید مشکلات کا سامناہے ،دنیا کو ہماری مدد کے لیے آگے آنا ہوگا،ہمیں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات کرنے ہوں گے،شنگھائی تعاون تنظیم میں نئے ممالک کی شمولیت پر مبارکباد دیتا ہوں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ایس ایس او کے تمام ممالک کومل کر کام کرنا ہوگا، ہمارے درمیان موجود کچھ ممالک نے سیلاب متاثرین کی بہت مددکی ان کا مشکور ہوں، کیا یہ آفت اور تباہی پاکستان کے لیے آخری ہوگی یا دیگر ممالک کو بھی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا ہوگا
شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس ،وزیراعظم شہبازشریف کی آذربائیجان کے صدر سے ملاقات ہوئی ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے قدرتی آفت نمٹنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان مثالی اور گہرے تعلقات ہیں پاکستان اور آذربائیجان مشترکہ تاریخ، عقیدے اور ثقافت سے جڑے ہوئے ہیں، وزیراعظم شہبازشریف نے نگورنو کاراباخ پر پاکستان کی آذربائیجان کی اصولی حمایت کا اعادہ کیا وزیراعظم نے آذربائیجان کے مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانے میں کامیابی پر مبارکباد دی وزیراعظم نے آرمینیا کے بلااشتعال حملے میں 71 آذری فوجیوں کی شہادت پر اظہار تعزیت کی وزیر اعظم نےسالمیت کے تحفظ میں آذربائیجان کے دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا وزیراعظم اور آذربائیجان صدر نے سیاسی، اقتصادی، توانائی، دفاع، تعلیمی شعبے میں تعاون بڑھانے کاعزم کیا
کیا پی ٹی آئی حکومت میں کسی پر پولیس نے تشدد نہیں کیا؟ سپریم کورٹ
سپریم کورٹ میں شہباز گل پر تشدد اورجسمانی ریمانڈ کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی
سپریم کورٹ نے وفاقی اور تفتیشی افسران کو نوٹسز جاری کردیئے سپریم کورٹ نےتفتیشی افسران کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی شہباز گل پر تشدد اورجسمانی ریمانڈ کیخلاف کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی
دوران سماعت شہباز گل کے وکیل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا،جو تشدد شہباز گل پر کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی، جسٹس مظاہر علی اکبرنقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل نے کہا کیا تھا کس بنیاد پر کیس بنایا گیا؟ وکیل نے کہا کہ شہباز گل نے ایک تقریر کی جس کو بنیاد بنا کر 13 دفعات لگائی گئیں،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے شہباز گل کے وکیل کی سرزنش کی اور کہا کہ کس بنیاد پر جسمانی ریمانڈ دیا گیا،وکیل نے کہا کہ آپ عرض کر دیں کہ جسمانی ریمانڈ کیوں دیا گیا،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ میں عرض کروں آپ کیا بات کر رہے ہیں، جج سے ایسے بات کرتے ہیں،شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر نے الفاظ واپس لیتے ہوئے معذرت کر لی
جسٹس مظاہر علی اکبرنقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل نے تقریر نہیں کی بلکہ ٹی وی پر انٹرویو دیا تھا، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کیس کی تیاری ہی نہیں کی،آپکو جسمانی ریمانڈ دینے کے طریقہ کار اور مقصد کا ہی نہیں پتہ،اس مقدمے میں ملزم سے کیا چیز ریکور کرنا تھی؟کیا پولیس نے شہباز گل سے زبان ریکور کرنی تھی جس سے وہ بولا تھا؟شہباز گل سے جو ریکوری کی گئی اس کا کیس سے کوئی تعلق ہی نہیں،تشدد کیخلاف شہباز گل کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنا ہوگا،کیا آپ نے تشدد کیخلاف متعلقہ فورم سے رجوع کیا؟ شہباز گل کو متعلقہ فورم پر درخواست دائر کرنے سے کس نے روکا ہے؟ جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پی ٹی آئی حکومت میں کسی پر پولیس نے تشدد نہیں کیا؟ وکیل نے کہا کہ پولیس تشدد کے واقعات کم ہی سامنے آتے ہیں،ملکی تاریخ کا سب سے متنازعہ ریمانڈ شہباز گل کا دیا گیا،
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج نے آرڈر میں لکھا کہ شہباز گل کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں کیا جج تشدد کے کیس میں بطور گواہ بھی پیش ہونگے؟ عدالت نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجسٹریٹ قیدی کے حقوق کا ضامن ہوتا ہے آپکو اتنا بھی علم نہیں،کیا ضابطہ فوجداری کا اطلاق سپریم کورٹ پر ہوتا ہے؟ وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ پر ضابطہ فوجداری کا اطلاق ہوتا ہے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ پر ضابطہ فوجداری کا اطلاق نہیں ہوتا،
شنگھائی تعاون تنظیم ، سربراہان کا اجلاس کے آغاز پر بنایا گیا گروپ فوٹو
وزیراعظم شہباز شریف آج ازبکستان میں چین، آذربائیجان، قزاقستان کے صدور سے ملاقاتیں کریں گے جبکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان سے خطاب بھی شیڈول ہے ۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شریک سربراہان کا اجلاس کے آغاز پر گروپ فوٹو بنایا گیا کانگریس سنٹر سمرقند میں ایس سی او سربراہ اجلاس کے موقع پر رکن ممالک کے سربراہان کاگروپ فوٹو بنایا گیا
شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس ،وزیراعظم شہبازشریف کی آذربائیجان کے صدر سے ملاقات ہوئی ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے قدرتی آفت نمٹنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان مثالی اور گہرے تعلقات ہیں پاکستان اور آذربائیجان مشترکہ تاریخ، عقیدے اور ثقافت سے جڑے ہوئے ہیں، وزیراعظم شہبازشریف نے نگورنو کاراباخ پر پاکستان کی آذربائیجان کی اصولی حمایت کا اعادہ کیا وزیراعظم نے آذربائیجان کے مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانے میں کامیابی پر مبارکباد دی وزیراعظم نے آرمینیا کے بلااشتعال حملے میں 71 آذری فوجیوں کی شہادت پر اظہار تعزیت کی وزیر اعظم نےسالمیت کے تحفظ میں آذربائیجان کے دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا وزیراعظم اور آذربائیجان صدر نے سیاسی، اقتصادی، توانائی، دفاع، تعلیمی شعبے میں تعاون بڑھانے کاعزم کیا
وزیراعظم آفس سے وزیر اعظم کے دورہ ازبکستان کے دوسرے روز کا شیڈول جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کے سالانہ اجلاس کے دوسرے روز مصروف دن گزاریں گے وزیرِ اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان سے خطاب بھی کریں گے، وزیراعظم صدر قزاقستان "قاسم ژورمات توکائیف "سے ملاقات کریں گے اور اپنے دورے کے اختتام سے پہلے امام بخاری کے مزار پر حاضری بھی دیں گے ،
قبل ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے ملاقات کی۔ وزیر اعظم نے آذربائیجان کے صدر سے یہ ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ہوئی جس میں دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی شعبہ میں تعلقات پر تبادلہ خیال ہوا۔دونوں رہنمائوں نے دو طرفہ تجارت کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا
وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان نے دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے،وزیر اعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کی کونسل کے اجلاس کے مو قع پر ہوئی ،ملاقات میں دو طرفہ تجارت ،گیس کی فراہمی سمیت بڑے منصوبوں کے احکامات پر عمل درآمد پراتفاق کیا گیا ، ترک صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ پر ہمیں خوشی ہے پاکستان کو اپنا ترجیحی شراکت دار تصورکرتے ہیں، روس اورازبکستان میں پائپ لائن کے لیے کسی حد تک بنیادی ڈھانچہ موجود ہے
راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہنگری کے تعاون سے ماحولیاتی اثرات پر قابو پانے میں مدد مل سکے گی۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہنگری کا دورہ کیا اور ہنگری کے وزیر خارجہ سے دارالحکومت بڈاپاسٹ میں ملاقات کی، اس دوران انہوں نے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں اور نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا۔
ہنگرین وزیر خارجہ نے پاکستانی طلباء کیلئے سکالرشپ 200 سے بڑھا کر 400 کر دیئے جبکہ سپہ سالار نے دوست ممالک کے نیک جذبات اور تعاون پر تشکر کا اظہار کیا۔
ملاقات کے دوران ہنگری نے تجارت، زراعت اور آبی وسائل کی مینجمنٹ ٹیکنالوجی میں تعاون کی پیشکش کی۔اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہنگری کے تعاون سے ماحولیاتی اثرات پر قابو پانے میں مدد مل سکے گی۔
بعد ازاں جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہنگرین کمانڈر ڈیفنس فورسز سے بھی ملاقات کی، اس دوران باہمی اور پیشہ وارانہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔