Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بشریٰ بی بی کوعمران نےتھپڑمارا،بشیرمیمن کو باتھ روم میں بند”کٹاکھل گیا”ایک ہیکردوکہانیاں:اہم انکشافات

    بشریٰ بی بی کوعمران نےتھپڑمارا،بشیرمیمن کو باتھ روم میں بند”کٹاکھل گیا”ایک ہیکردوکہانیاں:اہم انکشافات

    لاہور:بشریٰ بی بی کوعمران نےتھپڑمارا،بشیرمیمن کو باتھ روم میں بند”کٹاکھل گیا”ایک ہیکردوکہانیاں:اہم انکشافات ، یہ انکشافات دومقامات پر ہوئے پہلا انکشاف ہیکر نے کیا اور دوسرا انکشاف بشیرمیمن نے کیا ، ان دونوں انکشافات کا انکشاف مبشرلقمان نے کیا

    پاکستان کے سینیئر صحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ جونہی وہ پاکستان پہنچے تو پاکستان کا سیاسی ماحول بہت ہی پراگندہ تھا ، سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے بہت زیادہ انکشافات ہوچکے تھے اورہورہے تھے ، اور اس کے ساتھ ساتھ سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیرمیمن بھی بہت کچھ بتا چکے تھے

    مبشرلقمان بتاتے ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے یہ خبریں گردش کررہی تھیں کہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عمران خان سے علیحدگی ہوگئی ہے ، اوراب ہیکر نے اس خبر کو جزوی طور پردرست قرار دیا ہے ، ہیکر کا کہنا ہے کہ عمران خان نے بشریٰ‌ بی بی کو تھپڑ رسید کیا ہے اور کپتان اور بی بی کے درمیان فاصلے بڑھے ہیں ، مبشرلقمان کہتےہیں کہ بشریٰ‌ بی بی کچھ عرصہ قبل لاہور میں قیام پزیر رہیں اور یہی وہ وقت تھا جب بشریٰ بی بی کو تھپڑ پڑے

    دوسری بات جو مبشرلقمان نے بتائی وہ یہ تھی کہ بشیر میمن کے حوالے سے ہیکر نے کچھ انکشافات کیے تھے اور تھوڑی دیر بعد انکو ڈیلیٹ کردیا تھا اس سے ثابت ہوتا ہےکہ جو باتیں گردش کررہی تھیں وہ درست تھیں ، انہوں نے بشیر میمن سے پوچھا تو بشیر میمن نے اس بات کی تصدیق کی کہ واقعی ان کو باتھ روم میں غصہ ٹھنڈا کرنےکے بھیجا گیاتھا اور اس سے پہلے اعظم خان مجھے اس وقت وزیراعظم عمران خان سے گفتگو کے دوران معاملہ خراب ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھ دوسرے کمرے میں لے گئے تھے

     

     

    بشیر میمن نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان مریم بی بی کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کررہے تھے اس لیے وہ اپنے جزبات پر قابو نہ پاسکے اور عمران خان کو بہت زیادہ سخت ردعمل دیا ، جس کی وجہ سے مجھے باتھ روم میں بھیج دیا گیا ،

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ جہاں یہ واقعہ بہت دلخراش تھا وہاں عمران خان کے سپوکس مین بھی زہراگل رہے ہیں، انہوں نے شہبازگل ، فواد چوہدری کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کو کچھ بھی حیا نہیں ،ان کی وجہ سے بھی عمران خان کو پریشانی اٹھانا پڑ رہی ہے ،

  • ایون فیلڈ فلیٹ فروخت؟ مریم نواز نے لندن میں فلیٹ پسند کر لیا

    ایون فیلڈ فلیٹ فروخت؟ مریم نواز نے لندن میں فلیٹ پسند کر لیا


    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز لندن پہنچ چکی ہیں۔ عدالت سے پاسپورٹ ملنے کے بعد اگلے روز ہی مریم نواز لندن روانہ ہوئیں اور ایک روز قطر میں قیام کے بعد لندن پہنچیں ۔مریم نواز لندن میں چند روز گزاریں گی ۔مریم نواز لندن کیوں گئیں اس حوالہ سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں

    رپورٹ۔ عظیم بٹ

    ‏ایک ایسی خبر جو ہمارے ذرائع سے پہنچی ہے وہ شاید ملکی سیاست کا رخ تک بدل دے بہت سی سیاسی جماعتیں شاید اس بات کو استعمال بھی کرنے لگ جائیں ۔پاکستان کی تاریخ میں جس طرح بڑے بڑے سیاسی پلان بنائے گئے اور وہ وقت گزرنے کے بعد بے نقاب ہوئے ویسا ہی آج ایک پلان ہم وقت سے پہلے عوام کے سامنے لا کر اس سے پردہ ہٹارہے ہیں

    ‏پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں ایک بحران کو ختم کرنے کیلئے اس کا حل نہیں نکالا جاتا بلکہ ایک نیا بحران لانے کی تیاری کی جاتی ہے اور یوں ٓآنے والا بحران پہلے سے موجود بحران سے توجہ ہٹا دیتا ہے اور عوام سمجھتی ہے کہ بلا ٹل گئی۔اس وقت ملک میں عدالتی انقلاب کے چرچے ہیں گزشتہ چند ہفتوں نے پاکستان کی سیاست و صحافت کا رخ بدل کر رکھ دیا ہے اس کی بنیادی وجہ کئی سال سے جو مفروضہ مسلم لیگ ن کیخلاف بنایا گیا تھا کہ پاکستان کی سب سے کرپٹ جماعت اور چال باز خاندان ہے وہ عدالتوں نے اڑا کر رکھ دیا

    ‏مریم نواز باعزت بری ہو گئیں۔۔اسحاق ڈار ملک میں نا صرف واپس آئے بلکہ وزیر خزانہ بھی بن گئے حالانکہ ان پر الزام خزانہ لوٹنے کا ہی تھا۔۔اس سب کہ بعد اب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ سب سے دلچسب ہے وہ یہ کہ مریم نواز کئی سالوں بعد پاکستان سے لندن پہنچ گئیں ہیں اور عوام کو یہ کہا گیا ہے کہ وہ والد سے ملنے گئیں اور چونکہ عدالت نے ٓآرٹیکل 63ون ایف سے متعلق تاحیات نا اہلی کے معاملے میں اہم ریمارکس دئیے ہیں تو نواز شریف کی واپسی ممکن ہو چکی ہے مگر اصلیت کیا ہے؟

    ‏کیا واقع مریم نواز صرف نواز شریف سے ملاقات کیلئے لندن گئی ہیں؟

    ‏ویسے تو ایک بات اور بھی اہم ہے کہ اس وقت پرویز الہی بھی لندن میں موجود ہیں اور یہ امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ وہ شاید نواز شریف سے ملاقات کریں اور اس حوالے سے گزشتہ چند دنوں میں پنجاب حکومت کی عمران خان سے ایک چپقلش نظر آئی بھی ہے جہاں وزیر داخلہ کرنل ہاشم ڈوگر نے واضح کیا کہ عمران خان کہ لانگ مارچ کو پنجاب حکومت کسی صورت وسائل کے لحاظ سے سپورٹ نہیں دے گی یہ ممکن ہے کہ وفاق میں نا صحیح مگر پنجاب میں ایک بار پھر جلد سیاسی بحران نظر آئے اور گجرات کے چوہدریوں کی وہ گاڑی جو کسی کے ٹیلی فون پر بنی گالہ کی جانب مڑ گئی تھی اور وہاں پارک ہے اب وہاں سے نکل کر جاتی امرا کا رخ کر لے۔۔
    ‏مگر یہ تمام باتیں اس بات کے سامنے کوئی معنی نہیں رکھتی جو خبر آج ہم دے رہے ہیں وہ ہے ایک نیا لندن پلان جو آنے والے دنوں میں پاکستان کی سیاست میں ہلچل لے آئے گا

    ‏اگر آپ کو یاد ہو تو پانامہ کی کہانی جس نے پاکستان میں سیاست بدلی اس میں بنیاد لندن میں موجود ایون فیلڈ اپارٹمنٹس تھے جو کہ شریف فیملی کی ملکیت تھے جن کو ظاہر نا کرنا یا کن پیسوں سے یہ خریدے گئے اس پر بہت بار تذکرہ ہو چکا ہے اور تب سے برطانیہ میں موجود تحریک انصاف کے کارکنان کا یہ رویہ بن گیا کہ ہر دو دن بعد وہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے باہر جا کر مسلم لیگ ن کے رہنماوں اور نواز شریف کو ہراساں کرتے ہیں اور احتجاج کرتے ہیں جو کہ نا صرف پاکستانی میڈیا بلکہ عالمی میڈیا کی کوریج کا بھی باعث بنتا ہے اور اس سے نواز شریف سمیت مسلم لیگ ن کی سیاست پر انتہائی برا اثر پڑتا ہے

    ‏ہمارے ذرائع نے یہ بات کنفرم کی ہے اور ہم نے اس حوالے سے کئی مسلم لیگ ن کے رہنماوں سے اس کی تصدیق بھی کرنا چاہی مگر کسی نے بھی نہ انکار کیا نہ اس کی تائید کی بلکہ یہ کہہ کر راہ فرار اختیار کی کہ اس سطح کی انفارمیشن شریف فیملی کے بارے میں ہمارے قد سے بڑی بات ہے۔ ذرائع اس بات کو کنفرم کرتے ہیں کہ لندن میں موجود فلیٹس جو شریف فیملی کی ملکیت ہیں ان پراپرٹیز کی چیئرپرسن مریم نواز ہیں۔۔اس بات کی ہمارے سورسز نے کنفرمیشن دی ہے کہ حسن اور حسین نواز گزشتہ دو مہینوں سے لندن میں مختلف پراپرٹیاں دیکھ رہے تھے اور ڈیلرز سے رابطے میں تھے کہ کوئی اپارٹمنٹس یا فلیٹ خریدے جائیں اور ایون فیلڈ اپارٹمنٹس سے سکونت ختم کی جائے اس حوالے سے دو مختلف فلیٹس کو پسند کر لیا گیا ہے اور ایون فیلڈ کے اپارٹمنٹس کو بیچنے کی تیاری کر لی گئی ہے۔۔۔۔

    ‏باغی ٹی وی سب سے پہلے اندر کی خبر سامنے لایا۔ شریف فیملی نے اپنے تقریبا گزشتہ تین دہائیوں پرانے اپارٹمنٹ ایون فیلڈ کو بیچنے کی تیاری کر لی ہے۔۔
    ‏چونکہ مریم نواز ان پراپرٹیوں کی چیئرپرسن ہیں ان کے دستخط کے بغیر یہ پراپرٹیس فروخت نہیں ہو سکتیں اور یہ ہی بنیادی وجہ ہے کہ فوری طور پر مریم نواز کو لندن میں جانا پڑا ہے۔۔۔

    ‏اگلے چند روز میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹس شریف فیملی کی جانب سے فروخت کرنے کے تمام دستاویزاتی کاروائی پوری ہو جائے گی اور نئے دیکھے گئے دو فلیٹس جن کو حسن اور حسین نواز نے پسند کیا ہے ان میں سے کوئی ایک اپارٹمنٹ مریم نواز فائنل کریں گی اور لندن میں شریف فیملی کی اگلی سکونت وہ فلیٹ ہوں گے جہاں وہ سکون سے بغیر تحریک انصاف کے کارکنان کی حراسگی اور احتجاج کے رہ سکیں گے
    ‏اس تمام کاروائی پر ہمارے نمائندگان اور ذرائع نے مختلف جگہ سے کنفرمیشن کی ہے البتہ اگر کوئی بھی لیگی رہنما اس پر اپنی وضاحت دینا چاہے تو ہمارے پلیٹ فارمز حاضر ہیں۔

    ‏اس کے بعد جو دوسری اہم خبر ہے وہ سیاسی حکمت عملی کی ہے اور لندن پلان میں یہ شامل ہے کہ حمزہ شہباز کو جس طرح سے پنجاب سے فارغ کیا گیا ہے اسی طرح پارٹی میں بھی ان کی حیثیت کم ہی رکھی جائے اور پنجاب میں یا تو چوہدری برادران سے مل کر حکومت بنائی جائے اور اگلے جنرل الیکشن میں وفاق میں ایک مرتبہ پھر نواز شریف بطور وزیر اعظم حلف لیں جبکہ پنجاب کی قیادت وزیر اعلی کی کرسی اس بار باعزت بری ہوئی مریم نواز کی دی جائے۔نواز شریف لندن میں موجود اپنی کچن کیبنٹ سے اس پر مشاورت کریں گے اور مریم کو اب پارٹی میں مزید اہم اور خاص ذمہ داریاں دی جائیں گی جبکہ شہباز شریف کو وفاقی کابینہ میں بطور وزیر شامل کیا جائے گا۔اس پلان کو شروع ہونے سے قبل ہم نے آپ کو اس پلان سے آگاہ کر دیا ہے اب دیکھنا ہو گا کہ اس کو پایہ تکیمل تک پہنچانے کیلئے کون سا اور کیسا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔

  • پشاور میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، دہشت گرد ہلاک

    پشاور میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، دہشت گرد ہلاک

    راولپنڈی: سیکیورٹی فورسز نے پشاور میں خفیہ اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے ایک دہشت کو ہلاک کردیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس اطلاعات پر پشاور کے علاقے متنی میں آپریشن کیا۔

    اس دوران فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک دہشت گرد مارا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گرد سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل چار اکتوبر کو بھی سکیورٹی فورسز نے ٹانک میں کارروائی کرتے ہوئے چار دہشت گردوں کو ہلاک کر کے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا تھا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گرد علاقے میں ٹارگٹ کلنگ، اغوا اور بھتہ خوری میں ملوث تھے، دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا تھا۔

  • عمران خان دن رات جھوٹ بولتا ہے اور قوم سے فراڈ کرتا ہے وزیر اعظم شہباز شریف

    عمران خان دن رات جھوٹ بولتا ہے اور قوم سے فراڈ کرتا ہے وزیر اعظم شہباز شریف

    عمران خان نے ملک کے ساتھ سازش کی ہے اور یہ پاکستان سب سے بڑے جھوٹے وزیراعظم رہے کیونکہ عمران خان دن رات جھوٹ بولتا ہے اور قوم سے فراڈ کرتا ہے. وزیر اعظم شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر سازش کا تانا بانا ہم سے ملے تو ہم سزا بھگتنے کو تیار ہیں۔ عمران نیازی پاکستان کا سب سے جھوٹا وزیر اعظم ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آڈیو لیک کرنے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں اور اگر آڈیو لیک کرنی ہوتی تو ہم اپنی کیوں کراتے ؟ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے عدم اعتماد کی تحریک کو مسترد کر دیا تھا اور صدر نے 20 منٹ میں اسمبلی توڑنے کی سمری منظور کی۔ ہماری سمریاں صدر مملکت کے پاس مہینوں پڑی رہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ نہ جانے کیا کیا الزامات لگائے گئے جس کا کوئی سر تھا نہ پیر اور عمران خان نے ملک کے ساتھ سازش کی۔ آڈیو لیک میں عمران خان نے کہا کہ ہم نے کھیلنا ہے امریکہ کا نام نہیں لینا۔ انہوں نے قوم کو ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا کر دیا۔

    انہوں نے کہا کہ اگر سازش کا تانا بانا ہم سے ملے تو ہم سزا بھگتنے کے لیے تیار ہیں لیکن آج اس سازش کاتانا بانا عمران خان کے ساتھ مل چکا ہے۔ سازشی ٹولے نے کہا کہ سائفر کے منٹس ہم اپنی مرضی سے بنائیں گے جبکہ عمران خان اور اس کے حواریوں نے ملک کا وقت برباد کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ قوم کے اعتماد کے ساتھ کھیلا گیا اور اتحادی حکومت پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے۔ سائفر کے معاملے پر قوم اور ملک کے ساتھ بدترین بددیانتی کی گئی اور ملکی سالمیت کے ساتھ کھیلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سازشی ٹولہ کہہ رہا ہے کہ منٹس ہم بنائیں گے۔ سنگین واردات کی گئی اور کھیل کھیلا گیا لیکن اس سازش کا دور دور تک اس سائفر سے تعلق نہیں۔ یہ بھیانک واقعہ جو پاکستان کے ساتھ پیش آیا جس کی ذمہ داری عمران ٹولہ پر ہو گی۔

    شہباز شریف نے کہا کہ تقریبا 100 ارب روپیہ وفاقی خزانہ سیلاب متاثرین پر خرچ کر چکا ہے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت وفاقی حکومت 70 ارب روپے خرچ کر رہی ہے۔ مخیر حضرات کو بھی سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے اور سب اپنے اختلافات بھلا کر سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔
    یہ بھی مزید پڑھیں؛ ایم این اے جتنے پیسے الیکشن سیٹ پر خرچ کرتے اتنی تو مجھے تنخواھ ملتی تھی۔ شہباز گل
    صوفیہ مرزا کی سابق شوہر عمرفاروق کیخلاف میڈیا میں آنے پر پابندی کی التجا عدالت نے انکار کردیا
    جامشورو:انڈس ہائی وے پرٹرالراوربس میں تصادم سے10 افراد جاں بحق،13 زخمی
    انہوں نے عمران خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پتھر دل انسان ہے اور انسانوں کے لیے اس کے دل میں کوئی جگہ نہیں۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے جس طرح سیلاب متاثرین کا مقدمہ لڑا میں نہیں لڑ سکتا۔ امریکہ اور چین نے بھی سیلاب متاثرین کے لیے امداد دی لیکن عمران خان نے خارجہ امور میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔
    وزیر اعظم نے کہا کہ عمران خان دن رات جھوٹ بولتا ہے اور قوم سے فراڈ کرتا ہے، عمران خان سر سے پاؤں تک فراڈیہ ہے اور عمران خان قوم کو تنہائی میں لے کر گیا جبکہ عمران خان نے فوج کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جبکہ پاک فوج نے دہشت گری کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دیں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ عمران خان دن رات جھوٹ بولتا ہے اور قوم سے فراڈ کرتا ہے، عمران خان سر سے پاؤں تک فراڈیہ ہے اور عمران خان قوم کو تنہائی میں لے کر گیا جبکہ عمران خان نے فوج کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جبکہ پاک فوج نے دہشت گری کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ سائفر ڈی کوڈ نہیں ہو سکتا، اگر ہوتا تو دوست ممالک سے رابطوں کی دستاویز لیک ہو جائیں۔ وزیراعظم کی سائفر کاپی غائب کر دی گئی اور آڈیو ہر چیز بتا رہی ہے اس کے بعد اور کیا ثبوت چاہیئیں۔ مریم نواز کو عدالت عالیہ نے کلین چٹ دی ہے جبکہ مریم نواز اپنے والد کے ساتھ نیب عدالتوں میں پیش ہوتی رہی ہیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ 4 سال سے بتا رہا تھا کہ عمران خان جھوٹا ترین شخص ہے اور عمران خان کو اپنا چہرہ شیشوں میں دیکھنا چاہیئے۔ کیا ان کی ہمشیرہ کو این آر او میں نے دیا تھا؟ ان کی اپنی حکومت کے دوران ایف بی آر نے علیمہ خان کو این آر او دیا تھا۔ علیمہ خان کے نیویارک اور دبئی میں اثاثے تھے جو ڈیکلیئر نہیں تھے اور چینی کے اسکینڈل میں این آر او تو میں نے نہیں دیا جبکہ چینی اسکینڈل تاریخ کا سب سے بڑا اسکینڈل ہے جس میں 50 ارب روپے کا ڈاکا ڈالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے کیس کا نیب ترمیم سے کوئی تعلق نہیں اور 190 ملین پاؤنڈ کا تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکا عمران خان نے ڈالا۔

  • اداروں پر تنقید،مبشر لقمان کا وائس اوور لگا کر فیک ویڈیو اپلوڈ کرنیوالا یوٹیوبرگرفتار

    اداروں پر تنقید،مبشر لقمان کا وائس اوور لگا کر فیک ویڈیو اپلوڈ کرنیوالا یوٹیوبرگرفتار

    اداروں پر تنقید،مبشر لقمان کا وائس اوور لگا کر فیک ویڈیو اپلوڈ کرنیوالا یوٹیوبرگرفتار

    اداروں کیخلاف تنقید، فیک ویڈیو بنا کر سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا وائس اوور چلانے والا یوٹیوبر گرفتار کر لیا گیا

    لاہور کے یوٹیوبر نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک فیک ویڈیو بنائی ، اس ویڈیو پر وائس اوور سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا چلا دیا گیا، یوٹیوب پر ویڈیو سامنے آنے کے بعد مبشر لقمان کی ٹیم کی جانب سے اداروں کو درخواست دی گئی، جس کے بعد اداروں نے کاروائی کرتے ہوئے یوٹیوبر ملزم محمد اشفاق کو گرفتار کر لیا گیا، تحقیقاتی اداروں نے ملزم اشفاق کو اسکے گھر سے گرفتار کیا

    یوٹیوبر ملزم اشفاق نے دوران حراست اپنے جرم کا اعتراف کیا اور معافی مانگ لی ملزم کا کہنا ہے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے. ملزم کے اعترافی بیان اور معافی کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں یوٹیوبر اشفاق کہتا ہے کہ ہم نے بغیر تصدیق ویڈیو اپلوڈ کی۔ میں اس پر نادم ہوں اور معافی مانگتا ہوں آئندہ بغیر تصدیق کے ویڈیو اپلوڈ نہیں کروں گا

    یوٹیوب پر فیک ویڈیو سامنے آنے کے بعد سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے اعلان کیا تھا کہ فیک ویڈیو بنانے والوں کے خلاف سائبر کرائم سے رجوع کیا جائے گا اور قانونی کاروائی کی جائے گی

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    یوٹیوبر اشفاق کے بارے میں باغی ٹی وی کو باخبر ذرائع نے بتایا کہ اشفاق پی ٹی آئی کا کارکن ہے ، اور حال ہی میں سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ بنی گالہ میں ڈیجیٹل میڈیا کے نمائندوں سے ہونیوالی ملاقات میں اشفاق بھی شامل تھا۔ اشفاق نے یوٹیوب پر ایک فیک ویڈیو اپلوڈ کی تھی جس پر اسکے خلاف کاروائی کی گئی تھی۔ اشفاق کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے جبکہ حال میں وہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں مقیم ہے۔اشفاق کے بارے میں باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نے یوٹیوب چینل کے ذریعے بلیک میلنگ بھی شروع کر رکھی ہے . باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اشفاق کو یوٹیوب چینل پر ویڈیو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی جانب سے ہی لگانے کا مشورہ دیا گیا تھا جس کے بعد اشفاق نے ویڈیو لگائی اور اسکو جیل کی ہوا کھانا پڑ گئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    واضح رہے کہ اداروں کیخلاف مہم میں اب تک جتنی بھی گرفتاریاں ہوئی ہیں سب کا تعلق پی ٹی آئی سے نکلا ہے اور انہوں نے ویڈیو بیان میں معافی مانگی ہے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مسلسل مہم چلا رہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے یوٹیوبر شر پسند عناصر جو اداروں کے خلاف تنقید کرتے ہیں انکو معافی کی بجائے سزا ملنی چاہئے تا کہ قومی سلامتی اور ملکی دفاع کے اداروں پر آئندہ کسی کو بات کرنے کی جرات نہ ہو

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    لسبیلہ ہیلی حادثہ، پاک فوج کیخلاف مہم میں یوٹیوبر سمیت سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی شامل

  • انتخابات سیاسی تقسیم اور کشیدگی کو کم کرسکتے ہیں۔  صدر عارف علوی

    انتخابات سیاسی تقسیم اور کشیدگی کو کم کرسکتے ہیں۔ صدر عارف علوی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ انتخابات مسائل کا حل ہوتے ہیں اوریہ سیاسی تقسیم اور کشیدگی کو کم کرسکتے ہیں۔

    آج بروز جمعرات اسلام آباد میں صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے سینئرصحافیوں سے ملاقات کی ہے۔ اس دوران صدر ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ حکومت اوراپوزیشن میں کشیدگی کم کرانےکی کوششیں کرتا رہوں گا تاہم یہ کوششیں کامیاب ہوں گی یا نہیں،اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

    صدرمملکت عارف علوی نے کہا کہ میں بروکرنہیں لیکن کشیدگی کےخاتمےکی کوششیں جاری رکھی جاسکتی ہیں، خاندان کے جھگڑے بھی بعض اوقات کوشش کے باوجود ختم نہیں ہوسکتے۔ صدر سے سوال کیا گیا کہ ملک میں کیا جلد انتخابات مسائل کا حل ہے؟ اس پر انھوں نے جواب دیا کہ انتخابات مسائل کا حل ہوتے ہیں اورانتخابات سیاسی تقسیم اور کشیدگی کو کم کرسکتے ہیں۔ اپنے خطاب کے حوالے سے صدرمملکت نے کہا کہ آج کےخطاب میں بھی قومی اتفاق رائےپر زور دوں گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ ایم این اے جتنے پیسے الیکشن سیٹ پر خرچ کرتے اتنی تو مجھے تنخواھ ملتی تھی۔ شہباز گل
    صوفیہ مرزا کی سابق شوہر عمرفاروق کیخلاف میڈیا میں آنے پر پابندی کی التجا عدالت نے انکار کردیا
    جامشورو:انڈس ہائی وے پرٹرالراوربس میں تصادم سے10 افراد جاں بحق،13 زخمی
    تحریک انصاف سے متعلق صدرمملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ میری سابقہ پارٹی آزادانہ حیثیت اور سوچ رکھتی ہے،سابقہ تعلق کی بنیاد پر اس پر اثرانداز نہیں ہوسکتا تاہم کرپشن کے خلاف آوازبلند ہوتی رہنا چاہیے۔ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے یہ بھی واضح کیا کہ پی ٹی آئی میں شمولیت اسی ہی سوچ کے تحت تھی تاہم ملک میں سیاسی کشیدگی کا ذمہ دارکون ہے،اس پرکچھ نہیں کہہ سکتا۔
    سٹیل ملز چوروں کے حوالے ،روزانہ کروڑوں روپے کی مالیت کا لوہا ٹرکوں پر لوڈ ہوکر چوری ہونے لگا
    تاحیات نااہلی صادق اورامین کے اصول پر پورا نہ اترنے پر ہوتی ہے،چیف جسٹس
    جدید تمباکو کی مصنوعات پر پابندی کے حوالہ سے آگاہی ،پوسٹر مقابلہ،نتائج کا اعلان

  • ترمیم سے لگتا  49 کروڑ روپے تک کرپشن ٹھیک اس سے زیادہ غلط،سپریم کورٹ

    ترمیم سے لگتا 49 کروڑ روپے تک کرپشن ٹھیک اس سے زیادہ غلط،سپریم کورٹ

    ترمیم سے لگتا 49 کروڑ روپے تک کرپشن ٹھیک اس سے زیادہ غلط،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    نیب نے 21 سال کے دوران ہونے والی پلی بارگین کی تفصیلات جمع کرا دیں ،وکیل نے کہا کہ ترمیم کے تحت دباو کا الزام لگنے پر پلی بارگین منسوخ ہوجائے گی،منسوخ ہونے پر پلی بارگین کے تحت جمع رقم واپس کرنا ہوگی، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا پلی بارگین منسوخ ہونے سے سزا کیساتھ جرم بھی ختم ہوجائے گا؟ وکیل نے کہا کہ ترمیم کی تحت جرم اور سزا دونوں ہی ختم ہوجائیں گے، عدالت نے کہا کہ پلی بارگین اعتراف جرم ہوتا ہے جس کی سزا میں عدالت پیسے واپس کرنے کی منظوری دیتی ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کی جانب سے دی گئی سزا قانون سازی سے کیسے ختم ہوسکتی؟ صدر بھی رحم کی اپیل میں سزا معاف کر سکتے ہیں جرم ختم نہیں ہوتا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پلی بارگین جرم کی بنیاد ہے وہ ختم ہو جائے تو جرم کیسے برقرار رہے گا؟ قاتل کا جرم ختم ہو سکتا ہے تو بدعنوانی کے ملزم کا کیوں نہیں، عدالت نے کہا کہ کرپشن 50 کروڑ روپے سے کم ہو تو پلی بارگین کیساتھ مقدمہ بھی ختم ہو جائے گا،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ترمیم سے لگتا ہے 49 کروڑ روپے تک کرپشن ٹھیک اس سے زیادہ غلط ہے، وکیل نے کہا کہ کابینہ اور دیگر فورمز کیساتھ وزرا اور معاونین خصوصی کو بھی استثنیٰ دیدیا گیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا ایمنسٹی اسکیم کا فائدہ اٹھانے والا عام آدمی بھی نیب ریڈار پر آسکتا ہے؟ معاشرہ ایسا ہے کہ کاروباری افراد کو کئی جگہ رشوت دینا پڑتی ہے، کیا کاروباری افراد کو بزنس کرنے پر بھی سزا ملے گی؟ وکیل نے کہا کہ عوامی عہدیدار کی منی لانڈرنگ میں سہولت کاری کرنے والا نیب ریڈار پر آئے گا، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا نیب قوانین میں ترامیم عدالتی فیصلوں کی روشنی میں نہیں کی گئیں؟ وکیل نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کی غلط تشریح کرکے نیب قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں،

    نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب قوانین کے ترامیم میں 500 ملین کا بینچ مارک بنا دیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ اب تک کتنے مقدمات عدالتوں سے واپس آئے ہیں ؟ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں جواب دیا کہ عدالتوں سے 219 مقدمات واپس آچکے ہیں، اب تک تعداد 280 ہوگئی، اعداد و شمار مقدمے کے آغاز میں لیے گئے تھے، تمام مقدمات نیب کو واپس آرہے ہیں جنہیں کمیٹی دیکھے گی، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم میں بھی ایسا ہی تھا نام اور رقم نہیں بتائی جا سکتی، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں ایمنسٹی اسکیم بھی فراڈ ہے ؟ ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے پیسے کو وائٹ کرنا تو بڑے عرصے سے چل رہا ہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایسا نہیں کہہ رہا ہے مگر کرپشن کی رقم کا ایشو مختلف ہوتا ہے ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے رقم ڈکلئیر کرنے والوں کو کچھ نہ کہنا نہ پوچھنے کا لکھا گیا ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس میں بھی رکشے والے اور ایسے لوگوں کے کھاتوں سے اربوں نکلے تھے، نئے قانون کے مطابق احتساب عدالت اور نیب نے ہاتھ کھڑے کر دے گی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان ترامیم کو گزشتہ حکومت نے شروع کیا تھا باتوں سے باتیں نکل رہی ہیں، دو ماہ میں ان ترامیم کی ڈرافٹنگ کا کریڈٹ وزیر قانون کو جاتا ہے،وکیل نے کہا کہ کچھ کریڈٹ سابقہ حکومت کو بھی جاتا ہے جو خود اس عمل میں شامل رہی اور پھر چیلنج کر دیا،

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • عمران خان نے پاک امریکا تعلقات کو نقصان پہنچایا، بلاول

    عمران خان نے پاک امریکا تعلقات کو نقصان پہنچایا، بلاول

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خارجہ بلاول زرداری نے کہا ہے کہ ملک کے بڑے حصے میں تاحال سیلابی پانی موجود ہے،

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اورسندھ کے بیشترعلاقوں میں سمندر ہی سمندر ہے ،سیلاب دریاوں سے نہیں آسمان سے اس کا پانی آیا،3کروڑ لوگ قدرتی آفت سے متاثر ہوئے جون سے لیکرآج تک متاثرین سیلاب کی مدد کا سلسلہ جا ری ہے ،متاثرین کی تعداد امداد اور وسائل سے زیادہ ہے ایک تہائی پاکستان سیلابی پانی میں ڈوبا ہواہے ،متاثرین کے لیے ہمیں بیرون ممالک سے تعاون کی فراہمی کا عمل جاری ہے،سیلاب سے فصلیں تباہ ہوئیں جس کے باعث خوراک کا مسئلہ پیدا ہوا،سیلابی پانی کی وجہ سے متاثرین میں بیماریاں پھیل رہی ہیں،کھڑے پانی میں مچھروں کی بھرمار ہے ،ہمارے اسپتال ان اضافی مریضوں کا بوجھ نہیں اٹھاسکتی ،ایک چیلنج سے نکلتے ہیں تو دوسرا سامنے آتا ہے ،ہمیں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے،نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے سروے کا عمل جاری ہے ہمارا اندازہ ہے کہ 30ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہوگا،

    وزیر خارجہ بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم مایو س نہیں، سیاست نہیں ملکی مفاد کودیکھنا ہوگا، ملک کو متحد کرکے عوام کی مدد کرنا ہوگی،ہمیں پہلی بار ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وزیراعظم پورے ملک کو اون کررہے ہیں،کچھ لوگ اب بھی کچھ الگ سوچ رہےہیں،انہیں عوام کا سوچنا چاہیے جب پرویز مشرف کی حکومت تھی تو کیا ہم نے لانگ مارچ شروع کیا تھا،سیاست ہوتی رہے گی،الیکشن بھی ہوتے رہتے ہیں مگر یہ وقت ملک کو مشکل سے نکالنے کا ہے،میں نے محسوس کیا کہ ملک کو وحدت کی ضرورت ہے ،متاثرین کی مزید امدا د کےلیے کام کرنا ہوگا،کیا سیلاب متاثرینموجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہیں؟یہ ترقی یافتہ ممالک کا نتیجہ بھگت رہے ہیں پاکستان کے لوگوں نے تاریخ میں ہر مشکل کو دیکھا اوراس کا سامنا کیا ہے،اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل پاکستان آئے انہوں نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھا، ہم نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے کوششوں پر زور دیا پورے یونائیٹڈ نیشن کا ایجنڈا موسمیاتی تبدیلی میں تبدیل کر دیا،انتونیو گوتریس اورامریکی صدر بائیڈن نے کہا کہ پوری دنیا کو پاکستان کی مدد کر نی ہے، جہاں جہاں انفراسٹرکچر کا نقصان ہوا ہے، اسے کھڑا کریں گے، نومبر کے اختتام تک نئی فصل اگانے کے قابل ہوں گے ہم چھوٹے کسانوں کو تعاون فراہم کریں گے، سیلاب سے معیشت تباہ ہوئی ،ہم دوبارہ ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنائیں گے، سندھ حکومت کو کہا ہے کہ محنت سے اگلی فصل ہر حال میں اگائیں گے اس مشکل سے نکل کر پورے پاکستان کو ایک چھتری تلے لائیں گے، سیلاب سے معیشت تباہ ہوئی ،ہم دوبارہ ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنائیں گے، اگر مستقبل میں ایسا سیلاب آیا تو اس سے نمٹنے کی بھی تیاری کرنی ہے معیشت کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ ہم فصل تیار کرنے کے لیے دن رات ایک کریں

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    وزیر خارجہ بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ڈوبا ہواتھا ،لوگ شہباز گل کے ڈرامے کے پیچھے پڑے ہوئے تھے اس وقت ہمیں سیاست کا نہیں سوچنا،کچھ لوگ سازشیں کر رہے ہیں کہ سیلاب کے دوران ان کی حکومت کیسے آئے، ہمارے لوگ زندہ رہیں گے تو سیاست کرسکیں گے، کراچی نہیں پورے ملک کی تعمیر نو کی ضرورت ہے ،خود تعمیر نو کے لیے وسائل جمع کر رہا ہوں، میرے آنے سے پہلے جو ہوا سو ہوا ،اب خود کام کر رہا ہوں ،ماڈل یوسی نہیں پورے سندھ کو ماڈل صوبہ بنائیں گے، ہم نے ایک قوم بن کر سانحات کا مقابلہ کرنا ہے، بین الاقوامی برادری کے سامنے پاکستان میں ہونے والی تباہی کا مقدمہ پیش کیا،امیر ممالک نے امیر بننےکے لیے ہم پر بوجھ ڈالا اور موسمیاتی تبدیلیاں لے آئے، ہم عالمی برادری سے بھیک نہیں انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں پاکستان امریکہ تعلقات بہتری کی طرف جا رہے ہیں،ہمیں صرف پاک بھارت اور پاک افغانستان تعلقات کے حوالے سے دیکھا جاتا تھا میں سیلاب زدگان کو چھوڑ کر جلسے نہیں کر سکتا جہاں میں نہیں جا سکتا وہاں کارکنان جائیں اور بلاول بن کر کام کریں اپوزیشن اراکین قومی اسمبلی میں آتے ہیں نہ کسی دفتر میں جاتے ہیں،

    وزیر خارجہ بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے ملک کو ہر طرح سے نقصان پہنچایا،عمران خان نے خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچا یا ،فنانشل ٹائمز نے لکھا عمران خان نے چندہ چوری کیا پی ٹی آئی دور میں دوست ممالک کےساتھ تعلقات متاثر ہوئے ہیں عمران خان نے اپنی انا کے لیے ملک کو نقصان پہنچایا، عمران خان کا طریقہ کار ہے کہ اتنا جھوٹ بولوکہ لوگ سچ سمجھیں ،عمران خان نے اپنا گھر ریگولرائز کرایا اور دوسروں کے گھر گرائے ، فارن فنڈنگ لینے والا چندہ چور دوسروں پر الزام لگاتا ہے، عمران خان سازش کررہے ہیں کہ سیلاب کے دوران حکومت آئے،سندھ کا پیسہ سپریم کورٹ میں پھنسا ہوا ہے ،اس پیسے سے ہم ایک بی او ڈی کا مسئلہ حل کرتے، ڈھائی سو تربیلا ڈیم جتنا پانی کہاں لے کر جاتے، سو کلو میٹر کی جھیل سندھ کے درمیان بن چکی ہے ،دریائےسندھ کے اردگرد سمندر ہے،عمران خان کی عادت ہے وہ الزامات لگاتے ہیں ،ہم پر کبھی سیلاب متاثرین کی امداد میں کرپشن کا الزام نہیں لگا ،عمران خان پر توشہ خانے میں خیانت کا الزام لگا،عمران خان کے پروپیگنڈے سے کوئی فرق نہیں پڑتا،عمران خان کے ساتھ سندھ کے قوم پرست بھی سیلاب پر سیاست کر رہے ہیں ، یہ کہا جا رہا ہے کہ ہم ڈوبے نہیں ہمیں ڈبویا گیا ، غلط ہے ،

  • تاحیات نااہلی صادق اورامین کے اصول پر پورا نہ اترنے پر ہوتی ہے،چیف جسٹس

    تاحیات نااہلی صادق اورامین کے اصول پر پورا نہ اترنے پر ہوتی ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں تسلیم کیا گیا کہ غلطی ہوگئی نااہلی بنتی ہے مگر تا حیات نہیں، وکیل فیصل واوڈا وسیم سجاد نے کہا کہ الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں اس لیے نااہلی کا فیصلہ نہیں دے سکتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تاحیات نااہلی صادق اور امین کے اصول پر پورا نہ اترنے پر ہوتی ہے اثاثے چھپانے یا غلطی کرنے پر آرٹیکل 63 ون سی کے تحت نااہلی ایک مدت تک ہوتی ہے،

    وکیل نثار کھوڑو فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ فیصل واوڈا کا سارا جھگڑا سینیٹ کی نشست کا ہے ،وکیل فیصل واوڈا وسیم سجاد نے کہاکہ فیصل واوڈا نے نہ حقائق چھپائے نہ کوئی بدیانتی کی، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ
    فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی کب جمع کرائے؟ وکیل نے کہا کہ فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی 7 جون 2018 کو جمع کرائے اور ان پر اسکروٹنی 18 جون کو ہوئی ،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی کب جمع کرایا تھا؟ وکیل نے کہا کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی 11 جون 2018 کو جمع کرایا، ریٹرننگ افسر کو بتا دیا تھا کہ امریکی شہریت چھوڑ دی ہے،امریکن کونسلیٹ جا کر نائیکاپ کینسل کرایا،جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ آپ نے کس تاریخ کو امریکی سفارت خانے میں جا کر نیشنیلٹی منسوخ کرائی؟ وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ امریکی سفارت خانے جا کر کہہ دیا تھا کہ نیشنیلٹی چھوڑ رہا ہوں،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ایمبیسی جا کر زبانی بتا دیا کہ میرا پاسپورٹ کینسل کر دو؟ وکیل نے کہا کہ امریکی شہریت چھوڑنے کا ثبوت میں نے تو نہیں دینا تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ بیان حلفی 11 جون کو جمع کرانے سے پہلے آپ نے زحمت ہی نہیں کی کہ دوہری شہریت کا معاملہ ختم کریں؟ وکیل نے کہا کہ نادرا نے 29 مئی 2018 کو امریکی شہریت کینسل ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا تھا،

    عدالت نے فیصل واوڈا کے وکیل کو الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے متعلق مزید تیاری کی ہدایت کر دی،عدالت نے کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی ،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    واضح رہے کہ ،الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو دوہری شہریت کی بنیاد پر تاحیات نااہل قرار دیا تھا فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی، اپیل میں الیکشن کمیشن اور مخالف شکایت کنندگان کو فریق بنایا گیا،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو تاحیات نا اہل کرنے کا اختیار نہیں تھا الیکشن کمیشن مجاز کورٹ آف لا نہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عجلت میں اپیل خارج کی،الیکشن کمیشن کا نااہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر سینیٹر کے عہدے پر بحال کیا جائے، فیصل واوڈا کی اپیل ایڈووکیٹ وسیم سجاد نے سپریم کورٹ میں دائر کی تھی

    فیصل واوڈاصادق وامین نہیں رہے،حقائق چھپائے:نااہل کیا جائے:مبشرلقمان نےاسپیکرقومی اسمبلی کودرخواست دےدی

    فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

    فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

    بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

    بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

    پی ٹی آئی کی استعفوں کی منظوری کے خلاف رخواست پر سماعت دوبارہ ہوئی ،

    پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کی جانب سےاسلام آباد ہائیکورٹ میں دلائل دیئے گئے، وکیل نے کہا کہ عدالتی سوال پر بعد میں جواب دونگا،اسپیکر نے استعفے منظور کرتے وقت طریقہ کار پر عملدرآمد نہیں کیا،درحقیقت اسپیکر نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے استعفے منظور ہی نہیں کیے اسپیکر نے استعفے منظور کرنے کا فیصلہ بھی خود نہیں کیا، لیکڈ آڈیو سامنے آ چکی ہے عدالت اسکا ٹرانسکرپٹ دیکھ لے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا انکا اپنا فیصلہ تھا؟ کیا قاسم سوری کا استعفے منظور کرنے کا فیصلہ انکا اپنا فیصلہ تھا؟ ہر ایک کو عوام سے مخلص ہونا چاہیے، یہ سیاسی عدم استحکام عوام کے مفاد میں نہیں ہےاگر کوئی پارلیمنٹ کو تسلیم نہیں کرتا تو کیا عدالت سیاسی عدم استحکام کا حصہ بن جائے؟ ہمارا ماضی بھی کوئی اتنا اچھا نہیں ہے،ملکی معیشت اس سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے خراب ہوئی ہے،ہمیں تاریخ سے سیکھنا چاہیے اور وہ دہرانا نہیں چاہیے، منتخب نمائندے پارلیمنٹ کا احترام نہیں کر رہے جو انکو کرنا چاہیے، یہ ارکان پارٹی پالیسی کو تسلیم کرتے ہوئے دوبارہ پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کر کے بیٹھیں گے،اگر پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنا ہے تو پھر تو موقف میں تضاد ہے،علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ پارلیمنٹ جانا نہ جانا پارٹی کا کام ہے، عدالت اس سے دور رہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت آپکو پارلیمنٹ جانے کا نہیں کہہ رہی لیکن آپکے موقف میں تضاد ہے،یہ عدالت درخواست گزاروں اور انکی پارٹی کے کنڈکٹ کو دیکھ رہی ہے، اگر پارلیمنٹ میں نہیں جانا تو یہ ارکان بحالی کیوں چاہ رہے ہیں؟ علی ظفر نے کہا کہ اگر پانچ دن بعد پارٹی پارلیمنٹ جانے کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ ارکان موجود نہیں ہونگے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت آپکو پانچ دن کا وقت دے دیتی ہے، پانچ دن میں ثابت کریں کہ آپ کلین ہینڈز کے ساتھ آئے ہیں،علی ظفر نے کہا کہ عدالت نے استعفے کی منظوری کا طریقہ کار طے کر دیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان نے جینوئن استعفے دیئے تھے یا اپنے لیڈر کی خوشنودی کیلئے؟ بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ پی ٹی آئی نے استعفے دیئے کہ تمام 124 منظور کیے جائیں، اب 11 کو منتخب کر کے استعفے منظور کیے گئے، استعفے درست طور پر منظور نہیں ہوئے اس لیے پارٹی اب استعفے نہیں دینا چاہتی،پارٹی کی پالیسی ہے کہ ہم اب ایم این ایز برقرار ہیں، علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزار بیان حلفی دینے کو تیار ہیں کہ وہ اپنے حلقے کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کرینگے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکی پارٹی کی لیکن یہ پالیسی نہیں ہے، تضاد آ جاتا ہے، آپ اپنے حلقے کے عوام کی نمائندگی نہیں بلکہ سیاسی بنیاد پر واپسی چاہتے ہیں،کیا عدالت درخواست گزاروں کو پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرانے کیلئے درخواست منظور کرے؟ اسمبلی کا ممبر ہو کر اسمبلی سے باہر رہنا اس مینڈیٹ کی توہین ہے،علی ظفر صاحب آپ پہلی رکاوٹ ہی دور نہیں کر پا رہے، آپ یہ ثابت کریں کہ غلطی ہو گئی تھی واپس پارلیمنٹ جانا چاہتے ہیں،یہ بتا دیں کہ آپکو کسی نے استعفے دینے پر مجبور کیا تھا، پارٹی نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا پارلیمنٹ اور عوام کے مفاد میں ہے، عوامی بہترین مفاد میں یہ ہے کہ سیاسی عدم استحکام نہ ہو،عوامی مفاد یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال نہ کیا جائے، یہ عدالت اسپیکر قومی اسمبلی کے پی ٹی آئی کو دوبارہ پارلیمنٹ جانے کا موقع دینے پر سراہتی ہے،اسپیکر نے پی ٹی آئی کو سیاسی افراتفری ختم کر کے واپس پارلیمنٹ جانے کا موقع دیا،کوئی سیاسی جماعت پارلیمنٹ سے بالاتر نہیں، اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہےپارلیمنٹ صرف ایک عمارت نہیں ہے، آج بھی کوئی سول سپرمیسی کی بات نہیں کر رہا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر دس بیان حلفی دیدیں کہ آپ اپنی پارٹی پالیسی کو نہیں مانتے، یہ بیان حلفی دیں تو عدالت آپکی درخواست منظور کر لے گی، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم پارٹی کی پالیسی کو تو تسلیم کرتے ہیں،عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تو پارلیمنٹ کی تحلیل کو غیرآئینی قرار دیا تھا،یہ پارٹی تو سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہی نہیں مان رہی،یہ پارٹی کہتی ہے کہ ہماری طرف سے یہ اسمبلی تحلیل ہو چکی ہم اسکو نہیں مانتے، جو وہ براہ راست نہیں کر سکتے وہ اس عدالت کے ذریعے کرانا چاہتے ہیں،یہ اگر الیکشن چاہتے ہیں تو پھر تو دو ہی طریقے ہیں، پہلا یہ کہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا، پھر عدالتیں آپکو ریسکیو نہیں کرینگی،دوسرا طریقہ آئین کا احترام کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں مسائل حل کرنا ہے، یہ بھی کہہ دیں کہ میں مانتا بھی کسی چیز کو نہیں اور الیکشن بھی ہو جائیں،
    اگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوتا تو پی ٹی آئی آج پارلیمنٹ میں ہوتی،یہ عدالت صرف آئین کے تحت چلے گی، کوئی پارٹی کہے کہ ہم آئین اور پارلیمنٹ کو نہیں مانتے لیکن ہمیں بحال کر دیں، یہ بہت مشکل کام ہے آپ اس میں سے نہیں نکل سکتے، یہ عدالت بہت واضح ہے کہ آئین اور پارلیمنٹ سپریم ہیں،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بیان حلفی پر مشاورت کیلئے ہمیں وقت دیدیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت درخواست کو لمبے عرصے کیلئے ملتوی کر دیتی ہے، جب پارٹی پارلیمنٹ جانے کا فیصلہ کر لے تو متفرق درخواست دیدیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تب کوئی فائدہ نہیں تب تک تو الیکشن ہو جائیں گے، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ درخواست صرف اس الیکشن کو روکنے کیلئے دائر کی گئی ہے؟ یہ عدالت پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کرنے والی کوئی درخواست منظور نہیں کریگی، 123 ممبران پارلیمنٹ نے کہا کہ ہم استعفے دے رہے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مان رہے لیکن کہتے ہیں کہ انہیں بحال کر دیں، یہ موقف کا تضاد ہے، سماعت ملتوی کر دیتے ہیں،یہ عدالت آپکی درخواست پر نوٹس بھی جاری نہیں کریگی، اگر چاہتے ہیں تو آج ہی فیصلہ کر دیتے ہیں،پہلے پٹیشنر مطمئن کریں کہ حقیقی معنوں میں کلین ہینڈز کے ساتھ آئے ہیں، یہ بھی کہیں کہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں،یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کہیں کہ میری مرضی کے مطابق چیزیں ہوئیں تو مانیں گے، یہ کورٹ اس معاملے پر فیصلہ کرے یا ملتوی کر دے؟ پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ فی الحال اس معاملے کو ملتوی کر دیں،عدالت نے سماعت ملتوی کر دی جسے رجسٹرار آفس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کرے گا

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کی استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ استعفوں کی منظوری میں طریقہ کار پرعمل نہیں کیا گیا، یہ عدالت پارلیمنٹ کا احترام کرتی ہے، درخواست گزاروں کو پہلے اپنی نیک نیتی ثابت کرنی ہو گی،کیا یہ درخواست گزار پارٹی پالیسی کے خلاف جائیں گے؟ اس عدالت کو معلوم تو ہو کہ کیا یہ پارٹی کی پالیسی ہے؟ درخواست گزاروں کو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ پارلیمنٹ کا سیشن اٹینڈ کرتے رہے ہیں، حلقے کے عوام نے اعتماد کر کے ان لوگوں کو پارلیمنٹ میں بھیجا،یہ سیاسی تنازعے ہیں اور انکے حل کیلئے پارلیمنٹ موجود ہے کیا یہ تمام ارکان اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف جائیں گے؟ وکیل علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ اراکین پارٹی پالیسی کے خلاف نہیں ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھرتو درخواست قابل سماعت نہیں ، پارٹی تو کہتی ہے کہ ہم نے استعفے دیئے، اگر یہ پارٹی پالیسی کے ساتھ ہیں پھر تو تضاد آ جاتا ہے، یہ عدالت اسپیکر کو ڈائریکشن تو نہیں دے سکتی، ہم نے دیکھنا ہے کہ پٹیشنرز کلین ہینڈز کے ساتھ عدالت آئے یا نہیں؟ بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ پٹیشنرز اپنی پارٹی کی پالیسی کے خلاف عدالت نہیں آئے، اس شرط پر استعفے دیئے گئے تھے کہ 123 ارکان مستعفی ہوں گے، اسپیکر نے تمام استعفی منظور نہیں کیے اور صرف 11 استعفے منظور کیے،ہم کہتے ہیں کہ دیے گئے استعفے مشروط تھے،اگر تمام ارکان کے استعفے منظور نہیں ہوئے تو شرط بھی پوری نہیں ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن کے استعفے منظور نہیں ہوئے انکو پارلیمنٹ میں بیٹھنا چاہیے، جب تک استعفے منظور نہیں ہوتے انکو پارلیمنٹ میں موجود ہونا چاہیے، اراکین کی ذمہ داری ہے کہ اپنے حلقے کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کریں یہی پارٹی کے موقف میں تضاد ہے، اسی لیے نیک نیتی ثابت کرنے کا کہا،اگر دیگر ارکان پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوتے تو شاید یہ عدالت درخواست منظور کر سکتی، ایک طرف پارلیمنٹ میں بیٹھ نہیں رہے دوسری طرف نشستیں واپس چاہتے ہیں،اگر وہ پارٹی پالیسی کے خلاف نہیں آئے تو درخواست منظور نہیں ہو گی،اس عدالت نے آج تک کبھی پارلیمنٹ یا اسپیکر کو ڈائریکشن نہیں دی، یہ پارلیمنٹ کیلئے احترام ہے جو 70 سال سے کسی نے نہیں دی، اپنے سارے سیاسی تنازعے پارلیمنٹ میں حل کریں، ارکان خود مانتے ہیں کہ استعفے جینوئن تھے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ارکان اسمبلی کے استعفے جینوئن مگر مشروط تھے،ہم کہتے ہیں کہ تمام استعفے جینوئن تھے اور انہیں منظور کیا جائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان خود مانتے ہیں کہ استعفے جینوئن تھے، عدالت یہ تصور کیوں نہ کرے کہ اسپیکر پی ٹی آئی کو دوبارہ اسمبلی واپس جانے کا موقع دے رہے ہیں؟سیاسی تنازعات عدالتوں میں لانے کی بجائے پارلیمنٹ میں حل کریں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر استعفے واپس لے لیے جائیں تو پھر پی ٹی آئی اسمبلی واپسی کا سوچ سکتی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان خود مانتے ہیں کہ استعفے جینوئن تھے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ارکان اسمبلی کے استعفے جینوئن مگر مشروط تھے،ہم کہتے ہیں کہ تمام استعفے جینوئن تھے اور انہیں منظور کیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار اسپیکر کے پاس جا کر کہہ سکتے ہیں کہ ہم پارلیمنٹ میں واپس آنا چاہتے ہیں، وکیل نے کہا کہ ہم اسپیکر کے پاس تو نہیں جا سکتے، یہ عدالت نوٹیفکیشن معطل کرے پھر جا سکتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت آپکی سیاسی ڈائیلاگ کیلئے سہولت کاری تو نہیں کریگی،عدالت یہ تصور کیوں نہ کرے کہ اسپیکر پی ٹی آئی کو دوبارہ اسمبلی واپس جانے کا موقع دے رہے ہیں؟ سیاسی تنازعات عدالتوں میں لانے کی بجائے پارلیمنٹ میں حل کریں،پہلے اسمبلی جائیں اور پھر یہ درخواست لے آئیں عدالت درخواست منظور کر لے گی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہم اسمبلی واپس نہیں جا سکتے انہوں نے ہمیں نکال دیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے استعمال نہیں ہو گی، جائیں اور اپنی سیاسی لڑائی اس عدالت سے باہر لڑیں، جب استعفے دیدیے تو اسپیکر نے اپنی مرضی سے منظور کرنے ہیں،ملک میں غیریقینی صورتحال پیدا کر دی گئی ہے، معیشت کا یہ حال اسی غیریقینی صورتحال کی وجہ سے ہے،باتوں سے نہیں ہو گا اپنےعمل سے کر کے دکھائیں،اس عدالت نے اس پارلیمنٹ کو مسلسل احترام کیا ہے، جائیں اور اپنے عمل سے ثابت کریں کہ آپ پارلیمنٹ کا احترام کرتے ہیں، ایک طرف آپ کہہ رہے ہیں ہم پارلیمنٹ کو نہیں مانتے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کو مانتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی کہے کہ عدالت کو مانتا ہوں اور عدالت کو جو مرضے آئے کہتا رہے،سیاسی غیریقینی ملکی مفاد میں نہیں،یہ عدالت درخواست منظور کیوں کرے؟جب تک پارلیمنٹ کے احترام کا اظہار نہیں کرینگے درخواست منظور نہیں ہو سکتی،پارلیمنٹ مانتے بھی نہیں اور کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ میں بھیج دیں،سیاسی جماعت پارلیمنٹ میں واپس جا کر سیاسی عدم استحکام کو ختم کرے، سیاسی عدم استحکام سے ملک کا نقصان ہو رہا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی تو پی ٹی آئی کو موقع دے رہے ہیں کہ آئیں اور عوام کی خدمت کریں، بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ مجھے ایک گھنٹہ دیں میں مشاورت کر کے عدالت کو آگاہ کرتا ہوں،

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے فلور پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا،شاہ محمود قریشی نے وزارتِ عظمیٰ کے الیکشن کے دوران تقریر میں کہا تھا ہم اس ایوان سے مستعفی ہوتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ نئے الیکشن کروائے جائیں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 30 مئی کو سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو استعفوں کی تصدیق کے لیے طلب کیا تھا