Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ہمیں دھکیل کر نکالا گیا تو الیکشن نہیں آئے گا ،مسلم لیگ ن

    ہمیں دھکیل کر نکالا گیا تو الیکشن نہیں آئے گا ،مسلم لیگ ن

    پاکستان مسلم لیگ ن نے وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز سے اظہار یکجہتی کیلئے لاہور کے لبرٹی چوک میں تقریب منعقد کی،جو جلسے میں بدل گئی.لبرٹی چوک میں منعقدہ تقریب میں مسلم لیگ ن کے رہنماوںخواجہ سعد رفیق، سردار ایاز صادق، رانا مشہود احمد خان ،عطاء اللہ تارڑ سمیت کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی.

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ لاہور پہلے بھی مسلم لیگ ن کا گڑھ تھا، ہے اور رہے گا،پاکستان کے لئے قربانیاں دینے والے نواز شریف اور لیگی کارکنوں کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے ،نواز شریف ہمیشہ ملکی استحکام، سلامتی اور عوام کے لئے کھڑے ہوئے ،جب کبھی ملکی حالات خراب ہوئے تو نواز شریف نے قوم کو متحد کیا اور حالات بہتر کئے ،ملک اپنے پیروں پر کھڑا ہونے لگتا ہے تو ایک کھیل کھیلا جاتا ہے اور عمران خان جیسے پٹھو سامنے لائے جاتے ہیں ،نواز شریف نے ملکی سلامتی کو یقینی بنایا اور امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے سے بات کی،اس دور میں بھارتی وزیراعظم خود پاکستان آ کر پاکستان کو تسلیم کر کے گیا ،آج پاکستان ایک دوراہے پر ہے اور ایک آزمائش ہے ،2018 میں ترقی اور خوشحالی والے پاکستان کو سلیکٹڈ کی نظر لگ گئی ،اس پاکستان پر ایسا شخص مسلط کر دیا گیا جس نے کرپشن کے بازار گرم کر دئیے، کشمیر کا سودا کر دیا، ملک کو آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا ،آج پاکستان کو غلامی سے نجات دلانے کے لئے میدان میں آئی ہے

    مسلم لیگ ن کے رہنما کامران مائیکل نے کہا کہ آج لاہور جاگ گیا ہے، جب لاہور جاگتا ہے تو پاکستان جاگ جاتا ہے ،فتنہ سردار نے نفرت کے بیج بوئے ہیں،آج وقت آ گیا ہے سب اٹھ کھڑے ہوں کیونکہ ہم نے ملک بچانا یے

    وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آج ہم یہاں آئین، جمہورہت، ووٹ کی عزت اور وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز سے اظہار یکجہتی کے لئے آئے ہیں ،پراجیکٹ عمران 2011 میں لانچ کیا گیا ،آج بھی ریاستی اداروں میں موجود پراجیکٹ عمران کے سہولت کار آرام سے نہیں بیٹھے،2018 میں آر ٹی ایس بٹھا کر بھی ہماری اکثریت کو اقلیت میں بدل کر ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ،ہم نے نتائج تسلیم نہیں کئے اور لانگ مارچ کی بجائے اپنی بات کی ،ہماری قیادت کو جیلوں میں ٹھونسا گیا ،جنہوں نے ہمیں جیلوں میں ڈالا، وہ جواب دیں کہ انہیں ہماری کیا کرپشن ملی،کوئی کرپشن نہیں ملی، ہمارا جرم بات کرنا تھا ،ہم نے 2008 میں پیپلزپارٹی کا مقابلہ کیا اور اپوزیشن میں بیٹھ گئے ،2013 میں ہماری حکومت آئی تو پیپلزپارٹی نے ذمہ دارانہ اپوزیشن کی ،جمہوریت بعض لوگوں کو اچھی نہیں لگتی،سب سے غلیظ سیاست کرنے والے کو نہلا دھلا کر حاجی بنا کر ہم پر مسلط کیا گیا .

    سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ہم نے عدم اعتماد کا فیصلہ کر کے کیا گناہ کیا ،ہم نے دھرنے سے حکومت نہیں گرائی تاکہ دھرنوں سے حکومتیں نہ گرائی جائیں ،پراجیکٹ عمران کے سہولت کاروں کو چین نہ آیا ،وہ آج بھی منڈلا رہے ہیں ،ہمارے بولنے سے کچھ لوگوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے ،ہماری 4 ماہ کی اس حکومت کو کام نہیں کرنے دیا گیا ،4 سال ملکی معیشت کو تباہ کرنے والا کہتا ہے کہ سازش ہوئی ،ہم نے کسی کی مدد نہیں لی، اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہوئی لیکن بعض لوگ نیوٹرل ہونے کو تیار نہیں ،اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آئین سے متصادم فیصلے آئے ہیں ،آئین بنانے کا حق عدالت کو نہیں بلکہ پارلیمان کو ہے ،63 اے پر معزز عدالت کی رائے آئین سے متصادم ہے ،اس پر نظرثانی کی اپیل کوئی سن نہیں رہا ،انوکھا لاڈلہ بچہ جمہورا ابھی تک گالیاں بھی نکالتا ہے اور کام بھی نکلواتا ہے ،ہم گالی نہیں دیتے تو ہمیں کیا پیغام دیا جا رہا ہے .

    لیگی رہنما نے کہا کہ اس کو کامیابی کے باوجود مرضی کا الیکشن کمشنر، مرضی کی عدالت چاہیئے ،ایسا نہیں ہو سکتا ،لاہور تمہیں بھگائے گا اور تمہیں مسترد کرے گا ،تم پنجابیوں کو سمجھتے کیا ہو ،تم نے پنجاب پر ایک نالائق مسلط کیا ،اگر ہم نے کچھ لوٹا ہوتا تو تم ہم پر کچھ ثابت کرتے حالانکہ عدالت اور نیب تمہاری تھی ،نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکالا، کیا یہ کرپشن تھی؟؟؟،ہمیں دیوار کے ساتھ لگایا گیا، ملک کو چلنے دیا جائے ،یہ کہتا ہے کہ ملک سری لنکا بنے گا، اس کے منہ میں خاک ،اگر کچھ لوگ غیرجانبدار نہیں ہوں گے تو ہمیں بتا دیں کہ ملک کون چلائے گا ،اگر ملک چلانا ہے تو پارلیمان سپریم ہے اور ہمیں ڈکٹیٹ نہ کریں،جب ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی اور صدر آئین کے پرخچے اڑا رہے تھے تو اس وقت سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو کیوں نہیں بلایا گیا .

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکمران سیاسی اتحاد نے 63 اے پر عدالت کی رائے پر سپریم کورٹ کا فل کورٹ بنا کر سننے کی اپیل پر غور کیا جائے ،یہ رائے غیرآئینی تھی ،ہم کسی الیکشن سے نہیں بھاگتے،تم سمجھتے ہو کہ ہم جائیں گے تو الیکشن آئے گا اور تم اپنے جھوٹے بیانئے کی بنیاد پر جیت جاو گے ،ہمیں دھکیل کر نکالا گیا تو الیکشن نہیں آئے گا ،استحکام دھینگا مشتی اور یکطرفہ فیصلے سے نہیں آئے گا ،ہم لڑائی کو جنگ میں نہیں بدلنا چاہتے ،یہ جھوٹی سازش کا بیانیہ بند کرنا پڑے گا ورنہ گلیوں میں رلوں گے لیکن منزل پر نہیں پہنچو گے ،اور اگر منزل پر پہنچنے لگو گے تو ہم تمہارا راستہ خراب کرینگے ،ہمیں دیوار سے لگانے کی سازش بند کی جائے ،الیکشن اپنے وقت پر ہی ہوں گے ،اگر قبل از وقت انتخابات کا کوئی فیصلہ ہوا تو اس کا فیصلہ سیاسی جماعتیں کرینگی .

    صوبائی وزیرعطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ملک میں انصاف کا دوہرا معیار ہم نے برداشت کیا ،نواز شریف کا حوصلہ چٹان جیسا ہے وہ برداشت کر گیا،لیکن اب ہم برداشت اور معاف نہیں کرینگے ،ملک کو لوٹنے کا حساب ابھی ہم نے چکتا کرنا ہے ،اس عمران خان کو مرضی کے فیصلوں کی عادت پڑ گئی ہے ،یہ گالیاں دیتا ہے اور مرضی کا فیصلہ لیتا ہے ،عمران خان نے اپنی کشتی ڈوبتی دیکھ کر فرح گوگی کو باہر بھگا دیا ،عمران خان کی عادتیں ایسی ہیں کہ وہ جیل نہیں کاٹ سکتا ،ہمیں اللہ نے موقع دیا تو عمران خان کو جیل بھجوا کر دم لیں گے ،ہمارے راستے میں روڑے اٹکائے گئے ،ہمارے 25 لوگوں کو ڈی سیٹ کریں تو وہ صحیح ہے اور چوہدری شجاعت خط لکھیں تو ان کو کچھ نہیں کہا جاتا،لاڈلے کے لئے قانون اور اور مسلم لیگ ن کا قانون الگ ہے،آج ہم فیصلہ کر چکے کہ اس پر فل کورٹ بناو ورنہ ہم یہ فیصلہ نہیں مانیں گے ،چوہدری شجاعت کے فیصلے کے مقابلے میں آپ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کب اور کہاں ہوا ،ساجد بھٹی کو پارلیمانی پارٹی کا لیڈر کب بنایا گیا،وقت آیا تو توشہ خانہ، فرح گوگی کا حساب لینے بنی گالہ جائیں گے،حمزہ شہباز وزیراعلی تھے، ہیں اور رہیں گے.

  • پرویز الہیٰ کی درخواست،سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری

    پرویز الہیٰ کی درخواست،سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری

    سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کو عبوری وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیا۔ عدالتی تحریری حکمنامے میں بتایا گیا ہے کہ ہم نے نوٹ کیا کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ کو جسٹیفائی نہیں کر سکے، اس کے نتیجے میں وزیر اعلی کا اسٹیٹس خطرے میں ہے۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے معاملے پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جمع کرائی جانے والی درخواست پر چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ تشکیل دیا گیا جس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل تھے۔

    ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کیخلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری کر دیا گیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے چھ صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کیا۔ تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ شجاعت حسین کی جانب سے ڈپٹی سپیکر کو لکھا گیا خط 25جولائی کو پیش کیا جائے، تمام فریقین کو جواب جمع کرانے کےلیے وقت دیتے ہیں، ڈپٹی سپیکر کے وکیل اس بات کو یقینی بنائیں گے تمام متعلقہ ریکارڈ عدالت میں پیش کریں، تمام پارٹیوں کو سننے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ فریقین کو اپنا جواب جمع کرانے کے لیے وقت درکار ہے۔

    تحریری حکم میں بتایا گیا کہ ہم نے نوٹ کیا ڈپٹی اسپیکر رولنگ کو جسٹیفائی نہیں کر سکے، اس کے نتیجے میں وزیر اعلی کا اسٹیٹس خطرے میں ہے، ایسی صورتحال میں حمزہ شہباز ایک منتخب وزیر اعلی کے طور کام نہیں کر سکتے، دونوں فریقین کے درمیان ایسی ہی صورتحال یکم جولائی کو ہوئی تھی، ہمارا یکم جولائی کا حکم دونوں فریقوں کی رضامندی سے جاری ہوا تھا، ہم نے آج پھر تمام فریقین کو پیشکش کی کہ حمزہ شہباز اسی پوزیشن پر بطور وزیر اعلی کام جاری رکھیں، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور حمزہ شہباز کے وکیل نے اعتراض نہیں کیا، ہمیں یقین دہانی کرائی گئی کہ حمزہ شہباز اور انکی کابینہ ٹرسٹی کے طور پر کام کریں گے۔

    قبل ازیں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں فل بینچ نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے حمز شہباز کا بطور وزیراعلیٰ یکم جولائی کا سٹیٹس بحال کر دیا۔ چیف جسٹس نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی کا اسٹیٹس بحال کرنے کے بعد اس کیس کوتفصیل سے سنیں گے۔ پیر تک حمزہ شہباز صرف روٹین کے امور سرانجام دینگے، حمزہ عبوری وزیراعلیٰ کے فرائض پیر تک سر انجام دینگے، کیس کی سماعت پیرکے روزہوگی، تمام وکلا کوسنیں گے۔ حمزہ شہباز آئین اور قانون کے مطابق چلیں، حمزہ وہ پاور استعمال نہیں کرینگے جس سے انکو سیاسی فائدہ ہو، عبوری وزیراعلیٰ محدود اختیارات میں کام کرینگے، عدالت صوبے میں میرٹ سے ہٹ کر تقریری ہوئی تو اس کو کالعدم قرار دینگے۔ بادی النظر میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ غلط اور سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف ہے۔ اگر پارٹی سربراہ کی ہی بات ماننی ہے تو اس کا مطلب پارٹی میں آمریت قائم کردی جائے۔

  • سیکیورٹی فورسز کا آپریشن،ہائی ویلیو دہشت گرد کمانڈر3 ساتھیوں سمیت گرفتار،آئی ایس پی آر

    سیکیورٹی فورسز کا آپریشن،ہائی ویلیو دہشت گرد کمانڈر3 ساتھیوں سمیت گرفتار،آئی ایس پی آر

    سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران ہائی ویلیو دہشت گرد کمانڈر کو 3 ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے دہشت گردوں کے خلاف 2 آپریشنز کیے۔

    شمالی وزیرستان میں ایک آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، جن کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور آئی ای ڈیز برآمد ہوئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دوسرے آپریشن میں فورسز نے ہائی ویلیو دہشت گرد کمانڈر کو 3 ساتھیوں سمیت گرفتار کیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مارے گئے اور پکڑے گئے تمام دہشت گردوں کا تعلق حافظ گل بہادر گروپ سے تھا۔

    فورسز نے خفیہ اطلاع پر دونوں آپریشنز کیے، یہ دہشت گرد سیکیورٹی فورسز پر حملوں، بھتے اور شہریوں کے قتل میں ملوث ہیں۔

  • ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کیخلاف درخواست پرسماعت پیرتک ملتوی

    ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کیخلاف درخواست پرسماعت پیرتک ملتوی

    سپریم کورٹ لاہور رجسٹری ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت دوبارہ ہوئی

    سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کی رولنگ کے خلاف درخواستوں پر مختصر فیصلہ سناتے ہوئے حمزہ شہباز کے یکم جولائی کا عبوری وزیراعلیٰ کا سٹیٹس بحال کر دیا اور سماعت پیر تک ملتوی کر دی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ حمزہ شہباز پیر کے روز تک بطور عبوری وزیراعلیٰ فرائض انجام دیں گے ،کیس کی سماعت پیر کے روز اسلام آباد میں ہو گی ، تمام فریقین کے وکلاء کو سنیں گے اور پھر فیصلہ سنایا جائے گا

    کمرہ عدالت میں صرف متعلقہ وکلا کو ہی جانے کی اجازت دی گئی ہے باقی وکلا اور سائلین کورٹ روم نمبر تین میں لگی سکرین پر عدالتی کاروائی سن رہے ہیں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی پر مشتمل تین رکنی بنچ سماعت کررہے ہیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت نے دلائل دینا شروع کردیے

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ وہ پیرا پڑھ کر سنائیں کہاں لکھا ہے, یہ بتا دیں کہ ڈپٹی اسپیکر نے کیا تشریح کی, ڈپٹی اسپیکر نے آرٹیکل 63 اے کے مطابق فیصلہ دیا آپ وہ پیرا پڑھ دیں،عرفان قادر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا ہیڈ اسپیکر نے سمجھا ہے کہ پارٹی صدر ہے, اگر کوئی لیگل غلطی کی تو تو اتنا بڑا ایرر نہیں جو دورنہ ہو سکتا ہو،عدالت نے ڈپٹی سپیکرکے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پڑھیں، عرفان قادر نے کہا کہ پہلے آرڈر پڑھوں یا رولنگ پڑھوں جس پر عدالت نے کہا کہ آپ پہلے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پڑھیں

    عرفان قادر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا ہیڈ پارٹی صدر ہوتا ہے, جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسکا مطلب انہوں نے غلط سمجھا, جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ججمنٹ کو غلط لیا ہے, جس پر عرفان قادر نے کہا کہ جی بلکل وہ وکیل نہیں ہیں,

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے کس حکم کی آڑ لے کر رولنگ دی، عدالت میں یہ حکم پڑھ کر سنایا جائے، خاص طور پر متعلقہ پیرا پڑھیں، عرفان قادر نے کہا کہ فیصلے کا پیرا تین متعلقہ ہے، عدالت تفصیلی جواب کا موقع فراہم کرے تاکہ بلیک اینڈ وائٹ میں عدالت کو تحریری طور پر ڈپٹی سپیکر کا موقف پیش کر سکوں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اگر فرض کرلیں سپیکر کی رولنگ غلط تھی تو پھر اگلا قدم کیا ہوگا ،عرفان قادر نے کہا کہ اس پر ہم تحریری جواب بھی دیں گے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وکیل صاحب یہ سوموٹو کیس نہیں ہے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ہم نے ریکارڈ بھی مانگا تھا کیا ریکارڈ آیا تھا ؟ عرفان قادر نے کہا کہ اس حوالے سے مجھے معلومات نہیں ہے ،عدالت نے کہا کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ سپیکر صاحب کے ہاتھ میں چوہدری شجاعت حسین کی خط تھا ہم وہ خط دیکھنا چاہتے ہیں ڈپٹی سپیکر نے اس خط کی بنیاد رولنگ دی ہےبا دی النظر میں آپ کی رائے یہی ہے کہ اسپیکر کی رولنگ درست تھی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے موکل جس آفس کو ہیڈ کو کر رہے ہیں اس پر گہرے بادل ہیں ،

    ڈپٹی اسپیکر کے وکیل نے جواب جمع کرانے کے لیے وقت مانگ لیا ،عرفان قادر نے کہا کہ ہمیں کل تک کا وقت دیا جائے، عدالت نے حمزہ شہباز کو رسمی اختیارات دیتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کر دی ،عدالت نے حکم دیا کہ پیر تک حمزہ شہباز صرف روٹین کے امور سرانجام دیں گے,

    سماعت کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوموار یا منگل کو فیصلہ سنا دیں گے،

    قبل ازیں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواستوں پر دوبارہ سماعت ہوئی چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پرویز الٰہی سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی عدالتی حکم پر ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری سپریم کورٹ کے روبرو تاحال پیش نہ ہوئے ،کمرہ عدالت کھچا کھچ بھر گیا تحریک انصاف کے رہنماء بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے، عدالت میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت کی جانب سے دلائل دیئے گئے، عدالت میں ڈپٹی سپیکر کے وکیل کی جانب سے جواب جمع کرا دیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ڈپٹی سپیکر کہا ں ہیں, وہ بھی آ رہے ہیں؟

    کمرہ عدالت میں رش لگ گیا جس کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تمام غیر متعلقہ افراد کمرہ عدالت سے باہر چلیں جائیں،ہم کوشش کرتے ہیں آپکو باہر بھی سماعت سننے کا بندوست کرتے ہیں،ایسے حالات میں سماعت ممکن نہیں ہے،ہم ایسا کرتے ہیں کہ سماعت دوسرے روم میں شفٹ کرتے ہیں،

    عدالت نے عرفان قادر کو دلائل دینے سے روک دیا . چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس دوست مزاری کا وکالت نامہ ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے مکمل دلائل سنیں گے،

    دوسری جانب سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں وکلا اور تحریک انصاف کے اراکین کی بڑی تعداد بغیر بیکنگ کے کورٹ روم ون مین داخل ہو گئی ہے، دھکم پیل سے کورٹ روم نمبر ون کے دروازوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں چیف جسٹس پاکستان نے کیس ویڈیو لنک والے کورٹ روم میں منتقل کردیا سماعت کچھ دیر بعد ہوگی پرائیویٹ افراد کا داخلہ بند کر دیا گیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے الیکشن ہوئے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے 186 ووٹ حاصل کئے تا ہم ڈپٹی سپیکر نے چودھری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے دس ووٹ مسترد کر دیئے ، جسکے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے، پی ٹی آئی نے ایوان میں احتجاج کے بعد کئی شہروں میں احتجاج کیا اور رات کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، پی ٹی آئی کی درخواست عدالت نے قابل سماعت قرار دے دی ہے

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • وزیراعلی پنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمے کی سماعت فل کورٹ کرے۔حکمران اتحاد کا مطالبہ

    وزیراعلی پنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمے کی سماعت فل کورٹ کرے۔حکمران اتحاد کا مطالبہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے وزیراعلیٰ کے الیکشن میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد حکمران اتحاد نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے

    حکمرا ن اتحاد کی جانب سے جاری مشترکہ، متفقہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل تمام جماعتیں چیف جسٹس پاکستان سے پر زور مطالبہ کرتی ہیں کہ وزیراعلی پنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمے کی سماعت فل کورٹ کرے۔ قرین انصاف ہوگا کہ عدالت عظمیٰ کے تمام معزز جج صاحبان پر مشتمل فل کورٹ ،سپریم کورٹ بار کی نظرِ ثانی درخواست موجودہ درخواست اور دیگر متعلقہ درخواستوں کو ایک ساتھ سماعت کے لئے مقرر کرکے اس پر فیصلہ صادر کرے کیونکہ یہ بہت اہم قومی، سیاسی اور آئینی معاملات ہیں۔ آئین نے مقننہ،عدلیہ اورانتظامیہ میں اختیارات کی واضح لکیر کھینچی ہوئی ہے جسے ایک متکبر آئین شکن فسطائیت کا پیکر مٹانے کی کوشش کر رہا ہے یہ دراصل پاکستان کے آئین عوام کےحق حکمرانی اورجمہوری نظام کو بھی معیشت کی طرح دیوالیہ کرانا چاہتا ہے یہ سوچ اوررویہ پاکستان کے ریاستی نظام کے لئے دیمک ہے۔

    ‎حکمرا ن اتحاد کی جانب سے جاری مشترکہ، متفقہ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتیں اس عزم کا واشگاف اعادہ کرتی ہیں کہ آئین، جمہوریت اور عوام کے حق حکمرانی پر ہر گز کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ہر فورم اور ہر میدان میں تمام اتحادی جماعتیں مل کر آگے بڑھیں گی اور فسطائیت کے سیاہ اندھیروں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گی۔

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار،نوٹسز جاری

     پرویز الہٰی اب ق لیگ سے باہر ہیں وہ بنی گالہ جائیں اور پی ٹی آئی میں شامل ہوجائیں

    وفاقی حکومت نے لاہور اور راولپنڈی میں رینجرز تعینات کرنے کی منظور ی دے دی

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کا کہنا ہے کہ تمام چوٹی کے قانونی ماہرین رات سے بتا چکے ہیں کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر قانونی ہے،فل بینچ کا مطالبہ معاملے کو طول دینے کوشش ہے تاکہ ضمیر خریدنے کی نئی کوشش کی جائے، بینچ کو متنازعہ بنانے کے لیے وٹس ایپ ٹولے کو صبح سے ہدایات جاری کر دی گئی تھیں

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے الیکشن ہوئے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے 186 ووٹ حاصل کئے تا ہم ڈپٹی سپیکر نے چودھری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے دس ووٹ مسترد کر دیئے ، جسکے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے، پی ٹی آئی نے ایوان میں احتجاج کے بعد کئی شہروں میں احتجاج کیا اور رات کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، پی ٹی آئی کی درخواست عدالت نے قابل سماعت قرار دے دی ہے

  • ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار،نوٹسز جاری

    ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار،نوٹسز جاری

    ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار،نوٹسز جاری

    ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ابتدائی سماعت کا تحریری حکم جاری کردیا

    تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ ڈپٹی اسپیکر نے اپنی رولنگ میں لارجر بینچ کا حوالہ دیا، ڈپٹی اسپیکر نے اس پیراگراف کو پوائنٹ نہیں کیا جس کا حوالہ دیا گیا ،بظاہر معاملہ کافی پیچیدہ لگتا ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ تمام فریقین اپنی قیمتی رائے سے عدالت کوآگاہ کریں گے ڈپٹی اسپیکر ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہوں

    قبل ازیں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سماعت ہوئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی تحریک انصاف کے وکلاء بیرسٹر علی ظفر ،عامر سعید راں روسٹرم پر موجود تھے، تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر، فواد چوہدری، حسین الہی سمیت پی ٹی آئی اور ق لیگ کی دیگر قیادت کمرہ عدالت میں موجود تھے

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست رات 12 بجے دائر کی گئی ، بتائیں آپ کا کیا معاملہ ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بہت اہم معاملہ ہے، اس لئے عدالت آئے ہیں، ڈپٹی اسپیکر نے چوہدری شجاعت حسین کے مبینہ خط کو بنیاد بنا کر ق لیگ کے ووٹ مسترد کیے

    تحریک انصاف کےوکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل کا آغاز کردیا اور کہا کہ گزشتہ روز وزیر اعلی کا انتخاب ہوا، حمزہ شہباز نے 179 جبکہ پرویز الٰہی نے 186ووٹ حاصل کیے ،ڈپٹی اسپیکر نے ق لیگ کے دس ووٹ مسترد کردیے ،کل پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے دوسرا راونڈ ہوا. جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اسمبلی میں کتنے ارکان موجود تھے. بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایوان میں 370 ارکان تھے .پرویز الہی کو 186 ووٹ جبکہ حمزہ کو 179 ووٹ ملے. آئینی طور پر پرویز الہی وزیر اعلی کا الیکشن جیت گیے. لیکن ڈپٹی اسپیکر نے انکے دس ووٹ مسترد کر دیے.

    ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار.عدالت نے ڈپٹی اسپیکر سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیے،عدالت نے ڈپٹی اسپیکرسردار دوست محمد مزاری کو آج دوپہر 2 بجے طلب کر لیا سپریم کورٹ لاہور رجسٹری نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو بھی عدالتی معاونت کے لیے طلب کر لیا،عدالت نے حمزہ شہباز ،چیف سیکریٹری سمیت دیگر فریقین کونوٹسز جاری کر دیئے

    دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کی ڈائریکشن کی خلاف ورزی پر رپورٹ کرسکتا ہے،جمہوری روایت یہی ہے کہ پارلیمانی پارٹی طے کرتی ہے کہ کس کی حما یت کرنی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے جو رولنگ دیں ہمیں بتائیں کہ یہ بات کس پیرا میں لکھی ہے؟ وکیل پرویز الہیٰ نے کہا کہ حمزہ شہباز نے حلف لے لیا ہے, جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس سے فرق نہیں پڑتا ہم نے آئین اور قانون کی بات کرنا ہے ۔عدالت نے درخواست گزاروں کو ہدایت کی کہ آپ لوگ بھی زرا صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کو ذاتی طور پر سننا چاہتے ہیں، وہ اپنے ساتھ الیکشن ریکارڈ بھی لے کر آئیں، ڈپٹی اسپیکردوست مزاری آ کر اپنے مؤقف کا دفاع کریں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر نے دالت عظمیٰ کے فیصلے کی غلط تشریح کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پریشان نہ ہوں یہ قانونی سوال ہے، یادرکھیں ایسے معاملات غیر تجربہ کاری سے پیش آتے ہیں،معاملہ تشریح سے زیادہ سمجھنے کا ہے،پورے پاکستان میں لوگ یہ سماعت سننا چاہتے ہیں،یہ معاملہ 63 اے 2 بی کی تشریح کا ہے،ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے 10 ووٹوں کے مسترد کیے جانے سے متعلق معاملہ ہے،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے الیکشن ہوئے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے 186 ووٹ حاصل کئے تا ہم ڈپٹی سپیکر نے چودھری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے دس ووٹ مسترد کر دیئے ، جسکے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے، پی ٹی آئی نے ایوان میں احتجاج کے بعد کئی شہروں میں احتجاج کیا اور رات کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، پی ٹی آئی کی درخواست عدالت نے قابل سماعت قرار دے دی ہے

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • نو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا

    نو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا

    لاہور : نو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا۔

    باغی ٹی وی : گورنر ہاؤس لاہور میں ہونے والی تقریب میں گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے حمزہ شہباز سے ان کے عہدے کا حلف لیا اس موقع پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے تقریب میں شرکت کی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ن لیگ کے امیدوار حمزہ شہباز دوبارہ وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے جبکہ پرویز الہیٰ کو پھر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے ووٹنگ ہوئی جس میں حمزہ شہباز نے اکثریت کی حمایت حاصل کرلی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز تقریباً پونے تین گھنٹے کی تاخیر سے شام 7 بجے شروع ہوا جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے ووٹنگ کا عمل شروع کرایا ووٹنگ کے نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار پرویز الہیٰ نے 186 ووٹ لیے جبکہ مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز نے 179 ووٹ لیے۔

    تاہم ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت کے خط کو پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے ق لیگ کے ارکان کو حمزہ شہباز کو ووٹ ڈالنے کی ہدایت کی تھی۔

    ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ اس خط کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جتنے بھی ووٹ ق لیگ کے کاسٹ ہوئے ہیں وہ مسترد ہوتے ہیں اور میں اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ 10 ووٹ ختم ہونے کے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے۔

    نومنتخب وزیر اعلیٰ پنجاب کی حلف برداری کے بعد ن لیگ اور پی پی کے کارکنان نے اپنی اپنی جماعتوں کے حق میں نعرے لگائے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماحمزہ شہباز کے وزیراعلیٰ برقرار رہنے پر پنجاب کے مختلف شہروں میں کارکنوں نے جشن منایا۔

    رپورٹس کے مطابق ملتان،کمالیہ،حافظ آباد،سیالکوٹ،شکرگڑھ، رحیم یارخان میں ن لیگ کےکارکنوں نے سڑکوں پرنکل کر حمزہ شہباز کی کامیابی پرجشن مناتے ہوئے بھنگڑے بھی ڈالے۔

    اس کے علاوہ حمزہ شہباز کے دوبارہ وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہونے پر پیپلز پارٹی کی جانب سے حیدرآباد کے علاقے حیدر چوک پر جشن منایا گیا۔

  • عمران خان نے احتجاج کی کال دیدی، پنجاب حکومت کا رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ

    عمران خان نے احتجاج کی کال دیدی، پنجاب حکومت کا رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے زمان پارک میں پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا،شاہ محمود قریشی، اسد عمر، شفقت محمود ،حماد اظہر اجلاس میں شرکت کرینگے،اجلاس میں پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے بارے میں مشاورت ہوگی،اجلاس میں چودھری شجاعت کے خط کے بارے میں آئینی و قانونی مشاورت ہوگی.

    شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ 186ووٹ چودھری پرویز الہٰی کو پڑے،سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق کارروائی جاری رکھی،

    قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں جو ہوا اس پر حیرت ہوئی،جمہوریت کی ایک بنیاد ہوتی ہے اور وہ اخلاقیات ہے،ساری قوم کے سامنے میں سندھ ہاوس میں منڈی لگی،سندھ ہاوس میں سیاستدانوں کی خرید و فروخت ہورہی تھی،ارکان اسمبلی بکریوں کی طرح بک رہے تھے.

    عمران خان کا کہنا تھا کہ سندھ ہاوس میں بھی اہم کردار آصف زرداری تھا،سینیٹ کے الیکشن میں بھی سینیٹرز کو خریدا گیا،آصف زرداری بیرونی سازش کا حصہ بنا اور شریفوں کو ساتھ ملایا،پارلیمنٹ کے پاس فوج نہیں اخلاقی طاقت ہوتی ہے، ہم نےپرامن احتجاج کیا،ہمارے پرامن احتجاج پر ظلم کیا گیا،سب سے کرپٹ ترین لوگو ں کو ہم پر مسلط کیا گیا،11سوارب روپے کے کیسز معاف کروائے گئے.

    انہون نے کہا کہ ضمنی انتخابات کیلئے مہم چلائی اور بڑی تعداد میں عوام جمع ہوئے،آصف زرداری 30سالوں سے اس ملک کو لوٹ رہے ہیں،ہمیں اطلاعات ملی تھیں آصف زرداری لاہور میں پیسہ چلارہےہیں،میں سمجھتا ہوں یہ لوگ سیاستدان نہیں مافیا ہیں،آصف زرداری چوری کے پیسے سے لوگوں کے ضمیر خریدتے ہیں،پارلیمانی پارٹی جو فیصلہ کرتی ہے سب کو قبول کرنا ہوتاہے،چودھری شجاعت حسین کا خط کسی بھی طرح قابل قبول نہیں،ہماری معیشت کا برا حال ہے،دن بدن معاشی بحران بڑھتا جا رہا ہے.

    پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے آج رات ہی احتجاج کی کال دے دی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کریں مگرقانون ہاتھ میں نہ لیں۔

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے زمان پارک میں پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا،شاہ محمود قریشی، اسد عمر، شفقت محمود ،حماد اظہر اجلاس میں شرکت کرینگے،اجلاس میں پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے بارے میں مشاورت ہوگی،اجلاس میں چودھری شجاعت کے خط کے بارے میں آئینی و قانونی مشاورت ہوگی

    دوسری طرف پنجاب حکومت نے لاہور،راولپنڈی اور ملتان میں رینجرز تعینات کرنے کافیصلہ کیا ہے ،پنجاب حکومت نے وزارت داخلہ کو رینجرز تعیناتی کے لیے خط بھیج دیا ہے.

    ادھر پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور معروف وکیل اعتزاز احسن نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کے فیصلے پر رائے دی اور کہا کہ میرے خیال میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کا فیصلہ درست نہیں۔
    پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے صوبائی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی میں ڈپٹی اسپیکر کے فیصلے پر اعتزاز احسن نے تبصرہ کیا اور کہا کہ یہ رن آف الیکشن ہے اور اس میں پرویز الہٰی جیت چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کا پہلا حصہ پارلیمانی پارٹی اور دوسرا حصہ پارٹی سربراہ کے اختیار پر ہے کیونکہ پارلیمانی پارٹی بہتر فیصلہ کرسکتی ہے۔

    اعتزاز احسن نے مزید کہا کہ ق لیگ کے 10 کے 10 ارکان نے پرویز الہٰی کے حق میں فیصلہ کیا، منحرف اراکین کے خلاف کارروائی کے لیے پارلیمانی سربراہ پارٹی ہیڈ کو کہے گا۔اُن کا کہنا تھا کہ آصف زرداری صاحب نے وہ کیا، جو سیاستدان کو کرنا چاہیے اور ان کا حق ہے، انہوں نے ووٹ مانگنے کی کوشش کی، یہ تو چوہدری شجاعت کے سوچنے کی بات تھی۔

    معروف وکیل نے یہ بھی کہا کہ چوہدری برادران کے خاندان میں بہت بڑی دراڑ پڑ جائے گی، مونس الہٰی ایک طرف اور چوہدری سالک دوسری طرف ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ووٹ کی کوشش تو آخری دم تک بورس جانسن بھی کرتا رہا، اگر خط صرف ڈپٹی اسپیکر کے پاس گیا تو اس کی قانونی حیثیت نہیں۔اعتزاز احسن نے کہا کہ بیسٹ تو میں نہیں کہتا لیکن بہتر حل تو فوری جنرل الیکشن ہی ہے، الیکشن کے بعد بھی مسائل ختم نہیں ہوں گے جو ہارے گا وہ مانے گا نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں اگر ایک گروپ بن جاتا ہے تو پارٹی ہیڈ کی ہدایات تو عوامی سطح پر اور اخباروں میں آنی چاہیے تھیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما وں شیخ امتیاز محمود عبدالکریم خان اویس یونس ناصر سلمان علام الدین دیوان ملک عثمان حمزہ اعوان عقیل احمد صدیقی چوہدری کامران عباس ملک امانت علی سعدیہ سہیل ڈاکٹر سیمی بخاری مبارک آفتاب گل آصف بھٹی اپنے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا کہ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے بدنیتی پر فیصلہ سنایا ہے پی ٹی ائی فیصلے کو مسترد کرتی ہے ڈپٹی سپیکر نے آئین شکنی کی ہے اور غیر قانونی رولنگ دی ڈپٹی سپیکر نون لیگ سے ملا ہوا ہے ڈپٹی سپیکر لوٹے اور غدار کو قوم کبھی معاف نہیں کرے گی آج کا دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے پی ٹی آئی کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا امپورٹڈ حکمران ٹولہ پی ٹی ائی سے خوف زدہ ہے سپریم کورٹ فی الفور نوٹس لے آصف علی زرداری نے ہمیشہ گھٹیا رول ادا کیا ہے انشاءاللہ پی ٹی آئی کو سپریم کورٹ سے ریلیف ملے گا اور غیر قانونی طور پر مسلط حمزہ شہباز اور ان کے حواریوں سے پنجاب کی عوام کو چٹکارا ملے گا

  • اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک بار پھر سرخرو فرمایا، شہباز شریف

    اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک بار پھر سرخرو فرمایا، شہباز شریف

    ترجمان گورنر ہاؤس لاہور کے مطابق حمزہ شہباز کی حلف برداری کی تقریب ملتوی کر دی گئی، اس سے پہلے حمزہ شہباز کی تقریب حلف برداری کیلئے رات 11 بجے کا وقت دیا گیا تھا.نو منتخب وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کی تقریب حلف برداری آج صبح 7 بجکر 30 منٹ پر گورنر ہاوس میں منعقد ہو گی.

    وزیراعطم شہباز شریف نے ٹویٹ کیا ہے اور اس میں انہون نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے ہیں جس نے ہمیں ایک بار پھر سرخرو فرمایا۔ وہدری شجاعت حسین چوہدری ظہور الٰہی شہید کے سیاسی وارث اور علمبردار ہیں۔چوہدری شجاعت حسین نے ایک بار پھر اپنے عظیم والد اور خاندان کی جمہوری روایت کو زندہ و جاوید کیا۔ان کا یہ کردار جمہوریت اور آئینی اقدار کی جیت ہےچوہدری شجاعت حسین، ان کے خاندان، اور ساتھیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوںسابق صدر زرداری نے آئین، جمہوریت اور عوام کے مفاد کے لئے تاریخی کردار ادا کیا ہے ،سابق صدر زرداری کی سیاسی رواداری نے بحران کا خاتمہ کر دیا ،سابق صدر آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کرتا ہوں ،ایم کیو ایم، اے این پی، بی این پی، باپ سمیت اتحادی جماعتوں کے تمام محترم قائدین کو فرداً فرداً خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،اتحادی جماعتوں کے قائدین کی سیاسی بصیرت، اتحاد اور حمایت سے جمہوریت فتح مند ہوئی،قوم آپ سب کو سلام پیش کرتی ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے لاہور میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب اسمبلی میں سرخرو ہوئی، آج اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان میں جمہوریت کی فتح ہوئی، ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے عین سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق رولنگ دی، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ کی ہدایت کے خلاف پارٹی ممبران ووٹ نہیں دے سکتے، آج ایک منافق، جھوٹا، مکار اور سازشی شخص جمہوریت کی بات کر رہا تھا.

    وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ یہ وہ شخص ہے جس نے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کے تحت آئینی شکنی کروائی، سپریم کورٹ نے اس رولنگ کے خلاف فیصلہ دیا کہ عمران خان سازشی نے آئینی عہدوں سے آئین شکنی کروائی، عمران نیازی خود آئین شکنی کریں تو وہ حلال ہے، چوہدری شجاعت حسین کو سلام پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے پارٹی ممبران کو ایک مکار شخص کو ووٹ نہ دینے کی ہدایت جاری کی،یہ پارٹی سربراہ کی ہدایت تھی اور اسی کے مطابق ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے رولنگ دی،عمران خان 2018ء میں جب دوسری جماعتوں کے لوگوں کو پٹے پہنا رہے تھے تب انہیں حیرانگی نہیں ہوئی تھی.

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جب سینیٹ الیکشن، خیبر پختونخوا کے انتخابات، کوئٹہ اور بلوچستان میں ووٹ خریدے گئے، تب انہیں حیرانگی نہیں ہوئی تھی، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتخابات میں عمران خان نے ووٹ خریدے، پنجاب کا مینڈیٹ 2018ء میں نواز شریف کا مینڈیٹ تھا جو عمران خان نے چوری کیا، عمران خان نے پنجاب کے عوام کو لوٹا، بے روزگار کیا، بھوکا کیا،پنجاب کا مینڈیٹ نواز شریف کا مینڈیٹ تھا جو آج واپس لیا ہے، عمران خان نے چار سال جھوٹے الزامات عائد کئے، عمران خان نے وزارت عظمیٰ کی کرسی کو استعمال کر کے سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالا،عمران خان شکر کریں کہ ایک جمہوری حکومت اقتدار میں ہے، وفاقی عمران خان نے اپنے دور میں میڈیا کے لوگوں کی پسلیاں توڑیں، صحافیوں کے قلم توڑے.

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اتنا سب کچھ کرنے کے بعد وہ ایک الزام بھی ثابت نہیں کر سکے، عمران نیازی، فرح گوگی اور بشری بی بی چور ہیں، اگر کوئی آئین کی تشریح اپنی مرضی سے کرنے کی کوشش کرے گا ہمیں قبول نہیں ہوگا، آئین کی تشریح آئین اور پارلیمان کے مطابق ہوگی، کسی کی مرضی کے مطابق آئین کی تشریح نہیں ہوگی، تین روز سے عمران خان گھٹیا زبان استعمال کر رہے ہیں، الیکشن کمیشن، پولیس، پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کو گالیاں دیتے رہے، آج ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی کہہ رہے ہیں، عمران خان فسادی ہیں اور ملک میں خانہ جنگی چاہتے ہیں، آج مسلم لیگ (ق) کی پارٹی کے سربراہ چوہدری شجاعت کی ہدایت پر ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دی گئی، عمران خان نے بھی ہدایت کی تھی کہ ان کے ارکان ان کی مرضی کے خلاف ووٹ نہیں دیں گے، تب سب کچھ ٹھیک تھا،عمران خان ملک کے اندر فساد اور انتشار چاہتے ہیں، وہ ملکی معیشت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں،عمران خان سیاسی عدم استحکام لانا چاہتے ہیں تاکہ ملکی معیشت سنبھلے نہ، عمران خان نے ملک کو سری لنکا بنانے کی کوشش کی، عمران خان اس لئے ہر روز سیاسی انتشار مچانے کی کوشش کرتے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ عمران خان کے خلاف آیا کہ اس نے آئین پر حملہ کیا.

    وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ عمران خان نے چار سال عوام کو لوٹا، اپنے گھر والیوں کے ذریعے عوام پر ڈاکے ڈلوائے، عمران خان وہ بہروپیا ہے جو معصوم شکل بنا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے،ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ عمران خان نے آئین شکنی کروائی،
    عمران خان نے جوان بچوں کے ہاتھوں میں اسلحہ اور ڈنڈے پکڑوائے،پی ٹی آئی نے ڈسکہ کا الیکشن چوری کیا، لانگ مارچ کے اندر پی ٹی آئی کے کارکنوں نے چھتوں سے پولیس والوں کو گولیاں ماری، یہ ملک میں خانہ جنگی چاہتے ہیں، یہ قدرت کا نظام ہے، یہ اللہ کا کرنا ہے جو عمران خان نے بویا آج وہی کاٹ رہے ہیں، عمران خان نے لوگوں کی بے گناہ بیٹیوں کو ہتھکڑیاں لگائیں، عمران خان جو بکواس کرے گا اس کا جواب اسی طرح دیا جائے گا، پچھلے چار سال پنجاب میں کرپشن کر کے انہوں نے اپنا منہ کالا کیا، ووٹ پر ڈاکہ ڈال کر دوسروں پر الزام عائد کرنا ان کا وطیرہ ہے، عمران خان اقتدار کی طاقت کو استعمال کر کے بھی ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں کر سکے،عمران خان کو ان کی زبان میں شٹ اپ،شہباز شریف دن رات اس ملک میں رواداری اور اتحاد کے ذریعے ملک میں معاشی استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں.

    سابق وزیر اعظم نواز شریف کی لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان گزشتہ5 سالوں سے مشکلات میں ہے،پاکستان کو مشکل حالات سے نکالنے کیلئے سب مل کر کوشش کریں گے،قوم بھی ملکی ترقی کےلئے دعا کرے

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ فتنہ خان نے اپنے اقتدار کے لیے نا صرف چودھری خاندان میں پھوٹ ڈلوائی بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی رو سے چودھری پرویز الہی کی سپیکرشپ اور سیٹ بھی چھین لی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ شخص جہاں جاتا ہے نحوست پھیلاتا ہے۔چودھری شجاعت صاحب نے دباؤ کے باوجود اصولی فیصلہ کیا اور اپنی عزت اور توقیر میں اضافہ کیا۔


    پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آپ جو بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں، بیٹھ جائیں، منہ دیکھیں اور نوٹس لیں۔پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے الیکشن پر بختاوربھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پربیان دیا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ووٹ کا انفرادی حق چھیننے کے لیے جدوجہد کی، انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا جشن منایا کہ افراد کو پارٹی سربراہ کی پیروی کرنی چاہیے۔

    وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ چودھری شجاعت حسین کے فیصلے کا احترام کرتےہیں، آصف زرداری کی گارنٹی پر ہم نے پرویز الہٰی کو اپنا امیدوار بنایا تھا، آصف زرداری کا اس بات پر چوہدری شجاعت کے گھر جا کر بیٹھنا بنتا تھا۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ آصف زرداری اور چوہدری شجاعت کے گھر کے دو ایک لوگوں نے اپنا کردار ادا کیا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں ہم نے اپنے غلط فیصلے کو بھی تسلیم کیا اور رزلٹ کو بھی، انہوں نے پچھلے 5 دنوں میں تکبر کا مظاہرہ کیا، یہ الیکشن کا سال ہے، ہم انشا اللّٰہ عام انتخابات میں بھی کامیاب ہوں گے۔ رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے مطابق ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والے کا ووٹ گنتی میں شمار نہیں ہوگا اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والا ڈی سیٹ بھی ہوتا ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اسی فیصلے کے تحت 25 ارکان ڈی سیٹ ہوئے تھے، سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے فیصلے موجود ہیں، آپ نے جو کرنا ہے، کروانا ہے کریں، ہم آپ کو روک کر دکھائیں گے، ہم آپ کو قانون کا سبق ازبر کروائیں گے، امن خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو سختی سے نمٹا جائے گا۔لاہور لبرٹی چوک پر فائرنگ کی اطلاع ملی ہے،فائرنگ کر کے خوف و ہراس پھیلانے والوں کو گرفتارکرنے کا حکم دے دیا ہے.

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے حمزہ شہباز شریف کو دوبارہ وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے،مسلم لیگ (ن) عوام کی خدمت کا سفر انشاءاللہ جاری رکھے گی. عوامی فلاح و بہبود کے لیے انشاء اللہ کام جاری رکھیں گے.

  • پاک فوج کے سربراہان کا اہم اجلاس،سیکورٹی سمیت کئی معاملات پرمشاورت

    پاک فوج کے سربراہان کا اہم اجلاس،سیکورٹی سمیت کئی معاملات پرمشاورت

    راولپنڈی:پاک فوج کے سربراہان کا اہم اجلاس،سیکورٹی سمیت کئی معاملات پرمشاورت،اطلاعات کے مطابق آج راولپنڈی میں قومی سلامتی اور دفاع سمیت اہم معاملات پرمشاورت کےلیے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور تمام سروس چیفس کا اجلاس آج یہاں جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹرز (JSHQ) میں منعقد ہوا۔

    پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضانے اجلاس کی صدارت کی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، چیف آف آرمی اسٹاف نے شرکت کی۔

    دفاع اور قومی سلامتی کے معاملات پرمشاورت کے ساتھ ساتھ مغربی سرحد، کے پی کے اور بلوچستان سے متعلق قومی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

     

     

    اس دفاعی فورم میں اسٹریٹجک اور دیگراہم معاملات پرسیرحاصل گفتگو کی گئی ، اس کےساتھ ساتھ خطے میں پائیدار ترقی کے لیے افغانستان میں امن کی اہمیت اور مسلح افواج کی آپریشنل تیاریوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    جی ایچ کیو میں منعقدہ اس فورم نے دفاعی افواج کی تیاریوں پر مکمل اطمینان اور مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ شرکاء نے مسلح افواج کے تمام خطرات کا جواب دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا

    اس اہم اجلاس میں تمام سروسز چیفس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو بھی سراہا۔