Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آرمی چیف سیلاب زدگان کے لیئے سوات پہنچ گئے

    آرمی چیف سیلاب زدگان کے لیئے سوات پہنچ گئے

    افواج پاکستان کے سربراہ قمر جاوید باجوہ آج بروز منگل 30 اگست کو سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کیلئے سوات پہنچ گئے

    پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) ( ISPR ) کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سوات میں اپنے دورے کے دوران کمراٹ، کالام میں جاری پاک افواج کی امدادی سرگرمیوں اور ریلیف آپریشن کا جائزہ لیں گے۔

    آئی ایس پی آر نے مزید کہا ہے کہ: 27 ہیلی کاپٹر پروازوں کے ذریعے سیلاب کی وجہ سے پھنسے 316 افراد کو نکالا گیا ہے۔
    ترجمان کے مطابق 24 گھنٹے کے دوران 23 ٹن سے زائد راشن اور امدادی اشیا متاثرین میں تقسیم کی گئی ہیں، جب کہ اس سے قبل راشن کے 3 ہزار540 پیکٹس، 250 ٹینٹ بھی متاثرین میں تقسیم کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب عسکری ترجمان کی جانب سے آرمی فلڈ ریلیف سے متعلق تفصیلات بھی جاری کردی گئی ہیں۔ جاری اعداد و شمار کے مطابق کوآرڈینیشن سینٹر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کوآرڈینیشن میں مصروف عمل ہے، جہاں تمام فارمیشنز کے تحت امدادی اشیا کی وصولی و تقسیم کیلئے217 کلیکشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔

    کلیکشن پوائنٹس میں اب تک 122.87 ٹن آٹا، دال اور چینی وصول ہوئی ہے، اسلام آباد سے 5.9 ٹن خیمے، لحاف اور ملبوسات بھی جمع کروائے گئے۔ 0.15 ٹن ادویات، شمسی لائٹس، سلیپنگ بیگز بھی جمع کروائے گئے۔

    ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ ترکیہ سے 7 فوجی طیاروں سے امدادی اشیا کراچی پہنچائی جاچکی ہیں، یواے ای سے3 فوجی طیاروں سے امدادی اشیا نور خان ائیر بیس راولپنڈی اور چین سے 2 طیارے 3 ہزار خیمے لے کر آج بروز 30 اگست کو کراچی پہنچیں گے، جب کہ جاپان سے ترپالیں اور شیلٹرز بھی آج کراچی پہنچ جائیں گے۔

    ترجمان کے بیان کے مطابق برطانیہ متاثرین سیلاب کی امداد کیلئے 1.5 ملین پاؤنڈ کا اعلان کر چکا ہے اور آذربائیجان نے بھی سیلاب متاثرین کیلئے 20 لاکھ ڈالر کا اعلان کیا ہے۔

  • قانون ہر ملزم کو ضمانت پر رہائی کی رعایت نہیں دیتا،شہباز گل کیس کا تحریری فیصلہ

    قانون ہر ملزم کو ضمانت پر رہائی کی رعایت نہیں دیتا،شہباز گل کیس کا تحریری فیصلہ

    سیشن کورٹ اسلام آباد بغاو ت مقدمے میں شہبازگل کی ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا

    ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے 8 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ تحریر کیا .فیصلے میں کہا گیاکہ ملزم شہباز گل پارٹی لیڈر ہیں اور متنازعہ بیان کسی اندرونی اجلاس میں نہیں دیا، شہباز گل کا بیان قابل احترام ادارے پاک فوج میں نظم و ضبط خراب کرنے کے لیے کافی ہے،شہباز گل کا بیان عوامی مفاد میں ہے نہ ہی ملکی سالمیت کے حق میں،قانون ہر ملزم کو ضمانت پر رہائی کی رعایت نہیں دیتا، بادی النظر میں شہباز گل ناقابل ضمانت جرم کرنے کے مرتکب ہوئے، ریکارڈ پر شہباز گل کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں،

    اداروں کے خلاف بیان دینے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہباز گِل کی ضمانت مسترد کردی گئی۔

    اسلام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج ظفر اقبال نے بغاوت کے مقدمے میں نامزد شہباز گِل کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی، عدالت نے گزشتہ روز درخواست پر فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    پی ٹی آئی رہنما شہباز گِل پر اداروں میں بغاوت پر اکسانے کا الزام ہے جبکہ وہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

    ایڈیشنل سیشن کورٹ کے جج نے 11 بجے محفوظ فیصلہ سنایا ہے، عدالت نے گزشتہ روز فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاک آرمی کے افسران کیخلاف منظم طریقے سے ملزم نے بات کی اور ان کے الفاظ میں پاک فوج کے خلاف بغاوت کے لیے اکسایا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ ملزم نے پاک فوج کو سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش کی جس سے سپاہی سے لیکر بریگیڈئیر رینک تک افسران کے جذبات مجروح ہوئے، بغاوت پر اکسانے کی کوشش کرنا بھی بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔ شہباز گل کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جس کو بغاوت کہا گیا وہ بغاوت ہے کہاں؟ اگر کوئی غلط فہمی ہے تو شہباز گل معافی مانگنے کیلیے تیار ہیں۔

    شہباز گل کے وکیل نے عدالت میں بغاوت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز گل نے بغاوت کے متعلق کبھی سوچا ہی نہیں۔ ان کے انٹرویو کے ٹرانسکرپٹ کے مختلف جگہوں سے پوائنٹ اٹھا کر مقدمہ درج کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جس کو بغاوت کہا گیا وہ بغاوت ہے کہاں؟شہباز گل پڑھا لکھا شخص ہے۔ انہوں نے فوج کو ہمارے سر کا تاج کہا ہے۔

    وکیل نے شہباز گل کا آفیشل ٹوئیٹر عدالت کو دکھایا۔ انہوں نے کہاکہ شہباز گل نے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ کسی بھی جھوٹی خبر پر یقین نہ کریں۔ٹوئیٹس سے واضح ہے کہ انہوں نے فوج کے خلاف کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا.

    کمرہ عدالت میں تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کے متنازع بیان اور اینکر کے سوال کی ویڈیو بھی چلائی گئی تھی۔

  • عمران خان توہین عدالت کیس کی سماعت سے ایک روز قبل ضابطہ اخلاق جاری

    عمران خان توہین عدالت کیس کی سماعت سے ایک روز قبل ضابطہ اخلاق جاری

    عمران خان توہین عدالت کیس کی سماعت سے ایک روز قبل ضابطہ اخلاق جاری کر دیا گیا، رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت کے دوران ضابطہ اخلاق کا سرکلر جاری کردیا ہے۔

    سرکلر کے مطابق کورٹ روم نمبر ون میں انٹری رجسٹرار آفس کے جاری کردہ پاس سے مشروط ہو گی، پندرہ کورٹ رپورٹرز کو کمرہ عدالت میں موجودگی کی اجازت ہو گی جبکہ ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ بار کے پانچ پانچ وکلاء کو اجازت ہو گی۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کی لیگل ٹیم کے 15 وکلاء کمرہ عدالت میں موجود ہو سکیں گے، جبکہ اٹارنی جنرل آفس اور ایڈوکیٹ جنرل آفس سے 15 لاء افسران کو اجازت ہو گی۔

    سرکل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چیئر مین تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی لیگل ٹیم ، وکلاء باڈیز ، اٹارنی جنرل ، ایڈووکیٹ جنرل آفس آج لسٹیں جمع کرائیں، اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کو بھی 15 صحافیوں کی لسٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، لسٹوں کی فراہمی کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کا رجسٹرار آفس پاس جاری کرے گا۔

    کورٹ ڈیکورم کو برقرار رکھنے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کو سیکورٹی انتظامات کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیںِ جبکہ معمول کے کیسز کی سماعت کو متاثر ہونے سے بچانے کیلئے سماعت کا وقت ڈھائی بجے رکھا گیا۔ پانچ رکنی لارجر بنچ کل دن اڑھائی بجے کیس کی سماعت کرے گا۔

    واضح‌ رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے خاتون جج کو دھمکانے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اگست کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔ تاہم وہ زاتی حثیت میں کل عدالت میں پیش ہوں گے.

    یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کے خلاف خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے پر توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل لارجر بینچ نے کی تھی۔

  • کور کمانڈر راولپنڈی اور کور کمانڈر کراچی کا سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ، آئی ایس پی آر

    کور کمانڈر راولپنڈی اور کور کمانڈر کراچی کا سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ، آئی ایس پی آر

    راولپنڈی :آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا اور کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل سعید احمد نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کوہستان کے دور دراز علاقوں کا دورہ کیا۔

     

     

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران کور کمانڈر نے سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے فوجی جوانوں کے ریلیف آپریشنز کا جائزہ لیا اور مقامی آبادی کی مدد کرنے پر کور کمانڈر نے فوجی جوانوں کی کاوشوں کو سراہا۔

    جاری کردہ پیغام میں آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل سعید احمد نے بھی لاڑکانہ، نوشہرو فیروز، خیرپور، شاہ جیلانی گاؤں اور قمبر شہداد کوٹ کا دورہ کیا۔

    اس دوران کور کمانڈر کو متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔جنرل سعید نے ریلیف کے کام کو سراہا اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد کی ہدایت کی۔

  • نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر قائم کیا جائے،حکومتی اتحادی جماعتوں کا اعلامیہ

    نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر قائم کیا جائے،حکومتی اتحادی جماعتوں کا اعلامیہ

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت حکومت کی اتحادی جماعتوں کا اہم اجلاس وزیراعظم ہاﺅس میں منعقد ہوا جس میں ملک میں تباہ کن سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیاگیا۔ اجلاس میں باہمی مشاورت کے بعد ملک میں سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے اور متاثرین کی بحالی کے لئے ’نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔


    اجلاس میں سیلاب کے دوران جاں بحق ہونے والوں کے لئے فاتحہ خوانی، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی گئی جبکہ لواحقین سے دلی رنج وغم اورافسوس کا اظہار کیاگیا۔ اجلاس نے قرار دیا کہ 60 سال میں ایسی تباہی نہیں ہوئی جو حالیہ بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ملک بھر بالخصوص صوبہ سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، جنوبی پنجاب اور گلگت بلتستان میں ہوئی ہے۔

    اجلاس نے وزیراعظم شہبازشریف کی قیادت میں سیلاب متاثرین کے ریسکیو، ریلیف کے لئے ہنگامی اقدامات ، سیلاب زدہ علاقوں کے مسلسل دوروںاور بلاتعطل معاونت کی فراہمی کی انتھک کوششوں کو سراہا۔ وفاق کی جانب سے فوری طور پر سیلاب زدگان کی مدد کے لئے ’این۔ڈی۔ایم۔اے‘ کو 5 ارب روپے کے اجرائ، صوبہ سندھ کے لئے 15 ارب، صوبہ بلوچستان کو 10 ارب کی خصوصی گرانٹ کے علاوہ ہر جاں بحق فرد کے اہل خانہ کو 10 لاکھ روپے دینے ، زخمیوں، مکانات سمیت دیگر نقصانات پر زرتلافی کی ادائیگی پر خراج تحسین پیش کیاگیا۔ اجلاس نے اس امداد کے علاوہ فوری طور پر سیلاب سے متاثرہ ہر شخص کو 25000 ہزار روپے نقد رقم کی فراہمی کے وزیراعظم کے اقدام کی پرزور تحسین کی گئی۔

    اجلاس نے سیلاب زدہ علاقوں میں مظلوم اہل وطن کی دادرسی اور دیکھ بھال کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں ، مرکزی اور صوبائی اداروں، آرمی، نیوی، فضائیہ سمیت ہنگامی امداد کی فراہمی میں برسرپیکار تمام افراد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سیلاب میں گھرے عوام کی دن رات مدد کے قومی جذبے کو سلام پیش کیا۔ اجلاس نے قدرتی آفت سے نبردآزما ہونے میں انٹرنیشنل پارٹنرز، بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ، ترقیاتی اداروں بالخصوص دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ سیلاب زدگان کی امداداور بحالی کے عمل میں وہ بھرپور معاونت کریں گے۔

    اجلاس نے سیلاب متاثرین سے مکمل یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس پختہ عزم کا اظہار کیاکہ اتحادی جماعتوں کی حکومت اپنے سیلاب متاثرہ بھائیوں، بہنوں اور بچوں کی دوبارہ اُن کے گھروں میں آبادکاری تک چین سے نہیں بیٹھے گی ، انہیں تنہانہیں چھوڑے گی اور ان کی زندگیوں کو دوبارہ معمول پر لانے کے لئے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے گی۔ اِن شاءاللہ

    اجلاس نے اس تجویز کی تائید کی کہ سیلاب سے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کو مد نظر رکھتے ہوئے قومی سطح پر تعمیر نو کا جامع پلان مرتب کیاجائے۔ وفاقی حکومت کی راہنمائی میں صوبائی حکومتوں اور اداروں کی مشاورت سے نقصانات کے حتمی تخمینے کا کام شفاف انداز میں مکمل کیاجائے اورساتھ ہی ساتھ متاثرین کی دوبارہ آبادکاری کے لئے وقت کے واضح تعین کے ساتھ موثرمنصوبہ بندی کی جائے۔

    اجلاس نے اس تجویز کی بھی تائید کی کہ موسمی تغیرات سے لاحق خطرات اور موجودہ حالات سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کے لئے جامع حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ پیشگی تیاری یقینی بنانے کی حتی المقدور کوشش کی جاسکے۔ دریاﺅں اور آبی گزرگاہوں میں غیرقانونی تعمیرات کو ختم کرنے کے علاوہ انتظامی مشینری کی صلاحیت اور استدادکار بڑھانے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔ سیلابی پانی کو محفوظ بنانے کے لئے منصوبہ بندی کی جائے۔

    اجلاس نے وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے وزیراعظم ریلیف فنڈ2022قائم کرنے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے اندرون وبیرون ملک سے عطیات جمع کرنے کے لئے بھرپور مہم چلانے پر بھی اتفاق کیا۔ اس ضمن میں حکومتی، جماعتی اور انفرادی سطح پر تحریک چلائی جائے گی تاکہ مخیر حضرات، اداروں، انٹرنیشنل پارٹنرز اور دوست ممالک کے تعاون سے سیلاب متاثرین کی بحالی کے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔

  • دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر اونچے درجے کاسیلاب،الرٹ جاری

    دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر اونچے درجے کاسیلاب،الرٹ جاری

    دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر اونچے درجے کاسیلاب،الرٹ جاری ، فلڈ کمیشن نے حالیہ سیلاب کو 2010 کے مقابلے میں زیادہ سنگین قرار دے دیا
    ڈیرہ غازیخان . دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے جس کے بعد دریا سے منسلک اضلاع کو پی ڈی ایم اے کو الرٹ کردیا گیا ہے
    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں تونسہ، چشمہ، گڈو اور سکھر کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہے، دریائے سندھ سے منسلک تمام اضلاع کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔اس وقت تونسہ بیراج سے 603339 کیوسک پانی گذر رہاہے اونچے درجے کاسیلاب ہے جس سے دریائے سندھ کے ساتھ واقع نشیبی علاقے سیلاب کی لپیٹ میں آچکے ہیں

    . دوسری طرف اسلام آباد میں وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال کی زیرصدارت سیلابی صورتحال پراجلاس ہوا جس میں این ڈی ایم اے اور فلڈ کمیشن کی جانب سے امدادی کارروائیوں پر بریفنگ دی گئی۔فلڈ کمیشن نے بریفنگ کے دوران کہا کہ حالیہ سیلاب 2010کے مقابلے میں زیادہ سنگین ہے۔

  • آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض کے اجراء کی منظوری دے دی

    آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض کے اجراء کی منظوری دے دی

    آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض کے اجراء کی منظوری دے دی ہے

    ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری دیتے ہوئے پاکستان کو قرض کے اجراء کی منظوری دے دی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو تقریباً 1 ارب 17 کروڑ ڈالر جاری کرنے کی منظوری دی ہے، آئی ایم ایف کی جانب سے اسی ہفتے پاکستان کو قرض کی رقم منتقل کر دی جائے گی۔


    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ الحمداللّٰہ آئی ایم ایف بورڈ نے توسیع فنڈ سہولت کی منظوری دے دی، ہمیں ایک ارب 17 کروڑ ڈالر کی ساتویں اور آٹھویں قسط مل رہی ہے۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ وزیر اعظم کا متعدد مشکل فیصلے لینے پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔آئی ایم ایف ساتویں اور آٹھویں قسط ایک ساتھ جاری کرے گا،وزیراعظم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے سخت فیصلے کیے.

    وزیراعظم شہبازشریف نے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کو پاکستان کی معیشت کے لئے مثبت پیش رفت قرار دے دیا ،آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی سے پاکستان کے معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کا خطرہ ختم ہوگیا ہے


    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ پاکستان مشکل معاشی امتحان سے سرخرو ہوکر نکلا ہے ،آئی ایم ایف پروگرام ایک مرحلہ ہے لیکن پاکستان کی منزل معاشی خودانحصاری ہے ،پروگرام کی بحالی سے پاکستان میں معاشی استحکام آئے گا ،پروگرام کی بحالی کے لئے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل اور ان کی ٹیم کو شاباش دیتا ہوں .

    وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ آئی ایم ایف کا یہ آخری پروگرام ہو اور آئندہ پاکستان کو کبھی اس کی ضرورت نہ رہے،اللہ تعالی کی رحمت سے پرامید ہوں کہ مسلم لیگ (ن) کی سابق حکومت کی طرح ایک بار پھر آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہیں گے.


    سابق وزیر خزانہ اور ن لیگ کے رہنام، اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری دوطرفہ اور کثیر الفریقی ترقیاتی پارٹنرز سے فنانسنگ میں معاون ہوگی۔


    اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں کہا کہ آئی ایم ایف نے جون 2023 تک ای ایف ایف پروگرام میں توسیع کی منظوری بھی دی ہے۔


    انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے قرضے کے حجم میں 93 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا اضافہ بھی کیا ہے۔

    مزید برآں چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور وزیر اعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی حافظ طاہر محمود اشرفی نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام کی منظوری پر بیان جاری کیا ہے۔اپنے بیان میں طاہر اشرفی نے کہا کہ آئی ايم ايف پروگرام کی منظورى كیلئے وزير اعظم شہباز شریف، آرمى چيف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزير خزانہ مفتاح اسماعیل كى كوششيں كامياب ہوئیں۔

    طاہر اشرفى نے کہا کہ دوست ممالک سعودى عرب، قطر، متحده عرب امارات كے تعاون پر بھی شكريہ ادا كرتے ہيں۔ معاون خصوصی نے کہا کہ پاكستان كا مستقبل ايڈ نہیں ٹريڈ سے وابستہ ہے، ہر حكومت كو ايڈ نہیں ٹريڈ كیلئےحكمت عملى بنانى ہوگی۔

  • پاکستان میں سیلاب ، چینی صدر اور بھارتی وزیراعظم کا اظہار افسوس

    پاکستان میں سیلاب ، چینی صدر اور بھارتی وزیراعظم کا اظہار افسوس

    چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے چین پاکستان کو ہر ممکن مدد فراہم کرتا رہے گا۔
    چین کے صدر شی جن پنگ نے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کے نام خیر سگالی کا پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے سیلاب متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

    شی جن پنگ نے کہا کہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے چین پاکستان کو ہر ممکن مدد فراہم کرتا رہے گا، مجھے یقین ہے پاکستان کی حکومت اور عوام مشترکہ کوششوں سے سیلاب کی تباہ کاریوں پر قابو پا لیں گے۔


    دوسری طرف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے لکھا کہ پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی دیکھ کر دکھ ہوا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ہم متاثرین کے خاندانوں، زخمیوں اور قدرتی آفت سے جاں بحق ہونے والے تمام افراد کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔نریندر مودی نے سیلاب سے متاثرہ افراد کی جلد بحالی اور معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے کی امید کا اظہار کیا۔

    پاکستان کے دوست ممالک نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن کیلئے یقین دہانی شروع کردی

    ترکی کے 4 ملٹری ایئرکرافٹ امدادی سامان لے کر کراچی پہنچ گئے، یو اے ای کے 2 جہاز امدادی سامان لے کر نور خان ایئربیس راولپنڈی پہنچ گئے،یو اے ای سے ایک اور جہاز امدادی سامان لے کر شام تک راولپنڈی پہنچے گا،چین سے 2جہاز امدادی سامان لے کر آئندہ 48 گھنٹوں میں پاکستان پہنچیں گے،بحرین سے ایک جہاز امدادی سامان لے کر پاکستان پہنچے گا،امدادی سامان میں خیمے، ادویات اور کھانے پینے کی اشیا شامل ہیں،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے متحدہ عرب امارات حکام سے سیلاب متاثرین کی امداد کے لئے رابطہ کیا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر یو اے ای کے حکام نے 20 طیاروں پر مشتمل امدادی سامان پاکستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بھجوانے کا اعلان کیا ہے

  • سیلاب متاثرین کیلیے ریلیف آپریشن،پاکستان کے دوست ممالک میدان میں آ گئے

    سیلاب متاثرین کیلیے ریلیف آپریشن،پاکستان کے دوست ممالک میدان میں آ گئے

    پاکستان کے دوست ممالک نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن کیلئے یقین دہانی شروع کردی

    ترکی کے 4 ملٹری ایئرکرافٹ امدادی سامان لے کر کراچی پہنچ گئے، یو اے ای کے 2 جہاز امدادی سامان لے کر نور خان ایئربیس راولپنڈی پہنچ گئے،یو اے ای سے ایک اور جہاز امدادی سامان لے کر شام تک راولپنڈی پہنچے گا،چین سے 2جہاز امدادی سامان لے کر آئندہ 48 گھنٹوں میں پاکستان پہنچیں گے،بحرین سے ایک جہاز امدادی سامان لے کر پاکستان پہنچے گا،امدادی سامان میں خیمے، ادویات اور کھانے پینے کی اشیا شامل ہیں،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے متحدہ عرب امارات حکام سے سیلاب متاثرین کی امداد کے لئے رابطہ کیا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر یو اے ای کے حکام نے 20 طیاروں پر مشتمل امدادی سامان پاکستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بھجوانے کا اعلان کیا ہے

    سیلاب متاثرین کی مدد میں متحدہ عرب امارات کا مثالی کردار

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    کمراٹ میں پھنسے سیاحوں کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹر نے ریسکیو کر لیا ہے

    سیلاب سے متاثرہ آخری آدمی کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، آرمی چیف

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    قبل ازیں پاک فوج کی جانب سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فوج کی جانب سے 16 ٹن راشن سیلاب متاثرہ علاقوں کو بھجوایا گیا ہے،آرمی ریلیف سینٹر کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں میں ریلیف آئٹمز بھجوا ئے گئے ہیں ، لاہور کور کی جانب سے 8 ٹن خوراک لاہور سے صعبت پور ، بلوچستان بھجوائی گئی راولپنڈی کور کی جانب سے کے پی کے کے علاقے ڈی آئی خان میں 4 ٹن راشن بھجوایا گیا ہے جبکہ گوجرانوالہ کور کی جانب سے سیالکوٹ سے پنوں عاقل 4 ٹن راشن بھجوایا گیا ہے

  • سیلاب متاثرین کی مدد میں متحدہ عرب امارات کا مثالی کردار

    سیلاب متاثرین کی مدد میں متحدہ عرب امارات کا مثالی کردار

    سیلاب متاثرین کی مدد میں متحدہ عرب امارات کا مثالی کردار

    پاکستان میں قدرتی آفات زلزلہ ہو سیلاب، پاکستانی کسی بھی مشکل میں ہوں متحدہ عرب امارات نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا، متحدہ عرب امارات اورپاکستان کے تعلقات دوستی کے مضبوط رشتے میں بندھے ہوئے ہیں، عرب امارات پاکستان کا وہ دوست ہے جس نے بے لوث ہر مشکل کی گھڑی میں پاکستان کی مدد کی، اسوقت پاکستان میں سیلاب آیا ہے، ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں، گھر تباہ ہو چکے، ہزار کے قریب اموات ہو چکی ہیں، آٹھ لاکھ سے زائد مویشی مر چکے، فصلیں تباہ ہو چکیں، مکین صاف پانی کو ترس رہے ہیں،خوراک ناپید ہو چکی ، کمسن بچوں کو دودھ کی ضرورت ،پاکستانی قوم، حکومت ، ادارے سب مدد کر رہے ہیں مگر سب تک پہنچنا نا ممکن، حکومت نے عالمی اداروں، ممالک سے اپیل کی، ایسے میں متحدہ عرب امارات نے نہ صرف پاکستان کی مدد کا اعلان کیا بلکہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کے لئے امداد سیلاب متاثرہ علاقوں میں پہنچا بھی دی گئی ہے

    متحدہ عرب امارات کی جانب سے سیلاب متاثرین کی امداد کے لئے پہلی پرواز گزشتہ روز نور خان ایئر بیس پر موصول ہوئی، اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور این ڈی ایم اے کے افسران نے سامان وصول کیا، پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبید الزابی بھی اس موقع پر موجود تھے جنہوں نے یہ امدادی سامان پاکستانی حکام کے حوالے کیا

    وزارت دفاع جس کی نمائندگی جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کرتی ہے نے متحدہ عرب امارات کی طرف سے فراہم کی جانے والی انسانی امداد کو پاکستان تک پہنچانا شروع کر دیا ہے، امدادی امداد میں موسلا دھار بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے پناہ گاہ کا سامان، انسانی ضروریات، خوراک اور طبی پارسل شامل ہیں، جس کا مقصد متاثرہ لوگوں کی تکالیف کو کم کرنے کی کوششوں میں تعاون کرنا ہے۔یہ اقدام صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی حالیہ سیلاب کے نتیجے میں پاکستان کے دوست لوگوں کو ہر طرح کی مدد فراہم کرنے کی ہدایت کے بعد کیا گیا ہے۔

    پاکستان سیلاب متاثرین کی امداد کے لئے عالمی دنیا سے اپیل کر رہا تھا ایسے میں مصیبت زدہ قوموں کی مدد کا عزم مصمم رکھنےوالی مسلم دنیا کے رہنما اور متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کی فوری امداد کے لیے 300 ٹن خوراک،خیمے اورعلاج معالجے کی سہولیات کے ساتھ ادویات پہنچانے کا اعلان کیا، متحدہ عرب امارات کی جانب سے ملنے والی امداد سے پاکستان کے سیلاب متاثرین کی فوری مدد اور اس تعاون سے ان کے مصائب کو کم کرنے اور ان کے حالات زندگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی

    عرب امارات کی جانب سے سیلاب متاثرین کی امداد کے لئے مزید دو جہاز آج کراچی پہنچیں گے، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بہترین برادرانہ تعلقات ہیں جو مشترکہ ورثے اور کثیر جہتی تعاون پر مبنی ہیں،پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بعد متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلی فون کیا اور گفتگو کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا شیخ محمد بن زاید نے اس مشکل وقت میں پاکستانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ متحدہ عرب امارات کے صدر نے اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ہر ممکن تعاون کی بھی پیشکش کی۔اس تناظر میں، انہوں نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ متحدہ عرب امارات فوری طور پر زخمیوں اور متاثرہ افراد کے لئے خیمے و دیگر سامان کے علاوہ کھانے پینے کی اشیا اور طبی سامان اور ادویات بھی بھجوائے گا۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو ملک میں مون سون کی غیر معمولی بارشوں سے ہونے والی ملک گیر تباہی کے بارے میں آگاہ کیا۔وزیراعظم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں متحدہ عرب امارات کی ہلال احمر اور خلیفہ بن زید فائونڈیشن کے جاری امدادی کاموں کا بھی اعتراف کیا۔وزیراعظم محمد شہبازشریف نے ریسکیو اور ریلیف کی کوششوں میں حکومت کی کوششوں میں معاونت کے لیے متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد پر عزت مآب شیخ محمد بن زاید کا شکریہ ادا کیا

    پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ اور دائمی ہیں، 1971 میں متحدہ عرب امارات کے قیام کے بعد پاکستان دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے اسے آگے بڑھ کر نہایت پرجوش انداز میں نہ صرف تسلیم کیا تھا بلکہ اس کی جانب دست تعاون بھی دراز کیا تھا اس وقت سے لے کر آج تک پاکستان نے دوستی کے اس رشتے کو نہ صرف برقرار رکھا ہے بلکہ اسے وسیع سے وسیع تر کرنے کی کوشش کی ہے پاکستانی کمیونٹی تب سے لے کر آج تک یو اے ای کی ترقی اور تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ دونوں ممالک میں تاریخی، ثقافتی اور معاشی رشتے قائم ہیں