سوات میں اسکول وین ڈرائیور کا قتل دہشت گردی نہیں ، آئی جی خیبر پخوتونخوا نے حقیقت بتا دی
خیبرپختونخواہ کے علاقے سوات میں سکول وین پر گولیان برسائی تھیں جس میں دو طلبا زخمی ہو گئے تھے واقعہ کے بعد سوات میں بھر پور احتجاج کیا گیا تھا، واقعہ کے بعد تحقیقات کا حکم دیا تھا، اب تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، آئی جی خیبر پختونخواہ نے واقعہ کو دہشت گردی کی بجائے ذاتی دشمنی قرار دے دیا،
آئی جی خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ دیر کا واقعہ دو فریقین کے درمیان تھا جبکہ گلی باغ میں سکول وین پر حملہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ تھا مقتول حسین احمد کو غیر ت کے نام پر سالے نے قتل کیا اور سکول وین پر حملہ دہشتگردی نہیں تھی اتفاق سے اس دن لوئر دیر میں بھی بچوں پر فائرنگ کا واقعہ ہوا واقعے میں حسین احمد کو مارنے کے دوران دو بچے بھی زخمی ہوئے واقعہ کے بعد عوام نے احتجاج بھی کیا واقعہ سے سوات کے حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی حملے میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دو فرار ہیں، اس حملے کے منصوبے میں ملوث ایک ملزم دبئی فرار ہو گیا ہے، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دبئی فرار ہونے والے ملزم کو انٹرپول کے ذریعے لانے کیلئے رابطہ کیا گیا ہے
آئی جی خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے آنے والے لوگ جرائم کریں گے تو دہشت گرد قرار دیں گے 2سے3ماہ میں سوات میں رونقیں دوبارہ بحال ہوں گی سوات کے تمام پہاڑوں کو دہشت گردوں سے خالی کرا دیا گیا عاطف خان کو بھتے کی کال کی تحقیقات کررہے ہیں،ایک سال کے دوران بھتے میں ملوث 63 افراد کو گرفتار کیا گیا،افغانستان میں اگست 2021 کے بعد حالات بدل گئے ہیں
مسلح حملہ آور نے اسکول وین پر فائرنگ کی تھی جس سے وین ڈرائیور ہلاک اور ڈرائیور کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھا ایک طالب علم زخمی ہوگیا تھا۔ جس کے بعد سے متاثرہ لواحقین اور پڑوسیوں نے احتجاج شروع کر دیا ہے اور انہوں نے انصاف کا مطالبہ کیا۔ یہ حملہ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی طرف سے گولی مارنے کے 10 سال مکمل ہونے کے ایک دن بعد ہوا ہے جب وہ ایک اسکول کی طالبہ تھیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛ آئندہ ماہ پنجاب میں ایک بار پھر ہماری حکومت ہوگی. لیگی رہنماء حنیف عباسی کا دعویٰ وفاقی کابینہ اجلاس؛ ممکنہ لانگ مارچ میں امن و امان کیلئے وزارت داخلہ کی 41 کروڑ کی سمری منظور زلفی بخاری اور افتخار درانی نےآصف زرداری کے خلاف نااہلی ریفرنس جمع کرا دیا
اس حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان ایسے وقت میں اقتدار میں واپس آنے کا دعویٰ کر رہے ہیں جب خیبرپختونخوا میں مکمل افراتفری ہے اور امن و امان کی صورتحال ابتر ہے وہ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کر رہے تھے جہاں وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف اور جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبر چترالی نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا. دریں اثناء مولانا چترالی نے صوبے میں ٹارگٹ کلنگ اور قتل کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا تھا.
عمران خان نے آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا
عمران خان نے آڈیو لیک کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن یا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی استدعا کر دی، سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم ہاوس اور آفس کی نگرانی، ڈیٹا ریکارڈنگ اور آڈیو لیکس کوغیر قانونی قرار دیا جائے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے مزید آڈیوز کو لیک روکنے کی بھی استدعا کردی، عمران خان نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت اور متعلقہ اتھارٹیز کو مزید آڈیوز کی ریلیز کو روکنے کا حکم دیا جائے، آڈیو لیکس کی تحقیقات کراکر ذمہ داران کو سزا دی جائے، عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں وزارت داخلہ،دفاع، آئی ٹی ،وزارت اطلاعات، آئی بی، ایف آئی اے اور پیمرا فریق بنائے گئے ہیں
واضح رہے کہ وزیراعظم ہاؤس کی مبینہ آڈیو لیکس ہوئی تھی جس کے بعد پاکستان بھر میں تہلکہ مچ گیا تھا، پہلی آڈیو شہباز شریف، مریم نواز و دیگر کی جاری ہوئی تھیں اسکے بعد عمران خان کی بھی آڈیو جاری ہوئی ہیں، عمران خان ان آڈیو میں بے نقاب ہوئے ہیں اور انکا حقیقی چہرہ کھل کر قوم کے سامنے آیا ہے، اب عمران خان چاہتے ہیں کہ آڈیو کی ریلیز کو روکا جائے تا کہ انکے کرتوت سامنے نہ آ سکیں
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی کابینہ نے آڈیو لیکس معاملے پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف کارروائی کی منظوری دے دی تھی. وفاقی کابینہ نے آڈیو لیکس کیس میں عمران خان، ان کے ساتھی وزرا اور اعظم خان کے خلاف قانونی کارروائی کی باضابطہ منظوری دے دی تھی۔ کابینہ کمیٹی نے یکم اکتوبر کو اجلاس میں قانونی کارروائی کی سفارش کی تھی۔ کابینہ کمیٹی کا اس وقت کہنا تھا کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے جس کے قومی مفادات پر سنگین مضر اثرات ہیں، قانونی کارروائی لازم ہے۔ کابینہ کمیٹی کی جانب سے سمری میں سفارش کی گئی تھی کہ ایف آئی اے سینئر حکام پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے۔ جبکہ ایف آئی اے دیگر اداروں سے بھی اہلکاروں کو ٹیم میں شامل کر سکتی ہے۔
حالیہ آڈیو لیکس نے ملکی سائبر سکیورٹی سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ آڈیو لیکس کے سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف، حکومتی وزرا اور یہاں تک کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی حساس نوعیت کی گفتگو لیک ہوچکی ہے. 20 اگست کو ہیکرز کے ایک فورم پر ’انڈی شیل‘ کے نام سے اکاؤنٹ بنانے والے ایک مبینہ ہیکر نے اپنے پاس آڈیوز کی موجودگی سے متعلق ایک پوسٹ کی تھی۔ مبینہ ہیکر نے اپنی پوسٹ کا نام Pakistani PM office Data leaked یعنی ’پاکستانی وزیراعظم کے دفتر کا لیک شدہ ڈیٹا‘ رکھا تھا۔ اس کی کم از کم بولی 180 بٹ کوائن رکھی گئی تھی جو پاکستانی کرنسی میں کروڑوں روپے بنتی ہے۔
آزاد کشمیر، تحریک انصاف میں بغاوت،تنویر الیاس کیخلاف عدم اعتماد کی تیاریاں مکمل
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کے خلاف عدم اعتماد کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں
آزاد کشمیر میں سیاسی بغاوت دیکھنے میں آئی ہے، تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں جس کی کامیابی کے قوی امکانات ہیں،سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید کہتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد کی بہت سی وجوہات ہیں وہ لوگوں کی عزت نہیں کرتے، سمجھتے ہیں کہ پیسے کے بل بوتے پر وزیراعظم بنے،انہوں نے غیر محتاط زبان استعمال کی،ایک برادری کے لیڈر کے خلاف غلط زبان استعمال کی،ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ میں دھواں نکال دوں گا، میٹنگ بلا کر خود نہیں جاتے، دن کو دفتر نہیں جاتے، شام کو جاتے ہیں،میں نے عمران خان کو بتایا تھا کہ تنویر الیاس لوگوں کے لئے مسائل پیدا کر رہے ہیں،اسکی خبر لیں، شام کو چھ بجے کونسا وقت ہے دفتر جانے کا، سرمائے کے بل پر عہدے حاصل کرتا رہا ہے، پنجاب میں عثمان بزدار کا مشیر بھی پیسے کے بل پر ہی بنا تھا، پارٹی کے لوگوں کے ساتھ بھی ناروا سلوک کرتا ہے،
ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ غیر محتاط گفتگو اور عوامی مسائل حل نہ کرنے کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں، سپیکر اور عبدالقیوم نیازی نے اپوزیشن کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے، 27 اراکین چاہئے، عمران خان کو صحیح اطلاعات نہیں دی گئیں، 20 اراکین اپوزیشن کے پاس ہیں، وہان کام نہیں ہو رہے ، امکان یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو سکتی ہے کیونکہ ماحول اسوقت وزیراعظم آزاد کشمیر کیخلاف ہے، اگلا وزیراعظم کون ہو گا اسکا فیصلہ ابھی تک یہ نہیں ہوا،
تحریک انصاف آزاد کشمیر کے اندر بھی وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف آوازیں اٹھنے لگ گئیں، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی نے بھی وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف پریس کانفرنس کر ڈالی تو کئی پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تنویر الیاس آزاد کشمیر کے "امپورٹڈ وزیراعظم” ہیں. جب سے انکو وزیراعظم بنایا گیا یہ تحریک انصاف کو مقامی سطح پر کمزور کرنے کے درپے ہیں، اللہ پیسے کے ساتھ ساتھ انسان کو شعور بھی دیتا ہے لیکن وزیراعظم آزاد کشمیر صرف پیسے کے بل بوتے پر وزیراعظم بنے
اسلام آباد ہائیکورٹ نے فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت درج مقدمہ کا عدالتی دائرہ اختیار واضح کردیا
اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت ایف آئی اے کا مقدمہ بینکنگ کورٹ ہی سنے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے احکامات جاری کیے ملزمان وکلا کے ہمراہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے،عدالت نے ملزم سے استفسار کیا کہ کیا آپ شامل تفتیش ہوئے ہیں؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہم اسپیشل جج سینٹرل کے پاس گئے تھے ،عدالت نے ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ کیا یہ شامل تفتیش نہیں ہوئے ؟ایف آئی اے نے جواب دیا کہ نہیں، یہ شامل تفتیش نہیں ہوئے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواست گزاروں نے حفاظتی ضمانت مانگ رکھی تھی ،
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے یہ طے کرلیتے ہیں کہ دائرہ اختیار کیا بنتا ہے ،وکیل نے کہا کہ جو الزامات ہیں اور دفعات ہیں وہ بینکنگ کورٹ کی بنتی ہیں وکیل نے فارن ایکسچینج ایکٹ مقدمہ کی ایف آئی آر پڑھ کر سنائی
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت 11 افراد کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے فارن ایکسچینج ایکٹ کی خلاف ورزی کی، نجی بینک اکاؤنٹ کے بینفشری ہیں۔ درج ایف آئی آر کے مطابق نیا پاکستان کے نام پر بینک اکاؤنٹ بنایا گیا۔ سردار اظہر طارق، سیف اللہ نیازی، سید یونس، عامر کیانی، طارق شیخ اور طارق شفیع نامزد کئے گئے ہیں بینک منیجر نے غیر قانونی اکاؤنٹ آپریٹ کرنے کی اجازت دی، نجی بینک کے مینجر کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا گیا فارن فنڈنگ کیس میں بیکنگ سرکل تھانے میں عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ، فارن ایکسچینج ایکٹ کی خلاف وزی کی ناقابل ضمانت جرم ہے جس میں سات سال تک قید ہوسکتی ہے
عمران خان نے اس مقدمے میں بھی ضمانت کروا رکھی ہے ، عمران خان نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی تھی،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ایف آئی اے کو گرفتاری سے روکا جائے، عمران خان کی ضمانت دائر کرنے کے لیے قانونی ٹیم انتظار حسین پنجوتھہ اور علی اعجاز بٹر عدالت میں پیش ہوئے اور درخواست ضمانت دائر کی،
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا سے قرضوں کی واپسی میں التوا یا ری شیڈولنگ نہیں بلکہ فنڈز چاہتا ہے۔
فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سیلاب نے نشیبی علاقوں سندھ اور بلوچستان میں تباہی پھیلائی ہے، موسمیاتی تبدیلی سے جڑی سیلابی تباہی سے نمٹنے کے لیے بھاری رقم درکار ہے، پاکستان دنیا سے قرضوں کی واپسی میں التوا یا ری شیڈولنگ نہیں فنڈز چاہتا ہے، متاثرین کے لیےمطلوبہ فنڈز نہ ملنے سے ملک میں سیاسی عدم استحکام کا خطرہ ہے
انہوں نے مزید کہا کہ سیلاب سے 30 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ، عالمی برادری سے مالی تعاون کے خواہاں ہیں، سیلاب متاثرین کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لارہے ہیں، بے گھرافراد کو خیمے ، ادویات اور خوراک کی ضرورت ہے، سیلابی پانی کی وجہ سے متاثرین میں جلد کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں، سیلابی پانی ملیریا، ڈینگی اور دیگر بیماریوں کا سبب بن رہا ہے.
سپریم کورٹ میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت آج ہوگی۔چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ حکومتی درخواست کی سماعت کرے گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مظاہر نقوی 5 رکنی بنچ کا حصہ ہوں گے۔
عمران خان پر سپریم کورٹ کے 25 مئی کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے کا الزام ہے۔ وزارت داخلہ نے عمران خان کیخلاف 12 اکتوبر کو درخواست دائر کی تھی۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ عمران خان اسلام آباد کی جانب مارچ اور احتجاج کے اعلانات کر رہے ہیں، وہ سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
درخواست کے متن کے مطابق سپریم کورٹ نے عمران خان کو پُرامن احتجاج کی اجازت دی تھی مگر چیئرمین پی ٹی آئی اسلام آباد پر چڑھائی کے اعلانات کر رہے ہیں۔
دوسری طرف سپریم کورٹ نے ریکوڈک صدارتی ریفرنس سماعت کیلئے مقرر کرتے ہوئے 5 رکنی لارجر بنچ تشکیل دے دیا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنی سربراہی میں صدارتی ریفرنس پر سماعت کیلئے پانچ رکنی لارجر بنچ تشکیل دیا، سپریم کورٹ ریکوڈک صدارتی ریفرنس پر 25 اکتوبر کو سماعت کرے گی۔
بنچ میں جسٹس اعجاز الااحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیٰ آفریدی، جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں۔خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے ریکوڈک ریفرنس کی منظوری دی تھی، وزیر اعظم کی ایڈوائس پر صدر عارف علوی نے ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیجا تھا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کلائمیٹ کونسل موسمیاتی تبدیلی کے مختلف پہلوؤں پر کام کرے گی۔تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ پاکستان کلائمیٹ کونسل کو موسمیاتی تبدیلی پر مؤثر قومی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے کوششوں کو ہم آہنگ کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہم آہنگی کرتے ہوئے پاکستان کلائمیٹ کونسل موسمیاتی تبدیلی کے مختلف پہلوؤں پر کام کرے گی جیسے کہ تخفیف، موافقت اور موسمیاتی فنانس۔واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے موسمیاتی تبدیلی کونسل کو مکمل فعال ادارہ بنانے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔
وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق مستقبل میں موسمیاتی خطرات کی نشاندہی اور قومی سطح پر جامع پلان تیار کیا جائے۔شہباز شریف نے کہا کہ ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے اور بروقت تیاری کے لئے مستقل بنیادوں پر وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں کا اشتراک عمل تیار کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کونسل مشترکہ مفادات کونسل کی طرز پر بنائی گئی تھی جس میں وفاق اور تمام صوبائی متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں۔شہباز شریف نے موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے حامل گھروں اور انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کے لئے نیشنل پلان بنانے کی بھی ہدایت دے دی۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ چاہے عمران خان کے مطالبات ہوں یا دعوے، مخالفین پر تنقید ہو یا مسائل کو دیکھنے کا نظریہ۔ جس چیز پر نطر ڈالی جائے عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ کوئی اتنا Unreason able بھی ہو سکتا ہے۔ اور اس سے زیادہ عقل اس وقت دنگ رہ جاتی ہے جب اسے چاہنے والے ا سکی ایک ایک چال کو حرف آخر سمجھ لیتے ہیں۔
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان سادہ الفاظ میں یہ چاہتے ہیں کہ اگر پاکستان میں کسی کو حق حکمرانی ہو نا چاہیے تو وہ صرف وہ خودہوں۔اگر کوئی صحافی ۔۔ اپنے آپ کو صحافی کہلوانا چاہتا ہے تو اس کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ وہ عمران خان کی تعریفوں کے پل باندھ دے اور اس کی برائیوں پر اندھا ہو جائے۔جو آنکھیں کھولے گا وہ لفافہ صھافی کھلوائے گا۔آرمی چیف لگانا ہے تو میں نے لگانا ہے چاہے وزیر اعظم ہوں یا نہ ہوں۔ اگر وہ وزیر اعظم نہیں ہیں تو قبل از وقت الیکشن کرواو۔ ورنہ الیکشن نہ کروانے والے اس ملک کے دشمن ہیں اور غدار ہیں۔جہاں سے انتخابات جیت جائیں وہاں دھاندلی نہیں ہوئی اور جہاں ہار جائیں وہاں دھاندلی۔جو انہیں سپورٹ نہ کرے وہ نہی عن المنکر اور جو ان کے فریب کا ساتھ دے وہ امر بالمعروف۔عدالتیں ان کے حق میں فیصلہ دے دیں تو حق کی جیت اور اگر کسی اور کے حق میں فیصلہ آ جائے تو NRO 2مل گیا۔وہ وزیر اعظم ہوں تو اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل نہ ہو اور اگر وہ اپوزیشن میں ہوں تو بھی اسٹیبلشمنٹ انہیں اپنی گود میں بیٹھائے۔امریکی سازش کا پول کھلتا ہے تو غداری کے ٹائیٹل بانٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ میر جعفر اور میر صادق کے برینڈ کا پول کھلتا ہے تو آپے سے باہر ہو کر اپنے چیلوں سے اداروں پر ڈائریکٹ حملے کرواتے ہیں۔ایک طرف کہتے ہیں میں مقبول ہوں تو دوسری طرف مقبول ہونے کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کا بغل بچہ بننے کی ضد کر رہے ہیں۔جو آرمی چیف میں لگاوں گا وہ محب وطن ہو گا جو دوسرے لگائیں گے وہ چور ڈاکو لگائیں گے۔ انہیں یہ نہیں پتا کہ گھسے پٹے انقلابی نعروں سے مقبول تو ہو سکتے ہیں لیکن عوامی تبدیلی اور حقیقی جمہوریت کو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اپنے فائدے کے لیے ایک پوری نسل کو گندی سیاست کی نظر کر دیا ہے۔ اورAnti politicsطبقے کو ذہنی عیاشی کروا کے پاگل بنایا ہوا ہے۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فسطائیت کی انتہا دیکھیں کہ صحافی بولے تو اس پر اپنے بھونکنے والے کتے چھوڑ دو۔سیاست دان چھوڑ دے تو انہیں مشرق قرار دے دو۔کوئی پرانا ساتھی چھوڑ دے تو اسے چور کرپٹ کہہ دو۔جو جہالت کے ساتھ ہے وہ باشعور اور جو اسے پہچان لے وہ جاہل اور ذہنی غلام۔اسمبلی میں لوگوں کو زبردستی اپنے ساتھ رکھنے کی طاقت نہ رہے تو رجیم چینج کا ڈرامہ رچا دو۔ ایک طرف امریکہ سے غلامی پر کمپین کرو دوسرئ طرف ڈرائینگ روم میں امریکی عہدے داروں سے معافیاں مانگو۔ اگر میں وزیر اعظم ہوں تو پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ اگر میں نہیں تو ایٹمی اثاثے خطرے میں۔پاکستان کے مخالف سی آئی اے کے اہلکاروں کی کمپنیوں کوPR compaignدو، اور ادھر ملک میں اینٹی امریکہ جذبات سے فائدے اٹھاو۔ جہالت کا پرچار کرتے ہوئے رجیم چینج جیسی ٹرم کو پاکستان کے اندر اداروں کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دو۔ رجیم چینج کیا ہے اور کیوں ہوتا ہے میں آپ کو سادہ الفاظ میں سمجھا دیتا ہوں۔جس طر ح گا و ں کا چو دھری بننا آسان نہیں با لکل اسی طرح پو ری دنیا کے چو دھری بننے کے لئےاپ کو اپنے مختلف Tactics, objectives, goals,سیٹ کر نے پڑتے ہیں پھر جا کر اپ اپنے National interestحا صل کر سکتے ہیں ،جس طرح گاون کا چوہدری جعلی پرچے کر کے کنٹرول کرتا ہے اسی طرح دنیا کا چوہدری پراپیگنڈا کر کے کنٹرول کرتا ہےدنیا کی Politicsمیں اپنا رول ادا کر نے کے لئےکسی بھی ملک کا سیا سی ،سماجی ،اقتصا دی ،معا شی ،طور پر مستحکم ہو نا ضروری ہوتاہے ،عمران خان کا ڈرامہ بے نقاب کرنے سے پہلےدو الفاظ میں رجیم چینج کی تاریخ بتاوں دو۔۔ کہ جب2nd world war کے بعد دنیاBipolar سسٹم میں تقسیم ہو چکی تھی ،CommunismاورCapitalism یہ Ideology کی جنگ تھی ،سوویت یو نین کمیونزم اور امریکہ کیپٹلزم کو فروغ وے رہا تھا۔دونوں ایک دوسر ے کو نیچا دیکھا نے کے لئےپرا کسی وار لڑ رہے تھے ،یعنی وہ جنگ جو دو سرے ممالک میں لڑی جا ئے،اس جنگ میں جب امریکہ کو محسو س ہو تا کہ کسی ملک کا جھکا و روس کی طرف ہے تو وہ وہاں پرمختلف طریقے سے سازشیں شر وع کر دیتا ،رجیم چینج کر نے کے لیے وہ مختلف طریقوں سے اربوں ڈالر خر چ کر ڈالتاتاکہ وہ حکو مت Destabilizeہو جائے ،اور وہ اپنے من پسند لوگوں کو لے آے اس کے لئےوہ اپوزیشن کو خفیہ طر یقوں سے فنڈ مہیا کرتا ،Military coupکر واتا،مقبول لیڈروں کا قتل عام کر واتا،اس ملک کی معشیت کو تبا ہ کرنے کیلئے جائز اور نا جا ئز معا شی پا بندیوں سے حکو مت کی بنیا دیں ہلا دیتا ،تاکہ عوام میں بے چینی پھیل جائے،سیاسی ہنگا مے کر وا کر بے یقینی کی فضا قا ئم کر دیتا،اس ملک کے صحا فیوں کو پے رول پر یا صحا فتی ادارے کو خر ید کر اپنے منظم پر اپیگنڈہ کے ذریعے طاقت کا توازن اپنے حامیوں کے حق میں کروا دیتا۔ کیونکہ Politics is all about powerملٹر ی پاور ۔اکنا مک پاور کسی بھی ملک کی Hegemonyکو Explain کر نے کے لئے کا فی ہے ،امر یکن
Movies, pop music, books, TV show , political talk show, یہ سب American cultural superiority
کو ظاہر کر تے ہیں جو کہ پو ری دنیا میں مشہور ہیں یہ سب امریکہ کی پروپیگنڈاکے ذرائع ہیں ان کے ذریعے امریکہ اپنے مفا دا ت کو دنیا کے سامنے ایک اچھے اور منظم طر یقے سے پیش کر تا ہے ۔اور کئی بار انٹر نیشنل لا کی بھی Violationکر جا تا ہے ،اب تک امریکہ نے CIAکی مدد سے پچھلے تقریبا 70 سالوں میں 72حکو متوں کے خلا ف آپر یشنز کئے،26 آپریشن کا میا ب 40 ناکام رہے ،6 ممالک میں براہ راست مداخلت کی ،66آپر یشنز سی آئی اے کے ذریعے خفیہ طریقے سے کئے گئے ۔جہاں امریکہ نے تیل کی دولت کو ہڑپ کر نے،ان ممالک کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے ،کمیونزم کا اثر ختم کر نے کے لے ،ڈیمو کر یسی کے فروغ کےلئے،Pre emption کی پالیسی کے لیے اس نے جبر،ظلم ،جھوٹ،مفاد ،کے تحت ان حکو متوں کا خا تمہ کیا۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جہاں تک پاکستان میں امر یکن رول ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں لیاقت علی خان کے قتل سے لیکر ذولفقار علی بھٹو کی پھا نسی تک ہماری خا رجہ پالیسی میں امر یکہ کا ایک مخصوص کر دار ہے ،امریکہ جو20ٹر یلئن سے زائد جی ڈی پی کا مالک ہے،جس کے اس وقت 70 سے زائدممالک میں800سے زائد Military Bases ہیں۔ اور وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر حربہ استعمال کرتا ہے۔جب عمران خان وزیر اعظم تھے تو ٹرمپ کے سامنے ایسے بچھے کہ جیسے ورلڈ کپ جیت لیا ہو۔ بائیڈن جیتا تو اس کی کال سننے کے لیے اتنے بے تاب ہوئے کہ اس کے دشمن بن گئے، خان کی کم عقلی دیکھیں کہ اس نے ملکی مفاد اپنی عنا کے بھینٹ چڑھا دیا۔ اور اتنا دیوانہ ہو گیا کہ اگر ہم کہیں کہ پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ تو غلط نہیں ہو گا۔کبھی طالبان کی جیت پر غلامی کی زنجیریں توڑنے کا بیان تو کبھی خام خواہ کاAbsolutely not. اور پھر سائفر سے کھیلنے کے اپنے الفاظ جو خود اعظم خان کے سامنے اپنے منہ سے نکالے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان میںAnti AmericaAnti politics اور مذہبی ٹچ بہت بکتا ہے اس نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے ہر ہربہ استعمال کیا، پانچ خریدے بھی لیکن مزید پانچ نہ خرید سکا۔ خان وزیر اعظم کی سیٹ تو اسی وقت ہار چکا تھا جب مرحوم عامر لیاقت نے کہا کہ میں آیا نہیں لایا گیا ہوں۔یہ کیسا امریکہ بہادر ہے کہ اس کا زور چوہدری شجاعت پر چل گیا لیکن چوہدری پرویز الہی پر نہ چل سکا۔ یہ کیسا امریکہ بہادر ہے کہ اس نے وفاق سے عمران خان کو نکال دیا لیکن پنجاب، خیبر پختون خواہ ، کشمیر اور گلگت کی حکومتیں اس کے پاس رہنے دی۔کبھیAbsolutely not کا بہانہ بنایا تو کبھی روس دورے کا، کبھی سستے پٹرول کی چالیں چلیں تو کبھی کوئی اور۔ہرچال ناکام ہوتی رہی اور یہ نئی چالیں گھڑتا گیا۔
بقول شاعر
کسی کو اپنے عمل کا حسا ب کیا دیتے ۔
سوال سارے غلط تھے جو اب کیا دیتے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں رجیم چینج میں کو ئی بیرونی مداخلت ہو ئی تھی یا نہیں سازش کی کہانی پر Investigationکی گئی، ایجنسیوں اور سپر یم کو رٹ نے اس پر تما م حو الوں سے تحیقیقا ت کے بعد اپنے فیصلے میں کسی بھی بیر ونی مداخلت کا نہ ہو نا ظاہر کر دیا ،اس دوران عمر ان خا ن نے عوام میں جانے کا فیصلہ کیا،بڑے بڑے جلسے جلوس کئے گئے،پروپیگنڈا مہم چلا ئی گئی ،نئی حکو مت کو چو ر ڈا کو کہا گیا،فو ج کے اعلی عہدیدران کو نیو ٹر ل ہو نے کا طعنہ دیا گیا ،عدلیہ کے معزز ججز کو کہ آپ کو بھی دیکھ لینگے،الزام تراشیا ں کی گئی،پو لیس کے افسران کو دھمکیاں دی گئی،لیکن جب آڈیو لیکس سامنے آئی تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو گیا ،ان آڈیو لیکس میں عمران خا ن کو سائفر سے متعلق اعظم خان ،شاہ محمو د قریشی ،اسد عمر کو ہدایتیں دیتے ہوئے اور اس سائفر کو اپنے مخصوص نظریات کے مطابق سازشی پیراڈائم میں تبدیل کرنے کا کہا گیا ۔ حا لانکہ اس سا ئفر کو نیشنل سیکو رٹی میں دو بار پیش کیا گیا تھا،اپنی مرضی کے میٹنگ منٹس بنائے، ٹرانسکرپٹ کو سائفر کہا، جعلی خط عوام میں لہرایا۔لیکن اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے، مُکر خان ہر جگہ ذلیل و رسوا ہوا۔عمران خان کے دیوانوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ آج کی گلو بل ویلیج میں جب دنیا سمٹ کر رہ گئی ہے کسی بھی تر قی پذیر ملک حتی کہ تر قی یا فتہ ملک بھی مکمل طور پر اپنی آزاد خا رجہ پا لیسی تر تیب نہیں دے سکتا،International relations میں کئی Actorsاثر انداز ہو رہے ہو تے ہیں جن کی وجہ سے کو ئی بھی ملک مکمل طور پراپنی آز اد خا رجہ پالیسی نہیں بنا سکتا ۔حقیقت یہ ہے کہ ملٹر ی اور سول اسٹیبلیمنٹ کےمنطور نظر بننے کے بعد جب اقتدار کا ہما آپ کے سر پر رکھا گیا تو آپ نے اپنی نا اہلی ،نالائقی سے پو نے چار سالوں میں عوام کو اچھے منصوبے دینے میں ناکام ہو گئے،کو ئی تر قیا تی کا م نہیں ہواسی پیک کو تباہ کر کے امریکہ بہادر کو خوش کیا۔اگر کوئی کام کیا ہوتا توآج عوام کو ان کے بارے میں بتاتے لیکن۔۔۔لیکن۔۔۔۔لیکن اگر کو ئی ایسا کام کیا ہوتا تو ۔۔۔۔جب عوام کو بتانے کیلئے کچھ بھی نہیں تھا تو آپ نے عوام کو رجیم چینج کا منجن بیچنا شروع کر دیالیکن یہ منجن بھی استعمال ہونے سے پہلے ہی سڑ گیا۔اب تو شرم کرو، منافقت چھوڑو، سیاست سے بے زار لوگوں کو مزید فریب مت بیچو، ان کی امیدون کے ساتھ کھلواڑ مت کرو۔ انہیں اس قابل چھوڑو کہ جب تمھارا فریب زدہ مجسمہ زمین بوس ہو تو وہ کسی پر اعتبار کرنے کے قابل ہوں۔ لیکن تمھاری خود غرضی دیکھ کر مجھے یہ امید بھی نہیں ہے کہ تم ملک تو کیا اپنے ووٹروں کے لیے بھی کچھ سوچو گے
مقبولیت کا بھوت،عمران خان کو لے ڈوبے گا،کچے ذہن اور تباہی کی خطرناک منصوبہ بندی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مقبولیت کا بھوت عمران خان سے اگلے آنے والے دنوں میں چند ایسے فیصلے کروانے والا ہے جس سے اس ملک کی ساکھ کو ایک لمبے عرصے کیلئے نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ اقتدار میں رہتے ہوئے طاقت کے نشے نے اس شخص سے اتنے نقصان کروائے کہ آج ہمارے ایٹمی اثاثوں پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور اب مقبولیت کے نشے میں اس ملک کے ساتھ کھلواڑ کا سلسلہ جاری ہے ۔۔ عوام کے دماغوں میں گند بھرا جا چکا ہے ۔۔ منصوبہ بندی مکمل ہو چکی ہے اور اب عمران خان ٹڈی دل کے قافلے کے ساتھ کسی بھی وقت اسلام آباد پر حملہ آور ہو سکتا ہے ۔
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے پیچھے چھپے اصل حقائق کونسے ہیں ؟ اور عمران خان کا لایا ہوا ٹڈی دل کتنا خطرناک ہو سکتا ہے ؟ عمران خان اپنے اوچھے ہتھکنڈوں اور کروڑوں روپے کی انویسمنٹ سے تیار کردہ سوشل میڈیا سیلز کو استعمال کر کے اس قوم کی نفسیات سے کھیل رہا ہے ۔ پاکستان میں سولہ کروڑ لوگوں کے پاس موبائل فون کی Accessہے اور جس کے پاس موبائل فون ہوتا ہے اس کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے ۔ آٹھ سے دس کروڑ لوگوں کے پاس انٹرنیٹ ہے اور وہ سوشل میڈیا کا استعمال بھی کرتے ہیں ۔۔ ان میں ستر فیصد کے قریب لوگ نوجوان ہیں ۔۔ دو ہزار اٹھارہ سے آج تک الیکشن کمیشن کے ڈیٹا کے مطابق ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگ ووٹر لسٹ میں شامل ہو چکے ہیں ۔۔ اور اگر ہم پچھلے الیکشن کے نتائج میں ٹرن اوور دیکھیں تو اس حساب سے نئے الیکشن میں ستر سے اسی لاکھ تک نئے ووٹ کاسٹ ہو سکتے ہیں ۔ ان سب عوامل کو دیکھتے ہوئے عمران خان اس وقت صرف نوجوان نسل ہی کو ٹارگٹ کر رہا ہے ۔ کچے ذہنوں کو بہت آسانی سے جدھر مرضی Moldکر لو آپ کر سکتے ہیں اس لیے اس کی ٹارگٹAudienceبھی وہی نوجوان نسل ہے جو آسانی سے دور کے ڈھول سن کر سہانے خواب سجا لیتے ہیں ۔عمران خان سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے چھوٹے چھوٹے Time Bomb
بنا رہا ہے جو اس کے ایک اشارے پر کہیں بھی پھٹ سکتے ہیں ۔۔ کسی کےساتھ لڑائی کر سکتے ہیں ۔۔ کسی کے خلاف گالیوں کی مہم چلا سکتے ہیں ۔۔ اپنی عزت کی پرواہ کیے بغیر کسی کی بھی پگڑی بیچ چوراہے اتار سکتے ہیں ۔ اور اگر انھیں اشارہ کیا جائے کہ اسلام آباد آ کر شہر کو یرغمال بنا لو تو یہ لوگ وہ بھی کر سکتے ہیں ۔کیونکہ ان کے دماغ زنگ آلود ہو چکے ہیں ۔ ان کے لہجے میں زہر بھرا جا چکا ہے ۔ اور اب وہ انسان کی بجائے صرف ایک Robotکی طرح عمران خان او ر اس کے حواریوں کی Instructions پہ عملد رآمد کرنا جانتے ہیں ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس سب کے ساتھ جب مذہب کاتڑکا لگتا ہے تو کھیل مزید خطرناک ہو جاتا ہے اور عمران خان پورے موڈ میں ہے کہ جہاں بھی ضرورت ہو مذہب کاچورن ساتھ بیچا جائے ۔۔۔ اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ عمران خان صرف مذہب کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ وہ مذہب کو Weaponizeکر رہا ہے ۔۔ اس کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور اگر ایسے ہی چلتا رہا تو طاقت کا یہ کھیل پاکستان کے سینے پر بہت سی نئی ضربیں لگا سکتا ہے ۔ بہت سے نا بھرنے والے زخموں کا باعث بن سکتا ہے جو بعد میں پاکستان کےلیے ناسور بن سکتے ہیں ۔ اب عمران خان کی نظریں اسلام آباد کی طرف ہیں اور وہ ملک میں ایک بد ترین Anarchy کے خواب دیکھ رہا ہے ۔۔ وہ لوگوں اور حکومت دونوں کی Nervesکو ٹیسٹ کر رہا ہے ۔۔ وہ ا یسے حالات کا انتظار کر رہا ہے اور کچھ حالات خود سے بنا رہا ہے جس کی وجہ سے اس ملک کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے ۔ اکتوبر کا آخری ہفتہ اور نومبر کے پہلے دو ہفتے انتہائی اہم ہیں اور انھی دنوں میں کاروائی ڈالی جا سکتی ہے ۔۔ عمران خان لوگوں کو با ر بار یہ منجن بیچ رہا ہے کہ اس کے لانگ مارچ کا مقصد صرف قبل از وقت انتخابات ہیں ۔ لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہے ۔ اس لانگ مارچ کا سب سے بڑا مقصد اور محور نومبر میں ہونے والی آرمی چیف کی تعیناتی ہے ۔۔ عمران خان کی انا کو کسی صورت گنوارا نہیں ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ موجود ہ حکومت کرے ۔اسے یہ غم اند ر ہی اندر کھائے جا رہا ہے کہ میں اس ایک ملک کا پونے چار سال کےلیے حکمران رہا لیکن میرے پاوں میں ایسی بیڑیاں تھیں جس وجہ سے میں ایک بار بھی آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ نہیں کر سکا ۔اس لیے وہ اس تعیناتی کو متنازعہ بنانے کےلیے کبھی اداروں میں بغاوت کا بیج بوتا ہے تو کبھی اداروں کے سربراہان کی حب الوطنی پر ایک سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے ۔ کبھی جلسوں میں کہتا ہے کہ جو آرمی چیف یہ لوگ لانا چاہتے ہیں وہ ا ن کی کرپشن پر پردہ ڈالے گا اور جب ڈنڈا دکھائی دیتا ہے تو اپنے ہی بیان سے مکر جاتا ہے ۔ابھی اس کے پاس دوسرا کوئی چارہ نہیں بچا ۔۔ ضمنی الیکشن کے بعد وہ الیکشن کمیشن پر بھی حملہ آور نہیں ہو سکتا ۔ اس لیے اس نے نومبر کی تعیناتی کو لے کر ابھی سے اس قوم کے دماغوں کو بنجر کر نا شروع کر دیا ہے ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ریاست سے ٹکر لینے کےلیے اس حد تک چلا گیا ہے کہ اس کے بقول اگر لانگ مارچ کے دوران کوئی تیسری قوت مداخلت کرتی ہے تو اس کی ذمہ دار سرکار ہوگی۔ یعنی اس نے اپنے سارے پیادوں کو ہدایا ت جاری کر دی ہیں جو ہر ریاست کے ساتھ ہر طرح کے Clash کے لیے تیار ہیں ۔ اب یہاں دو طرح کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ۔ ایک تو یہ ہے کہ جیسے ہی آرمی چیف کی تعیناتی کسی حتمی مرحلے سے گزرتی ہے فوری طور پر اسلام آباد ڈی چوک کی طرف آیا جائے اور پوری قوت کےساتھ آیا جائے ۔۔ اس کےلیے پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی ساری مشینری استعمال کی جائے ۔۔ کے پی کے وزیر اعلی تو بہت دیر سے رضا مند ہیں ۔ کے پی حکومت کے ہیلی کاپٹر پر وہ سیریں بھی کرتے ہیں ۔۔ کے پی ہاوس میں ان کی بیٹھکیں بھی ہوتی ہیں لیکن پنجاب حکومت اس میں آڑے آ سکتی ہے کیونکہ پرویزا لہی کسی صورت عمران خان کے ان عزائم کا ساتھ نہیں دے سکتے جن کے وہ خواب دیکھ رہے ہیں ۔ اس لیے عمران خان بار بار پنجاب کے چکر کاٹ رہے ہیں ۔۔ یہاں کی انتظامیہ کو ٹکر لینے کےلیے رضا مند کر رہے ہیں ۔ہر روز کی بنا پر وہ لوگوں سے حلف لے رہے ہیں ۔۔ لیکن اپنے اہل خانہ سے ابھی تک کوئی حلف نہیں لیا ۔۔ شاید ان کی حقیقی آزادی کی جنگ میں بشری بی بی شریک نہیں ہونا چاہتیں یا پھر عمران خان کو صرف عام لوگوں کو ریاست کے سامنے لانے کا شوق ہے ۔ایک دوسرا منصوبہ بھی اس سارے کھیل میں شامل ہے ۔وہ یہ ہے کہ اسلام آباد کی بجائے پنڈی میں ہی پڑاو کیا جائے ۔۔ اس کے دو تین فائدے ہیں ۔ ایک تو یہ ہے کہ پنڈی کی حدود میں صرف پنجاب کی حکومت ہے ۔۔ وہاں پر پنجاب پولیس ان کو ہر طرح کی Protectionبھی فراہم کر سکتی ہے ۔۔ وہاں پر یہ اپنی مرضی کے مطابق جس طرح چاہیں قانون کے ساتھ بھی کھیل سکتے ہیں ۔ اور تیسری بڑی وجہ یہ ہے کہ پنڈی میں احتجاج کے دوران عمران خان کو کھلا موقع مل جائے گا کہ وہ اداروں کو مجبور کر دے کہ وہ نا چاہتے ہوئے سامنے آئیں او ر اس کے پھیلائے ہوئے گند کا علاج کریں ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پس پردہ حقائق بھی یہی ہیں کہ ہر صورت اداروں کو مجبور کر دیا جائے کہ وہ اپنے ہی لوگوں کے خلاف کوئی کاروائی کریں ۔۔ تا کہ ایک تو آرمی چیف کی تعیناتی کو تنازعات میں گھیرا جا سکے اور دوسرا اس ملک میں انتشار پھیلا کر پھر سےا س ملک کو دلد ل میں پھینکا جا سکے ۔لیکن دوسری طرف بھی تیار ی پوری ہے ۔ دوسری طرف انتظار کیا جار ہا ہے کہ عمران خان اس قسم کی کوئی حرکت کرے تو پورا ملک دیکھے گا کس طرح اس کے کھنے سیکے جاتے ہیں ۔کیونکہ ایف آئی آر تو پہلے سے موجود ہیں ۔ وفاقی حکومت نے اسلام آباد مارچ کے حوالے سے اپنے خدشات کے بارے میں بھی عدالت کو آگاہ کر دیا ہے۔۔ اور اس ملک میں وارنٹ گرفتاری نکلتے اور پھر طبیعت ٹھیک ہوتے کتنی دیر لگتی ہے وہ تو ہم سب نے دیکھ لیا ہے ۔۔ہم نے شہبازگل کو بھی دیکھ لیا ہے ۔۔ ہم نے اعظم سواتی کو بھی دیکھ لیا ہے ۔۔ اور مستقبل میں بھی جو ملک کے خلاف کسی سازش کا حصہ بنے گا وہ چاہے خود عمران خان ہی کیوں نا ہو اس کا انجام بھی ویسا ہی ہوگا اور ہو سکتا ہےان سے بھی زیادہ برا انجام ہو۔طاقت کا یہ کھیل پاکستان کی سیاست کو کس موڑ پر لے کر آتا ہے یہ تو آنے وا لے دنوں میں واضح ہو جائے گا اور اس کے ساتھ وہ قوتیں بھی مزید بے نقاب ہو جائیں گی جو پاکستان کی بقا کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ۔ بس دعا یہ ہے کہ اس سارے کھیل میں پاکستان کا نقصان نا ہو
نیب قانون میں ترامیم کیخلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی
چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی ،پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے ،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کوئی رہ گیا ہے جسے نیب قانون سے استثنیٰ نہ ملا ہو،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مالی فائدہ ثابت کیے بغیر کسی فیصلے جو غلط نہیں کہا جا سکتا، بظاہر افسران کو عوامی عہدیداران کو فیصلہ سازی کی آزادی دی گئی ،وکیل نے کہا کہ ایسے فیصلہ سازوں سے ہی ماضی میں 8 ارب روپے سے زائد ریکوری ہوئی،
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا ریکوری عوامی عہدیداران سے ہوئی تھی؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ عوامی عہدیداروں کیلئے پیسے پکڑنے والوں سے ریکوری ہوئی تھی، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر سرکاری فیصلے کا کسی نہ کسی طبقے کو فائدہ ہوتا ہی ہے، وکیل نے کہا کہ جب تک پہنچایا گیا فائدہ غیر قانونی نہ ہو تو کوئی قباحت نہیں مخصوص افسر کو غیر قانونی فائدہ پہنچانے پر کارروائی نہ ہونا غلط ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کسی ریگولیٹری اتھارٹی اور سرکاری کمپنی پر نیب ہاتھ نہیں ڈال سکتا،
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نئی ترامیم کے بعد نیب قانون سے بچ نکلنے پر دوسرے میں پھنس جائے گا، آپ کے دلائل سے ایسا لگتا ہے احتساب صرف نیب کر سکتا ہے، احتساب کیلئے دیگر ادارے بھی موجود ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کا جرم کسی دوسرے قانون میں نہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم میں نجی افراد کو جرائم سے نکال دیا گیا ہے،آمدن سے زاہد اثاثہ جات پر اس وقت کارروائی ہوگی جب کرپشن ثابت ہو، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے کہ ترامیم سے کئی جرائم کو ڈی کریمینلائز کردیا گیا ہے؟ ریمانڈ کتنا ہو ضمانت کیسے ہوگی ان ترامیم پر آپکا اعتراض نہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ اچھی ترامیم ہیں ان پر اعتراض نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات سمیت نیب قانون سے جرائم نکالے گئے،کیا ان جرائم کیخلاف دوسرے قوانین موجود ہیں؟ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ نیب ترامیم سے کونسے جرائم نکال دئیے گئے ہیں؟ وکیل نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے جرائم کو ختم کردیا گیا ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب قانون میں آمدن سے زاہد اثاثہ جات کاجرم آج بھی موجود ہے، کیا عدالت اب قانون کے ڈیزائن کا جائزہ بھی لے گی؟ عدالت پارلیمنٹ کیساتھ چالاکی کو کیسے منسوب کر سکتی ہے؟
دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں درست ٹیکس ریٹرنز جمع نہیں کرائے جاتے، اثاثوں کا آمدن سے محض زائد ہونا کافی نہیں، آمدن سے زاہد اثاثہ جات میں کرپشن یا بے ایمانی کا ہونا بھی ضروری ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کل کو کوئی عدالت آکر کہیں کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات پر پھانسی ہونی چاہیے،جرم ثابت کرنے کا بوجھ کس پر اور کتنا ہوگا، یہ بحث عدالت نہیں پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے،
واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔