Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ 24 گھنٹے میں ادا کرنے کا حکم

    سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ 24 گھنٹے میں ادا کرنے کا حکم

    وزیر اعظم شہباز شریف کی کوئٹہ آمد ہوئی ہے

    کوئٹہ پہنچنے پر چیئرمیں این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو بریفنگ دی وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین این ڈی ایم کو امدادی کاموں سے متعلق ہدایات دیں اور کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو فوری ریسکیو کریں،سیلابی پانی اترنے کے بعد فوری طور پر تعمیر نو کا عمل شروع کیا جائے، چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ریسکیو کے فیز میں 70 فیصد کام مکمل کیا جاچکا ہے، بارشوں اور سیلاب سے 1100لوگ معمولی زخمی ہوئے بارش اور سیلاب سے بلوچستان میں 136اموات ہوئیں اور 70افراد زخمی ہوئے

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی اور بلوچستان حکومت قومی جذبے سے بحالی اور آبادکاری کے لیے پرعزم ہیںغیر معمولی بارشوں سے وسیع پیمانے پر نقصان ہوئے بحالی اور امداد کے لیے این ایچ اے کی کوششیں لائق تحسین ہیں، 13جون کو بارش کا سلسلہ شروع ہوا،رواں برس500 فیصد زیادہ بارشیں ہوئیں بارش کا 30سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ,بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے اموات ہوئیں اور مواصلاتی نظام متاثر ہوا چیلنج بڑا ہے ملکر مقابلہ کریں گے جب تک آخری گھرآباد نہیں ہوتا چین سے نہیں بیٹھیں گے ،

    وزیراعظم شہباز شریف نے بارش اور سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ 24 گھنٹے میں ادا کرنے کا حکم دے دیا وزیراعظم شہباز شریف نے جزوی یا مکمل تباہ مکانوں کا معاوضہ بھی بڑھا کر 5لاکھ روپے کردیا

    وزیراعظم شہباز شریف کی بلوچستان آمد،وزیراعلیٰ قدوس بزنجو ،مولانا واسع ہمراہ ہیں،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بعض کمزوریاں بھی سامنے آئی ہیں، ہم فی الفور ایکشن لیں گے، میڈیکل کیمپس میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا،سارا عملہ موجود ہے ریکارڈ موجود نہ ہونے پر دکھ ضرور ہوا، لوگ دور دراز علاقوں سے آئے ہیں،بچوں اور لوگوں سے ملا، یہاں اموات بھی ہوئیں میرے ساتھ وزیر اعلی ٰموجود تھے، کسی کیمپ میں کھانے ملنے کی توثیق نہیں ملی انہوں نے خود کہا ہمیں کھانا نہیں ملا،ایک چھوٹے بچے سے ملا اس کی باتیں 20 سال کے نوجوان جیسی تھیں، بچہ سب بتا رہا تھا، میں نے اس کی تعلیم کے بارے میں بھی کہا ہے آج سے کھانا ملنا چاہیے، صبح اور رات کا کھانا دیا جائے،آج ہی ایکشن لیں گے، تمام کمزوریاں ختم کریں گے،امید ہے وزیراعلیٰ بلوچستان کمزوریوں کا سدباب کریں گے، امدادی کیمپوں میں کھانے کی فراہمی نہ ہونا افسوسناک ہے، وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کو کہا ہے کیمپوں میں کھانا ملنا چاہیے،

    وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ ایک ماہ کا راشن دیا گیا ہے جو کہ نہیں دیا،چیف سیکریٹری تمام متعلقہ افراد کو معطل کریں اور انکوائری کی جائے، راشن اور کھانا فراہم کرنے کیلئے کہا تھا جسے کیوں نظر انداز کیا گیا،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ادویات کی فراہمی کے لیے انتظامات کیے جارہے ہیں ،این ڈی ایم اے کو کہا ہے کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کورقم ادا کی جائے جاں بحق افرادکے لواحقین کو رقوم پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے ،متاثرین خود کوئی لفظ کہیں اس کی نوبت نہیں آنی چاہیے، چیئرمین این ڈی ایم اے آج قلعہ سیف اللہ میں چیکس دے کر آئے ہیں کچے اور پکے گھروں کی تمیز ہم نے ختم کرنی ہے، یہ جائنٹ وینچر ہوگی، جائنٹ وینچر میں کسی بھی بحث کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے،

    وزیراعظم شہباز شریف کی چمن آمد ہوئی، چمن آمد پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بلوچستان سیلاب کی زد میں ہے بلوچستان میں بارشوں کی تباہ کاری اتنی ہوئی جو ناقابل بیان ہے،بلوچستان میں تباہ کاریاں ہوئیں ،اموات ہوئیں اورلوگ زخمی ہوئے قلعہ سیف اللہ، لسبیلہ، جھل مگسی اورکوئٹہ میں بارشوں سے 142لوگ جاں بحق ہوئے سیلاب اوربارشوں سے مکمل اور جزوی مکانات تباہ ہوئے ،سیلاب اور بارشوں سے کھڑی فصلوں کا نقصان ہوا، سڑکیں متاثر ہوئیں ،مصیبت کے وقت میں وفاقی حکومت اور ادارے حاضر ہیں خوراک، ادارے، کیمپس اور ٹینٹ لگائے جارہے ہیں مویشیوں کے علاج معالجے کے لیے بھی ٹینٹس لگائے گئے ہیں،خامیاں بھی ہیں، انہیں دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے غفلت پر عملے کو معطل کیا گیا تاکہ بلوچستان بھر میں امدادی کام میں لاپرواہی نہ ہو،سب کے کان اب کھڑے ہوجائیں گے، ہوش کے ناخن لیں گے،اچھا کام کرنے والوں کو میری اور وزیر اعلیٰ کی جانب سے شاباش ملے گی،اگلے 24 گھنٹے میں سب چیکس تقسیم کرنے کا حکم دیا اور کہاہے شفافیت برقرار رہے،10لاکھ اور 20 لاکھ روپےکے چیکس ان کے آنسو کبھی بھی نہیں پونچھ پائیں گے،جو زخمی ہوئے ہیں انہیں 2،2 لاکھ یا اس سے بھی زیادہ رقم دی جائے گی،

    دوسری جانب محکمہ تعلیم بلوچستان نے گرم علاقوں میں اسکولوں کی تعطیلات میں14اگست تک اضافہ کردیا تعطیلات میں اضافہ طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث کیا گیا،

    قبل ازیں بلوچستان میں بارش اور سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کردی گئی۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق سیلابی ریلوں کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 136 اموات ہوچکی ہیں جن میں 56 مرد، 47 بچے اور 33 خواتین شامل ہیں جب کہ بارشوں کے دوران مختلف واقعات میں 70 افرادزخمی ہوئے۔

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق بارشوں سے 13 پزار 5 سو 35 مکانات کو نقصان پہنچا اور 3 ہزار 4 سو 6 مکانات مکمل تباہ ہوگئے، مختلف اضلاع میں 16 پُلوں اور 640 کلو میٹر سڑکوں کو نقصان پہنچا۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلابی ریلوں میں بہہ کر 23 ہزار13مویشی ہلاک ہوئے، سیلابی ریلوں سے 8 ڈیم اورکئی حفاظتی بند متاثرہوئے جب کہ بارشوں سے ایک لاکھ 98 ہزار ایکڑ پر کاشت فصلوں کو نقصان پہنچا۔

    ملک بھر میں سیلاب کے باعث سیکڑوں دیہات ڈوب گئے، بستیاں اجڑ گئیں، لاکھوں افراد بے یار و مددگار ہو گئے ہزاروں جانور سیلابی ریلوں میں بہہ گئےلاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی زیر آب آ گئیں۔ خیبر پختونخوا میں ایک روز میں 10 افراد دم توڑ گئےسندھ میں ٹھٹھہ، خیرپور سمیت دیگر علاقوں میں سیلابی پانی سب بہا لے گیا۔

  • شدید سیلاب کے بعد بلوچستان میں 5.6 شدت کا زلزلہ،مکانات کی تباہی کا خدشہ

    شدید سیلاب کے بعد بلوچستان میں 5.6 شدت کا زلزلہ،مکانات کی تباہی کا خدشہ

    کوئٹہ:شدید سیلاب کے بعد بلوچستان میں 5.6 شدت کا زلزلہ آیا ہے ،سیلاب کے بعد بلوچستان کے ساحل سمندرکے قریب زلزلہ کے جھٹکے بھی محسوس کیے گئے ہیں۔لوگوں پرخوف کے سائے ہیں ،اطلاعات ہیں کہ اس زلزلے میں پانی میں گھرے ہوئے مکانات کے بچنے کے امکانات بہت کم ہیں

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.6 ریکارڈ کی گئی جس کی گہرائی زیرزمین 60 کلومیٹرتھی، زلزلے کا مرکز پسنی کے قریب آف کوسٹل ایریا تھا، 10 منٹ کے وقفے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس کی شدت 5.0 ریکارڈ کی گئی۔

    زلزلے کے جھٹکے گوادر اور بلوچستان کی دیگر ساحلی پٹی پر بھی محسوس کیے گئے، فوری طور پر زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم زلزلے کے جھٹکوں کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع اس وقت سیلاب کی لپیٹ میں ہیں اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔

    بارشیں اور سیلاب سے بلوچستان میں حالات خراب، ہر طرف تباہی، سیکڑوں مکانات زمین بوس ہوگئے، متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں سیلاب سے تباہی پھیل گئی، جاں بحق افراد کی تعداد 127 ہوگئی، سیکڑوں مکانات زمین بوس ہو گئے اور 565 کلومیٹر شاہراہوں کو نقصان پہنچا، گیارہ پل سیلابی ریلوں کی نذر ہو گئے، متاثرہ علاقوں میں پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن جاری ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کی رہائش گاہ پر اہم اجلاس:فارن فنڈنگ کیس پر مشاورت

    وزیراعظم شہباز شریف کی رہائش گاہ پر اہم اجلاس:فارن فنڈنگ کیس پر مشاورت

    لاہور :وزیراعظم شہباز شریف کی رہائش گاہ پر اہم اجلاس:فارن فنڈنگ کیس پر مشاورت ہورہی ہے جس میں اتحادی بھی شریک ہیں ، اس حوالے سے حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں شہبازشریف لاہور آئے ہوئے ہیں اور لاہور میں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن میں آج اہم اجلاس ہو رہا ہے، جس میں ملک کی سیاسی صورت حال خصوصاً پنجاب میں حالیہ تبدیلی سے متعلق مشاورت کی جائے گی۔

    وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی رہائش گاہ پر آج بروز اتوار 31 جولائی کو سیاسی امور سے متعلق اہم اجلاس ہو رہا ہے۔

    اجلاس کی صدارت میاں محمد شہباز شریف کریں گے، جب کہ وفاقی وزیر رانا ثناءاللہ، سعد رفیق، سردار ایاز صادق، حمزہ شہباز سمیت سینیر قیادت اجلاس میں شرکت کر رہی ہے۔ اجلاس میں آئندہ کا سیاسی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

    اجلاس کے شرکا ن لیگ کو پنجاب میں فعال کرنے کیلئے حکمت عمل طے پر بھی غور کریں گے، جب کہ فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے اتحادیوں سے مشاورت اور تجاویز پر غور و خوص کیا جائے گا۔

    اجلاس دوپہر 3 بجے شہباز شریف کی رہائش گاہ ماڈل ٹاون میں شروع ہوا۔جو ابھی تک جاری ہے اور اس میں عمران خان کے خلاف پی ڈی ایم سمیت دیگرجماعتوں کو مل کرکام کرنے پرزور دیا جارہا ہے

  • عمران خان کا  دورہ لاہور،پرویزالہیٰ سے ملاقات، پنجاب کابینہ کی تشکیل پر مشاورت

    عمران خان کا دورہ لاہور،پرویزالہیٰ سے ملاقات، پنجاب کابینہ کی تشکیل پر مشاورت

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان وزیر اعلیٰ آفس لاہور پہنچ گئے ،وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی نے چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کاخیرمقدم کیا.چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے وزیر اعلی چودھری پرویز الٰہی اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی نے ملاقات کی.ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، سیاسی صورتحال اور پنجاب کے انتظامی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا.صوبے کے عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات پر بھی بات چیت کی گئی.

    عمران خان نے پنجاب سے غیر آئینی و غیر قانونی حکومت کے مکمل خاتمے پر چودھری پرویزالٰہی اور مونس الٰہی کو مبارکباد دی ، چودھری پرویزالٰہی نے سیاسی وفاداریاں بدلنے والوں کے خلاف بھرپور موقف پر کھڑا رہنے پر عمران خان کی سیاسی بصیرت کو سراہا ،عمران خان نے پنجاب کے عوام کو ریلیف دینے کیلئے تمام تر کاوشیں بروئے کار لانے کی ہدایت کی. وزیر اعلی چودھری پرویزالٰہی نے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے کئے گئے حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا

    عمران خان نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی،

    عمران خان نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی ہرممکن مدد کی جائے۔ چودھری پرویزالٰہی کا کہنا تھا کہ متاثرین سیلاب کی مدد کے لیے انتظامیہ اور متعلقہ ادارے متحرک ہیں، جاں بحق افراد کے لواحقین کو 8، 8 لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔

    زرائع کے مطابق عمران کان نے چوہدری پرویزالہی کی ملاقات میں پنجاب کابینہ کی تشکیل، صوبے کی انتظامی صورتحال اور آئندہ ترجیحات پر مشاورتکی گئی.تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پنجاب کے تمام ڈویژن کے پی ٹی آئی اور ق لیگ کے ارکان اسمبلی سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

    چیئرمین تحریک انصاف سے نو منتخب سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان، نومنتخب ڈپٹی سپیکر واثق قیوم عباسی بھی ملاقات کریں گے،عمران خان مختلف انتظامی اجلاسوں کی صدارت کریں گے، پنجاب کابینہ کے لئے ناموں کو بھی حتمی شکل دی جائے گی۔

  • آج پاکستان کو بچایا ہے تو نواز شریف حکومت نے بچایا ہے،مفتاح اسماعیل

    آج پاکستان کو بچایا ہے تو نواز شریف حکومت نے بچایا ہے،مفتاح اسماعیل

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ روپے پر پریشر جلد ختم ہو گا، رواں ماہ 5 ملین ڈالر کی درآمدات ہوئیں۔ درآمدات میں کمی خوش آئند ہے۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے 150 یونٹ سے کم استعمال کرنیوالے دکانداروں کو ٹیکس چھوٹ کا اعلان کر دیا.

    حکومت محض ایک قومی فریضہ سمجھتے ہوئے سنبھالی،گورنر پنجاب

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت نے تاریخ کا سب سے زیادہ قرضہ لیا، سابق حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے تجارتی خسارہ بڑھا، 4 سال میں 20 ہزار ارب قرض لیا جس سے ملک کو معاشی نقصان ہوا۔ عمران حکومت نے بجلی منصوبوں میں سرمایہ کاری نہیں کی۔ ان کے دور میں ٹیکس کولیکشن میں کمی ہوئی، معیشت کے تمام شعبوں کو تباہ کیا گیا۔ عمران خان بتائیں انہوں نے کیا معاشی اصلاحات کیں۔

     

    عمران خان نے پاکستان دشمن لابی سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی،احسن اقبال

     

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہماری حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔ کوشش ہے کرنٹ اکاونٹ خسارہ ایک سال میں سرپلس کر دیں۔ مقامی صنعت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ درآمدات پر پابندیاں مرحلہ وار ختم کریں گے۔ شاہد خاقان عباسی نےایل این جی کے سستے ٹرمینل لگائے۔ الیکشن کمیشن سے اپیل ہے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے۔ آج پاکستان کو بچایا ہے تو نواز شریف حکومت نے بچایا ہے،آج تک یہ نہیں بتایا گیا نواز شریف نے کرپشن کہاں کی،آپ نےنواز شریف کو سیاست سے ہٹانے کی بہت کوشش کی.

    ان کا کہنا تھا کہ آج سے 100 ڈیڑھ سو یونٹس کم استعمال کر رہے ہیں ان کے ٹیکس کم کر دیں گے،نواز شریف نے جب لندن میں اپارٹمنٹ لیے تھے، اس سال ان کی کمپنی نے 4 سو کروڑ کمائے تھے،جج ارشد ملک نے تو غلط فیصلہ کیا ،حیرت ہے سپریم کورٹ نے فیصلہ واپس نہیں کیا، آپ نے پچاس لاکھ گھروں میں سے کتنے گھر بنائے، مجھے دکھائیں،آپ کے پاس 9 ارب ڈالر ہیں،آپ نے 21 ارب ڈالر دنیا کے دینے ہیں،ایک کروڑ نوکریاں دینی تھیں 10لاکھ کو بھی دی،پھر بھی ہمیں چور اور غدار کہتے ہیں، شرم نہیں آتی جھوٹ بولتے ہوئے،ہم نے وقت ضائع نہیں کیا، چلے سوچا جو بھی ہو بات کریں گے، تھوڑی سی ایمنسٹی دے دی کہا کیا فرق پڑتا ہے، فرق پڑتا ہے خان صاحب، کہتے ہیں تھوڑا سا معاہدہ توڑ دیا تو کیا فرق پڑتا ہے، عمران خان نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے وعدے توڑے،20فیصد گیس چوری ہوتی تھی یا ہوا میں اڑادی گئی کسی کو پتا ہی نہیں چلا.

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ملکی معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا،پی ٹی آئی نے 70 سال کے قرضے کے مقابلے میں 80 فیصد قرضہ لے لیا،جولائی میں ادائیگی کرنی تھی اس لیے رواں ماہ زیادہ دباو تھا،جون میں 3.8 بلین کی پیٹرولیم مصنوعات خریدی تھیں،ہم نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے،جولائی میں درآمدات بہت کم ہے، اگست سے یہ دباو ختم ہوجائے گا،اس ماہ ہمیں اسٹیٹ بنک کو 800 ملین ڈالر زیادہ دینے پڑے جو خسارہ ہوا،خان صاحب نے آئی ایم ایف سے وعدہ توڑا تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھا،اگلے ماہ سے برآمدات کو بڑھانے کی کوشش کریں گے.انہوں نے کہا کہ اس مہینے 5 ملین ڈالرز کی درآمدات ہوئی ہیں، جون میں 3.8 بلین کی پیٹرولیم مصنوعات خریدیں، درآمدات میں کمی کے باعث روپے کی قدر مستحکم ہو رہی ہے۔

  • بلوچستان میں سیلاب سے تباہی، جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی،پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن

    بلوچستان میں سیلاب سے تباہی، جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی،پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بارش اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی جبکہ سیکڑوں مکانات بھی تباہ ہوگئے۔ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچنے سے پاک ایران مال بردار ٹرین سروس معطل کر دی گئی جبکہ قومی شاہراہ کو نقصان پہنچنے سے بلوچستان سے کراچی جانے والے پھل اور سبزیوں کی ترسیل بھی معطل ہوگئی۔

    متاثرہ علاقوں میں پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی طبی امداد فراہم کرنے اور مواصلاتی ڈھانچے کو کھولنے کے علاوہ ریسکیو، امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اٹک، تربیلا، چشمہ اور گڈو کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ سندھ کے علاوہ تمام دریا معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں۔ ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

    آئی ایس پی آر مردان میں سب سے زیادہ 133 ملی میٹر اور مہمند میں 85 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ مردان میں پانی نکالنے کی کوششیں کی گئیں۔ ضلع مہمند کے مقامی نالوں میں سیلاب کی اطلاع ملی ہے۔ سیلاب متاثرین میں امدادی اشیاء تقسیم کی گئیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں اضلاع میں میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں۔

    جھل مگسی گندھاوا کا مکمل رابطہ بحال کر دیا گیا ہے۔گندھاوا اور گردونواح میں آرمی میڈیکل کیمپ میں 115 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ خضدار ایم-8 اب بھی منقطع ہے۔ رابطے کی بحالی پر کام جاری ہے جبکہ حافظ آباد میں سی ایم ایچ خضدار اور ایف سی کی جانب سے لگائے گئے فیلڈ میڈیکل کیمپ میں 145 متاثرہ افراد کا علاج کیا گیا۔ باباکوٹ اور گندھا کی متاثرہ آبادی کے لیے بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیلاب متاثرین میں راشن اور پکا ہوا کھانا تقسیم کیا گیا۔ گندکھا میں فیلڈ میڈیکل کیمپ میں مختلف مریضوں کا علاج کیا گیا۔چمن میں بارش نہیں ہوئی۔ باب دوستی مکمل طور پر فعال ہے۔ نوشکی پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔پکا ہوا کھانا 1000 سے زیادہ لوگوں کو دیا گیا ہے۔ 3 مقامات پر تباہ ہونے والے این-40 کی مرمت کر کے ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔ لسبیلہ علاقے میں بارش نہیں ہوئی۔ صورتحال مستحکم ہو رہی ہے.گوادر میں جنرل آفیسر کمانڈنگ نے حب اور اتھل کا دورہ کیا۔ قراقرم ہائی وے میں سکندر آباد کے قریب 2 مٹی تودے گرنے کی اطلاع تھی۔ ایف ڈبلیو او کی جانب سے سڑک کو یک طرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    بلوچستان کے اکثر علاقوں میں وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی ریلوں سے بیشتر رابطہ سڑکیں بہہ گئیں۔

    صوبے بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے پیش آنے والے حادثات میں ساڑھے 13 ہزار مکانات متاثر ہوئے ہیں جبکہ بجلی کے 140 کھمبے گر چکے ہیں۔ کوئٹہ میں انگوروں کے باغات تباہ ہو گئے، ضلع واشک میں سیلابی ریلہ پیاز سے بھری بوریاں بہا کر لے گیا۔

    محکمۂ موسمیات نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آج بھی موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر دی۔
    کوئٹہ، ژوب، زیارت، موسیٰ خیل، قلعہ عبداللّٰہ، پشین، بارکھان میں آج بادل برس سکتے ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں سب سے زیادہ بارش ژوب میں 45 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔تاریخ رقم کرنے والا مون سون کا چوتھا اسپیل بلوچستان کے جنوب مشرق اور وسطی علاقوں میں تباہ کاریوں کا باعث بن رہا ہے۔

     

    سکھر بیراج سے مزید 12 لاشیں برآمد

     

     

    شمال میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع قلعہ سیف اللّٰہ کے دور افتادہ علاقے اور بلوچستان کے بلند ترین مقام کان مہتر زئی میں نظامِ زندگی مفلوج ہو گیا۔پہاڑوں پر زندگی گزارنے والے حالات سے مجبور ہو کر شہروں کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

     

    سیلاب،حکومت کے ساتھ رفاہی ادارے بھی آگے بڑھیں،سراج الحق

     

     

    بلوچستان میں بارشوں اور ڈیموں اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔لوچستان میں اب تک بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد کی تعداد ایک سو 26 تک پہنچ گئی، دشتگور انکی ندی سے تین بچیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔لوچستان میں اب تک بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد کی تعداد ایک سو 26 تک پہنچ گئی.

    بارشوں اور مختلف واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد میں 45 مرد، 32 خواتین جبکہ 38 سے زائد بچے شامل ہیں، جن میں سے بیشتر سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے، اس کے علاوہ ہزاروں مویشی بھی سیلابی ریلے میں بہہ کر ہلاک ہوگئے۔وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ متاثرین کے نقصان کا ازالہٰ اور انکی جلد از جلد بحالی کی جائے گی۔

    بلوچستان کے سابق وزیراعلی نواب اسلم رسانی نے موٹر سائیکل پراپنے حلقہ میں سیلاب اور بارشون سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے.

    علاوہ ازیں سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں 43 مرد، 7 خواتین اور گیارہ بچے شامل ہیں۔جھل مگسی، قلعہ عبداللہ، نوشکی، مستونگ سمیت دیگر علاقے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے ہیں، جہاں سیلابی ریلوں کی تباہی سے سیکڑوں گھر ملبے کا ڈھیر بنے ہوئے ہیں اور مقامی شہری بے یار و مددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں۔

    دوسری جانب لک پاس کے قریب واقع ڈیم ٹوٹنے کے باعث کوئٹہ تفتان شاہراہ زیرآب گئیں، جس کے بعد شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بارش اور سیلاب سے بلوچستان میں 2 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہوگئی جبکہ ہزاروں خاندان بے گھر ہوگئے ہیں جبکہ 15 پُل متاثر ہوئے، متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کا متعلقہ اداروں کے ہمراہ ریسکیو آپریشن جاری جاری ہے جبکہ پانچ میڈیکل کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ سیلابی ریلے میں دالبندین کے قریب ریلوے ٹریک بہہ گیا جس کے نتیجے میں پاک ایران ریلوے سروس کو بند کردیا گیا جبکہ باب دوستی سے پانی کی نکاسی کر کے اسے پیدل آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    مزید برآں ڈی جی پی ڈی ایم اے نےڈی جی خان ڈویژن کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا،ڈی جی پی ڈی ایم اے نے سیلاب سے جان بحق ہونے والے خاندانوں سے ملاقات کی اورلواحقین سے اظہار تعزیت کیا،ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے عثمان خالد اور ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی ڈی جی پی ڈی ایم اے کےہمراہ تھے.

    ڈی جی پی ڈی ایم اے فیصل فرید کا کہنا تھا کہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر بہت افسوس ہوا،مشکل گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔سیلاب سے ڈی جی خان ڈویژن کو بہت نقصان ہوا،حکومت پنجاب کی جانب سے گھروں، فصلوں اور مویشیوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرہ افراد کی مالی معاونت کی جائے گی،میڈیکل کیمپس میں سیلاب متاثرین کو وبائی امراض سے بچاؤ کی ویکسین بھی لگائی جا رہی ہیں۔ سانپ کے کاٹنے سمیت دیگر ادویات میڈیکل کیمپس میں دستیاب ہیں۔حکومت پنجاب کی ہدایت کے مطابق سیلاب متاثرین میں خشک راشن،اور خیمہ جات کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔ سیلاب کے پانی کا اخراج کافی حد ہو چکا،متاثرین کی گھروں میں شفٹنگ جاری ہے۔ وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی ریلیف کی تمام سرگرمیوں کی خود مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ تمام متعلقہ محکمے مربوط انداز سے ریلیف کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت کے مطابق سیلاب سے متاثرہ بہن بھائیوں کوتنہا نہیں چھوڑیں گے-

    ڈیرہ غازی خان ڈویژن اور میانوالی کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اےکمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان انور نے تونسہ شریف کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سردار جعفر خان بزدار،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو طیب خان،اے سی تونسہ اسد چانڈیہ اور دیگر دوران ہمراہ تھے ڈی جی خان نےسیلاب کی تباہی کاریوں کا جائزہ لیا۔ سیلاب متاثرین میں خیمے اور خشک راشن کے تھیلے تقسیم کئے۔متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کمشنر محمد عثمان انور نے کہا کہ مزید بارش نہ ہونے پر تین روز کے اندر ہر متاثرہ گھر تک امدادی سامان پہنچا دیں گے ۔امدادی سامان کی شفاف تقسیم کےلئے بستی سطح کی ٹیمیں تشکیل دے دیں ہیں۔سروے ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں ہیں۔تخمینہ مکمل ہونے پر گھر اور فصلوں کا ازالہ کیا جائیگا
    سردار جعفر خان بزدار نے کہا کہ متاثرہ انفراسٹرکچر کی جلد بحالی ممکن بنائی جائے ۔متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سیلاب زدگان کے دکھ میں برابر کی شریک ہیں۔ہر متاثرہ فرد کی بحالی تک کام کرتے رہیں گے،کمشنر عثمان انور نے بستی چھتانی کا بھی دورہ کیا۔سیلابی ریلے میں جاں بحق افراد کےلئے فاتحہ خوانی اور لواحقین سے تعزیت کا بھی اظہار کیا۔

  • چودھری پرویز الٰہی کا سیلاب متاثرین کے لئے مالی امداد کااعلان

    چودھری پرویز الٰہی کا سیلاب متاثرین کے لئے مالی امداد کااعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیرصدارت اجلاس منعقد ہوا.اجلاس میں وزیراعلی نے ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفر گڑھ اور میانوالی کے سیلاب متاثرین کے لئے مالی امداد کااعلان کر دیا.

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ پنجاب حکومت سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو 8،8لا کھ روپے مالی امداد دے گی، گھروں، فصلوں او رمویشیوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرہ افراد کی مالی معاونت کی جائے گی، سیلاب متاثرہ علاقوں میں سب سے پہلے ریسکیو 1122کا عملہ پہنچا۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی جلد تعمیر ومرمت کاحکم دیا.ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں کی بحالی کا کام جنگی بنیادوں پر شروع کیاجائے- وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس لگانے کی ہدایت بھی کی.

    چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ میڈیکل کیمپس میں سیلاب متاثرین کو وبائی امراض سے بچاؤ کی ویکسین بھی لگائی جائے، سانپ کاٹنےاور ہیضہ سے بچاؤ کی ادویات میڈیکل کیمپس میں دستیاب ہونی چاہئیں، سیلاب متاثرین میں خشک راشن تقسیم کیاجائے، ڈی واٹرنگ پمپس کے ذریعے سیلابی پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا جائے-

     

    ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

     

    چودھری پرویز الہٰی نے ہدایت کی کہ کمشنر،ڈپٹی کمشنرز،آر پی او اور ڈی پی اوزمنتخب نمائندوں کے سا تھ ملکر متاثرین کی دادرسی کے لیے کوئی کسراٹھا نہ رکھیں ، ریلیف کی تمام سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کی جائے اور باقاعدگی سے رپورٹ پیش کی جائے، تمام متعلقہ محکمے مربوط انداز سے ریلیف کی سرگرمیوں کو مزید تیز کریں –

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ میں خود بھی جلد سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کروں گا، سیلاب سے متاثرہ بہن بھائیوں کوتنہا نہیں چھوڑیں گے-چودھری پرویز الٰہی

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیرصدارت اجلاس میں ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفر گڑھ اور میانوالی کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیاگیا. اجلاس میں سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد،اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سردار محمد خان لغاری، سیف الدین کھوسہ،جاوید اخترلنڈ، محی الدین کھوسہ، عامر نواز چانڈیہ،ثناءاللہ خان مستی خیل، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ محمدخان بھٹی،سابق چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سلمان غنی،سابق پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ جی ایم سکندر، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ، سیکرٹری صحت،ڈی جی پنجاب ایمرجنسی سروسزاور متعلقہ حکام نے شرکت کی.

  • ڈیرہ ۔ راولپنڈی سے راجن پورجانے والی مسافرکوچ تیزرفتاری کے باعث الٹ گئی ،ایک ہلاک16 مسافرزخمی

    ڈیرہ ۔ راولپنڈی سے راجن پورجانے والی مسافرکوچ تیزرفتاری کے باعث الٹ گئی ،ایک ہلاک16 مسافرزخمی

    ڈیرہ غازیخان۔ راولپنڈی سے راجن پورجانے والی مسافرکوچ تیزرفتاری کے باعث الٹ گئی ،بہت سے مسافرزخمی، جانی نقصان کا اندیشہ ،ریسکیو اپریشن جاری،افسوسناک حادثہ پیر عادل کے قریب جوس فیکٹری کیساتھ پیش آیا
    باغی ٹی وی رپورٹ ۔ڈیرہ غازیخان میں راولپنڈی سے راجن پورجانے والی نیو خان مسافرکوچ تیزرفتاری کے باعث الٹ گئی،جس سے بہت سے مسافرشدیدزخمی بتائے جارہے ہیں یہ حادثہ انڈس ہائی وے جوس فیکٹری پیرعادل کے قریب پیش آیا ،

    ریسکیو کی طرف سے جاری کی گئی فائنل رپورٹ کے مطابق کنٹرول روم نے فوراََ چار ایمبولینسز ایک ریسکیو وہیکل ایک فائر وہیکل جائے حادثہ کی طرف روانہ کی جنہوں نے موقع پر پہنچ کر دو مریضوں کو موقع پر فرسٹ ایڈ دی جبکہ باقی 13 مریضوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازی خان شفٹ کیا جبکہ ایک مریض موقع پر ڈیڈ تھا جس کو ہسپتال شفٹ کیا گیا۔جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی تفصیل ایم انصر ولد خانان عمر 27 سال شیراں والا تحصیل کلور کوٹ ضلع بکھرموقع ہردم توڑگیاجبکہ باقی زخمی مسافرجنہیں ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیاان میں سنوان یونس ولد ایم یونس عمر 34 سال ضلع لیہ کارہائشی ہے جس کا دائیں ٹخنے کا جوڑ فریکچرہے، سیما سرورزوجہ محسن عمر 20 سال میانوالی کمرپرچوٹ اور درد،مشتاق ولد رحمت اللہ عمر 18 سال فاضل پورضلع راجن پورکولہے کا جوڑ فریکچر،ساجد ولد گامن عمر 17 سا ل فاضل پورپائوں پرکٹ ہے،فقیر ولد گامن عمر 18 سال فاضل پوردائیں ہاتھ پر کٹ ہے،جمیل احمد ولد بشیر احمد عمر 60 سال فاضل پورپیشانی پر کٹ ہے،جاوید ولد جمیل احمدعمر 39 سال فاضل پورسافٹ ٹشوزانجریز،ناصر علی ولد ظہور علی عمر 35 سال نور پور تھان سافٹ ٹشوزانجریز، ایم عمران ولد ایم رمضان عمر 27 سال محمد پوردائیں پاں پر کٹ اور بائیں ہنسلی میں فریکچر کا شبہ ہے،غلام نازک ولد ایم رمضان عمر 35 سال محمد پور بائیں پائوں پرکٹ، احمد علی ولد گل محمدعمر 40 سال روجھان عباس ولد محمد خان عمر 25 سال پل ڈاٹ ڈی جی خان دائیں ٹانگ اور چہرے پرکٹ،عابد حسین ولد غلام رسول عمر 29 سال جام پور دونوں ہاتھوں اور چہرے کے دائیں طرف کٹ،احمد علی ولد طاہر علی عمر 30 سال خوشاب دائیں بازو پر کٹ، آنسہ دخترجاویدعمر 11 سالاسلام پورہ دائیں کان پرکٹ سے زخمی ہوئی ہے ۔

  • بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں سیلاب اور طوفانی بارشوں سے متاثرہ عوام کے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے لئے دن رات کوششیں جاری ہیں۔ متاثرہ بہنوں، بھائیوں اور بچوں کی مکمل بحالی اور نقصانات کے ازالے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ، مشکل اور آزمائش کی اس گھڑی میں انہیں تنہاءنہیں چھوڑیں گے۔ بلوچستان سمیت صوبائی حکومتوں سے مل کر متاثرین کی امداد اور بحالی کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔

    وزیراعظم شہبازشریف بلوچستان کے سیلاب اور طوفانی بارشوں سے تباہی کا شکار جھل مگسی کے علاقوں اور ا س کے مضافاتی دیہات کے جائزے کے دوران متاثرہ عوام اور میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ بھی لیا۔ وزیراعظم گاﺅں شمبانی میں رکے اور سیلاب متاثرین عوام سے ملے اور ان کی شکایات سنیں۔ وزیراعظم کو اپنے درمیان موجود پاکر اور ان کے تسلی دینے پر متاثرین نے وزیراعظم زندہ باد کے نعرے لگائے اور ان کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میں آج آپ کو یہ یقین دہانی کرانے آیا ہوں کہ وزیراعلی عبدالقدوس بزنجو اوران کی صوبائی حکومت کے ساتھ ہم مل کر وفاقی حکومت آپ کی پوری مدد کریں گے۔ بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں متاثرین کی مدد کریں گے۔ جہاں جہاں جہاں نقصان ہوا ہے، وہاں ریلیف پہنچا رہے ہیں۔ ان شاءاللہ آپ کے ساتھ پوری پوری مدد کریں گے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ بارشوں سے پچھلے تیس سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے ۔ ماضی نسبت اس مرتبہ کئی گنا زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔ تقریبا پورے پاکستان میں تقریبا 300 سے زائد لوگ اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں 124 لوگ وفات پاگئے ہیں جن میں خواتین، مرد اور بچے شامل ہیںجبکہ بے شمار لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ مالی معاوضہ جانی نقصان کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔ زندگی بھر لوگ اپنے پیاروں کو ہمیشہ یاد کرتے رہتے ہیں۔ یہ غم بھلایانہیں جاسکتا اور نہ ہی اس کی کوئی تلافی ہوسکتی ہے۔ لیکن بحرحال زندگی گزارنی ہے ۔ حکومت نے متاثرین کی امداد کے لئے حتی المقدورکوشش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ کیلئے 10 لاکھ امداد فراہم کی جارہی ہے، زخمیوں کے ساتھ ساتھ متاثرہ گھروں میں کچے اور پکے گھروں کو پہنچنے والے نقصانات پر امداد کو یکساں اور بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ زخمیوں کی امداد کو 50 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ کردیا ہے جبکہ جزوی طور پر متاثرہ مکانات کی امداد 25 ہزار سے بڑھا کر اڑھائی لاکھ اور مکمل طور پر متاثرہ گھروں کیلئے 50 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ کردی گئی ہے۔ وزیراعظم نے حکم دیا کہ فوری طور پر میڈیکل کیمپ قائم کیاجائے۔ ادویات اور ویکسین فراہم کی جائے۔ انہوں نے جانوروں کے علاج معالجے کے لئے ویٹنری ڈاکٹروں کی ٹیم بھی فوری بھجوانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے علاقے میں مزید کشتیاں اور راشن کے تھیلے فراہم کرنے کابھی حکم دیا۔ وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے متاثرہ گاﺅں اور اس کے مضافات میں متاثرین کی مدد کے لئے ٹیمیں روانہ کردی ہیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں کے دورے پر آیا ہوں جہاں سیلابی پانی نے تباہی مچائی ہے۔ دیہات بری طرح متاثر ہوئے ہیں، آبادی کے علاوہ مال مویشی اور املاک کا بھی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ابھی میں جھل مگسی کے ایک گاﺅں سے ہوکر آیا ہوں۔ اس گاﺅں میں آٹھ سے 10 فٹ تک پانی آیا تھا۔ علاقہ مکینوں نے بتایا ہے کہ اللہ کا شکر ہے کہ یہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ویسے بھی جھل مگسی میدانی علاقہ ہے جانی نقصان زیادہ نہیں ہوا۔ البتہ گھروں، مال مویشی کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ، ژوب لورالائی، لسبیلیہ سمیت دیگر علاقوں میں طوفانی بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچائی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور ان کی حکومت کے ساتھ مل کردن رات بھرپور کام کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کرمتاثرین کی فوری مدد اور بحالی کے لئے کوششیں جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہاکہ تین چار روز قبل سیلاب اور بارش سے متاثرین اور ان کے نقصانات کے ازالے کے جائزے اور اقدامات کے حوالے سے اسلام آباد میں اجلاس منعقد کیا تھا جس میں وزرا اعلی اور چیف سیکریٹریز موجود تھے۔ عوام نے خیرمقدم کیا۔ قبل ازیں ہفتے کی صبح وزیراعظم بلوچستان کے لئے روانہ ہوئے ۔ علی الصبح موسم کی خرابی کی وجہ سے ان کی روانگی موخر ہوئی تھی تاہم وزیراعظم کی ہدایت پر موسم بہتر ہوتے ہی وہ بلوچستان کے لئے روانہ ہوگئے۔

    وزیراعظم شہبازشریف جیکب آباد پہنچے تو ’نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی‘ (این ڈی ایم اے) کے حکام اور چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز اوقلی نے بریفنگ دی جس کے بعد وہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے لئے جھل مگسی روانہ ہوئے۔ وزیراطلاعات مریم اورنگزیب، سردار خالد مگسی، سینیٹر مولاناعبدالغفور حیدری، وزیرہاوسنگ مولانا عبدالواسع ، وزیرمملکت پاور محمد ہاشم نوتیزئی ، معاون خصوصی سید فہد حسین اور چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔

  • واثق قیوم عباسی بلا مقابلہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی  منتخب

    واثق قیوم عباسی بلا مقابلہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی منتخب

    پی ٹی آئی اور اتحادی جماعت کے امیدوار واثق قیوم عباسی بلا مقابلہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی منتخب

    سیکریٹری پنجاب اسمبلی عنایت اللہ کا کہنا ہے کہ وقت ختم ہو گیا، کاغذات نامزدگی وصول نہیں کئے جا سکتے،

    قبل ازیں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے مشترکہ امیدوار واثق قیوم عباسی نے ڈیپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کےلیے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے اپوزیشن امیدوار علی حیدر گیلانی نے مقررہ وقت پر کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے۔

    اپوزیشن جماعتوں نے پیپلز پارٹی کے علی حیدر گیلانی کو ڈپٹی سپیکر کا امیدوار نامزد کیا تھا تا ہم کاغذات نامزدگی جمع نہیں ہو سکے تھے

    راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ آج ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے انتخاب کےلیے کاغذات نامزدگی جمع ہونے تھے اسپیکر نے گزشتہ رات کہہ دیا تھا کہ5 بجے تک کاغذات نامزدگی جمع ہوں گے اپوزیشن نے کاغذات نامزدگی حاصل کیے مگر5بجے تک جمع نہیں کرائے،واثق قیوم کی جیت عمران خان کے بے بیانیہ کی جیت ہے، اپوزیشن نے سیاسی ساکھ بچانے کے لیے راہ فرار اختیار کیا ہے،

    علی حیدر گیلانی کا کہنا تھا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کیلئے کمپرومائز انتخابات ہوئے،ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کیلئے ہم نے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے ،تحریک انصاف فکس میچ کھیلنے کی عادی ہے،عمران خان کے امیدوار کیخلاف ووٹ دینے کیلئے ان کے رہنما کل بھی تیار تھے،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سپیکر پنجاب اسمبلی کے بھی انتخاب ہوئے تھے جس میں تحریک انصاف کے سبطین خان سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہو گئے تھے جبکہ سیف الملوک کھوکھر کو شکست ہوئی تھی گزشتہ روز ہی پنجاب اسمبلی نے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد منظور کی تھی

    دوسری جانب سپیکر پنجاب اسمبلی کا الیکشن لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے،درخواست میں نومنتخب اسپیکر سبطین خان سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، لاہور ہائیکورٹ میں درخواست منصور عثمان اعوان کی وساطت سے دائر کی گئی ،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کے الیکشن میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، اسپیکر پنجاب اسمبلی کے الیکشن خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوتی ہے اسپیکر الیکشن میں بیلٹ پیپرز پر سیریل نمبر درج کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے لاہور ہائیکورٹ اسپیکر پنجاب اسمبلی کے انتخاب کو کالعدم قرار دے عدالت اسپیکر پنجاب اسمبلی کا انتخاب دوبارہ کروانے کا حکم دے،

    نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر…عدالت کے اہم ریمارکس

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کو فرار کروانے والے پروفیسر محمود ایاز کے نئے کارنامے،سنئے مبشر لقمان کی زبانی