Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • 700 سیاح اب بھی کالام میں پھنسے ہوئے ہیں،حکام کی وزیراعظم کو دورہ کے پی پر بریفنگ

    700 سیاح اب بھی کالام میں پھنسے ہوئے ہیں،حکام کی وزیراعظم کو دورہ کے پی پر بریفنگ

    وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف آج بروز بدھ 31 اگست کو خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے دورے پر کالام پہنچ گئے، جہاں حکام نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ مزید 700 سیاح کالام میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    خیبر پختونخوا آمد پر وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کالام میں سیلاب سے متاثرہ افراد اور کالام میں پھنسے سیاحوں سے ملاقات کی۔وزیر اعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرین کو بھرپور مدد کی یقین دہانی کروائی۔

    کالام میں موجود متاثرہ خواتین نے وزیر اعظم شہباز شریف سے شکوے بھی کیے۔ وزیر اعظم نے کالام پہنچتے ہی ہیلی کاپٹر کے ذریعے کالام میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کا کام شروع کر دیا گیا ۔ وزیراعظم نے ریسکیو آپریشن مزید تیز کرنے کی ہدایت کردی۔وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ متاثرین فکر نہ کریں ،ہم بھر پور اقدامات کررہےہیں۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آپ لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، حکومت سارے مسائل حل کرنے گی۔ وزیراعظم نے حکام اور دیگر انتظامیہ کو ریلیف کاموں میں تیزی لانے اور لوگوں کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی بھی ہدایت کی۔

    وزیر اعظم نے کالام پہنچتے ہی ہیلی کاپٹر کے ذریعے کالام میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کا کام شروع کر دیا گیا ۔ وزیراعظم نے ریسکیو آپریشن مزید تیز کرنے کی ہدایت کردی۔ دورے کے دوران انجینیر امیر مقام بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امدادی کاموں، فنڈز کی منتقلی، متاثرین کی بحالی اور امداد کے کاموں کی خود نگرانی کروں گا۔
    انہوں نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے تباہی ہوئی کیونکہ لوگوں نے دریا کے اوپر اور اندر تعمیرات کر رکھی تھیں۔ آرمی چیف نے سیاحوں کو منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹرز فراہم کیے ہیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دریا بپھر گئے اور سندھ میں دیہات مکمل تباہ جبکہ فصلیں متاثر ہوئیں۔ 7 لاکھ جانور پانی میں ڈوب گئے اور لاکھوں متاثرین کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے، صوبائی حکومتوں اور افواج پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر داد دیتا ہوں۔ سیلاب اور بارشوں سے بہت زیادہ تباہی بڑی ہے۔ وفاقی حکومت نے این ڈی ایم اے اور بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 28 ارب روپے جاری کیے ہیں۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ سیلاب متاثرہ فی خاندان کو 25 ہزار روپے دیئے جائیں گے۔

    حکام کی بریفنگ

    کے پی میں موجود پاک فوج کی جانب سے وزیراعظم کو ریلیف آپریشن پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس وقت 7 ہیلی کاپٹرز کے ذریعے پھسنے ہوئے اور متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، 6 پاکستان آرمی اور ایک سول ہیلی کاپٹر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہے۔ کالام میں تیز بارشوں کے باعث 165گھر تباہ ہوئے۔

    بریفنگ کے دوران وزیراعظم نے سڑکوں کی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کا ٹاسک فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے حوالے کردیا۔ کانجو آمد پر وزیراعظم کو بتایا گیا کہ سیلاب سے پلوں، شاہراہوں، ہوٹلوں اور گھروں کو نقصان پہنچا۔ حکام نے یہ بھی بتایا کہ کانجو میں سیلاب سے22افراد جاں بحق ہوئے، زیر آب زمین اور راستوں کی بحالی کیلئے بھاری مشینری کے ذریعے شاہراہوں کی بحالی کا کام جاری ہے۔

    دوسری جانب ن لیگی رہنما مریم نواز شریف بھی آج راجن پور اور جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گی۔ مریم نواز امدادی دورے میں متاثرین سے ملاقات بھی کریں گی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے منگل 30 اگست کو سوات کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کمراٹ اور کالام سے آرمی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ریسکیو کیے گئے افراد سے ملاقات کی۔ اس موقع پر بچوں، خواتین اور بزرگ افراد نے محفوظ انخلا پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے کالام، بحرین، خوازہ خیلہ اور مٹہ میں سیلابی صورت حال کا فضائی جائزہ لیا، انہوں نے آرمی دستوں کی فضائی نگرانی بھی کی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ریسکیو سرگرمیوں میں کور کمانڈر پشاور کے کام کو سراہا۔

    کانجو کینٹ ہیلی پیڈ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہناتھا کہ سیلاب کے شدید نقصانات کا درست اندازہ لگانا ابھی باقی ہے، نقصانات کا اندازہ لگانے کیلئے سروے ضلعی انتظامیہ، صوبائی حکومتیں اور فوج مل کر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2010 میں بھی یہاں ایسی ہی تباہی ہوئی تھی، انہی جگہوں پر دوبارہ تعمیرات کی اجازت دے کر غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔

    آرمی چیف نے کہاکہ کالام میں کافی نقصان ہوا ہے، بہت سے ہوٹل اور پل تباہ ہوئے ہیں، اس وقت سب سے ضروری کالام روڈ کو کھولنا ہے، امید ہے کہ چھ سے سات روز میں سڑک کھول دیں گے۔ کالام میں پھنسے لوگوں کو نکال رہے ہیں، اب وہاں بحرانی صورت حال نہیں ہے۔

  • پاک فوج کا ریلیف آپریشن،ہیلی کاپٹر کی 140 پروازیں، 550 سے زائد پھنسے ہوئے افراد کو نکالا گیا

    پاک فوج کا ریلیف آپریشن،ہیلی کاپٹر کی 140 پروازیں، 550 سے زائد پھنسے ہوئے افراد کو نکالا گیا

    پاک فوج کا ریلیف آپریشن ،ہیلی کاپٹر کی 140 پروازیں، 550 سے زائد پھنسے ہوئے افراد کو نکالا گیا
    ملک بھرمیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کا ریلیف آپریشن جاری ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملک بھرمیں ریلیف آپریشن کے لیے ہیلی کاپٹر کی 140 پروازیں چلائی گئیں، سیلاب سے متاثرہ مختلف علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے 550 سے زائد پھنسے ہوئے افراد کو نکالا گیا، فوج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران راشن اور امدادی سامان پہنچایا گیا،گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران سیلاب متاثرین میں 6140 راشن کے پیکٹ اور 325 خیمے کی تقسیم کی مختلف میڈیکل کیمپوں میں 5ہزار 213مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے ،

    سیلاب سے متاثرہ تمام علاقوں میں پاک فوج کا ریلیف آپریشن جاری ہے، پاک فوج بلوچستان بھر میں اپنی بساط سے بڑھ کر دن رات لوگوں کی جانیں بچانے میں مصروف ہےپاکستان آرمی اور ایف سی بلوچستان سیلاب زدہ علاقوں میں سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر دن رات کام کر رہی ہے اور بلوچستان میں سیلاب میں پھنسے اپنے بلوچی بھائیوں کے ریلیف اور رسکیو آپریشن میں مصروف ہیں

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    کمراٹ میں پھنسے سیاحوں کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹر نے ریسکیو کر لیا ہے

    سیلاب سے متاثرہ آخری آدمی کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، آرمی چیف

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

  • عمران خان کی عدالت میں پیشی، سیکیورٹی پلان تیار کرلیا گیا

    عمران خان کی عدالت میں پیشی، سیکیورٹی پلان تیار کرلیا گیا

    سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے چیئرمین عمران خان کی آج بروز بدھ 31 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر سیکیورٹی پلان بھی ترتیب دیا گیا ہے۔

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ پیشی کے موقع پر تین ایس پیز ، 9اے ایس پیز اور ڈی ایس پیز سیکورٹی پرمعمور ہوں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے گرد ایک ہزار چھوٹی رینک کے افسران اور اہلکار تعینات کئے گئے ہیں سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے ہائیکورٹ کے گرد مانٹرنگ کی جائے گی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے اندر حفاظتی انتظامات کی زمہ داری سیکورٹی ڈویثرن کی ہوگی ، روف ٹاپ کے علاوہ تمام افسران اور اہلکار غیر مسلح ہونگے ،مجموعی طورپر ہائیکورٹ کے باہر سیکورٹی کی ذمہ داری ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر کی ہوگی ، ڈیوٹی پر تعینات کوئی بھی اہلکار موبائل فون کا استعمال نہیں کرینگے ،وائرلیس کا استعمال ڈیوٹی کیلئے ہوگی غیر ضروری استعمال پر محکمانہ کاروائی ہوگی
    ہائیکورٹ کے گرد خار دار تاریں لگا کر بند کیا جائے گا پانچ سو شارٹ رینج اور پانچ سو لانگ رینج آنسو گیس شیل اور شیلنگ والی بکتر بند گاڑی موجود ہوگی پولیس لائنز میں تین ہزار شیل اور گاڑیاں تیار کھڑی ہونگی ہائیکورٹ کے احاطے میں کاز لسٹ والے وکلا کا ہی داخلہ اور تلاشی ہوگی ،

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے توہین عدالت کے شوکاز نوٹس کے جواب میں خاتون جج زیبا چوہدری سے متعلق الفاظ واپس لینے کی پیشکش کی۔

    سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ایڈووکیٹ حامد خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس پر اپنا جواب جمع کرایا۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے خاتون جج کو دھمکانے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اگست کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کے خلاف خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے پر توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل لارجر بینچ نے کی تھی۔

    لارجر بینچ نے اس معاملے پر 3 سے زیادہ ججوں پر مشتمل بینچ تشکیل دینے کے لیے کیس چیف جسٹس کو بھجوا دیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر 26 اگست کو سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس ارسال کیا گیا۔

    ہائی کورٹ کی جانب سے رجسٹرار آفس نے عمران خان کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس ارسال کیا تھا۔

    مقدمے کیلئے درخواست

    سابق وزیر اعظم و چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے الگ درخواست میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمہ خارج کرانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمہ خارج کرانے کے لیے عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔

    عمران خان کا درخواست میں کہنا تھا کہ میرے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ غیر قانونی قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو 1992 میں کرکٹ ورلڈ کپ جتوایا ، اس کے علاوہ دیگر فلاحی منصوبے لگائے۔
    عمران خان کا درخواست میں مزید کہنا تھا کہ بطور وزیر اعظم میں نے امن قائم کیا اور امریکی فوجیوں کا افغانستان سے انخلا یقینی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وبا کے دوران صحتی مراکز کے لیے مؤثر اقدامات کیے۔

    عمران خان نے کیا کہا تھا

    واضح رہے کہ عمران خان نے 20 اگست کو اسلام آباد میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ دینے والی ایڈیشنل جج زیبا چوہدری کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ آپ کے خلاف کارروائی کریں گے۔

    شہباز گل کی گرفتاری اور جسمانی ریمانڈ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ شہباز گل کو جس طرح اٹھایا اور دو دن جو تشدد کیا، اس طرح رکھا جیسا ملک کا کوئی بڑا غدار پکڑا ہو، آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی کو ہم نے نہیں چھوڑنا، ہم نے آپ کے اوپر کیس کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ مجسٹریٹ زیبا صاحبہ آپ بھی تیار ہوجائیں، آپ کے اوپر بھی ہم ایکشن لیں گے، آپ سب کو شرم آنی چاہیے کہ ایک آدمی کو تشدد کیا، کمزور آدمی ملا اسی کو آپ نے یہ کرنا تھا، فضل الرحمٰن سے جان جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز گل کے ساتھ انہوں نے جو کیا، انہوں نے قانون کی بالادستی کی دھجیاں اڑا دیں، آج اپنے وکیلوں سے ملاقات کی ہے، آئی جی، ڈی آئی جی اور ریمانڈ دینے والی اس خاتون مجسٹریٹ پر کیس کریں گے۔

  • سیلاب سےہرطرف تباہی،قوم کوامدادکی ضرورت:عمران خان آگےبڑھیں اورکردارادا کریں:وزیراعظم کی پیشکش

    سیلاب سےہرطرف تباہی،قوم کوامدادکی ضرورت:عمران خان آگےبڑھیں اورکردارادا کریں:وزیراعظم کی پیشکش

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے عمران خان کو سیلاب اور معیشت کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بات چیت کی پیشکش کی ہے۔

    پاکستان میں آنے والے سیلاب کی تباہ کارویوں‌ سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم شہبازشریف نے سابق وزیراعظم عمران خان کی طرف ہاتھ بٹاتے ہوئے کہا ہے کہ قوم بہت مشکل میں ہے اورمیں امید کرتا ہوں کہ عمران خان آگے آئیں اورسیلاب متاثرین کی مدد اور ان کی بحالی کےلیے اپنا کردار ادا کریں ،

    بنگلادیش کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سامان بھیجنے کا اعلان

    شہبازشریف نے کہا کہ وہ ملک کو مشکل صورتحال سے نکالنے کے لیے مل بیٹھیں۔ میں نے پارلیمان میں تقریر کے دوران چارٹر آف ڈیموکریسی کا ایک مخلص پروپروزل دیا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ ہمیں بیٹھ کر بات کرنی چاہیے کیونکہ حکومت تو آنی جانی ہے، مگر یہ قدم یہیں رہے گا۔ مگر یہ ایک کڑوا تجربہ تھا کہ ان کی یہ پیشکش غیرسنجیدگی سے لیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ آج ایک بار پھر وہ اپنی ساکھ کو داو پر لگاتے ہوئے یہی پیشکش کرتے ہیں۔آج بھی میں پیشکش کرتا ہوں کہ آئیں بیٹھیں اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک قومی انٹیگریٹی سے کام کریں۔ اورپھر دیکھیں کہ پاکستان کو اس مشکل سے متحد ہو کر نکالیں۔ آگے بڑھنے کا یہی راستہ ہے۔

    اس سے پہلے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سیلاب کی تباہ کاریوں سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے، ریلیف اور ریسکیو کیلئے عالمی برادری سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کو خوراک، ادویات، پانی اور دیگر اشیاء کی فوری ضرورت ہے، حالیہ سیلاب ملکی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ہے، ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، لوگوں کے گھر اور کھڑی فصلیں بہہ گئی ہیں، 3500 کلومیٹر سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا ہے، حکومت ریلیف اور ریسکیو کیلئے محدود وسائل کے باوجود بھرپور اقدامات کر رہی ہے، متاثرین کی مدد کیلئے جمع شدہ رقم کی پائی پائی شفافیت سے خرچ ہو گی، آخری متاثرہ شخص کی بحالی تک اقدامات جاری رکھیں گے۔ عالمی برادری کو ہمارے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے، جوامداد ہمیں موصول ہورہی ہے اور جتنی کی ہمیں ضرورت ہے اس میں بہت زیادہ فرق ہے، ہمیں عالمی برادری سے زیادہ امداد کی ضرورت ہے۔

    سیلابی صورتحال پر بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو 2010ء میں بھی سیلاب کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم حالیہ سیلاب ملکی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ہے، 2010ء کے سیلاب میں عالمی برادری کی طرف سے بھرپور مدد کی گئی، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے دوروں سے سیلاب کی تباہی کا اندازہ ہوا، یہ سیلابی تباہی موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک نتیجہ ہے جس سے پاکستان بھی متاثر ہو رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سیلاب سے لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں، 300 بچوں سمیت ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہیں، کھڑی فصلیں مکمل تباہ ہو گئی ہیں، سندھ میں کھجور، کپاس اور چاول کی فصل ختم ہو گئی ہے، یہی صورتحال بلوچستان میں بھی ہے، سیلاب سے متاثرہ افراد کو خوراک، پانی اور دیگر اشیاء کی فوری ضرورت ہے، وفاقی حکومت، صوبائی حکومتیں، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز اور مسلح افواج سیلاب سے متاثرہ افراد کی بھرپور مدد کر رہے ہیں تاکہ انہیں ریسکیو اور ریلیف مل سکے، ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، سیلاب متاثرین کے ریسکیو کیلئے ہیلی کاپٹرز اور کشتیوں کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ سیلابی صورتحال انتہائی تباہ کن ہے، سیلاب کے باعث گھمبیر صورتحال کے معیشت پر بھی اثرات مرتب ہوں گے، تباہ کن سیلاب سے 3 ہزار 5 سو کلومیٹر سڑکیں تباہ، سینکڑوں پل، فلائی اوورز اور انڈر پاسز بہہ گئے ہیں، کوئٹہ سمیت کئی شہروں میں بجلی کی سہولت بھی معطل ہو گئی، متاثرین کی مدد کیلئے وزراء اور سیکرٹریز متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں، سکھر اور دیگر علاقوں میں بھی مواصلاتی ذرائع بند ہو گئے جنہیں بحال کیا جا رہا ہے، محدود وسائل کے باوجود ریلیف اور ریسکیو کیلئے تمام تر اقدامات کئے جا رہے ہیں، اس وقت ہمیں جس صورتحال کا سامنا ہے ایسی صورتحال اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھی، ریسکیو اور ریلیف کے بعد بحالی کا کام شروع ہو گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب متاثرین کو ہنگامی بنیادوں پر اشیاء خوردونوش، ادویات اور خیمے مہیا کئے جا رہے ہیں، دنیا بھر میں اپنے دوستوں سے بھی تعاون کی اپیل کی ہے جس کا انہوں نے مثبت جواب دیا ہے اور چارٹرڈ طیارے امدادی سامان لے کر کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں پہنچ رہے ہیں، کچھ ملکوں نے ٹرین کے ذریعے بھی امدادی سامان بھجوانا شروع کر دیا ہے، اس سلسلہ میں استنبول سے تہران کے راستے امدادی سامان لے کر ٹرین پہنچ رہی ہے، دیگر ممالک مالی امداد اور سامان فراہم کر رہے ہیں۔ میڈیا کی جانب سے سیلاب کی منظر کشی سے امداد شروع ہوئی، بین الاقوامی برادری پاکستان کی مدد کر رہی ہے، سیلابی صورتحال میں بروقت رسپانس پر عالمی برادری کے مشکور ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور مسلح افواج کی کوششوں سے درجنوں ہیلی کاپٹرز اور کشتیوں کے ذریعے بچوں، خواتین اور دیگر متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور آخری متاثرہ شخص کی آباد کاری تک ہمارے اقدامات جاری رہیں گے۔ ہم نے باہمی مشاورت سے مربوط ریلیف سرگرمیوں کیلئے نیشنل فلڈ رسپانس سنٹر قائم کر دیا ہے جو پی ڈی ایم ایز، ریسکیو اور ریلیف کے اقدامات کو مربوط بنانے اور امداد دینے والے ملکی و غیر ملکی اداروںکے ساتھ رابطہ برقرار رکھے گا۔ متاثرین کی مدد کیلئے جمع ہونے والی رقم کی پائی پائی شفافیت کے ساتھ خرچ کی جائے گی اور امدادی رقم مستحقین تک پہنچے گی، ہم ترقیاتی فنڈز کا رخ بھی بحالی کی سرگرمیوں کی طرف موڑیں گے، عالمی برادری، ترقی یافتہ ممالک اور بین الاقوامی ادارے اس مشکل گھری میں قومی تعمیر کے عمل میں ہماری مدد کریں۔

    اُدھر

  • بنگلادیش کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سامان بھیجنے کا اعلان

    بنگلادیش کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سامان بھیجنے کا اعلان

    ڈھاکہ :پاکستان میں سیلاب متاثرین کی کیفیت دیکھ کربنگلا دیش نے بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سامان بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

    بنگلادیشی میڈیا کے مطابق بنگلا دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کا کہنا ہے کہ بنگلا دیش پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے امداد بھیجے گا، پاکستان کے لیے کھانے اور دیگر سامان بھیجنے کا بندوبست کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، سیلاب متاثرین کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے جو ہم ادا کریں گے۔

    دوسری جانب پاکستان کیلئے مختلف ممالک سے مالی اور دیگر امداد کا سلسلہ شروع ہوگیا اور امریکا نے 3 کروڑ ڈالرز کی امداد کا اعلان کیا ہے جو یو ایس ایڈ کے تحت فراہم کی جائے گی۔

    آسٹریلیا نے سیلاب کی تباہ کاریوں سے نبرد آزما متاثرین کی مدد کیلئے عالمی خوراک پروگرام کے ذریعے 2 ملین ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    جرمنی پاکستان کے 60 ہزار سیلاب متاثرین کیلئے کھانے پینے کی اشیا اور حفظان صحت کی کٹس فراہم کر رہا ہے۔

  • مشکل وقت میں پاکستان کی ہر ممکن مدد کریں گے، صدرمتحدہ عرب امارات شیخ محمد بن زاید

    مشکل وقت میں پاکستان کی ہر ممکن مدد کریں گے، صدرمتحدہ عرب امارات شیخ محمد بن زاید

    وزیراعظم شہبازشریف سے متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید نے ٹیلی فونک رابطہ کیا.

    وزیر اعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو پاکستان میں سیلاب کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا، جس سے تقریباً 33 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں، 1162 کے قریب ہلاک اور 3554 زخمی ہوئے ہیں۔

    وزیر اعظم نے ایک بار پھر متحدہ عرب امارات کی طرف سے فراہم کی جانے والی سیلاب متاثرین کیلئے بروقت امداد اور تعاون پر شکریہ ادا کیا اور امارات ہلال احمر اور خلیفہ بن زاید فاؤنڈیشن کی جانب سے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی تعریف کی۔

    عزت مآب شیخ محمد بن زاید نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پاکستانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور اس مشکل وقت میں متاثرین کی ہر ممکن مدد کی پیشکش کی۔

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات ہیں، جو دہائیوں پر محیط ، باہمی اعتماد اور افہام و تفہیم اور قریبی تعاون پر مشتمل ہیں۔ یہ مشترکہ تعلقات دلچسپی کے تمام شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون سے پر مبنی ہیں۔

    علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر مخیّر حضرات نے سیلاب زدگان کیلئے 2 کروڑ روپے امداد دے دی ہے جبکہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ سیلاب میں گھرے مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنا عبادت سے کم نہیں، ملک میں لاکھوں افراد اس وقت بے گھر ہیں، فوری ریسکیو اور امداد کے بعد بنیادی ڈھانچے کی بحالی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں ایوان صنعت و تجارت اسلام آباد کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے وزیراعظم سے یہاں ملاقات کی۔

    ملاقات کرنے والوں میں صدر ایوان صنعت و تجارت اسلام آباد شکیل منیر، جمشید اختر شیخ، محمد فہیم خان، میاں شوکت مسعود، احسن بختاوری، زبیر احمد ملک، طارق صادق، عامر وحید، اظہر الاسلام، چوہدری جاوید اقبال، رانا قیصر، اختر حسین، حنیف عباسی اور دیگر شامل تھے۔ ملاقات میں شرکاء نے وزیرِاعظم کو سیلاب متاثرین کیلئے ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو اور ریلیف کی کارروائیوں پر خراجِ تحسین پیش کیا اور حکومت کے اقدامات کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ جو لوگ متاثرین کی مدد میں پیش پیش ہیں وہ انصار مدینہ کی سنت پر عمل کرکے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کر رہے ہیں، میری قوم سے اپیل ہے کہ ان مخیّر حضرات کی طرح بڑھ چڑھ کر سیلاب متاثرین کی مدد میں اپنا حصہ ملائیں، حالیہ سیلاب پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ہے۔

    وزیرِاعظم نے کہا کہ ملک بھر میں لاکھوں لوگ اس وقت سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہیں، گیارہ سو سے زائد لوگ جاں بحق اور 15 سو سے زائد لوگ زخمی ہیں، حکومت ترجیحی بنیادوں پر لوگوں کو ریسکیو کر رہی ہے، حکومت نے فوری طور پر سیلاب متاثرین کو 25 ہزار روپے نقد فراہم کرنا شروع کیا ہے، حکومت سیلاب متاثرین کو راشن، صاف پانی، خیمے اور مچھر دانیاں فراہم کر رہی ہے، دوست ممالک اور بین الاقوامی اداروں و تنظیموں کے شکر گزار ہیں کہ وہ سیلاب سے متاثرہ پاکستانیوں کی مدد کیلئے آگے بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ فوری ریسکیو اور امداد کے بعد لوگوں اور انفرا سٹرکچر کی بحالی ایک بڑا چیلینج ہے، حکومت سیلاب متاثرین کی مدد و بحالی کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے، مصیبت میں گھرے ہم وطنوں کی مدد ہم سب پاکستانیوں کا فرض ہے، میں سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے مالی امداد فراہم کرنے والے مخیّر حضرات کا مشکور ہوں.

  • پہلے بھی تباہی ہوئی،تعمیرات کی اجازت دیکر غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، آرمی چیف

    پہلے بھی تباہی ہوئی،تعمیرات کی اجازت دیکر غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو کینٹ ہیلی پیڈ پر میڈیا کے نمائندوں سے مختصر گفتگو کی ہے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ کالام میں پھنسے لوگوں کو نکال رہے ہیں کالام میں اب بحران کی صورتحال نہیں ہے،سیلاب زدگان کی مدد کیلئے اپیل پر اچھا رسپانس ہے، سیلاب کے نقصانات کا جائزہ لینا ابھی باقی ہے، این سی اوسی کی طرز پر ہیڈ کوارٹر بنارہے ہیں، امداد کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا،سندھ اور بلوچستان میں خیموں کی زیادہ ضرورت ہے،کالام میں کافی نقصان ہوا ہے،ہوٹل اور پل تباہ ہوئے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا مزید کہنا تھا کہ پل اور ہوٹل بہت تباہ ہوئے ہیں دو ہزار دس کے سیلاب میں بھی یہاں ایسی ہی تباہی ہوئی اور دوبارہ انہیں جگہوں پر تعمیرات کر نے کی اجازت دے کر غفلت کا مظاہرہ کیا گیا ذمے داران کے خلاف قانونی کاروائی ہونی چایے،اس وقت سب سے ضروری کالام روڈ کا کھولنا ہے، امید ہے 6سے 7 دنوں میں روڈ کو کھول دیں گے، کالام میں پھنسے لوگوں کو نکال رہے ہیں کالام میں اب بحران کی صورت حال نہیں ہے، سیلاب زدگان کی امداد کے لیے اپیل پر بہت اچھا رسپانس ہے، اس وقت مختلف فلاحی اداروں ،سیاسی جماعتوں اور افواج پاکستان نے اپنےریلیف سنٹر کھولے ہوئے ہیں،این سی او سی کی طرز پہ ہیڈ کوارٹر بنایا گیا ہے جہاں امداد کا ڈیٹا اکھٹا ہو گا، ہیڈ کوارٹر سے وزیر منصوبہ بندی امداد ادھر بھجوائیں گے جہاں ضرورت ہو گی، لوگوں کا ریسپانس بہت اچھا آرہا ہے، کئی کئی ٹن راشن اکٹھا ہو رہا ہے، راشن کا نہیں، خیموں کا مسئلہ ہو گا،بیرون ملک سے ٹینٹس منگوانے کی کوشس کر رہے ہیں،فوج کی طرف سے بھی خیمے فراہم کیے جارہے ہیں،سندھ اور بلوچستان میں خیموں کی زیادہ ضرورت ہے،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا مزید کہنا تھا کہ یو اے ای، ترکی اور چین سے امدادی سامان کی پروازیں آنا شروع ہو گئی ہیں، سعودی عرب اور قطر سے بھی پروازیں آنا شروع ہو جائیں گی؛ پیسے بھی آئیں گے، دوست ممالک نے پاکستان کو مصیبت میں کبھی اکیلا نہیں چھوڑا، انشا اللہ آئندہ بھی نہیں چھوڑیں گے،پاکستانیوں، خصوصا” بیرون ملک پاکستانیوں کا رسپانس بہت اچھا ہے، ہمیں متاثرین کو گھر بنا کر دینے پڑیں گے،ہم انشااللہ متاثرین کو پری فیب گھر بنا کر دیں گے، یہاں پر اتنا مسئلہ نہیں شیادہ مسئلہ سندھ میں ہے جہاں چار چار فٹ پانی کھڑا ہے،مسئلہ بلوچستان کا ہے جہاں پورے کے پورے گاوں صفحہ ہستی سے مٹ چکے،

    سیلاب متاثرین کی مدد میں متحدہ عرب امارات کا مثالی کردار

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    کمراٹ میں پھنسے سیاحوں کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹر نے ریسکیو کر لیا ہے

    سیلاب سے متاثرہ آخری آدمی کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، آرمی چیف

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

  • سیلاب کی تباہ کاریاں جاری،جاں بحق ہونے والوں کی تعداد1100 سے تجاوز

    سیلاب کی تباہ کاریاں جاری،جاں بحق ہونے والوں کی تعداد1100 سے تجاوز

    سیلاب کی تباہ کاریاں جاری،جاںبحق ہونے والوں کی تعداد1100 سے تجاوز، خیبر پختون خوا اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 75 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ڈیرہ غازی خان، لیہ اور راجن پور میں مزید سیلاب کا خدشہ ہے۔ارسا حکام
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ارسا نے ڈیرہ غازی خان، لیہ اور راجن پور میں مزید سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کی جانب سے دریاں اور بیراجز میں پانی کے بہا اور سیلابی صورتحال سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں جس کے مطابق دریائے کابل میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب تاہم پانی کا بہا ئوکم ہے۔انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تونسہ بیراج میں بہائو مزید بڑھ گیا اور دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔جب کہ گدو اور سکھر بیراجز پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    دوسری طرف این ڈی ایم ایکی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق سیلابی ریلوں میں پھنسے اور مختلف علاقوں سے ریسکیو کیے گئے افراد کی تعداد 51 ہزار 275 ہوگئی ہے جس میں سے 1634 افراد زخمی ہیں۔رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے دوران اب تک 162 پلوں کو نقصان پہنچا ہے، 72 اضلاع بری طرح متاثر ہوئے جب کہ 10 لاکھ 51 ہزار سے زائد مکانات ملیامیٹ ہوگئے اور مجبوعی طور پر 3 کروڑ 30 لاکھ 46 ہزار سے زائد افراد براہ راست سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، سیلاب اور بارشوں کے باعث مرنے والے موشیوں کی تعداد 7 لاکھ 35 ہزار سے زائد ہے۔

  • پاکستان گلوبل وارمنگ کی وجہ سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے. وزیرخارجہ

    پاکستان گلوبل وارمنگ کی وجہ سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے. وزیرخارجہ

    اسلام آباد میں تقریب سے خطاب میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان گلوبل وارمنگ کی وجہ سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے، پاکستان کو عالمی برادری کی مدد کی فوری ضرورت ہے۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو

    اسلام آباد میں دفتر خارجہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں کلاؤڈ برسٹ اور طوفانی بارشوں سے زیادہ سیلابی صورت حال پیش آئی۔ سیلاب زدہ علاقوں میں بحالی اور تعمیر نو کی ضرورت ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان میں ہیٹ ویو نے ریکارڈ توڑ دیے۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان کو شدید بارشوں اور سیلاب کا سامنا ہے، 72 اضلاع میں 3 کروڑ افراد کو سیلاب کی صورتحال کا سامنا ہے۔ سیلاب متاثرین کی کھانے پینے کی اشیاء تک رسائی مشکل ہورہی ہے، امداد پر دوست ملکوں اور عالمی برادری کے شکر گزار ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ٹینٹس اور مچھر دانیوں کی فوری ضرورت ہے۔

    احسن اقبال

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار سال ملک کی تباہی کے تھے، سیلاب پروٹیکشن پروگرام پر ایک روپیہ خرچ نہیں کیا گیا، ہر شعبے کی کارکردگی صفر بٹا صفر ہے۔ ان بارشوں اور سیلاب سے معیشت بری طرح متاثر ہوئی اور ابتدائی تخمینے کے مطابق پاکستان کو تقریباً 10ارب ڈالر سے زیادہ بحالی کے درکار ہو گا اور مختلف شعبوں میں جو نقصان ہوا ہے ہمیں اس کو پورا کرنے کے لیے بڑا سرمایہ درکار ہو گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز اخراجات میں کٹوتی اور سیلاب زدگان کو زیادہ سے زیادہ سامان کی فراہمی کے لیے پرعزم ہیں، ہم پاکستان کے ترقیاتی بجٹ کا بھی جائزہ لے رہے ہیں اور اس میں سے بھی جو بچت کر کے فنڈز کو لوگوں کی بحالی اور متاثرہ علاقوں کی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یہ بہت بڑا چیلنج ہے جس کا مقابلہ پوری قوم نے مل کر کرنا ہے اور عوام سے اپیل کی کہ وہ امدادی کارروائیوں میں بڑی چڑھ کر حصہ لیں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے عمل میں کریں۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ وقت پاکستان کی کاروباری برادری اور صاحب ثروت افراد دل کھول کر حصہ لیں، اسی طرح سمندر پار پاکستانیوں کے لیے موقع ہے کہ وہ دل کھول کر عطیات دے سکتے ہیں جبکہ اگر وہ کام کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان کو ہر طرح سہولت دیں، یہ وقت ہے کہ ہم سب کو مل کر پاکستان کو دوبارہ کھڑا کرنا ہے، تباہی بہت بڑی ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 2013 میں جب ہماری حکومت آئی تو پاکستان فلڈ پروٹیکشن پروگرام جاری تھا جس نے 2010 میں آنے والے سیلاب کی روشنی میں 10سالہ سیلاب سے بچاؤ کی منصوبہ بندی کی اور پلان کی منظوری مشترکہ مفادات کونسل نے دی تھی۔

    ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقوام متحدہ (یو این) ہیومینیٹیرین کوآرڈی نیٹر کی پاکستان کے لیے امداد کی کوششیں قابل تعریف ہیں، بارش اور سیلاب سے کپاس کی پچاس فیصد فصل متاثر ہوئی ہے، امید ہے عالمی برادری پاکستان کی مدد کے لیے آگے آئے گی۔

    اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈی نیٹر جولیان ہارنیس

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈی نیٹر جولیان ہارنیس نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے تباہی تصورات سے زیادہ ہے، عالمی برادری موسمیاتی تبدیلی سے متاثر پاکستان کے لیے اظہار یکجہتی کرے۔ جولیان ہارنیس کا کہنا ہے کہ میں نے سیلاب سے متاثر علاقوں کا دورہ کیا ہے، پاکستان میں سیلاب نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا ہے۔

    این ڈی ایم اے

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس سال بہار کا موسم نہیں آیا، گرمی شروع ہوگئی، رواں سال مون سون بارشیں وقت سے پہلے شروع ہوئیں۔ چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز کا کہنا ہے کہ پاکستان کو رواں سال چار ہیٹ ویوز کا سامنا رہا، بعض علاقوں میں بارشوں سے 30 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، قومی سطح پر ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کے 72 اضلاع کو سیلابی صورتحال کا سامنا ہے، پاکستان میں سیلاب سے 10 لاکھ سے زائد گھر متاثر ہوئے، 20 لاکھ ایکڑ زمین اور 3 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔

    سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بذریعہ ویڈیو لنک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے انفرااسٹرکچر تباہ ہوگیا، سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے پاکستان کو امداد کی ضرورت ہے، گرین ہاؤس گیسز عالمی حدت میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں، سیلاب متاثرین کے لیے پاکستان کو 160 ملین ڈالر امداد کی ضرورت ہے۔

  • عمران خان نے دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرانے کیلیے عدالت سے رجوع کرلیا

    عمران خان نے دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرانے کیلیے عدالت سے رجوع کرلیا

    چئیرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنے خلاف درج دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے.

    ایکسپریس نیوز کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنے خلاف درج دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرانے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔
    اپنی درخواست میں عمران خان نے موقف اختیار کیا ہے کہ میرے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ بے بنیاد ہے، اس مقدمے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے خارج کردیا جائے۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل عمران خان کی جانب سے اسلام آباد میں ایک تقریر کی گئی تھی جس پر عمران خان پر اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ افسران کو دھمکیاں دینے کے الزام میں مارگلہ تھانے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب اسلام آباد کی ماتحت عدالت نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی ضمانت منظور کرلی۔ ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد ظفر اقبال نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی ضمانت منظور کی ہے.

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر کی دفعہ 144 کی خلاف ورزی پرمقدمات میں ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ فاضل عدالت نے5 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض 7 ستمبر تک اسد قیصر کی ضمانت منظورکی گئی ہے.

    جبکہ عدالت نے آئندہ سماعت پر پولیس کو ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔

    مقدمات کا پس منظر

    شہباز گِل کی گرفتاری کے خلاف 20 اگست کو عمران خان کی سربراہی میں ریلی نکالی گئی تھی۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے مقدمات قائم کئے گئے تھے۔

    شیخ رشید،سیف اللہ نیازی،علی نواز اعوان، راجا خرم نواز، فیصل جاوید، صداقت عباسی اور شہزاد وسیم پہلے ہی ضمانت کراچکے ہیں۔