Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • خاتون جج، پولیس افسران کو دھمکیاں: عمران خان کی آج پھر پیشی

    خاتون جج، پولیس افسران کو دھمکیاں: عمران خان کی آج پھر پیشی

    خاتون جج اور پولیس افسران کو دھمکیاں دینے کے کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت آج ہوگی، عمران خان ذاتی حیثیت میں انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوں گے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت پر جج راجہ جواد عباس سماعت کریں گے،عمران خان کے وکیل بابر اعوان ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر دلائل د یں گے۔ خیال رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے خاتون جج اور پولیس افسران کو دھمکیاں دی تھیں جس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہین عدالت کیس میں انہیں شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں ذاتی طور پر بھی طلب کیا تھا۔

    عمران خان نے تحریری طور پر عدالت میں جواب جمع کرایا تھا، گزشتہ روز سماعت کے دوران عدالت نے ان کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے انہیں 7 روز میں دوبارہ جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز خاتون ایڈیشنل سیشن جج کو دھمکی دینے کے توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے تھے کہ عمران خان کے تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر دکھ ہوا۔ عمران خان کے وکیل سوچ سمجھ کر سات دن میں دوبارہ جواب جمع کروائیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے سماعت کی، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار بینچ میں شامل تھے.

    چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ماتحت عدلیہ بہت مشکل حالات میں کام کر رہی ہے ، عام آدمی ستر سال میں بھی ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ تک رسائی نہیں کر سکتا، ضلعی عدالت عام آدمی کی عدالت ہے، عمران خان کے تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر افسوس ہوا۔ جس حالت میں ماتحت عدلیہ کام کر رہی ہے انکا اعتماد بڑھانے کیلئے اس عدالت نے بہت کام کیا، اس عدالت کو توقع تھی کہ آپ اس عدالت میں پیش ہونے سے پہلے وہاں سے ہو کر آتے۔

    جس طرح گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا زبان سے کہی ہوئی چیز واپس نہیں آتی ، جبری گمشدگیاں بد ترین ٹارچر ہے بلوچ طلبہ کے ساتھ جو ہوا وہ بھی ٹارچر ہے، تین سال سے ہم اس معاملہ کو وفاقی حکومت کو بھیجوا رہے ہیں لیکن ٹارچر کے معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا گیا، آپ کا جواب اس بات کا عکاس ہے کہ جو ہوا اس کا آپ کو احساس تک نہیں، آپ کے موکل کو احساس نہیں کہ انہوں نے کیا کہا ہے، کاش اپنے دور حکومت میں اس ٹارچر کے مسئلے کو اس جذبے سے اٹھاتے، اسد طور ابصار عالم کے کیسز آپ دیکھ لیں، اگر تب یہ مسئلہ سنجیدگی سے دیکھا گیا ہوتا تو آج نہ ٹارچر کا مسئلہ ہوتا نہ بلوچ طلبہ کا۔

    چیف جسٹس نے وکیل حامد خان سے کہا تھا کہ آپ اس عدالت کے معاون ہے خود کو کسی کا وکیل نہ سمجھیں، عدالت نے شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر کو شہباز گل کیس کا فیصلہ پڑھنے کی ہدایت کی ۔جس کے بعد شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر نے کیس کا عدالتی فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اڈیالہ جیل کس کے ایڈمنسٹریٹو کنٹرول میں ہے؟ کیا ٹارچر کی ذرا سی بھی شکایت ہو تو کیا جیل حکام ملزم کو بغیر میڈیکل داخل کرتے ہیں؟ یہ پٹیشن اسلام آباد ہائی کورٹ سے کب نمٹائی گئی اور تقریر کب کی گئی؟ وکیل نے کہا کہ پٹیشن 22 اگست کو نمٹائی گئی اور تقریر 20 اگست کو کی گئی، چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا تھا تو تقریر کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے کیس ریمانڈ بیک کیا تھا، کیا عمران خان کے اس وقت دیے گئے بیان کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟ یہ عدالت تنقید کو خوش آمدید کہتی ہے فیصلوں پر جتنی تنقید کرنی ہے کریں۔

    اس عدالت کو رات 12بجے کھلنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ، ہم تو ہمیشہ سے ہی انصاف کی فراہمی کے لیے موجود تھے ، یہ وہ عدالت جو صرف قانون پر چلتی ہے اس کے تمام ججز غیر جانبدار ہیں، ماتحت عدلیہ کے ججز کوئی ایکس اور وائے نہیں، اس عدالت نے آرڈینس کالعدم قرار دیا اگر آج وہ ہوتا تو گرفتاریاں بھی ہوتیں ضمانت بھی نا ہوتی۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ سیاسی لیڈرز کی اس وقت کے بیانات آپ دیکھ لیں، یہ عدالت کیوں بارہ بجے کھلی ؟ سوال اٹھانا آپ کا حق ہے، لیکن یہ عدالت کمزور کے لیے بھی اور چھٹی کے روز بھی 24 گھنٹے کھلی رہی ہے ، انہوں نے بڑے اچھے انداز میں گلہ کیا کاش اسی انداز میں ماتحت عدلیہ کے جج کو ایڈریس کرتے ، سیاسی لیڈر کی بہت حیثیت ہوتی ہے ہر وقت بہت اہم ہوتا ہے، اس عدالت کے کسی جج کو کوئی influence نہیں کر سکتا، آج موقع ہے تو آج بتا دیتے ہیں کہ عدالت رات کو کیوں کھلی تھی، اس عدالت کے ذہن میں تھا کہ جو 12 اکتوبر کو ہوا وہ دوبارہ نہ ہو۔

    میری سپریم کورٹ کے ایک جج کے ساتھ فوٹو تھی جسے ایک سیاسی جماعت کا عہدیدار بنا کر وائرل کیا گیا، مجھے ایک فلیٹ کا مالک بھی بنا دیا گیا، ہمارے ادارے نے بھی بہت غلطیاں کی ہیں جن پر تنقید کو ویلکم کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر ججز کی تصویریں لگا کر الزامات لگائے جاتے ہیں، سیاسی جماعتیں اپنے فالوورز کو منع نہیں کرتی۔

    طلال چوہدری کیس ، دانیال چوہدری کیس اور ہاشمی کا کیس بھی عدالت کے سامنے ہے، آزادی رائے کا غلط استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، آپ نے جو جواب جمع کرایا وہ عمران خان جیسے لیڈر کے رتبہ کے مطابق نہیں۔

    عمران خان کے وکیل حامد خان نے کہا کہ میں نے درخواست کے قابل سماعت نہ ہونے کا نکتہ بھی اٹھایا ہے، اس کے علاوہ بھی باتیں کی ہیں، جواب کا صفحہ نمبر 10 ملاحظہ کریں، عمران خان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ جوڈیشل افسر کے بارے میں یہ کہیں۔

    عدالت نے عمران خان کے وکیل کو دوبارہ جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی، چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان صاحب سوچ سمجھ کر جواب جمع کروائیں۔

    تمام عدالتی کارروائی کو شفاف رکھیں گے، دانیال عزیز، طلال چوہدری اور نہال ہاشمی کیسز میں سپریم کورٹ کے فیصلے دیکھ لیں، توہین عدالت کیسز پر سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل لازم ہے، آپ تحریری جواب دوبارہ جمع کرائیں ورنہ ہم کارروائی آگے بڑھائیں گے، طلال چوہدری، نہال ہاشمی اور دانیال عزیز میں فیصلوں کو سامنے رکھتے ہوئے جواب دیں، پھر کہہ رہا ہوں کہ اس معاملے کی حساسیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ یہ کارروائی آج ہی ختم ہو سکتی تھی لیکن آپکے جواب سے یہ ختم نہیں ہو گی، آج تو کارروائی آگے بڑھائی جانی چاہیے تھی لیکن چیف جسٹس آپکو ایک اور موقع دے رہے ہیں، چیف جسٹس آپ کو ایک اور موقع دے رہے ہیں تو دوبارہ جواب جمع کرائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس ملک میں اصل تبدیلی تب آئے گی جب سول سپریمیسی ہو گی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سات روز میں عمران خان کو دوبارہ جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا، اور منیر اے ملک ، مخدوم علی خان اور پاکستان بار کونسل عدالتی معاون مقرر کر دئیے گئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ عمران خان کے جواب کی پیشگی نقول عدالتی معاونین کو فراہم کرنے کا کہا جائے۔

    عدالت نے منیر اے ملک مخدوم علی خان کو امائکس مقرر کر دیا، چہف جسٹس نے کہا کہ آپ کو عدالتی ریکارڈ سے پتہ چلے گا کہ ہم ایسے معاملات کو ایگزیگٹوز کو بھیجتے رہے ہیں لیکن کسی نے سنجیدہ نہیں لیا ، پچھلے تین سالوں میں ایک کیس کی بھی تحقیقات نہیں ہوسکی ، الزام لگایا جاتا ہے کہ ہماری عدلیہ 130 نمبر پر ہے میں نے فواد چوہدری کے ساتھ میٹنگ میں انہیں بتایا کہ یہ چیف ایگزیکٹو کی غفلت کا معاملہ ہے۔
    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ وقت ہے ہم ایک پاکستان کی تعمیر نو کریں ، پیکا آرڈیننس اگر معطل نہ ہوتا تو اج آدھا پاکستان جیل میں ہوتا، قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی مزید سماعت 8 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

    تاہم یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے توہین عدالت کیس میں الفاظ واپس لینے کی پیشکش بھی کی تھی، ذرائع کے مطابق عمران خان کا جواب اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرادیا گیا تھا جس میں کہا گیا کہ ججز کے احساسات کو مجروع کرنے پر یقین نہیں رکھتے، الفاظ غیر مناسب تھے تو واپس لینے کےلیے تیار ہوں۔

    انہوں نے کہا تھا کہ عدالت تقریر کاسیاق و سباق کیساتھ جائزہ لے،پوری زندگی قانون اور آئین کی پابندی کی ہے، عمران خان نے استدعا کی کہ ان کیخلاف توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لیا جائے۔ یاد رہے عمران خان نے عدالتی بینچ پر بھی اعتراض اٹھایا ہے۔

  • ڈی جی خان میں 63 ارب تو دور 63 روپے بھی نہیں لگائے گئے،مبشر لقمان نے اصلیت بتا دی

    ڈی جی خان میں 63 ارب تو دور 63 روپے بھی نہیں لگائے گئے،مبشر لقمان نے اصلیت بتا دی

    سینئرصحافی اور اینکر مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کوہ سلیمان میں ایک بھی سیاسی جماعت کا ابھی تک کیمپ نظر نہیں آیا بڑے دکھ کی بات ہے کہ جن لوگوں کی وجہ سے سیاست دان ایوان اقتدار میں آتے ہیں . ابھی حضرت نے فرمایا کہ قدرتی آفت ہے مگر میں پوری طرح متفق نہیں ہوں ان سے ،یہ ہماری کوتاہیاں ہیں ،نالائقیاں اور چوریاں ہیں ان لوگوں کی جو ہمارے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں وہ بھی اس میں شامل ہیں.

    کوہ سلیمان میں الخدمت فاوندیشن کی جانب سے امدادی کیمپ میں متاثرین سیلاب سے خطاب کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ جو بند ٹوٹے ہوئے ہیں یہ آپ کو بھی پتا ہے اور مجھے بھی پتا ہے کہ کیوں ٹوٹے ہوئے ہیں؟،انہوں نے کہا کہ 63 ارب روپے ڈی جی خان کیلئے پچھلے وزیراعلیٰ نے لگائے تھے، مجھے تو اس میں سے 63 روپے بھی کہیں لگے نظر نہیں آئے.

    مبشر لقمان نے کہا کہ میں کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہوں اور نا ہی میں کوئی سیاسی بیان دے رہا ہوں ،میں ایک عام شہری کی حیثیت سے بات کر رہا ہوں،مبشر لقمان نے کہا کہ اگر میرے بچوں نے یہ پانی پینا ہو جو آپ لوگ پی رہے ہیں تو یہ بہت خوف ناک ہو گا،انہوں نے کہا کہ اگر میرے بچوں کو وہی سہولیات ہوں جو یہاں پر ہیں تو مجھے بڑا دکھ ہو گا.

    انہوں نے کہا کہ اس ڈی جی خان سے ایک صدر پاکستان ، دو پیجاب کے وزیراعلی ،دو گورنر اور 20 وزیر آچکے ہیں اور ڈی جی خان لگتا ہے کہ 20 ویں صدی میں ہے.مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ الخدمت والے تو ہیں یہاں اور کام کر رہے ہیں،لبیک والے بھی یہاں کام کر رہے ہیں اور دعوت اسلامی والے بھی کام کر رہے ہیں.اگر کوئی کام نہیں کر رہا تو سیاسی جماعتیں کام نہیں کر رہی ہیں.

    مبشر لقمان کا مذید کہنا تھا کہ افواج پاکستان سب سے آگے ہے،ریسکیو آپریشن تو وہی کر سکتے ہیں ، یہ لوگ اورہم لوگ تو ریلیف کا کام ہی کر سکتے ہیں.انہوں نے کہا کہ آپ کیلئے ریلیف کے بعد اصل امتحان بحالی کا ہے ،دو ماہ کے بعد یہ ٹینٹ ختم ہو جائیں گے اور دو مہینے کے بعد موسم کی شدت شروع ہو جائے گی.

    انہوں نے کہا کہ ایک مہینے کے بعد میڈیا بھی اپنا منہ موڑ لے گا،کبھی کوئی شہباز گل کی کہانی آجائے گی ،کبھی کوئی آجائے گی تو اس وقت میں متاثرین سیلاب کے ساتھ ہونا الخدمت کا بہت بڑا کام ہو گا کہ آپ ان کی بحالی کیلئے کام کریں ، ہم آپ کی آواز ارباب اختیار اور باقی لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں.

    مبشر لقمان نے کہا کہ لوگ مدد کر رہے ہیں اور کرنا چاہ بھی رہے ہیں مگر انہیں اعتبار نہیں ہے کسی پر کہ وہ مدد کس کے ذریعے کریں؟ یعنی جتنے لوگ اعلانات کر رہے ہیں. مجھے کئی لوگوں نے کہا امریکہ اور یورپ سے کہ ہم مدد کرنا چاہتے ہیں اور پیسے بھیجنا چاہ رہے ہیں کہ تمھارے کس اکاونٹ میں بھیجیں،تو میں نے ان کو تین اکاونت دیئے ہیں ،ایک میں نے الخدمت کا اکاونٹ دیا ،دوسرا تحریک لبیک کا اکونٹ ہے اور تیسرا پاکستان آرمی کا اکاونٹ ہے یہ اکاونٹس لے لیں، ان کے علاوہ مجھے کسی پر اعتبار نہیں ہے.

    مبشر لقمان نے سیلاب ذدگان سے کہا کہ اللہ تعالی آپ کی مشکلیں آسان کرے اور ہمارا جو امتحان ہے اس میں ہمیں سرخرو کرے،ہمارا یہ بھی امتحان ہے کہ ہم کس طرح سے آپ کے دست وبازو بنتے ہیں، یہ پوری قوم کا امتحان ہے. اللہ تعالی ہم کو ایسی تمام آفتوں سے بچا کے رکھے. آمین

  • ایک بارپھروفاقی حکومت نےپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

    ایک بارپھروفاقی حکومت نےپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

    اسلام آباد:وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے، قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگیا ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 7 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 235 روپے 98 پیسے فی لٹر ہوگئی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 99 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 247 روپے 43 پیسے ہوگئی ہے۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں 10 روپے 92 پیسے اضافہ کیا گیا جس کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 210 روپے 32 ہوگی۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ لائٹ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 9 روپے 79 پیسے اضافہ ہوا جس کے بعد لائٹ ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 201 روپے 54 پیسے ہو گئی ہے۔

  • ڈی جی خان اور تونسہ کی تباہی کا ذمہ دارکون؟مبشرلقمان نے کُھرا ڈھونڈ لیا:کوہ سلیمان کی پہاڑیوں سے انکشافات

    ڈی جی خان اور تونسہ کی تباہی کا ذمہ دارکون؟مبشرلقمان نے کُھرا ڈھونڈ لیا:کوہ سلیمان کی پہاڑیوں سے انکشافات

    تونسہ:ڈی جی خان اور تونسہ کی تباہی کا ذمہ دارکون؟مبشرلقمان نے کُھرا ڈھونڈ لیا:کوہ سلیمان کی پہاڑیوں سے انکشافات نے سیلاب سے تباہی کے اصل حقائق سے پردہ اٹھا دیا ہے ، اس حوالے سے پاکستان سے سینیئرتجزیہ نگار ممتازصحافی مبشرلقمان جو کہ اس وقت سیلاب سے متاثرہ ان علاقوں میں موجود ہیں وہاں کے اصل حقائق اپنے قارئین تک پہنچا رہے ہیں

    مبشرلقمان بتاتے ہیں کہ وہ خود حیران ہیں کہ سیلاب تو آہی گیا مگراس سیلاب کوتباہ کُن بنانے میں تونسہ کے طاقتوروں کا بھی حصہ ہے جنہوں نے اپنے کاروبار کو بچانے کی خاطرتونسہ اور ڈی جی خان کی عوام کو ڈبودیا

    اس سلسلے میں مبشرلقمان جب تونسہ کے اس علاقے میں پہنچے جہاں سے سیلاب نے تباہی پھیلانا شروع کی تو وہاں موجود مقامی افراد نے مبشرلقمان کے سامنے ساری صورت حال رکھ دی ،

    مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اس مقام پرقدرتی طور پر بہت زیادہ پتھر تھے جو سیلاب کے پانی کے سامنے ایک بہت مضبوط اور قدری بند تھا مگریہاں کاروباری شخصیات نے اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے یہاں سے پتھر اٹھا اٹھا کراس کو کرش کرکے کے اپنا کاروبار چلایا لیکن مقامی لوگوں کوسیلاب کی تباہ کاریوں کے لیے پیش کردیا

     

    مقامی افراد نے اس موقع پر انکشافات کیے کہ اس وقت جب یہ چند مضبوط کاروباری شخصیات یہاں سے پتھراٹھا اٹھا کرلے جارہے تھے تومقامی افراد نے جوآج سیلاب کا سامناکررہے ہیں انہیں خدشات کی بنیاد پر احتجاج کیا تھا کہ اگریہ پتھریہاں سے اٹھا لیے گئے تو پھرپانی کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکے گی اورمقامی آبادیاں سیلاب کی نذرہوجائیں گی

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بجائے اس کے کہ حکومت یا مقامی انتظامیہ اس مسئلے پر کوئی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی مگر افسوس کے ساتھ الٹآ مظاہرین کے خلاف مقدمات قائم کردیئے گئے، یہ ڈمپرز جنہوں مقامی لوگوں‌ کے زیراستعمال سڑکوں کو بھی تباہ کردیا ، مگریہ الزام لگا کر کہ ڈمپرز کو گزرنے نہیں دے رہے ، الٹا مقدمات قائم کیئے گئے

    ان کا کہنا تھا کہ آج سے چھ ماہ پہلے جواحتجاج اسی سلسلے میں کیا تھا نہ ڈی سی نے کوئی ایکشن لیا اور نہ ہی اے سی نے لوگوں کی بات پر توجہ دی بلکہ ان کاروباری طاقتور شخصیات کو تحفظ دیا

    مقامی لوگوں کی نشاندہی کے مطابق سینیئرصحافی مبشرلقمان نے وہاں اصل مقامات پر جاکراصل حقائق دکھائے ، وہاں کرشنگ پلانٹ لگے ہوئے ہیں اوروہاں ڈمپرز بھی موجود ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ اگریہ مافیا یہاں سے پتھر نہ اٹھاتا تو کبھی بھی دریا کا پانی نواحی بستیون اور دیگرمقامات کی طرف نہ جاتا مگرکون ہے جوغریب عوام کی آہ وبکا کو سُن لے یہاں تو طاقتور طاقتوروں کو بچانے کے لیے بہت کچھ کررہے تھے

     

    مبشرلقمان نے اس موقع پر اہل نظرکوان طاقتورمافیازکے اصل حقائق بتاتے ہوئے کہا کہ ڈی جی خان سے لیکر تونسہ  تک تمام سڑکیں محفوظ ہیں ، بڑوں اوروڈیروں کے ڈیرے محفوظ ہیں مگراگرمحفوظ نہیں‌ تو غریب عوام کے کچے مکان اور ان کی جھونپڑیاں محفوظ نہیں ، یہاں ہرمکان تباہ حال ہیں n ، یہاں دوکانیں پانی میں گارا بن چکی ہیں ، یہاں کے مکین بے بس ہیں مگریہ بے بسی کب تک جاری رہے گی ، ہمارا کام تو حقائق کو پیش کرنا ، اہل نظرکا کام ہے حقائق کو پرکھنا اورحکمرانوں کا کام ہے اصلاح کرنا اگرپھربھی کچھ نہ ہوپائے توپھراپنے ہاتھوں سے ہی ہونے والی تباہی کا ذمہ دار کسی اور کو ٹھہرانا انصاف نہیں ہے

  • پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی مد میں ایک ارب 16 کروڑ ڈالر مل گئے

    پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی مد میں ایک ارب 16 کروڑ ڈالر مل گئے

    پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی مد میں ایک ارب 16 کروڑ ڈالر مل گئے۔

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کو IMF کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے تحت مشترکہ ساتویں اور آٹھویں جائزے کو مکمل کرنے کے بعد ایک ارب 16 کروڑ ڈالر کی رقم مل گئی ہے۔

    اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے قرض ملنے سے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوں گے، اس کے ساتھ کثیر جہتی اور دو طرفہ ذرائع سے دیگر رقوم کی وصولی میں بھی مدد ملے گی۔


    آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے 29 اگست کو ساتویں اور آٹھویں اقتصادی جائزے کی منظوری دی تھی۔

  • شہباز شریف کا بھارتی وزیراعظم سے اظہار تشکر

    شہباز شریف کا بھارتی وزیراعظم سے اظہار تشکر

    وزیراعظم شہباز شریف نے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کی جانب سے سیلاب کے نقصانات پر اظہار افسوس کے جواب میں بھارتی وزیراعظم سے اظہار تشکر کیا ہے۔

    وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ سیلاب کے باعث جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس پر نریندر مودی کا شکر گزار ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام قدرتی آفت کے منفی اثرات پر جلد قابو پا لیں گے۔

    یاد رہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 29 اگست کو لکھا کہ پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی دیکھ کر دکھ ہوا۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ ہم متاثرین کے خاندانوں، زخمیوں اور قدرتی آفت سے جاں بحق ہونے والے تمام افراد کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔نریندر مودی نے سیلاب سے متاثرہ افراد کی جلد بحالی اور معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے کی امید کا اظہار کیا۔

  • سیلاب متاثرین سے اظہار یکجہتی، یوم دفاع و شہداء کی مرکزی تقریب ملتوی

    سیلاب متاثرین سے اظہار یکجہتی، یوم دفاع و شہداء کی مرکزی تقریب ملتوی

    6 ستمبر کو یوم دفاع و شہداء کی مناسبت سے ہونے والی مرکزی تقریب ملتوی کر دی گئی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے ڈائریکٹر جنرل ( ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بتایا گیا کہ ملک میں آنے والے بدترین سیلاب سے متاثر ہونے والوں سے اظہار یکجہتی کے لیے راولپنڈی کے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں 6 ستمبر کو یوم دفاع و شہدا کی مناسبت سے ہونے والی مرکزی تقریب ملتوی کر دی گئی ہے۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج بے مثال سیلاب سے متاثرہ ہمارے بھائیوں اور بہنوں کی خدمت جاری رکھے گی

  • وزیراعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس کی نااہلی،غفلت،ناتجربہ کاریاں،چھٹکارے کیلئے سر جوڑ لیے گئے

    وزیراعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس کی نااہلی،غفلت،ناتجربہ کاریاں،چھٹکارے کیلئے سر جوڑ لیے گئے

    وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی ۔

    وزیراعظم سردار تنویر الیاس چار ماہ بارہ دن گزر جانے کے بھی حکومت سنبھال نہ سکے، تحریک انصاف آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی ، وزراء ، بیوروکریسی و دیگر حلقوں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی اور وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس سے چھٹکارے کیلئے سر جوڑ لیے گئے ۔ وزیراعظم حکومتی امور نمٹا پا رہے ہیں نہ ہی دفتر جانا گوارا کرتے ہیں ؟ فائل ورک صفر ، ترقیاتی منصوبے ٹھپ ، بجٹ کے استعمال کیلیے منصوبہ بندی اور نہ ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ، بلدیاتی الیکشن قریب پہنچ گئے لیکن تحریک انصاف حکمران جماعت ہونے کے باوجود شدید شکست کے خطرے سے دو چار ہو گئی ۔

    تحریک انصاف آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے پانچ ارکان نے نام نہ لکھنے کی شرط پر انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم سردار تنویر الیاس سے اکثر رابطے کیلئے کئی کئی دن لگ جاتے ہیں ، کثر وزیراعظم کا سرکاری اسٹاف بھی ان کی عدم دستیابی پر پریشان دکھائی دیتا ہے۔ ارکان کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی امور میں کسی قسم کی دلچسپی دکھائی نہیں دے رہی ، وزراء مظفرآباد نظر آتے ہیں نہ ہی سیکرٹریز ، ان کا موقف ہے کہ حکومت وزیراعظم کیساتھ چلتی ہے ، جب وزیراعظم ہی دستیاب نہیں تو مظفرآباد بیٹھنے کا فائدہ ہی کیا ہے۔

    سینئر وزراء نے غیر رسمی گفتگو میں کہا ہے کہ اپوزیشن اس وقت مکمل تیاری میں ہے ، اپوزیشن کے پاس انتہائی مضبوط چارج شیٹ ہے کہ حکومت فلاپ ہو چکی ، کرپشن انتہا پر پہنچ چکی لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ ایک سینئر سیکرٹری حکومت نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا ہے کہ آزاد کشمیر کی تاریخ میں ایسا نالائق ، غیر سنجیدہ اور ناتجربہ کار وزیراعظم نہیں دیکھا ، وزارتوں کی کئی سمریاں وزیراعظم کے دستخط کی محتاج ہیں لیکن وزیراعظم کے دفتر نہ بیٹھنے کی وجہ سے حکومتی معاملات ٹھپ ہیں ۔

    وزیراعظم آفس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس وقت پرنسپل سیکرٹری سمیت تمام سرکاری اسٹاف شدید ذہنی الجھن کا شکار ہے کہ آیا ریاست کے امور کیسے آگے بڑھیں گے، وزیراعظم اکثر گھر سٹاف کو بلاتے ہیں لیکن خود سوئے رہتے ہیں جس کی وجہ سے سٹاف گھنٹوں انتظار کے بعد واپس لوٹ اتا ہے ، وزیراعظم کی عدم دستیابی اور عدم دلچسپی ریاست کیلئے خطرہ بن گئی۔

    وزیراعظم‌ آزاد کشمیر تنویر الیاس سو دن میں ہی فلاپ،کارکردگی زیرو،اراکین بھی بول پڑے

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    تحریک عدم اعتماد کا خوف،وزیراعظم آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیکرٹریز سمیت تمام ممبران اسمبلی پر گاڑیوں کی نوازشات

  • مریم نواز کا سیلاب متاثرین سے خطاب،سٹیج گر گیا، مریم بھی گر گئیں

    مریم نواز کا سیلاب متاثرین سے خطاب،سٹیج گر گیا، مریم بھی گر گئیں

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز سیلاب زدہ علاقے میں گئیں تو دوران خطاب سٹیج گر گیا اور مریم نواز بھی گرگئیں

    واقعہ کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میڈم آپ ٹھیک ہیں کوئی چوٹ تو نہیں آئی؟؟؟ جس پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ الحمدُ للّٰہ ٹھیک ہوں۔ چوٹیں لگتی رہتی ہیں

    مسلم لیگ ن کی مرکزی سینئیر نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دوروں پر فاضل پور پہنچی ہیں ۔مسلم لیگ ن کی مرکزی سینئیر نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف دانش سکول فاضل پور سڑک کنارے سیلاب متاثرین کے ایک کیمپ میں مصیبت زدہ خواتین سے بات چیت کرنے کے دوران ان کی خیریت دریافت کی ، بچوں سے پیار کیا ، انہیں حوصلہ دیا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ھم عوام کے ساتھ ھیں ۔ ریلیف کے ساتھ ساتھ ان کی بحالی کیلئے بھی جلد اقدامات شروع ھونگے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیلاب زدگان کیلئے خیمے ، خوراک ، ادویات ، کمبل ،کپڑے ساتھ لائ ھیں ۔ انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔

    اس موقع پر سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی سردار شیر علی گورچانی نےمریم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا کہ وہ دکھ اور مشکل میں سیلاب زدگان کے درمیان اکر ان سے اظہارِ یکجہتی کرکے حسن عمل کی روشن مثال قائم کی ھے ۔ مسلم لیگ ن ھی قیادت عوامی حقیقی ھے جسے غریب عوام ، مصیبت کے مارے بے یارو مددگار سسکتی انسانیت کو جینے کا نیا حوصلہ دیا ھے ۔ شردار شرعلی گورچانی نے محترمہ مریم نواز شریف کو بتایا کہ ستم بالائے ستم پنجاب حکومت تو درکنار ان غریبوں کے پاس مقامی ایم پی اے ، ایم این اے تک نہ ائے ھیں ۔ مزید جاری ھے

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    کمراٹ میں پھنسے سیاحوں کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹر نے ریسکیو کر لیا ہے

    سیلاب سے متاثرہ آخری آدمی کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، آرمی چیف

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    اس دوران چیف لغاری قبیلہ پاکستان سابق سینیٹر سردار محمد جمال خان لغاری ، سردار عمار اویس لغاری ، سید عبدالعلیم شاہ ، ثانیہ عاشق ،نے بھی سیلاب زدگان سے اظہارِ ھمدردی کیا اور اشیاء خورد و نوش تقسیم کیں ۔

    راجن پور خطاب کرتے ہوئے مریم نواز سٹیج پر لڑکھڑا گئیں،مقامی قیادت کا کہنا ہے کہ مریم نواز سٹیج سے گرنے کے بعد خود اٹھ گئی اور بولیں کوئی بات نہیں,

  • عمران خان کے تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر افسوس ہوا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کے تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر افسوس ہوا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کی سماعت کی

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان عدالتی حکم پر ذاتی حیثیت میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے . اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ماتحت عدلیہ بہت مشکل حالات میں کام کر رہی ہے عام آدمی کو 70سال میں بھی ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ تک رسائی نہیں، ضلعی عدالت عام آدمی کی عدالت ہے عمران خان کے تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر افسوس ہوا، ضلعی عدالت عام آدمی کی عدالت ہے ،جس حالت میں ماتحت عدلیہ کام کر رہی ہے انکا اعتماد بڑھانے کیلئے اس عدالت نے بہت کام کیا،عدالت کو توقع تھی کہ آپ اس عدالت میں پیش ہونے سے پہلے وہاں سے ہو کر آتے،جس طرح گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا زبان سے کہی ہوئی بات واپس نہیں آتی ،جبری گمشدگیاں بد ترین ٹارچر ہے ،بلوچ طلبہ کے ساتھ جو ہوا وہ بھی ٹارچر ہے تین سال سے ہم ان معاملہ کو وفاقی حکومت کو بھجوا رہے ہیں لیکن ٹارچر کے معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا گیا، آپ کا جواب اس بات کا عکاس ہے کہ جو ہوا اس کا آپ کو احساس تک نہیں آپ کے موکل کو احساس نہیں کہ انہوں نے کیا کہا کاش اپنے دور حکومت میں اس ٹارچر کے مسئلے کو اس جذبے سے اٹھاتے،اگر تب یہ مسئلہ سنجیدگی سے دیکھا گیا ہوتا تو آج نہ ٹارچر کا مسئلہ ہوتا نہ بلوچ طلبہ کا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس عدالت کے معاون ہیں، خود کو کسی کا وکیل نہ سمجھیں ،عدالت نے وکیل سلمان صفدر کو شہباز گل کیس کا فیصلہ پڑھنے کی ہدایت کر دی،شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر نے کیس کا عدالتی فیصلہ پڑھ کر سنایا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل ٹارچر کیس پر اسلام آبادہائیکورٹ نے حکم جاری کیا،ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ میں عمران خان کے سارے بیانات ریکارڈ پر لے آتا ہوں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اڈیالہ جیل کس کے ایڈمنسٹریٹو کنٹرول میں ہے؟ ٹارچر کی ذرا سی بھی شکایت ہو تو کیا جیل حکام ملزم کو بغیر میڈیکل داخل کرتے ہیں؟ یہ پٹیشن اسلام آباد ہائی کورٹ سے کب نمٹائی گئی اور تقریر کب کی گئی؟ وکیل نے کہا کہ پٹیشن 22 اگست کو نمٹائی گئی اور تقریر 20 اگست کو کی گئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا تھا تو تقریر کی گئی؟ اڈیالہ جیل کس کے انتظامی کنٹرول میں ہے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے کیس ریمانڈ بیک کیا تھا، کیا عمران خان کے اس وقت دیئے گئے بیان کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟یہ عدالت تنقید کو خوش آمدید کہتی ہے فیصلوں پر جتنی تنقید کرنی ہے کریں، اس عدالت کو رات 12بجے کھلنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہم تو ہمیشہ سے ہی انصاف کی فراہمی کے لیے موجود تھے ،ماتحت عدلیہ کے ججز کوئی ایکس اور وائے نہیں یہ وہ عدالت ہے جو صرف قانون پر چلتی ہے اس کے تمام ججز غیر جانبدار ہیں، عدالت نے آرڈیننس کالعدم قرار دیا اگر آج وہ ہوتا تو گرفتاریاں بھی ہوتیں ضمانت بھی نہ ہوتی، سیاسی لیڈرز کی اس وقت کے بیانات آپ دیکھ لیں یہ عدالت کیوں بارہ بجے کھلی ؟ سوال اٹھانا آپ کا حق ہے،یہ عدالت کمزور کے لیے بھی چھٹی کے روز 24 گھنٹے کھلی رہی ہے ،انہوں نے اچھے انداز میں گلہ کیا کاش اسی انداز میں ماتحت عدلیہ کے جج کو ایڈریس کرتے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی لیڈر کی بہت حیثیت ہوتی ہے ہر وقت بہت اہم ہوتا ہے،اس عدالت کے کسی جج کو کوئی زیراثر نہیں کر سکتا ،آج موقع ہے تو بتا دیتے ہیں کہ عدالت رات کو کیوں کھلی تھی؟ اس عدالت کے ذہن میں تھا کہ جو 12 اکتوبر کو ہوا وہ دوبارہ نہ ہو،یہاں کوئی اگر ایک لاکھ آدمی بھی لے آئے تو اس عدالت پر اثر نہیں ہوتا،میری سپریم کورٹ کے ایک جج کے ساتھ فوٹو تھی جسے ایک سیاسی جماعت کا عہدیدار بنا کر وائرل کیا گیا، مجھے ایک فلیٹ کا مالک بھی بنا دیا گیا، ہمارے ادارے نے بھی بہت غلطیاں کی ہیں جن پر تنقید کو ویلکم کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر ججز کی تصاویر لگا کر الزامات لگائے جاتے ہیں، سیاسی جماعتیں اپنے فالوورز کو منع نہیں کرتی، طلال چودھری ، دانیال عزیز اور نہال ہاشمی کا کیس بھی عدالت کے سامنے ہے ،آزادی رائے کا غلط استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، آپ نے جو جواب جمع کرایا وہ عمران خان جیسے لیڈر کے رتبے کے مطابق نہیں ،حامد خان نے کہا کہ میں نے درخواست کے قابل سماعت نہ ہونے کا نکتہ بھی اٹھایا ہے، اس کے علاوہ بھی باتیں کی ہیں، جواب کا صفحہ نمبر 10 ملاحظہ کریں،عمران خان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ جوڈیشل افسر کے بارے میں یہ کہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنے فالوورز کو منع نہیں کرتیں ،

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے وکیل کو دوبارہ جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام عدالتی کارروائی کو شفاف رکھیں گے،توہین عدالت کیسز پر سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل لازم ہے،تحریری جواب دوبارہ جمع کرائیں ورنہ ہم کارروائی آگے بڑھائیں گے، طلال چودھری، نہال ہاشمی اور دانیال عزیز کیسزمیں فیصلوں کو سامنے رکھتے ہوئے جواب دیں، پھر کہہ رہا ہوں کہ اس معاملے کی حساسیت کو سمجھنے کی کوشش کریں،

    جسٹس میان گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ یہ کارروائی آج ہی ختم ہو سکتی تھی لیکن آپکے جواب سے یہ ختم نہیں ہو گی،آج تو کارروائی آگے بڑھائی جانی چاہیے تھی چیف جسٹس آپکو ایک اور موقع دے رہے ہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں تبدیلی تب آئے گی جب آئین سپریم ہو گا،اس ملک میں اصل تبدیلی تب آئے گی جب سول سپرمیسی ہو گی،عدالت معاون مقرر کرنا چاہتی ہے تاکہ کارروائی شفاف رہے، بتائیں کیسے کیا جائے ،اس ملک میں تبدیلی تب آئے گی جب تمام ادارے اپنا کام آئین کے مطابق کریں،

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو 7 دن میں دوبارہ تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا خاتون جج کو دھمکی ،اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت 8ستمبرتک ملتوی کر دی گئی،منیر اے ملک ، مخدوم علی خان اور پاکستان بار کونسل عدالتی معاون مقرر کر دیئے گئے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی ریکارڈ سے پتہ چلے گا کہ ہم ایسے معاملات کو ایگزیگٹوز کو بھیجتے رہے ہیں کسی نے سنجیدہ نہیں لیا ،پچھلے تین سال میں ایک کیس کی بھی تحقیقات نہیں ہوسکی ،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہماری عدلیہ 130 نمبر پر ہے، فواد چودھری کے ساتھ میٹنگ میں انہیں بتایا کہ یہ چیف ایگزیکٹو کی غفلت کا معاملہ ہے،یہ وقت ہے ہم ایک پاکستان کی تعمیر نو کریں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس کی کاپیاں معاونین کو آج ہی بھیجی جائیں پیکا آرڈیننس اگر معطل نہ ہوتا تو آج آدھا پاکستان جیل میں ہوتا ،قانون سے بالاتر کوئی نہیں

    قبل ازیں عدالت پییشی کے موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ راستے بند کرانے کی سمجھ نہیں آئی اتنا خوف کیوں ہے ہم نے ورکرز کو بھی کہا کہ کسی نے بھی نہیں آنا ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ سے روانہ ہو گئے

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ