Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • میں نے استعفیٰ دیا ہی نہیں تو منظور کیسے ہو گیا؟ پی ٹی آئی رہنما عدالت پہنچ گیا

    میں نے استعفیٰ دیا ہی نہیں تو منظور کیسے ہو گیا؟ پی ٹی آئی رہنما عدالت پہنچ گیا

    پی ٹی آئی کے سابق ایم این اے شکور شاد نے استعفیٰ منظوری کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    شکور شاد نے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اپنایا کہ میں نے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ نہیں دیا،پارٹی ہیڈ آفس کے کمپیوٹر آپریٹر کے لکھے استعفوں پر 123 ارکان سے دستخط لیے گئے، استعفے اسپیکر کو بھیجے، نام لکھا اور نہ تاریخ ڈالی، پی ٹی آئی نے بتایا کہ یہ استعفے پارٹی ڈسپلن کو برقرار رکھنے کے لیے ہیں،عمران خان سے اظہار یک جہتی اور سیاسی مقاصد کیلئے دستخط کیے،استعفوں کی منظوری عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی ہے

    پی ٹی آئی کے ایم این اے شکور شاد نے عدالت سے استدعا کی کہ الیکشن شیڈول معطل، سیٹ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے،

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے فلور پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا،شاہ محمود قریشی نے وزارتِ عظمیٰ کے الیکشن کے دوران تقریر میں کہا تھا ہم اس ایوان سے مستعفی ہوتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ نئے الیکشن کروائے جائیں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 30 مئی کو سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو استعفوں کی تصدیق کے لیے طلب کیا تھا

  • عمران خان کی مبینہ اشتعال انگیز تقاریر،کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی

    عمران خان کی مبینہ اشتعال انگیز تقاریر،کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی

    عمران خان کی مبینہ اشتعال انگیز تقاریر،کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی گئی.

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اشتعال انگیز تقاریر کے خلاف کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی مبینہ اشتعال انگیز تقاریر کے خلاف کیس کی سماعت آج بروز جمعرات 8 ستمبر کو ہوئی۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ آج ہونے والی سماعت میں درخواست گزار قوسین فیصل کے وکیل کی جانب سے التوا کی درخواست عدالت میں پیش کی گئی۔ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ وکیل کمر کے درد کے باعث پیش ہونے سے قاصر ہیں۔ التواء کی درخواست کے ساتھ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائینسز ( پمز ) کا میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی منسلک کیا گیا۔ جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ درخواست گزار کے وکیل کی عدم موجودگی کے باعث سماعت آگے نہیں بڑھائی جا سکتی۔

    عدالت کی جانب سے درخواست گزار قوسین فیصل کے وکیل کی التواء کی درخواست منظور کرتے ہوئے عمران خان کیخلاف کارروائی کی درخواست پر سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔

    اس سے قبل 4 اگست کو ہونے والی سماعت کو ستمبر کے پہلے ہفتے تک ملتوی کیا گیا تھا۔ گزشتہ ہونے والی سماعت میں عدالت نے درخواست گزار کو ججز کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات پر تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کی کنونشن سنٹر میں ورکرز کنونشن کی اجازت نہ دینے سے متعلق درخواست پر سماعت کی جبکہ اسلام آباد انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو کنونشن سنٹر میں ورکرز کنونشن کی اجازت دے دی ہے اور اسلام آباد انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو این او سی بھی جاری کردیا ہے.

    علاوہ ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کو این او سی ملنے پر درخواست نمٹا دی، تحریک انصاف کے وکیل نے کہا: ہمیں این او سی مل گیا ہے ٹرم اینڈ کنڈیشن بھی مل گئ ہیں، وکیل پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ: ایک درخواست ہے کہ عدالت آئندہ کے لیے ڈائریکشن دے دے.
    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ: مستقل کے لیے ہم کوئی ڈائریکشن نہیں دے سکتے.


    چیف جسٹس نے کہا کہ: انتظامیہ کا معاملہ ہے مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے حالات کا پتہ نہیں ہوتا، یہ عدالت انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی اور آپکو این او سی مل گیا ہے بس آپکی درخواست نمٹا رہے ہیں. ڈی سی اسلام آباد نے بتایا کہ پانچ ستمبر کو انکی درخواست آئی ہے.

  • پاک فوج کی جانب سے سیلاب زدگان کو بچانے کیلئے ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن

    پاک فوج کی جانب سے سیلاب زدگان کو بچانے کیلئے ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن

    پاک فوج کی جانب سے سندھ میں سیلاب زدگان کو بچانے کیلئے ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے

    سندھ کے مختلف اضلاع میں پاک فوج کی دن رات امدادی سرگرمیاں جاری ہیں ٹھٹھہ، بدین، سجاول، مٹیاری، میر پور خاص میں پاک فوج کے دستے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ٹنڈو محمد خان، ٹنڈوالہیار میں بھی پاک فوج کے دستے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں سکھر،لاڑکانہ، نواب شاہ، دادو،جوہی،مہیڑ،کے این شاہ میں پاک فوج کے دستے امداد میں پیش پیش ہیں، افواج پاکستان کی جانب سے سیلاب متاثرین میں راشن اورکھانا تقسیم کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے مختلف علاقوں میں پھنسے افراد کو ریسکیو کرنے کیساتھ فوری طبی سہولیات بھی فراہم کی جارہی ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق حفاظتی مقامات پر افواج پاکستان متاثرین کو ہر سہولت فراہم کرتی رہے گی پاک فوج مشکل وقت میں وطن عزیز کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    یشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن کمیٹی نے ملک بھر میں سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات، ریسکیو اور ریلیف آپریشنز سے متعلق تازہ ترین اعدادوشمار جار ی کر دیئے ہیں ، سیلاب متاثرہ علاقوں میں اب تک پر 1343 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور12720 زخمی ہوئے ، 3847 پھنسے ہوئے افراد کو ان ہیلی کاپٹر پروازوں کے ذریعے نکلا جا چکا ہے ،اب تک 4973 ٹن اشیائے خوردونوش کے ساتھ 925 ٹن غذائی اشیاء اور 2850229 ادویات کی اشیاء جمع کی جا چکی ہیں،4377.9 ٹن خوراک، 887 ٹن غذائی اشیاء اور 2596769 ادویات کی تقسیم ہوئی ہے

    آرمی ایوی ایشن کی کوششیں سے20 ہیلی کاپٹر پروازوں کے ذریعے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 217 افراد کو نکالا گیا جبکہ 30 ٹن راشن متاثرہ علاقوں میں پہنچایا گیا ، اب تک 383ہیلی کاپٹر پروازوں کے ذریعے مجموعی طور پر پھنسے ہوئے 3847 افراد کو نکالا جاچکا ہے ۔ اب تک سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں 147 ریلیف کیمپس اور سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان جمع کرنے ملک بھر میں 284 ریلیف آئٹمز کلیکشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔اب تک 4973 ٹن اشیائے خوردونوش کے ساتھ 925 ٹن غذائی اشیاء اور 2850229 ادویات کی اشیاء جمع کی جا چکی ہیں،4377.9 ٹن خوراک، 887 ٹن غذائی اشیاء اور 2596769 ادویات کی تقسیم ہوئی ہے ۔میڈیکل ریلیف کے حوالے سے 250 سے زائد میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے جن میں اب تک 98551 مریضوں کا علاج کیا گیا اور انھیں 3 تا 5 یوم کی ادویات دیں گئیں ۔پاک بحریہ کی ریلیف اور ریسکیو کی کوششیں کامیابی سے جاری ہیں ،پاک بحریہ نے ملک بھر میں 16 س فلڈ ریلیف کوآرڈینیشن سینٹرز اور 06 سینٹرل کلیکشن پوائنٹس قائم کیے ہیں، مختلف اضلاع میں 1127 ٹن راشن، 2532 اس ٹینٹ اور 419577 لیٹر منرل واٹر تقسیم کیے ہیں۔

  • سات کروڑ کا نادہندہ نو حلقوں سے کیسے الیکشن لڑ رہا؟پبلک اکاونٹس کمیٹی برہم

    سات کروڑ کا نادہندہ نو حلقوں سے کیسے الیکشن لڑ رہا؟پبلک اکاونٹس کمیٹی برہم

    چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت پارلیمانی پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا.

    پی این آر اے حکام نے کہا کہ چیئرمین کانفرنس میں شرکت کے لیے 15روزہ دورے پر بیرون ملک گئے ہیں،نور عالم خان نے کہا کہ چیئرمین کی عدم شرکت میں اعتراضات کا جائزہ نہیں لے سکتے، آئندہ اجلاس میں پی این آر اے کو بلا لیا جائے،پی اے سی سیکریٹریٹ کی کال جانے پر پی ایس سے بات نہیں کرتے،ہمیں وردیوں کا رعب نہ دکھایا جائے،

    پبلک اکاونٹس کمیٹی ارکان نے سیکریٹری الیکشن کمیشن پرتنقید کی ارکان نے عمران خان کو 9 حلقوں سے الیکشن لڑنے کی اجازت دینے پر تنقید کی ،چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ نیب 1800 نادہندگان کی لسٹ بنا رہا ہے تمام وزارتیں اور ادارے نادہندگان کی فہرستیں سیکریٹری الیکشن کمیشن کو بھجوائیں،نیب آپ کو فہرست بھجوائے گا آپ نے ڈرے بغیر نوٹس بھجوانا ہے،ایک بندہ جو 7 کروڑ کا نادہندہ ہے اس کو نوٹس بھیجیں کہ حکومتی خزانے میں پیسے جمع کرائیں، انتخابات 2023 میں آ رہے ہیں تمام نا دہندگان کا ریکارڈ رکھ لیں، شاہدہ اختر علی نے کہا کہ سب کا نام لے لیا مگر جس کا ہیلی کاپٹر کیس میں نام ہے اس کا نام نہیں لیا،ایک ایسا شخص نو حلقوں سے انتخاب لڑ رہا ہے جس کا اسمبلی آنے کا آرادہ ہی نہیں ہے،الیکشن کمیشن اور نیب کو نوٹس لینا چاہیے،

    نور عالم خان نے کہا کہ کچھ لوگ پاکستان کے خلاف براہ راست آواز اٹھا رہے ہیں،ہمیں ان کی طرح نہیں کرنا چاہیے،ہم اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونگے،ادارے کے سربراہ کے خلاف نہیں جانا چاہیے، لوگوں کو اکسانے کی مذمت کرتے ہیں،

    چیرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے الیکشن کمشن کوکہ دیا کہ عمران خان کوآج ہی نوٹس جاری کریں اور پیسے جمع نہ کروانے والے/ڈیفالٹر اور افواج پر حملہ آور ہونے والے کو الیکشن لڑنےکی اجازت نہ دی جائے۔ برجیس طاہر نےکہاکہ مجھے 15 سوروپے کی وجہ سے الیکشن نہ لڑنے دیا خان تو7 کروڑ کے ڈیفالٹر ہیں

    برجیس طاہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے دو سوال ہیں کہ امتیاز کیوں ہو رہا ہے؟ مسلم لیگ ن نے نو حلقوں کے انتخابات کے نتائج روکنے کی تجویز دی ،برجیس طاہرنے کہا کہ وہ جیتے یا ہارے الیکشن کے نتائج کا اعلان نہ کیا جائے،غریب آدمی جو الیکشن لڑتا ہے اس کے لیے اور قانون ہے عمران خان کے لیے اور ،نور عالم خان نے کہا کہ حکومت پاکستان کا پیسہ عوام پر خرچ ہونا چاہیےجلسوں اور جلوسوں پر نہیں، شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ ڈرتے ہیں تو کرسیاں چھوڑ دیں یہ کوئی طریقہ نہیں، نور عالم خان نے کہا کہ آئین کے مطابق کوئی مسلح افواج کے خلاف بات نہیں کر سکتا،الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کی ڈیوٹی ہے آئین کی خلاف ورزی ہورہی ہے،

    نواب شیر وسیر اور شیخ روحیل اصغر نے انگریزی میں بات کرنے پر سیکریٹری الیکشن کمیشن کو جھاڑ دیا ،نواز شیر وسیر نے کہا کہ یہاں کچھ ان پڑھ بھی بیٹھے ہیں،سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایجنڈے پر بات کروں یا ارکان کے سوالوں کے جواب دوں،پرویز رشید نے کہا کہ پرویز رشید نادہندہ ہونے پر نااہل ہو گیا،آپ نے اس سر پھرے بندے کو نوٹس بھیجا ،سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے نادہندگی کی کوئی اطلاع نہیں دی، کچھ خرابیاں ہیں ان کو بہتر کر رہے ہیں، ہم نے ہر طرح کی خلاف ورزی پرسٹینڈ لیا ہے، الیکشن کمیشن کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں ہے،ایک فرد نو حلقوں سے الیکشن لڑ رہا ہے یہ زیادتی ہے مگر قانون خاموش ہے، نور عالم نے کہا کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کی نادہندگان کے خلاف کارروائی کی جائے، آئین کی خلاف ورزی اور نادہندگان کو نوٹس بھیج کر کاپی پی اے سی کو بھجوائیں، آئینی اداروں کے خلاف بات برداشت نہیں کی جائے گی،سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ نیب کی فہرست سمیت دونوں معاملات کمیشن کے سامنے پیش کیے جائیں گے،

    افواج پرحملے کے حوالے سے چیئرمین پی اے سی نے وزارت قانون سے قانونی حوالے طلب کرلئے ،پی اے سی نے الیکشن کمیشن کوآرٹیکل 62-63 کے تحت عمران خان کے نادہندہ ہونے اورکردارکو دیکھتے ہوئے کیس آگے بڑھانے کی ہدایت کر دی،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے افواج مخالف سرگرمیوں پرنوٹس کی ہدایت کر دی،

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    سینئر قیادت پرہتک آمیز،انتہائی غیرضروری بیان پرپاک آرمی میں شدید غم وغصہ ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • عمران خان کا 58 تحائف 3 کروڑ میں خرید کر 4 تحائف 5 کروڑ 80 لاکھ میں بیچنے کا اعتراف

    عمران خان کا 58 تحائف 3 کروڑ میں خرید کر 4 تحائف 5 کروڑ 80 لاکھ میں بیچنے کا اعتراف

    الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ تحائف ظاہر نہ کرنے پر عمران خان کیخلاف نااہلی ریفرنس پر سماعت ہوئی جس میں عمران خان کا 58 تحائف 3 کروڑ میں خرید کر 4 تحائف 5 کروڑ 80 لاکھ میں بیچنے کا اعتراف

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے توشہ خانہ نااہلی ریفرنس میں الیکشن کمیشن سے حتمی مہلت ختم ہونے پر جواب جمع کروایا، عمران خان نے جواب میں کچھ تحائف گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کا اعتراف کرلیا، لیکن ساتھ ہی یہ تاویل پیش کی کہ وہ تحائف جون 2019 کے بعد لئے یا فروخت کئے تھے۔

    عمران خان نے 60 صفحات پر مشتمل جواب میں بتایا کہ انہیں اور ان کی اہلیہ کو ساڑھے 3 سال کے دوران 58 تحائف ملے۔ عمران کان نے جواب میں کہا کہ توشہ خانہ سے جو تحائف خریدے ان کے بدلے 3 کروڑ سے زائد کی رقم ادا کی ، اور ان تحائف میں سے چار تحائف 5 کروڑ 80 لاکھ سے زائد میں فروخت کئے، اور یہ رقم اثاثوں میں ظاہر شدہ ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلیل دی کہ الیکشن کمیشن آرٹیکل 63 کی کارروائی میں 62 ون ایف کا کیس نہیں سن سکتا۔ درخواست گزار محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا عمران خان نے توشہ خانہ تحائف اور ان کی رقم چھپانے کا اعتراف کر لیا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے عمران خان کے وکیل سے کہا کہ کمیشن کا دائرہ اختیار چیلنج کرنا ہے تو الگ درخواست دائر کریں۔ کمیشن نے فریقین کے وکلا سے 19 ستمبر کو حتمی دلائل طلب کر لئے۔

    جبکہ عمران خان کے وکلا بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اسپیکر نے ریفرنس میں کہا ہے کہ آرٹیکل 63(2) کے تحت نااہلی کا کیس بنتا ہے، جبکہ ریفرنس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی مانگی گئی ہے۔ ممبر کے پی نے کہا کہ آئینی طور پر یہ ریفرنس نہیں بلکہ نااہلی کا سوال ہے۔

    علی ظفر نے دلائل دیے کہ الیکشن کمیشن آرٹیکل 63 کی کارروائی میں 62 ون ایف کا کیس نہیں سن سکتا، آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق عدالت ہی کر سکتی ہے کمیشن نہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ نے کمیشن کا دائرہ اختیار چیلنج کرنا ہے تو الگ درخواست دائر کریں۔

    اس سے قبل مسلم لیگ نواز کے رہنماء محسن رانجھا نے دعوی کیا تھا کہ: "آج توشہ خانہ کیس کی سماعت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ہوگی۔ تاہم ابھی تک سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنا جواب جو کہ الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق پیر کے روز مورخہ 5 ستمبر 2022 کو پہنچانا تھا نہیں پہنچایا ہے.


    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان سے پاکستان تحریک کے چیئرمین عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں جواب جمع کرانے کے لیے ستمبر تک ایک ہفتے کی مہلت مانگی تھی. تاہم پی ٹی آئی سربراہ کو مزید مہلت دیتے ہوئے سماعت 7 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی تھی.
    توشہ خانہ ریفرنس میں کیا ہے؟
    ریفرنس کی کاپی کے مطابق درخواست گزار نے کہا کہ عمران خان پر قانونی طور پر لازم تھا کہ وہ ہر مالی سال کے آخر میں اپنے، اپنی اہلیہ اور ڈیپینڈینٹس کے تمام تر اثاثے، چھپائے بغیر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کراتے۔
    دستاویز میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ عمران خان نے ‘جانتے بوجھتے‘ توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف کو چھپایا اور یہ کہ انھوں نے ‘قبول کیا ہے جیسا کہ مختلف میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ انھوں نے یہ تحائف فروخت کیے۔ لیکن الیکشن کمیشن کے دستاویزات میں ان کی فروخت بھی چھپائی گئی۔

    دستاویز کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کو اپنی حکومت کے دوران کل 58 باکسز تحائف کی صورت میں ملے جن میں مختلف اشیا تھیں۔ یہ تحائف عمران خان نے توشہ خانہ سے 20 اور بعدازاں 50 فیصد رقم ادا کر کے حاصل کیے۔ ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کی لاگت 30 ہزار سے کم تھی لہٰذا قانون کے مطابق وہ یہ تحائف مفت حاصل کر سکتے تھے جبکہ 30 ہزار سے زائد قیمت کے تحفوں کی قیمت کا 20 فیصد ادا کر کے وہ گفٹس لیے گئے۔
    عمران خان نے کون سے تحائف خریدے تھے؟
    حکومت کے ابتدائی دو ماہ کے دوران لیے گئے ان تحائف میں گراف کی گھڑی ہے جس کی مالیت آٹھ کروڑ 50 لاکھ لگائی گئی جبکہ اسی پیک میں شامل دیگر تحائف میں کف لنکس (56 لاکھ 70 ہزار) ، ایک قلم (15 لاکھ) اور ایک انگوٹھی (87 لاکھ 50 ہزار) بھی شامل تھے۔ ان چار اشیا کے لیے عمران خان نے دو کروڑ روپے سے زائد رقم جمع کرائی اور یہ تحائف رکھے۔ اسی طرح رولیکس کی ایک گھڑی جس کی مالیت 38 لاکھ تھی، عمران خان نے یہ ساڑھے سات لاکھ کے عوض خریدی۔ رولیکس ہی کی ایک اور گھڑی جس کی مالیت 15 لاکھ روپے لگائی گئی، سابق وزیراعظم نے تقریباً ڈھائی لاکھ میں خریدی۔

    اسی طرح ایک اور موقع پر گھڑی اور کف لنکس وغیرہ پر مشتمل ایک باکس کی کل مالیت 49 لاکھ تھی، جس کی نصف رقم ادا کی گئی جبکہ جیولری کا ایک سیٹ 90 لاکھ میں خریدا گیا جس کی مالیت ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد مختص کی گئی تھی۔ دستاویر کے مطابق وہ گھڑی جس کے بارے میں یہ الزام ہے کہ اسے بیچ دیا گیا، وہ بھی الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں درج نہیں کی گئی۔
    خیال رہے کہ یہ گھڑی سابق خاتون اول بشریٰ بی بی نے سعودی عرب کے پہلے دورے کے دوران تحفے کے طور پر لی تھی۔ اس کی مالیت 85 ملین بتائی گئی ہے جسے توشہ خانے سے 20 فیصد ادائیگی کے بعد لیا گیا۔

  • اسحاق ڈار سینیٹ کے رکن بنے ہی نہیں تو نااہل کیسے کیا جائے؟ الیکشن کمیشن

    اسحاق ڈار سینیٹ کے رکن بنے ہی نہیں تو نااہل کیسے کیا جائے؟ الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اسحاق ڈار کی نااہلی کیلئے دائر ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے لیکن دوران سماعت الیکشن کمیشن نے قرار دیا کہ اسحاق ڈار سینیٹ کے رکن بنے ہی نہیں تو نااہل کیسے کیا جائے؟.

    الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بدھ 7 ستمبر کو پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کے رہنما اسحاق ڈار کے خلاف دائر ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ نادہندگی کے باعث اسحاق ڈار کی نااہلی کی استدعا کرنے والے درخواست گزار اظہر صدیق الیکشن کمیشن میں پیش نہ ہوئے۔ ان کے معاون وکیل کی جانب سے الیکشن کمیشن میں دلائل دیئے گئے۔

    اپنے دلائل میں ان کا کہنا تھا کہ درخواست پر اسحاق ڈار نے جواب جمع کرانا تھا، جس پر الیکشن میشن کے ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ جواب کو چھوڑیں آپ اپنی بات کریں، ہائیکورٹ میں اظہر صدیق کہتے ہیں کیس نہیں چلتا، یہاں سماعت مقرر کریں تو وہ پیش نہیں ہوتے۔

    خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ممبر ای سی پی نے کہا کہ جن نکات پر نااہلی کی استدعا کی گئی وہ درخواست میں ہیں۔ ممبر بلوچستان نے کہا اسحاق ڈار کامیاب امیدوار ضرور ہیں لیکن انہوں نے حلف نہیں اٹھایا،اور حلف اٹھائے بغیر کوئی بھی سینیٹ کا ممبر نہیں کہلا سکتا، اور جو ایوان کا رکن ہی نہیں الیکشن کمیشن اسے نااہل کیسے قرار دے؟۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن کی جانب سے اسحاق ڈار کی نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔

    واضح رہے کہ سنہ 2017 سے لندن میں مقیم پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر خزان اسحاق ڈار نے جون میں بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں (جولائی) اپنی وطن واپسی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ فی الحال پاکستان واپسی کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اور کہا تھا کہ اگلے ماہ جولائی میں (میرا) پاکستان واپسی کا ارادہ تقریباً کنفرم ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ تاحال وطن واپس نہیں آئے ہیں.

  • پی ٹی آئی کا کوئی رہنما عمران خان کا دفاع کرنے کو تیار نہیں. خواجہ محمد آصف

    پی ٹی آئی کا کوئی رہنما عمران خان کا دفاع کرنے کو تیار نہیں. خواجہ محمد آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج ان کی جماعت اس سے لاتعلقی کا اظہار کر رہی ہے اور پی ٹی آئی کا کوئی رہنما عمران خان کا دفاع کرنے کو تیار نہیں ہے.

    انہوں نے کہا کہ عمران خان بتائیں پاک آرمی میں میرٹ پر کب تعیناتی نہیں ہوئی اور جو بھی 4 یا 5 نام آتے ہیں وہ فوج کی قیادت بھیجتی ہے۔ ناکہ آپ کی طرح بی آر ٹی انکوائری دفن کر دی گئی، کیا یہ میرٹ ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ توشہ خانہ کے تحائف کو بیچ کر پیسے پاس رکھنا میرٹ ہے کیا ؟ کیا یہ میرٹ ہے کہ عدم اعتماد کا ذمہ دار امریکہ اور کبھی کسی ادارے کو ٹھہرائیں۔ انہوں نے کہا کہ چیزیں بہت آگے چلی گئی ہیں اور اب سب کچھ سامنے آئے گا۔ فارن فنڈنگ سے بھی معاملات بہت آگے جا چکے ہیں وزیر دفاع نے کہا کہ ہم نے توشہ خانہ پر درخواست دی اور 180 ملین پر تحقیقات مکمل کر لیں۔ شہباز شریف کے لندن جانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور یہ میرے علم میں بھی نہیں ہے۔ عمران خان پہلے عدالتوں اور اداروں پر بات کرتے ہیں پھر وضاحتیں دیتے ہیں۔

    وزیر دفاع کے ہمراہ پریس کانفرنس میں موجود وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کیا ایجنسیز نے عمران خان کو ٹرانسفر پوسٹنگ میں کرپشن کا نہیں بتایا؟ اور عمران خان جواب دیں کہ کیا عثمان بزدار کو میرٹ پر وزیراعلی بنایا گیا ؟ کیا محمود خان اور مراد سعید کو میرٹ پر عہدے دیئے گئے؟ فرح خان جو ٹرانسفر اور پوسٹنگ کرتی تھی کیا یہ میرٹ تھا؟ کیا فرح خان ٹرانسفر پوسٹنگ کرسکتی تھی؟

    انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی کی تحقیقات رکوانے کے لیے عمران خان عدالت کیوں گئے تھے؟ اور کیا عمران خان کو نہیں معلوم تھا کہ سیمنٹ انڈسٹری کے لائسنس نہیں بک رہے تھے۔ میں ان لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے خان صاحب کو کہا کہ بزدار پیسے لیتا ہے، راولپنڈی رنگ روڈ کا الائنمنٹ کیوں تبدیل کیا گیا؟عمران خان جواب دیں۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پارٹی فنڈ کو ذاتی استعمال پر عمران خان قوم کو جواب دیں اور عمران خان کو ہیروں والی بات کو ٹالنا نہیں چاہیے۔ عمران خان یہاں آئیں اورتمام سوالات کے جواب دیں اور عمران خان بتائیں کہ ان کی اہلیہ نے کسی سے جیولری لی ہے کہ نہیں؟ عمران خان امریکہ سے حقیقی آزادی چاہتے تھے وہاں لابیز رکھنے کی کیا ضرورت تھی۔

  • 1965 کی جنگ میں شہید ہونیوالےفلائٹ لیفٹیننٹ محمود احمد بٹ شہید کے مزار پر پروقار تقریب

    1965 کی جنگ میں شہید ہونیوالےفلائٹ لیفٹیننٹ محمود احمد بٹ شہید کے مزار پر پروقار تقریب

    فیروزوالا: 7 ستمبر پاک فضائیہ کا یوم دفاع کے حوالے سے شاہدرہ میں 1965 کی جنگ میں شہید ہونے والے اپنے ہیرو فلائٹ لیفٹیننٹ محمود احمد بٹ شہید کے مزار پر پروقار تقریب کا انعقاد کیا-

    کیپٹن کرنل شیر خان شہید کے مزار پر یوم دفاع کے موقع پرپروقارتقریب کا انعقاد

     

    باغی ٹی وی : پاکستان ائیر فورس کے چاک و چوبند دستے نے شہید کے مزار پر حاضری دی پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کے بعد زبردست خراج تحسین پیش کیا-

    اسلام آباد سمیت ملک بھر میں یوم دفاع جوش وجذبے کے ساتھ منایا جارہا

     

    فلائٹ لیفٹیننٹ محمود احمد بٹ شہید نے 7 ستمبر 1965 کے دن اپنے ائیر کرافٹ جھاز پر فلائی کیا اور شاہینوں کی طرح دشمن پر ٹوٹ پڑے اور دشمن کے کئی جہاز تباہ کرنے کے بعد واپس آتے ھوئے ان کا طیارہ کریش ھو گیا اور پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ محمود احمد بٹ شہید نے جام شہادت نوش کیا-

     

    شاہدرہ میں پاکستان ائیر فورس کی جانب سے جنگ ستمبر 1965 کے ہیرو فلائٹ لیفٹیننٹ محمود احمد بٹ شہید کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی شہید کوزبردست خراج تحسین پیش کیااورسلامی دی گئی اس موقع پرشہید پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ محمود احمد بٹ کےورثاء اور شاہدرہ کے سینکڑوں رہائشیوں نے اپنے شھید پائلٹ کے درجات کی بلندی کے لئے فاتحہ خوانی کی –

     

    پاکستانی قوم کو آج بھی 65 والے جذبے اور اتحاد کی ضرورت ہے،وزیرِ خارجہ

    پاکستان ائیر فورس کی جانب سے شاہدرہ میں ان کی رہائش گاہ کو اپنے ہیرومحمود احمد بٹ شہید کے نام سے منسوب کردیا گیا پاک فضائیہ کے سکوارڈن لیڈر تقی مرتضی کا کہنا ہے کہ ہمارے ان شہداء کا ہم پر قرض ہے اور وطن کے دفاع کے لئے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے-

     

  • توہین عدالت کیس: غیرارادی طور پر نکلے الفاظ پر افسوس ہے. عمران خان

    عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس میں اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے، کویں کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے توہین عدالت کیس میں اپنا نیا جواب جمع کرادیا ہے۔

    عمران خان نے اپنے جواب میں خاتون جج کے حوالے سے ادا کئے گئے الفاظ پر گہرے افسوس کا اظہار کر دیا ہے۔ عمران خان نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ غیرارادی طور پر نکلے الفاظ پر افسوس ہے، اور اپنے الفاظ پر خاتون جج سے پچھتاوےکا اظہارکرنے پر بھی شرمندگی نہیں ہوگی۔

    عمران خان کا جواب غیر تسلی بخش قرار

    یکم ستمبر کو بھی چیئرمین تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کیس میں اپنا جواب جمع کرایا تھا۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ ( چیف جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیر اور جسٹس بابر ستار) نے سابق وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سماعت کا عبوری حکم نامہ جاری کیا جس کے مطابق دوران سماعت مدعا علیہ (عمران خان) کے جواب کا مطالعہ کیا گیا، جس میں توہین عدالت کا شوکاز نوٹس خارج کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ دو صفحات پر مشتمل عبوری حکم نامے میں کہا گیا کہ عمران خان کا جواب غیر تسلی بخش ہے، اس لئے شوکاز نوٹس واپس نہیں لے رہے۔

    مدعا علیہ کے وکیل نے شوکاز نوٹس کا ضمنی جواب داخل کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت مانگی۔ اس لئے انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ 7 دن کے اندر ضمنی جواب داخل کیا جائے۔

    قبل ازیں 31 اگست کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے عبوری جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے 8 ستمبر تک دوبارہ جواب جمع کرانے کا حکم بھی دیا تھا۔ جبکہ واضح رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کچھ دیر میں بہاولنگر روانہ ہوں گے، جہاں وہ چشتیاں بار سے اور بہاولنگر میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔

  • منی لانڈرنگ کیس: وزیر اعظم شہبازشریف اور انکے بیٹے حمزہ شہباز کی بریت کی درخواست دائر

    منی لانڈرنگ کیس: وزیر اعظم شہبازشریف اور انکے بیٹے حمزہ شہباز کی بریت کی درخواست دائر

    ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں وزیر اعظم شہبازشریف اور حمزہ شہباز نے بریت کی درخواست دائر کردی ہے

    اسپیشل سینٹرل کورٹ میں وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کیخلاف ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی۔وزیر اعظم شہبازشریف اور حمزہ شہباز نے بریت کی درخواست دائر کردی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کےلیے منی لانڈرنگ مقدمہ بنایا۔کوئی شواہد سامنے نہیں آئے،عدالت منی لانڈرنگ چالان سے بری کرنے کا حکم دے۔

    دوسری جانب عدالت میں وزیر اعظم شہباز شریف کی حاضری معافی کی درخواست جمع کرادی گئی۔ وکیل نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف آج عدالت پیش نہیں ہو سکتے کیونکہ سیلاب کی صورتحال کے باعث شہباز شریف دوروں میں مصروف ہیں ۔ فاضل جج نے کہا کہ کیا وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف دس منٹ کے لیے عدالت پیش نہیں ہوسکتے ؟ ایک ماہ کی تاریخ تھی اس کے باوجود پیش نہیں ہوئے ہیں۔ یہ کیس کونسا روزانہ کی بنیاد پر چل رہا ہے، فاضل جج نے کہا کہ آج شہباز شریف کےسیلاب زدہ علاقوں کے کتنے دورے ہیں اس کی تفصیلات پیش کریں۔

    عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواست پر ایف آئی اے سے جواب طلب کر تے ہوئے کیس کی سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کردی گئی ہے.

    اس سے قبل لاہور کی خصوصی عدالت نے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے دائر کردہ منی لانڈرنگ کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے لیے 7 ستمبر کو طلب کیا تھا. 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو پہلے ہی قبل از گرفتاری ضمانتیں مل چکی ہیں۔

    گزشتہ سماعت کے دوران شہباز شریف اور حمزہ شہباز عدالت میں پیش نہ ہوئے تھے دونوں کی جانب سے ان کے وکلا نے حاضری معافی کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا تھا کہ وزیر اعظم کی طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے انہیں سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔