Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اداروں کیخلاف توہین آمیز بیانات رکوانے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی

    اداروں کیخلاف توہین آمیز بیانات رکوانے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی

    سپریم کورٹ میں اداروں کے خلاف توہین آمیز بیانات کا سلسلہ رکوانے کی درخواست دائر کردی گئی ہے.

    مشترکہ درخواست مخلتف شہروں کے چھ شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی ہے، درخواست میں پیمرا، الیکشن کمیشن اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے. جبکہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 19 میں اظہار رائے کی آزادی لامحدود نہیں اور آرٹیکل 19 کے تحت اظہار رائے پر کچھ قدغنیں بھی ہیں۔

    درخواست میں‌ استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت کو توہین آمیز بیانات کا سلسلہ روکنے کیلئے کوڈ آف کنڈیکٹ تیار کرنے کا حکم دیا جائے اور کوڈ آف کنڈیکٹ پر عمل کرکے اداروں کی تضحیک، سرکاری ملازمین کی تضحیک،سرکاری حکام سرکاری ملازمین کی تضحیک کا سلسلہ روکا جائے. جبکہ وفاقی حکومت کو موجودہ اظہار رائے کے قوانین پر نظر ثانی کرنے کا حکم دیا جائے۔

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ: فریقین کو آرٹیکل 19 پر من و عن عمل در آمد یقینی بنانے کا حکم دیا جائے۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے نئے آرمی چیف کےتقررکے حوالے سے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ فوج ادارے کی سینئر قیادت کے بارے میں توہین آمیز اورغیرضروری بیان پر حیران ہے۔

    انٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے ایک بیان میں کہا تھا کہ:’’افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کو بدنام اور کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے جب یہ ادارہ ہر روز پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ کے لیے جانیں دے رہا ہے‘‘۔ آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) کے تقرر پر سینیر سیاست دان کی جانب سے تنازعات پھیلانے کی کوشش انتہائی بدقسمتی کی بات اور مایوس کن ہے کیونکہ اس اعلیٰ عہدے پر تقرر کے طریق کار کی آئین میں اچھی طرح وضاحت کی گئی ہے۔

  • بلاوجہ لوگوں کے خلاف مقدمات درج کرنا اچھی بات نہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ

    بلاوجہ لوگوں کے خلاف مقدمات درج کرنا اچھی بات نہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ

    مسجد نبوی واقعے کے بعد درج مقدمات کیخلاف پی ٹی آئی رہنماؤں کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسجد نبوی واقعے پر درج تمام ایف آئی آرز کا ریکارڈ طلب کرلیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیکریٹری داخلہ کو رپورٹ پیش کرنے کا آخری موقع دیتے ہیں،وہ کام نہ کریں جو ہمیشہ ہوتے رہے ہیں، عدالت نے حکم دیا کہ کسی کو غیر ضروری ہراساں نہ کریں،بلاوجہ ایف آئی آرز درج نہ کریں، بلاوجہ لوگوں کے خلاف مقدمات درج کرنا اچھی بات نہیں ہے ،عدالت نے درخواست گزاروں کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات جمع کرانے کا حکم دے دیا

    درخواست گزار اور سابق وفاقی وزیر شیخ رشید بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے تھے وکیل شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل کےگھر پر کئی بار چھاپے مارے گئے ہیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت صرف اسلام آباد کی حد تک حکم دے سکتی ہے عدالت نے کیس کی سماعت 23 ستمبر تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد فواد چودھری قاسم سوری شہباز گل کے خلاف دفعہ 295 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، مقدمے میں جہانگیر ۔انیل مسرت سمیت دیگر ملزمان کو بھی نامزد کیا گیا ہے مقدمہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں درج کیا گیا ہے ۔مقدمہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے دوران مسجد نبوی میں نازیبا نعروں کو بنیاد بنا کر درج کیا گیا ہے۔ درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ سارا وقعہ منصوبہ بندی ہے تحت ہوا ۔ پی ٹی آئی رہنما وہاں موجود تھے شیخ رشید و دیگر نے منصوبہ بندی کی تھی واقعہ سے مسلمانون کی دل آزاری ہوئی نعرے لگائے گئے جہان عبادت ہوتی ہے پی ٹی آئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ویڈیو شیئر ہوئیں جہانگیر اور انیل مسرت موجود تھے شیخ راشد شفیق کی ویڈیو بھی آئی سارا واقعہ منصوبہ بندی کے تحت ہوا اور اس مجرمانہ فعل میں عمران خان شہباز گل فواد چودھری شیخ رشید قاسم سوری کا کردار ہے ان پر مقدمہ درج کیا جائے پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج 296 کے تحت درج کر لیا ہے پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں نامزد افراد کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے دوران نازیبا واقعہ پیش آیا مسجد نبوی میں نعرے لگائے گیے مریم اورنگزیب شاہ زین بگٹی سے بدتمیزی کی گئی واقعہ کے بعد سعودی حکام نے ایکشن لیا اور چند شرپسندون کو گرفتار کیا ۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ سعودی حکام سے ان افراد کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کریں گے

    توہین مذہب کے مقدمات، شیریں مزاری نے اقوام متحدہ میں مسئلہ اٹھا دیا

    مسجد نبوی کو جلسہ گاہ بنانیوالو شرم کرو، بے حرمتی کا سازشی پکڑا گیا، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، رانا ثناء اللہ نے بڑا اعلان کر دیا

    سینکڑوں پیغامات موصول ہوئے کہ حکومت ایکشن کیوں نہیں لے رہی۔ مریم نواز کا ردعمل

    سعودی عرب میں گرفتاریوں کی ویڈیو

    شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق مسجد نبوی میں واقعہ کی خود نگرانی کرتے رہے

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، مولانا طارق جمیل بھی خاموش نہ رہ سکے

     سابق وزیراعظم عمران خان سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد فواد چودھری قاسم سوری شہباز گل کے خلاف دفعہ 295 کے تحت مقدمہ درج

    مسجد نبوی واقعہ توہین رسالت کے زمرے میں‌ آتا ہے، مبشر لقمان کے فین کی قوم سے اپیل

  • وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام تیز کردیا گیا

    وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام تیز کردیا گیا

    وزیراعظم میاں محمّد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں اور بجلی کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف بحالی کے کاموں کو خود سے مانیٹر کر رہے ہیں، جب کہ اس حوالے سے انہیں روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کی گئی تازہ رپورٹ کے مطابق گوادر سے رتوڈیرو موٹروے ایم 8 کے آپریشنل سیکشنز ٹریفک کیلئے بحال کردیئے گئے ہیں، جب کہ ایم 8 وانگو ہلز کے مقام سے لینڈ سلائڈنگ کلئیر کر دی گئی ہے۔

    خیبر پختونخوا میں تیمر گرہ – باجوڑ 132 کے وی ٹرانسمیشن لائن بحال کردی گئی ہے، جب کہ باجوڑ اور منڈا گرڈ اسٹیشنز پر معمول کے آپریشنز بحال بھی کردیئے گئے ہیں۔ دوسری جانب بھان سعیدآباد کو متبادل ذریعہ سے بجلی سپلائی کی جا رہی ہے۔ وارا کے قصبے کو قمبر گرڈ اسٹیشن سے بجلی سپلائی دی جانے لگی۔ واضح رہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور پاور ڈویژن بحالی کے کاموں پر دن رات معمور ہیں.

    دوسری جانب وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج بروز منگل 13 ستمبر کو اسلام آباد میں ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں چھ نکاتی ایجنڈا زیر غور آئے گا۔ اجلاس میں سیلاب کی صورت حال ، امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

    ایجنڈے کے مطابق حج کوٹہ سے اضافی بکنگ پر تحقیقات سے متعلق فیصلہ ہوگا، جب کہ اس کے علاوہ دس ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کی تجاویزکابینہ میں پیش ہونگی۔ اجلاس میں الیکٹرک پنکھوں کی کم سے کم بجلی کی لاگت کا معیارمقررکرنے کی سمری پیش ہوگی۔ اس کے علاوہ کابینہ کی کمیٹی برائے قانون سازی کے 2 ستمبرکے فیصلوں کی توثیق ایجنڈا میں شامل ہے۔ کابینہ کی کمیٹی برائے نجکاری کے 7 ستمبرکے فیصلوں کی توثیق اور کابینہ کمیٹی برائے ای سی سی کے 8 ستمبرکے فیصلوں کی توثیق ایجنڈ ے میں شامل ہے۔

  • دادو گرڈ اسٹیشن کی حفاظت کیلئے 36 گھنٹوں میں بند باندھنا لائق تحسین. وزیراعظم شہباز

    دادو گرڈ اسٹیشن کی حفاظت کیلئے 36 گھنٹوں میں بند باندھنا لائق تحسین. وزیراعظم شہباز

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ دادو گرڈ اسٹیشن کو محفوظ بنانے کے لئے 36 گھنٹے میں بند باندھنا لائق تحسین ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے بیان میں کہا دادو گرڈ اسٹیشن کی سیلاب سے حفاظت کے لئے سول اور ملٹری حکام کے تعاون سے 36 گھنٹے میں 3 کلومیٹر کا بند باندھنا لائق تحسین اقدام ہے۔


    وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ رتو ڈیرو اور خضدار کے درمیان ایم 8 پر لینڈ سلائیڈنگ ہٹا کر بلوچستان کی آخری شاہراہ کو بھی ٹریفک کے لئے بحال کرنے پر این ایچ اے کی ٹیم کو شاباش دیتا ہوں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم کی ہدایت کے بعد پاکستان آرمی، رینجرز اورسول اداروں کی بروقت کوششوں سے دادو گرڈ اسٹیشن کو ڈوبنے سے بچالیا گیا تھا. ذرائع کے مطابق پاکستان آرمی، رینجرز اور سول اداروں کی مشترکہ کوششوں سے دادو گرڈ اسٹیشن کو ڈوبنے سے بچا لیا گیا تھا۔ دادو گرڈ اسٹیشن کے پاس 36گھنٹے مسلسل کام کے بعد2.4کلو میٹر پروٹیکشن بند بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں دادو گرڈ اسٹیشن سیلابی ریلے سے محفوظ رہا تھا۔ گرڈ اسٹیشن کے اِرد گرد بند بنانے سے نہ صرف گرڈ محفوظ رہا بلکہ علاقے کو بجلی کی فراہمی بھی منقطع نہیں ہوئی تھی۔ دادو گرڈ اسٹیشن کو محفوظ بنانے کے لئے پاکستان آرمی اور انجینئرز کور نے اپنے تمام وسائل استعمال کئے تھے. علاقے کے لوگوں نے بروقت کارروائی کو سراہا تھا.

    خیال رہے کہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے دادو میں سیلابی صورت حال کے پیش نظر 500 کلو واٹ بجلی کی پیداوار کرنے والے گرڈ اسٹیشن کو بچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی تھی. وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے دادو میں سیلابی صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سول اور فوجی حکام کو تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کردی تھی جسکے بعد کام میں تیزی آئی تھی.

  • عمران خان ہرجانہ کیس:  پیش نہ ہونے پر دو ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا گیا

    عمران خان ہرجانہ کیس: پیش نہ ہونے پر دو ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا گیا

    عمران خان پر ہرجانہ کیس میں پیش نہ ہونے پر دو ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا گیا

    پشاور ہائی کورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف پر ہرجانہ کیس میں پیش نہ ہونے پر دو ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا ہے. باغی ٹی وی زرائع کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں ہرجانہ کیس کی سماعت ہوئی جس میں سابق وزیراعظم کی جانب سے کوئی پیش نہ ہوا، جس پر عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی پر دو ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا۔

    وکیل درخواست گزارہ غفران اللہ شاہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ درخواست گزارہ اور گواہان عدالت میں موجود ہے لیکن عمران خان کی طرف سے کوئی پیش نہیں ہوا۔ عمران خان کے خلاف پی ٹی آئی کی سابق ایم پی اے فوزیہ بی بی نے 50 کروڑ روپے ہرجانے کا کیس دائر کر رکھا ہے، کیوں کہ سینٹ الیکشن 2018 میں ووٹ بیچنے کے الزام پر پی ٹی آئی نے فوزیہ بی بی کی پارٹی رکنیت معطل کر دی تھی۔

    فوزیہ بی بی نے سینٹ الیکشن میں ووٹ بیچنے کے الزامات پر عمران خان کے خلاف ہرجانہ کیس دائر کیا ہے، جس میں اب تک 5 گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ عدالت نے عمران خان کی جانب سے کسی کے پیش نہ ہونے پر چیئرمین پی ٹی آئی پر دو ہزار روپے جرمانہ عائد کرکے کیس کی سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کردی ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں دس ستمبر کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے بھی خواجہ آصف کیخلاف 10ارب روپے ہرجانہ کیس میں التواء مانگنے پرعمران خان پر5 ہزارروپے جرمانہ عائد کیا تھا. ایڈیشنل سیشن جج عدنان خان نے عمران خان کے خواجہ آصف کیخلاف 10ارب روپے ہرجانے کیس کی سماعت کی تھی جس میں خواجہ آصف کے وکیل علی شاہ گیلانی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے تھے.

    عمران خان کی جانب سے جلسوں میں مصروفیات کے باعث التوا کی درخواست پر ایڈیشنل سیشن جج نے عمران خان کیخلاف 5 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا تھا. عدالت نے خواجہ آصف کے وکیل کی عمران خان کے بیان پرجرح موخرکرتے ہوئے سماعت 24 ستمبر تک ملتوی کردی تھی. واضح‌کرتے چلیں کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان نے شوکت خانم اسپتال سے متعلق بیان پر خواجہ آصف کے خلاف 15 نومبر 2012 کو ہرجانہ کیس دائرکیا تھا، عمران خان نے گزشتہ برس دسمبر میں ای کورٹ کے ذریعے ٹرائل کورٹ میں بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

    جبکہ ہرجانہ کیس میں 5 گواہوں نے عمران خان کے حق میں بیانات ریکارڈ کروائے تھے، عدالت نے ملزمان کے بیانات پر جرح کا حق ختم کیا تھا، جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے بحال کر دیا تھا۔

  • نیشنل فلڈ ڈیش بورڈ کا مقصد سیلاب سے متعلق آگاہ کرنا ہے. وفاقی وزیر احسن اقبال

    نیشنل فلڈ ڈیش بورڈ کا مقصد سیلاب سے متعلق آگاہ کرنا ہے. وفاقی وزیر احسن اقبال

    نیشنل فلڈ ڈیش بورڈ کا اصل مقصد ملک جاری سیلابی صورتحال سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرنا ہے. وفاقی
    وزیر احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا نیشنل فلڈ ریلیف کورڈینیشن سنٹر میں فلڈ ڈیش بورڈ کے اجراء کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا نیشنل فلڈ ڈیش اور بورڈ کا اصل مقصد ملک جاری سیلابی صورتحال سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرنا ہے. تاکہ جو لوگ موبائل پر سیلابی صورتحال بارے جاننا ہیں انہیں مکمل معلومات فراہم کی جاسکے.

    انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ متاثرین بارے امدادی کاروائیوں سے متعلق اگاہ رہنا چاہتے ہیں انہیں اس پورٹل پر جاکر مکمل معلومات دیکھ سکتے ہیں، انہوں نے کہا ایک تہائی پاکستان اس سیلاب سے متاثر ہوا ہے اور دو تہائی محفوظ ہے لہذا جو لوگ محفوظ ہیں انہیں متاثرین کی مدد کرنی چاہئے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے. اور ان لوگوں کے بارے ضرور سوچیں جو لوگ کھلے آسمان تلے ہیں اور مختلف مسائل کا شکار ہیں.

    وفاقی وزیر نے پاکستان آرمی کے نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان کے نوجوان کی تعریف کروں گا جو اس مشکل گھڑی میں‌ دل اور لگن کے ساتھ سیلاب کے دوران امدادی کاروائیوں میں مصروف عمل ہیں، اور انہوںنے کہا کہ عوام کو بھی چاہئے جو محفوظ ہیں‌ آگے بڑھیں اور متاثرین کی مدد کرنے کی کوشش کریں.

    دوسری جانب نیشنل فلڈ ریسپانس کورڈینیشن سنٹر کے مطابق: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انفراسٹرکچر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ تام کل نقصان شدہ میں 6674.7 کلومیٹر سڑکیں اور 269 پلیں جن پر کام جارہی ہے، اعلامیہ کے مطابق: سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں سندھ کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع ہیں جن میں قمبر شہداد کوٹ، جیکب آباد، لاڑکانہ، خیرپور، دادو، نوشہرو فیروز، ٹھٹھہ اور بدین شامل ہیں۔ جبکہ بلوچستان کے اضلاع میں کوئٹہ، نصیر آباد، جعفرآباد، جھلماگسی، بولان، صحبت پور اور لسبیلہ شامل ہیں۔ اور
    کے پی کے دیر، سوات، چارسدہ، کوہستان، ٹانک اور ڈی آئی خان اور پنجاب میں ڈی جی خان اور راجن پور شامل ہیں۔

    این ایف آر سی سی کے مطابق: اب تک 489 آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹر مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے روانہ کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 4 طیاروں نے اڑان بھری اور 36 پھنسے ہوئے افراد کو نکالا اور 6.35 ٹن امدادی سامان سیلاب متاثرین تک پہنچایا۔ مزید یہ کہ اب تک ہیلی کاپٹر کے ذریعے 4460 پھنسے ہوئے افراد کو نکالا جا چکا ہے۔

    ان ایف آر سی سی کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاک فضائیہ نے سیلاب متاثرین کے لیے 4800 خیمے، 265306 فوڈ پیکجز، 2594 ٹن راشن فراہم کیا ہے۔ مزید یہ کہ پی اے ایف نے 41 میڈیکل کیمپس قائم کیے ہوئے ہیں جہاں اب تک 50029 مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ علاوہ ازیں 19 ٹینٹ سٹی اور 53 ریلیف کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ پی اے ایف نے بھی 246 پروازیں کیں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 1521 افراد کو نکالا۔

  • رانا شمیم نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے غیرمشروط معافی مانگ لی

    رانا شمیم نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے غیرمشروط معافی مانگ لی

    سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی سماعت شروع ہونے پر رانا شمیم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے غیرمشروط معافی جمع کروا دی ہے استدعا ہے کہ غیرمشروط معافی تسلیم کی جائے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے غیرمشروط معافی کے ساتھ بیان حلفی جمع کرایا ہے؟ اس عدالت کے فیصلوں پر تنقید کریں تو یہ عدالت نوٹس نہیں لے گی جب انصاف کی فراہمی کو متنازعہ بنایا جائے گا تو پھر نوٹس لیں گے غیرمشروط معافی عدالت سے متعلق نہیں بلکہ اپنے اقدام کا داغ دور کرنا ہوتا ہے اگر کوئی حقیقی معافی مانگے اور کنڈکٹ درست ہو تو عدالت کو معافی تسلیم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں رانا شمیم اگر اپنے بیان حلفی کے متن کے ساتھ کھڑے ہیں تو پھر بات تو برقرار ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان یا کوئی اور اسلام آباد ہائیکورٹ پر اثرانداز ہو سکتے ہیں یہ تاثر غلط ہے دونوں چیزیں اکٹھی نہیں جا سکتیں اگر آپ کہتے ہیں کہ کوئی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج پر اثرانداز ہوا یہ عوام کا اعتماد اٹھانے کی کوشش ہے جس جج کا بیان حلفی میں نام ہے وہ تو اُس وقت اِس کورٹ میں چوتھے نمبر پر تھے آپ نے سینئر پیونی جج کا لکھا، سینئر پیونی جج کس کورٹ کا؟ یہ تو اب آپ معاملے کو اور متنازعہ بنا رہے ہیں عدالتیں توہین عدالت کی کارروائی میں ہمیشہ بڑے دل کا مظاہرہ کرتی ہیں اگر رانا شمیم بیان حلفی کے ساتھ کھڑے ہیں تو اس عدالت کو اپنے محاسبے کی ضرورت ہے اتنے بڑے اخبار میں خبر لگی تھی اور آج کہہ رہے ہیں کہ میرا حافظہ کمزور ہو گیا تھا یہ اس عدالت کیلئے بہت سنجیدہ معاملہ ہے یہ عدالت کسی کو پریشرائز نہیں کرنا چاہتی جو بھی سچ ہے وہ کہیں، یہ عدالت کسی بھی شخص کیلئے بڑے دل کا مظاہرہ کرتی ہے 2018 کے بعد کوئی اس عدالت پر اثر انداز ہو سکتا ہے تو میں اور اس عدالت کے ججز قابل احتساب ہیں یہ عدالت اس بیان حلفی پر بھی کارروائی کر سکتی تھی لیکن نہیں کریگی غیرمشروط معافی عدالتی انا کیلئے نہیں عدالت بڑے دل کا مظاہرہ کرتی ہے کم از کم اپنی غلطی تو تسلیم کریں انہوں نے آدھی غلطی تسلیم کی اس عدالت پر بہت بڑا الزام لگا جو بھی سینئر پیونی جج تھا الزام اسی عدالت پر رہے گا اگر رانا شمیم کا بیان حلفی سچا ہے تو اس عدالت کے پاس کاروائی آگے بڑھائے بغیر کوئی راستہ نہیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت رانا شمیم صاحب کو بیان حلفی جمع کرانے کیلئے پھر وقت دے سکتی ہے ۔اس عدالت پر جو اتنا بڑا الزام لگایا گیا ہم اسے نظرانداز نہیں کر سکتے یہ عدالت آپکو کچھ نہیں کہے گی ہماری طرف سے کوئی پریشر نہیں یہ توہین عدالت کی کارروائی ہے عدالت کسی کو نقصان نہیں دینا چاہتی ایک ہفتے میں تسلی سے سوچ کر نیا بیان حلفی جمع کرائیں اس عدالت نے آپکو بڑی سادہ اور واضح بات بتا دی ہے عدالت نے رانا شمیم کو دوبارہ جواب جمع کرانے کا موقع دیتے ہوئے سماعت 19 ستمبر تک ملتوی کر دی

    قبل ازیں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے غیرمشروط معافی مانگ لی سابق چیف جج گلگت بلتستان توہین عدالت کیس میں ڈرامائی موڑ سابق چیف جج گلگت بلتستان راناشمیم اپنے بیان حلفی سے منحرف ہوگئے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیا بیان جمع کروادیا اسلام آباد ہائیکورٹ کے موجودہ جج کے خلاف بیان واپس لے لیا

    سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کا کہنا تھا کہ غلط فہمی کی بنیاد پر اسلام آبادہائیکورٹ کے حاضر سروس جج کا نام لے لیا،اپنے آپ کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں، چیف جسٹس کے بعد سینئر ترین جج کا نام بیان حلفی میں لکھنا تھا سینئر ترین جج کی جگہ جسٹس عامر فاروق کا نام بیان حلفی میں غلط فہمی کی بنا پر لکھ دیا لان میں چائے پر ثاقب نثار سے ملاقات کے دوران ان کی گفتگو سنی،

    رانا شمیم نے نوازشریف اور مریم نواز کو الیکشن تک جیل میں رکھنے کا بیان حلفی دیا تھا

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے رانا شمیم پر فرد جرم عائد کی تھی رانا شمیم نے صحت جرم سے انکارکر دیا ،رانا شمیم نے کہا کہ آپ مجھے سنیں تو صحیح ایک ایک کرکے الزامات کا جواب دینا چاہتا ہوں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک تاریخ دے دیتے ہیں،آپ جواب جمع کرادیں انصار عباسی سمیت دیگر میڈیا نمائندوں پر فرد جرم کی کارروائی موخر کر دی گئی تھی

    رانا شمیم پر فرد جرم عائد،انصار عباسی سمیت دیگر میڈیا نمائندوں پر فرد جرم کی کارروائی موخر

    رانا شمیم توہین عدالت کیس، اہم شخصیت بیمار،استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی

    رانا شمیم مشرف طیارہ کیس میں ن لیگ کا وکیل رہا،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

  • میجر راجا عزیز بھٹی شہید نشان حیدر کا 57 واں یوم شہادت

    میجر راجا عزیز بھٹی شہید نشان حیدر کا 57 واں یوم شہادت

    نشان حیدر میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کی 57ویں برسی آج منائی جا رہی ہے ، میجر راجا عزیز بھٹی نے لاہور پر بھارت کے حملے کو پسپا کیا تھا۔

    باغی ٹی وی : آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل ہارون اسحاق راجہ نے گجرات میں میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ پاک فوج کے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پھولوں کی چادر چڑھانے کی تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، سول و عسکری حکام اور شہید کے لواحقین نے شرکت کی۔

    1965 کی پاک بھارت جنگ میں مادر وطن کے دفاع کی خاطر اگلے مورچوں پر اپنی جان قربان کرنے والے شہید راجا عزیز بھٹی 6 اگست1923 کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے تھے اور وہیں سے بی اے کیا، پھر ان کا خاندان پاکستان آ گیا اور ضلع گجرات کے گاؤں لادیاں میں رہائش پذیرہوا عزیز بھٹی نے 1948 میں پاکستانی فوج میں شمولیت اختیار کی۔

    6 ستمبر 1965 کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں ایک کمپنی کی کمان کر رہے تھے میجر راجا عزیز بھٹی 12 ستمبر کو صبح کے ساڑھے نو بجے دشمن کی نقل وحرکت کا دوربین سے مشاہدہ کررہے تھے کہ ٹینک کا ایک فولادی گولہ ان کے سینے کو چیرتا ہوا پار ہوگیا، انہوں نے برکی کے محاذ پر جام شہادت نوش کیا۔

    میجر راجا عزیز بھٹی کی جرات و بہادری پر انہیں نشان حیدر سے نوازا گیا تھا، راجا عزیز بھٹی شہید یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاکستان کے تیسرے سپوت تھے۔

  • عدالت اداروں کے تحفظ  کیلئے ذرا ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوگی، چیف جسٹس

    عدالت اداروں کے تحفظ کیلئے ذرا ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوگی، چیف جسٹس

    خوشی ہے زیرالتوامقدمات کی تعداد 50 ہزار 265 تک نیچے آ گئی، چیف جسٹس
    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چارج سنبھالا تو فوری فراہمی انصاف، زیر التوا مقدمات کے چیلنجز درپیش تھے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ از خود نوٹس کے اختیارات کا استعمال بھی ایک چیلنج تھا،خوشی ہے کہ زیر التوامقدمات کی تعداد50 ہزار 265 تک نیچے آ گئی ہے،صرف جون سے ستمبر تک 6 ہزار 458 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا،زیر التوا مقدمات کی تعداد میں کمی نے گزشتہ 10 سالہ اضافے کے رحجان کو ختم کیا،ججز نے اپنی چھٹیوں کو قربان کیا،آئندہ 6 ماہ میں مقدمات کی تعداد 45 ہزار تک لے آئیں گے ،فراہمی انصاف کے متبادل نظام سے زیر التوا مقدمات میں 45 فیصد تک کمی آئے گی،ججز تقرریوں کے سلسلے میں بار کی معاونت درکار ہے،آبادی میں اضافے سے متعلق کیس کو جلد سنا جائے گا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آئین کا ہر تناظر میں تحفظ کرنے کیلئے پرعزم ہے،سپریم کورٹ عدلیہ، افواج اور الیکشن کمیشن کاآئینی تحفظ کرنے کیلئے پرعزم ہے،پارلیمان وفاقی اور صوبائی قانون ساز اسمبلیوں کاتحفظ یقینی بنایا جائے گا، ماتحت، اعلیٰ عدلیہ، آڈیٹر جنرل اور سروسز آف پاکستان کا بھی تحفظ یقینی بنایا جائے گا،آئینی اداروں کونیچا دکھایا گیا تویہ عدالت اداروں کے تحفظ کیلئے ذرا ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوگی، سپریم کورٹ ملک میں جاری حالیہ سیاسی چیلینجز اور معاشی حالات کی سنگینی سے بھی آگاہ ہے، ملک میں اس وقت بدترین سیلابی صورتحال کے سبب تین کروڑ تیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، ملک کا ایک تہائی حصہ سیلاب سے متاثر ہے، سپریم کورٹ کے ججز نے رضاکارانہ طور پر سیلاب زدگان کے لئے تین دن کی تنخواہ عطیہ کی ہے، سپریم کورٹ سٹاف نے بھی دو دن کی تنخواہ سیلاب متاثرین کے لیے عطیہ کی ہے،سیلابی صورتحال کے تناظر میں تمام سیاسی جماعتیں، ان کے قائدین، فیصلہ ساز، مراعات یافتہ طبقہ اپنے اختلافات ایک طرف کرکے متحد ہو،وقت آ گیا ہے کہ ذاتی ایجنڈوں کو بالائے طاق رکھ کر قوم کی بہتری کے لیے کام کیا جائے،سپریم کورٹ آئین اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کام جاری رکھے گی، اسی حوالے سے پاکستان کے قیام کے پچھتر سال پورے ہونے پر لاء اینڈ جسٹس کمیشن میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا،کانفرنس میں عدلیہ کے کردار کی ادائیگی پر بحث کی جائے گی، جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے، پر امید ہوں کہ اللّٰہ ہماری مخلصانہ کوششوں کو فائدہ مند بنائے گا،

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    قبل ازیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی توجہ ایک بار پھر ایک اہم آئینی و عدالتی معاملے کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں جو کہ اعلی عدلیہ میں تعیناتیوں سے متعلق ہے ۔ ماضی قریب میں عدالت عظمی کے معزز جج صاحبان کی ریٹائرمنٹ کے سبب اس وقت عدالت عظمی میں معزز جج صاحبان کی تعداد محض 12 تک محدود ہو چکی ہے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر وکلاء تنظیموں کی جانب سے عدالت عظمی میں ہونے والی تقرریوں کی بابت قراردادیں ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ ہم آج ایک بار پھر اپنے ماضی کے مطالبات کی روشنی میں گزارش کرتے ہیں کہ جناب چیف جسٹس آف پاکستان اور جوڈیشل کمیشن کے ممبران ، معزز جج صاحبان اور وکلا تنظیموں کے مقرر کردہ نمائندوں کی مشاورت سے تعیناتی کے میعار کو Notify کیا جائے تاکہ اس اہم مسئلہ کا احاطہ ایسی بنیاد پر کیا جائے جس سے کسی بھی مکتبہ فکر کو عدلیہ کے ادارے پر انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے اور تاریخ کا دھارا ہمیشہ کے لئے درست سمت موڑا جا سکے۔اس ضمن میں بہتر ہو گا کہ افہام و تفہیم کے کارگر اصول پر عمل کرتے ہوئے تمام معاملات کا موزوں حل تلاش کیا جائے تاکہ ادارے کے وقار اور تکریم کو برقرار رکھا جا سکے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان اور تمام وکلا برادری، اعلی عدلیہ اور لوئر جوڈیشری کے ججز اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف ہونے والے جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈہ اور سوشل میڈیا کمپین کے ذریعے ان کی کردار کشی کی مذموم کوششوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔اس ملک کے نظا ِم انصاف سے جڑے تمام ججز ہمارے لئے نہ صرف انتہائی محترم و مکرم ہیں بلکہ ملکی سالمیت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے ہیں۔ جن کے خلاف کسی قسم کی بھی توہین آمیز گفتگو ناقابل برداشت ہے۔

  • عمران خان عدالت پیش،عمران خان نے انویسٹی گیشن جوائن نہیں کی، پراسیکیوٹر

    عمران خان عدالت پیش،عمران خان نے انویسٹی گیشن جوائن نہیں کی، پراسیکیوٹر

    اے ٹی سی اسلا م آباد،خاتون جج کو دھمکی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اے ٹی سی اسلام آباد پہنچ گئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کمرہ عدالت میں موجود تھے، وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہم نے اپنا بیان بھیجا تھا پولیس نے کیوں چھپایا ،کیا تفتیش میں شامل ہونے کے لیے تھانے جانا ضروری ہے ؟ پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ عمران خان نے انویسٹی گیشن جوائن نہیں کی،بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان شامل تفتیش ہو چکے، تحریری بیان تفتیشی افسر کے پاس ہے،تحریری بیان کیا پرائیویٹ کھاتا ہے جوسنبھال کر جیب میں رکھا ہوا ہے،کہاں لکھا ہے کہ ذاتی حیثیت میں پیش ہونا ہوتا ہے،پراسیکیوٹررضوان عباسی نے کہا کہ جے آئی ٹی نے عمران خان کو ذاتی طورپر طلب کیا، جے آئی ٹی نے عمران خان کو 3 نوٹس جاری کیے پہلے نوٹس پر عمران خان نے وکیل کے ذریعے جواب جمع کرایا، وکیل بابر اعوان نے کہا کہ سوالات کا جواب دینا ضروری ہوتا ہے،قانون میں کہاں لکھا ہے تھانے میں پیش ہونا ضروری ہے آپ نے صبح خود لکھا کہ تفتیش میں خامی ہے، آپ کی زبان پر قانون جاری تھا، لوگ تھانے جاتے اور فائرنگ میں مار دیئے جاتے پولیس والے بھی ساتھ جاں بحق ہوتے ،کوئی مجھے لکھ کر دے کہ تھانوں میں عمران خان محفوظ ہیں،تفتیشی افسر کی خامیوں کی وجہ سے مقدمات خراب ہو جاتے ہیں عمران خان کیخلاف دہشتگردی کے مقدمے میں عمران خان کا بیان چھپانے پر تفتیشی کو سزا ہو سکتی ہے،جس پر جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بالکل ایسا ہو سکتا ہے قانون میں اس کی گنجائش موجود ہے،

    وکیل بابر اعوان نے کہا کہ بیان لکھ کر دیا گیا اسکو ریکارڈ پر ہی نہیں لایا گیا،آپ نے کہا بیان کو تفتیش کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا،یہ آپ نہیں کہہ رہے تھے یہ قانون کہہ رہا تھا، پولیس نے ضمنی میں بیان کو کیوں نہیں لکھا، پولیس نے لکھا کہ میں شاملِ تفتیش نہ ہوا اور اپنا موقف بھی پیش نہیں کیا ،وکیل بابر اعوان نے کہا کہ پولیس نے غلط بیانی کی میں تفتیشی افسرکے خلاف درخواست دونگا یہ بتائیں کیوں تھانے بلا رہے ہیں، جے آئی ٹی اور تفتیشی افسر کو دو مرتبہ بیان لکھ کر دیا، جب سے یہ پولیس آئی ہے وکلا کو تھانوں میں جانا پڑ رہا ہے،وکلا تھانے گئے تو کہا کہ چیف کمشنر کے آڈیٹوریم آئیں، میں نے عمران خان سے پوچھے بغیر آفر کی کہ انویسٹی گیشن کرنی ہے تو عدالتی احاطہ میں کر لیں،یہ طے کر لیں کہ تفتیش کرنی ہے یا ہراسمنٹ چاہتے ہیں،یہ کہتے ہیں کہ عمران خان کے الفاظ سے ڈر گئے، عمران خان کی تقریر پر پابندی لگی پیمرا کہتا ہم نے نہیں لگائی،ہائیکورٹ نے پابندی ہٹانے کا حکم دیا تو یوٹیوب بند کر دی گئی،کیا دنیا میں کبھی ایسا ہوا کی کسی کی تقریر کو بین کرنےکے لیے یوٹیوب بند کردی گئی،

    پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم ابھی ملزم کے تفتیش جوائن کرنے کی بات کر رہے ہیں، جے آئی ٹی یا تفتیشی افسر نے ہی طے کرنا ہے کہ تفتیش کا طریقہ کون سا ہو گا، بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان کی پیشی پر میڈیا کو دکھانے کے لیے 2000 کی نفری لگاتے ہیں ،یہ عمران خان کی سیکیورٹی کے لیے نہیں انہیں گھیرنے کے لیے لگائی جاتی ہے،اے ٹی سی اسلا م آباد میں خاتون جج کو دھمکی سے متعلق کیس کی سماعت 20 ستمبرتک ملتوی کر دی گئی، عمران خان کی عبوری ضمانت میں 20 ستمبر تک توسیع کردی گئی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت آئندہ سماعت پر ضمانت کی درخواست نمٹا دے گی،تفتیش کی ا سٹیج پر عدالت مداخلت نہیں کیا کرتی، ہم تجویز بھی نہیں دینگے، آپ فریقین آپس میں طے کر لیں کہ کہاں شامل تفتیش ہوا جا سکتا ہے، بابر اعوان نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا دفتر بھی ہو سکتا ہے ہم وہاں کیلئے تیار ہیں،

    قبل ازیں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان عدالت پہنچے تو صحافیوں نے عمران خان سے سوال کئے، اس موقع پر میڈیا سے چلتے ہوئے عمران خان نے مختصر گفتگو کی، عمران خان کا کہنا تھا کہ نوازشریف اور الطاف حسین سے میرا موازنہ نہ کریں،جیل میں تشددجیل کی تصدیق سپریٹنڈنٹ کرتا ہے ،اس آدمی کو ریمانڈ پرتشدد کرنے والوں کے پاس دوبارہ بھیج دیا جاتا ہے دہشتگردی کے قانون کا مذاق بنا دیا گیا ہے،یہ پاکستان اور دہشت گردی کے قانون کی توہین ہے

    قبل ازیں اسلام آباد پولیس نے صحافیوں کو عدالت جانے سے روک دیا چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے ،اے ٹی سی جج نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان شامل تفتیش ہو گئے ہیں؟ وکیل نے کہا کہ ہم نے تفتیش جوائن کر لی تھی عمران خان کی گاڑی جوڈیشل کمپلیکس کے احاطے میں داخل کرنے کی استدعا منظور کر لی گئی،عدالت نے عمران خان کی گاڑی جوڈیشل کمپلیکس میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ،جج اے ٹی سی اسلا م آباد راجہ جواد عباس نےوکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کہتے ہم اجازت دے دیتے.وکیل بابر اعوان نے کہا کہ اس سے پہلے بھی گاڑی جوڈیشل کمپلیکس بھی نہیں آنے دی گئی، ہر روز کہا جاتا ہے فلاں تنظیم عمران خان کے پیچھے لگی ہوئی ہے،جج نے وکیل کو ہدایت کی کہ گاڑی کے ساتھ عوام بہت ہو جاتی ہے یہ خیال کیجئے گا زیادہ رش نہ ہو،

    عدالت نے کہا کہ ہمارے پراسیکیوٹر کدھر ہیں؟پہلے بھی 2 پراسیکیوٹرز کو ڈی نوٹیفائی کیا جا چکا ہے،آپ بہت جلدی ڈی نوٹیفائی کر دیتے ہیں، وکیل بابر اعوان نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقدمہ اخراج کی درخواست پر نوٹس ہو چکا ہے،پولیس نے ہائی کورٹ کو غلط بتایا کہ عمران خان شامل تفتیش نہ ہوئے،عدالت نے کہا تفتیشی افسر تفتیش میں پیش رفت سے آگاہ کرے،

    تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ عمران خان کو تین نوٹس بھجوائے ہیں، ابھی تک شامل تفتیش نہیں ہوئے، وکیل کے ذریعے ایک بیان آیا تھا جس پر کہا تھا کہ وہ خود پیش ہوں،جج راجہ جواد عباس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تک بیان پہنچا جسے آپ نے ریکارڈ کا حصہ ہی نہیں بنایا، اس سے تو آپ کی بدنیتی ثابت ہوتی ہے،جے آئی ٹی کی تشکیل پر عدالت کی رہنمائی کریں،ایف آئی آر کے اندراج کو کتنے دن ہوئے اور جے آئی ٹی تاخیر سے کیوں بنی؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم آئے اور تفتیش کو جوائن کرے،جج نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ اب یہ آئے اور جائے یہ کدھر لکھا ہے، عدالت نے بابر اعوان کو آج دلائل دینے کا حکم دے دیا، عدالت نے کہا کہ اس کیس کی وجہ سے دیگر کیسز زیرالتوا رکھنے پڑتے ہیں،
    ملزم کو لے آئیں تاکہ دلائل مکمل ہو سکیں، بابر اعوان نے کہا کہ مجھے سیکورٹی خدشات ہیںمجھے پولیس پر اعتماد نہیں پہلے ہی پاکستان کے وزرائے اعظم مارے جا چکے ہیں، ابھی تک پولیس کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی،

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف 20 اگست کو اسلام آباد میں اپنی تقریر میں توہین آمیز زبان استعمال کرنے اور ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو دھمکیاں دینے کے الزام میں تھانہ مارگلہ میں دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تاہم خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے سابق وزیراعظم عمران خان کی دہشت گردی کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی تھی اور بعد میں توسیع بھی دی تھی.

    یہ بھی پڑھیں: الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش