Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان کو عظیم ملک بنانا مشکل ہے ناممکن نہیں،وزیراعظم

    پاکستان کو عظیم ملک بنانا مشکل ہے ناممکن نہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر ہم یہ فیصلہ کر لیں کہ پاکستان کو عظیم تر ملک بنانا ہے تو یہ کام مشکل ضرور ہے تاہم ناممکن نہیں، بار اور بنچ اگر اکھٹے نہیں ہوں گے تو آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور انصاف کی بات کون کرے گا، سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے ہم سب نے اپنا کردار اداکرنا ہوگا، اگر ہم نے اپنے آپ کو نہ بدلا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی.

    وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف سے کئے معاہدے کی پاسداری نہیں کی،75 سال بعد آج بھی کشکول اٹھائے پھر رہے ہیں اور ہمارے ہمسائے ہم سے معاشی اور سماجی اعتبار سے بازی کے گئے، وکلا کو الاٹمنٹ لیٹرز کے حصول پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، اگر ہم کمر باندھ لیں تو پاکستان ایک عظیم ملک بن جائے گا تاہم یہ تقاریر سے نہیں عمل اور عزم سے ہو گا، یہاں وسائل، اذہان، انسانی قوت موجود ہے، سردیوں میں گیس کے انتظام میں لگے ہیں، جب گیس سستی ترین تھی ہم نے پرواہ نہیں کی، دنیا نے طویل المدتی معاہدے کئے، آج 40 سنٹ میں گیس مہنگی مل رہی ہے، آپ ایسے پیشہ سے وابستہ ہیں جو باوقار ہے۔

    وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وکلاء کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا ہے اور ایک مکمل ضابطہ کے تحت قرعہ اندازی کے بعد الاٹیز میں الاٹمنٹ لیٹر تقسیم کئے گئے، اس ہائوسنگ کالونی میں پلاٹ حاصل کرنے والوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، وزیر قانون اور وزیر ہائوسنگ نے اس ضمن میں بھرپور کام کیا، اب یہ پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، اس ہائوسنگ سکیم میں ترقیاتی کاموں کے حوالہ سے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پورے ملک میں سیلاب نے ایک تباہی مچائی ہوئی ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، ملک بھر سے آئے ہوئے وکلاء نے اپنے علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والی شدید تباہی کا مشاہدہ کیا ہو گا، یہ قدرتی آفت ایک ایسے وقت میں آئی جب پہلے ہی ملک ڈیفالٹ ہونے کے قریب تھا، حکومت نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا اور معاشی عدم استحکام کو کسی حد تک کنٹرول کیا لیکن مہنگائی اپنے عروج پر ہے، اس میں کسی کو کوئی شک نہیں، 11 اپریل کو جب حکومت تبدیل ہوئی تو ڈیڑھ ماہ ہم فیصلے کرنے میں شش و پنج کا شکار تھے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ میں یہاں سیاست نہیں قومی امور پر بات کرنے کیلئے آیا ہوں، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی گذشتہ حکومت نے پاسداری نہیں کی اور بری طرح اس کی دھجیاں بکھیریں جس پر آئی ایم ایف نے گذشتہ حکومت کی طے کردہ شرائط پر عملدرآمد سے پروگرام کو مشروط کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وکلاء برادری کے سامنے یہ سوال رکھتے ہیں کہ کیا آج 75 سال بعد پاکستان جس مقام پر کھڑا ہے کیا پاکستان اس لئے معرض وجود میں آیا تھا اور قائداعظم جو ایک ماہر قانون دان تھے انہوں نے جس بصیرت اور وژن کے ساتھ علامہ اقبال کے ساتھ مل کر پاکستان کا خواب دیکھا تھا اور اس کیلئے عظیم تحریک چلائی تھی اور لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی ان قربانیوں کے طفیل پاکستان معرض وجود میں آیا۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا دورہ کیا، اس وقت بھی اس علاقہ میں پانی کھڑا ہے، پٹ فیڈر کینال کی بھل صفائی کیلئے اقدامات جاری ہیں، وہاں لاکھوں لوگوں کو پینے کا پانی نہیں مل رہا، لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے اپنے پیاروں سے بچھڑ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، آپ سے استدعا ہے کہ آپ ملک میں قانون کی حکمرانی اور پاسداری چاہتے ہیں اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہاں نظریہ ضرورت بھی دریافت ہوا، پاکستان ہی نہیں دنیا کی تاریخ میں وکلاء نے اپنی عظیم تحریک سے ججز بحالی کی تحریک چلائی، وکلاء کو یہ مقام جدوجہد سے ملا ہے، انہوں نے اس کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں، ان تمام تر ترجیحات اور کامیابیوں کے بعد آج 75 سال بعد ہم ایک دائرے میں ہی چل رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جوہری طاقت ہونے کے بعد پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہو گیا ہے لیکن معاشی اعتبار سے بہت سے چھوٹے ممالک ہم سے آگے نکل چکے ہیں، آج 75 سال بعد بھی ہم کشکول لے کر پھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیس سے چولہے بھی جلتے ہیں، گاڑیاں بھی چلتی ہیں اس کی قلت کا سامنا ہے، قوم ہم سے یہ سوال پوچھتی ہے کہ قائداعظم کا خواب آج بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا اور آج بھی ہم اس ملک کے اندر غربت کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، بے روزگاری کے خلاف لڑ رہے ہیں، جن ممالک کے ساتھ ہمارا مقابلہ تھا، ہندوستان میں روپے کی قدر ہم سے کم تھی، آج وہ ہم سے بہت آگے ہے، ہم چاہتے ہیں کہ تمام طبقات جو تاریخ کا رخ موڑنے کی استعداد کے حامل تھے ان سے قوم یہ سوال پوچھتی ہے کہ ہمارا مستقبل کیا ہے، سیلاب متاثرین کی زندگی مشکلات کا شکار ہے، 6 لاکھ متاثرہ علاقوں کی خواتین حاملہ ہیں، ان کیلئے کتنی مشکلات ہیں، یہاں بیٹھ کر اس کا اندازہ نہیں کر سکتے، سیلاب سے تین کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں، اس وقت موسم گرم ہے تاہم موسم سرما میں انہیں شدید مشکلات درپیش ہوں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت اب نہیں یا کبھی نہیں والی صورتحال ہے، اگر قوم کو ہم نے فائدہ نہ پہنچایا اور ایثار و قربانی کا مظاہرہ نہ کیا تو قوم ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بار اور بنچ اگر اکٹھے نہیں ہوں گے تو انصاف اور قانون و آئین کی حکمرانی کی بات کون کرے گا، آئین پر حملہ آور ہونے والوں کے خلاف کون کھڑا ہو گا، وکلاء کی تاریخ اس سے بھری پڑی ہے، آج یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ہم سے بعد میں آزاد ہونے قومیں ہم سے آگے کیسے بڑھ گئیں بطور وزیراعظم اس کا جواب سب سے پہلے مجھے دینا ہے، وکلاء سیلاب میں گھرے ان لاکھوں لوگوں کے بارے میں بھی سوچیں جن کے گھر زمین بوس ہو چکے ہیں، جو کھلے آسمان تلے پڑے ہیں، لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، اس دکھی انسانیت کے بارے میں بھی ضرور سوچیں، اگر ہم فیصلہ کر لیں کہ ہم نے اس ملک کی تقدیر بدلنی ہے مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ وزیراعظم نے اس موقع پر وکلاء کیلئے کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر سینئر وکلاء میں الاٹمنٹ لیٹر بھی تقسیم کئے۔

  • وزیراعظم پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی اکاؤنٹنگ کمپنی سے آڈٹ کا کہنا خوش آئند ہے. اقوام متحدہ

    وزیراعظم پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی اکاؤنٹنگ کمپنی سے آڈٹ کا کہنا خوش آئند ہے. اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر جولیان ہارنیس نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی اکاؤنٹنگ کمپنی سے آڈٹ کا کہنا خوش آئند ہے۔سیلاب متاثرین کی امداد کو شفاف انداز میں ان پر خرچ کیا جانا اوراس کا احتساب ضروری ہے۔

    اقوام متحدہ ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر جولیان ہارنیس نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سیلاب سے متاثر علاقوں میں صحت کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔ اس لحاظ سے 160 ملین ڈالر کی فلیش اپیل انتہائی کم ہے جسے ازسرنو دیکھنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ فلیش اپیل کے تناظر میں مالی امداد اکٹھی کرنے میں کافی حد تک کامیابی حاصل ہوئی۔مختلف ممالک کی جانب سے 150 ملین ڈالر کے اعلانات کیے جا چکے ہیں۔ اقوام متحدہ مرکزی ہنگامی فنڈز سے 10 ملین ڈالر فراہم کیے گئے ہیں۔

    سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، قطر، چین اور دیگر ممالک بھی امداد فراہم کر رہے ہیں۔حکومت کی جانب سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مالی امداد کا سلسلہ اہم ہے۔غذائی تحفظ، صحت، غذائیت سے بھرپور خوراک، پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانا ہو گی۔سیلاب متاثرہ علاقوں میں مویشیوں کی فراہمی بھی ابھی تک کور نہیں۔بیرون ممالک سے آنے والی امداد حقیقی مستحقین تک پہنچنا اور کسی اور طرف نہ جانا اہم ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل 2 روزہ دورے پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے پہنچے تھے، وہ اپنے دورے کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ بلاول بھٹو اور حکومت کے دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں کی تھی.

    انتونیو گوتریس نے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی بڑے پیمانے پر امداد کی جائے، انھوں نے کہا میں تباہ کن سیلاب سے متاثر افراد سے اظہار یک جہتی کے لیے پاکستان پہنچا ہوں، پاکستان موسمیاتی تباہی سے نبرد آزما ہے۔

  • دہشتگردی کے مقدمے میں عمران خان جے آئی ٹی میں  پیش، 20 منٹ کی تفتیس میں 21 سے زائد سوالات کئے گئے

    دہشتگردی کے مقدمے میں عمران خان جے آئی ٹی میں پیش، 20 منٹ کی تفتیس میں 21 سے زائد سوالات کئے گئے

    خاتون جج کو دھمکیاں دینے پر دہشتگردی کے مقدمے میں چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے.

    ذرائع کے مطابق: سابق وزیر اعظم عمران خان سے تفتیش کے دوران پولیس ٹیم کی جانب سے تحریری طور پر اکیس سوالات کا سوال نامہ دیا گیا جبکہ کچھ زابنی سوالات بھی کئے گئے جبکہ عمران‌خان سے تقریبا بیس منٹ تک تفتیش کی گئی ہے.

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ایس ایس پی انویسٹی گیشنز فرحت کاظمی کے سامنے پیش ہوئے۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے جے آئی ٹی میں بیان ریکارڈ کروایا ۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ میری آج جے آئی ٹی میں پہلی پیشی ہوئی۔میرےخلاف دہشت گردی دفعات لگائی گئیں۔حکومت کو پیغام ہے جتنا تنگ کریں گے اتنی ہی تیاری کر لیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ٹیلی تھون پر فنڈز جمع کرنےتھے انہوں نے چینلز بند کردیئے۔ان کی چوری کی وجہ سے ان کو پیسے نہیں ملتے ۔کسی کو بھی کہیں کہ دوران حراست تشدد پر قانونی کارروائی کروں گا۔شہباز گل پر تشدد کیا گیا، ہم نے کہا قانونی کارروائی کریں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کارروائی کی بات کی تو دہشتگردی کی دفعات لگائی گئیں، یہ مذاق ہے۔مجھے اور میری پارٹی کو جتنا دیوار سے لگائیں گے اتنا ہی تیار رہیں۔پہلے اس لیے چپ رہا کہ معاشی بحران تھا، پھر سیلاب آگیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ میں نے 26 سال کی سیاست میں کبھی قانون کی خلاف وزری نہیں ۔دنیا دہشتگردی کی تعریف جانتی ہے مقدمے کی وجہ سے دنیا ہم پر ہنس رہی ہے۔ہمیں کہہ رہے ہیں سیلاب پر سیاست نہ کریں، دوسری طرف مجھے ختم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ عوام‫ کا سمندر نکلنے لگا ہے، یہ لوگ پبلک کا سامنا نہیں کرسکتے۔صرف ایک بات ہوسکتی ہے اور وہ شفاف انتخابات کی ہوگی۔انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے والی ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل عمران خان دونوں بار طلبی پر جے آئی ٹی میں پیش نہیں ہوئے۔ انہوں نے وکیل کے ذریعے اپنا تحریری جواب جمع کروایا تھا۔

  • عمران خان ملک میں فتنہ و فساد برپا کرنا چاہتے ہیں. وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف

    عمران خان ملک میں فتنہ و فساد برپا کرنا چاہتے ہیں. وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف

    عمران خان ملک میں فتنہ و فساد برپا کرنا چاہتے ہیں، وہ مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا عمران خان ملک میں فتنہ و فساد برپا کرنا چاہتے ہیں، وہ مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اداروں کو للکار رہے ہیں، عمران خان کا فتنہ چل نکلا تو ملک میں خون ریزی ہو گی، اگر عمران خان کو روکا نہ گیا تو شدید عوامی رد عمل آسکتا ہے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عمران خان اقتدار کے لیے مارا مارا پھر رہا ہے، پہلے اقتدار کے لیے اس کا انحصار سلیکشن کمیٹی پر تھا، اب اس کا انحصار امریکیوں پر ہو گیا ہے۔ جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کا احترام ہے، ادارے عمران خان کی باتوں کا نوٹس لیں، سیاسی جماعتوں کے لیے دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے. ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف واپس آ رہے ہیں، عوام جس طرح نواز شریف کا استقبال کرے گی، عمران خان کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، عمران خان کو این آر او نہیں دیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے نئے آرمی چیف کےتقررکے حوالے سے بیانات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور کہا کہ فوج ادارے کی سینئر قیادت کے بارے میں توہین آمیز اورغیرضروری بیان پر حیران ہے۔

    انٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے گزشتہ سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا:’’افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کو بدنام اور کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے جب یہ ادارہ ہر روز پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ کے لیے جانیں دے رہا ہے‘‘۔ آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) کے تقرر پر سینیر سیاست دان کی جانب سے تنازعات پھیلانے کی کوشش انتہائی بدقسمتی کی بات اور مایوس کن ہے کیونکہ اس اعلیٰ عہدے پر تقرر کے طریق کار کی آئین میں اچھی طرح وضاحت کی گئی ہے۔

  • لاپتا ہونے والا شخص بازیاب ہونے کے بعد عدالت میں پیش

    لاپتا ہونے والا شخص بازیاب ہونے کے بعد عدالت میں پیش

    لاپتہ شہری اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کر دیا گیا۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کس نے شہری کو اٹھایا اور اس کی تفتیش کون کرے گا ؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاپتہ شہری کیس کی سماعت ہوئی۔ تو لاپتہ شہری عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ آپ کہاں تھے؟ شہری نے جواب دیا کہ میری آنکھوں پر پٹی تھی مجھے علم نہیں کہاں تھا۔ عدالت نے پولیس سے استفسار کیا کہ اب تک کیا انکوائری کی ہے ؟ پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ کچھ وقت دیں انکوائری مکمل ہوتے ہی رپورٹ پیش کر دیں گے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ریاست کی کچھ ذمہ داریاں ہیں ،عدالت انہیں کیسے ہدایت دے، پہلے کیسز کا کیا ہوا ؟ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے استفسار پر پولیس کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ کچھ کیسز میں انکوائری مکمل ہوچکی ہے اور کچھ میں چل رہی ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ شہریوں کو تحفط فراہم کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے لیکن سسٹم میں کوئی اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتا۔ ایک نظام ہے جس کے تحت ہر ایک کی ذمہ داری ہے اور اس عدالت کو ڈائریکشن دینے کی ضرورت تو نہیں ہونی چاہیے۔

    ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ وزیر اعظم اس عدالت میں پیش ہوئے تھے کام ہو رہا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کام ہو رہا ہے؟ اور کس نے شہری کو اٹھایا ہے، اس کی تفتیش کون کرے گا۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ شہری بتائے کہ جب اسے اٹھایا گیا تو کیا اس نے کسی کو پہنچانا۔ نظام میں خرابیاں تو ہیں۔

    چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ یہ ریاست کا کام ہے کہ شہریوں کا تحفظ کرے لیکن کوئی اپنا کام نیک نیتی سے کرنے کو تیار نہیں ہے۔ 23 اگست کو ایف آئی آر کے اندراج کے لیے درخواست دی گئی جو درج نہیں ہوئی۔ یہ آپ کے لیے ٹیسٹ کیس ہے، پہلے جو کیسز تھے وہ تو پتہ نہیں کدھر چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس عدالت نے آپ کو کسی شخص کے خلاف کارروائی سے روکا ہے؟ جو بھی کارروائی کرنی ہے وہ قانون کے مطابق تو کریں۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو کیس کی انکوائری اپنی نگرانی میں کروانے کی ہدایت کی۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ انویسٹی گیشن مکمل ہونے کے بعد ہی ذمہ داران کا تعین ہو سکے گا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پہلے جو انویسٹی گیشنز ہو رہی تھیں ان کا کیا ہوا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواست گزار کے تحفظات دور ہو چکے ہیں اس لیے درخواست نمٹا دی جائے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پھر کیا اس بات کو جانے دیں یا اس کی تفتیش کیسے ہو گی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف آئی آر درج ہو چکی ہے اسے منطقی انجام تک پہنچانا ہو گا۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ آئی جی اسلام آباد ذاتی طور پر سپروائز کر کے 10 دن میں رپورٹ جمع کرائی

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹاؤن سے لاپتا ہونے والا شہری حسیب حمزہ گھر پہنچ گیا تھا۔ گزشتہ روز حسیب حمزہ کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست کی سماعت میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ 14 ستمبر کو لاپتا شہری عدالت میں پیش نہ کیا گیا تو حکام کو طلب کریں گے۔

  • وزیراعظم کا سیلاب زدہ علاقوں کے اگست اور ستمبر کے بجلی بلز معاف کرنے کا اعلان

    وزیراعظم کا سیلاب زدہ علاقوں کے اگست اور ستمبر کے بجلی بلز معاف کرنے کا اعلان

    وزیراعظم کا سیلاب زدہ علاقوں کے اگست اور ستمبر کے بجلی بلز معاف کرنے کا اعلان کردیا ہے

    وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے آج بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا جس میں انہوں نے اعلان کیا کہ سیلاب متاثرین سے اگست اور ستمبر کے بجلی بل نہیں لیئے جائیں گے. چیئرمین این ڈ ی ایم اے نے دوران پرواز وزیراعظم شہبازشریف کو بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعظم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا فضائی جائزہ لیا۔چیف سیکریٹر ی بلوچستان کی جانب سے وزیراعظم کو بحالی کے کاموں پر بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ میڈیکل کیمپوں میں 4لاکھ سے زائد متاثرین کو طبی امداد دی گئی ۔صحبت پور میں سیلاب سے ایک لاکھ 90ہزار گھر متاثر ہوئے۔بلوچستان میں بعض علاقوں میں پانی موجود ہے،صورتحال ابترہے۔صحبت پور 100فیصد متاثرہواہے ،مواصلاتی نظام مکمل تباہ ہوچکاہے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ سیلابی صورتحال پر سیاست نہیں کی جانی چاہیے۔ملک بھرمیں سیلاب متاثر ہ علاقوں کا دورہ کیا،حالات بہت خراب ہیں۔باہر سے آنے والا امداد تقسیم کیاجارہاہے۔کوئی علاقہ نہیں چھوڑیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترکیہ سے آنے والے خیمے بلوچستان متاثرین میں تقسیم کیے جائیں گے۔شام تک صحبت پور متاثرین کے لیے پینے کا پانی پہنچ جائے گا۔سڑکوں کو پانی سے کلیئر کیاجائے ، بحالی کے عمل میں شکایات سامنے نہ آئیں۔

    انہوں نے کہا ہے کہ بحالی اورپانی کانکاسی عمل کا کام جلد مکمل کیاجائے۔پانی کو جلد سے جلد نکالیں ، مشینری پنجاب سے منگوائیں ،بیماریاں پھیل رہی ہیں ۔فنڈز اور بھی فراہم کریں گے مگر کام میں تیزی آنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیموں کے لیے ہم نے مزید آرڈرز دیئے ہیں ،جلد آئیں گے۔کیا سیلاب متاثرین کو 25ہزار روپے دیئے جارہےہیں؟فنڈز وافر مقدارمیں نہیں تو فراہم کیے جائیں گے ،امدادی کام نہیں رکناچاہیے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مختلف امراض جنم لے رہےہیں جن کو کنٹرول کرناضروری ہے۔متاثرین کےلیے مزید اشیا کی فراہمی سے متعلق وزارت خوراک کونوٹ بھجوارہےہیں۔ وزیر اعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ متاثرہ علاقوں میں مچھر مار اسپرے کا عمل جاری ہے۔ملیریا کنٹرول کے لیے بھی کام کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے حکام سے ادویات اور خیموں کی فراہمی سے متعلق سوال کیا۔انہوں نے پوچھا کہ کیاادویات میں پیناڈول موجود ہے؟

    وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے دوران بریفنگ انٹرنیٹ بحالی کا سوال بھی کی گیا۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ دوردراز علاقوں میں انٹرنیٹ کا مسئلہ تاحال موجودہے۔ وزیراعظم نے کمشنر صحبت پور کو بحالی کے کاموں میں متعلقہ حکام سے تعاو ن کی ہدایت کی۔ وزیراعظم شہبا زشریف کا کہنا ہے کہ کمشنر متاثرین کے لیے امدادی کاموں ،سڑکوں کی بحالی میں معاونت کریں۔

    واضح رہے کہ ترجمان وزیراعظم ہاؤس نے بتایا تھا کہ: وزیراعظم بلوچستان کے ضلع صحبت پور کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیں گے اور سیلاب زدگان سے ملاقات بھی کریں گے۔ اس موقع پر ورزا اور دیگر حکام بھی ان کے ہمراہ ہونگے۔ واضح رہے کہ بلوچستان کے ضلع جعفرآباد اور صحبت پور کے علاقے 2 ہفتوں سے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں گرڈ اسٹیشن، سرکاری عمارتیں اور سڑکیں زیر آب ہیں جس کے باعث متاثرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    علاوہ ازیں تحصیل گنداخہ کے ہزاروں متاثرین سندھ بلوچستان کی سرحد پر امداد کے منتظر ہیں۔ راشن، ادویات اور پینے کے پانی کی شدید قلت نے متاثرین کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے۔ اس سے قبل دورہ بلوچستان کے موقع پر وزیراعظم کی جانب سے صوبہ بلوچستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کیلئے 10 ارب روپے دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

  • عارف نقوی کی کمپنی کو عمران حکومت میں بغیرمعاہدےگیس دینے کا انکشاف

    عارف نقوی کی کمپنی کو عمران حکومت میں بغیرمعاہدےگیس دینے کا انکشاف

    عارف نقوی کی کمپنی کو سابق حکومت میں بغیرمعاہدےگیس دینے کا انکشاف جبکہ انتظامیہ بارہا پوچھنےکےباوجود کسی معاہدے کا ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہی.

    عمران خان کی حکومت میں مالی سال دوہزار اکیس،بائیس کی آڈٹ رپورٹ میں مالی بےضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ تحریک انصاف کی مبینہ سیاسی فنڈنگ کرنے والےعارف نقوی کی کمپنی کےالیکٹرک کو3 سال میں بغیر کسی معاہدے کے 174ارب روپے کی آر ایل این جی فراہم کردی گئی۔

    عمران خان کے دور میں وزیر اعظم کے قریبی ساتھی اور تحریک انصاف کے مبینہ فنانسر عارف نقوی کے وارے نیارے ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ کسی بھی معاہدے کے بغیر ہی عارف نقوی کی کمپنی کے الیکٹرک کو 3 سال میں 173 ارب 74 کروڑ روپے کی آر ایل این جی سپلائی کی گئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق: آڈٹ رپورٹ 2021-22 کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کی شفافیت کا پردہ فاش ہوگیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کے الیکٹرک کو بغیر کسی معاہدے کے 1 لاکھ کیوبک فٹ گیس سوئی سدرن کمپنی کے ذریعے فراہم کی گئی۔ انتظامیہ بارہا پوچھنے کے باوجود کسی معاہدے کا ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہی۔ آڈٹ رپورٹ میں گیس کمپنیوں کی اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں بھی سامنے آگئیں۔

    سوئی سدرن اورسوئی نادرن میں گیس چوری اور لیکیج کی مد میں 36ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔ یہ مالی خسارہ صارفین سے زائد بل وصول کرکے پورا کیا گیا جبکہ نادہنگان سے گیس کمپنیاں 58 ارب روپے کی ریکوری میں ناکام بھی رہیں۔

    عارف نقوی کون ہے؟
    واضح رہے کہ اس سے قبل فنانش ٹائمز میں ایک مضمون شائع ہوا تھا جس کے مطابق: ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی نے آکسفورڈ شائر میں ایک نجی کرکٹ ایونٹ کے ذریعے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کیلئے فنڈز جمع کئے تھے اور ان کے لئے خلیجی ملک کی ایک شخصیت سے بھی فنڈز حاصل کئے۔

    اس مضمون میں سابق وزیراعظم عمران خان پر بھی توجہ مرکوز کی گئی تھی جنہوں نے پہلی بار عارف نقوی کی آف شور کمپنی ووٹون کرکٹ لمیٹیڈ سے عطیات لینے کا اعتراف کیا۔ عارف نقوی کے عالمی سطح پر عروج وزوال کے کئی پہلووں کے بارے میں دنیا لاعلم ہے۔ نقوی کراچی میں پیدا ہوئے اور یہیں زیر تعلیم رہے جس کے بعد وہ 14 ارب ڈالر کی مالیت کے ابراج گروپ کا قیام عمل میں لائے، وہ فنانشل ٹائمز کے آرٹیکل سے قبل بھی لندن میں امریکی حکومت کی درخواست پر اسکاٹ لینڈ یارڈ کے ہاتھوں اپریل 2019 میں گرفتاری کے وقت بھی منفی خبروں کا مرکز رہے ہیں۔

    عارف نقوی ارب پتی اور عالمی سطح پر پاکستانی تجارت کا چہرہ سمجھے جانے والی شخصیت کے بعد اب معاشی طر پر دوستوں پر انحصار کررہے ہیں تاہم اس بارے میں زیادہ تر لوگوں کو معلوم نہیں ہے، ایک ایسی صورتحال میں کہ جب وہ امریکا کی جانب سے ملک بدر کئے جانے کے کیس کیخلاف برطانوی عدالتوں میں کیس لڑرہے ہیں جبکہ اسی دوران وہ عالمی سطح پر میڈیا میں تنقید کا نشانہ بنے ہیں۔ ان کے دوستوں کے ایک گروپ کی جانب سے ان کی ضمانت کیلئے 15 ملین پائونڈ کی ادائیگی کے بعد وہ گزشتہ 4 برس سے لندن میں اپنے گھر میں نظر بند ہیں جبکہ ان کی ضمانت بھی انتہائی سخت شرائط پر دی گئی۔

    عارف نقوی نے سنہ 2002 میں ابراج ایکویٹی فرم قائم کی۔عارف نقوی کی کمپنی قیام کے پندرہ برسوں کے اندر دنیا کی سب بڑی ایکو یٹی فرم بن چکی تھی اور دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ کاروں نے ان کی کمپنی میں سرمایہ کاری کی۔ان کی منیجمنٹ کے زیر اہتمام اثاثوں کی مالیت 14 ارب امریکی ڈالر تھی جبکہ بوگوٹا سے لیکر استنبول، نیروبی اور جکارتہ تک اس کے 25 دفاتر میں 400 کے قریب ملازمین کام کرتے تھے جبکہ کمپنی کا ہیڈکوارٹرز دبئی میں تھا۔ ابراج گروپ کا زوال اس وقت شروع ہوا جب کمپنی کے اہم سرمایہ داروں نے اپنا سرمایہ اچانک سے فرم سے نکال لیا جبکہ ریگولیٹری مسائل، غیر مستحکم سیاسی صورتحال نے بھی کردار ادا کیا حالاں کہ سابق وزراء اعظم نواز شریف، شاہد خاقان عباسی اور عمران خان کی جانب سے ابراج گروپ کی بیلنس شیٹ میں آنے والا خلا کو پر کرنے کیلئے تعاون بھی کیا تھا۔

    عالمی سطح پر نام کمانے کے باجود نقوی کبھی بھی پاکستان کی مدد اور بیرون ملک اس کا تشخص برقرار رکھنے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ 2005 میں زلزلہ زدگان کی امداد کیلئے ان کی جدوجہد پر اس وقت کے صدر مشرف نے انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا تھا. جبکہ ملالہ یوسفزئی اور دو مزید لڑکیاں جو ٹی ٹی پی کے حملے میں زخمی ہوگئی تھیں کو برطانیہ متنقل کرنے اور گریجویشن تک ان کی تعلیم کا خرچہ بھی عارف نقوی نے ہی اٹھایا تھا. امن فاونڈیشن کا قیام بھی عارف نقوی ہی کی مرہون منت ہوا جنہوں نے 2008 سے لیکر 2018 تک 35 ارب روپے سے زائد کی رقم خرچ کی جو کراچی میں ایک غیر منافع بخش ادارے کے طور پر کام کررہا ہے۔ 2022 میں عارف نقوی کی خرابی قسمت کے بعد فاونڈیشن کو بند کرنا پڑا تاہم سندھ حکومت نے اس کا انتظام سنبھال لیا۔ انہوں نے 2009 میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد مستقبالی فاونڈیشن قائم کی جس نے 1900 یتیم بچوں کی دیکھ بال سنھالی۔

    انہوں نے دبئی میں مقصود نقوی کمیونٹی مسجد کے قیام کیلئے بھی لاکھوں ڈالرز خرچ کئے۔ اسی طرح برطانیہ میں ہیرو مسجد اور مسعود کمیونٹی سینٹر کے قیام کیلئے بھی انہوں نے لاکھوں ڈالرز خرچ کئے۔ ان کی خدمات پر انہیں کئی عالمی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ہے جن میں اوسلو بزنس فار پیس ایوارڈ شامل ہے۔

  • پاک افغان سرحد پر دہشتگردوں کی فائرنگ، پاک فوج کے 3 جوان شہید

    پاک افغان سرحد پر دہشتگردوں کی فائرنگ، پاک فوج کے 3 جوان شہید

    پاک افغان سرحد پر ضلع کرم کے علاقے خرلاچی میں دہشتگردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے 3 جوان شہید ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشتگردوں نے افغانستان کی حدود سے پاک فوج کے جوانوں کو نشانہ بنایا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے 3 جوان فرض پر قربان ہوگئے، مصدقہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق دہشت گردوں کو بھی بھاری جانی نقصان پہنچا۔

    شہید ہونے والوں میں نائیک محمد رحمان عمر 32 سال کرک کے رہائشی،نائیک ماویز خان عمر 34 سال جمرود کے رہائشی ،سپاہی عرفان اللہ عمر 27 سال درگئی کے رہائشی شامل ہیں. آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان دہشت گردوں کی جانب سے افغانستان کی سرحد استعمال کرنے کی شید مزمت کرتا ہے.

    شعبہ تعلقات عامہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان توقع کرتا ہے افغان حکومت مستقبل میں ایسی کارروائیوں کی اجازت نہیں دے گی۔پاک فوج دہشتگردی کی لعنت سے ملکی سرحدوں کے دفاع کا عزم کیے ہوئے ہے۔

  • عمران خان کا پلانٹڈ انٹرویو،کامران خان لفافہ صحافی ہے:مبشرلقمان

    عمران خان کا پلانٹڈ انٹرویو،کامران خان لفافہ صحافی ہے:مبشرلقمان

    لاہور:عمران خان کا پلانٹڈ انٹرویو،کامران خان لفافہ صحافی ہے:مبشرلقمان نے سب کے سامنے حقیقت کھول کررکھ دی ہے، اس حوالے سے سنیئرصحافی مبشرلقمان نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہےکہ میں سُن رہا ہے کہ عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے جو بات کی ہے وہ سراسرغلط اور ایک گھٹیا پن ہے، مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ یہ کیسا آدمی ہے پہلے آرمی چیف کے خلاف تھا ، نیوٹرل ، ایکس وائے اور پتہ نہیں کہ کیا کیا القابات دیئے لیکن آج پھرایسے بات کررہا ہے کہ جیسے کوئی اختلافات ہی نہیں ، ان کا کہنا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک آدمی کی مدت ملازمت پوری ہوچکی ہے اور اس سے کہا جائے کہ وہ اس وقت تک کام کرے جب تک الیکشن نہ ہوجاتے ، اگرالیکشن دو سال نہ ہوتو کیا باجوہ کو دوسال مزید قیادت کرنی چاہے

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عمران خان جس عمر کو پہنچ چکے ہیں ان کا ذہنی ٹیسٹ کروانا چاہیے ، یہ کیسے عجیب لوگ ہیں‌ جو کچھ مرضی کہیں کریں ان کو حق ہے ، یہ بار بار یوٹرن لیتے ہیں ، چوہدری شجاعت حسین جیسا شخص جو اپنے کپڑے تبدیل نہیں کرسکتا ، بول نہیں سکتا وہ ہمیں‌اب درس دے گا کہ حکومت کیسے کرنی ہے

    مبشرلقمان نے کہا کہ عمران خان ایک چالاک شخص ہے اس کی اس بات کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی چال ہوگی ، مبشرلقمان نے کہا کہ وہ تو عمران خان کی باتوں پو اعتبار نہیں کرتے

    مبشرلقمان نے مزید کہا کہ خان صاحب نے جو 5 ارب روپے سیلاب زدگان کے لیے اکٹھے کیے تھے وہ کہاں گئے ، کس اکاونٹ میں مجھے تو نہیں پتہ کہ وہ کہاں‌ ہیں‌، یہ سب جھوٹ ہے ،مبشرلقمان نے صحافی کامران خان کے متعلق کہا کہ وہ لفافہ صحافی ہے اور اس ملک میں لفافہ صحافیوں کی کمی نہیں ہے ، کامران خان وہ صحافی ہے جو کبھی کس میڈیا چینل میں جاگھستا ہے کبھی کس میں ، اور اس کا کام ہی یہی ہے کہ وہ لفافے پر یقین رکھتا ہے ،کامران خان نے جوعمران خان کا انٹریوکیا وہ پلانٹڈ تھا ، کیوں نہ کامران خان نے عمران خان سے یہ سوالات کیے کہ وہ پانچ ارب کہاں ہیں ، کس طرح سیلاب زدگان کی مدد کریں‌ گے

    مبشرلقمان نے کہا کہ مجھے کئی مرتبہ عمران خان کا انٹریوکرنے کی آفر ہوئی لیکن میں نے انکار کردیا ، شبلی فراز ، شہبازگل نے کئی مرتبہ کہا کہ وہ خان صاحب کا انٹرویو کریں اگرخود نہیں آتے تو سوالات ہی بھیج جن کے جوابات درکار ہیں

    مبشرلقمان نےکہا کہ کبھی عمران خان کہتا ہے کہ مجھے عدالت میں بولنے نہیں دیا گیا ، آپ اپنے وکلا کے ذریعے تحریری جواب جمع کروادیتے ، اگرعدالت نے عمران خان کو جانے دیا توپھر کوئی بھی عدالت کی توہین کرسکتے گا، اور یہ سلسلہ چل پڑے گا ، اس لیے ضروری ہے کہ عدالت جس نے سوموٹوایکشن لیا اب کچھ نہ کچھ ضرور کرگزرے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان ایک ہٹ دھرم شخص ہے

  • ابھی وقت ہے آنکھیں کھول لیں ورنہ سب کچھ لُٹ جائے گا:مبشرلقمان کا پیغام

    ابھی وقت ہے آنکھیں کھول لیں ورنہ سب کچھ لُٹ جائے گا:مبشرلقمان کا پیغام

    لاہوار:میں آج کوئی سیاسی گفتگو نہیں کررہا ، نہ ہی میں آج سیاست کو موضوع بنانا چاہتا ہوں مجھے تو فکر ہے کہ جب اس دنیا کے بڑے برے طاقتورملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں توپھر پاکستان کا کیا بنے گا، یہ کہنا تھا سنئر صحافی مبشرلقمان کا جونہ صرف سیاسی امور پر دسترس رکھتے ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی معاملات کو بڑے قریب سے دیکھتے ہیں

    سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میں آج دنیا کے تازہ ترین حالات سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں جن پر نظررکھنا ہر پاکستانی اور خاص کرحکمران طبقے کے لیے تو بہت ہی ضروری ہے جوملکی مفاد کے حوالے سے عاری نظرآتا ہے، مبشرلقمان کہتے ہیں کہ دنیا میں ایک طرف اس برطانیہ کی ملکہ کی وفات کی رسومات جاری ہیں جوبرطانیہ دنیا میں ایک بڑا طاقتور ملک تھا لیکن آج اس ملک کا یہ حال ہے کہ وہاں‌لوگ ایک وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں‌

    مہنگائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ لوگوں کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ، پھرسردی کا موسم بھی آرہا ہے ، اور یورپ کی سردی تو بہت ہی سخت ہوتی ہے جہاں آگ جلانے کے بغیرسردی کا مقابلہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ، جب برطانیہ سمیت یورپ میں‌ایک طرف مہنگائی ہے اور دوسری طرف گیس اور توانائی کے دیگرذرائع کا بحران ہےتو ان کو توتڑپنا یقینی نظر آرہا ہے

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ امریکہ کا بھی یہی حال ہے وہاں‌ مہنگائی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ، وہاں امریکہ میں ایک عام شخص کی تنخواہ دو اڑھائی ہزار ڈالر ہے تو اگر ایک شخص کو زندہ رہنے کے لیے کھانے پینے کے لیے اس کی تنخواہ کا پچاس فیصد خرچ ہوجائےتو وہ باقی ضروریات کس طرح پوریں کریں گے ان کو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے آجکل وہ کریڈٹ کارڈ کے گرد ہی گھوم رہے ہیں تاکہ ان کو کم سے کم خرچ کرنے پڑیں‌

    سینئرصحافی کا یہ بھی کہنا تھا کہ یورپ اس وقت توانائی کے سخت ترین بحران کا سامنا کررہا ہے اوریورپ کی توانائی کے چشمے روس سے نکلتے ہیں‌ روس یوکرین جنگ کے بعد روس نے اپنی سپلائی لائین بند کردی ہٰیں جس کےبعد یورپ میں سخت اندھیرے چھا جانے کے خدشات ہیں ، سخت سردی ہوتی ہے اس سردی میں‌ زندہ رہنے کےلیے کمروں کو گرم رکھنا ضروری ہے اوریہ صرف گیس سے ممکن ہے جو روس سے آرہی ہے ، اس کے باوجود روس نے یورپ کو گیس کی کچھ مقدار فرااہم کرکے ایک سو ارب ڈالرکما بھی لیے ہیں‌

     

     

    دوسری طرف یورپ میں جرمنی کہ جوآج سے دو تین سال پہنے بہت زیادہ ترقی کررہا تھا آج یورپ میں‌اگرکسی کا بُرا حال ہے تو وہ جرمنی کا ہے ،جس کی معیشت ڈوب رہی ہے ، جس کو توانائی کے بحران کا سب سے زیادہ نقصان ہورہا ہے ، مہنگائی ہے ، بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور جرمنی کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا کہ وہ اس مشکل صورت حال سے کسیے بچ پائے گا ،

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ بعض لوگوں‌کا یہ کہنا ہے کہ اگرروس نے یوپر کو جانے والی گیس کی سپلائی منقطع کردی ہے تو یورپ قطر سے گیس لے لے ، ایل پی جی اور این ایل جی قطر کے پاس بہت زیادہ گیس کے ذخائر ہیں‌

    مبشرلقمان کہتے ہیں‌ کہ میں ان کو بتانا چاہتا ہوں‌کہ قطرسے گیس لینے کے لیے کم از کیم تین سال کا عرصہ درکار ہے اور اس مقصد کےلیے کھربوں ڈالرز بھی چاہیں ، یورپ کے پاس پیسے بھی نہیں ، مہنگائی ہے ، بے روزگاری بڑھ رہی ہے ،قطر سے گیس کے لیے پائپ لائنز اور دیگرسسٹمز کو بھی انسٹال کرنے کے لیے بہت وقت درکار ہے ،ان حالات میں روس کے متبادل کے طور پر گیس کی فراہمی بہت ہی مشکل ہے اور ناممکن کے قریب تر ہے

    مبشرلقمان کا کہنا ہے کہ وہ تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ روس یوکرین جنگ میں روس نے ان حالات کا مقابلہ کرنے کی پہلے ہی منصوبہ بندی کررکھی تھی اور وہ اچھے انداز سے آگے بڑھ رہا ہے اوران حالات میں چین بھی روس کا برا حلیف بن کرسامنے آیا ہے . چین روس کے تیل اور گیس کا بڑا خریدار ہے اور چین کو روس کی سلامتی عزیز ہے، آنے والے دنوں میں یورپ کومزید سخت حالات اور مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا

    یورپ اپنی سرحدیں‌کھول کردنیا بھر سے آنے والوں سے پیسے لینے کا کاروبار شروع کرے گا ، کینیڈا پہلے ہی اس قسم کے کاروباری انداز کو اپنا رہا ہے ،

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں بھی توانائی کا بحران ہے اور ہمیں اس بحران سے نکلنے کے لیے ہائیڈل پاور پراجکیٹس کو اپنانا ہوگا ، ہاوسنگ سوسائٹیز کے کلچر کو محدود کریں‌تو زیادہ بہتر ہے ، ہمیں زراعت کے لیے زمینیں بچانی چاہیں ، کھاد کسانوں کو جینئوئن دیں‌ تو ہمارے کسان کو بھی فائدہ ہوگا اور ہماری زراعت بڑے گی پھلے پھولے گی اور جب یہ بہتری آئے گی تو ملک خوشحال ہوگا

    پاکستان سے گندم ، گوشت اور ڈالرکی اسمگلنگ جاری ہے ، اگر یہ حالات رہے تو پھر پاکستان کیسے سکون کا سانس لے سکتا ہے ، پاکستان میں فوڈ سیکورٹی سے بھی بہتری آسکتی ہے ، ڈیمز کی کمی کا احساس تو اب قوم کو ہوگیا ہی ہوگا اگرآج کالا باغ ڈیم بنا ہوتا توجس سیلاب نے پاکستان کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے ، اتنا پانی تو کالا باغ ڈیم اپنے اندرسمو لیتا ، بجلی بھی بنتی ، زراعت بھی ترقی کرتی ، سیلاب بھی نہ آتے اور ملک بھی خوشحال ہوتا مگر یہ کون کرے گا اگرحکمرانوں کا یہی انداز رہا وہ خود ہی لوٹ کھسوٹ میں مصروف رہے تو قوم کو کون بچائے گا اس کےلیے قوم کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے