Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مریم نواز،رانا ثنا،مولانا فضل الرحمان اور دیگر کیخلاف توہین عدالت درخواست ناقابل سماعت قرار

    مریم نواز،رانا ثنا،مولانا فضل الرحمان اور دیگر کیخلاف توہین عدالت درخواست ناقابل سماعت قرار

    مریم نواز، رانا ثنا اللہ، مولانا فضل الرحمان اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی گئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعلقہ فورم نہ ہونے کا رجسٹرار آفس کا اعتراض برقرار رکھا ہے ،عدالت نے درخوست گزار سے استفسار کیا کہ آپ کی پٹیشن ہے کیا ؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ ان رہنماؤں کی جانب سے سوشل میڈیا پر عدلیہ مخالف مختلف بیانات دئیے گئے ، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اس ہائی کورٹ سے متعلق کوئی ذکر ہے ؟عدالت نے حکم دیا کہ آپ سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ جائیں جن سے متعلق آپ کہہ رہے ہیں درخواست گزار لاہور کا ہے اس کو یہی جگہ کیوں پسند ہے؟ پٹشنر کو کہیں لاہور میں بھی عدالتیں ہیں ، جس وقت یہ بیانات دئیے گئے اس وقت کسی کے کان پر جوں نہیں رینگی ،

    واضح رہے کہ رہنماء مسلم لیگ (نواز) مریم نواز شریف، وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ، جمیعت علماء اسلام مولانا فضل الرحمان و دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی گئی ہے.مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز شریف، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ، جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر رہماؤں کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے.مقامی وکیل علی اعجاز بٹر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے، مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں عطا اللہ تارڑ اور مریم اورنگ زیب کو بھی توہین عدالت درخواست میں فریق بنایا گیا۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ: سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ مریم نواز اور دیگر کو پاکستان کے اداروں اور عدلیہ کا احترام نہیں لیکن بدقسمتی سے یہ لوگ حکومتی معاملات بھی چلا رہے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق: فریقین نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے بارے میں بار بار توہین آمیز زبان استعمال کی اور ان بیانات کے ذریعے نظام انصاف کی ساکھ پر سوال اٹھا کرعوام کا عدلیہ سے اعتماد اٹھانے کی کوشش کی گئی۔

    درخواست کے ساتھ مریم نواز شریف کی 25 جولائی کی پریس کانفرنس کا ٹرانسکرپٹ بھی جمع کروایا گیا ہے. جبکہ استدعا کی گئی ہے کہ چیئرمین پیمرا کو عدلیہ کے خلاف پریس کانفرنسز کا ٹرانسکرپٹ جمع کرانے کی ہدایت کی جائے جبکہ مریم نواز شریف اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

    ھارتی جارحیت پر پاکستان کا ذمہ دارانہ جواب،ہو گی تقریب، وزیراعظم دیں گے مودی کو اہم پیغام

    پاک فضائیہ خطے میں پاکستان کی سالمیت اور وقار کے دفاع کیلئے مکمل تیار ہے: سربراہ پاک فضائیہ

    عسکری قیادت کا پاک فضائیہ کے آپریشنل ایئر بیس پر جاری کثیر ملکی عسکری مشق کا جائزہ

  • بجلی بل: فیول چارج ایڈجسٹمنٹ کی رقم کی واپسی کیلئے چھٹی کے دن بھی بنک کھلے رہیں گے. مریم اورنگزیب

    بجلی بل: فیول چارج ایڈجسٹمنٹ کی رقم کی واپسی کیلئے چھٹی کے دن بھی بنک کھلے رہیں گے. مریم اورنگزیب

    بجلی بلوں میں وصول کردہ فیول چارج ایڈجسٹمنٹ کی رقم کی واپسی اور درستگی کیلئے چھٹی کے دن بھی بنک کھلے رہیں گے.

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 24 گھنٹے میں بجلی کی قیمت میں ریلیف کی فراہمی یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔
    https://twitter.com/Marriyum_A/status/1563019673415086080
    وفاقی وزیر مریم اورنگزیب نے اپنے ٹوئیٹر بیان میں کہا کہ: نگرانی کے لئے کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ 200 یونٹ تک بجلی کے بلوں میں وصول کردہ فیول چارج ایڈجسٹمنٹ کی رقم کی واپسی اور بلوں کی درستگی کے لئے چھٹی کے دن ڈسکوز اور بینک کھلے رہیں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت بجلی صارفین کے مسائل حل کرنے کے لئے اعلی سطح اجلاس ہوا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کے بجلی کے صارفین کیلئے اعلان کردہ ریلیف پیکیج پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ایک کروڑ 66 لاکھ صارفین کو فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دئیے گئے ریلیف کے تحت بلز کی تصحیح جاری ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ریلیف کے اقدامات پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنانے اور صارفین کو بجلی کے 200 یونٹ بلز پر24 گھنٹوں میں ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کے بلز کی تصحیح کیلئے ڈسکوز کا اسٹاف 24 گھنٹےکام کرے۔ بلز کی تصحیح کیلئے تمام اسٹاف کی چھٹیاں ختم کرکے اس کام کو فوری نمٹا کر رپورٹ پیش کی جائے۔

    وزیراعظم نے بلز جمع کروانے کیلئے بینکس کو آئندہ دنوں میں کھلا رہنے کی ہدایت بھی کی۔ وزیرِ اعظم نے بجلی کے صارفین کی شکایات دور کرنے کیلئے اعلی سطح کمیٹی قائم کر دی۔

    واضح‌ رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم کی ہدایت پر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بلوں سے نکالنےکا کام شروع کردیاگیا تھا.

    باغی ٹی وی اسلام آباد کی ایک رپورٹ کے مطابق: لیسکو حکام نے بتایا: عملہ بجلی کے بلوں میں سےفیول ایڈجسٹمنٹ پرائس نکال رہا ہے جس کی وجہ سے لیسکو کے دفاتر میں صارفین کا رش لگ گیا۔ لیسکو حکام نے بتایا کہ اس حوالے سے کوئی تحریری نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوا، فی الحال مینول طریقے سے اندازےکے مطابق بل درست کیے جارہے ہیں، دو روز تک فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور ٹیکسز کا معاملہ طے ہوجائے گا۔

    لیسکو حکام کے مطابق: بجلی بلوں کے ایشو کے حل تک صارفین کےکنکشن کاٹنے سے روک دیا گیا ہے، اب صارفین کو تصحیح شدہ نئے بل جاری کیےجائیں گے۔ لیسکو حکام نے کہا کہ صارفین کو 3 روز کا ریلیف دے رہے ہیں، جو صارف بل جمع کراچکے ان کے اگلے بل میں رقم ایڈجسٹ کی جائے گی، وزارت پاور کمیٹی کل تک نوٹیفکیشن جاری کر دےگی۔
    یاد رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ دنوں بجلی کے بلوں سے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) ختم کرنے کا اعلان کیا تھا.

    کیا آپ جانتے ہیں کہ بجلی کے بلوں پر لگنے والی ’فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ‘ کیا ہے؟

    برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق: انہوں نے اس حوالے سے چند ماہرین سے گفتگو کرنے کے علاوہ آئیسکو کی جانب سے گزشتہ روز جاری کردہ اعلامیے سے بھی مدد لی ہے۔

    عارف حبیب لمیٹڈ میں ہیڈ آف ریسرچ طاہر عباس نے بتایا کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو سمجھنے کے لیے ایکچوئل فیول کاسٹ ( ایک ماہ میں ایندھن پر آنے والی لاگت) اور ریفرنس فیول کاسٹ کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر مالی سال کے آغاز میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) ایک ریفرنس فیول کاسٹ دیتا ہے، یعنی ایک ایسا حوالہ جس سے ہر ماہ ایندھن پر آنے والی کل لاگت کا موازنہ کیا جا سکے۔

    ایک مہینے میں بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ایندھن کی کُل لاگت (باسکٹ فیول کاسٹ) دراصل ملک میں توانائی کے مختلف ذرائع میں استعمال ہونے والے ایندھن (جیسے کوئلہ، ایل این جی، فرنس آئل) پر آنے والی لاگت کے اعتبار سے نکالی جاتی ہے۔ اور یوں ہر ماہ کے اختتام پر اس ماہ کی مجموعی فیول کاسٹ کا موازنہ ریفرنس فیول کاسٹ سے کیا جاتا ہے اور اسی حساب سے یہ ’ایڈجسٹمنٹ‘ دو ماہ کے بعد بجلی کے بلوں میں لگ کر آتی ہے۔

    اگر اُس ماہ مجموعی فیول کاسٹ، ریفرنس کاسٹ سے زیادہ ہو تو آپ کے بل میں ایف پی اے کی مد میں اضافہ ہو گا جبکہ اگر اس ماہ کی مجموعی فیول کاسٹ ریفرنس کاسٹ سے کم ہو تو ایف پی اے کی مد میں کمی آتی ہے جسے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کہتے ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزیر اعظم شہباز شریف نے بجلی کے بلوں سے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز (ایف سی اے) ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے ایک کروڑ 71 لاکھ صارفین کو بجلی کے بلوں کی مد میں اضافی فیول ایڈ جسٹمنٹ چارجز نہیں دینا پڑیں گے، اس ریلیف کی تفصیلات کل سامنے لائی جائیں گی۔
    وزیراعظم نے کہا کہ ٹیوب ویل والے زرعی صارفین کو بھی فیول ایڈجسٹمنٹ سےاستثنیٰ ہوگا،

  • عالمی اداروں کا سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالرز سے زائد فوری امداد کا اعلان

    عالمی اداروں کا سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالرز سے زائد فوری امداد کا اعلان

    عالمی تنظیموں اور مالیاتی اداروں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی اپیل پر سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالرز سے زائد کی فوری امداد کا اعلان کیا ہے۔

    مصیبت کی اس گھڑی میں ہر سیلاب زدہ فرد تک پہنچنا ہے۔ آرمی چیف

    وزیر اعظم نے سیلاب زدگان کو امداد فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی ڈونرز کے ساتھ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، بین الاقوامی مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور ڈونرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں چین، امریکا اور یورپی یونین کے حکام، اقوام متحدہ، عالمی ادارہ صحت کے اداروں نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے عالمی شراکت داروں کو ملک میں بالخصوص سندھ اور بلوچستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بارے میں آگاہ کیا۔

    پاکستان دیئے گئے اہداف کو کامیابی کے ساتھ مکمل کررہا ہے:ایف اے ٹی ایف

     

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی بارشوں اور سیلاب سے ملک میں ایمرجنسی کی صورتحال ہے، بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، مکانات، املاک کے علاوہ فصلوں، باغات اور انفراسٹرکچر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں، رابطہ سڑکیں، پل بہہ جانے اور زمینی راستے کٹ جانے کی وجہ سے ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں مشکلات آ رہی ہیں، پاک فوج اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے ریسکیو اور ریلیف کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔

     

    پاکستان کو بیرونی قرض کی مد میں 130 ارب ڈالرز ادا کرنے ہیں. وزیر مملکت خزانہ

     

     

    وزیراعظم نے کہا کہ 2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی ہے، خوراک، ادویات، خیموں، عارضی پناہ گاہوں کی متاثرین کو اشد ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت، صوبوں، مرکزی و صوبائی محکموں کے اشتراک عمل سے کام کر رہی ہے، فوری طور پر 5 ارب روپے جاری کئے گئے، ہر جاں بحق کے خاندان کو 10 لاکھ روپے کی ادائیگی جاری ہے، 25 ہزار روپے کی سیلاب متاثرین کو فوری نقد ادائیگی کی جارہی ہے جس پر 80 ارب خرچ ہوں گے،

    انہوں نے کہا کہ سیلاب کی تباہی کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ تنہا وفاقی یا صوبائی حکومتیں متاثرین کو مکمل بحال نہیں کر سکتیں، عالمی اداروں، تنظیموں، ممالک اور مالیاتی اداروں کا ہنگامی تعاون درکار ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے بڑے حصے کو پہلے ہی آفت زدہ قرار دیا جا چکا ہے، پہلے دن سے ذاتی طور پر ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہا ہوں، وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ 2022 قائم کیا ہے تاکہ متاثرین کی امداد اور بحالی کی کوششوں میں مزید تیزی آئے۔

    انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں، تنظیموں کی مدد سے متاثرین کی مدد میں بڑی مدد ملے گی، فوج، سرکاری ادارے، شہری خدمات کے محکمے، ڈاکٹرز، نرسز اور رضا کار مشکل حالات میں بڑے جذبے سے کام کر رہے ہیں، متاثرین کی مدد کرنے والے تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ سیلاب کے نتیجہ میں عوام کو پیش آنے والے مشکل حالات پر دل نہایت غمگین ہے، جلد سے جلد ہر متاثرہ پاکستانی تک پہنچنا چاہتے ہیں۔

    وزیراعظم نے انٹرنیشل پارٹنرز سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وسائل کی دستیابی سے ہماری مدد کریں۔ طبی عملے سمیت درپیش حالات سے نمٹنے کے لئے ضروری اشیاء کی فراہمی درکار ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے انٹرنیشنل پارٹنرز کو متاثرہ علاقوں کے دورے کی دعوت بھی دی،حکومت پاکستان تباہ حال علاقوں میں انٹرنیشنل پارٹنرز کے دورے کے انتظامات کرے گی۔

  • سب پاکستانی بارشوں اورسیلاب کی وجہ سے پریشان اپنے بھائیوں کی مدد کےلیے آگےبڑھیں:ترجمان پاک فوج

    سب پاکستانی بارشوں اورسیلاب کی وجہ سے پریشان اپنے بھائیوں کی مدد کےلیے آگےبڑھیں:ترجمان پاک فوج

    راولپنڈی :موسمی تبدیلیوں کے براہ راست اثر کے طور پر اس مون سون کے دورا ن پاکستان کو غیر معمولی بارشوں،GLoFاور Cloud Burstکا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں بلوچستان، سندھ، جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے متعدداضلاع میں سیلابی صورتحال اور بھاری نقصانات ہوئے ہیں۔ ایسے میں اپنی قومی ذمہ داری کے تحت، پاکستان آرمی نے نوٹیفائیڈ متاثرہ علاقوں میں ایک بھرپور ریسکیو اور ریلیف مہم کا آغاز کیا ہوا ہے۔ اس ضمن میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن کو منظم کرنے کے لیے ہیڈ کوارٹر آرمی ائیر ڈیفنس کمانڈ کے ماتحت ریلیف اور ریسکیو آرگنائزیشن قائم کر دی گئی ہے۔ اب تک40,000لوگوں کو محفوظ مقامات اور آرمی کے قائم کردہ137سے زائد ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

    مزید برآں، 200کے قریب عارضی طبی مراکز میں 23,000لوگوں کو ادویات اور طبی مدد فراہم کی گئی ہے۔ اسی طرح آرمی اپنے موجود اسٹاک میں سے3700سے زائد ٹینٹ اور ضرورت کی دیگر اشیاء بھی متاثرین میں تقسیم کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ چیف آف آرمی سٹاف کے خصوصی حکم پر آرمی اپنے3دن سے زائد راشن(تقریباََ1500ٹن) کو بھی سیلاب سے متاثرہ علاقے میں عام لوگوں میں بانٹ چکی ہے۔ اسی جذبے کے تحت آرمی کے تمام جنرل آفیسرز نے اپنی ایک ماہ کی نتخواہ متاثرین کی مدد کے لیے دی ہے۔ علاوہ ازیں دیگر افسران بھی رضاکارانہ بنیاد پر مالی عطیات دے رہے ہیں۔

    لیکن اس سب امداد کے باوجود، سیلاب کی تباہ کاریاں اس قدر زیادہ ہیں کہ مزید ریلیف کی چیزوں اور ادویات کی اشد ضرورت ہے تاکہ متاثرین کی جلد از جلد دادرسی کی جا سکے۔ ایسے میں ہم سب کا یہ قومی فریضہ ہے کہ ضرورت کے اس لمحے میں اپنے متاثرین بہن بھائیوں اور بچوں کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالیں۔ اس سلسلے میں کئی مخیر حضرات نے آرمی سے اس مد میں رابطہ بھی کیا ہے۔ اس اہم کاوش کی اہمیت کے مدِ نظر پاکستان آرمی وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت تمام بڑے شہروں میں عوام کی طرف سے عطیہ کیے جانے والے سامان کی کولیکشن کے لیے عطیہ مراکز قائم کرے گی۔ جہاں ضروری اشیاء جیسا کہ:۔ ٹینٹ، شلٹر، شمسی لائٹس، بستر/گدا، موسمی کمبل /چادر، پانی ذخیرہ/صاف کرنے کی کٹ/ٹینک، ٹارچ/لائیٹس، بارش والے جوتے اور ترپال وغیرہ جمع کیے جائیں گے۔
    راشن(آٹا، گھی، چاول، دال، خشک دودھ، چینی، پتی) پینے کا صاف پانی بھی وصول کیا جائے گا۔

    فرسٹ ایڈ کٹ، ضروری ادویات جیسے کہ ڈائریا، آنکھ، کان اور جلد کی بیماریاں، ڈی ہائڈیریشن، ڈینگی اور ملیریا کی ادویات۔مخیر حضرات سے درخواست ہے کہ اس انسانی ہمدردی اور قومی المیہ کے موقع پر بڑ ھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالیں۔ ان تمام اشیاء کی جلداز جلد سیلاب زدہ علاقوں میں منتقلی او ر متاثرین کو فراہمی پاکستان آرمی یقینی بنائے گی۔ علاوہ ازیں ہم وطنوں سے یہ بھی درخواست ہے کہ غیر ضروری اشیاء جیسے کپڑے، برتن ار کھانے کی کھلی اور خراب ہونے والی اشیاء وغیرہ ان مراکز پر جمع نہ کروائیں تاکہ فراہمی مدد کو متاثرین کی ضرورت کے مطابق مرکوز رکھا جا سکے۔ مزید مالی استطاعت والے پاکستانی بھائیوں سے درخواست ہے کہ حکومت پاکستان کے قائم کردہ اکاؤنٹ میں دل کھول کر عطیات دیں۔

    اس دکھ اور تکلیف کے مرحلے میں پاکستان آرمی، قوم کے شانہ بشانہ اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے ادا کر نے کے لیے کوشاں ہے۔ اس ضمن میں نہ صرف ریسکیو اور ریلیف پر توجہ دی جا رہی ہے بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی خصوصی درخواست پر ایک اچھی Rehabمہم کی بنیادی ضرورت کے طور پر آرمی تمام نوٹیفائیڈ متاثرہ علاقوں میں مشترکہ سروے کرنے میں سول انتظامیہ کو بھرپور مدد فراہم کر رہی ہے۔ جس کا آغاز صوبہ بلوچستان سے کر دیا گیا ہے۔

  • 2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی،وزیراعظم

    2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی،وزیراعظم

    2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی،وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سیلاب زدگان کی امداد کیلئے انٹرنیشنل پارٹنرز کے ساتھ اجلاس ہوا

    اجلاس میں ورلڈ بینک، ایشائی ترقیاتی بینک، بین الاقوامی ڈویلپمنٹ ڈونرز کے نمائندوں نے شرکت کی بین الاقوامی مالیاتی ادارے، ڈونرز سمیت چین، امریکہ اور یورپی ممالک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اقوام متحدہ کے مختلف ذیلی اداروں، عالمی ادارہ صحت کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے وزیراعظم نے انٹرنیشنل پارٹنرز کو ملک بھر میں سیلاب کی تباہی کاریوں کے بارے میں آگاہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بارشوں اور سیلاب سے ملک میں ایمرجنسی کی صورتحال ہے،املاک کے علاوہ فصلیں، باغات اور انفراسٹرکچر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ، سڑکیں، پل بہہ جانے سے ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں مشکلات آرہی ہیں،پاک فوج اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے ریسکیو اور ریلیف کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے، 2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی ہے،سیلاب کی تباہی کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ تنہا وفاقی یا صوبائی حکومتیں متاثرین کو مکمل بحال نہیں کرسکتے

    واضح رہے کہ پاکستان میں مون سون کے غیرمعمولی طویل سیزن کے دوران بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے این ڈی ایم کے مطابق ڈھائی ماہ میں 900 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے

    ذمہ داریاں جانتے ہیں، وطن عزیز کے دفاع کیلیے ہر لمحہ تیار ہیں ،سربراہ پاک فضائیہ

    سربراہ پاک فضائیہ نے 54 ویں کمبیٹ کمانڈرز کورس کی گریجویشن تقریب میں دشمن کو دیا اہم پیغام

    بھارتی جارحیت پر پاکستان کا ذمہ دارانہ جواب،ہو گی تقریب، وزیراعظم دیں گے مودی کو اہم پیغام

    پاک فضائیہ خطے میں پاکستان کی سالمیت اور وقار کے دفاع کیلئے مکمل تیار ہے: سربراہ پاک فضائیہ

    عسکری قیادت کا پاک فضائیہ کے آپریشنل ایئر بیس پر جاری کثیر ملکی عسکری مشق کا جائزہ

    قبل ازیں وفاقی وزیر و پیپلز پارٹی سینئر رہنماء ساجد حسین طوری کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں بہت ہی تکلیف دہ و پریشان کن ہیں، پورا ملک بارشوں اور سیلاب کی لپیٹ میں ہے، اس قومی اور انسانی بحرانی صورت حال میں ہمیں قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے،سیلاب زدگان کی امداد کے لئے ہمیں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہونا چاہیے،اس وقت ہماری ترجیح سیاسی معاملات و اختلافات نہیں سیلاب زدگان کی امداد ہونی چاہئے، متاثرین کو ہم سب کی مدد کی اشد ضرورت ہے سب کو دل کھول کر انکی مدد کریں،

  • مریم نواز، رانا ثناء، فضل الرحمان و دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر

    مریم نواز، رانا ثناء، فضل الرحمان و دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر

    رہنماء مسلم لیگ (نواز) مریم نواز شریف، وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ، جمیعت علماء اسلام مولانا فضل الرحمان و دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی گئی ہے.

    باغی ٹی وی اسلام آباد: مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز شریف، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ، جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر رہماؤں کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے.
    مقامی وکیل علی اعجاز بٹر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے، مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں عطا اللہ تارڑ اور مریم اورنگ زیب کو بھی توہین عدالت درخواست میں فریق بنایا گیا۔

    درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ: سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ مریم نواز اور دیگر کو پاکستان کے اداروں اور عدلیہ کا احترام نہیں لیکن بدقسمتی سے یہ لوگ حکومتی معاملات بھی چلا رہے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق: فریقین نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے بارے میں بار بار توہین آمیز زبان استعمال کی اور ان بیانات کے ذریعے نظام انصاف کی ساکھ پر سوال اٹھا کرعوام کا عدلیہ سے اعتماد اٹھانے کی کوشش کی گئی۔

    درخواست کے ساتھ مریم نواز شریف کی 25 جولائی کی پریس کانفرنس کا ٹرانسکرپٹ بھی جمع کروایا گیا ہے. جبکہ استدعا کی گئی ہے کہ چیئرمین پیمرا کو عدلیہ کے خلاف پریس کانفرنسز کا ٹرانسکرپٹ جمع کرانے کی ہدایت کی جائے جبکہ مریم نواز شریف اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”534043″ /]

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں سماعت سے قبل حکومتی اتحاد کے رہنماؤں نے 25 جولائی کو ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران عدلیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے الیکشن اور آرٹیکل 63 اے سے متعلقہ معاملے پر فل کورٹ بنانے کا مطالبہ دہرایا تھا، تاہم اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق یہ پریس کانفرنس ’سپریم کورٹ کو دباؤ میں لانے کی کوشش‘ تھی.

    اسلام آباد میں ہونے والی اس پریس کانفرنس میں مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر رہنما شریک ہوئے تھے.

    پریس کانفرنس کا آغاز مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف نے کیا تھا، جنہوں نے ’بینچ فکسنگ‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے اسے ایک ’جرم‘ قرار دیا اور کہا کہ ہمارے ہاں انصاف کے نظام کا حال یہ ہے کہ ’جب کوئی پٹیشن آتی ہے تو لوگوں کو پہلے سے پتہ ہوتا ہے کہ بینچ کون سا ہے اور وہ بینچ کیا فیصلہ دے گا۔‘

    مریم نواز نے کہا تھا: ’مجھے میرے ہمدردوں نے مشورہ دیا کہ آپ یہ پریس کانفرنس نہ کریں کیونکہ اس سے آپ کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت اپیل پر اثر پڑ سکتا ہے تاہم میں نے انہیں جواب دیا کہ عوام کے سامنے حقائق سامنے رکھنے چاہییں۔‘

    انہوں نے مزید کہا تھا: ’کسی بھی ادارے کی توہین باہر سے نہیں، ادارے کے اندر سے ہوتی ہے اور ٹھیک اور انصاف پر مبنی فیصلے پر جتنی تنقید کی جائے، وہ معنی نہیں رکھتی۔‘ اس پریس کانفرنس کو قومی سطح پر ٹی وی چینلز پر براہ راست نشر کیا گیا تھا.

  • مصیبت کی اس گھڑی میں ہر سیلاب زدہ فرد تک پہنچنا  ہے۔ آرمی چیف

    مصیبت کی اس گھڑی میں ہر سیلاب زدہ فرد تک پہنچنا ہے۔ آرمی چیف

    مصیبت کی اس گھڑی میں ہر سیلاب متاثرہ فرد تک پہنچنا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

    250ویں کور کمانڈرز کانفرنس آج جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہوئی جسکی صدارت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی ہے۔

    اس کانفرنس میں فورم کو ملک میں سیلاب کی صورتحال اور آرمی فارمیشنز کی جانب سے جاری امدادی کارروائیوں پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے بیرونی اور داخلی سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے.

    آئی ایس پی آر کے مطابق: آرمی چیف نے آپریشنل کاروئیوں کو برقرار رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کوششیں جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
    اجلاس میں شامل اعلی آرمی آفسران نے سیلاب کی صورتحال اور فوج کی طرف سے جاری ریلیف فنڈز اور کاروئیوں کا بھی جائزہ لیا ہے، غیرمعمولی بارشوں اور سیلاب سے قیمتی جانوں کے ضیاع اور مالی طور پر ہونے والے وسیع نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سیلاب متاثرین کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھنے کا عزم کیا۔

    آرمی چیف نے جاری امدادی کوششوں کو سراہاتے ہوئے سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کرنے کی ہدایت کی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ : مصیبت کی اس گھڑی میں امداد کیلئے ہر ایک سیلاب زدہ علاقہ اور متاثرہ فرد تک ہمیں پہنچنا چاہیے اور ان کی مدد کرنی چاہئے.

    آئی ایس پی آر کے مطابق: کانفرنس میں سول انتظامیہ کے ساتھ ریسکیو اور بحالی آپریشنز کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا ہے.

  • عمران خان کی بین الاقوامی میڈیا اور اقوام متحدہ میں پذیرائی ،اصل حقیقت کیا ہے؟

    عمران خان کی بین الاقوامی میڈیا اور اقوام متحدہ میں پذیرائی ،اصل حقیقت کیا ہے؟

    عمران خان کی بین الاقوامی میڈیا اور اقوام متحدہ میں پذیرائی ،اصل حقیقت کیا ہے؟

    اس سال کے شروع میں جب عمران کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی تو نیازی نے اسے بین الاقوامی سازش کہا اور امریکہ پر رجیم چینج کا الزام لگایا مگر اب اچانک اسرائیل سے لے کر اقوام متحدہ تک نیازی کی حمایت میں بول پڑے ہیں تو پاکستان میں لوگوں کی اکثریت یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ آخر دنیا کو ہوا کیا ہے اور اسرائیل سے لے کر انڈیا تک لوگ نیازی کی حمایت میں اتنے دیوانے کیوں ہو گئے اور اس کے پیچھے آخر کونسی لابی ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر راجہ عامر نے ایک تھریڈ لکھا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ آئیے اس کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں اور اس کو سمجھتے ہیں

    پہلے ایک انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم پاکستان میں اختیارات کے ناجائز استعمال کی مذمت کرتی اور ایک ورکنگ گروپ بنانے کا دعوی کرتی مگر پھر واحد صاحب اسے مکمل ایکسوز کرتے اور بتاتے کہ اس کو چلانے والے انڈین ہیں ۔
    انڈین کو آخر عمران سے اتنی کیا دلچسپی ؟
    بات اتنی سادہ نہیں ہے 2020میں ای یو ڈس انفو لیب نے ایک بہت بڑا سکینڈل بے نقاب کیا تھا جسے Indian Chronicles کا نام دیا گیا تھا جو پندرہ سال سے یورپی یونین اور اقوام متحدہ میں ایک بہت بڑے نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان اور چائینہ کے خلاف اور انہیں بدنام کرنے کے لیے کام کر رہا تھا اگر اس نیٹ ورک کا لب لباب یہ ہے کہ پندرہ سال یہ نیٹ ورک 10سے زیادہ اقوام متحدہ سے منظور شدہ این جی اوز،119سے زیادہ ممالک میں 750 جعلی نیوز آوٹ لیٹ ،اور500سے زیادہ ویب ڈومین رکھتا تھا ان کا بنیادی مشن پاکستان اور چائینہ کو Discreditکرنا انڈیا کی عالمی طاقت کو مضبوط کرنا اور انسانی حقوق کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا تھا .آپ کڑیاں ساتھ ساتھ ملاتے جائیں آپ کو یاد ہے امریکہ اور انڈیا نے مل کر سی پیک بارے متفقہ لائحہ عمل بنانے کا اعلان کیا تھا ؟

    اس سارے آپریشن کو Srivastava گروپ چلا رہا تھا انہوں نے این جی او ،تھنک ٹینک ،جعلی اخبارات ،اقوام متحدہ کے باہر مظاہرے ، یورپی پارلیمان کے ناموں پر جعلی ادارے اور ایک لمبا چکر بنایا ہوا تھا ،مثال کے طور پر Prof. Louis B. Sohnجو انسانی حقوق کا ایک بڑا نام اور 2006میں فوت ہو چکے تھے ان کا نام استعمال کیا آپ یہ جعلی رپوٹ چیک کیجئے جو انسٹی ٹیوٹ آف گلگت بلتستان نے لکھی جس میں 2011میں وہ پروفیسر خطاب کر رہے جو پانچ سال قبل فوت ہو چکا تھا ،اسی طرح انہوں نے یوروپین پارلیمان کے سابق صدر جو سیاست سے ریٹارڈ ہو چکا تھا اس کے نام سے ایک جعلی این جی او بنائی جو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے پاکستان میں ہونے والے سیاسی واقعات کی مذمت کر رہی ہے ابھی بھی اقوام متحدہ میں ایک پلانٹڈ سوال عمران نیازی بارے ہوا آپ کو کنکشن سمجھ آیا؟

    پاکستان میں یہ کام پی ٹی آئی نے شروع کیا تھا فرحان ورک ڈاکٹر قدیر کے نام سے اکاونٹ چلاتا تھا پھر کبھی رانی مکر بن جاتا کبھی فرانس کے صدر کا اکاونٹ ایک دفعہ تو ایک رشین جرنلسٹ کا اکاونٹ اور ایک دفعہ تو ایک بلو ٹک اکاونٹ تک خرید کر استعمال کرتا رہا انڈین نیٹ ورک دنیا بھر میں جعلی اخبارات کا ایک بڑا نیٹ ورک بھی چلاتا تھا آپ دنیا کے کسی بڑے ملک اور اس سے ملتے جلتے نام سے اخبار ڈھونڈیں آپ کو وہ مل جائیں گے یوں وہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو ان خبروں سے influence کرتے تھے اگر آپ غور کریں تو پاکستان میں پی ٹی آئی اسی ماڈل پر کام کرتی ہے انہوں نے بھی جعلی اخبارات جیسے خلیج میگ جو فیصل آباد سے چلتا مگر اسے خلیج ٹائم سے جوڑ دیا اور اکثر نیوز چینل اس کی خبریں شئیر کرتے رہے سب سے مزے کی بات یہ کہ جب جب ای یو ڈس انفو لیب نے بہت محنت اور تحقیق سے یہ سب بے نقاب کیا توعمران خان نے اس سارے کا کریڈٹ بھی پی ٹی آئی کو دے دیا کیا آپ نے ایسا وارداتییہ کبھی دیکھا ہے

    پی ٹی آئی نے لندن میں یہودی فرم ہائر کی ، امریکہ میں لابی فرم اور پھر انڈین لابی کی مدد سے اور خود پی ٹی آئی کے لا تعداد جعلی پیجز اور ٹویٹ سے بالکل انڈین chronicle کی طرز پر human rights کو ایک ہتھیار بناتے مغربی ممالک اور اقوام متحدہ کو influence کرنے کی کوشش کی ہے اقوام متحدہ ،یورپی یونین اور یورپی پارلیمان پہلے بھی انڈین فیک نیٹ ورک سے متاثر ہو چکے اور کافی شرمندگی بھی اٹھا چکے کہ پندرہ سال ایک جعلی نیٹ ورک کے زیر اثر بیانات دیتے رہے اب پھر پی ٹی آئی کے معاملے میں ایسا ہی ہوا ہے وہ انڈیا جو پندرہ سال اتنا پیچیدہ نیٹ ورک صرف پاکستان اور چائینہ کے مفادات کے خلاف چلاتا رہا وہ تحریک انصاف کو وہ ساری ایکسپرٹی اور سپورٹ اسی لیے دے رہا کہ پاکستان میں عدم استحکام رہے پاکستان کا انٹرنیشنل امیج خراب رہے پاکستان سی پیک روک دے اور یہ ڈی فالٹ کر جائے ،متعدد بار عمران کی آن لائن طاقت کے پیچھے انڈین عناصر ثابت ہو چکے اس لیے اس بین القوامی سپورٹ کی حقیقت کو سمجھیں

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

     تحریک انصاف اور جعلی بھارتی ہیومن رائٹس واچ کا گٹھ جوڑ سامنے آ گیا،

  • عدالت نے یکم ستمبر تک عمران خان کو گرفتار کرنے سے روک دیا

    عدالت نے یکم ستمبر تک عمران خان کو گرفتار کرنے سے روک دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت میں سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان خود عدالت میں پیش ہوئے، پی ٹی آئی کے وکلا کی ٹیم اے ٹی سی اسلام آباد میں موجود تھی ،اسد عمر ، پرویز خٹک، زلفی بخاری، فواد چوہدری بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے عدالت میں عمران خان کی درخواست ضمانت پر دلائل دیئے، وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ عمران خان کو عدالت کے سامنے آنے دیں، جس پر جج راجہ جواد عباس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو بیٹھا رہنے دیں، ضرورت نہیں ہے،وکیل بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ آپ ایف آئی آر دیکھیں مجسٹریٹ علی جاوید نے عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کرایا،پراسیکیوشن کے مطابق تقریب میں تین افراد کو دھمکی دی گئی،آئی جی اسلام آباد،ایڈیشنل آئی جی اور خاتون جج کو دھمکی کا کہا گیا،وہ تینوں شکایت کنندہ نہیں، بلکہ مجسٹریٹ مدعی ہیں،

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا مدعی مقدمہ علی جاوید کو دھمکی دی گئی ؟ بابر اعوان نے کہا کہ کیا عمران خان نے کہا کہ جان سے مارنا ہے ؟عمران خان نے پولیس حکام کو کہا شرم کرو، ہم نے تمہارے اوپر کیس کرنا ہے، شرم کرو کے الفاظ کو دھمکی بنا دیا گیا ورنہ کئی وزیر اس حکومت کے اندر ہوتے،آئی جی اور ڈی آئی جی کو کہا تمھیں نہیں چھوڑنا، کیس کرینگے ،مجسٹریٹ صاحبہ زیبا آپ بھی تیار ہو جائیں آپ کے اوپر بھی ایکشن لینگے، عمران خان نے دھمکی آمیز الفاظ استعمال نہین کئے، شرم کرو،یہ الفاظ سوسائٹی میں اکثر استعمال ہوتے ہیں، عمران خان نے کسی کو قتل کرنے کا نہیں بلکہ کیس کرنے کا کہا،

    عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی ہے، عمران خان کی ضمانت ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی گئی ہے، عدالت نے پولیس کو یکم ستمبر تک گرفتاری سے روک دیا، عدالت نے پولیس اور مدعی مقدمہ نے نوٹس جاری کر دیا،اگلی سماعت یکم ستمبر کو ہو گی، عدالت نے عمران خان کو دوبارہ یکم ستمبر کو طلب کر لیا ہے،

    عمران خان عدالت پہنچے تو دھکم پیل ہوئی،عدالت کے گیٹ پر لگایا گیا واک تھرو گیٹ پی ٹی آئی کارکنان نے توڑ دیا اسلام آباد پولیس موقع پر موجود تھی لیکن عمران خان کے ساتھ کے پی پولیس کے اہلکار موجود تھے جنہوں نے اسلام آباد پولیس کو بھی دھکے دیئے، صحافیوں کے ساتھ بدتمیزی بھی کی، عمران خان کی عدالت پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت کھچا کھچ بھر چکا تھا، وکلا نے کمرہ عدالت میں عمران خان کے ساتھ تصویریں بنان شروع کیں تو عدالتی سٹاف نے کورٹ روم میں تصاویر بنانے سے روک دیا ،

    قبل ازیں اے ٹی سی اسلام آباد میں خاتون جج ،آئی جی اورڈی آئی جی پولیس کو دھمکیاں دینے سے متعلق کیس ،عمران خان نے درخواست قبل از ضمانت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دائر کر دی ،درخواست بابر اعوان اور علی بخاری کے ذریعے عدالت اے ٹی سی میں دائر کی گئی ،درخواست میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے انتقامی کارووائی کے تحت انسداد دہشت گردی کا مقدمہ بنایا، عدالت ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرے ، دراخواست پر انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس سماعت کریں گے

    عمران خان کی عدالت پیشی سے قبل فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس کےاطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، کمپلیکس کے اطراف کی سڑکیں بند کردی گئی ہیں اور غیر متعلقہ افراد کو عمارت میں داخلے کی اجازت نہیں ہے، عدالت کے باہر تحریک انصاف کے کارکنان کی کثیر تعداد موجود تھی، اسد عمر سمیت دیگر پارٹی رہنما بھی عمران خان کے ساتھ یکجہتی کے لئے آئے تھے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی 3 دن کیلئے حفاظتی ضمانت منظور کی تھی عدالت نے عمران خان کو 25 اگست تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی، ان کے خلاف تھانہ مارگلہ میں دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے

    دوسری جانب عمران خان نے دفعہ 144 خلاف پر درج مقدمہ میں عبوری درخواست ضمانت سیشن عدالت میں دائر کر دی ہے ، تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری اسد عمر نے بھی ایمپلی فائر ایکٹ اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے مقدمے میں عبوری درخواست ضمانت قبل از گرفتاری سیشن کورٹ میں وکیل بابر اعوان کے ذریعے دائر کی ہے، اسد عمر کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جب ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں تو پٹیشنراس وقت لاہور کی ریلی میں شریک تھا ۔میں پولیس کے سامنے شامل تفتیش ہونے کو تیار ہوں ضمانت منظور کی جائے خدشہ ہے کہ مجھے سوسائٹی میں تضحیک کے لیے گرفتار کیا جائے گا۔

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

  • تحریک انصاف اور جعلی بھارتی ہیومن رائٹس واچ کا گٹھ جوڑ سامنے آ گیا

    تحریک انصاف اور جعلی بھارتی ہیومن رائٹس واچ کا گٹھ جوڑ سامنے آ گیا

    تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ رنگ دکھانے لگی۔ پاکستان تحریک انصاف اور جعلی بھارتی ہیومن رائٹس واچ کا گٹھ جوڑ سامنے آ گیا، جعل سازی، فیک نیوز اور جھوٹ کے پرچار میں ہندوستان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔نام نہاد عالمی تنظیموں کے بھیس میں ہندوستان اپنے مزموم عزائم کو جھوٹے پروپیگنڈے کے تحت حاصل کرنے میں سرگرم ہے،  ہندوستانی نام نہاد ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے شہباز گل کی گرفتاری کے معاملے کو اچھالنا اور عمران خان کی دہشتگردی ایکٹ کے تحت گرفتاری کے لئے ورکنگ گروپ کے زریعے ملک میں انتشار پھیلانے کی ایک بہت بڑی سازش ہے۔ اس آرگنائزیشن کے تحت یہ تاثر دیا گیا کہ شہباز گل کی گرفتاری عالمی سطح پر بھونچال لانے کے مترادف ہے۔ در حقیقیت یہ ایک بوگس اور جعلی آرگنائزیشن ہے۔ اس آرگنائزیشن کے اکاؤنٹس سے 3 ٹویٹس ہیں جن میں واضح طور پر بھارت کے دو شہروں بنگلور اور نئی دِلی کی لوکیشن دیکھی جا سکتی ہیں۔

    بنگلور اور دہلی سے حمایتی ٹویٹس ہو رہے ہیں۔سی این این کے فیک سکرین شاٹس اور اسرائیلی چینلز کے تشویشی پروگرام نشر کرنا ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ جب پاکستانیوں نے اس نام نہاد آرگنائزیشن کی حقیقت جاننے کی کوشش کی تو یہ آرگنائزیشن غائب ہو جاتی ہے اور پاکستانیوں کو بلاک کر دیا جاتا ہے۔ کیا حقیقت میں انسانی حقوقی کی تنظیمیں ایسی ہوتی ہیں؟درحقیقیت یہ آرگنائزیشن ہندوستان میں رجسٹرڈ ہے اور ہندوستانی ہی اسے چلا رہے ہیں۔ یہ آرگنائزیشن نیو یارک، سپین اور مڈرڈ میں رجسٹرڈ نہیں بلکہ ہندوستان سے ہی آپریٹ ہو رہی ہے۔ ایک سوچی سمجھی چال کے تحت 100سے زائد ہندوستانی ویب سائٹس نے اس آرگنائزیشن کے بیان کو پھیلایا۔

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

    پاکستان تحریک انصاف کے پروپیگنڈہ اور منفی بیانات کواب بین الاقوامی سطح پر پھیلایا جا رہا ہے یہ سب ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے کہ جب تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ مقدمات نے ان کی حقیقت کا پول کھول دیا ہے۔ٹویٹر کے سیکورٹی چیف نے ہندوستان اور ٹویٹر انتظامیہ کی ملی بھگت کا بھانڈر پھوڑدیا ٹویٹر کے سیکورٹی چیف نے یہ معاملہ امریکی ریگولیٹر کے ساتھ اٹھایا ہے۔ سی این این کے مطابق ٹویٹر کے سیکورٹی چیف کے انکشافات اور ٹویٹر کی غفلت اور جان بوجھ کر ان کوتاہیوں سے پاکستان کی قومی سلامتی اور جمہوریت کے لئے خطرہ پیدا کیا گیا۔ اس سے قبل EU Disinfo Labکی رپورٹ میں بھی ناقابلِ تردید شواہد آچکے ہیں۔ Financial Crimes Enforcement Networkکی بھارت کے 44 بینکس کی منی لانڈرنگ اوردہشتگردوں کی مالی معاونت ،UNHRCاور جینو سائیڈ واچ کی ہندوستان کی بدترین ریاستی دہشتگردی اور انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے چشم کشا انکشافات بھی پوری دُنیا کے سامنے ہیں۔ ان فیک این جی اوز کے ذریعےUN اورUNHRC میں مختلف پاکستان مخالفEvents / Demonstrationمنعقد کرانا اور Motivated Contentکے ذریعے پاکستان کی ساکھ کو متاثر کرنا شامل ہے۔ EU Disinfo Labنے جن UN Accredited اور تھنک ٹیکنس گروپس کا جائزہ لیا تھا اُس کے مطابق حقیقت میں یہ این جی اوز کسی اور مقصد کے لئے رجسٹرڈ کرائے گئے تھے لیکن ان کوResurrectکر کے پاکستان مخالف بیانیے کیلئے استعمال کیا گیا۔