Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سیلاب اور بارشیں،جاں بحق افراد کی تعداد 900 سے تجاوز، 31 لاکھ سے زیادہ متاثر، پی ڈی ایم اے نے تفصیلات جاری کردیں

    سیلاب اور بارشیں،جاں بحق افراد کی تعداد 900 سے تجاوز، 31 لاکھ سے زیادہ متاثر، پی ڈی ایم اے نے تفصیلات جاری کردیں

    پاکستان میں مون سون کے غیرمعمولی طویل سیزن کے دوران بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے این ڈی ایم کے مطابق ڈھائی ماہ میں 900 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے
    باغی ٹی وی رپورٹ:این ڈی ایم اے کے مطابق اب تک ملک کے 116 اضلاع میں جانی یا مالی نقصان ہوا ہے اور جہاں پانچ لاکھ سے زیادہ مکانات اور عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے وہیں دیہی علاقوں میں سات لاکھ مویشی بہہ گئے ہیں،صوبہ بلوچستان سیلاب سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جس کے 34 اضلاع اور تین لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد متاثرین میں شامل ہیں، سندھ کے 23 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے تاہم یہاں متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 22 لاکھ سے بھی زیادہ ہے . پنجاب میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے صوبے کے کل 16 اضلاع اور وہاں کی چار لاکھ 18 ہزار سے زیادہ آبادی متاثر ہوئی ہے .خیبر پختونخوا کے 33 اضلاع میں سیلاب سے 50 ہزار لوگ کسی نہ کسی حد تک متاثر ہوئے
    محکمہ موسمیات نے 26 اگست تک سندھ، جنوبی پنجاب، جنوب، شمال مشرقی بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مزید بارش کی پیشگوئی کی ہے
    پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں سیلاب اور بارشوں کے باعث 151 افراد زندگی کی بازی ہارگئے، 606 افراد زخمی ہوئے جبکہ 3 لاکھ 41 ہزار 77 افراد بے گھر ہو گئے۔

    پنجاب میں 15 جون سے 21 اگست تک مون سون بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں صوبائی ڈزاسٹر منیجمنٹ (پی ڈی ایم اے) نے تفصیلات جاری کر دی ہیں۔پنجاب کے 6 اضلاع کے 5 لاکھ 55 ہزار 893 علاقوں میں نقصان پہنچا، 69اسکول اور7 بنیادی مراکز صحت ڈوب گئے۔پی ڈی ایم اے کےمطابق راجن پور، ڈی جی خان، میانوالی، مظفرگڑھ، سیالکوٹ، لیہ سیلاب سے متاثر ہوئے، 2 لاکھ 1 ہزار 965 زرعی علاقے، 12 ہزار 628 گھر سیلاب کے پانی میں ڈوب گئے۔پی ڈی ایم کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سیلاب اور بارشوں کے باعث 151 افراد زندگی کی بازی ہارگئے، 606 افراد زخمی ہوئے جبکہ 3 لاکھ 41 ہزار 77 افراد بے گھر ہو گئے

    بارش اورسیلاب سے 2 لاکھ سے زائد بڑے جانور، 2 ہزار 586 چھوٹے جانور ہلاک ہو ئے جبکہ سیلاب میں 37 سڑکیں، 8 پل پانی میں بہہ گئے جبکہ 7 نہریں تباہ ہوگئیں،پی ڈی ایم اے کے مطابق 20 ہزار 264 افراد، 516 جانوروں کو سیلاب زدہ علاقوں سے ریسکیوکیا گیا، 147 طبی کیمپ اور متاثرہ افراد کیلئے 9 ہزار 355 کیمپ لگائے گئے۔پی ڈی ایم کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ سے زائد جانوروں کو ویکسینیشن دی گئی، 19 ہزار839 افراد میں فوڈ ہیمپرز تقسیم کیے۔پی ڈی ایم کے مطابق متاثرہ علاقوں میں اب بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے جس میں 551 ریسکیواہکار اور 84 کشتیاں حصہ لے رہی ہیں۔

  • پاکستان نے میزائل فائر کی انکوائری بند کرنے کا بھارتی فیصلہ مسترد کردیا

    پاکستان نے میزائل فائر کی انکوائری بند کرنے کا بھارتی فیصلہ مسترد کردیا

    بھارت کی جانب سے پانچ ماہ قبل پاکستان میں میزائل فائر کرنے کامعاملہ پر گزستہ روز بھارت نے تین افسران کو برطرف کیا آج پاکستان نے ردعمل دیا ہے

    پاکستان نے میزائل فائر کی انکوائری بند کرنے کا بھارتی فیصلہ مسترد کردیا۔پاکستان نے بھارتی سپرسونک میزائل فائر کرنے کے واقعے کی مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر ذمہ دار اقدام پر افسران کو محض سزائیں غیر تسلی بخش، ناقص اور ناکافی ہیں، بھارت پاکستان کے مشترکہ انکوائری کے مطالبے کا جواب دینے میں ناکام رہا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ بھارت میزائل کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سیفٹی اور سکیورٹی پروٹوکول کا جواب دینے میں ناکام رہا، بھارت اسٹریٹجک ہتھیاروں کو سنبھالنے میں خامیوں کوانسانی غلطی کہہ کر چھپا نہیں سکتا۔ بھارت کو میزائل واقعے پر مشترکہ تحقیقات کیلئے پاکستان کا مطالبہ تسلیم کرنا چاہیے، 9 مارچ کو بھارت نے میزائل فائر کرکے خطے کے امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالا پاکستان کا اس معاملے پر تحمل کا مظاہرہ ذمہ دار جوہری ریاست ہونے کا ثبوت ہے۔

    گزشتہ روز بھارت نے کورٹ آف انکوائری کے بعد ‘ تکنیکی غلطی’ سے پاکستان میں میزائل فائر ہونے کے واقعے پر 3 افسران کو برطرف کردیا تھا

    رواں سال 9 مارچ کو بھارت کی طرف سے پاکستان کی حدود میں میزائل فائرہوا تھا۔پاکستان نے بھارت سے وضاحت طلب کی تھی اور مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا تاہم بھارت نے واقعے کو ‘تکنیکی غلطی’ قرار دیا تھا اور واقعے کی اعلیٰ سطح کی انکوائری کا حکم دیا تھا۔

  • اقوام متحدہ کی ہمدردیاں کس بنیاد پر عمران نیازی کے ساتھ ہیں؟،فضل الرحمان

    اقوام متحدہ کی ہمدردیاں کس بنیاد پر عمران نیازی کے ساتھ ہیں؟،فضل الرحمان

    پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ اور امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کی ہمدردیاں کس بنیاد پر عمران نیازی کے ساتھ ہیں؟

    اپنے ایک بیان میں امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) کا کہنا تھا کہ ملعون سلمان رشدی پر حملے کی مذمت کے بعد عالمی میڈیا کھلم کھلا عمران نیازی کی پشت پناہی کر رہا ہے، جس دن سابق وزیراعظم نے سلمان رشدی پر حملے کی مذمت کی ہے اسی روزسے عالمی اداروں نے پاکستان کو دباؤ میں لانا شروع کر دیا۔ عمران نیازی کے باغیانہ رویوں کو جمہوری کور دینا ہے اور دوبارہ اقتدار میں لانا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت ریاستی ادارے شدید عالمی دباؤ میں ہیں۔ ریاستی ادارے عمران خان کی لامحدود کرپشن، باغیانہ سرکشی کے خلاف کاروائی میں تاخیر پر گامزن ہے۔ عمران نیازی اور اس کی ذریت خود کو آئین اور قانون سے ماورا سمجھتی ہے۔ اگر ریاستی اداروں نے دباؤ میں آکر قوم کی چولیں ہلانے والے مجرم کے خلاف قانون کے مطابق کاروائیوں سے گریز کیا جے یو آئی ملک کے نظریاتی اساس اور آئین کے تحفظ کی خاطر کسی کردار سے گریز نہیں کرے گی۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اقوام متحدہ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کی ہمدردیاں کس بنیاد پر عمران نیازی کے ساتھ ہیں؟ پی ٹی آئی چیئر مین کے دور میں انتقامی کاروائیوں کو ایک بار بھی غیر جمہوری قرار دیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے واضح طور پر نیازی کے چوری کے اقدامات قوم کے سامنے لائے گئے، آپ کس بنیاد پر ایک آئین شکن اور پاکستان کے نظریاتی اساس پر حملہ آور شخص کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صیہونی لابی دوبارہ عمران خان کو اقتدار میں لانے کیلئے کوششیں کر رہی ہے.

    پی ڈی ایم سربراہ کا کہنا تھا کہ ابو غریب جیل میں زندہ انسانوں پر کتوں کو چھوڑا گیا؟ اس وقت انسانی حقوق کیوں نظر نہیں آئے؟ آج بھی عافیہ صدیقی امریکی جیلوں میں ہے؟ ان کی ماں دنیا سے چلی گئی۔ انسانی حق یاد نہیں آیا؟ بارہ سال پہلے کہہ دیا لوگ ثبوت مانگتے تھے ثبوت وقت فراہم کرے گا، آج وقت نے ثبوت فراہم کردیئے۔ نیازی کو ساری فنڈنگ انڈیا اور اسرائیل سے ہورہی ہے۔

  • حکومت میری آخری کال سے پہلے الیکشن کا اعلان کر دے،عمران خان کی دھمکی

    حکومت میری آخری کال سے پہلے الیکشن کا اعلان کر دے،عمران خان کی دھمکی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم اپنے اداروں کی کبھی تنقید نہیں کرتے، ہمارا ایک ہی مقصد ہے اس امپورٹڈ حکومت سے ہماری جان چھڑوا کر ملک میں صاف اور شفاف الیکشن کروائے جائیں، حکومت کو کہتا ہوں جب میں کال دوں گا تو وہ آخری کال ہو گی، اس سے پہلے الیکشن کا اعلان کر دیں۔

    ہری پور میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قائداعظمؒ کہتے تھے انگریزوں سے آزادی کے بعد ہم کسی کے غلام نہیں ہیں، پاکستان کی حقیقی طرح آزاد کیا جائے، ملکی فیصلے پاکستان میں ہوں، پاکستان کو کسی اور کی جنگ میں شرکت نہ کروائیں، میں یہ کسی صورت میں نہیں ہونے دوں گا، ہمیں دھمکی ملی اگر امریکہ کی جنگ میں آپ شامل نہیں ہوں گے تو آپ کو ختم کر دیا جائے گا۔ میں امریکا کو کہتا ہم آپ کو ہر طرح مدد کریں گے لیکن دہشتگردی میں ساتھ نہیں دیں گے، میں دہشت گردی کے خلاف کھڑا تھا مجھے دہشت گرد کہا گیا، میں کسی دہشت گردی کے ساتھ نہیں ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ میری قوم جاگ گئی ہے، میری پوری کوشش تھی ہم روس سے سستا تیل لیں اور اپنی عوام کو سستا تیل دیں، پاکستان پر امپورٹڈ مسلط کر دی گئی، آصف زرداری 30 سال سے چوری کر رہا ہے، جیل گیا اور جب واپس آیا پھر چوری شروع کر دی، شہباز شریف پیسہ تم چوری کرو اور پیسہ عوام واپس کرے، ہم نے چوروں سے اس ملک کو آزاد کرنا ہے۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہمارا حقیقی آزادی کا جو جہاد ہے اس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم کسی کی جنگ میں شامل نہیں ہوں گے، ہمارے فیصلے ہم خود کرینگے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے پتا چلا مجھے گرفتار کرنے آ رہے ہیں، میں تیار ہو گیا، چلو جیل بھی دیکھ لیں گے۔ ہمارا ایک خاص بندہ جو امریکا میں پروفیسر تھا، اس نے کہا میں پاکستان کے لیے کام کروں گا وہ ٹی وی پر کوئی بات کرتا ہے، اگر اس نے کوئی بات کی ہے تو اسے عدالت لے کر جایا جائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا، کسی کو نہیں پتا اسے کہاں رکھا گیا ہے۔ اس پر ننگا کر کے تشدد کیا گیا، شہباز گل پر جنسی تشدد کیا گیا،کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا، اس تشدد سے اس کی ذہنی صورتحال ایسی تھی وہ بالکل ٹوٹ گیا۔ عدالت میں ثابت ہو گیا اس پر ذہنی اور جنسی تشدد کیا گیا۔جنہوں نے یہ کام کیا ہے ہم پولیس والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ ہم قانونی طور پر ان کے خلاف کارروائی کریں گے، یہ نہیں کہا ڈنڈا لے کر ان پیچھے جائیں گے۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ساری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی، 25 مئی کو پولیس کے ذریعے تشدد کروایا، جب انہوں نے تشدد کیا تو یہ سمجھے یہ ڈر جائیں گے، میری پارٹی کے لوگوں کو ممی ڈیڈی کہا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 17 جولائی کو پنجاب میں ضمنی الیکشن آ گئے لیکن دھاندلی کے باوجود ایسا پھینٹا پڑا کہ ٹانگیں کانپنی شروع ہو گئی، 17 جولائی کو جب الیکشن میں ہار ملی تو انہوں نے کہا عمران خان کو تکنیکی طور پر شکست دیتے ہیں، جو مرضی کر لیں اب اس حقیقی آزادی کو کوئی نہیں روک سکتا، جب ہمیں ہٹایا گیا تو کہا مہنگائی بہت زیادہ ہو گئی ہے، ہمارے دور میں مہنگائی 16 فیصد تھی، اب 42 فیصد ہے۔ ہمارے دور میں جب تھوڑا سا بھی پٹرول بڑھتا تھا تو مہنگائی مارچ شروع ہو جاتا تھا۔ مجھے نکالنے کے لیے مہنگائی بہانہ تھا۔ آج ہماری ایکسپورٹس کم ہورہی ہیں۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہمارے پاکستانی بہت مشکلوں میں ہیں، میں اپنی پنجاب حکومت کو بھی کہتا ہوں ان کی مدد کریں، شہباز شریف قطر جانے کی بجائے اپنے لوگوں کی مدد کرو، کسی نے تمہیں پیسے نہیں دینے کیونکہ سب کو پتا ہے تم اور تمہارا بھائی چور ہیں، میں اپنی سوشل میڈیا کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے اداروں کی کبھی تنقید نہیں کرتے، ہمارا ایک ہی مقصد ہے اس امپورٹڈ سے ہماری جان چھڑوا کر ملک میں صاف اور شفاف الیکشن کروائیں، صاف اور شفاف الیکشن سے ملک میں استحکام آئے گا، باہر کے لوگ ان چوروں پر اعتبار کر تے ہیں اور نہ ہی پاکستانی قوم ان پر اعتبار کرتی ہے، ان کے ہوتے ہوئے ملک میں استحکام نہیں آئے گا۔ جب میں کال دوں گا تو آپ سب نے تیار رہنا ہے، میں امپورٹڈ حکومت کو کہتا ہوں جب میں کال دوں گا تو وہ آخری کال ہو گی، اس سے پہلے الیکشن کا اعلان کر دیں۔ ملکی قیادت کون کرے گا اس کا فیصلہ عوام کرے گی۔

  • عمران خان کا ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے کل اے ٹی سی میں پیش ہونے کا فیصلہ

    عمران خان کا ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے کل اے ٹی سی میں پیش ہونے کا فیصلہ

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے.

    سابق وزیراعظم عمران خان نے بنی گالہ میں آج ایک اجلاس طلب کیا تھا جس میں انہوں نے اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کی جس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے. عمران خان نے گزشتہ روز بھی اپنے خلاف انسداد دہشتگردی کے مقدمے کو لے کر سیاسی اور قانونی ٹیم سے مشاورت کی تھی جس کے بعد انہوں نے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ اب عمران خان نے اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد کل ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ خاتون جج کو دھمکانے پر عمران خان کے خلاف تھانہ مرگلہ میں انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی تین روز کی راہداری ضمانت منظور کی تھی اور انہیں تین روز بعد متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

    تاہم یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو 2013 میں بھی توہین عدالت کا نوٹس جاری ہوچکا ہے جس پر انہوں نے معافی مانگی تھی۔ 26 جولائی 2013 میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بیان دیا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں جو الیکشن کمیشن اور پاکستان کی عدلیہ کا پچھلے الیکشن کا رول تھا وہ سب سے شرمناک رول تھا، انہوں نے پاکستان کی تاریخ کا وہ الیکشن کروایا جس میں پاکستان میں کبھی اتنی دھاندلی نہیں ہوئی جتنی اس الیکشن میں ہوئی‘۔

    اس بیان میں عمران خان نے کسی بھی شخصیت کا نام نہ لیتے ہوئے تنقید کی تھی جس پر انہیں سپریم کورٹ میں معافی مانگنی پڑی تھی۔ عمران خان کے حالیہ بیان کی بات کریں تو 20 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے شہباز گل پر مبینہ تشدد کے خلاف آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد جب کہ شہباز گل کا ریمانڈ دینے والی خاتون مجسٹریٹ زیبا چوہدری کو نام لےکر دھمکی بھی دی تھی۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آئی جی، ڈی آئی جی اسلام آباد ہم تم کو نہیں چھوڑیں گے، تم پر کیس کریں گے اور مجسٹریٹ زیبا چوہدری آپ کو بھی ہم نے نہیں چھوڑنا، کیس کرنا ہے تم پر بھی، مجسٹریٹ کو پتا تھا کہ شہباز پر تشدد ہوا پھر بھی ریمانڈ دے دیا۔

    اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے قانونی کارروائی کا اعلان کیا تھا جب کہ پیمرا نے عمران خان کے براہ راست خطاب کر پابندی لگا دی تھی۔

  • وزیراعظم‌ آزاد کشمیر تنویر الیاس سو دن میں ہی فلاپ،کارکردگی زیرو،اراکین بھی بول پڑے

    وزیراعظم‌ آزاد کشمیر تنویر الیاس سو دن میں ہی فلاپ،کارکردگی زیرو،اراکین بھی بول پڑے

    وزیراعظم‌ آزاد کشمیر تنویر الیاس سو دن میں ہی فلاپ،کارکردگی زیرو،اراکین بھی بول پڑے

    وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس 100 دن میں ہی فلاپ ہو گئے، حکومت ٹیک آف نہ کر سکی نہ وزیر اعظم حکومتی رٹ منوا سکے، میگا پروجیکٹس کا آغاز تو دور 100 دن میں ایک اینٹ بھی نا لگ سکی کئی میگا پروجیکٹس پر کام بند ریاستی مشینری میں بے چینی بڑھنے لگی وزیر اعظم سردار تنویر الیاس سو دن میں صرف اٹھا رہ دن آزاد کشمیر میں نظر آئے

    وزیراعظم سردار تنویر الیاس سیکرٹریٹ مظفر آباد تین بار آئے اسمبلی اجلاسوں میں شرکت نہ ہی قانون سازی میں دلچسپی آزاد کشمیر حکومت بری طرح پٹ گئی ہزاروں فائلز وزیراعظم کی دستخط کی منتظر محکمانہ اجلاس بھی نہ بلائے جا سکے وزیراعظم سردار تنویر الیاس کا کسی بھی میٹنگ میں پہنچنا ایک خواب لگنے لگا بلدیاتی الیکشن سر پر پہنچ گئے لیکن حکومتی پارٹی کا گراف گر گیا ممبران اسمبلی ،وزرا ،کارکنان و دیگر شدید پریشانی کا شکار سیاسی مبصرین نے وزیراعظم سردار تنویر الیاس کو آزاد کشمیر کی تاریخ کا پہلا فلاپ وزیراعظم قرار دے دیا اور زور دیا ہے کہ عمران خان کو سردار تنویر الیاس کو وزارت عظمی سے الگ کرنا پڑے گا ورنہ آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کا مستقبل تاریک ہو جائے گا خفیہ اداروں کی چشم کشا رپورٹ منظر عام پر آ گئی

    سردار تنویر الیاس کو حلف لئے سو دن گزر گئے لیکن حکومت ٹیک آف کر سکی نہ ہی اپنی رٹ منوا سکی آزاد کشمیر کی پہلی حکومت ہے جو ناکام نہیں بلکہ فلاپ ہو گئی خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس دفتر آتے ہیں نا ہی حکومتی امور پر توجہ دے پا رہے ہیں جس کی وجہ سے ریاست میں شدید بے چینی ہے رپورٹس کے مطابق پہلے سو دنوں میں سرادر تنویر الیاس صرف اٹھارہ دن ریاست میں نظر آئے جبکہ باقی 82 دن اسلا آباد یا کہیں اور گزارے رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ تنویر الیاس حکومتی امور چلانے میں سنجیدہ ہیں نہ ہی ان کی ٹیم میں سنجیدگی نظر آ رہی ہے وزرا ممبران اسمبلی اور کارکنوں کو وزیراعظم تک رسائی ہے نہ ہہ ان کی شنوائی- وزیراعظم کے حوالے سے پارلیمانی پارٹی میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو حکومت اپنی رٹ منوا سکے گی نہ ریاست میں تعمیرو ترقی کا باب شروع کر سکے گی سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ وزیراعظم سردار تنویر الیاس نے اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ تین ماہ کے اندر وزرا کارکردگی شو کریں گے ورنہ گھر جانا پڑے گا لیکن یہاں تو وزیراعظم ہی فلاپ ہو گئے وزیر اعظم نے اپنے دور اقتدار میں کئی بار محکمانہ اجلاس بلائے لیکن وہ خود دفتر نہ آسکے جس کہ وجہ سے اجلاس ملتوی کرنے پڑے وزیراعظم سردار تنویر الیاس نے کابینہ کا اجلاس چار بار بلا کر ملتوی کیا جس پر وزرا نے شدید احتجاج کیا تو وزیراعظم کو مجبورا اجلاس میں آنا پڑا وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کے بلائے ہوئے کسی بھی اجلاس میں شرکاء نہیں آتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں وزیراعظم سردار تنویر الیاس کسی صورت اجلاس میں نہیں آئیں گے وزیراعظم سو رہے ہیں کا تاثر عام ہو گیا

    پارٹی رہنماوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سردار تنویر الیاس پارٹی صدر بھی ہیں لیکن انہوں نے ایک بار بھی پارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا جبکہ بلدیاتی الیکشن سر پر پہنچ گئے لیکن وزیراعظم سردار تنویر الیاس کی توجہ نہیں غیر سنجیدگی بلدیاتی الیکشن میں تحریک انصاف کیلئے مشکلات کھڑی کر سکتاہے عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وزیراعظم پیسے کے بل بوتے پر حکومت چلا لیں گے ان کے خلاف عدم اعتماد کوئی لاسکتا ہے نہ ہی ان کے خلاف کوئی ووٹ دے سکتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ سب ان کے خریدے ہوئے ہیں سرادر تنویر الیاس کا ماننا ہے کہ عمران خان کے قریبی دوستوں کو بھی مینج کر کے حکومت چلا سکتے ہیں کوئی خوف ہے نا خدشہ اس لیے تمام امور میں غیر سنجیدگی کی انتہا پائی جاتی ہے پونچھ میں وزیراعظم کا داخلہ تک بند ہو گیا پونچھ تحریک حکومت کیلئے ہی نہیں بلکہ پاکستان اور کشمیر کے رشتے کو بھی کمزور کر گئی گزشتہ چار ماہ میں خود مختار فیکٹر میں تیزی نظر آئی جبکہ پاک آرمی کے خلاف بھی پہلی بار نعرے بازی کی گئی سلامتی کے اداروں نے سرادر تنویر الیاس کو ریاست کے لیے خطرناک قرار دے دیا

    تنویر الیاس سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے معاون خصوصی بھی رہ چکے ہیں، تنویر الیاس نے ایک اخبار بھی شروع کیا تھا تا ہم ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے اکثر ملازمین کام چھوڑ گئے تھے جس کے بعد تنویر الیاس نے اخبار بند کر دیا،، تنویر الیاس جب سے وزیراعظم آزاد کشمیر بنے ہیں، آزاد کشمیر میں انکی اپنی جماعت تحریک انصاف کے اراکین کئی اضلاع میں احتجاج کر چکے ہیں، سردار تنویر الیاس نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک بار صحافیوں کو صحافت سکھانا شروع کر دی تھی جس پر صحافیوں نے شدید احتجاج کیا تھا، تنویر الیاس کی کارکردگی سے سوائے انکے ترجمانوں کے کوئی بھی مطمئن نہیں ہے

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

  • پاکستان کیخلاف ٹویٹر مہم،بھارت اور ٹویٹر انتظامیہ کی ملی بھگت بے نقاب

    پاکستان کے خلاف ٹویٹر مہم کے تانے بانے کُھلنے لگے
    ٹوٹٹر کے سیکورٹی چیف نے ہندوستان اور ٹویٹر انتطامیہ کی ملی بھگت کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔ ہندوستان نے ٹویٹر انتطامیہ کو انڈین گورنمنٹ کا ایجنٹ پے رول پر رکھنے پر مجبور کیا۔ ٹویٹر کے سیکورٹی چیف نے یہ معاملہ امریکی ریگولیٹرز کے ساتھ اُٹھا دیا۔اِس معا ہدے کے تحت ہندوستان کو حساس User Data تک رسائی حاصل ہو گئی۔

    ٹویٹر انتطامیہ نے اِس بات کی تصدیق کر دی۔ٹویٹر انتطامیہ ہندوستان کے خلاف ایک قانونی جنگ لڑ رہی ہے۔ ٹویٹر انتطامیہ کا مؤقف ہے کہ ہندوستان ٹویٹر پر غیر قانونی اقدامات اور Content میں ملوث ہے۔سی این این کے مطابق ٹویٹر کے سیکورٹی چیف کے یہ انکشافات اور ٹوٹٹر کی غفلت اور جان بوجھ کر اِن کوتاہیوں سے پہلو تہی قومی سلامتی اور جمہوریت کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں بھی اداروں کے خلاف چلائی جانے والی منظم مہم کے کرداروں کو انجام تک پہنچایا جائے۔ اگر امریکہ جیسا ملک اِسے قومی سلامتی اور جمہوریت کے لیے خطرہ سمجھتا ہے تو پاکستان کو بھی اِس حوالے سے اہم اقدامات کرنا ہونگے۔

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

  • عمران خان نے ملک دشمنی کی ایک اور ریڈ لائن بھی کراس کر لی

    عمران خان نے ملک دشمنی کی ایک اور ریڈ لائن بھی کراس کر لی

    تحریک انصاف اور عمران خان نے ملک دشمنی کی ایک اور ریڈ لائن بھی کراس کر لی

    عمران خان کو غیر ملکی میڈیا نے صلہ دینا شروع کر دیا۔امریکی لابنگ فرم کی خدمات و سلمان رشدی کے حق میں بیان کا نتیجہ آ گیا۔ پاکستان کا پیسہ پاکستان کے خلاف استعمال کر کے ملک دشمنی کا نیا باب رقم کیا گیا۔ عمران خان کیلئے امریکی لابنگ فرم سی آئی اے اسلام آباد کے سٹیشن چیف چلا رہے ہیں۔ اس فرم نے تحریک انصاف سے معاہدہ کر ر کھا ہے کہ وہ تحریک انصاف کیلئے مغرب اور بالخصوص اہم اداروں میں لابنگ کرے گی۔ غیر ملکی میڈیا میں عمران خان کے خلاف مقدمات کو یک طرفہ رنگ دینا بے وجہ نہیں۔ پلاننگ کے تحت پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی مہم مفت میں شروع نہیں ہوئی۔ اِس معاہدے کے تحت مختلف بین الاقوامی جرائد میں آرٹیکل، صحافیوں کو بریفنگز، تحریک انصاف کے لوگوں اور سپورٹرز کے انٹرویوز بین الاقوامی میڈیا پر کرائے جائیں گے۔ اس حوالے سے لابنگ فرم نے بھاری رقوم کے عوض مہم چلائیں۔

    بی بی سی ے فواد چوہدری اور ایاز امیر سمیت 3سٹوریز کیں۔ یہ وہی بی بی سی ہے جس کو شیریں مزاری بھارت براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کہہ چُکی ہیں۔ ٹائم میگزین نے ایک یکطرفہ اور بے بُنیاد سٹوری چھاپی۔ امریکی لابنگ فرم نے اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم کو بھی نہ چھوڑا اور اس پلیٹ فارم کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کیلئے استعمال کیا۔ اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے پاکستان کے اندرونی معاملات پر بات کی۔ کیا اقوامِ متحدہ یا کسی اور نے پاکستان کے کسی سیاسی راہنما پر بات کی ہے؟وہ جماعت جو دوسروں پرStrategic Communicationسیل کا الزام لگاتی ہے، خُود ایک امریکی / سی آئی اے کی فرم کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہی ہے۔جس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور بدنام کرنے کے لئے یہ پیسے کہاں سے آرہے ہیں؟کون امریکہ اور مغرب کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے؟ کیا اپنے سیاسی فائدے کے لیے کوئی اس حد تک جا سکتا؟ کیا ادارے غیر ملکی میڈیا کے پراپیگنڈے کے خوف میں عمران خان اینڈ کمپنی کو آئین و قانون سے کھلواڑ کی کھلی چھٹی دے دیں؟ تاریخ کی کتابوں میں اس سوال کا جواب آج کل لکھا جا رہا ہو گا۔ لیکن جواب تو دینا ہوگا۔

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • وزیراعظم شہبازشریف کی امیر قطر شیخ  تمیم  بن حمد  الثانی سے ملاقات

    وزیراعظم شہبازشریف کی امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات

    وزیراعظم شہبازشریف کی امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات ہوئی ہے
    وزیراعظم شہبازشریف کی امیر قطر سے ملاقات امیری دیوان میں ہوئی وزیراعظم کا امیر قطر شیخ تمیم بن حمد ال ثانی نے استقبال کیا۔ امیری دیوان میں وزیراعظم شہباز شریف کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا

    قبل ازیں وزیراعظم محمد شہبازشریف نے قطر کے وزیراعظم اور وزیر داخلہ شیخ خالد بن خلیفہ بن عبدالعزیز الثانی سے ملاقات کی۔وزیراعظم کابینہ کے سینئر ارکان کے ہمرا سرکاری دورے پر دوحہ پہنچے ہیں۔ جہاں وزیراعظم محمد شہبازشریف نے قطر کے وزیراعظم اور وزیر داخلہ شیخ خالد بن خلیفہ بن عبدالعزیز الثانی سے ملاقات کی اور دونوں رہنماؤں نے بات چیت کے دوران اپنے اپنے فریقین کی قیادت کی اور دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا جبکہ مشترکہ دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان روابط میں بڑھتی ہوئی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعاون ,خاص طور پر تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
    وزیراعظم شہباز شریف نے توانائی کے شعبے بشمول قابل تجدید ذرائع، انفراسٹریکچر، نقل و حمل، زراعت اور لائیو اسٹاک اور سیاحت میں قطر کے ساتھ تعلقات کو گہرا اور متنوع بنانے میں حکومت پاکستان کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

    وزیر اعظم نے قطر کو فیفا ورلڈ کپ 2022 کی میزبانی پر مبارکباد دی اور دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد میں قطر کے عوام اور حکومت کی کامیابی کی خواہش کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے قطر میں مقیم پاکستانیوں کی دیکھ بھال پر قطری قیادت کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے انسانی وسائل کی بھرپور صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ پاکستانیوں کے لیے مزید مواقع تلاش کرنے کے لیے قطری قیادت کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں جو اپنی مہارت اور کاروبار کے ذریعے قطر کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

    افغانستان کی تازہ ترین پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعظم نے تعمیری مشغولیت کی اہمیت اور عالمی برادری کو انسانی اور اقتصادی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے افغان عوام کے لیے اپنی حمایت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے افغانستان میں امن اور مفاہمت کے لیے قطر کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ملک کے لیے اس کی انسانی امداد کو سراہا۔

    دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور قطر کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں جن کی جڑیں مشترکہ عقیدے اور اقدار کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں قریبی دوطرفہ تعاون پر مشتمل ہیں۔ دونوں ممالک علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بھی قریبی ہم آہنگی رکھتے ہیں۔

  • چار قانونی کیسز عمران خان کے سیاسی کیریئر کیلئے تباہی کا باعث بن سکتے

    چار قانونی کیسز عمران خان کے سیاسی کیریئر کیلئے تباہی کا باعث بن سکتے

    پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو چار مختلف قانونی کارروائیوں کا سامنا ہے اور ان سب سے ان کے سیاسی کیریئر کو خطرہ ہے۔ عمران خان اگر خود کو ان مقدمات سے بچانے میں ناکام ہوئے تو اس کا مطلب ان کیلئے سیاست سے نااہلی ہوگا۔

    سینئر صحافی انصار عباسی لکھتے ہیں کہ: یہ جس وقت بتایا جارہا ہے کہ وہ (عمران خان) مقبولیت کی بلندیوں پر ہیں، اس وقت قانونی نوعیت کے یہ خطرات توہین عدالت کی دو کارروائیوں، توشہ خانہ کیس میں اسپیکر قومی اسمبلی کے دو ریفرنسز اور فارن فنڈنگ کیس میں اثاثہ جات کے غلط گوشوارے جمع کرانے کے کیس کی صورت میں اُن کے سر پر منڈلا رہے ہیں۔

    توہین عدالت کے دو کیسز میں سے ایک اسلام آباد ہائی کورٹ کا توہین عدالت کا کیس ہے جس میں عدالت نے عمران خان کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں 31؍ اگست کو طلب کر لیا ہے۔

    انصار عباسی مزید لکھتے ہیں: عدالت نے عمران خان کیخلاف از خود نوٹس لیا ہے کیونکہ گزشتہ ہفتے ریلی میں عمران خان نے شہباز گِل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے شہباز گل کو پولیس کی درخواست پر ریمانڈ پر بھیجنے پر ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کو خبردار کیا تھا کہ خاتون جج نتائج کیلئے تیار ہو جائیں۔

    انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس جج کیخلاف ایکشن لیں گے۔ ماہرینِ قانون کے مطابق، یہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کا سنگین کیس ہے۔ خاتون جج کو دھمکی کوئی معمولی معاملہ نہیں لیکن یہ پوری عدلیہ کی توہین اور قانون کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا معاملہ ہے۔ اس کیس میں سزا پانچ سال تک سیاست سے نااہلی ہے۔

    الیکشن کمیشن (ای سی پی) کا توہین کا کیس بھی عمران خان کیخلاف ہے۔ ای سی پی نے ملک کے انتخابی ادارے پر مختلف تقاریر کے دوران غیر پارلیمانی اور ناشائستہ زبان کے استعمال اور چیف الیکشن کمشنر پر الزامات عائد کرنے پر گزشتہ ہفتے عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کو توہین کا نوٹس بھیجا تھا۔

    ای سی پی نے ان رہنماؤں کو نجی حیثیت میں یا پھر وکیل کے توسط سے 31؍ اگست تک جواب دینے کا حکم دیا ہے۔ ای سی پی کا کہنا تھا کہ ادارے نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی مختلف تقاریر کا جائزہ لینے کے بعد نوٹس جاری کیے ہیں۔ یہ تقاریر پیمرا نے ای سی پی کو فراہم کی تھیں۔

    اگر ای سی پی نے ان رہنمائوں میں سے کسی کو بھی قصور وار قرار دیا تو اس کی سزا پانچ سال تک سیاست سے نااہلی ہے۔ عمران خان کیخلاف توشہ خانہ ریفرنس قومی اسمبلی کے اسپیکر نے الیکشن کمیشن کو بھیجا تھا جس میں الزام یہ ہے کہ عمران خان نے ای سی پی میں جمع کرائی گئی اثاثہ جات کی تفصیلات میں کچھ چیزیں چھپائی تھیں۔

    سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو عہدے سے ہٹا کر انہیں تاحیات نا اہل قرار دیا تھا کیونکہ انہوں نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں ’’غیر حاصل شدہ قابل وصول‘‘ اثاثہ جات کو چھپایا تھا۔ عمران خان کے معاملے میں انہوں نے مبینہ طور پر توشہ خان کے تحائف کو گوشواروں میں چھپایا۔

    عمران خان نے یہ تحائف ایک یا دو سال بعد اُس وقت گوشواروں میں ان تحائف کا ذکر کیا جب میڈیا نے توشہ خانہ اسکینڈل پر توجہ مبذول کرائی تھی اور بتایا تھا کہ عمران خان نے ان میں سے کچھ تحائف فروخت کردیے ہیں۔

    نواز شریف اور عمران خان کے کیس میں کسی قدر مماثلت یوں ہے کہ دونوں رہنمائوں نے اپنے اثاثہ جات کے گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے۔ نواز شریف کے معاملے میں دیکھیں تو انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ قابل وصول اثاثہ جات انہوں نے وصول نہیں کیے۔ عمران خان کے کیس میں انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ توشہ خانہ کے تحائف فروخت کرکے انہیں کتنی رقم ملی۔

    عمران خان نے اس حوالے سے ایک سال بعد کے گوشواروں میں معلومات فراہم کیں۔ نواز شریف نے 2013ء کے الیکشن کیلئے جمع کرائے گئے کاغذاتِ نامزدگی میں معلومات فراہم کیں۔ یہ الیکشن ان کی جماعت جیت گئی اور وہ تیسری بار وزیراعظم پاکستان بن گئے۔

    عمران خان نے گوشوارے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران جمع کرائے کیونکہ ارکان پارلیمنٹ کیلئے یہ لازمی شرط ہے کہ وہ ہر سال اپنے اثاثہ جات اور واجبات کے حوالے سے گوشوارے جمع کرائیں گے۔ چوتھا کیس فارن فنڈنگ کیس کا ہے جس میں ای سی پی کے حالیہ فیصلے کے مطابق عمران خان کی پی ٹی آئی فنڈنگ کے حوالے سے سند (سرٹیفکیشن) پر سوالات اٹھ گئے ہیں اور یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ فنڈز کی نوعیت کے حوالے سے غلط حقائق جمع کرانے پر سزا کے مستحق ہیں یا نہیں۔

    تاہم، جو بات زیادہ سنگین ہے وہ عمران خان کی جانب سے کھولے گئے دو بینک اکائونٹس ہیں اور اس حوالے سے دستاویزات پر اُن کے اپنے دستخط ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے فارن فنڈنگ کیس میں یہ بات الیکشن کمیشن کو نہیں بتائی۔

    اس کیس پر عمران خان کیخلاف آئین کے آرٹیکل (f) (1) 62 کے تحت کارروائی ہوگی جس کے نتیجے میں وہ تاحیات سیاست سے نا اہل ہو سکتے ہیں۔ مذکورہ بالا تمام کیسز میں عمران خان کو اگر سزا ہوئی تو وہ صرف سپریم کورٹ میں ہی اپیل دائر کر سکیں گے۔