Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اسلام آباد دھماکا کیس میں اہم پیشرفت،حملہ آور کو لانے والا رائیڈر گرفتار

    اسلام آباد دھماکا کیس میں اہم پیشرفت،حملہ آور کو لانے والا رائیڈر گرفتار

    اسلام آباد کے جی الیون سیکٹر میں جوڈیشل کمپلیکس کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے یہ پتہ لگا لیا ہے کہ خودکش حملہ آور جوڈیشل کمپلیکس تک کیسے پہنچا۔

    تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ حملہ آور کو کچہری تک ایک آن لائن موٹرسائیکل رائیڈر نے پہنچایا، جسے محض 200 روپے کرایہ ادا کیا گیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ رائیڈر کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ حملہ آور کے منصوبے سے باخبر تھا یا نہیں۔ذرائع کے مطابق حملہ آور کے گولڑہ سے جی الیون تک پہنچنے کے سفر کے تمام راستوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے اس کی نقل و حرکت کو ٹریس کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔اس سے قبل تحقیقاتی اداروں کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ خودکش حملہ آور جمعہ کے روز اسلام آباد پہنچا تھا اور پیرودھائی کے علاقے سے موٹر سائیکل پر سوار ہو کر جی الیون کی کچہری پہنچا۔

    یاد رہے کہ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ گزشتہ روز دوپہر ساڑھے بارہ بجے پیش آیا جب جی الیون سیکٹر کی کچہری کے قریب ایک زوردار دھماکا ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، جب کہ موقع پر بھگدڑ مچ گئی۔پولیس کے مطابق حملہ آور موٹرسائیکل پر سوار تھا اور پولیس کی گاڑی کے قریب پہنچتے ہی اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس ہولناک دھماکے میں 12 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جب کہ قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ خودکش حملہ آور کے اعضا دور تک بکھر گئے، جو کچہری کے اندر بھی جاگرے۔سیکیورٹی اداروں نے واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، جبکہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) تشکیل دینے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ دہشت گرد نیٹ ورک اور سہولت کاروں کا سراغ لگایا جا سکے۔

    ابتدائی شواہد کی روشنی میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حملے کے پیچھے منظم دہشت گرد نیٹ ورک ملوث ہے، جس کے روابط ملک کے دیگر حصوں تک پھیل سکتے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس تعاون حاصل کیا جا رہا ہے۔

  • 27 ویں‌ترمیم،قومی اسمبلی  سے دو تہائی اکثریت سے منظور

    27 ویں‌ترمیم،قومی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے منظور

    قومی اسمبلی نے 234ووٹوں کے ساتھ 27ویں آئینی ترمیم منظور کرلی، جےیوآئی ف کے 4ارکان کا مخالف میں ووٹ ، پی ٹی آئی ،پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نےبائیکاٹ کیا،27 ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی گئی

    قبل ازیں قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترامیم کی شق وارمنظوری کا عمل مکمل ہوگیا اور تمام 59 شقیں منظور کرلی گئیں۔قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت جاری ہے جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی تحریک پیش کی اور کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے خدوخال سینیٹ میں پیش کردیے تھے، قانون اور آئین میں ترمیم ایک ارتقائی عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی ہی چیف جسٹس پاکستان رہیں گے۔اس کے بعد 27 ویں آئینی ترامیم پر شق وار ووٹنگ کی گئی اور تمام 59 شقیں منظور کرلی گئیں، ترمیم کی حمایت میں 233 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں 4 ووٹ آئے۔جمعیت علمائے اسلام نے مخالفت میں ووٹ دیا۔حکومتی بینچز پر 233 اراکین موجود ہیں اور حکومت کو ترمیم کیلئے224 اراکین کی حمایت درکار ہے۔حکومت کی قومی اسمبلی سے آئینی ترمیم منظور کرانےکیلئے پوزیشن مستحکم ہے

    قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ 27 ویں آئینی ترمیم پر ووٹ دینے کے لیے وھیل چیئر پر پارلیمنٹ پہنچ گئے۔مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی نشست سے اٹھ کر خورشید شاہ کے پاس گئے اور ان کا حال احوال دریافت کیا۔ان کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی خورشید کے پاس جا کر انہیں خوش آمدید کہا اور ان کی خیریت دریافت کی۔خیال رہے کہ خورشید شاہ گزشتہ کچھ ماہ سے علیل ہیں۔ 2 ماہ قبل انہیں این آئی سی وی ڈی سکھر میں داخل کیا گیا تھا جس کے بعد انہیں مزید علاج کے لیے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔انہیں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی خصوصی ہدایت پر حکومت سندھ کے خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی بھیجا گیا تھا۔

  • ‏کیڈٹ کالج وانا کے اساتذہ اور کیڈٹس کے حوصلے بلند،فیلڈ مارشل کی لمحہ بہ لمحہ آپریشن پر نظر

    ‏کیڈٹ کالج وانا کے اساتذہ اور کیڈٹس کے حوصلے بلند،فیلڈ مارشل کی لمحہ بہ لمحہ آپریشن پر نظر

    ‏کیڈٹ کالج وانا کے اساتذہ اور کیڈٹس کے حوصلے بلند، دہشتگردی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کا عزم دیکھنے کو ملا

    ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے لمحہ بہ لمحہ آپریشن پر نظر رکھی- فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہدایت کی تھی کہ “قوم کے یہ معمار ہمارا سرمایہ ہیں، ہر گز کوئی آنچ نہ آنے پائے” کیڈٹس کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے جوان 24 گھنٹے سے زیادہ کیڈٹس اور خوارج کے درمیان ڈھال بن کر کھڑے رہے، شہادتیں دے کر بچوں کو بچایا ،

    افغان خوارج کا کیڈٹ کالج وانا پر حملہ ناکام بنانے والے آپریشن کمانڈر کرنل محمد طاہر کا کہنا تھا کہ "10نومبر کو 5 افغانی خوارج نے کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کر دیا "خوارج نے وانا کیڈٹ کالج کو، جو کہ پاک فوج کی طرف سے ساؤتھ وزیرستان کی عوام کے لئے قیمتی تحفہ ہے ، نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی،ایک خود کش حملہ آور نے دھماکہ کیا جبکہ دیگر خورج نے گیٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی،خوارج نے پہلے زیر تعلیم بچوں کو یرغمال بنا نے کی کوشش کی ،سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے خوارج کے اس حملے اور مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا ، ہم نے دہشتگردوں کو مخصوص بلاک میں محدود کر کے طالب علموں کی حفاظت کو یقینی بنایا ،رات 10سے ساڑھے 10 بجے کے قریب خوارج کے خلاف بھرپور آپریشن کے بعد تمام خوارج کو جہنم واصل کر دیاگیا

    زیر تعلیم کیڈٹ کا کہنا تھا کہ ہم عصر کے وقت ڈرل کمپٹیشن کی تیاری کر رہے تھے کہ خود کش دھماکہ ہوا، ہمیں معلوم ہو چکا تھا کہ حملہ تعلیم کے دشمنوں نے کیا ہے ، جو ہمیں تعلیم سے روکنا چاہتے ہیں، پاک فوج کے جوانوں نے ہمیں بحفاظت کالج سے محفوظ مقام پر منتقل کیا ،تعلیم کے دشمن کچھ بھی کر لیں ، ہمیں تعلیم سے نہیں روک سکتے، جب خودکش دھماکہ ہوا تو سارے کیڈٹس ڈرل کر رہے تھے، اساتذہ نے کہا کہ آپ پر سکون ہو جائیں اب پاک فوج آگئی ہے ،

    الحمدالللہ، بر وقت کاروائی کی وجہ سے ایک خوفناک دہشتگردی کا ارادہ خاک میں مل گیا۔ پاکستان زندہ باد

  • صدرِ مملکت اور وزیراعظم کی اہم ملاقات، ملکی سیاسی،سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال

    صدرِ مملکت اور وزیراعظم کی اہم ملاقات، ملکی سیاسی،سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال

    اسلام آباد میں ایوانِ صدر میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں ملک کی مجموعی سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات نہایت پُرمغز اور نتیجہ خیز رہی، جس میں ملک میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ صدرِ مملکت اور وزیراعظم نے ان واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ غیر ملکی پشت پناہی یافتہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی، اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ آپریشنز نہیں رکیں گے۔دونوں قائدین نے ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس مقصد کے لیے تمام ادارے، حکومت اور عوام ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے دشمن ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے درپے ہیں لیکن قوم کے اتحاد، حوصلے اور عزم کے سامنے ان کی تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔

    ملاقات میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی وزراء سید محسن رضا نقوی، چوہدری سالک حسین، اعظم نذیر تارڑ، خالد حسین مگسی اور عبدالعلیم خان بھی موجود تھے۔شرکاء نے حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔

  • کیڈٹ کالج وانا،تمام طلبا،اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا

    کیڈٹ کالج وانا،تمام طلبا،اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا

    کیڈٹ کالج وانا کی صورتحال کے تازہ ترین ویڈیو مناظرسامنے آگئے اور سکیورٹی فورسز نے کالج میں موجود تمام طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔

    سکیورٹی فورسز کی جانب سے بچوں کو ریسکیو کرتے ہوئےدیکھا جاسکتا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کالج میں موجود تمام طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔سکیورٹی نے بتایاکہ کیڈٹ کالج پر حملے کے وقت 525 کیڈٹس سمیت تقریباً 650 افراد موجود تھے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسزکا آپریشن نہایت احتیاط اورحکمتِ عملی سے جاری ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان خوارج کی کالج میں موجودگی اور کیڈٹس کی جانوں کی حفاظت کے پیش نظر آپریشن احتیاط سے کیا جارہا تھا۔سکیورٹی ذرائع نے بتایاکہ اب آپریشن جامع طریقے سے حتمی انجام کو پہنچایا جائے گا، آخری خوارج کو ہلاک کرنے تک سکیورٹی آپریشن جاری رہے گا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق تمام طلبہ اور اساتذہ کے حوصلے بلند ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز افغان خوارج نےکالج کے مرکزی گیٹ سے بارود سےبھری گاڑی ٹکرا دی تھی، دھماکے سےکالج کا مرکزی گیٹ گرگیا اورقریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچاتھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق وانا کیڈٹ کالج پر حملہ کرنے والے خوارجیوں کا تعلق افغانستان سے بتایاگیا ہے اور حملہ آور ٹیلیفون پر وہیں سے ہدایات لے رہے ہیں، خوارج ایک عمارت میں چھپے ہیں جو کیڈٹس کی رہائش سے بہت دور ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کے جوانوں نے فوری کارروائی میں 2 خوارجیوں کو ہلاک کردیا تھا، سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر فیصلہ کن کلیئرنس آپریشن شروع کر رکھا ہے، آخری دہشتگرد کے خاتمے تک سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری رہے گا۔

  • اسلام آباد دھماکہ سے قبل افغانستان سے سوشل میڈیا پوسٹس،سوالات کھڑے ہو گئے

    اسلام آباد دھماکہ سے قبل افغانستان سے سوشل میڈیا پوسٹس،سوالات کھڑے ہو گئے

    اسلام آباد کچہری دھماکے سے قبل افغانستان سےکی جانے والی سوشل میڈیا پوسٹس نےکئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

    اسلام آباد کچہری میں دھماکا لگ بھگ سہ پہر 12 بج کر 45 منٹ پر ہوا، لیکن افغانستان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر صبح سویرے سے بازگشت سنائی دی جارہی تھی،ذرائع کے مطابق طالبان کے ایک ایکس اکاؤنٹ خراسان العربی کی طرف سے اسلام آباد دھماکے کے ساتھ ہی جاری ہونے والی پوسٹ گھناؤنے عزائم کی عکاسی کرتی ہے۔ 6 بج کر 45 منٹ پر افغان طالبان سے منسلک ایکس اکاؤنٹ سے "coming soon Islamabad” جیسی پوسٹ دیکھی گئیں۔ذرائع کے مطابق اسی طرح کے دھمکی آمیز پیغامات افغان ملٹری پریڈ کے موقع پربھی کیے گئے تھے، جس میں لاہور پر افغان جھنڈا لہرانے اور اسلام آبادکو جلانےکی باتیں کی گئی تھیں۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ افغان ایکس اکاؤنٹ “آماج نیوز” نےاپنی 2 نومبر کو کی جانے والی پوسٹ میں ان دھمکی آمیز پیغامات کوپوسٹ کیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہےکہ اسلام آباد اور نئی دہلی میں دھماکے پاکستان مخالف ممالک کی ملی بھگت ہے جن کا مشترکہ مقصد پاکستان کو نقصان پہچانا ہے۔

  • کیڈٹ کالج حملہ،115 افراد ریسکیو،535 اندر موجود،دو حملہ آورہلاک،تین گھیرے میں

    کیڈٹ کالج حملہ،115 افراد ریسکیو،535 اندر موجود،دو حملہ آورہلاک،تین گھیرے میں

    کیڈٹ کالج پر حملے کے وقت 525 کیڈٹس سمیت تقریباً 650 افراد موجود تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے اب تک 115 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا ہے۔

    کیڈٹ کالج میں موجود 3 افغان خوارجین کو کالج کی ایک مخصوص عمارت تک محدود کر دیا گیا ہے، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جس عمارت میں افغان خوارج موجود ہیں، وہ کیڈٹس کی رہائشی عمارتوں سے کافی فاصلے پر واقع ہے۔ ابھی تک تمام کیڈٹ محفوظ ہیں،افغان خوارجیوں کی کالج میں موجودگی کے باعث کیڈٹس کی جانوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے آپریشن نہایت احتیاط سے جاری ہے۔ کالج کی حدود سے کیڈٹس کو نکالنے کا عمل بتدریج جاری ہے۔اس وقت بھی کالج کے اندر تقریباً 535 افراد موجود ہیں۔ وانا کیڈٹ کالج میں موجود 3 افغان خوارجیوں کے خلاف آپریشن پوری شدت سے جاری ہے۔

    واضح رہے کہ 10 نومبر کو افغان خوارجیوں نے کالج کے مرکزی گیٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی تھی۔ دھماکے سے کالج کا مرکزی دروازہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا، جبکہ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔پاک فوج کے جوانوں نے فوری اور بہادری سے کارروائی کرتے ہوئے دو خوارجیوں کو موقع پر ہی جہنم واصل کر دیا تھا۔معصوم قبائلی بچوں پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے، نہ پاکستان کی خوشحالی سے۔ہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری رہے گا

  • اسلام آباد جی الیون سیکٹر ،گاڑی میں دھماکہ،12 افراد شہید،متعدد زخمی

    اسلام آباد جی الیون سیکٹر ،گاڑی میں دھماکہ،12 افراد شہید،متعدد زخمی

    اسلام آباد: جی الیون سیکٹر کی کچہری میں کھڑی گاڑی میں دھماکے سے 12 افراد شہید متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

    ا سلام آباد میں منگل کی دوپہر تقریباً ساڑھے بارہ بجے جی الیون سیکٹر کی کچہری میں کھڑی گاڑی میں زور دار دھماکا ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی جب کہ دھماکے سے گاڑی میں آگ لگ گئی اور قریب کھڑی گاڑیاں بھی آگ کی لپیٹ میں آگئیں۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں 12افراد شہید جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جن میں وکلا اور سائلین بھی شامل ہیں۔پولیس کا کہنا ہےکہ دھما کے کے وقت کچہری ایریا میں لوگوں کی آمدورفت زیادہ تھی جس سے سائلین بھی زخمی ہوئے، زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے پمز اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور دھماکے کی نوعیت معلوم کی جارہی ہے۔

    پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکہ پولیس کی گاڑی کے قریب ہوا، حملہ آور موٹر سائیکل سے پولیس وین کے قریب آیا، بیک وقت دو دھماکوں کی آواز سنائی دی،موٹر سائیکل اور کار میں بیک وقت دھماکے سے آگ بھڑکی، ڈی آئی جی اسلام آباد، ضلعی انتظامیہ اور فرانزک ٹیم موقع پر موجودہے

    اسلام آباد کاردھماکہ خود کش نکلا،حملہ آور کا سر مل گیا،5 افراد شہید
    اسلام آباد جی الیون کچہری کے باہر ہندوستانی سپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی فتنہ الخوارج کا خودکش دھماکہ
    ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکہ کچہری کے باہر ہوا جس کی زد میں آس پاس کھڑے لوگ آئے۔ ابتک کی رپورٹ کے مطابق پانچ شہید اور تیرہ سے چودہ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے،مبینہ خودکش بمبار کر سر سڑک پر پڑا ہوا مل گیا۔

  • پاک فوج نے انٹر سروسز مقابلے جیت کر کامبیٹ شوٹنگ چیمپئن شپ 2025 اپنے نام کرلی

    پاک فوج نے انٹر سروسز مقابلے جیت کر کامبیٹ شوٹنگ چیمپئن شپ 2025 اپنے نام کرلی

    45ویں پاکستان آرمی رائفل ایسوسی ایشن (PARA) سینٹرل میٹ کی اختتامی تقریب جہلم میں منعقد ہوئی۔آرمی مارکسمین شپ یونٹ میں ہونے والی تقریب کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نے بطورمہمان خصوصی شرکت کی۔شوٹنگ کے مقابلے یکم اکتوبر تا 10 نومبر 2025 تک جاری رہے جن میں پاکستان آرمی، فضائیہ، بحریہ، سول آرمڈ فورسز کے علاوہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور وفاقی رائفل ایسوسی ایشنز سے تعلق رکھنے والے دو ہزار سے زائد نشانہ بازوں نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔

    پاک فوج نے تمام چار انٹر سروسز مقابلے جیت کر تیسری انٹر سروسز کامبیٹ شوٹنگ چیمپئن شپ 2025 اپنے نام کی۔پنجاب رجمنٹ نے یونٹ فائرنگ پروفیشنسی میچ گروپ-I میں کامیابی حاصل کی۔سپاہی محمد عرفان (پنجاب رجمنٹ) نے ماسٹر ایٹ آرمز کا اعزاز جیتا۔نائب صوبیدار عمر فاروق (آرمی مارکسمین شپ یونٹ) نے آرمی ہنڈریڈ رائفل میچ ٹرافی حاصل کی۔

    تقریب کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ان کی شاندار نشانہ بازی کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ’’نشانہ بازی میں مہارت حاصل کرنا فوجی تربیت کا بنیادی ہدف ہونا چاہیے۔‘‘بعد ازاں آرمی چیف نے ملٹری کالج جہلم کی سو سالہ تقریبات میں بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر فیلڈ مارشل نے صد سالہ یادگار اور کالج میوزیم کا افتتاح کیا، ادارے کی ایک صدی پر محیط شاندار خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا، اور یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی

  • پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ،افغان سرزمین سے دراندازی کے مستند اعداد و شمار

    پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ،افغان سرزمین سے دراندازی کے مستند اعداد و شمار

    پاکستان نے طالبان کے اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد دہشت گردی میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا۔ 2021 میں 207 حملے، 2022 میں 262، 2023 میں 306 اور 2024 میں 1099 حملے ہوئے، جو بگڑتی صورتحال کی واضح نشاندہی کرتے ہیں۔

    پاکستان نے افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے 58 تربیتی مراکز، اسٹیجنگ پوائنٹس اور رہائشی ٹھکانے شناخت کیے ہیں، جن کے بارے میں کابل انتظامیہ کو مکمل علم ہے۔جون 2025 سے تقریباً 4,000 جنگجو (172 تشکیلیں) افغانستان سے خیبر پختونخوا میں داخل ہوئے، جو گروہوں میں 36 فیصد اور جنگجوؤں کی تعداد میں 48 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔بلوچستان میں دراندازی کے لیے زابل، پکتیکا، قندھار، ہلمند اور نیمروز سے 83 تشکیلیں (تقریباً 1,200 جنگجو) استعمال ہوئیں۔اپریل سے ستمبر 2025 کے دوران پاکستانی فورسز نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 135 افغان شہریوں کو ہلاک کیا، جس کے بعد مجموعی طور پر 267 افغان باشندوں کی شناخت اور ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔2022 سے 2025 کے دوران افغان شہریوں نے پشاور، بنوں، بشام، میر علی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش حملے کیے، جن میں درجنوں پاکستانی شہری نشانہ بنے۔