Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بھارت کیخلاف شاندارفتح:’ٹیم پاکستان ہمیں آپ پرفخرہے’۔پاک فوج کی قومی کرکٹ ٹیم کومبارک باد

    بھارت کیخلاف شاندارفتح:’ٹیم پاکستان ہمیں آپ پرفخرہے’۔پاک فوج کی قومی کرکٹ ٹیم کومبارک باد

    راولپنڈی :بھارت کیخلاف شاندارفتح:’ٹیم پاکستان ہمیں آپ پرفخرہے’۔پاک فوج کی قومی کرکٹ ٹیم کومبارک باد،یہ مباکباد کے پیغامات پاک فوج کی طرف سے پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے ہیں جنہوں نے فتح سے پاکستانیوں کے سربلند کردیئے ہیں، پاک فوج نے ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے سپر فور مرحلے میں بھارت کو شکست دینے پر پاکستان کرکٹ ٹیم کو مبارک باد پیش کی ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘پاک افواج قومی کرکٹ ٹیم کو بھارت کے خلاف شاندار فتح پر مبارک باد پیش کرتی ہے ‘۔

     

     

     

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ ‘ ٹیم پاکستان ہمیں آپ پر فخر ہے’۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں جاری ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے سپر فور مرحلے میں پاکستان نے دلچسپ مقابلے کے بعد بھارت کو آخری اوور میں 5 وکٹوں سے شکست دے کر گروپ میچ میں ہار کا حساب برابر کردیا۔

    پاکستان نے بھارت کا 182 رنز کا ہدف محمد رضوان اور محمد نواز کی شاندار اننگز کی بدولت آخری اوور میں 5 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔

  • بھارت کوشکست دینے پرقومی رہنماوں کی پاکستان کرکٹ ٹیم کو مبارکباد

    بھارت کوشکست دینے پرقومی رہنماوں کی پاکستان کرکٹ ٹیم کو مبارکباد

    ملک کی سیاسی قیادت نے ایشیا کپ کے سپر 4 مرحلے میں بھارت کے خلاف پاکستان کی شاندار فتح پر قومی ٹیم کو مبارک باد دی ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے قوم اور پاکستانی کرکٹ ٹیم کو فتح پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جیت پر قوم اور کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو مبارک دیتا ہوں، آپ نے قوم کے دل بھی جیت لئے ہیں، شاباش ٹیم پاکستان۔

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان بھارت کے خلاف کرکٹ میچ جیتنے پر قومی ٹیم کو مبارکباد پیش کر دی۔

     

     

    عمران خان نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے لکھا: ’ٹیم پاکستان کو زبردست فائٹ بیک اور جیت پر مبارکباد دیتا ہوں، پاکستان ٹیم نے انتہائی دباؤ میں اعصاب پر قابو رکھا، مشکل وقت میں قوم کا مورال بلند کرنے کے لیے یہ جیت ضروری تھی‘۔

    وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ روایتی حریف بھارت سے حساب برابر کر نے پر قومی کرکٹ ٹیم کو دلی مبارکباد دیتا ہوں، قوم کو آپ پر ناز ہے۔

    انہوں نے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم نے بہترین کھیل پیش کرکے روایتی حریف کو زیر کیا جبکہ رضوان نے شاندار بلے بازی کے ذریعے پاکستان کو فتح سے ہمکنار کیا۔

     

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پاکستان ٹیم کوبھارت کیخلاف کامیابی پرمبارکباد دیتے ہوئے تمام کھلاڑیوں خاص طور پر محمد رضوان کے کھیل کو سراہا۔

     

    مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ ایک خوفناک آفت کے درمیان ہمارے خوشی اور مسکراہٹیں لانے کے لیے آپ کا شکریہ اور شاباش ٹیم پاکستان۔ پاکستان زندہ باد۔سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ پاکستان نےشاندارکھیل پیش کرکے روایتی حریف کو پچھاڑا۔

    امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے بھی ٹویٹ کرکے ٹیم کو مبارکباد دی۔

  • آرمی چیف جنرل باجوہ نے کیا گیا وعدہ پورا کر دکھایا

    آرمی چیف جنرل باجوہ نے کیا گیا وعدہ پورا کر دکھایا

    راولپنڈی:پاکستان آرمی کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ  نے متاثرین سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کر دکھایا۔ پاکستان آرمی کی انجینیر کور نے بحرین پل کو آمدو رفت کیلئے بحال کردیا ہے۔

    پاک فوج  کے میڈیا ونگ کے مطابق سوات، بحرین ، مدین اور خوازہ خیلہ کے لوگوں بحرین پل بحال کرتے ہوئے ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ہے، جس پر مقامی افراد کی خوشی دیدنی ہے۔

    پشاور کور آرمی انجینیرز نے دن رات کام کر کے پل مکمل کیا۔ پل پر ٹریفک کی بحالی پر لوگوں نے پاک فوج کے حق میں نعرے بھی لگائے۔

    واضح رہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے بعد پل بند ہونے سے مقامی آبادی کا رابطہ دیگر علاقوں سے کٹ گیا تھا۔ آرمی چیف نے 30 اگست کو دورے میں روڈ بحالی کا اعلان کیا تھا۔

     

    دوسری طرف سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک بحریہ  کا امدادی آپریشن جاری ہے، اس دوران دادو میں لوگوں کے انخلاء کیلئے 2 ہوور کرافٹس بھی سرگرم عمل ہیں۔

    ترجمان پاک بحریہ کے مطابق خیرپور ناتھن شاہ کے گوٹھ احمد خان چانڈیو سے 23 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ راجن پور، ڈیرہ اسماعیل خان، میرپور خاص، سکھر، سانگھڑ اور سجاول میں بھی آپریشن جاری ہے۔

    پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹر اور کشتیاں بھی لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچا رہی ہے۔ امدادی ٹیمیں متاثرین کو راشن، طبی امداد اور ادویات بھی دے رہی ہیں۔

    پاکستان نیوی کی ڈائیونگ اور ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیوں کا کے پی اور سندھ کے مختلف علاقوں سمیت ملک بھر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔

     

     

    پاک بحریہ کی امدادی ٹیمیں ہوائی اثاثے، موٹرائزڈ کشتیاں اور جان بچانے والے سازوسامان کے ساتھ ہر طرح کی مدد فراہم کر رہی ہیں اور دور دراز علاقوں میں لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔

    امدادی کارروائیوں کے تسلسل کے دوران دادو کے علاقے گوزو سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے 75 افراد کو بچا لیا گیا۔ زہرو گوٹھ میں سیلابی پانی میں پھنسے دیگر 60 افراد کو بھی بحفاظت نکال لیا گیا۔ لدھن گاؤں اور دادو کے دیگر چار علاقوں سے 50 سے زائد افراد کو بچا کر اونچے اور محفوظ علاقوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

     

     

     

    پاک فوج   اور ایف سی   کی جانب سے سیلاب متاثرین کی امداد کا سلسلہ جاری ہے۔پاک فوج کے زیر اہتمام نصر آباد کے علاقے اوستہ محمد میں خیمہ بستی قائم کر دی گئی، جہاں سیلاب متاثرین کو راشن سمیت دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جب کہ فرنٹیئر کور بلوچستان نارتھ چمن اسکاوٹس کی طرف سے سیلاب سے زیادہ متاثر ہونے والے

    علاقے توبہ اچکزئی دوبندی میں سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے کیمپ لگایا گیا ہے۔ جہاں 534 مریضوں کے مفت معائنہ سمیت انہیں طبی امداد جب کہ 125 مستحق خاندانوں کو راشن پیک ، 75 کمبل اور 90 پانی کے کین تقسیم کئے گئے۔

    قبل ازیں کمانڈنٹ چمن اسکاوٹس کرنل غفار حیدر نے کیمپ کا دورہ کیا اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور سیلاب متاثرین میں راشن اور ضرورت کی اشیاء تقسیم کی۔ کمانڈنٹ اسکاوٹس نے مقامی لوگوں سے بات چیت کی اور ضرورت کی اس گھڑی میں سیلاب سے متاثرہ بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

    انہوں نے لوگوں کو یقین دلایا کہ ہر مشکل گھڑی میں ایف سی اور آرمی آپ لوگوں کے ساتھ ہے۔ مقامی لوگوں نے امدادی سرگرمیوں کے انعقاد پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا ایف سی کا شکریہ ادا کیا۔

     

     

     

    پاک فضائیہ  کا خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔ ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں مزید تیز کردی گئی ہیں۔ پاک فضائیہ امدادی کارروائیوں کے لیئے ہر ممکنہ حد تک وسائل وقف کر رہی ہے۔

    ترجمان پاک فضائیہ نے یہ بھی بتایا کہ پاک فضائیہ کے اہلکار سیلاب متاثرین کی بحالی کے عمل میں سول انتظامیہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کررہے ہیں۔

    اس دوران مختلف علاقوں میں راشن، ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ مہیا کرنے کیلئے ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی آپریشن جاری ہے، جب کہ پاک فضائیہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1853 خشک راشن کے پیکٹ، 1960 پانی کی بوتلیں اور 11860 پکے ہوئے کھانے کے پیکٹ تقسیم کیئے۔

    دوسری جانب فیلڈ میڈیکل کیمپوں میں پاک فضائیہ کی میڈیکل ٹیموں نے 3644 مریضوں کا طبی معائنہ کیا۔

  • سیلاب کے باعث حادثات، مذید 26 افراد جاں بحق ،11 زخمی

    سیلاب کے باعث حادثات، مذید 26 افراد جاں بحق ،11 زخمی

    24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں 26 افراد جاں بحق اور11 زخمی ہو گئے.

    این ایف آر سی سی کے مطابق 14 جون سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی کل تعداد 1290 ہو گئی،جاں بحق ہونے والوں میں 570 مرد،259 خواتین اور 453 بچے شامل ہیں،مختلف حادثات میں 12588 افراد زخمی بھی ہوئے،24 جون سے اب تک بلوچستان میں ایم 8 موٹروے پر وانگو ہلز کے 24 کلومیٹر سیکشن پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی،خیبر پختونخوا میں قومی شاہراہ این 50 ساگو پل کے سوا ٹریفک کے لئے کھلی ہے.

    این ایف آر سی سی کے اعداد وشمار کے مطابق ساگو پل کو ملانے کے لئے دونوں جانب سے کام جاری ہے،قومی شاہراہ مدین این 95 بحرین اور لائیکوٹ کے درمیان بلاک ہے،سندھ میں قومی شاہراہ این 55 میہر جوہی نہر سے خیرپور ناتھن شاہ تک ڈوبی ہونے کے باعث بند ہے.

    .سیلاب اور بارشوں کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں ریلوے نیٹ ورک بھی متاثر ہوا ہے،بلوچستان میں کوئٹہ تافتان اور کوئٹہ سبی اور سبی سے حبیب کوٹ تک ریلوے ٹریک بند ہے.پنجاب اور سندھ کے درمیان حیدرآباد سے روہڑی اور ملتان تک ریلوے ٹریفک متاثرہوا ہے.سندھ میں کوٹری سے لکھی شاہ اور دادو تک ریلوے لائن متاثرہے.

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے سروے کے لئے 29 ٹیمز مصروف عمل ہیں،ٹیمز کوئٹہ، پشین،لورالائی، دکی،سوراب،جعفر آباد، صحبت پور،آواران اور لسبیلہ میں ٹیمز سروے کر رہی ہیں،لسبیلہ، گوادر، قلعہ سیف اللہ، واشک، کوہلو،موسی خیل،زیارت،قلعہ عبداللہ، خضدار اور نصیر آباد میں سروے جاری ہیں.کچھی،سبی،ڈیرہ بگٹی، شیرانی،ژوب،خاران، قلات،مستونگ اور چمن میں بھی سروے کیا جارہاہے،

    این ایف آر سی سی نے قدرتی آفت سے متاثرہ اضلاع کی تفصیلات جاری کر دیں ،تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر میں کوئی ضلع قدرتی آفت سے متاثر نہیں ہوا،بلوچستان میں 31،گلگت بلتستان میں 6 اور خیبر پختونخوا میں 17 اضلاع متاثرہوئے، پنجاب میں 3 اور سندھ میں 23 اضلاع قدرتی آفت سے متاثرہ قرار دیئے گئے ہیں.ملک بھر میں 80 اضلاع بارشوں اور سیلاب کی شکل میں قدرتی آفت سے متاثر ہوئے، آزاد کشمیر میں 53 ہزار 700،بلوچستان میں 91 لاکھ 82 ہزار 616 شہری متاثر ہوئے.

    این ایف آر سی سی کے مطابق خیبرپختونخوا میں 43 لاکھ، 50 490،گلگت بلتستان میں 51 ہزار 500 شہری متاثر ہوئے، پنجاب میں 48 لاکھ 44 ہزار 253 اور سندھ میں 1 کروڑ 45 لاکھ 63 ہزار 770 شہری متاثر ہوئے، جبکہ ملک بھر میں 3 کروڑ 30 لاکھ 46 ہزار 329 شہری بارشوں اور سیلاب سے متاثرہوئے ہیں.

  • متاثرین کو کسی صورت بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم بحالی کے کام کا جائزہ لینے بلوچستان پہنچ گئے

    متاثرین کو کسی صورت بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم بحالی کے کام کا جائزہ لینے بلوچستان پہنچ گئے

    وزیرِ اعظم شہباز شریف بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کے نقصان اور جاری بحالی کے کام کے جائزے کیلئے کوئٹہ پہنچ گئے.وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، وزیراعظم کو سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور امدادی کاموں پر بریفنگ دی گئی۔

    کوئٹہ پہنچنے پر وزیراعظم کا ایئرپورٹ پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور دیگر حکام نے استقبال کیا، سیلاب سے متاثرہ ضلع کچھی دورہ کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کو سیلاب کے نقصانات اور امدادی کاموں پر بریفنگ دی گئی اور سیلاب متاثرہ روڈ اور ریلوے انفراسٹرکچر کی بحالی بارے بھی آگاہ کیا گیا، وزیراعظم نے انفراسٹرکچر کی بحالی کے کام کو سراہا ہے۔


    وزیراعظم نے سیلاب میں بہہ جانے والے پنجرہ پل کی بحالی کے کام کا بھی جائزہ لیا، وزیراعظم نے بحالی کے کام میں مصروف مزدوروں کے لئے 50 لاکھ روپے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سب لوگوں نے محنت کی انہیں شاباش دیتا ہوں اور متاثرہ سڑکوں کو جلد از جلد بحال کیا جائے۔

    اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انفراسٹرکچرکی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے، سیلاب سے پورے ملک میں تباہی پھیلی ہوئی ہے، سیلاب میں لوگوں کے مال مویشی بہہ گئے، فصلیں اور لاکھوں گھر تباہ ہوچکے ہیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ امید ہے کہ تمام امور احسن انداز سے مکمل ہوں گے، چند روز بعد ایک بار پھر فضائی جائزہ لوں گا، متاثرین کو کسی صورت بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

    بعدازاں وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرہ بی بی نانی پل کا دورہ کرتے ہوئے پل کی بحالی میں مصروف مزدوروں کیلئے 30 لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے، اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پل کی بحالی کیلئے محنت کشوں اور مزدوروں نے دن رات کام کرتے ہوئے 8 گھنٹے میں پل کو بحال کیا ہے، ہم سب کو ملکر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہے۔

    اس موقع پروزیر اعلیٰ بلوچستان نے بھی پل بحالی کیلئے کام کرنے والے مزدوروں کیلئے 20 لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے۔قبل ازیں نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) کے چیئرمین خرم آغا کی جانب سے وزیر اعظم کو فضائی دورہ کے موقع پر بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ سڑکوں اور جاری بحالی کے کام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے پرائم منسٹر ریلیف فنڈ کا آڈٹ کرانے کا اعلان کیا تھا .اسلام آباد سے جاری بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ وعدے کے مطابق یقینی بنانے کےلیے حکومت نے پی ایم ریلیف فنڈ کا آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ایم ریلیف فنڈ کا آڈٹ اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) اور عالمی شہرت یافتہ کمپنی کرے گی۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ کمپنیاں ریلیف فنڈ کی رقم کے خرچ سمیت فنڈ کی آڈٹنگ کریں گی اور آڈٹ رپورٹ منظر عام پر لائی جائے گی۔

    اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے،وزیراعظم شہباز شریف نے صوبہ سندھ میں سیلاب متاثرین کی امداد سے متعلق تازہ ترین صورتحال سے آگاہی حاصل کی ،وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت ہر طرح سے آپ کی مدد کے لئے حاضر ہے تمام سیلاب متاثرین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے وزیراعظم نے سندھ میں سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی کے لئے سندھ حکومت اور وزیر اعلی کی کارکردگی اور جذبے کو سراہا ہے.

  • اتنی تباہی کہ اللہ کی پناہ،آنکھوں دیکھا حال،دل خون کے آنسو روتا ہے،مبشر لقمان

    اتنی تباہی کہ اللہ کی پناہ،آنکھوں دیکھا حال،دل خون کے آنسو روتا ہے،مبشر لقمان

    اتنی تباہی کہ اللہ کی پناہ،آنکھوں دیکھا حال،دل خون کے آنسو روتا ہے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کچھ دنوں سے سیلاب زدہ علاقوں کی کوریج کر رہا ہوں، ابھی تک خیبر پختونخواہ اور سندھ نہیں گیا، پنجاب کے دو صوبے دیکھے اور مجھے واپس آنا پڑا ، امید ہے اگلے دو چار دن میں کے پی یا سندھ دو میں سے ایک جگہ ضرور جاوں گا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جو حال دیکھا خوفناک حال ہے،اب میں سب کے لئے بات کر رہا ہوں، 3 کروڑ 30 لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، اسکو کلائمنٹ چینج کہا جا رہا ہے لیکن یہ وہ وجہ نہیں اس میں کوتاہیاں ہماری شامل ہیں، ہم نے سب کو ایکسپوز کیا کہ کس طرح سٹون کرشنگ مشین نے دریا کا راستہ ہی بدل دیا، پھر بارش کے بعد سارا پانی آبادیوں میں آ گیا، جس جگہ ہم نے دکھایا انڈس سے اس دن وہاں پر زیادہ پانی پاس ہوا، خود اندازہ لگا لیں کہ پانی کتنا ہوگا، دوسری چیزپانی کی جگہ آبادیاں بننا شروع ہو گئیں اور بستیاں اڑ گئیں،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہزاروں ایکڑ زمین زیر آب ہے، مویشی مر گئے، جب میں نے وہاں دیکھا کہ کسی سیاسی جماعت کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں کوئی امدادی مہم نہیں ہے، افراد اپنی مدد آپ کے تحت کر رہے ہیں، آرمی ریسکیو ، مدد کر رہی ہے، دینی جماعتیں، فلاحی کام کرنے والے لوگ ہیں، کوئی سیاسی نہیں، حکومت کے بنے ہوئے کیمپ گھوسٹ ہیں جو صرف دکھانے کے لئے ہیں، ان لوگوں سے ایسے کاموں کی وجہ سے نفرت ہونا شروع ہو جاتی ہے، میں نے 2010 کا فلڈ کور کیا، ہم عطیات بھی لے کر گئے تھے، ایک ہیلپ لائن کھولی تھی، اس وقت بھی دیکھا تھا، اسوقت زیادہ پانی نے انفراسٹرکچر کو اڑا کر رکھا تھا، اسوقت لوگوں کی بستیاں ، آبادیاں، چھوٹے شہر یہ زیر آب ہیں، میں نے لوگوں سے بات کی، ان میں انتہائی غصہ ہے ، وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ سیلاب واقعی قدرتی آفت ہے تو غریبوں کے گھر میں کیوں آتی ہے، امیروں کے گھر میں کیوں نہیں، یہ سوال وہ پوچھنا شروع ہو گئے ہیں،وڈیرے کا ڈیرہ کیسے بچ جاتا ہے، پانی ادھر سے آتا ہے لیکن انکے گھر نہیں جاتا ہمارے علاقے میں پھیل جاتا ہے، یہ سوال ہے جو آج سب متاثرین کے ذہنوں میں ہیں، لاکھوں گھر تباہ اور متاثرین گھروں میں نہیں جا سکتے، لوگ پانی میں بیٹھے ہیں، علاقہ نہیں چھوڑ رہے کیونکہ انکا سامان، مال وہیں ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں حاملہ عورتوں کی بڑی تعداد موجود ہے،پانی پینے کا وہاں موجود نہیں، انکے ساتھ کیا بنے گا، سوا لاکھ ،ڈیڑھ لاکھ بچے جن کی عمر دو سال سے کم ہیں، وہ ماں کا دودھ پیتے ہیں اب ماں کو غذا نہیں مل رہی، بچے کیا پیئیں، بہت مشکلات ہیں، ہر قسم کی غلاظت، بو ہے، سانپ بچھو موجود ہے، انسانی زندگیاں خطرے میں ہیں،

    عارف علوی کا دورہ ڈیرہ غازی خان، سیئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے گھوسٹ کیمپ پر چھاپہ مار کر انتظامیہ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا.

    مبشر لقمان کا مذید کہنا تھا کہ افواج پاکستان سب سے آگے ہے،ریسکیو آپریشن تو وہی کر سکتے ہیں 

    سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

  • غیر ملکی فنڈز کی رقم 2013 کے انتخابات میں  تحریک انصاف کی میڈیا مہم کے لیے استعمال کی گئی

    غیر ملکی فنڈز کی رقم 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف کی میڈیا مہم کے لیے استعمال کی گئی

    ابراج گروپ کے سابق مالک عارف نقوی کی جانب سے پاکستان منتقل کی گئی ‘مشکوک’ رقم کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ غیر ملکی فنڈز کی ایک بڑی رقم 2013 کے عام انتخابات کے دوران سابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی میڈیا مہم کے لیے استعمال کی گئی تھی

    ڈان کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی حاصل کردہ دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ 6 لاکھ 25 ہزار ڈالر ووٹن کرکٹ لمیٹڈ کے ذریعے منتقل کیے گئے، جو کیمین آئی لینڈ کی رجسٹرڈ آف شور فرم ہے اور عارف نقوی کی ملکیت ہے، جو اس وقت امریکی عدالت میں 1 ارب ڈالر مالیت کی دھوکا دہی کے مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ ووٹن سے براہ راست پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس میں موصول ہونے والے 21 لاکھ 20 ہزار ڈالر کے علاوہ ہے، جیسا کہ پارٹی کے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے 2 اگست کے فیصلے میں درج کیا گیا ہے۔

    دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رقم ووٹن کرکٹ کے اکاؤنٹ سے ‘دی انصاف ٹرسٹ’ اکاؤنٹ میں بھیجی گئی تھی جسے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے قریبی دوست طارق شفیع نے ٹرسٹ کے پہلے چیئرمین کی حیثیت سے کھولا تھا۔ طارق شفیع نے اپنے ایک ذاتی اکاؤنٹ میں 5 لاکھ 75 ہزار ڈالر بھی وصول کیے اور پی ٹی آئی کے اعلان کردہ اکاؤنٹ میں منتقل کر دیے۔ اب اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرسٹ کے اعلان کردہ مقاصد معاشرے میں شراکتی جمہوریت اور قانون کی حکمرانی، جمہوری اقدار اور سیاسی بیداری کے احساس کو فروغ دینے کے علاوہ صحت کی تعلیم اور سماجی نظم کو فروغ دینے کے لیے مختلف شکلوں میں سرگرمیاں شامل تھیں۔ ٹرسٹ ڈیڈ کی ایک شق میں درج تھا کہ ٹرسٹ، اس کے فنڈز یا جائیداد یا ٹرسٹ کے ساتھ ٹرسٹیز کی وابستگی کسی خاص شخص یا افراد کے گروپ کے ذاتی فائدے کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی۔

    ٹرسٹ کے بینک اکاؤنٹ کے دیگر دستخط کنندگان مرحوم عاشق حسین قریشی اور حامد زمان تھے، جو دونوں عمران خان کے قریبی دوست تھے اور اسے مئی 2012 میں حبیب بینک لمیٹڈ، لاہور کینٹ برانچ میں کھولا گیا تھا۔ دستاویزات میں انکشاف ہوا کہ 8 مئی 2013 کے عام انتخابات سے 3 روز قبل دو میڈیا مینجمنٹ فرموں، یعنی ‘کمیونیکیشن اسپاٹ’ اور ‘گروپ ایم’، کو پی ٹی آئی کی انتخابی مہم کے لیے ٹرسٹ اکاؤنٹ سے بالترتیب 3 کروڑ 60 لاکھ روپے اور ڈھائی کروڑ روپے ادا کیے گئے۔ مذکورہ اکاؤنٹ صرف ایک ٹرانزیکشن کے لیے استعمال کیا گیا تھا اور اس وقت سے غیر فعال ہے۔

    ایک خیراتی ادارے کے اکاؤنٹ کے ذریعے میڈیا مہم کے لیے فنڈنگ کو پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے، اس کے علاوہ منی لانڈرنگ کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں، یہ رقم الیکشن کمیشن آف پاکستان سے پوشیدہ رہی۔ ایف آئی اے کے ذرائع نے انکشاف کیا کہ ٹرسٹ کا اکاؤنٹ کھولنے والے طارق شفیع اور دیگر کو تین بار کال اپ نوٹس جاری کیے گئے لیکن ان میں سے کوئی بھی سامنے نہیں آیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی انتخابی مہم کے لیے دو میڈیا مینجمنٹ کمپنیوں کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ‘گروپ ایم’ نے ایف آئی اے کے کال اپ نوٹس کے جواب میں اس بات کی تصدیق کی کہ اسے پی ٹی آئی کی 2013 کے عام انتخابات کی مہم چلانے کے لیے 41 کروڑ 20 لاکھ روپے کی پیشگی ادائیگی موصول ہوئی تھی، جس میں سے 37 کروڑ 50 لاکھ روپے استعمال کیے گئے اور باقی رقم ایک کراس چیک مورخہ 18 ستمبر 2013 کے ذریعے پارٹی کو واپس کر دی گئی۔ یہ رقم مختلف ٹی وی چینلز پر میڈیا اشتہارات پر خرچ کی گئی۔

    اس میں مزید کہا گیا کہ کمپنی نے مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر بڑی سیاسی جماعتوں کو بھی ایسی ہی خدمات فراہم کی ہیں۔ اپنے جواب میں کمپنی نے کہا کہ وہ اس فنڈز کے ذرائع سے آگاہ نہیں تھی جو انہوں نے میڈیا میں لگائے تھے، مختصر یہ کہ کمپنی کا پی ٹی آئی کے ساتھ پیشہ ورانہ تعلق تھا۔ ایف آئی اے کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ رقم کی واپسی پی ٹی آئی کے حق میں کراس چیک کے ذریعے اس کے غیر اعلانیہ اکاؤنٹ میں کی گئی تھی، جس کا ٹائٹل ‘پی ٹی آئی – نیشنل کمپین آفس’ تھا، جو سابق کے کے اے ایس بی بینک میں کھولا گیا تھا، جو اب بینک اسلامی پاکستان ہے۔

    41 کروڑ 20 لاکھ روپے میں سے ایک بڑا حصہ، 38 کروڑ 30 لاکھ روپے کا ایک بڑا حصہ کمپنی کو اس اکاؤنٹ سے اب غیر فعال بینک میں ادا کیا گیا تھا جبکہ پی ٹی آئی کے مرکزی دفتر کا اکاؤنٹ صرف 34 لاکھ 30 ہزار روپے دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔

    تاہم دوسری کمپنی نے جواب جمع کرانے کے لیے کچھ اور وقت مانگا ہے۔ ادھر طارق شفیع پہلے ہی لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرچکے ہیں جس نے ایف آئی اے کو اپنی انکوائری جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی تاہم ان کے خلاف کسی قسم کی منفی کارروائی سے روک دیا تھا۔ طارق شفیع نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا کہ رقم مناسب بینکنگ چینلز کے ذریعے منتقل کی گئی۔

  • پاک فوج کے جوانوں نے جان خطرے میں ڈال کر متاثرین کو ریسکیو کیا،ترجمان پاک فوج

    پاک فوج کے جوانوں نے جان خطرے میں ڈال کر متاثرین کو ریسکیو کیا،ترجمان پاک فوج

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کارروائیاں جاری ہیں،

    چیئرمین این ایف آر سی سی احسن اقبال کی زیر صدارت نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈی نیشن سینٹر میں اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ میں آپ کواب تک سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں افواجِ پاکستان کی ریلیف و ریسکیو کاموں کے حوالے سے آگاہ کروں گا۔حالیہ بارشوں سے پیدا ہونے والے مسائل کے آغاز سے ہی افواجِ پاکستان اپنے بہن بھائیوں کی مدد کے لئے متاثرہ علاقوں میں پچھلے 2 ماہ سے دن رات مصروفِ عمل ہیں۔ افواجِ پاکستان کا ہر ایک سپاہی اور آفیسراسے ڈیوٹی کی بجائے ایک مقدس فریضہ سمجھ کر عوا م کے مسائل کو کم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔یہی وہ جذبہ تھا جِس کے تحت گزشتہ ماہ لیفٹیننٹ جنرل سرفرازعلی، میجر جنرل امجد حنیف، بریگیڈئیر محمد خالد، میجر سعید احمد، میجر محمد طلحہٰ منان اور نائیک مدثر فیاض بلوچستان کے علاقے لسبیلہ (وِندر) میں سیلاب سے متاثرہ اپنے بہن بھائیوں کی مدد کے دوران ہیلی کاپٹر حادثے میں جام شہادت نوش کیا جولائی اور اگست میں ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں بھی سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کرنے کا عزم کیا گیا اور اس حوالے سے آرمی چیف نے خصوصی ہدایات دیں۔ آرمی چیف کی ہدایات کے مطابق مشکل کی اس گھڑی میں ہم عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے چاہے اس کے لئے کتنا ہی وقت اور کوشش درکار ہو۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ آرمی کی سطح پر کمانڈر آرمی ائیر ڈیفنس کمانڈ کی سر براہی میں آرمی فلڈ ریلیف کو آرڈی نیشن سنٹر قائم کیا گیا ہے اورکمانڈر آرمی ائیر ڈیفنس کمانڈ نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کورآڈی نیشن سنٹر کے نیشنل کو آرڈینیٹر کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ ۔ RRR Strategyیعنی Relief, Rescue & Rehabilitation کے تحت افواجِ پاکستان سول ایڈمنسٹریشن، Disaster Management Authorityاور دیگر فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر ایک جامع حکمت عملی کے تحت خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آرمی چیف نے سندھ، بلوچستان،خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے تفصیلی دورے کئے ہیں اور وہاں پر جاری امدادی کارروائیوں کا جائزہ بھی لیا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاکستان آرمی کی تمام فارمیشنز اور سینئر کمانڈرز موجود ہیں اور امدادی کارروائیوں میں مصروفِ عمل ہیں۔ پاکستان آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز مسلسل متاثرہ علاقوں میں ریسکیو و ریلیف آپریشن میں مصروف ہیں۔ اب تک 276 ہیلی کاپٹر Sortiesمختلف علاقوں میں Operateکی گئی ہیں۔خراب موسم اور دیگرچیلنجر کے باوجود پاکستان آرمی ایوی ایشن کے Pilotsنے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر نا صرف لوگوں کو ریسکیو کیا بلکہ اُن تک ضروری اشیا کی دستیابی کو بھی یقینی بنایا۔ کمراٹ اور کالام میں بھی جو لوگ سیلاب کی وجہ سے مختلف علاقوں میں پھنس گئے تھے ان سے فوری رابطہ کر کے انہیں پاک آرمی نے محفوظ مقامات تک منتقل کیا۔کسی بھی ہنگامی صورتحال میں خیبر پختوںخوا کی ہیلپ لائن1125جبکہ باقی صوبوں کے لئے آرمی ہیلپ لائن1135پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک بھر میں پاک افواج کے 147 ریلیف کیمپس جس میں 50ہزار سے زائد متاثرین کو ریلیف مہیا کیا گیا ہے جبکہ 250میڈیکل کیمپس جس میں آرمی ڈاکٹرز، نرسنگ اور پیرامیڈیکس سٹاف اب تک 83ہزار سے زائد مریضوں کو فری طبی امداد فراہم کر چکے ہیں۔اس کے علاوہ سندھ کیلئے آرمی کے اضافی میڈیکل اور Engineers Resourcesکو بھی بھیجا گیا ہےآرمی نے سیلاب متاثرین کیلئے 3دن کا راشن جو کہ تقریبا 1685ٹن جبکہ25ہزار Meal Ready to Eat (MRE) اور کثیر تعداد میں 8اور and 4 Men Tentsبھی سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کئے گئے ہیں۔۔ ملک بھر میں284 پوائنٹ عطیات،راشن جمع کرنے کے لئے قائم کئے گئے ہیں۔
    ان Relief Collection Pointsمیں 2294ٹن راشن جبکہ311 ٹن سے زائد ضروریات ِ زندگی کی بنیادی اشیاء اور 10 لاکھ7 0ہزار سے زائد ادویات پورے پاکستان کے لوگوں نے جمع کروائی ہیں۔ اب تک1793ٹن راشن اور277ٹن کا دیگر ضروریات کا سامان متاثرین میں تقسیم کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ7لاکھ70ہزار کے قریب ادویات بھی سیلاب متاثرین کو فراہم کی جا چکی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان ائیرفورس اور نیوی کی امدادی ٹیمیں بھی ملک بھر میں ریلیف و رسیکیو آپریسن میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان ائیرفورس کی Aerial Effortsبھی قابلِ ذکر ہیں جن میں C130اور ہیلی کاپٹرز نے 135 Sortiesکے دوران 1521سے زائد افراد کو Rescueکیا۔ PAFکے 41ریلیف کیمپس لوگوں کی مدد کر رہے ہیں اور 35فری میڈیکل کیمپس میں اب تک 16ہزار سے زائد مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جا چکی ہیں۔اس کے علاوہ کثیر تعداد میں راشن اور ٹینٹس بھی تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ پاکستان نیوی کی ایمرجنسی رسپانس ٹیمز اور Diving Teamsملک بھر میں سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے مصروفِ عمل ہیں۔اب تک 55ہزار سے زائد فوڈ پیکجز تقسیم کئے جا چکے ہیں، جن میں 650ٹن راشن اور1080 سے زائد ٹینٹس شامل ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ 19 میڈیکل کیمپس جس میں اب تک 18ہزار سے زائد مریضوں کو فری طبی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔ پاکستان نیوی نے اب تک تقریباََ 10ہزار متاثرین کو Rescueکیا ہے۔سیلاب زدگان کی امداد کے لئے ”آرمی ریلیف فنڈ اکاؤنٹ برائے سیلاب زدگان“ بھی قائم کیا گیا ہے جس میں ملک بھر سے لوگ اپنے متاثرہ بہن بھائیوں کیلئے دل کھول کر مدد کرر ہے ہیں۔ اسی جذبے کے پیشِ نظر آرمی کے تمام جنرل آفیسرز نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے قائم کیے گئے ایمرجنسی فنڈ میں دی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر افسران اور جوان بھی رضاکارانہ طور پر اس فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ اب تک سیلاب متاثرین کے لئے آرمی ریلیف فنڈ میں 417ملین روپے جمع ہو چکے ہیں جبکہ پچھلے 24گھنٹوں کے دوران44ملین روپے جمع ہو ئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کی لیڈر شپ بھی آرمی چیف سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کے لئے اقدامات کئے جا سکیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر اور سیلاب متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کیلئے یومِ دفاع کی مرکزی تقریب مؤخر کی ہے۔ تاہم شہداء پاکستان ہمارا اثاثہ ہیں جن کے دَم سے ہم ایک آزاد وطن میں سانس لے رہے ہیں۔ شہداء اور ان کے خاندانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں ہم نہ صرف آزاد ہیں بلکہ انہی کے سبب امن کی فضا ء قائم ہے۔ہم ان کو کبھی نہیں بھلا سکتے اور ہم کوئی شہید بھولے نہیں ہیں۔ستمبر کے اس مہینے میں ہم ان تمام شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے وطن پر اپنی جان قربان کر دی۔ عوام کا اعتماد افواجِ پاکستان کا اثاثہ ہے۔ پاک فوج ہمیشہ قدرتی آفات اور غیر معمولی حالات میں عوام کی مدد کرنے میں پیش پیش رہی ہے اور اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہر کوشش اور وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔ ہمیشہ کی طرح مشکل کی اس گھڑی میں بھی عوام کے تعاون سے ہم اس ناگہانی آفت سے نجات پا لیں گے

    چیئرمین این ڈی ایم اے اختر نواز کا کہنا تھا کہ قدرتی آفت سے تلخ ترین صورتحال سے دوچار ہوئے رواں سال غیر معمولی بارشیں ہوئیں، بارشیں سندھ ،بلوچستان اور پنجاب پر زیادہ اثر اندازہوئیں ،رواں سال ہمیں نے 4 ہیٹ ویوز کا سامنا رہا،ہیٹ ویوز کی وجہ سے جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات ہوئے ،رواں سال 190 فیصد زیادہ بارشیں ہوئیں،

    قبل ازیں چیئرمین این ایف آر سی سی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلوں کی وجہ سے چیلنجز کا سامنا ہے 14جون سے بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا اورزیادہ دنوں تک چلتا رہا بارشوں اورسیلاب سے بدقسمتی سے بڑی تباہی ہوئی، بارشوں اور سیلاب سے 3کروڑ 30لاکھ لوگ متاثر ہوئے امریکہ میں کیترینا طوفان آیاتو سپر پاور ملک بے بس ہوگیا،جاپان میں بھی جب طوفانی سیلاب آیا تو وہ بے بس ہوگیا قدرتی آفات سے مرکزی ،صوبائی یا ادارے تنہا نہیں نمٹ سکتے ،قوم نے ملکر نمٹنا ہوتا ہے بارشوں اور سیلاب سے سندھ اور بلوچستان بہت متاثر ہوا،پنجاب ، خیبرپختونخوا کے بعض علاقے بھی سیلاب سے متاثر ہوئے بارشوں اور سیلاب سے رابطہ سڑکیں تباہ ہوئیں شمالی میں کم اورجنوبی علاقوں میں سب سے زیادہ بارشیں ہوئیں، جنوبی علاقوں میں 30سال کی اوسط میں 500 گنا سے زیادہ بارشیں ہوئیں کچھ علاقوں میں بارش 1500ملی میٹر ہوئی پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے سڑکوں کا بڑ احصہ متاثر ہوا،جنوبی پنجاب ،خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں زیادہ تر آبادی متاثر ہوئی،بارشو ں اور سیلاب سے پنجاب میں 54 اموات ہوئیں اور فصلوں کو بھی نقصان پہنچا،

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈی نیشن سینٹر کا پہلا اجلاس

    نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈی نیشن سینٹر کا پہلا اجلاس

    چیئرمین این ایف آر سی سی احسن اقبال کی زیر صدارت نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈی نیشن سینٹر کا پہلا اجلاس ہوا

    ڈی جی آئی ایس پی آر،چیئرمین این ڈی ایم اے نے اجلاس میں شرکت کی ،محکمہ موسمیات حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی اجلاس میں فورم کو ملک میں سیلاب کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا گیا اجلا س میں شرکا کو سیلاب متاثرین تک پہنچنے کے لیے کوششوں پر بھی بریفنگ دی گئی اجلاس میں شرکا کومتاثرہ علاقوں میں مواصلاتی ڈھانچے کی بحالی کے لیے اقدامات سے آگاہی دی گئی،

    چیئرمین این ایف آر سی سی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلوں کی وجہ سے چیلنجز کا سامنا ہے ،14جون سے بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا اورزیادہ دنوں تک چلتا رہا بارشوں اورسیلاب سے بدقسمتی سے بڑی تباہی ہوئی، بارشوں اور سیلاب سے 3کروڑ 30لاکھ لوگ متاثر ہوئے امریکہ میں کیترینا طوفان آیاتو سپر پاور ملک بے بس ہوگیا،جاپان میں بھی جب طوفانی سیلاب آیا تو وہ بے بس ہوگیا قدرتی آفات سے مرکزی ،صوبائی یا ادارے تنہا نہیں نمٹ سکتے ،قوم نے ملکر نمٹنا ہوتا ہے بارشوں اور سیلاب سے سندھ اور بلوچستان بہت متاثر ہوا،پنجاب ، خیبرپختونخوا کے بعض علاقے بھی سیلاب سے متاثر ہوئے بارشوں اور سیلاب سے رابطہ سڑکیں تباہ ہوئیں شمالی میں کم اورجنوبی علاقوں میں سب سے زیادہ بارشیں ہوئیں، جنوبی علاقوں میں 30سال کی اوسط میں 500 گنا سے زیادہ بارشیں ہوئیں کچھ علاقوں میں بارش 1500ملی میٹر ہوئی پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے سڑکوں کا بڑ احصہ متاثر ہوا،

    احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب کے ڈیرہ غازی میں سیلاب سے تباہی ہوئی ،آبادی،فصلیں اور مواصلاتی نظام کو نقصان پہنچا،81 گرڈ اسٹیشنز میں 69کو بحال کردیاگیا ،12پر کام جاری ہے جلد بحال ہوجائیں گے، 123فیڈرز پر کام جاری ہے ،چند دنوں میں اس سے بھی بجلی کی ترسیل ہوجائے گی،بارشوں اورسیلاب سے 10 لاکھ سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا ہائی ویز انجینئرزاور دیگر اداروں نے 11شاہراہیں بحال کردئیے ہیں دریائے سندھ میں ابھی بھی سیلابی صورتحال برقرار ہے ،پانی کے نکاس میں سست روی ہے،ا

    علاوہ ازیں وزیر اعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے ,وزیر اعظم شہباز شریف بجلی کی سپلائی کی بحالی کو خود سے مانیٹر کر رہے ہیں; اس حوالے سے انھیں روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کی جا رہی ہے پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کی دو سپلائی لائنز, چکدرہ سے بری کوٹ اور سوات سے مٹہ کو 10 ستمبر تک بحال کر دیا جائے گا جبکہ مدین گرڈ اسٹیشن کو درال خوار جنریشن پلانٹ کے ذریعے سپلائی دے کر سپلائی بحال کی جائے گی.صوبہ سندھ کے 5 گرڈ اسٹیشنز اور صوبہ بلوچستان کے 2 گرڈ اسٹیشنز تاحال 4-3 فیٹ سیلابی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں جن سے سپلائی سیلابی پانی اترتے ہی بحال کر دی جا ئے گی. پاور ڈویژن افسران کو سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی سپلائی کی بحالی کےکام پرمامور کیاگیا ،سیلاب سے متاثرہ 81 گرڈ اسٹیشنز میں 46 سے بجلی کی سپلائی بحال کردی گئی سی ای اوز ڈسٹربیوشن کمپنیز کے رابطہ نمبرز اخبارات اور پاور ڈویژن کی ویب سائٹ پر دے دیئے گئے ابتدائی طور پر 11 کے وی کے 881 فیڈرز بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئے، فیڈرز متاثر ہونے کے باعث 9لاکھ 75ہزار صارفین کو بجلی ترسیل متاثر ہوئی ،متاثرہ فیڈرز میں 475 بحال ، 70ہزار 600صارفین کو بجلی کی ترسیل بحال کر دی گئی سیلاب زدہ علاقوں میں کرنٹ سے بچاؤ کے لیے 35 گرڈ اسٹیشنز سے بجلی فراہمی شروع نہیں کی گئی سیلاب زدہ علاقوں کے 35 میں 25 گرڈ اسٹیشنز بلوچستان ، 5 سندھ اور 5 خیبر پختونخو امیں ہیں،

    دوسری جانب مٹیاری دریائے سندھ میں ایس ایم بچاؤ بند کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے دریائے سندھ میں اس وقت 5 لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا گزررہا ہے مختلف مقامات پر دریائے سندھ کے پشتے انتہائی کمزورہیں بارشوں سے دریائے سندھ کے پشتوں کو بھی نقصان پہنچا محکمہ ایری کا کہنا ہے کہ بندوں کی صورت حال بہتر ہے، نگرانی کی جارہی ہے،2010 میں بڑا سیلابی ریلا آسانی سے اس مقام سے گزرچکا ہے، پانی کی سطح نارمل ہے، ہنگامی صورت حال کا کوئی خطرہ نہیں

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں بحرہ عرب سے مون سون کی کم شدت کی ہوائیں داخل ہوئی ہیں ،کل سے مالاکنڈ ڈویژن ،پشاور ،وزیرستان میں چند مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے آزاد کشمیر، بالائی خیبرپختو نخوا اور شمال مشرقی پنجاب میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے اسلام آباد میں موسم گرم رہے گا ،رات کوتیز ہواؤ ں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے آئندہ 3سے 4دن سندھ ،بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں موسم گرم رہے گا مری ، گلیات ، راولپنڈی،خطہ پوٹھوہار، جہلم، سیالکوٹ میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے منڈی بہاوألدین ،لاہور، نارووال اور گوجرانوالہ میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے سندھ کے ساحلی علاقوں میں مطلع جزوی ابر آلود رہے گا، سوات، ہری پور، صوابی ،مردان، بونیر ،ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں بارش کا امکان ہے

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    کوششوں کے باوجود بھی صرف 10 فیصد متاثرین تک پہنچے ہیں، فیصل ایدھی

  • ظالم حکومت:بے حس،نااہلی کی انتہا:خطرناک صورتحال مگرڈرامے بازیاں پھر بھی جاری

    ظالم حکومت:بے حس،نااہلی کی انتہا:خطرناک صورتحال مگرڈرامے بازیاں پھر بھی جاری

    لاہور:ظالم حکومت:بے حس،نااہلی کی انتہا:خطرناک صورتحال مگرڈرامے بازیاں پھر بھی جاری،یہ کوئی کسی نیوز ایجنسی کی خبر نہیں بلکہ آنکھوں دیکھا حال ہے، پاکستان کے سینئرصحافی مبشرلقمان جو کہ پچھلے کئی دنوں سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں عوام الناس کے مسئائل جاننےکےلیے وہاں پہنچے ، انہوں نے وہاں کیا دیکھا اس دُکھ بھری کہانی کو وہ خود بیان کرتے ہیں‌

    ان کا کہنا تھا کہ وہ ڈیرہ غازی خان اورتونسہ کے علاقوں میں گئے ہیں ، وہاں بے بس انسانوں کوان ظالم حکمرانوں کی بے حسی کا شکاردیکھا ، کوئی کسی کی مدد کو نہیں پہنچ رہا ، یہ سب ڈرامے بازیان ہیں ، فرضی اور گھوسٹ کیمپ لگے ہوئے ہیں اوروہاں سوائے علامتی صورتحال کے سوا کچھ نہیں

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ کوئی بھی حکومت وہاں نظر نہیں آئی ،ہاں مذہبی جماعتوں کی تنظیموں کو سلام جنہوں نے بلا امتیازپریشان حال لوگوں کی بڑی مدد کی اورابھی یہ سلسلہ جاری ہے ، الخدمت والے تو بہت بہتر کام کررہےہیں ایسا کام انہوں نے کسی اور تنظیم کانہیں دیکھا ایک میکنزم ہے ، حق داروں تک حق پہنچ رہا ہے،لوگوں کی عزت نفس کا خیال رکھا جارہے ، ایسے ہی تحریک لبیک ، دعوت اسلامی والے بھی خدمت میں مصروف ہیں اگروہاں نہیں‌ ہیں تو حکومت کے اہلکار نہیں

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق بڑی تعداد میں حاملہ خواتین اگلے چند دنوں تک پیدائش کے مرحلے سے گزریں گی تو پھرایسی صورت حال میں تو بہت بڑی خطرے کی بات ہے ، ان کےلیے مخصوص میڈیکل کیمپ ہونے چاہیں ، جہاں پہلے ہی شدید گرمی ہے وہاں کس طرح‌ ان معاملات کو حل کیا جائے گا یہ ایک لمحہ فکریہ ہے

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے امریکہ ، برطانیہ اور دیگرملکوں سے امداد کی آفر کی گئی لیکن میں نے اس لیے ٹھکرا دی کہ ہمارے پاس آڈٹ والا اکاونٹ ہی نہیں‌، آپ پاک آرمی کو دے دیں ، لبیک والوں کو دے دیں‌، الخدمت والوں کو دے دیں‌مجھے یقین ہے کہ وہ آپ کا پیسہ ضائع نہیں کریں گے اور حق داروں تک پہنچائیں گے

    مبشرلقمان کہتےہیں‌ کہ لوگوں کے بُرے حال ہیں ،کرشنگ پلانٹ لگا کرجوقدرتی بند تھے وہ کاٹ دیئے گئے ، سیلاب کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ رہی اور اس نے بڑے بڑے شہراورہزاروں بستیاں تباہ کردیں،

     

    ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے اس علاقے میں لوگوں‌ کوایک کے بعد دوسری مصیبت میں دیکھا،ایک طرف لوگ سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں‌تو دوسری طرف بجلی کے بل ہیں‌، بجلی کے کھمبے کئی ماہ سے گرے ہوئے ہیں لوگوں کو بجلی میسر نہیں ، یونٹ صفر ہے مگر بل سترہ ہزار ، یہ کیسی بدمعاشی اور ظلم ہے ، کوئی پوچھنے والا نہیں ان حکمرانوں کو ، وزیراعلیٰ پرویز الٰہی بھی اس علاقے میں نہیں گئے ،عارف علوی آئے تو ایک فرضی کیمپ میں فوٹوسیشن کروا کرچلے گئے ، مونس الہی گجرات میں ہیں ، ان حالات میں اگر عوام الناس کی طرف سے کوئی سخت ردعمل آیا تو بجا نہ ہوگا ، حالات خراب سے خراب تر ہورہے ہیں ، جہاں اس کے ذمہ دار حکمران ہیں وہاں‌س کے بڑے ذمہ وہاں کے طاقتور ، وڈیرے زیادہ ذمہ دار ہیں