Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ملکہ برطانیہ کے انتقال کے بعد شہزادہ چارلس بادشاہ بن گئے

    ملکہ برطانیہ کے انتقال کے بعد شہزادہ چارلس بادشاہ بن گئے

    ملکہ برطانیہ کے انتقال کے بعد اُن کے سب سے بڑے بیٹے شہزادہ چارلس برطانیہ کے بادشاہ بن گئے۔نئے شاہ برطانیہ چارلس نے اپنے بیان میں کہا کہ پیاری والدہ کا انتقال خاندان کے تمام افراد کے لیے بڑا دکھ کا لمحہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جانتا ہوں اس نقصان کو ملک، دولت مشترکہ کے ممالک کے علاوہ دنیا بھر میں کیسا محسوس کیا جائے گا۔اہلِ خانہ اور مجھے یہ بات تقویت دے گی کہ ملکہ کو ہر ایک سے عزت اور گہری محبت ملی۔نو منتخب برطانوی وزیراعظم لز ٹرس نے کہا کہ ملکہ ایلزبتھ وسیع تر برطانیہ کی روح تھیں۔

    دوسری طرف برطانیہ نے ملکہ کے انتقال پر 10 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق ملکہ کی تدفین لندن برج آپریشن کے منصوبے کے تحت سر انجام پائے گی،ملکہ کے تابوت کو شاہی ٹرین پر سینٹ پینکراس ریلوے اسٹیشن لندن منتقل کیاجائے گا اور پھر ریلوے اسٹیشن سے تابوت بکنگھم پیلس لایا جائے گا۔

    رپورٹس کے مطابق ملکہ کی آخری رسومات دس روز بعد ویسٹ منسٹرا بے پر ادا کی جائیں گی اور ملکہ کی آخری رسومات کے وقت دو منٹ خاموشی اختیار کی جائے گی اور پھر ملکہ کو کنگ جارج ششم میموریل چیپل ونڈزر میں سپردخاک کیا جائے گا۔برطانوی میڈیا کے مطابق ملکہ کی آخری رسومات کے روز قومی تعطیل ہوگی۔ملکہ کو سپرد خا ک کیے جانے کے دن لندن اسٹاک،بینک اور تمام اہم ادارے بند رہیں گے۔

  • عمران خان پر فرد جرم عائد،خطرناک یا زہریلا:عدالت فیصلہ کرے گی :مبشرلقمان

    عمران خان پر فرد جرم عائد،خطرناک یا زہریلا:عدالت فیصلہ کرے گی :مبشرلقمان

    لاہور:عمران خان پر اسلام اباد ہائی کورٹ نے فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں 22 ستمبر کا دن مقرر کیا ہے ، کیا یہ فرد جرم عائد کرنے سے عمران خان زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے یا زہریلے اس کا فیصلے کے بعد پتہ چل جائے گا ، تاہم یہ طئے ہے کہ عدالت عمران خان پر فرد جرم ضرور عائد کرے گی

    اس حوالے سے سنیئر صحافی مبشرلقمان نے اپنے پروگرام میں‌ آج کی سماعت کے قانونی اور عمران خان کی دھمکیوں کے اخلاقی پہلووں پرروشنی ڈالی ہے مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عمران خان نے اسلام آباد کی ایک ماتحت عدالت کی خاتون جج زیبا کے خلاف سخت زبان استعمال کی اور پھر آئی جی اسلام آباد اور دیگرافسران کو دھمکیاں دٰیں ، ان کا کہنا تھا کہ یہ کھلم کھلا عدالتی معاملات کوثبوثاژ کرنے کی ایک کوشش ہے

    مبشرلقمان آج اسلام آباد ہوئی کورٹ میں ہونے والی سماعت کےحوالےسے کہا کہ ریمارکس سے تو صورتحال پریشان کن لگ رہی تھی ، چیف جسٹس اطہر من اللہ اور ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے جج بابر ستار نے عمران خان کی اسلام آباد کی اس تقریر کو خطرناک قرار دیا ، ان کا کہنا تھا کہ اگرعمران خان کے خلاف فیصلہ آتا ہے تو پھر کیا پھر ملک میں‌سخت ردعمل آئے گا

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ عمران خان کی اپنی کمائی ہے جنہوں نے انا کر خاطرعدالتوں‌ کو بھی معاف نہ کیا اور اگرفیصلہ مخالفت میں آیاا تو پھر عدالتوں پر ہی چڑھاہئی کردی ، مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان تو جان بوجھ کراس معاملے کو خراب کرنےپر تلا ہوا ہے ، اس کوایسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے تھا

    مبشرلقمان نے کہا کہ اج کے ریمارکس سے صورت حال واضح ہوگئی ہے کہ عدالت یہ توہین اور دھمکیاں برداشت نہیں‌کرے گی اور عمران خان کو ضرور سزا ملے گی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے بعدپھرپاکستان اوربیرون ملک سے ایک سخت ردعمل کا بھی اندیشہ ہے جس میں عمران خان کو سپورٹ کرنے والی بیرونی قوتیں بھی شامل ہوں گی

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عمران خان میں نہ مانوں کی رٹ لگا رہا ہےلیکن اب ماننا پڑے گا م عمران خان آج عدالت میں پیش ہوئے ، وکلا نے دلائل دیئے لیکن عمران خان نے بجائے معذرت کرنے کے وہاں اپنے بیان سے پیچھے ہٹنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی ، اس کا صاف مطلب ہےکہ عمران خان پر فرد جرم عائد ہو جائے گی

  • ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

    ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

    برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوئم 96 سال کی عمر میں چل بسیں۔


    برطانوی میڈیا کے مطابق شاہی محل بکنگھم پیلس نے ملکہ برطانیہ کے انتقال کا اعلان کردیا ہے۔شہزادہ چارلس برطانیہ کے آئندہ بادشاہ بن جائیں گے۔

    برطانوی حکومت نے ملکہ برطانیہ کے انتقال پر دس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات آج لندن میں اد ا کی جائیں گی.

    رپورٹ کےمطابق ان کے بچے پہلے سے ہی بالمورل کی طرف روانہ ہو چکے تھے، جن میں ولی عہد 73 سالہ شہزادہ چارلس، 72 سالہ شہزادی عینی، 72 سالہ شہزادہ اینڈریو اور 58 سالہ شہزادے ایڈورڈ شامل ہیں۔

    ان کے ہمراہ شہزادہ چارلس کے بڑے صاحبزادے شہزادہ ولیم، ان کے چھوٹے بیٹے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن بھی شامل ہیں، جو شاہی زندگی کو ترک کر کے امریکا جانے کے بعد غیر معمولی دورے پر برطانیہ آئے ہیں۔


    رائل فیملی کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بتایا گیا کہ ملکہ الزبتھ کا انتقال ہو گیا ہے،برطانوی ملکہ اور بادشاہ فی الحال بالمورل میں رہیں گے، اور کل لندن روانہ ہوں گے۔

    اس سے قبل بکنگھم پیلس سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ملکہ برطانیہ طبیعت خراب ہونے کے باعث بیلمورل کاسل میں زیرِ علاج تھیں۔ ڈاکٹروں کی جانب سے ملکہ کی صحت کے بارے میں تشویش ظاہر کیے جانے کے بعد طبی نگہداشت میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ مزید جائزہ لینے کے بعد ملکہ کے ڈاکٹر اُن کی صحت کے بارے میں فکرمند تھے اور انھوں نے ملکہ کو طبی نگہداشت میں رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ نے بتایا تھا کہ برطانیہ کے سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والی 96 سالہ ملکہ برطانیہ گزشتہ اکتوبر سے صحت کے مسائل سے دوچار ہیں، انہیں چلنے اور کھڑے ہونے میں مشکلات درپیش ہیں۔

    برطانوی وزیر اعظم لِز ٹرس نے کہا تھا کہ خبر کے باعث پورے ملک میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ میری اور پورے ملک کی نیک تمنائیں ملکہ اور ان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔

    ملکہ ایلزبتھ دوم کا مکمل نام ایلزبتھ الیگزینڈرا میری تھا، وہ مملکت متحدہ کی ملکہ اور دولت مشترکہ قلمرو کی آئینی ملکہ ہیں۔ ملِکہ ایلزبتھ 21 اپریل 1926 کو لندن میں پیدا ہوئیں اور ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ 1947 میں ان کی شادی شہزادے فلپ کے ساتھ ہوئی، جن سے 4 بچے ہیں۔ جب ان کے والد بادشاہ جارج ششم کا 1952 مین انتقال ہوا، تب ایلزبتھ دولتِ مشترکہ کی صدر اور مملکت متحدہ، کناڈا، اوسٹریلیا، نیو زیلینڈ، جنوبی افریقا، پاکستان اور سری لنکا کی حکمران بن کئیں۔ ان کی تاجپوشی سال 1953 میں ہوئی اور یہ اپنی طرح کی پہلی ایسی تاج پوشی تھی جو ٹیلی ویژن پر نشر ہوئی۔ 9 ستمبر 2015 کو انھوں نے ملِکہ وِکٹوریا کے سب سے لمبے دورِ حکومت کے ریِکارڈ کو توڑ دیا اور برطانیہ پر سب سے زیادہ وقت تک حکومت کرنے والی ملِکہ بن گئیں۔ وہ پورے عالم میں سب سے عمردراز حکمران اور سب سے لمبے وقت تک حکومت کرنے والی ملِکہ ہیں۔

    1936ء میں جب ایلزبتھ کے والد پرنس البرٹ اپنے بھائی کے تخت چھوڑنے کے بعد بادشاہ بنے، تو ایلزبتھ ان کی ولی عہد بن گئی۔

    2 جون 1953ء کو ویسٹ منسٹر ایبے، لندن میں تخت نشینی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ملکہ ایلزبتھ باقاعدہ طور پر مملکت متحدہ، کناڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، پاکستان اور سری لنکا کی حکمران بن گئیں۔

    6 فروری 1952 کو پاکستان کے بادشاہ جارج ششم کی موت کے بعد ان کی بیٹی شہزادی الزبتھ پاکستان کی نئی حکمران بن گئیں۔ ملکہ الزبتھ کو پاکستان سمیت اپنے تمام علاقوں میں ملکہ قرار دیا گیا تھا۔ پاکستان میں 8 فروری کو گورنر جنرل نے اعلان کیا کہ ملکہ معظمہ الزبتھ دوم اب اپنے علاقوں اور ریاستوں کی ملکہ اور دولت مشترکہ کی سربراہ بن گئی ہیں۔ انہیں پاکستان میں 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔

    مورخ اینڈریو میچی نے 1952 میں لکھا تھا کہ ملکہ الزبتھ برطانیہ کا تو چہرہ تھی ہیں ساتھ ہی وہ برابری سے پاکستان کا بھی چہرہ تھی، 1953 میں ملکہ الزبتھ کی تاجپوشی کے دوران انہیں پاکستان کی ملکہ اور دولت مشترکہ قلمرو کا تاج پہنایا گیا۔ ملکہ نے تاجپوشی کے دوران یہ حلف لیا کہ وہ پاکستان کی عوام پر لوگوں کے متعلقہ قوانین اور رواج کے مطابق حکومت کریں گی۔

    ملکہ کے تاجپوشی گاؤن پر ہر دولت مشترکہ قوم کے نشانیاں سے کڑھائی کی گی تھی۔ شاہی گاؤن میں پاکستان کے تین نشانات نمایاں تھے: ہیرے اور سنہرے کرسٹل کے بنے گندم ، چاندی اور سبز ریشم اور پٹ سن سے بنا کپاس ، اور سبز ریشم اور سنہرے دھاگے سے بنا پٹ سن۔ پاکستان کے وزیر اعظم محمد علی بوگرا نے بھی اپنی اہلیہ اور دو بیٹوں کے ساتھ لندن میں تاجپوشی کی تقریب میں شرکت کی۔ تاجپوشی کی پریڈ میں پاکستانی فوجیوں اور جہازوں نے بھی حصہ لیا۔

    23 مارچ 1956 کو جمہوریہ آئین کو اپنانے پر پاکستانی بادشاہت ختم کر دی گئی۔ تاہم پاکستان دولت مشترکہ کے ممالک میں ایک جمہوریہ بن گیا۔ ملکہ الزبتھ نے صدر مرزا کو ایک پیغام بھیجا جس میں انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کے ملک کے قیام کے بعد سے اس ملک کی ترقی کو گہری دلچسپی کے ساتھ پیروی کی ہے۔ میرے لیے یہ جان کر بہت اطمینان کا باعث ہے آپ کا ملک دولت مشترکہ میں رہنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مجھے یقین ہے پاکستان اور دولت مشترکہ کے دیگر ممالک ترقی کرتے رہیں گے اور ان کی باہمی رفاقت سے فائدہ اٹھائیں گے۔

    ملکہ نے 1961ء اور بعد میں 1997ء میں پاکستان کی آزادی کی گولڈن جوبلی کے موقع پر پاکستان کا دورہ کیا۔ ان کے ساتھ شہزادہ فلپ ، ڈیوک آف ایڈنبرا بھی تھے۔

  • مخالفین الیکشن سےبھاگ گئے،عمران خان،الیکشن ملتوی ہونے پر مایوسی ہوئی،بلاول بھٹو

    مخالفین الیکشن سےبھاگ گئے،عمران خان،الیکشن ملتوی ہونے پر مایوسی ہوئی،بلاول بھٹو

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مخالفین الیکشن سےبھاگ گئے ہیں، مجھے پورا یقین تھا جلسے دیکھ کران کی کانپیں ٹانگنا شروع ہوگئی تھیں، ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن، انتظامیہ، مسٹرایکس کی مدد کے باوجود ان کا الیکشن میں صفایا ہو گیا، اب یہ ڈر رہے ہیں اگر اتوار کو الیکشن ہو جاتا تو ان کی تین وکٹیں مزید گر جانی تھیں،میرا چیلنج ہے جب بھی 9 حلقوں میں الیکشن ہو گا، تمام سیٹیں پی ٹی آئی جیتے گی، یہ اپنے امپائر ہونے کے باوجود نہیں جیت سکتے۔یہ ہارنے کے خوف سے وکٹیں اٹھا کر لے گئے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملتان کے جذبے اورجنون کوسلام پیش کرتا ہوں، خواتین کو بھی سلام پیش کرتا ہوں،مہر بانو قریشی کا مخالف امیدوار پیسے کی پوجا کرتا ہے،کبھی پیسے کی پوجا نہیں کرنی،آجکل میرے ایم پی ایز کو پارٹی چھوڑنے کے لیے دھمکیاں دی جارہی ہیں،اینکرز، صحافیوں کو ڈرایا جا رہا ہے، پیسے کے بت کے علاوہ ایک خوف کا بت بھی ہے،خوف کے بت سے ڈرنے والا کبھی بڑا کام نہیں کر سکتا، ہم نے رحمت اللعامین اتھارٹی بنائی تاکہ بچوں کونبی کی زندگی بارے پتا چلے،مدینہ کی ریاست دنیا کا سب سے بڑا انقلاب تھا۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ اپنے نبی ﷺ کے راستے پر چلو، میری کوشش ہے ہم اپنے نبی ﷺکے راستے پر چلیں، نبی ﷺ کے راستے پر چل کر ہم ایک عظیم قوم بن سکتے ہیں،ہم نے حقیقی آزادی لیکر ملک کو آزاد کرنا ہے،زرداری، نوازشریف ملک کا پیسہ 30 سال سے لوٹ رہے ہیں،یہ وہ لوگ ہے جو بیرونی ملکوں کے حکم پر ہمارے فیصلے کرتے ہیں،یہ امریکی سازش کے تحت اقتدار میں آئے،یہ روس سے سستا تیل نہیں لے سکتے کیونکہ اپنے آقا سے ڈرتے ہیں۔

    ی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے ملک کواپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہو گا، جب تک اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوتے ہرے پاسپورٹ کی عزت نہیں ہو گی، دو ماہ میں پاکستان کی معیشت نیچے جا رہی ہے، بجلی، ڈیزل کی قیمت دُگنا ہو چکی ہے، کسان کا برا حال ہے، ملک میں انڈسٹری بند اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے، ہمارے دورمیں ریکارڈ ایکسپورٹ ہو رہی تھی، ہمارے دورمیں چار بڑی فصلوں کی تاریخی پیداوار ہوئی، ہماری حکومت میں کسانوں کو پہلی دفعہ پورا معاوضہ دیا گیا، ہماری حکومت نے ہر خاندان کو 10 لاکھ کی انشورنس دی۔

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین اور وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک بھر میں قومی اور صوبائی سطح پر تمام ضمنی الیکشن ملتوی کرنے کے اعلان پر مایوسی کا اظہار کردیا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے لکھا کہ عمران خان آخر کب تک لاڈلہ رہے گا؟ میرے ملتان اور کراچی کے امیدوار ضمنی انتخابات کے اچانک التواء سے مایوس ہوئے ہیں، وہ طویل عرصے سے نمائندگی سے محروم اپنے حلقہ انتخابات میں خدمات سرانجام دینا چاہتے ہیں۔

    وفاقی وزیر نے اپنے ٹوئٹ میں مزید لکھا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی کہ بالکل آخری لمحات میں پی ٹی آئی کو انتخابات سے فرار کا راستہ مہیا کیا جاتا۔

  • عمران خان تمہیں سیاسی میدان میں  تمہارے گھر تک چھوڑ کر آوں گی،مریم نواز

    عمران خان تمہیں سیاسی میدان میں تمہارے گھر تک چھوڑ کر آوں گی،مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز بہاولنگر کے علاقے چشتیاں میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لندن سے نواز شریف نے چشتیاں کیلئے خصوصی سلام بھیجا ہے،نواز شریف ووٹ کو عزت دو کی مہم چلارہے تھے،چشتیاں والوں کی محبت اور شفقت ہمیشہ یاد رہے گی ،چشتیاں نواز شریف کا تھا ،ہے اور رہے گا.

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ چشتیا ں شیر کا تھا ،ہے اور رہے گا ،نواز شریف کو ایک بار بھی مدت پوری کرنے نہیں دی گئی،3بار کےمنتخب وزیراعظم کو ایک بار بھی مدت پوری کرنے نہیں دی گئی،میں جس انسان کی شکل دیکھنا گوارا نہیں کرتی مجھے اس کے بارے میں بات کرنی پڑتی ہے،یہ جو بھی کر لیں ، اس کا انجا م بہت برا ہوگا،نواز شریف کے منصوبے گننے شروع کروں تورات کے بارہ بج جائیں گے.

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کوئی منصوبہ تو کیا کبھی اینٹ تک نہیں لگائی ،عمران خان کی تقریر نواز شریف پر شروع اور نواز شریف پر ختم ہوتی ہے،میں تمہارے اوپر کوئی ذاتی حملہ نہیں کروں گی،میں تمہیں سیاسی میدان میں تمہارے گھر تک چھوڑ کر آوں گی،سیاسی میدان میں مریم نواز شریف تمہیں نہیں بخشے گی،پیٹرول مہنگا کرنے کی مخالفت کی تھی،عمران خان سیاست دان ہے نا ہی اس کی جماعت سیاسی ہے، عمران خان فتنہ یا انتشار نہیں ملک کی سب بڑی تباہی ہے.

    مریمنواز نے کہا کہ ملک میں سیلاب نے تباہی مچا دی،شہباز شریف اس کی لگائی ہوئی آگ کو بجھانے کی کوشش کررہے ہیں،شہباز شریف ہر روز سیلاب زدگان کے درمیان موجود ہوتے ہیں، عمران خان دکھاوے کیلئے سیلاب متاثرین میں گیا،کل عمران خان نے کہا مسلم لیگ ن کو ووٹ دینا گناہ کے برابر ہے، مسلم لیگ ن پاکستان کو بنانے اور سنوارنے والی جماعت ہے،کوئی بھی پاکستانی اپنے شہدا کی توہین برداشت نہیں کر سکتا، آئی ایم ایف سے معاہدہ عمران خان نے توڑا،قیمت پورا ملک ادا کر رہا ہے،ملکی معیشت بہتری کی طرف جا رہی ہے،اس کی دوبارہ اقتدار میں آنے کی خواہش منوں مٹی تلے دب کر رہے گی،

  • الیکشن کمیشن نے  ملک بھر میں قومی اور صوبائی سطح پر تمام ضمنی الیکشن ملتوی کر دیئے

    الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں قومی اور صوبائی سطح پر تمام ضمنی الیکشن ملتوی کر دیئے

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ملک بھر میں قومی اور صوبائی سطح پر تمام ضمنی الیکشن ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کا اہم اجلاس چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں منعقد ہوا، اجلاس میں ممبران الیکشن کمیشن ، سیکرٹری الیکشن کمیشن اور الیکشن کمیشن کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

    اجلاس میں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے الیکشن کمیشن کو بریف کیا کہ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کی درج ذیل حلقہ جات میں الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات کے لیے شیڈول دیا ہوا ہے جس کے مطابق پولنگ 11 ستمبر، 25 ستمبر اور 2 اکتوبر 2022ء کو ہو گی۔

    جن حلقوں میں الیکشن ملتوی ہوئے ہیں ان میں این اے 157، پی پی 139 شیخوپورہ، پی پی 241 بہاولنگر، این اے 22 مردان، این اے 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور، این اے 45 کرم، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ، این اے 237 کراچی، این اے 239 کراچی، این اے 246 کراچی، پی پی 209 خانیوال کے حلقے شامل ہیں۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ حالیہ تباہ کارشوں اور سیلاب سے سندھ، خیبرپختونخوا اور جنوبی پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے ذرائع آمدورفت مخدوش ہو چکے ہیں، عمارات تباہ ہو گئی ہیں، ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہیں، اور قومی ایمرجنسی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ تمام قومی ادارے جن میں پولیس، پاک، فوج، رینجرز سمیت دیگر الیکشن ڈیوٹی میں تعینات کیے گئے تھے، سیلاب متاثرین میں خوراک کی ترسیل اور وبائی امراض کے پھیلاؤ کی وجہ سے ضروری امدادی کارروائیوں اور متاثرین کی محفوظ مقامات پر آباد کاری میں انتہائی حد تک مصروف ہیں، الیکشن کمیشن نے 23 اگست کو وزارت داخلہ کو ضمنی انتخابات کے پر امن انتخابات کے لیے پاک فوج، رینجرز سمیت دیگر کی خدمات حاصل کی تھیں، تاکہ پر امن انتخابات کروائے جا سکیں، لیکن تاحال مذکورہ قومی ایمرجنسی کی وجہ سے الیکشن کے انعقاد کے لیے ان کی تعیناتی کی یقین دہانی نہیں کروائی گئی۔ مزید برآں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کشیدہ ہے جہاں پر حالیہ دنوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کیے گئے ہیں جس سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔

    ترجمان کے مطابق وزارت داخلہ نے جو فیڈ بیک دیا ہے اس میں کہا گیا ہے پاک فوج، رینجرز، ایف سی ملک میں سیلاب زدگان کی امدادی کارروائیوں، اندرونی سکیورٹی اور دہشتگردی کی کارروائیوں کی روک تھام میں مصروف ہیں، اسی طرح ملٹری اتھارٹیز نے بھی سیلابی قومی سانحہ کا حوالہ دیا ہے جس کی وجہ سے وزیراعظم نے نیشنل فنڈ بھی قائم کیا ہے اور عالمی طور پر امداد کی اپیل کی گئی ہے تاکہ اس قومی سانحہ سے نمٹا جا سکے اور کہا کہ فوج، رینجر اور ایف سی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے لہٰذا ان حالات کی وجہ سے امدادی کارروائیوں سے واپس بلانا اور پر امن الیکشن کے انعقاد کے لیے دستیابی مشکل ہے۔

    بیان کے مطابق صوبائی الیکشن کمیشن سندھ، خیبرپختونخوا اور پنجاب نے بھی موجودہ حالات میں ضمنی انتخابات کے انعقاد کو ناممکن قرار دیا اور بتایا کہ مختلف سرکاری عمارتوں میں سیلاب متاثرین کو رکھا گیا ہے اور جہاں سے امدادی خوراک کی ترسیل بھی کی جا رہی ہے جو کہ پولنگ سٹیشنوں کے لیے مختص کی گئی تھیں۔

    ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق تمام صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام حلقوں میں ضمنی انتخابات کی صرف پولنگ تاریخوں کو ملتوی کیا جاتا ہے، باقی مراحل الیکشن کمیشن کے مطابق مکمل ہوں گے اور حالات کی بہتری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دستیابی پر الیکشن کمیشن جلد نئی پولنگ کی تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا۔

  • توہین عدالت کیس: عمران خان کا جواب مسترد، 22 ستمبر کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

    توہین عدالت کیس: عمران خان کا جواب مسترد، 22 ستمبر کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین کیخلاف توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کا جواب مسترد کرتے ہوئے 22 ستمبر کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے خاتون جج کو دھمکی دینے کے معاملے پر توہین عدالت کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا گیا۔
    تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ فریقین کے وکلا، اٹارنی جنرل اور عدالتی معاونین کو سنا گیا، عمران خان کا جواب تسلی بخش نہیں۔حکم نامے میں کہا گیا کہ عمران خان پر 22 ستمبر کو فرد جرم عائد کی جائے گی۔تحریری حکم نامہ 2 صفحات پر مشتمل ہے، جسے 5 رکنی لارجر بینچ نے جاری کیا۔تحریری حکم نامہ کے مطابق 22 ستمبر کو دن ڈھائی بجے کیس کی سماعت ہو گی۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللّٰہ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ ببینچ میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار شامل ہیں۔

    عمران خان کے خلاف خاتون جج زیبا چودھری کو دھمکی دینے سے متعلق توہین عدالت کیس کی چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا 5 رکنی بنچ نے سماعت کی، دیگر ججز میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار شامل ہیں۔ عمران خان کی عدالت آمد کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ سماعت کے دوران روسٹرم پر زیادہ وکلا آنے پر چیف جسٹس نے دیگر وکلا کو بیٹھنے کا کہہ دیا اور پھر عمران خان کے وکیل حامد خان نے دلائل دینا شروع کیے۔

    قبل ازیں حامد خان نے مؤقف اپنایا عدالت میں ضمنی جواب جمع کرایا گیا تھا، جواب گزشتہ سماعت پر عدالت کی آبزرویشنز کی بنیاد پر تشکیل دیا ہے، ہم نے جواب کے ساتھ دو سپریم کورٹ کی ججمنٹس لگائی ہیں۔ چاہتے ہیں توہین عدالت کیس کو بند کردیا جائے۔

    دلائل کے دوران وکیل حامد خان نے دانیال عزیز کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے سپریم کورٹ کے توہین عدالت کیسز کا جائزہ لینے کا حکم دیا تھا، گزشتہ سماعت کے حکم نامے میں عدالت نے دانیال عزیز اور طلال چوہدری کے مقدمات کا حوالہ دیا۔

    پی ٹی آئی وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان کا کیس دانیال عزیز اور طلال چودھری کے مقدمات سے مختلف ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جوڈیشل، سول اور کریمنل 3 طرح کی توہین عدالت ہوتی ہیں، دانیال عزیز اور طلال چودھری کے مقدمے میں کریمنل توہین نہیں تھی، انہوں نے عدالت کے کردار پر بات کی تھی۔ عمران خان کی کریمنل توہین ہے، زیر التوا مقدمے پر بات کی گئی، آپ کا جواب پڑھ لیا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے ہم پر بائنڈنگ ہیں، سپریم کورٹ کے تین فیصلوں کو ہائی لائٹ کرنا مقصد تھا۔

    عدالت عالیہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فردوس عاشق اعوان کیس میں 3 قسم کی توہین عدالت کا ذکر ہے، ہم نے عدالت کو سکینڈلائز کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی شروع نہیں کی، عدالت پر تنقید کریں، ہم سکینڈلائز کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی نہیں کریں گے، کریمنل توہین عدالت بہت سنجیدہ نوعیت کی ہوتی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کریمنل توہین عدالت میں دانست غیرمتعلقہ ہو جاتی ہے، اسے نہیں دیکھا جاتا، کریمنل توہین عدالت میں یہ نہیں کہا جاتا بات کرنے کا مقصد کیا تھا، ہم نے آپکو سمجھایا تھا کہ یہ کریمنل توہین عدالت ہے۔ آپکا جواب حتمی تھا اور ہم نے تفصیلی پڑھا، آپ کو ہدایت کی تھی کہ سوچ سمجھ کر اپنا جواب داخل کریں۔

    حامد خان نے کہا کہ معافی کو تسلیم کرنا یا نہ کرنا عدالت کے اطمینان پر منحصر ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہم اظہار رائے کی آزادی کے محافظ ہیں لیکن اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کریمنل توہین عدالت بہت حساس معاملہ ہوتا ہے، اس عدالت کے لیے ڈسٹرکٹ کورٹ ریڈ لائن ہے، اگر کسی جج کے فیصلے سے متاثر ہوں تو اس کا طریقہ کار قانون میں موجود ہے، توہین آمیز بات کون اور کہاں کرتا ہے یہ بات بہت اہم ہوتی ہے۔ سوسائٹی اتنی پولرائز ہے فالورز مخالفین کو پبلک مقامات پر بےعزت کرتے ہیں، اگر یہی کام وہ اس جج کیساتھ کریں تو پھر کیا ہو گا؟ کیا لب لہجہ کسی سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے جج کے لئے استعمال کی جا سکتا ہے؟

  • آرمی چیف سے امریکی وزیر خارجہ کے سینئر پالیسی مشیر ڈیرک چولیٹ کی وفد کے ہمراہ  ملاقات

    آرمی چیف سے امریکی وزیر خارجہ کے سینئر پالیسی مشیر ڈیرک چولیٹ کی وفد کے ہمراہ ملاقات

    راولپنڈی:امریکہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ ہر مشکل وقت میں ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی وزیر خارجہ کے سینئر پالیسی مشیر ڈیرک چولیٹ کی آج اسلام آباد میں ملاقات ہوئی ہے۔

    ملاقات کے دوران انہوں نے پاکستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی قیمتی جانوں کے ضیاع پر پاکستانی حکومت اور عوام سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

    آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان امریکہ کیساتھ دوطرفہ تعلقات کی روایت کو برقرار رکھنے کا خواہاں ہے،

    اس سے پہلے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سعودی عرب کے وزیر دفاع کے ٹرانسفارمیشن منیجمنٹ آفس کے سی ای او ڈاکٹر شبیر بن عبدالعزیز الطالب نے ملاقات کی۔

    ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دفاع اور سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف اور سعودی عہدیدار کی ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی، دفاعی اور سلامتی کے دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں علاقائی امن و سلامتی کے امور پر بھی غور کیا گیا۔ ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تاریخی برادرانہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان اسلامی دنیا میں سعودی عرب کی منفرد حیثیت کا معترف ہے۔

    ڈاکٹر شبیر بن عبدالعزیز نے پاکستان کے ساتھ دفاع و سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر افسوس کا اظہار کیا، جب کہ برادر ممالک میں تعلقات کے فروغ کیلئے خدمات پر آرمی چیف نے ڈاکٹر شبیر بن عبدالعزیز کی کوششوں کو بھی سراہا۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • بہت بڑا جرم کیا گیا لیکن احساس نہیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے توہین عدالت کیس میں اہم ریمارکس

    بہت بڑا جرم کیا گیا لیکن احساس نہیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے توہین عدالت کیس میں اہم ریمارکس

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اسلام آباد ہائی کورٹ پیش ہو گئے ہیں

    وکیل حامد خان اسلام آباد ہائیکورٹ کے کمرہ عدالت میں موجود تھے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے انتظامیہ کوعوام کیلئے مشکلات پیدا کرنے سے روکنے کا حکم دے دیا،عدالت نے کہا کہ رجسٹرار ہائیکورٹ ڈپٹی کمشنر اور آئی جی پولیس کو فوری ہدایات جاری کریں،یقینی بنائیں کہ سیکیورٹی انتظامات کے دوران عوام کیلئے مزید مشکلات پیدا نہ ہوں، ہائیکورٹ کی اطراف میں کاروباری مراکز کو بند نہ کیا جائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے سماعت کی بینچ میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار شامل تھے سابق وزیراعظم عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ کے کمرہ عدالت میں موجود رہے ،عمران خان کے وکیل حامد خان روسٹرم پر موجود تھے اور انہوں نے دلائل کا آغاز کر دیا،کہا ہم نے بڑے احترام کیساتھ اپنے جواب میں گذارشات جمع کرا دی ہیں، حمد خان نے عمران خان کے تحریری جواب کے اہم نکات عدالت میں پڑھے،عدالت نے عمران خان کے وکیل حامد خان کے علاوہ دیگر وکلا کو بیٹھنے کی ہدایت کردی

    حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیسز کے بعض حوالہ جات بھی پیش کیے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت تین طرح کی ہوتی ہے جسے فردوس عاشق اعوان کیس میں بیان کیا گیا دانیال عزیز اور طلال چودھری کے خلاف کریمنل توہین عدالت کی کارروائی نہیں تھی،دانیال عزیز اور طلال چودھری کے خلاف عدالت کو اسکینڈلائز کرنے کا معاملہ تھا،آپ کو یہ چیز سمجھائی تھی کہ یہ معاملہ کریمنل توہین عدالت کا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا جواب ہم نے پڑھ لیا ہے، یہ فائنل جواب ہے، ہم نے سپریم کورٹ کے 2 فیصلوں کا حوالہ دیا، ہم ان فیصلوں کے پابند ہیں دانیال عزیز اور طلال چوہدری کے کیسز توہین عدالت کی کرمنل پروسیڈنگ نہیں تھیں،توہین عدالت کی کرمنل پروسیڈنگ زیادہ سنگین معاملہ ہے ،چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے حامد خان ایڈووکیٹ کو سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھنے کی ہدایت کر دی، جس کے بعد عمران خان کے وکیل حامد خان نے سپریم کورٹ کا فیصلہ عدالت میں پڑھا،.وکیل حامد خان نے کہا کہ عبوری جواب میں جن دو مقدمات کا حوالہ دیا تھا دونوں میں فرق واضح کرنے کی کوشش کی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو سوچ کر جواب دینے کی ہدایت کی تھی ،کریمنل توہین بہت حساس معاملہ ہوتا ہے،اس کیس سے ماتحت عدلیہ کا احترام اور مورال جوڑا ہے ہم اظہار رائےکی آزادی کے محافظ ہیں لیکن اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دی جا سکتی لیڈر کے اس قسم کے بیانات سے ان کے فالورز جج کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں، اپنے عمل کو درست گردان رہے ہیں، سابق وزیراعظم عمران خان قانون سے لاعلمی کا سہارا لے رہے ہیں،کیا عمران خان کا جواب ان دوعدالتی فیصلوں کے مطابق ہے؟،اس عدالت کو کوئی مرعوب نہیں کرسکتا،ہم نے قانون کے مطابق جانا ہے،پچھلی مرتبہ آپ کو سمجھایا تھا، جواب سے لگتا ہے کہ سنگینی کا احساس نہیں، اگر اس خاتون جج کے ساتھ کچھ ہوجاتا تو کون ذمہ دار ہوتا؟ گزشتہ سماعت پر کیس کی سنگینی اور حساسیت کا بتایا گیا تھا لیکن آپ کو احساس نہیں ہوا ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی جج کے فیصلے سے متاثر ہوں تو اسکا طریقہ کار قانون میں موجود ہے،توہین آمیز بات کون اور کہاں کرتا ہے یہ بہت اہم ہے، سوسائٹی اتنی پولرائز ہے کہ فالورز مخالفین کی پبلک مقامات پر تذلیل کرتے ہیں، اگر یہی کام وہ اس جج کے ساتھ کریں تو پھر کیا ہو گا؟ کیا یہ ٹون کسی سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے جج کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے؟ عدلیہ کی آزادی اس عدالت کی اولین ترجیح ہے، ہم نے وکلا تحریک سے کچھ بھی نہیں سیکھا، کیا آپکا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق ہے؟آپ نے اپنے جواب میں اپنے عمل کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ ہم نے جواز نہیں وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کوئی سابق وزیراعظم قانون کو نظرانداز کر سکتا ہے؟ کیا سابق وزیراعظم یہ جواز پیش کر سکتا ہے کہ اسے قانون کا علم نہیں تھا؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وکیل حامد خان کو شوکاز لیٹر کا پیرا 5 پڑھنے کی ہدایت کر دی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے جواب میں بھی لکھا کہ شہباز گل پر تشدد ہوا مبینہ کا لفظ استعمال نہیں کیا کیا فیصلے اب جلسوں میں ہونگے یا عدالت میں ؟ جسٹس بابر ستار نے کہا کہ شوکاز میں کریمنل نوٹس کا واضح لکھا ہے، وکیل حامد خان نے ضمنی جواب عدالت کو پڑھ کر سنایا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ جواب میں جسٹیفائی کررہے ہیں کہ ٹارچر ہوا ہے ستر سال میں جو ہوا اچھا نہیں ہوا، یہ عدالت بہت ہی محتاط رہتی ہے،یہاں فرق ہے سپریم کورٹ اور ماتحت عدلیہ کے ججز کا وہ مشکل حالات میں کام کرتے ہیں، آپ نے لکھا کہ اگر خاتون جج کے جذبات مجروح ہوئے تو ہم شرمندہ ہیں ،ججزکے کوئی احساسات نہیں ہوتے وہ صرف عدلیہ کی بحالی کے لیے کام کرتے ہیں ،حامد خان نے کہا کہ ہمارے لیے سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور ماتحت عدلیہ کے ججز قابل عزت ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ماتحت عدالت کے ججز ہم اور سپریم کورٹ کے ججز سے زیادہ اہم ہیں، خاتون جج لاہور جا رہی ہونگی موٹروے پر کھڑے ہوئے کوئی واقعہ ہو سکتا ہے،کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ایسا ہو؟ عدالت آپ کو سمجھا رہی ہے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ کیا ایک رہنما ایک جج کے خلاف قانونی کارروائی کی بات عوامی جلسے میں کرسکتا ہے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے بیان نے خاتون جج کے لیے رسکی حالات پیدا کیے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ خاتون جج کے بارے میں جو الفاظ استعمال کیے گئے وہ دھمکی آمیز تھے،

    جسٹس بابر ستار کے سوالات پر عمران خان نے شعیب شاہین کو ہدایت کی،اور کہا کہ میں روسڑم پر آنا چاہتا ہوں ،حامد خان سے پوچھو میں روسٹرم پر آنا چاہتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ جواز دے کر چاہ رہے ہیں کہ کارروائی آگے بڑھائی جائے یہ رسکی بات ہے ،حامد خان نے کہا کہ عمران خان پرسوں کی تقریر پر وضاحت کیلئے روسٹرم پر آنا چاہتے ہیں،عمران خان کے مطابق پرسوں کی جس تقریر کا حوالہ دیا گیا وہ مس رپورٹ ہوا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہم تقریر یہاں چلا کر دیکھ لیں گے،جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان جلسے میں خاتون جج کو دھمکی دیتے ہیں اور کہتے ہیں تمہیں خود پر شرم آنی چاہیے ،بطور لیڈرآپ کے الفاظ کے اثرات ہیں،آپ ان اثرات کو جانتےہوئے بھی جلسوں میں ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں اگر درخواست گزار کو 5رکنی بینچ کا فیصلہ پسند نہ آئے تو جلسے میں اس کے خلاف بات کریں گے، اس لارجر بینچ کے فیصلے کے خلاف کیا جلسے میں کہا جائے گا کہ آپ کے خلاف ایکشن لیں گے، جسٹس بابر ستار کے ریمارکس پر دوران سماعت عمران خان نفی میں سر ہلاتے رہے ، جسٹس بابر ستار نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے موکل کو احساس ہی نہیں کہ انہوں نے کیا کہا؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بتائیں کہ مدینہ منورہ میں کیا ہوا تھا؟ آپکا جواب صرف ایک جسٹی فکیشن ہے اور کچھ نہیں،رسول اللہ ﷺاور فتح مکہ سے ہمیں سیکھنا چاہیے، ایک خاتون ڈسٹرکٹ جج کے بارے میں کیسے الفاظ استعمال کیے گئے،عدالت نے حامد خان کو ہدایت کی کہ آپ اپنے دلائل مکمل کریں،

    جستس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ شہباز گل کی کسی میڈیکل رپورٹ میں ان پر تشدد ثابت نہیں ہوا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے جواب میں تشدد کو مبینہ ہی لکھ دیتے، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ شہباز گل کیس میں پی ٹی آئی کی درخواست پر میڈیکل بورڈ بنایا گیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا فیصلے اب پرسیپشنز کی بنیاد پر ہونگے ،

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ شہباز گِل پر تشدد سے متعلق ایک بات کرنا چاہتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گِل معاملے پر نہ جائیں اس طرف جا کر کیس کو مزید مشکل بنا دینگے،ہم نے آپکو قائم مقام چیف جسٹس کا آرڈر آپکو پڑھ کر سنایا، وہ کیس اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت تھا، ھامد خان نے کہا کہ عمران خان نے جواب میں لکھا ہے کہ انہیں اسکا علم نہیں تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس میں نہ جائیں اس آرڈر شیٹ میں آپکی پوری لیگل ٹیم کا نام لکھا ہے، سب موجود تھے، ہم نے بہت سی چیزوں کو چھوڑا تھا لیکن آپ خود انکا حوالہ دے رہے ہیں

    عمران خان نے دوسری بار دوبارہ روسٹرم پر بات کرنے کی اجازت مانگ لی،حامد خان نے کہا کہ عدالت کہتی ہے کہ ججز کے جذبات نہیں ہوتے لیکن ہم پھر بھی انسان ہیں،عمران خان نے افسوس کا اظہار کیا کیونکہ دھمکی دینا انکا مقصد نہیں تھا، عمران خان خواتین کے حقوق کیلئے ہمیشہ کھڑے ہوئے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خاتون کی بات نہیں، ماتحت عدالت کی ایک جج کی بات ہے،حامد خان نے کہا کہ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ایک خاتون جج سے متعلق یہ بات کی گئی، جسٹس بابر ستار نے وکیل سے سوال کیا کہ کون بنا رہا ہے پرسیپشن بتائیں ؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا سیاسی جماعتوں نے کارکنان کو کبھی سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا کرنے سے روکا ،عدلیہ آج سب سے زیادہ اس جھوٹے پروپیگنڈے کا شکار ہے،حامد خان نے فردوس عاشق اعوان کیس کے فیصلے کا حوالہ دیا جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس پر نہ جائیے گا یہ فیصلہ آپکے خلاف جائے گا فردوس عاشق اعوان کیس کا فیصلہ تب دیا گیا جب وہ وزیراعظم کی معاون خصوصی تھیں، عدالت نے فیصلے میں لکھا تھا کہ فردوس عاشق اعوان نے توہین عدالت کی لیکن انہیں علم نہیں تھا،اب اس فیصلے کے بعد آپ یہ دلیل تو نہیں دے سکتے کہ آپکو پتہ نہیں تھا،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ نے جواب کے پیرا 4 میں لکھا کہ آپ کو علم تھا کہ یہ ایک زیر التوا مقدمہ ہے جانتے ہوئے بھی کیا ایسی بات کی جاسکتی تھی،جواب میں یہ بھی لکھا گیا کہ عمران خان کو معلوم تھا کہ اپیل دائر کی جائے گی، کیا عمران خان اپنے بیان سے اس عدالت پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہے تھے؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب عمران خان کو معلوم تھا کہ اپیل دائر ہو گی تو کیا ایسا کہنا درست تھا، کیا ایسا کہنا اسلام آباد ہائیکورٹ پر بھی اثرانداز ہونے کی کوشش نہیں تھی؟ طلال اور دانیال عزیر کیس میں عدالت کو اسکینڈلائز کرنے کی کوشش کی گئی تھی پھر بھی سزا ہوئی ان کیسز میں تو ہم نے نوٹس بھی نہیں لیا تھا ہمیں عدالت یا ججز کو اسکینڈلائز کرنے سے فرق نہیں پڑتا،نہال ہاشمی کیس کی سنگینی کم تھی لیکن سپریم کورٹ نے پھر بھی انہیں سزا دی، ہم توہین عدالت کی کارروائی شروع کریں تو روزانہ وہی کرتے رہیں، ہم نہیں کرینگے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کرمنل توہین عدالت ہے جس پر دنیا بھرمیں نوٹس لیا جاتا ہے ہم بھی لیں گے،اس توہین عدالت سے عوام کا عدالتوں پر سے اعتماد اٹھنے کا خدشہ ہوتا ہے، جسٹس بابر ستار نے فوادچودھری کیخلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کی،وہ نہال ہاشمی کیس سے زیادہ سنگین توہین عدالت ہے لیکن ہم نوٹس نہیں لیں گے، آپکو معلوم ہے وہ کیا کہتے ہیں؟ کیا کیا چیزیں ریکارڈ پر لائی گئی ہیں، حامد خان نے کہا کہ جی مجھے اس حوالے سے معلوم ہے،ہماری گزارش ہے کہ توہین عدالت کی کارروائی ختم کی جائے، حامد خان نے عدالت میں کہا کہ ہم نے ضمنی جواب میں بار بار regret کا استعمال کیا، ہم نے کہا جو کہا گیا غیرارادی طور پر تھا، توہین عدالت کا کوئی ارادہ نہیں، ہم کبھی بھی توہین عدالت کا سوچ بھی نہیں سکتے، ہم آئندہ کے لیے عدلیہ سے متعلق محتاط رہیں گے۔عمران خان وعدہ کرتے ہیں کہ آئندہ محتاط رہیں گے، عمران خان کے وکیل حامد خان کے دلائل مکمل ہوئے، اٹارنی جنرل اشتراوصاف کے دلائل شروع ہو گئے ہیں

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ توہین کرنے والے کی نیت اور مقصد بہت اہم ہوتا ہے،2014 میں بھی عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس چلایا گیا تھا،ایسے ہی الزامات تھے، ایسا ہی طریقہ کار تھا لیکن معاف کردیا گیا تھا، عمران خان نے اپنے جواب میں بیان حلفی نہیں دیا، عمران خان کے بیان حلفی کے بغیر جواب کی کوئی حیثیت نہیں سپریم کورٹ نے معاف کیا یہ سمجھتے ہیں بار بار وہی کریں بار بار معافی ہو،عمران خان کو اس بار صرف نوٹس نہیں شوکاز نوٹس ہوا تھا شوکاز نوٹس کا جواب بیان حلفی کے ساتھ آجانا چاہیے تھا،میرے پاس عمران خان کی تقریر کا ٹرانسکرپٹ ہے،اُس تقریر کے بعد والی تقریر کی ریکارڈنگ بھی میرے پاس ہے،میں سی ڈی اور ٹرانسکرپٹ ریکارڈ پر پیش کر دوں گا،عمران خان نے دوبارہ خاتون جج کا حوالہ دیا،

    منیر اے ملک نے عدالت میں کہا کہ اسلم بیگ کیس میں ایک زیر التواکیس میں سپریم کورٹ کو پیغام بھیجنے پر کارروائی ہوئی توہین عدالت کا قانون عدلیہ کو مضبوط کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے،توہین عدالت کا قانون استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، یہ درست ہے کہ توہین عدالت میں سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں،عدالت سے باہر کہی گئی کوئی بات اسلام آباد ہائیکورٹ پر اثر انداز نہیں ہوسکتی،میں آخری شخص ہوں گا جو مانوں کہ اسلام آباد ہائیکورٹ پر تقریر کااثر پڑا،مجھے لگتا ہے جو بیان دیا گیا وہ جوش خطابت میں غلطی ہوگئی ،منیر اے ملک نے عمران خان پر توہین عدالت کی کارروائی ختم کرنے کی استدعا کر دی اور کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی دو چیزوں پر ختم ہو سکتی ہے،ایک معافی پر یہ کارروائی ختم ہوتی ہے، دوسرا کنڈکٹ پر، یہاں فوری طور پر کنڈکٹ میں عدالت کیلئے احترام کا اظہار کیا گیا، اسلم بیگ نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ سے معافی بھی نہیں مانگی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلم بیگ کون تھے؟ چلیں آگے چلیں،کیا آپ یقین کریں گے کہ ماتحت عدلیہ کے ساتھ اعلیٰ عدلیہ جیسا سلوک ہوگا آخری سماعت پر بھی کہا تھا کہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری ریڈ لائن ہے،

    عدالتی معاون مخدوم علی خان روسٹرم پر آگئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون جج کا نام لیا گیا، شیم کیا گیا، کیا آپ چاہتے ہیں اس کو صاف کیا جائے،کیا آپ سمجھتے ہیں عمران خان کا جواب توہین عدالت کی کارروائی ختم کرنے کیلئے کافی ہے؟ منیر اے ملک نے کہا کہ میرا خیال ہےعدالت کو بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کارروائی کو ختم کرنا چاہیے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فری سیپچ کے حامی ملک میں کیا سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاونٹ بلاک ہونا درست تھا؟ ایک رہنما کا معاشرے پر ایک اثر ہوتا ہے، مخدوم علی خان نے کہا کہ عوامی اجتماع سے جوش و خطابت میں جو کہا گیا اس سے شاید جوڈیشل ایڈمنسٹریشن متاثر ہو،پبلک انٹرسٹ صرف ایڈمنسٹریشن آف جوڈیشری میں ہے،آپ نے خود کہا کہ آزادی اظہارِ رائے پر کوئی قدغن نہیں ہونا چاہیے، مخدوم علی خان نے سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کا عدلیہ مخالف تقریر کا حوالہ دیا اور کہا کہ ایک جلسے میں کسی لیڈر کی کہی بات سے عدالتی کارروائی متاثر نہیں ہوسکتی پبلک انٹرسٹ صرف ایڈمنسٹریشن آف جوڈیشری میں ہے،خوش قسمتی کہیں یا بدقسمتی، اسلام آباد میں سیاسی معاملات زیادہ ہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے گزشتہ سماعت پر عمران خان کو ایک موقع دیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو عمران خان کے کنڈکٹ میں وہ بات نظر نہیں آ رہی، جس کی ہم امید کر رہے تھے عمران خان کا جواب وہ نہیں،سپریم کورٹ کے جج کے بارے میں ریمارکس ہوتے تو جواب ایسا نہ ہوتا، مخدوم صاحب آپ کے تمام دلائل درست ہیں، جواب سے کیا آپ کو لگتا کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا ؟یہی الفاظ سپریم کورٹ کے جج کے بارے میں کہے ہوتے تو آپ اس جواب سے مطمئن ہوتے؟ مخدوم صاحب آپ کے تمام دلائل سے متفق ہیں،عمران خان کے جواب میں احساس کا پہلو نظر نہیں آ رہا، ہم توہین عدالت پر یقین نہیں رکھتے،ہم نے بہت سے معاملات میں برداشت کا مظاہرہ کیا اور کارروائی نہیں کی، مخدوم علی خان نے کہا کہ یہاں اس عدالت میں آئے کیسز سیاست سے قریب ترہی ہوتے ہیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا سے گھبرانا نہیں چاہیے، سوشل میڈیا کی کوئی ساکھ نہیں ہے، اس شخص (عمران خان ) نے معاملے کی سنجیدگی کو نہیں سمجھا، عمران خان کے جواب میں احساس کا پہلو نظر نہیں آ رہا،ہم توہین عدالت پر یقین نہیں رکھتے،ہم نے بہت سے معاملات میں برداشت کا مظاہرہ کیا اور کارروائی نہیں کی،مخدوم صاحب ایک بات ہم آپ کو بالکل واضح کہنا چاہتے ہیں،توہین عدالت کارروائی کے بعد جو کنڈکٹ ہونا چائیے تھا وہ نہیں نظر آیا، اس طرح کے کیسز میں غیر مشروط معافی مانگی جاتی ہے، مخدوم علی خان نے کہا کہ میری رائے ہوگی جمع شدہ جواب کو منظور کر کے نوٹس ڈسچارج کیا جائے،دوسرا یہ توہین عدالت مرتکب ہونے والے کو بیان حلفی جمع کرنے کا موقع دیا جائے،میرے خیال میں معافی کا لفظ ضروری نہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیں دو مختلف کیسز کے فیصلوں کے حوالے دے کر کنفیوز نہ کریں مخدوم علی خان نے کہا کہ اس کیس میں پچھتاوے کا اظہار کیا جا چکا ہے،عدالت عمران خان کو مزید موقع دے سکتی ہے، عمران خان اپنے مفصل جواب میں افسوس اور معذرت کے الفاظ استعمال کریں، عدالت نے کہا کہ کیا کسی کی انا ماتحت عدلیہ کے وقار سے زیادہ اہم ہے؟ مخدوم علی خان کی عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کرنے کی استدعا، دلائل مکمل کر لئے گئے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے تمام وکلا کو سنا ہم پانچ منٹ میں آتے ہیں، عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا

    تیسرے عدالتی معاون پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین نے دلائل دیئے، اختر حسین نے کہا کہ عمران خان کو شوکاز نوٹس درست طور پر جاری کیا گیا عمران خان کی جانب سے غیر مشروط طور پر معافی نہیں مانگی گئی اگر غیر مشروط معافی مانگی جاتی تو میں بھی کہتا ختم کر دیں،

    سماعت کے آخر میں عمران خان کو بات کرنے کی اجازت نہ دی گئی . عمران خان نے کھڑے ہو کر استدعا کی کہ جسٹس صاحب موقف دینا چاہتا ہوں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے وکیل کو سن چکے ہیں،

    عمران خان نے عدالت پیشی کے موقع پر کہا کہ ایسا لگ رہا تھا کہ آج کلبھوشن یادیو عدالت آ رہا تھا،مجھے سمجھ نہیں آ رہی اتنا خوف کیوں ہے رات میچ دیکھنے کیلئے وقت نہیں تھا، مجھے تو آج آتے آتے بھی 15 منٹ لگ گئے، بعد میں میڈیا سے بات کرونگا کہیں کوئی غلط خبر ہی نہ چل جائے جیل میں جا کر زیادہ خطرناک ہوجاوں گا صحافی کی جانب سے عمران خان سے سوال پوچھا گیا کہ کیا آپ عدالت میں ججز کے سامنے معافی مانگیں گے جس پرعمران خان کا کا کہنا تھا آپ سے این او سی لوں گا آپ کا کافی تجربہ ہے

    قبل ازیں سابق وفاقی وزیر فواد چودھری اور شہزاد وسیم کو ناکے پر روک لیا گیا ،پولیس کا کہنا ہے کہ جن کے پاسز ہیں وہی اندر جائیں گے ،کمرہ عدالت کے باہر واک تھرو گیٹ اور اسکرین نصب کی گئی ،عدالت کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر 2 ایس پیز سمیت 778 افسران اور اہلکار تعینات کیے گئے ہیں ,تحریک انصاف کے رہنما و کارکنان بھی عدالت کے باہر موجود ہیں ،وزیر داخلہ پنجاب ہاشم ڈوگر کو بھی اسلام آباد ہائیکورٹ جانے سے روک دیا گیا ،ہاشم ڈوگر نے اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں پنجاب کا وزیر داخلہ ہوں،

    واضح رہے کہ عمران خان نے خاتون جوڈیشل مجسٹریٹ کو جلسے میں دھمکیاں دینے کے معاملے میں گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں شوکاز نوٹس کے جواب میں 19 صفحات پر مشتمل نیا تحریری ضمنی جواب جمع کرایا تھا اس جواب میں عمران خان نے خاتون جج سے ایک بار پھر غیر مشروط معافی مانگنے سے گریز کیا تھا خاتون جج زیبا چوہدری سے متعلق کہے گئے الفاظ پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے افسوس کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ غیر ارادی طور پر منہ سے نکلے الفاظ پر گہرا افسوس ہے انہوں نے دھمکی دینے کے اپنے الفاظ پر پچھتاوے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ عوامی اجتماع میں کہے گئے اپنے الفاظ کے ساتھ نہیں کھڑا ہوں عدالت میری اس وضاحت کو کافی سمجھتے ہوئے میرے خلاف دائر کیس ختم کرے

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    سینئر قیادت پرہتک آمیز،انتہائی غیرضروری بیان پرپاک آرمی میں شدید غم وغصہ ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

  • عمران نیازی پاکستان کو کمزور کرنے پرتلے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف

    عمران نیازی پاکستان کو کمزور کرنے پرتلے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان پاکستان کو کمزور کرنے پرتلے ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے ٹوئٹرپربیان میں کہا کہ عالمی سطح پر عزت کی نگاہ سے دیکھے جانے والے جریدےاکنامسٹ میں شائع ہونے والی دو خبروں نے عمران نیازی کے بارے میں ہمارے موقف کی تصدیق کردی ہے۔


    وزیراعظم نے مزید کہا کہ جریدے نے اپنے تازہ شمارے میں لکھا ہے کہ عمران نیازی نے آئی ایم ایف سے پروگرام کی منظوری رکوانے کی کوشش کی اور وہ حالیہ سیلاب کی آفت کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کررہے ہیں ۔عمران نیازی پاکستان کو کمزور کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔


    دوسری جانب وفاقی وزیربرائے ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان کا کہنا ہے کہ عمران بچاؤ بیانیے کا مقصد اداروں پردباؤ ڈال کر رعایتیں لینا ہے۔ وفاقی وزیرشیری رحمان نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ عمران بچاؤ بیانیہ کا مقصد ادروں پر دباؤ ڈال کر ان کو متنازع بنانا اور رعایتیں لینا ہے۔انہوں نے خاتون جج کو دھمکیاں دیں اور غیر مشروط معافی بھی نہیں مانگی۔

    شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ لاڈلہ سرے عام ادروں کے خلاف بیان بازی کر کے خود کو قانون سے بالا سمجھتا ہے۔ الفاظ کے ساتھ کھڑے نہیں تو معافی مانگے۔عمران خان فوج اور عدلیہ کے خلاف متنازع بیانات دے کر کہتے ہیں حکومت ان کو اداروں سے لڑوا رہی ہے۔


    انہوں نے کہا کہ کیا عمران خان فوج اور عدلیہ کے خلاف متنازع اور عجیب و غریب بیانات حکومت کے کہنے پر دے رہے ہیں؟ اب کہتے ہیں فوج اور عدلیہ پر ایسے تنقید کرتے ہیں جیسے باپ بیٹے پر کرتا ہے۔

    شیری رحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اداروں کے خلاف یہ کس طرح کی بیان بازی کا سلسلہ شروع کیا ہے؟ اب یہ مسلسل آرمی چیف کی تقرری کے معاملے پر جلسوں میں باتیں کر رہے ہیں۔ تقرری کے معاملے پر پی ٹی آئی کا بیانیہ قابل افسوس ہے۔ ان کے بیانات تقرری کے معاملے کو متنازع بنانے کے مترادف ہیں۔